حبِ علی ”ایمان“ اور بغضِ علی ”نفاق“ کی علامت کا مفہوم ، رضی اللہ عنہ

You are currently viewing حبِ علی ”ایمان“ اور بغضِ علی ”نفاق“ کی علامت کا مفہوم ، رضی اللہ عنہ

حبِ علی ”ایمان“ اور بغضِ علی ”نفاق“ کی علامت کا مفہوم ، رضی اللہ عنہ

مسلم کی حدیث ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان فرمایا کہ :
« لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ»
”مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔“ [ مسلم78]
یہ حدیث بلاشبہ علی رضی اللہ عنہ کی بہت بڑی فضیلت بیان کرتی ہے مگر خود کو اہل سنت کہنے والے جو لوگ اس حدیث سے استدلال کرکے علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف کرنے والے صحابہ وتابعین پر تہمتِ نفاق باندھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اگلی حدیث اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تشریح کو غور سے پڑھیں:
.
بخاری ومسلم کی متفق علیہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
« الأَنْصَارُ لاَ يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلاَ يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ »
”انصار سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ پس جو شخص ان سے محبت کرے اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا“ [ بخاری 3783 مسلم 75]
.
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) لکھتے ہیں:
«وقد كنت أستشكل ‌توثيقهم ‌الناصبي غالياً وتوهينهم الشيعة مطلقا ولا سيما إن عليا ورد في حقه لا يحبه إلا مؤمن ولا يبغضه إلا منافق. ثم ظهر لي في الجواب عن ذلك أن البغض هاهنا مقيد بسبب وهو كونه نصر النبي صلى الله عليه وآله وسلم لأن من الطبع البشري بغض من وقعت منه إساءة في حق المبغض والحب بعكسه وذلك ما يرجع إلى أمور الدنيا غالبا والخبر في حب علي وبغضه ليس على العموم فقد أحبه من أفرط فيه حتى ادعى أنه نبي أو أنه إله تعالى الله عن إفكهم والذي ورد في حق علي من ذلك قد ورد مثله في حق الأنصار وأجاب عنه العلماء أن بغضهم لأجل النصر كان ذلك علامة نفاقه وبالعكس فكذا يقال في حق علي وأيضا فأكثر من يوصف بالنصب يكون مشهورا بصدق اللهجة والتمسك بأمور الديانة بخلاف من يوصف بالرفض فإن غالبهم كاذب ولا يتورع في الأخبار والأصل فيه أن الناصبة اعتقدوا أن عليا رضي الله عنه قتل عثمان أو كان أعان عليه فكان بغضهم له ديانة بزعمهم ثم انضاف إلى ذلك أن منهم من قتلت أقاربه في حروب علي»
[ تهذيب التهذيب 8/ 458]
ترجمہ:
مجھے یہ اشکال تھا کہ محدثین عام طور سے ”ناصبی“ کی توثیق کرتے ہیں جبکہ ”شیعہ“ (رافضی) کی مطلقا تضعیف کردیتے ہیں ، بالخصوص جبکہ علی رضی اللہ عنہ کے حق میں یہ حدیث بھی وارد ہے کہ ”علی رضی اللہ عنہ سے مؤمن ہی ”محبت“ کرے گا اور ان سے منافق ہی ”بغض“ کرے گا“ ۔
پھر میرے لئے اس اشکال کا جواب یوں واضح ہوا کہ اس حدیث میں ”بغض“ ایک خاص سبب کے ساتھ مقید ہے اور وہ ہے علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ”نصرت وحمایت“ (نہ کہ دیگر دنیاوی اسباب)کیونکہ یہ تو انسانی فطرت ہے کہ انسان (دنیاوی اعتبار سے ) اس شخص سے بغض رکھتا ہے جس سے اسے تکلیف پہنچی ہو اور اسی کے برعکس محبت کا معاملہ ہے اور اکثر ان چیزوں کا تعلق دنیاوی امور سے ہوتا ہے۔
اور حدیث میں علی رضی اللہ عنہ سے متعلق جس ”بغض“ اور ”محبت“ کا ذکر ہے وہ عام نہیں ہے کیونکہ ان سے محبت کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ”محبت“ میں اس حد تک غلو کیا کہ ان کے نبی یا معبود ہونے تک کا دعوی کرلیا -اللہ تعالی ان کے اس جھوٹ سے پاک ہے-
نیز (بغض و محبت والی ) جو بات علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں وارد ہے ٹھیک وہی بات انصار کے حق میں بھی وارد ہے ، اور اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ انصار نے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ”نصرت وحمایت“ کی ہے اگر اسی سبب کوئی ان سے ”بغض“ رکھے گا تو یہ اس کے نفاق کی علامت ہوگی اور اس سبب کوئی ان سے ”محبت“ کرے گا تو یہ ان کے ایمان کی علامت ہوگی ، تو یہی بات علی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے بھی کہی جائے گی ۔
مزید یہ کہ اکثر جن لوگوں کو ”نصب“ سے متصف کیا جاتا ہے وہ سچ بولنے میں معروف ہوتے ہیں اور دین کے احکام پر مضبوطی سے عمل کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں برخلاف ان لوگوں کے جنہیں ”رفض“ سے متصف کیا جاتا ہے کیونکہ ”روافض“ میں اکثر جھوٹے ہوتے ہیں اور روایات بیان کرنے میں امانت داری نہیں دکھاتے۔
دراصل نواصب نے یہ سمجھ لیا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل کیا یا اس میں مدد کی ہے تو یہ لوگ بزعم خویش اپنی دینداری کی بنیاد پر علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہیں ، اس کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے بعض رشتہ دار علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑائی میں قتل کئے گئے ہیں ۔ (یعنی نواصب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت وحمایت کے سبب علی رضی اللہ عنہ سے بغض نہیں رکھتے بلکہ خون عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق غلط فہمی اور دنیاوی امور کے سبب بغض کے شکار ہیں )
[ تهذيب التهذيب لابن حجر : 8/ 458]
.
واضح رہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا تھا ان کا اختلاف محض سیاسی اختلاف تھا وہ ایک دوسرے کے ساتھ بغض کے شکار نہیں تھے، نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہاں عام رواۃ سے متعلق گفتگو کی ہے۔
.
صحیح بخاری کی حدیث سے ثابت ہے کہ صحابی رسول بریدہ رضی اللہ عنہ جو مہاجر صحابی ہیں وہ بعض دنیاوی اسباب کی بناپر علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے تھے ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الخُمُسَ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ: أَلاَ تَرَى إِلَى هَذَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «لاَ تُبْغِضْهُ فَإِنَّ لَهُ فِي الخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ»
عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو (یمن) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس (پانچواں حصہ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تم دیکھتے ہو علی رضی اللہ عنہ نے کیا کیا (اور ایک لونڈی سے صحبت کی) پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا (بریدہ) کیا تمہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بغض ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا علی سے بغض نہ رکھو کیونکہ ان کا خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔
[صحيح البخاري 4350]

نیز ایک دوسری حدیث میں انہیں صحابی نے بیان کیا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی علی رضی اللہ عنہ سے دنیاوی اسباب کی بناپر بغض رکھتے تھے ۔
عن عَبْد اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةُ قَالَ: أَبْغَضْتُ عَلِيًّا بُغْضًا لَمْ أَبْغِضْهُ أَحَدًا قَطُّ. قَالَ: وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا. قَالَ: فَبُعِثَ ذَاكَ الرَّجُلُ عَلَى خَيْلٍ فَصَحِبْتُهُ مَا أَصْحَبُهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا. قَالَ: فَأَصَبْنَا سَبْيًا. قَالَ: فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْنَا عَلِيًّا، وَفِي السَّبْيِ وَصِيفَةٌ هِيَ مِنْ أَفْضَلِ السَّبْيِ فَخَمَّسَ، وَقَسَمَ فَخَرَجَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ فَقُلْنَا: يَا أَبَا الْحَسَنِ مَا هَذَا؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبْيِ، فَإِنِّي قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ فَصَارَتْ فِي الْخُمُسِ، ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ وَوَقَعْتُ بِهَا. قَالَ: فَكَتَبَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: ابْعَثْنِي فَبَعَثَنِي مُصَدِّقًا. قَالَ: فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَابَ وَأَقُولُ: صَدَقَ. قَالَ: فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَابَ وَقَالَ: «أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «فَلَا تُبْغِضْهُ، وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَنَصِيبُ آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ»
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اتنی نفرت تھی کہ کسی سے اتنی نفرت کبھی نہیں رہی تھی اور صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نفرت کی وجہ سے میں قریش کے ایک آدمی (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ) سے محبت رکھتا تھا ایک مرتبہ ان (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) کو چند شہسواروں کا سردار بنا کر بھیجا گیا تو میں بھی ان کے ساتھ چلا گیا اور صرف اس بنیاد پر کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نفرت کرتے تھے ، ہم لوگوں نے کچھ قیدی پکڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خط لکھا کہ ہمارے پاس کسی آدمی کو بھیج دیں جو مال غنیمت کا خمس وصول کرلے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیج دیا۔ ان قیدیوں میں ” وصیفہ ” بھی تھی جو قیدیوں میں سب سے عمدہ خاتون تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس وصول کیا اور اسے تقسیم کردیا پھر وہ باہر آئے تو ان کا سر ڈھکا ہوا تھا ہم نے ان سے پوچھا اے ابوالحسن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا تم نے وہ ” وصیفہ ” دیکھی تھی جو قیدیوں میں شامل تھی میں نے خمس وصول کیا تو وہ خمس میں شامل تھی پھر وہ اہل بیت نبوت میں آگئی اور وہاں سے آل علی میں آگئی اور میں نے اس سے مجامعت کی ہے ، اس کے بعد انہوں (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھ کر اس صورت حال سے آگاہ کیا میں نے ان سے کہا یہ خط میرے ہاتھ بھیجو چنانچہ انہوں نے مجھے اپنی تصدیق کرنے کے لئے بھیج دیا میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر خط پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ انہوں نے سچ کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خط پر سے میرے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان سے بغض نہ رکھو بلکہ اگر محبت کرتے ہو تو اس میں مزید اضافہ کردو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے خمس میں آل علی کا حصہ ” وصیفہ ” سے بھی افضل ہے
[مسند أحمد 22967]
.
ان دونوں احادیث پر غور کریں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بغض علی رضی اللہ عنہ کی بناپر ان صحابہ کو منافق نہیں کہا نہ دیگر صحابہ نے اس بناپر ان کو نفاق سے متہم کیا ۔
اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہ بغض دنیاوی اسباب کی بناپر تھا ۔
.

(ابوالفوزان کفایت اللہ سنابلی)

Leave a Reply