You are currently viewing خطبہ عید الاضحی​

خطبہ عید الاضحی​

إنَّ الْحَمْدَ لِلهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِىَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ (آل عمران:102)
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ (النساء:1)
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ (الأحزاب: 70، 71)
أَمَّا بَعْدُ:
فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا » (رواه البخاري)

اللہ کے نبی ﷺفرماتے ہیں : «ہرقوم کی ایک عید ہوتی ہے یہ ہماری عید ہے» ، اللہ کے نبی ﷺنے اپنی عید کوسب سے الگ تھلگ قراردیاہے،کیونکہ ہماری عید میں جوخوبیاں ہیں وہ دنیاکی کسی بھی عیدمیں نہیں ، کل چھ(6) بنیادی خوبیاں ہیں جوصرف اورصرف ہماری عید میں موجود ہیں:

✿ (1):-

سب سے پہلی خوبی جوہماری عید میں ہے وہ یہ کہ ہماری عید محض خوشی ومسرت ہی نہیں بلکہ ایک عبادت ہے،یعنی ہم اس نیت سے خوشی نہیں مناتے کہ یہ ہرقوم کادستور ہے، بلکہ اس لئے کہ یہ اللہ کاحکم ہے۔

✿ (2):-

دوسری خوبی جوہماری عیدمیں ہے وہ یہ کہ ہماری عیدپاکیزہ اورصاف ستھری ہے، بے حیائی، فحاشی ، شراب نوشی ،گانابجانا، فلم بینی ، اسلام کی نظر میں یہ خوشی کاذریعہ نہیں ،بلکہ تباہی وبربادی کاپیش خیمہ ہے۔

✿(3):-

تیسری خوبی جوہماری عیدمیں ہے وہ یہ کہ ہماری عید میں کسی کوتکلیف دیناجائزنہیں ، اپنی خوشی کی خاطرکسی کاچین وسکون چھینناہرگزجائزنہیں ، شوروہنگامہ، ڈھول باجا، جلوس اورمیلے یہ سب شریف انسانوں کاسکون چھین لیتے ہیں ،ہماری عید میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

✿ (4):-

چوتھی خوبی جوہماری عیدمیں ہے وہ یہ کہ ہماری عید میں پوری انسانیت کے لئے امن وشانتی کاپیغام ہے، اسلام نے اپنے ماننے والوں کانام ہی ’’مسلم ‘‘ اور’’مؤمن ‘‘رکھاہے جس کے معنی ہی ہوتے ہیں امن اورشانتی والا، اوراسی پربس نہیں بلکہ اس نام کے تقاضے کوپوراکرنے کاحکم بھی ہے ۔
مسنداحمد[23958] وغیرہ کی صحیح حدیث ہے:فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
« قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ » ، «اللہ کے رسول ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پرآج ہی کے دن، اسی عیدکے دن فرمایاتھا» :
کہ اے لوگو! «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ؟ » ، «کیا میں تمہیں یہ نہ بتادوں کہ ”مؤمن“ کون ہے ـ؟»
سن لو! «مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ » ، «’’مؤمن ‘‘وہ ہے جس سے تمام لوگوں کی ، ’’الناس‘‘! تمام لوگوں کی جانیں اوران کی دولت محفوظ ہو» اس کے بعدفرمایا:
﴿وَالْمُسْلِمُ﴾ اورکیا میں تمہیں یہ نہ بتادوں کہ’’مسلم‘‘کون ہے ـ؟
سن لو! « مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» ، «’’مسلم‘‘وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے تمام لوگ، ’’النَّاسُ‘! تمام لوگ محفوظ ہوں» ۔
امن وشانتی کایہ وہ پیغام ہے جسے آپ ﷺنے مسلمانوں کو اپنے آخری خطاب میں اوراسی عیدکے دن دیاتھا، اورہرقوم کاپیشوا اپنی وصیت اوراپنے آخری پیغام میں وہی کچھ کہتاہے جواس کی پوری زندگی کاماحصل ہوتاہے یقینا آپ ﷺکی زندگی میں قدم قدم پرامن وشانتی اورالفت ومحبت کی تعلیم ملتی ہے نیز عفودرگزرکی بے مثال ترغیب ملتی ہے چنانچہ ہمارے نبی ﷺنے ، ایسے دشمنوں کوبھی معاف کردیاجسے دنیاکی کوئی عدالت بھی معافی کے قابل نہیں سمجھتی ۔
بخاری کی حدیث[ نمبر 4372] میں’’ ثمامہ بن اثال ‘‘ کا نام ہے ۔
کون تھایہ شخص ؟ آپﷺکاسب سے بڑادشمن، اورآپ ﷺ کے معصوم صحابہ کاخونی تھایہ شخص، صحابہ کے ہاتھوں گرفتار ہوا، اللہ کے نبی ﷺنے اسے قید کروا دیا،کہاں؟
اے لوگو! قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک بھی دیکھو،کہاں قیدکیا؟ دنیاکی سب سے مقدس ترین جگہ، ’’مسجدنبوی‘‘میں ، اور مسجد کا کیامقام ہے ؟
”صحیح مسلم“ کی حدیث[671]ہے:
« أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا» ، «اللہ کی نظرمیں سب سے بہترین جگہیں مساجدہیں» یہاں پرقید کیا گیا۔
آپ ﷺتشریف لاتے ہیں ، پوچھتے ہیں :
«مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ» ؟ «ثمامہ کیاحال ہے؟»
آپﷺکے ساتھیوں کایہ قاتل جواب دیتاہے:
« إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ» اے محمد! « اگرآپ مجھے قتل کردیں توایک خونی کوقتل کریں گے» ، کوئی غلط نہیں کریں گے۔
غورکریں! مسلمانوں کایہ قاتل، اپنی زبان سے اقرارکررہاہے کہ میں خونی ہوں اورسزائے موت کامستحق ہوں ۔ اورپھرکہتاہے:
«وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ» اوراے محمد! «اگرآپ مجھے معاف کردیں تومیں شکرگذارہوں گا» ، آگے کہتاہے:
«وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ المَالَ» اوراے محمد! اگر آپ کو مال چاہئے توجومانگنا ہو مانگو !
«فَسَلْ مِنْهُ مَا شِئْتَ » منہ مانگی رقم دوں گا
آپ ﷺنے کچھ بھی نہیں مانگا، اور اسے معاف کردیا،آزادکردیا:

ظالم سے لیا ،ظلم کا بدلہ نہ کسی وقت
مارابھی تو اخلاق کے کردارسے مارا

آپﷺکے اس اخلاق کو دیکھ کر وہ مسجد سے جاتے ہی غسل کرتاہے اور واپس آکراعلان کرتاہے:
”أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ“
پھرکہتاہے « يَا مُحَمَّدُ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ» ، «اے محمد اللہ کی قسم ! اس روئے زمین پرآپ کے چہرے سے زیادہ مجھے کسی چہرے سے نفرت نہ تھی»
«فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الوُجُوهِ إِلَيَّ» ، «لیکن اس وقت میری نظرمیں آپ کے چہرے سے زیادہ محبوب کوئی چہرہ نہیں»
«وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ» ، «اللہ کی قسم ! آج سے پہلے آپ کا دین میری نگاہ میںسب سے زیادہ مبغوض تھا»
«فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيَّ» مگراب میرے نزدیک سب سے بہتر دین آپ ہی کادین ہے
« وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ» ، «اللہ کی قسم !آپ کے شہرسے زیادہ مجھے کسی شہرسے بغض نہ تھا»
«فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ البِلاَدِ إِلَيَّ» ، ”پرآج ، سب سے پیارا شہرآپ ہی کاشہرہے“ ۔
مسلمانو! اپنی خوشی وعیدمیں ، محبت کے اسی پیغام کوعام کرو تاکہ جوغلط فہمی کا شکار ہوکر ہمارے دشمن بنے بیٹھے ہیں وہی ہمارے بھائی بن جائیں ، آج کے اس مبارک دن میں ہمیں یہی حکم دیاگیاہے یہ ہماری عید کی چوتھی خوبی ہے۔

✿ (5):-

پانچویں خوبی جوہماری عیدمیں ہے وہ یہ کہ ہماری ہرعیدکسی نہ کسی عظیم کردارسے جڑی ہوتی ہے اورآج کی یہ عید ذوالعزم پیغمبرابراہیم علیہ السلام کے کردارسے جڑی ہوئی ہے اوروہ کردارہے ”توحید“ اوراللہ کی خاطر ”قربانی پیش کرنے کاکردار“ ، ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے جس چیزکے خاطر قربانی دی وہ۔۔۔

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(تیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR30.00 for it.