وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (جیسی کرنی ویسی بھرنی)
✿ ✿ ✿
اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک شخص کسی پر رد کرتے ہوئے یا کسی کے ساتھ بحث ومباحثہ میں بد اخلاقی کی پہل کرتا ہے اور جب سامنے والا بھی ترکی بترکی جواب دے دیتا ہے تو یہ شخص بلبلا اٹھتا ہے پھر ماتمی مجلس منعقد کرکے اپنے اعوان وانصار کے سامنے رو دھو کر شکوہ کرتا ہے کہ دیکھو میں نے تو ”علمی“ گفتگو کی تھی لیکن سامنے والا بد تمیزی کررہا ہے۔ اس کے اندھے ، گونگے اور بہرے اعوان و انصار اسے تسلی دیں گے کہ دیکھو جس کے پاس ”علمی“ جواب نہیں ہوتا ہے وہ بداخلاقی پراتر آتا ہے ۔
بات در اصل یہ ہے کہ آپ جب دوسرے کے لئے سخت الفاظ ، اہانت آمیز اسلوب اور تذلیل وتحقیر کے صیغے استعمال کرتے ہیں تو چونکہ ان کا رخ دوسرے کی طرف ہوتا ہے اس لئے ان میں موجود تیر ونشتر کی چھبن کا احساس نہ آپ کو ہوتا ہے اور نہ آپ کے اعوان وانصار کو اور یہ عدم احساس آپ کو یہ باور کراتا ہے کہ آپ نے ایسی کوئی حرکت کی ہی نہیں ہے ، لیکن جوں ہی سامنے والا اسی لب ولہجے میں آپ کی خاطر تواضع کرتا ہے فورا آپ کی چیخ نکل جاتی ہے کیونکہ اب جاکر اس کی چبھن کا احساس آپ کو ہوتا ہے ۔
وقتی طور پر آپ آہ وبکا کرتے ہیں لیکن بہت جلد عمل کا یہ رد عمل آپ کے ہوش ٹھکانے لگادیتاہے اور آپ کو احساس مظلومیت سے نکال کر احساس ظلم کی کیفیت میں لے آتا ہے۔
.
اس بناپر بعض حالات میں ”جزاء بالمثل“ کی پالیسی پر عمل کرنا ناگزیر ہوجاتاہے تاکہ ظالم کو بھی اس کے ظالمانہ رویے اور اس کے ظلم وستم کے حجم کا احساس دلایا جاسکے۔
کوئی کسی کی آنکھ پھوڑ دے اور اس طرح نارمل رہے جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہیں تو ایسے شخص کا علاج یہی ہے کہ اس کی بھی آنکھ پھوڑ دی جائے تا کہ اسے پتہ چلے یہ کتنا بڑا ظلم ہے جس کا وہ پہلے مرتکب ہوا ہے اور آئندہ ایسی حرکت کرنے سے پہلے سو بار سوچے ۔البتہ اگر کوئی ظلم کا عادی نہ ہو اور جذبات سے مغلوب ہوکر ظلم کربیٹھے لیکن فورا تائب ہوکر اپنی اصلاح کرلے تو اسے معاف کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ظالموں کی صف سے نکل چکا ہے۔
﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾
(اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے، اور جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں کرتا ) [الشورى: 40]
.
رب العالمین ہم سب کی اصلاح فرمائے ! آمین !
(کفایت اللہ سنابلی)
