یزید بن معاویہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص کیوں نہ لیا ؟

You are currently viewing یزید بن معاویہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص کیوں نہ لیا ؟

یزید بن معاویہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص کیوں نہ لیا ؟

یزید بن معاویہ نے خون حسین رضی اللہ عنہ کا قصاص کیوں نہیں لیا ؟
اس سوال سے بڑا سوال یہ ہے کہ واقعہ کربلا کے معاصرین اور قرون مفضلہ کے سلف میں سے کسی نے یزید پر یہ اعتراض کیوں نہیں کیا کہ اس نے خون حسین رضی اللہ عنہ کا قصاص نہیں لیا ؟
بلکہ اعتراض کرنا تو دور کی بات ان میں سے کسی نے قصاص کا مطالبہ بھی نہیں کیا حتی کہ اہل بیت کے گھرانے سے بھی کسی نے قصاص کی کوئی مانگ نہیں کی ۔
بعض اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ یزید ہی قاتل تھا اس لئے یزید سے قصاص کا مطالبہ نہیں ہوا ۔
لیکن یہ جواب ایک نیا سوال کھڑا کردیتا ہے کہ کیا اس دور کے لوگوں نے بھی یزید کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل کہا ہے ؟
اگر اس جرم میں اسی کا ہاتھ تھا اس وجہ سے اس سے قصاص کا مطالبہ نہیں ہوا تو پھر اس جرم کا الزام بھی تو اسی پر لگنا چاہئے !
اب کوئی یہ نہ کہے کہ یزید کے ڈر سے کسی نے یہ الزام نہیں لگایا ، کیونکہ جب یزید کو شرابی کہنے سے کچھ لوگ نہیں ڈرے تو یزید کو قاتل حسین (رضی اللہ عنہ )کہنے سے کیا چیز مانع ہوسکتی ہے؟
بہر حال یزید کو قاتل حسین (رضی اللہ عنہ) کہنے پر اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ آخر اس وقت کے لوگوں نے اس معاملے میں یزید کو مجرم کیوں نہیں گردانا ؟ بالخصوص حرہ کے موقع پر کہ جب اہل مدینہ نے یزید کی بیعت توڑدی اور یزید پر بہت سارے الزامات لگائے لیکن کسی نے یزید پر یہ جرم عائد نہیں کیا کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل بھی ہے۔
بلکہ ان سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بھائی محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ نے یزید کے جرائم اور اس کے گناہوں کی بابت سوال کیا تو مخالفین نے بہت کچھ کہا لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ تو آپ کے بھائی حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے!
دوسری طرف صحابہ واہل بیت کی صریح شہادتیں موجود ہیں کہ انہوں نے عراقیوں کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل قرار دیا ہے۔ اس لئے حق بات یہ ہے کہ یزید قاتل حسین (رضی اللہ عنہ ) نہیں ہے ۔
اب رہا یہ سوال کہ اگر یزید قاتل نہیں ہے تو یزید نے قاتلین حسین رضی اللہ عنہ سے قصاص کیوں نہیں لیا ؟؟؟
تو اس سوال کا درست جواب معلوم کرنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ قرون مفضلہ میں ہمیں شہداء کی دو قسمیں نظر آتی ہیں پہلی وہ قسم ہے جس میں سلف کے یہاں قصاص کا مطالبہ بھی ہوتا تھا اور قصاص لیا بھی جاتا تھا ، جبکہ اسی دور میں شہداء کی ایک قسم ایسی بھی نظر آتی ہے جن سے متعلق نہ تو قصاص کا مطالبہ ہوتا تھا اور نہ ہی قصاص لیا جاتا ہے اس دور کا یہی طرزعمل تھا ، تفصیل ملاحظہ ہو:
.

① شہداء کی پہلی قسم(شہدائے امن):

وہ شہداء جو حالت امن میں شہید کئے گئے یعنی بوقت شہادت وہ کسی سے لڑائی کے لئے نہیں نکلے تھے نہ لڑنے والوں کے ساتھ شامل تھے ، نہ میدان جنگ کے آس پاس گئے بلکہ وہ اپنے گھروں میں تھے یا عادت ومعمول کے مطابق کسی کام میں مصروف تھے کہ اچانک ان پر حملہ کرکے ان کو ”شہید“ کردیا جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں اس نوعیت کے جو بھی شہداء تھے ان سب کے خون کا قصاص لیا گیا اور قاتل کو قتل کیا گیا ۔ مثلا:

➊ خلیفہ دوم سيدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

آپ کی شہادت حالت جنگ میں نہیں ہوئی ہے بلکہ عین حالت نماز میں مسجد میں آپ کو شہید کیا گیا ، ظاہر ہے کہ یہاں قصاص لازم ہے ۔
چنانچہ قاتل ابو لؤلؤ کو صحابہ نے مسجد میں ہی دبوچ لیا جس کے بعد اس نے خود کشی کرتے ہوئے خود کو ہی زخمی کرلیا [صحيح البخاري 3700]
اور واقدی کے بقول ”عبداللہ بن عوف زہری“ نے اس کا سر قلم کردیا [الطبقات الكبرى ط دار صادر 3/ 348]
بلکہ عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبید اللہ بن عمر کو جب پتہ چلا کہ ابو لؤلؤ کے گھر کے تین مزید لوگ اس قتل کی سازش میں شریک تھے تو انہوں نے ان کے گھر جاکر ان تینوں کو بھی قتل کرڈالا [مصنف عبد الرزاق 5/ 480 وإسناده صحيح]

➋ خلیفہ سوم سيدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

آپ کی شہادت بھی میدان جنگ میں نہیں ہوئی بلکہ آپ تو اپنے گھر میں اپنے بال بچوں کے ساتھ تھے ، کسی سے لڑائی کے لئے نہیں نکلے بلکہ خود پر حملہ کرنے والوں سے بھی مقابلہ نہ کیا بلکہ دوسرے خیر خواہوں کو بھی مقابلہ سے روک دیا حالانکہ آپ خلیفہ تھے [تاريخ خليفة بن خياط ص173وإسناده صحيح]
ظاہر ہے کہ ایسے امن پسند اور لڑائی سے ہاتھ روکنے والے اور وہ بھی خلیفہ اورجنتی صحابی کو ان کے گھر میں داخل ہو کر انتہائی بے دردی سے قتل کردیا جائے تو ایسے قاتلین سے قصاص لینا بہر صورت واجب ہوگا ، اسی لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قصاص کی مانگ کی بالاخر قاتلین عثمان میں سے ہر شخص یا تو ہلاک ہوا یا قصاصا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کیا ۔

➌ عبد الله بن خباب بن الأرت رحمہ اللہ

ان کو خوارج نے ناحق قتل کردیا تھا [المستدرك للحاكم، ط الهند: 2/ 153 وإسناده صحيح]
یہ مسلمانوں کی کسی بھی لڑائی میں شامل نہیں ہوئے بلکہ ہر طرح کی لڑائی سے خود کو الگ رکھنے والے تھے ، حمید بن ہلال ایک چشم دید گواہ (اس کا نام نہیں لیا تاکہ خوارج اسے قتل نہ کردیں) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن یہ اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ کہیں جارہے تھے پھر خوارج نے ان سے حدیث رسول سنانے کو کہا تو انہوں نے وہ حدیث سنا دی جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی آپسی لڑائی میں سب سے الگ رہنے کا حکم دیا تھا یہ سن کو خوارج نے ان کو نہر کے کنارے لٹا کر ذبح کردیا اور ان کی بیوی کا پیٹ پھاڑ کر ان کے بچے کو قتل کردیا اور بیوی کو بھی مار ڈالا ۔ [المعجم الكبير للطبراني رقم 3629 وإسناده حسن لغيره والرجل المبهم صاحب حميد]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو انہوں نے خوارج سے کہا کہ ان کے قاتلین کو ہمارے حوالے کرو تاکہ ہم قصاص لیں کیونکہ انہوں نے ایک بے ضرر انسان کو ناحق قتل کیا ہے ۔ ان لوگوں نے کہا ہم سب نے قتل کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھرہم ان سب سے جنگ کریں گے۔[مسدد بحوالہ : المطالب العالية 18/ 219 حسن لغيره إلا أحرفا يسيرة]
خوارج کا اس بے ضرر مسلمان کو اس کی بیوی و بچے کے ساتھ قتل کردینا اور پھر علی رضی اللہ عنہ کا قصاص کے لئے ان قاتلین کو طلب کرنا یہی چیز جنگ نہروان کا سبب بنی ۔

➍ خلیفہ چہارم سيدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

آپ کو بھی جب شہید کیا گیا تو آپ حالت جنگ میں نہیں تھے بلکہ نماز کی خاطر مصلی پر جارہے تھے اسی دوران عبدالرحمن ابن ملجم نے آپ پر قاتلانہ حملہ کردیا [مصنف ابن أبي شيبة 21/ 182 وإسناده صحيح]
جس کے کچھ دنوں بعد آپ کی وفات ہوئی رضي الله عنه۔[مقتل علي لابن أبي الدنيا ص82 وإسناده صحيح]
بعد میں حسن رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد ان کے حکم سے قاتل کو بھی قصاصا قتل کیا گیا ۔ [الطبقات الكبرى ط دار صادر 3/ 39 حسن بالشواهد]

➎ سيدنا خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ

آپ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کی جگہ نماز پڑھانے کے لئے مصلی پر جارہے تھے اسی دوران قاتل نے ان پر حملہ کیا جس سے وہ شہید ہوگئے ۔[فتوح مصر والمغرب ص131 وإسناده صحيح]
پھر گورنرمصر عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے اس قاتل کو قصاصا قتل کروایا ۔[تاريخ الطبري 5/ 149 فتوح مصر والمغرب ص131 وإسناده صحيح]
.
✿ ◄ ◄ غور کریں ان تمام شہداء کی شہادتوں میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ ساری شخصیات بوقت شہادت حالت امن میں تھیں ، یعنی یہ حضرات مسجد یا گھر یا اپنے علاقہ میں تھے ، ان میں سے کوئی بھی شخصیت بوقت شہادت جنگ یا میدان جنگ کے آس پاس نہ تھی یہی وجہ ہے کہ ان شہداء میں سے ہر ایک کے خون کا حساب ہوا اور ہر ایک کے قاتل کو قصاصا قتل کیا گیا ۔

② شہداء کی دوسری قسم(شہدائے حرب):

وہ شہداء جو حالت جنگ میں شہید ہوئے یعنی بوقت شہادت وہ کسی گروہ سے لڑنے کے لے نکلے تھے یا لڑنے والوں کے ساتھ تھے ، یا میدان جنگ کے آس پاس تھے اور اسی حالت میں ان کو کسی نے شہید کردیا ۔
اسلامی تاریخ میں اس نوعیت کے جو بھی شہداء گزرے ہیں ان میں سے کسی کے خون کا نہ تو قصاص لیا گیا اور نہ ہی قصاص کی مانگ کی گئ مثلا:

➊ سيدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ

آپ جنگ جمل میں شریک تھے لیکن آخر میں الگ ہوگئے تھے احنف نے راہ چلتے دھوکے سے آپ کو شہید کیا اور اس مردود نے آپ رضی اللہ عنہ کا سر قلم کرکے علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر کیا ، علی رضی اللہ عنہ نے اس قاتل کو جہنم کی بشارت دی ۔ [الطبقات الکبریٰ لابن سعد:3/ 110 واسنادہ صحیح]

یہاں بہت سارے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے جب علی رضی اللہ عنہ زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کو درست نہ جانتے تھے بلکہ اس کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے رہے تھے تو پھر علی رضی اللہ عنہ نے اس قاتل سے قصاص کیوں نہ لیا جبکہ یہ اقبالی مجرم تھا نیز تنہا اور اکیلا تھا اور علی رضی اللہ عنہ کے سامنے حاضر بھی تھا؟؟؟
اس مضمون کو آخر تک پڑھیں ان شاء اللہ اس کا معقول جواب آپ کو مل جائے گا۔

➋ سيدنا طلحہ بن زبیر رضی اللہ عنہ

آپ نے بھی جنگ جمل میں شرکت کی تھی ، اور آپ کو جس نے قتل کیا تھا ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اس سے بھی آگاہ تھے ، [المستدرك للحاكم، ط الهند: 2/ 353 رقم 3348 وإسناده صحيح]
فائدہ:-
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں زبیر اور طلحہ رضی اللہ عنہما کی شہادت کی پیشین گوئی کی ہے اور انہیں ”شہید“ کہا ہے [صحيح مسلم 2417]
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ زبیر اور طلحہ رضی اللہ عنہما بھی راہ حق میں شہید ہوئے ہیں وہ معاذ اللہ باغی نہیں تھے ورنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی موت کو ”شہادت“ نہ کہتے ۔
.
امام أبو عبد الله شمس الدين القرطبي رحمه الله (المتوفى671) فرماتے ہیں:
« فلو كان ما خرج إليه من الحرب عصيانا لم يكن بالقتل فيه شهيدا… لأن الشهادة لا تكون إلا بقتل في طاعة»
اگر طلحہ رضی اللہ عنہ کا جنگ میں نکلنا نافرمانی پر مبنی ہوتا تو اس میں قتل ہونے پر وہ ”شہید“ نہ کہلاتے … کیونکہ شہادت صرف نیکی کی راہ میں قتل ہونے سے ملتی ہے۔ ”[الجامع لأحكام القرآن للقرطبي: 16/ 321]
بلکہ مسلمانوں کی کسی بھی باہمی لڑائی میں شہید ہونے والے کسی بھی صحابی کو باغی کہنا قطعا درست نہیں ہے ۔

➌ کعب بن سور الازدی رحمہ اللہ

آپ کو سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا قاضی مقرر کیا تھا ، آپ مسلمانوں کی آپسی لڑائیوں میں الگ تھلک رہنے والے تھے ، اور لوگوں کو اسی چیز کی دعوت دیتے اور آپسی لڑائی میں حصہ لینے سے روکتے تھے ، جنگ جمل کے موقع پر بعض نے ان سے کہا کہ آپ چل کر فریقین کو سمجھائیں تاکہ لوگ آپس میں لڑنے سے باز رہیں یہ صلح و صفائی کی نیت سے میدان جنگ تک چلے گئے اور دونوں فریق کو اللہ کا واسطے دے کر روکنے کی کوشش کرتے رہے اسی حالت میں انہیں بھی شہید کردیا گیا [أخبار القضاة 1/ 281 تاريخ خليفة ص185]

➍ سيدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ

آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت جنگ صفین میں ہوئی ہے ۔ [المستدرك للحاكم، ط الهند: 3/ 389 وإسناده صحيح]

➎ سيدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت معرکہ کربلا میں ہوئی ہے ، یہ جنگ قافلہ حسین رضی اللہ عنہ نیز اس میں موجود اہل کوفہ اور عمر بن سعد کے لشکر کے مابین ہوئی اور دونوں طرف کے لوگوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا ۔[تاريخ الطبري 3/ 299 واسنادہ صحیح]۔
دونوں طرف کتنے لوگ قتل کئے گئے یہ کسی صحیح سند سے منقول نہیں لیکن اس بابت سب سےقدیم مرجع طبقات ابن سعد ہے جس میں متعدد سندوں سے منقول ہے:
«وقتل مع ‌الحسين. اثنان وسبعون رجلا. وقتل من أصحاب ‌عمر بن سعد. ‌ثمانية ‌وثمانون رجلا»
حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے 72 لوگ اور عمربن سعد کے لشکر سے 88 لوگ قتل کئے گئے [الطبقات الكبرى 1/ 475 وانظر: أنساب الأشراف 3/ 411 تاريخ الطبري 5/ 455]
یہ روایت بتلاتی ہے کہ دونوں طرف کے مقتولین کی تعداد تقریبا برابر تھی مگر یہ تعداد بھی مبالغہ آمیز لگتی ہے فریقین کے مقتولین کی صحیح تعداد کتنی تھی یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں ابن سعد نے نقل کیا:
« يقاتل ‌قتال ‌الفارس ‌الشجاع »
آپ بہادر شہسوار کی طرح لڑ رہے تھے“ [الطبقات الكبرى 1/ 470]
اہل تشیع یہ دعوی کرتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے تنہا ایک ہزار کی تعداد کو قتل کیا ، بلکہ مسعودی نے تو لکھا ہے کہ:
«قتل بيده ذلك اليوم الفا وثماني مائة مقاتل»
اس روز آپ (حسین رضی اللہ عنہ ) نے اپنے ہاتھوں (فریق مخالف کے) ایک ہزار آٹھو سو جنگجو قتل کئے “ [ إثبات الوصية للمسعودي : ص178 و وفي نسخة 147]
ان میں سے کوئی بھی بات بسند صحیح ثابت نہیں ہے۔
اس معرکہ میں حسین رضی اللہ عنہ کا کیا طرزعمل تھا یہ اللہ ہی بہترجانتا ہے ۔
ممکن ہے حسین رضی اللہ عنہ نے کسی کو بھی قتل نہ کیا ہو بلکہ فریقین کو لڑائی سے باز رہنے ہی کی تاکید کررہے ہوں اور اسی دوران آپ کو بھی شہید کردیا گیا ، جیسے جنگ جمل میں بصرہ کے قاضی کعب بن سور الازدی رحمہ اللہ لڑنے نہیں بلکہ فریقین کو لڑائی سے روکنے کے لئے گئے تھے مگر انہیں بھی شہید کردیا گیا واللہ اعلم۔
.
✿ ◄ ◄دوسری قسم کے ان تمام شہداء میں مشترک بات یہ ہے کہ ان کی شہادتیں حالت حرب وجنگ میں ہوئی ہیں ، خواہ کسی نے لڑائی میں شرکت کی یا کسی اور سبب میدان جنگ تک گئے ۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں لڑنے کے لئے نہیں محض اپنے والد کی رعایت میں گئے تھے اگر یہ بھی شہید ہوجاتے تو ان کی شہادت کی بھی یہی نوعیت ہوتی حتی کہ صلح وصفائی کی نیت وکوشش کے ساتھ بھی کوئی میدان جنگ گیا اور شہید کردیا گیا تو اس کی شہادت بھی اسی قبیل کی ہے جیسے جنگ جمل میں قاضی بصرہ کعب بن سور الازدی رحمہ اللہ کا معاملہ تھا کمامضی ۔
.
مؤخر الذکر شہادت میں نہ قصاص کا مطالبہ ہوتا ہے نہ قصاص لیا جاتا ہے سلف کا اسی پرعمل تھا بلکہ قولا بھی ان سے یہی بات ثابت ہےچنانچہ:
● امام سعید بن المسیب (المتوفی94) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«إذا التقت الفئتان فما كان بينهما من دم أو جراحة، فهو هدر، ألا تسمع إلى قول الله عز وجل: ﴿ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا﴾ [الحجرات: 9] فتلا الآية حتى فرغ منها، قال: فكل واحدة من الطائفتين ترى الأخرى باغية»
”اگر دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان جو بھی قتل وخونریزی ہوئی ہے وہ سب ضائع ہے (یعنی اس پر قصاص نہیں ہے ) کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں﴾ [الحجرات: 9]۔ پھر سعید ابن المسیب نے پوری آیت پڑھی اور کہا: تو ایسے دونوں گروہوں میں سے ہر ایک دوسرے کو زیادتی کرنے والا سمجھتا ہے۔“ [مصنف عبد الرزاق : 10/ 122 وإسناده صحيح]
● امام ابن شهاب الزهرى رحمه الله (المتوفى125) فرماتے ہیں:
« أدركت الفتنة الأولى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فكانت فيها دماء وأموال فلم يقتص فيها من دم ولا مال ولا قرح أصيب بوجه التأويل إلا أن يوجد مال رجل بعينه فيدفع إلى صاحبه
پہلے فتنہ (جمل وصفین) کے وقت صحابہ موجود تھے ، اس میں (دوران جنگ) تاویل کی بنا پر جو قتل ہوئے ان کا قصاص نہیں لیا گیا ، جو مالی نقصانات ہوئے ان کا معاوضہ طلب نہیں کیا گیا اور جو زخم لگائے گئے ان کی دیت نہیں لی گئی البتہ کسی خاص شخص کا کوئی خاص مال صحیح سالم کسی کے پاس پایا گیا تو اسے اس کے مالک کو لوٹا دیا گیا ۔[الأم 4/ 227 وإسناده إلي الزهري صحيح بالشاهد ، مطرف تابعه عبدالرزق رقم 18584 ]
● یہی موقف امام شافعی ، امام احمد رحمہم اللہ سے بھی ثابت ہے ۔[الأم للإمام الشافعي 4/ 227 ، السنة للخلال 1/ 152]
.
✿ اس پوری تفصیل سے آپ کو نہ صرف اس بات کا جواب ملتا ہے کہ یزید بن معاویہ نے خون حسین رضی اللہ عنہ کا قصاص کیوں نہیں لیا ، بلکہ یہ عقدہ بھی حل ہوجاتا ہے کہ اس دور کے صحابہ وتابعین بلکہ خود افراد اہل بیت میں سے بھی کسی نے قصاص کا کوئی مطالبہ کیوں نہ کیا ۔
ساتھ ہی اس بات کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ جنتی صحابی سیدنا زبیر رضی اللہ کے قاتل ابن جرموز سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قصاص کیوں نہ لیا جبکہ وہ اقبالی مجرم بھی تھا اور تنہا واکیلا علی رضی للہ عنہ کے سامنے حاضر بھی ہوا۔
در اصل اس دور میں حالت جنگ میں ہونی والی شہادتوں پر قصاص لینے یا قصاص کی مانگ کرنے کا کوئی آئین ودستور تھا ہی نہیں بلکہ جنگ ختم ہوتے ہی وہ سارے معاملات بھی ختم ہوجاتے تھے جو دوران جنگ پیش آئے ، جنگ کی یہی بے رحم سچائی ہے اسی لئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپس میں خانہ جنگی کے وقت الگ تھلگ رہنے اور گھروں میں بیٹھے رہنے یا دور دراز کسی اور علاقے میں نکل جانے کاحکم دیا ہے۔ اور ایسے حالات میں جمہور سلف کا عملا وقولا یہی موقف تھا۔
(ابوالفوزان کفایت اللہ سنابلی)

Leave a Reply