ماہ شعبان اور سنن وبدعات

You are currently viewing ماہ شعبان اور سنن وبدعات

ماہ شعبان اور سنن وبدعات

(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)

ماہ شعبان کی فضیلت

أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ“ [سنن النسائي 4/ 201 واسنادہ حسن]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس ماہ میں بندوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔
❀ اعمال کی یہ پیشی سالانہ پیشی ہوتی ہے ۔
❀ اس کے ساتھ ہردن رات اور ہرہفتہ بھی اعمال کی پیشی ہوتی ہے جیساکہ دیگرروایات سے معلوم ہوتاہے۔
عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ“ [صحيح مسلم 1/ 161]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندوں کے اعمال ہردن اور ہررات بھی اللہ کی بارگاہ پیش کئے جاتے ہیں یہی بات صحیح بخاری کی حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلاَئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاَةِ الفَجْرِ وَصَلاَةِ العَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ“ [صحيح البخاري 1/ 115]
اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ ہررات نماز فجر کے بعد اورہردن نماز عصرکے بعد بندوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ اس سے ان دونوں نمازوں کی اہمیت کا بھی پتہ چلتاہے اسی لئے احادیث میں ان دونوں نمازوں کی خصوصی تاکید وارد ہوئی ہے۔
❀ ہردن اوررات کے ساتھ ساتھ ہرہفتہ بھی بندوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں جیساکہ اس حدیث سے پتہ چلتاہے :
عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ، إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: اتْرُكُوا، أَوِ ارْكُوا، هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا“ [صحيح مسلم 3/ 1988]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہرہفتہ دو دن پیر اور جمعرات کو بھی بندوں کے اعمال اللہ کی بارہ گاہ میں پیش کئے جاتے ہیں ۔اس مناسبت سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
◄ ان دونوں دنوں میں بھی روزوں کا اہتمام کرتے تھے جیساکہ حدیث ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُعْرَضُ الأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالخَمِيسِ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ [سنن الترمذي ت شاكر 3/ 113 واسنادہ حسن]

ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ ہردن رات اور ہر ہفتہ اور ہر سال بندوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں اور جب بندہ وفات پاجاتاہے تو پوری زندگی کے اعمال ایک ساتھ پیش ہوتے ہیں ۔یعنی بندوں کے اعمال کی پیشی کی کل چار قسمیں ہیں :
➊ یومیہ پیشی
➋ ہفتہ واری پیشی
➌ سالانہ پیشی
➍ موت کے بعد زندگی بھر کے اعمال کی پیشی

امام ابن قيم رحمه الله (المتوفى751)نے کہا:
”فإن عمل العام يرفع في شعبان كما أخبر به الصادق المصدوق أنه شهر ترفع فيه الأعمال فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم ويعرض عمل الأسبوع يوم الاثنين والخميس كما ثبت ذلك في صحيح مسلم وعمل اليوم يرفع في آخره قبل الليل وعمل الليل في آخره قبل النهار ۔ فهذا الرفع في اليوم والليلة أخص من الرفع في العام وإذا انقضى الأجل رفع عمل العمر كله وطويت صحيفة العمل“
”سال بھر کے اعمال شعبان میں پیش کئے جاتے ہیں جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شعبان وہ مہینہ ہے جس میں اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لئے میں پسند کرتاہوں کہ روزے کی حالت میں میرے اعمال پیش کئے جائیں ۔اورہفتہ کے اعمال پیر اورجمعرات کو پیش کئے جاتے ہیں جیساکہ صحیح مسلم کی حدیث سے یہ ثابت ہے۔اوردن کا عمل دن کے آخری حصہ میں رات سے قبل اور رات کا عمل رات کے آخری حصہ میں دن سے قبل پیش کیا جاتاہے۔دن رات کی یہ پیشی خصوصی طور پر ہوتی ہے جبکہ سال میں ایک بار عمومی طور پر اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور جب بندے کو موت آتی ہے تو پوری زندگی کے اعمال پیش کردئے جاتے ہیں اور نامہ اعمال بند کردیا جاتاہے“ [حاشیہ ابن القيم علی سنن ابی داؤد: 12/ 313]
⟐ تنبیہ :
بعض لوگ یوم عرفۃ کی فضیلت بتاتے ہوئے یہ بھی کہہ جاتے ہیں کہ عرفہ کے دن بھی بندوں کے اعمال اللہ کے یہاں پیش کئے جاتے ہیں لیکن یہ بات کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

الغرض یہ کہ جس ماہ میں اعمال کی سالانہ پیشی ہوتی ہے وہ شعبان کا مہینہ ہے اس لئے اس لحاظ سے یہ مہینہ فضیلت والا ہے۔اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مناسبت سے بکثرت روزے رکھتے تھے۔
اس کے علاوہ اس ماہ کی کوئی اورفضیلت ثابت نہیں ۔اس ماہ کی فضیلت میں جو دیگر روایات پیش کی جاتی ہیں وہ سب کی سب ضعیف یا موضوع ومن گھڑت ہیں ۔

ماہ شعبان میں مسنون عمل

ماہ شعبان میں خصوصی طور پرصرف اور صرف ایک ہی عمل کا ثبوت ملتاہے اوروہ ہے بکثرت روزے رکھنا جیساکہ ماہ شعبان کی فضیلت سے متعلق پیش کردہ مذکورہ حدیث میں اس کا ذکر ہے اس کے علاوہ اس سلسلے میں اور بھی کئی احادیث ہیں مثلا:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لاَ يَصُومُ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ“
[صحيح البخاري 3/ 38]
سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ: شَعْبَانُ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ“ [سنن أبي داود 2/ 323]
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہ شعبان میں بکثرت نفلی روزے رکھنا ثابت ہے۔

لیکن اس ماہ میں نفلی روزہ رکھتے ہوئے درج ذیل تین چیزوں کا لحاظ ضروری ہے۔

① ماہ شعبان کا مکمل روزہ رکھنا درست نہیں:

رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی ماہ کے مکمل روزے رکھنا درست نہیں اس لئے شعبان میں بھی پورے ماہ کا روزہ نہیں رکھنا چاہئے ۔ماقبل میں مذکور اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں پوری صراحت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی ماہ کا مکمل روزہ نہیں رکھا۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: «مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»“ [صحيح مسلم 3/ 810 رقم1156]
صحیح مسلم ہی کی ایک اور روایت کے بارے میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ“ [صحيح مسلم 2/ 513 رقم746]

② رمضان کے استقبال میں شعبان کے آخری ایک یادو دنوں میں روزہ رکھنا درست نہیں:

جو شخص شعبان کے نصف اول کا روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ شعبان کے نصف ثانی کا روزہ رکھنا چاہے تو اس کے لئے یہ جائزہے لیکن ایسے شخص کو رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنا بند کردینا چاہئے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ، فَلْيَصُمْ ذَلِكَ اليَوْمَ»“ [صحيح البخاري 3/ 28 رقم 1914]

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان سے ایک یا دو دن قبل یعنی شعبان کی آخری ایک یا دو دنوں میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔
◄ استثنائی صورت:
البتہ اگر کسی شخص کی یہ عادت رہی ہے کہ اس کے نفلی روزے ہر ماہ کی آخری تاریخوں میں پڑتے ہوں تو ایسا شخص شعبان کی آخری تاریخوں میں یعنی رمضان سے اک یا دو دن قبل بھی روزہ رکھ سکتا ہے جیساکہ ماقبل کی حدیث میں اس کی رخصت موجودہے۔
درج ذیل حدیث میں بھی اسی چیز کا بیان ہے:
- عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ - أَوْ لِآخَرَ -: «أَصُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ»[صحيح مسلم 3/ 820 رقم 1161]
اس حدیث سے بظاہریہی معلوم ہوتاہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ وہ مہینہ کے آخری دنوں میں بھی روزہ رکھتے تھے لیکن شعبان میں انہوں نے روزہ نہیں رکھا کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان سے ایک یا دو دن قبل روزہ سے منع فرمایا تھا۔تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی کیونکہ ان دنوں روزہ رکھنا ان کا معمول تھا۔

ماہ شعبان کی بدعات وخرافات

ماہ شعبان سے متعلق بدعات وخرافات:
 ✿ فضائل:

ماہ شعبان کی فضیلت میں صرف وہی احادیث پیش کی جاسکتی ہیں جن کا ماقبل میں تذکرہ ہوا اس کے علاوہ اس ماہ کی خصوصی فضیلت میں جتنی احادیث بھی ملتی ہیں وہ سب ضعیف ہیںِ

 ✿ اعمال:

ماہ شعبان میں نفلی روزوں کا علاوہ کوئی بھی مخصوص عمل ثابت نہیں ہے ۔بعض حضرات ماہ شعبان میں ایصال ثواب اور قرآنی خوانی کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں یہ عمل بدعت ہے ماہ شعبان کیا کسی بھی ماہ میں ان اعمال کا ثبوت نہیں ۔

پندرہویں شعبان کی رات سے متعلق بدعات وخرافات:

ماہ شعبان کی اکثر بدعات وخرافات کا تعلق پندرہویں شعبان کی رات سے ہی ....

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(بیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR20.00 for it.

Leave a Reply