ندیم صاحب کی پہلی قسط کی باقی باتوں کاجائزہ پیش خدمت ہے:
پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر جائیں
ندیم ظہیر صاحب کی پہلی تحریر کا جواب: حصہ اول
ابن سعد کی جرح اور ندیم ظہیرصاحب کا دو رخی ڈبہ
ابن سعد کی جرح سے متعلق ندیم صاحب نے میرے لیے جو دورخی ڈبہ بنانے کی کوشش کی ہے وہ کچھ یوں ہے:
پہلا رخ:-عبدالوہاب ثقفی کو ابن سعد نے ”فيه ضعف“ کہا، اس لیے ہم نے اسے ”متکلم فیہ“ کہا۔
دوسرارخ:- ابن سعد نے ایک دوسرے راوی پرجرح کی تو ہم نے کہا کہ ابن سعد جرح میں منفرد ہوں تو ان کی جرح قبول نہیں ہوتی۔
اللہ کے بندے!
کیا اس دوسرے راوی کے بارے میں ہم نے یہ کہا ہے کہ یہ ”متکلم فیہ“ نہیں ہے؟ ؟؟
ہم نے یہ کہا ہے کہ ان کے بارے میں ابن سعد کی جرح یعنی ان کا کلام قبول نہیں ہے، لیکن اس کا یہ مطلب کیسے ہو گیا کہ ابن سعد نے ان پرکلام کیا ہی نہیں؟ یعنی یہ ”متکلم فیہ“ بھی نہیں ہیں؟؟؟
اگرایسے ہی دو رُخی ڈبہ بناناہو تواپنے استاذممدوح کے گھرکایہ دو رُخی ڈبہ ملاحظہ کریں:
● پہلارخ:-
زبیرعلی زئی صاحب امام بزار رحمہ اللہ پربعض ناقدین کی جرح نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
”بزاربذات خود متکلم فیہ ہیں۔“ (فتاوی علمیة: ج١ص١٢١ ، مجلہ اشاعة الحدیث نمبر٢٣ ص٢٨)
● دوسرارخ:-
جس طرح ہم نے عبدالوہاب ثقفی کو متکلم فیہ ماننے کے ساتھ ثقہ ہی تسلیم کیا ہے، اسی طرح زبیرعلی زئی صاحب نے بھی بزار کو متکلم فیہ ماننے کے ساتھ ثقہ ہی تسلیم کیا۔ (دیکھئے: نورالعینین:ص٤١٨، مقالات ج٣ص١٣٩)
جس راوی سے متعلق جرح وتوثیق دونوں ہوں وہ زبیرعلی زئی صاحب کے نزدیک ثقہ تب مانا جاتا ہے، جب جمہورسے اس کی توثیق ثابت ہو،جس کا مطلب یہ ہواکہ جمہورنے امام بزار کی توثیق کی ہے اور جمہورکے خلاف جرح کے بارے میں زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”جمہورمحدثین کے مقابلے میں بعض محدثین کی جرح وتعدیل مرجوح ومردودہوتی ہے۔“ (مقالات ج١ص٥٣١)
سوال یہ ہے کہ جب جمہورکی توثیق کے مقابلے میں بعض محدثین کی جرح قبول ہی نہیں، بلکہ مردود ہوتی ہے تو پھر امام بزار آپ کے استاذممدوح کی نظر میں ”متکلم فیہ“ کیسے بن گئے؟؟
تبصرہ بر تبصرہ:-
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”سنابلی صاحب کے اپنے پسندیدہ راوی پرامام ابن سعد کی جرح غیرمقبول اوران کے موقف کے خلاف روایت کرنے والے راوی پرابن سعدرحمہ اللہ کی جرح مقبول ۔آہ!“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٣)
واہ ! اب ہماری سنو:
زبیرعلی زئی صاحب کے اپنے پسندیدہ راوی پربعض محدثین کی جرح مردود اور ان کے موقف کے خلاف روایت کرنے والے راوی بلکہ امام اورمحدث بزارپربعض محدثین کی جرح مقبول ۔واہ !
ندیم صاحب مزید لکھتے ہیں:
”عرض یہ ہے کہ جب امام ابن سعد رحمہ اللہ کی جرح تفرد کی صورت میں قبول ہی نہیں توپھرعبدالوہاب ثقفی متکلم فیہ کس طرح بن گئے؟“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٣)
ہم بھی آپ ہی کے الفاظ میں پوچھتے ہیں:
عرض یہ ہے کہ جب جمہورکے خلاف بعض محدثین کی جرح مردود یعنی قبول ہی نہیں توپھرامام بزار ”متکلم فیہ“ کس طرح بن گئے؟!!
ابن سعد کی منفرد جرح رد کرنے کا اصول
ابن سعد کی جرح کو تفرد کی صورت میں رد کرنے کی جوبات ہم نے کہی ہے، وہ دراصل حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے کلام سے ماخوذ ہے، جسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری کے مقدمہ میں بطوراصول پیش کیا ہے۔ ہم اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ کے استاذ ممدوح ہی کے الفاظ نقل کر دیتے ہیں۔
زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”امام ابن سعد رحمہ اللہ اگرجرح میں منفرد ہوں تو ان کی جرح مقبول نہیں ہوتی، کیونکہ اسماء الرجال کے علم میں وہ (بعض اوقات) واقدی (کذاب)کی پیروی کرتے ہیں۔ دیکھئے: ہدی الساری ص٤١٧،،٤٤٣قواعدفی علوم الحدیث ٣٩٠وغیرھما“ (مسئلہ فاتحہ خلف الامام ص٤٣)
ندیم صاحب کے استاذممدوح نے ہدی الساری کے جن مقامات کاحوالہ دیا ہے، وہاں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے خود ہی یہ اصول بیان فرمایاہے۔حافظ ابن حجررحمہ اللہ کے الفاظ ہیں:
« وشذ بن سعد فَقَالَ مُنكر الحَدِيث قلت وَلم يلْتَفت أحد إِلَى بن سعد فِي هَذَا فَإِن مادته من الْوَاقِدِيّ فِي الْغَالِب والواقدي لَيْسَ بمعتمد»
”ابن سعد نے سب کے برخلاف یہ کہاکہ یہ ”منکرالحدیث ” ہے۔ میں (ابن حجر) کہتا ہوں: اس سلسلے میں ابن سعد کی بات کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی، کیونکہ ان کا بیشتر مواد واقدی سے ہے اور واقدی قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ محدثین کی ایک جماعت نے ان سے حجت پکڑی ہے۔“ (ہدی الساری لابن حجر، ص: ٤١٧)
دوسرے مقام پر حافظ ابن حجررحمہ اللہ کے الفاظ ہیں:
«وَقَالَ بن سعد لَا يحتجون بِهِ قلت بل احْتج بِهِ الْأَئِمَّة كلهم وَقَالَ أَبُو زرْعَة مَأْمُون وَلَكِن بن سعد يُقَلّد الْوَاقِدِيّ والواقدي على طَريقَة أهل الْمَدِينَة فِي الانحراف على أهل الْعرَاق»
”ابن سعد نے کہا: محدثین اس سے حجت نہیں پکڑتے۔ میں (ابن حجر) کہتا ہوں: تمام ائمہ نے ان سے حجت پکڑی ہے اور امام ابوزرعہ نے کہا ہے: یہ مامون ہیں۔ لیکن ابن سعد، واقدی کی تقلید کرتے ہیں۔ واقدی اہلِ عراق کے خلاف انحراف میں اہل مدینہ کے طریق پر ہیں۔“ (ہدی الساری لابن حجر، ص: ٤٤٣)
یہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا بیان کردہ اصول ہے، جس کا ذکر ہم نے اپنی کتاب میں کیا تھا۔
اب ندیم ظہیر صاحب یہ بات سمجھنے کی کوشش کریں کہ جرح کو رد کرنے کایہ مطلب نہیں ہوتا کہ اسے بالکل ہی کالعدم قرار دے دیا جائے اور کہیں پر بھی اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ تفصیل ملاحظہ ہو:
جارحین کی جرح رد کرنے کا مفہوم
کسی راوی سے متعلق توثیق کوقبول کرنے کے بعد جارحین کی جروح ردکرنے کا یہ مطلب قطعا نہیں ہوتا ہے کہ ان کی جروح کو بالکل کالعدم قراردے دیا جائے، بلکہ راوی کا مرتبۂ ثقاہت طے کرنے میں ان جروح کو پیش نظررکھتے ہوئے اُن سے احتجاج کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس راوی سے متعلق اقوالِ توثیق ملنے کے ساتھ ساتھ ناقدین کی جروح بھی ملتی ہیں، اس راوی کو صدوق وحسن الحدیث قراردیا جاتاہے۔
ندیم صاحب کے استاذ ممدوح ہی کے اصول سے سمجھ لیجئے کہ ان کے استاذزبیرعلی زئی صاحب کے یہاں کسی راوی پر ناقدین کی جروح بھی ہوں اور اقوالِ توثیق بھی ہوں، پھر موثقین کی تعداد زیادہ ہو، یعنی بقول ان کے جمہورنے اس کی توثیق کی ہو تو زبیر علی زئی صاحب اس راوی سے متعلق جمہورکے خلاف ہر جرح کو مردود قرار دیتے ہیں۔لیکن ساتھ ساتھ ایسے راوی کو ثقاہت میں نسبتاً کمزور قرار دیتے ہوئے اسے صدوق وحسن الحدیث قرار دیتے ہیں۔
اس کا واضح مفاد یہ ہے کہ زبیرعلی زئی صاحب جمہورکے خلاف دیگر ناقدین کی جروح کو گرچہ رد کر دیتے ہیں، لیکن انہیںکالعدم قرار نہیں دیتے، بلکہ راوی کا درجۂ ثقاہت طے کرنے میں ان جروح ہی کی بنیاد پر راوی کو صدوق وحسن الحدیث قراردیتے ہیں۔
اب اگرندیم ظہیرصاحب کے دورخی اصول کو ان کے استاذ پراپلائی کیا جائے تو اس معاملے میں اُن کے استاذ کادورخی ڈبہ یوں بن جائے گا۔ ملاحظہ ہو:
● پہلا رخ:-
”ابوغالب“ نامی ایک راوی پر جرح بھی ہوئی ہے اور اُن کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ زبیرعلی زئی صاحب اس راوی کی ایک روایت کو ”سندہ حسن“ قراردینے کے بعد لکھتے ہیں:
”ابو غالب جمہورکے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث راوی ہیں۔“ (مقالات: ٦ /٧٧)
دوسرارخ :-
دوسری جگہ زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”جمہور کی توثیق کے خلاف ہرجرح مردود ہوتی ہے۔“ (مقالات: ٦ /١٣٢)
سوال یہ ہے کہ کسی راوی سے متعلق جب جمہورکے خلاف ہرجرح بالکلیہ مردود ہوتی ہے تو پھر ”ابو غالب“ ثقہ وصحیح الحدیث کے مرتبے سے گرکر صدوق وحسن الحدیث کیسے ہوگیا اور اس کی روایت ”صحیح“ کے بجائے ”حسن“ کیوں کر ہوگئی؟؟
ابن سعدکی منفرد جرح ہی سے متعلق دیکھ لیں حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے ان کی منفرد جرح کو قابل رد بتلایا ہے لیکن اگرراوی کا درجہ ثقاہت طے کرنا ہوتا ہے توکبھی کبھی حافظ ابن حجررحمہ اللہ ابن سعدکی منفردجرح پراعتماد کرلیتے ہیں۔
چنانچہ کتبِ ستہ کے ایک راوی ”عبید اللہ بن عمرو بن ابی الولید الرقی“ ہیں۔ بہت سارے ائمہ نے ان کی توثیق کی ہے۔ ان کے بارے میں صرف امام ابن سعد نے ”وکان ثقة، صدوقا، کثیر الحدیث“ کہنے کے ساتھ ساتھ اُن پر ”وربما أخطأٔ“ کی جرح کی ہے۔(الطبقات الکبری ط دار صادر: ٧/٤٨٤)
حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اس راوی کا درجہ ثقاہت طے کرنے کے لئے اس پر اعتماد کیا ہے، یعنی اسے قبول کیا ہے۔ (تقریب، رقم: ٤٣٢٧)
ندیم ظہیر صاحب کے استاذ زبیرعلی زئی صاحب ابن سعد کے اس قول یعنی ان کی اس منفرد جرح سے متعلق فرماتے ہیں:
”اس مرجوح قول پرحافظ ابن حجررحمہ اللہ نے تقریب التھذیب (٤٣٢٧)میں اعتماد کیا ہے۔“ (مسئلہ فاتحہ خلف الامام، ص: ٤٢)
شکرہے کہ حافظ ابن حجر نے ندیم صاحب کے استاد سے اختلاف نہیں کیا، ورنہ ندیم ظہیرصاحب ابن حجررحمہ اللہ کے لیے بھی دورخی ڈبہ بناتے ہوئے کہتے کہ جب ایک مقام پر بقول حافظ ابن حجر رحمہ اللہ، ابن سعد کی منفرد جرح مقبول نہیں ہوتی تو دوسرے مقام پرخود حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے تقریب میں ابن سعد کی منفرد جرح پراعتماد کیسے کرلیا؟!!
الغرض توثیق کے مقابلے میں جروح اگرچہ رد کی جاتی ہیں، لیکن راوی کے مرتبہ ثقاہت کی بحث ہو تو وہاں ان جروح سے استدلال کیاجاتاہے۔ اس لیے اگر کوئی ایک مقام پر توثیق کے خلاف جارحین کی جروح کو رد کرے اور دوسرے مقام پر راوی کے مرتبۂ ثقاہت پربحث کرتے ہوئے اُن جروح کا حوالہ دے تو ان دونوں طرزِعمل میں دور دور تک کوئی تضاد وتعارض قطعا نہیں ہوتا۔
ندیم ظہیر صاحب یہ بات اچھی طرح سے نوٹ کرلیں کہ عبدالوہاب ثقفی کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے ہم نے ابن سعد کی جرح پیش نہیں کی، بلکہ ان کا مرتبۂ ثقاہت بتانے کے لیے ابن سعد کی جرح پیش کی ہے۔اس بات کی وضاحت ہم نے باربارکردی ہے، لیکن ندیم ظہیر صاحب شاید یہ بات سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔
حضرت! ہر مدلس کے ساتھ عن عن کا رٹا لگانے اور ناقدین کے اقوال کے ذریعے ووٹنگ کرتے ہوئے جمہور جمہور کی گردان سے کبھی فرصت ملے توظاہر پرستی کے خول سے نکل کرمصطلح الحدیث اور جرح وتعدیل کے اصولوں کو بھی سیکھنے کی کوشش کریں۔
”فیہ ضعف“ کی جرح اور ندیم ظہیرصاحب کا دو رُخی ڈبہ
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”پہلارخ: سنابلی صاحب لکھتے ہیں: ”ہم نے عبدالوہاب ثقفی کو متکلم فیہ بتلانے کے لیے ابن سعد کی جرح ”فیہ ضعف“ پیش کی۔“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔٢٣٩)
دوسرارخ:حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سنابلی صاحب کے پسندیدہ راوی کے بارے میں فرمایا:
«عبدالرحمن بن معاوية ، فيه ضعف»
یہ راوی چونکہ سنابلی صاحب کے مفاد میں تھا، لہٰذا اب ان کی تاویلی قلابازیاں بھی ملاحظہ کرلیں۔ لکھتے ہیں:
”عرض ہے کہ اس سند کے ضعیف ہونے کے لیے اس کا مرسل ہونا ہی کافی ہے اور اس کے بعد امام ابن کثیررحمہ اللہ نے ابو لحویرث کا تعارف پیش کیا اور اس کا پورا نام بتایا ہے اور چونکہ اس پر بعض محدثین نے جرح کی ہے، اس لیے تعارف پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس میں ضعف ہے۔ یہ جملہ راوی کی مطلق تضعیف پر ہرگز دلالت نہیں کرتا، اس سے صرف اور صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس راوی میں ضعف ہے، لیکن کیا یہ ضعف اس قدر ہے کہ راوی کو ضعیف بنادے؟ اس بات کی صراحت یہاں نہیں ہے، لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ امام ابن کثیررحمہ اللہ کے نزدیک یہ راوی ضعیف ہے۔“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص٦٧٣)“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٣،٣٤)
عرض ہے کہ:
کوئی معقول آدمی خوردبین لگاکربھی دیکھے توہماری اُن دونوں باتوں میں تعارض وتضاد کا ایک حبہ بھی نہیں دکھاسکتا۔
◈ پہلی بات میں ہم نے ابن سعدکی جرح ”فیہ ضعف“ سے عبدالوہاب ثقفی کو ضعیف ثابت نہیں کیا، بلکہ صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ عبدالوہاب کو متکلم فیہ بتانے کے لیے یہ جرح پیش کی ہے اور دوسری بات میں بھی ابن کثیر کی جرح ”فیہ ضعف“ کا یہی مقصود بتلایا ہے کہ اس سے راوی کی مطلق تضعیف نہیں ہوتی۔
◈ پہلی بات میں ہم نے ”فیہ ضعف“ کی جرح سے عبدالوہاب کے اندر ضعف مانا ہے اورباربار صراحت کی ہے کہ اس سے راوی کی تضعیف نہیں ہوتی۔ دوسری بات میں بھی ”فیہ ضعف“ کی جرح سے ابوالحویرث کے اندرضعف مانا ہے اورصراحت کی ہےکہ اس سے تضیف ثابت نہیں ہوتی ۔
◈ پہلی بات میں ہم نے ”فیہ ضعف“ کی جرح کی نسبت ابن سعد کی طرف مانی ہے اور دوسری بات میں بھی ہم نے ”فیہ ضعف“ کی جرح کی نسبت ابن کثیر کی طرف مانی ہے۔
تبصرہ برتبصرہ:
ندیم ظہیرصاحب نے لکھا ہے:
”اگر ”فیہ ضعف“ کہنے کے باوجود یہ راوی امام ابن کثیر کے نزدیک ضعیف نہیں توعبدالوہاب ثقفی کے بارے میں فیہ ضعف کی وجہ سے ابن سعد رحمہ اللہ کی طرف جرح کی نسبت کیونکر صحیح ہوسکتی ہے؟ کیا یہ کھلا ہواتضاد نہیں ہے؟“ (اشاعة الحدیث١٣٤ص٣٤)
اللہ کے بندے !
”فیہ ضعف“ کہنے کے باوجود یہ راوی امام ابن کثیر کے نزدیک ضعیف نہیں، لیکن کیا اس کی وجہ سے ہم نے امام ابن کثیر کی طرف اس جرح کی نسبت کا انکار کیا ہے؟
دوسرا یہ کہ ”فیہ ضعف“ کی وجہ سے ابوالحویرث کو ہم نے امام ابن کثیر کی نظرمیں ضعیف نہیں مانا تو کیا ”فیہ ضعف“ کی وجہ سے عبدالوہاب ثقفی کو ہم نے ابن سعد کی نظرمیں ضعیف ثابت کیا ہے؟
ندیم ظہیر صاحب ! یہاں تضاد کدھر ہے ؟ حیرت ہے کہ آپ یہاں تضاد ہی نہیں، بلکہ کھلے ہوئے تضاد کا دعوی کررہے ہیں ! کیا یہ مسخرہ پنی نہیں ہے؟
ندیم ظہیر صاحب آگے لکھتے ہیں:
”ابن سعدجب جرح میں منفرد ہوں تو ان کی جرح سرے سے قبول ہی نہیں ہوتی ، لہٰذا عبدالوہاب ثقفی کے بارے میں ان کی جرح غیرمقبول ہے۔“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٤)
”سرے سے قبول ہی نہیں ہوتی۔“ یہ بات ہم نے قطعا نہیں کہی ہے۔ گذشتہ صفحات میں ابن حجررحمہ اللہ کے اصول کے تذکرے کے ساتھ اس کی مفصل وضاحت گزر چکی ہے۔
آگے لکھتے ہیں:
”فیہ ضعف“ کہنے والے محدث کے نزدیک وہ راوی ضعیف نہیں ہوتا جس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے، پس عبدالوہاب ثقفی ابن سعد رحمہ اللہ کے نزدیک ضعیف نہیں ہیں۔ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٤)
ہم نے کب اس بات کا انکار کیا ہے؟ ہم نے خود باربار یہ اعلان کیا ہے کہ ہم عبدالوہاب ثقفی کو ضعیف نہیں مانتے اورنہ ہی ابن سعد کی جرح سے وہ ضعیف ثابت ہوتے ہیں ۔البتہ ہم نے ابن سعد کی جرح سے صرف یہ بتایا ہے کہ عبدالوہاب ثقفی پرکلام ہوا ہے، نیز ان پر اختلاط کی جرح بھی ہوئی ہے، اس لیے اُن کی روایت کردہ بات اگر ایسے راوی کے خلاف ہوجس پر اس طرح کی جرح نہ ہو تو ایسی صورت میں اوثق کی مخالفت کی وجہ سے عبدالوہاب ثقفی کا بیان معتبر نہیں ہوگا۔
اب آگے ندیم ظہیر صاحب کی پڑیا ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں:
”سنابلی صاحب ہی کے اصولوں سے یہ واضح ہورہاہے کہ عبدالوہاب ثقفی قطعا متکلم فیہ نہیں ہیں“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٤)
اس طرح کی مہمل گوئی تو آپ کے استاذممدوح نے بھی نہیں کی! زبیرعلی زئی صاحب نے لکھا تھا:
”کچھ رواة متکلم فیہ“ ہیں کا اگریہ مطلب ہے کہ کچھ راوی ضعیف ہیں تو یہ بات غلط ہے،جیساکہ اس مضمون میں راویوں کی مفصل تحقیق کرکے ثابت کر دیا گیا ہے۔ اگرمجردکلام کاتذکرہ ہے توعرض ہے کہ جمہور محدثین کی توثیق کے بعد متکلم فیہ ہونا چنداں مضر نہیں ہوتا۔ (مقالات:ج٦ص٣٨٢)
اب دیکھئے کہ ندیم ظاہر صاحب اپنے استاذ سے بھی دو قدم آگے ہیں۔ ایسے ہی کسی شاگرد رشید کے بارے میں کسی نے کہا ہوگا: گرو ”گڑ“ رہ گئے اور چیلا ”شکر“ ہوگئے!!
عبدالوہاب الثقفی پراختلاط کی جرح کے حوالے سے ہمارامقصود
عبدالوہاب ثقفی پر ہم نے اختلاط کی جرح کی توندیم صاحب ہمارے الفاظ نقل کر کے قارئین کو بتا رہے ہیں کہ اختلاط کی جرح مضر نہیں۔
اللہ کے بندے! پہلے کم از کم اپنے اندر بات سمجھنے کی صلاحیت تو پیدا کرو۔ ہم نے اختلاط کی جرح صرف یہ بتانے کے لیے نقل کی ہے کہ ان پر اختلاط کی جرح ہوئی ہے، اس لیے ثقاہت میں اُن کا مرتبہ اس راوی سے کم تر ہوگا، جس پراختلاط کی جرح نہیں ہوئی۔ ہم نے لکھا تھا:
”عرض ہے کہ ہم نے ان کے ثقہ ہونے سے کب اختلاف کیا؟ ہم بھی انھیں ثقہ مانتے ہیں، لیکن چوںکہ یہ متکلم فیہ ہیں، ان پر ضعف اور اختلاط سے متعلق جرح ہوئی ہے، لہٰذا جب زیادتِ ثقہ کے معاملے میں قرائن دیکھنے کی بات آئے گی تو ان کے متکلم فیہ ہونے کو پیشِ نظر رکھا جائے گا۔
مثال کے طورپر ”یزید بن خصیفہ“ صحیح بخاری ومسلم کے راوی اور ثقہ ہیں، لیکن موصوف نے عہدِ فاروقی میں رکعاتِ تراویح کی تعداد روایت کرتے ہوئے ایک دوسرے ثقہ ”محمد بن یوسف” کی مخالفت کی ہے تو ایسے موقع پر ان پر کی گئی جرح کا حوالہ دیا جاتاہے اور اس کے پیشِ نظر ان کی روایت کو ایسے ثقہ راوی کے بالمقابل رد کر دیا جاتاہے، جو متکلم فیہ نہیں ہیں، جیساکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے تحقیق پیش کی ہے۔ دیکھیں ان کی کتاب: ”صلاة التراویح”. بلکہ خود محترم زبیر علی زئی نے اپنی کتاب ”قیامِ رمضان” کے صفحہ (٦٣) پر عہدِ فاروقی میں تراویح سے متعلق حکم فاروقی سے متعلق روایات کا جو جدول پیش کیا ہے، اس میں محمد بن یوسف کو ثقہ بالاجماع لکھا ہے اور یزید بن خصیفہ کو ثقہ مختلف فیہ لکھا ہے۔
کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ جب دونوں ثقہ ہیں تو یزید بن خصیفہ کے بارے میں اختلاف کو پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ظاہر ہے کہ اسی بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ثقہ مختلف فیہ نے ایسے راوی کے خلاف روایت بیان کی ہے، جو بالاتفاق ثقہ ہے۔ نیز موصوف نے اسی کتاب کے صفحہ (٧٧) پر صحیح بخاری کے راوی ”علی بن جعد” کو ثقہ علی الراجح کہنے کے باوجود بھی اس پر جرح نقل کی ہے۔
عرض ہے کہ ہم نے بھی عبدالوہاب ثقفی کو ثقہ ہی مانا ہے، لیکن ترجیح کے وقت ان کے متکلم فیہ ہونے کی بات کہی ہے، کیوںکہ انھوں نے جن لوگوں کے خلاف روایت بیان کی ہے، ان میں صحیح بخاری ومسلم اور سنن اربعہ کے راوی معاذ بن معاذ العنبری بھی ہیں، جو زبردست ثقہ اور متقن ہیں۔“ (یزیدبن معاویہ۔۔۔۔ ص١٥٨)
ہم نے یہ بھی لکھا تھا:
”ہم عبدالوہاب کی ثقاہت کے منکر نہیں اور اُن کے ضعف و اختلاط کی بات محض ترجیح کے باب میں کر رہے ہیں۔“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص١٥٩)
ہم نے یہ بھی لکھا تھا:
”اگر ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ امام ابن سعد رحمہ اللہ نے اختلاط کی جرح مراد لی ہے تو بھی ہمارا قول متکلم فیہ اپنی جگہ پر باقی رہے گا، کیوںکہ ایسی صورت میں بھی عبدالوہاب ثقفی متکلم فیہ کی زد سے باہر نہیں ہو سکتے اور یہ چیز انھیں ثقاہت میں ان لوگوں کے مرتبے سے کم کر دے گی، جن پر سرے سے کوئی جرح ہوئی ہی نہیں ہے، نہ ضعف کی اور نہ اختلاط کی۔ لہٰذا ان کے متکلم فیہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے بالاتفاق ثقہ کے مقابلے میں اُن کی ثقاہت کا درجہ کم ہوگا اور ترجیح کی بات آئے گی تو ان کے متکلم فیہ ہونے کی وجہ سے ان کے مقابلے میں اُن لوگوں کی روایت کو راجح کہا جائے گا جن پر سرے سے کوئی جرح ہوئی ہی نہیں ہے۔“ (یزیدبن معاویہ۔۔۔۔ ص٢٣٨)
قارئین ملاحظہ فرمائیں!
ہمارا مقصود بالکل واضح ہے کہ ہم اختلاط کاحوالہ دے کر عبدالوہاب ثقفی کو ضعیف ثابت نہیں کر رہے، بلکہ ان کا مرتبۂ ثقاہت اس راوی سے کم تربتلارہے ہیں جس پر اختلاط کی جرح نہیں ہوئی ۔
ندیم ظہیرصاحب لکھتے ہیں:
”جب عبدالوہاب ثقفی متکلم فیہ نہیں ، اختلاط کی جرح مضر نہیں اور انھوں نے کسی اوثق کی مخالفت بھی نہیں کی تو ”سنت بدلنے والی حدیث“ کس بناپرضعیف ہے؟“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٤)
کس بناپر ضعیف ہے؟ اس سوال کا کوئی تک بنتاہی نہیں ہے، کیونکہ ہم نے پوری صراحت کے ساتھ اس روایت کے ضعیف ومردود ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہاتھا کہ اس روایت کے مردود ہونے کی وجوہات بالاختصار درج ذیل ہیں:
◈ امام العلل امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو معلول قرار دیا ہے۔
◈ امام العلل امام بخاری رحمہ اللہ کی بیان کردہ علت۔
◈ ثقہ کی ایسی زیادتی جو قرائن کی روشنی میں مردود ہے۔ (یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٩٧)
ندیم ظہیر صاحب! ہماری اس قدر صراحت کے باوجود آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ پھر بھی سوال کر رہے ہیں کہ یہ روایت کس بنا پر ضعیف ہے؟
ندیم صاحب نے آگے لکھا:
”اسے بنیاد بناکرشیخ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ پرطعن وتشنیع چہ معنی دارد؟“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٤)
زیادہ بھولا بننے کی ضرورت نہیں ہے!
جنہوں نے شروع سے ہماری تحریریں پڑھی ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ طعن وتشنیع کس نے کی ہے اور یہ کس کا ”ہتھیار“ ہے۔
نوٹ:-
عبدالوہاب ثقفی کو بخاری کا مرکزی راوی بتلانے سے جو غلط فہمی ہوسکتی تھی، اس کی ہم نے وضاحت کر دی ہے تو اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟ شکرہے کہ آپ نے اس بات سے اختلاف نہیں کیا کہ صحیح بخاری میں اُن کی مرویات زیادہ نہیں ہیں۔
کیا عبدالوہاب ثقفی نے اوثق کی مخالفت کی ہے؟
اس عنوان کے تحت ندیم ظہیر صاحب نے پہلے تو یہ مضحکہ خیزی کی کہ عبدالوہاب ثقفی متکلم فیہ ہی نہیں، جس کی ماقبل میں ہم تردید کرچکے ہیں۔ اس کے بعد یہ بڑھ ماری کہ امام احمد رحمہ اللہ نے ان کے حافظہ پر جرح کی ہے ۔پھراپنے خود ساختہ مفہوم پر میرے الفاظ سے تائید لینے کی ناکام کوشش کی ہے۔
ہم سب سے پہلے امام احمد کے اس قول کی وضاحت کرتے ہیں، جسے ندیم صاحب نے معاذ بن معاذ کے حافظہ پر جرح قراردیا ہے۔
کیا معاذبن معاذ کے حافظہ پر امام احمد نے جرح کی ہے؟
ندیم صاحب ہوش میں آئیں !
امام احمد کا معاذ کے حافظہ پر جرح کرنا تو دور کی بات، انھوں نے معاذ پرسرے سے کوئی جرح ہی نہیں کی ہے۔
امام احمد کے الفاظ پورے سیاق وسباق کے ساتھ یہ ہیں:
«كان يحي القطان وخالد بن الحارث ومعاذ بن معاذ لا يكتبون عند شعبة ، كان يحيي يحفظ ويذهب إلي بيته فيكتبها، وكان في حديثة بعض ترك الاخبار والالفاظ ، وكان معاذ يقعد ناحية في جانب ، فيكتب ما حفظ ، وكان في حديثة شئ ، وكان خالد ايضا يقعد في ناحية ، فيكتب ما حفظ لا يجتمعون»
”یحییٰ القطان ،خالد بن حارث اورمعاذ بن معاذ شعبہ کے پاس لکھتے نہیں تھے ۔یحییٰ (بن سعید القطان) یاد کرلیتے تھے اورگھرچلے جاتے تھے، پھر وہاں لکھتے تھے، ان کی حدیث میں بعض روایات اور بعض الفاظ کا ترک ہوتاتھا۔ معاذ ایک طرف کسی گوشے میں بیٹھ جاتے اور جو بھی یاد کرتے، لکھ لیتے تھے اور ان کی حدیث میں کچھ تھا ۔ خالد بھی ایک گوشے میں بیٹھ جاتے اوریاد کردہ چیزیں لکھ لیتے۔ یہ ایک ساتھ جمع نہیں ہوتے۔“ [علل أحمد رواية المروذي وغيره: ص: 44]
◈ امام احمد رحمہ اللہ نے اپنے اس کلام میں امام شعبہ سے سنی ہوئی احادیث لکھنے والے امام شعبہ کے تین شاگردوں کی کتابت کی کیفیت ومنہج پرگفتگو کی ہے۔ امام احمد کا کلام « كان يحي القطان وخالد بن الحارث ومعاذ بن معاذ لا يكتبون عند شعبة » سے شروع ہوتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام احمد کے اس کلام کا موضوع شعبہ کے تین شاگردوں کی کتابت کی کیفیت اور کتابت کامنہج بتلانا ہے۔
◈ امام احمد رحمہ اللہ نے ان تینوں کے بارے میں اول اول یہ صراحت کردی ہے کہ وہ اپنے استاذ امام شعبہ سے سنی ہوئی احادیث حفظ کرلیتے تھے ۔
◈ اس کے بعد امام احمد رحمہ اللہ نے ان تینوں کے بارے میں یہ صراحت کی ہے کہ وہ اپنے استاذ امام شعبہ سے سنی ہوئی اور یاد کی ہوئی احادیث تھوڑی دیربعد لکھ لیتے تھے۔
◈ امام احمد رحمہ اللہ نے ان تینوں میں یحییٰ بن سعد القطان کے بارے میں کہا کہ وہ گھرجاکر لکھ لیتے اور معاذ اورخالد کے بارے میں کہا کہ وہ مجلس کے بعد وہیں کسی گوشے میں بیٹھ کر لکھ لیتے تھے۔ یعنی تینوں کی جائے کتابت بتلائی ہے۔
◈ امام احمدرحمہ اللہ نے تینوں کی جائے کتابت بتلانے کے ساتھ ان میں سے یحییٰ بن سعد اور معاذ کے منہجِ کتابت بارے میں کچھ کہا ہے، جبکہ خالد کے منہجِ کتابت کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
◈ امام احمد رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید القطان کے منہجِ کتابت کے بارے میں ”كان في حديثة“ کے ذریعے جو کچھ کہا ہے، اس کی وضاحت بھی کر دی ہے کہ وہ لکھتے وقت بعض اخبار اور الفاظ ترک کر دیتے تھے۔ جبکہ معاذ کے منہجِ کتابت کے بارے میں ”في حديثة شئ“ کہاہے اور کوئی مزید صراحت نہیں کی ہے ۔
اس پورے سیاق سے صاف ظاہرہورہاہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے ان تینوں محدثین کی ذات یاحفظ یاان کی احادیث پرکوئی جرح نہیں کی ہے، بلکہ ان تینوں محدثین کا اپنے استاذامام شعبہ سے سنی ہوئی احادیث لکھنے کا جو منہج و طریقہ تھا، اس کی وضاحت کی ہے۔ نیز معاذ کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ نے پہلے یہ صراحت کردی ہے کہ وہ حفظ شدہ چیزیں لکھتے تھے۔ اس کے بعد کہا ہے کہ ان کی حدیث میں کچھ تھا۔ یہ سیاق صاف دلالت کرتاہے کہ ”یہ کچھ“ ان کے حافظہ پر جرح قطعا نہیں ہے، بلکہ جو کچھ بھی ہے ان کی کتابتِ حدیث کے منہج سے تعلق رکھتا ہے۔ جس طرح ٹھیک اس سے پہلے یحییٰ القطان کے بارے میں بھی کہا کہ وہ حفظ كرلیتے تھے اورگھرجاکرلکھتے تھے، پھرکہا کہ ان کی حدیث میں بعض اخبار اوربعض الفاظ کا ترک ہوتا تھا۔
ندیم صاحب! کم سے کم اس بات پرہی غورکریں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے ان تینوں کے بارے میں یہ وضاحت کی ہے کہ وہ مجلسِ سماع کے بعد ہی اپنی احادیث کو لکھ لیتے تھے، بلکہ معاذ کے بارے میں تویہ صراحت کی ہے کہ وہ سماع سے فارغ ہونے کے بعد اسی مقام پرکسی جانب بیٹھ کراپنی احادیث لکھ لیتے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ جو راوی مجلسِ سماع ہی میں سماع کے بعد فوراً سنی ہوئی احادیث لکھ لے، بھلا اس کے حافظے پرجرح کی کیا گنجایش نکل سکتی ہے؟ اور راوی بھی کوئی معمولی راوی نہیں، بلکہ ایسا راوی جس کے حفظ و اِتقان کے اعتراف پر تمام ائمہ متفق اللسان ہیں۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ ندیم صاحب فہم و تدبر سے محروم ہیں یا ان کی اپنے استاذممدوح سے اندھی عقیدت نے بصیرت اور بصارت دونوں پرپردہ ڈال دیا ہے۔
علاوہ ازیں اس بات پرغورکریں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے معاذ کاتذکرہ اس کے علاوہ بھی کئی بار کیا ہے، لیکن کبھی ان کے حافظے پر جرح نہیں کی، بلکہ ان کی عظیم الشان توثیق بیان کی ہے، مثلا:
ایک موقع پرکہا:
«معاذ بن معاذ قرة عين في الحديث»
”معاذبن معاذ حدیث میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔“ [علل أحمد رواية المروذي وغيره: ص: 51]
نیز کہا:
« مُعاذ بن مُعاذ إِليه المنتهى بالبصرة في التثبت»
”بصرہ میں میں معاذبن معاذ انتہادرجے کے تثبت والے تھے۔“ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 8/ 248 وإسناده صحيح]
یہ توثیق کا بہت ہی اعلی صیغہ ہے۔ اگرامام احمد کی نظر میں ان کے حفظ میں کلام ہوتا تو امام احمداس راوی کی اتنی عظیم توثیق نہ کرتے ۔
اس تفصیل سے معلوم ہواکہ ندیم ظہیر صاحب نے امام احمد کا جوقول پیش کیا ہے، اس میں حافظہ پر جرح تو دور کی بات، وہ قول سرے سے کوئی جرح ہی نہیں ہے، بلکہ کتابت کے منہج پرایک غیرصریح اورغیرمفسر تبصرہ ہے۔
ایک دوسرے راوی پر امام احمد کا قول ”في بعض حديثه شيء“
ندیم صاحب بے تاب ہورہے ہوں گے کہ انھوں نے ہماری کتاب سے امام احمد کا جودوسرا قول نقل کیا ہے اوریہ بتلایا ہے کہ ہم نے اسے حافظہ پر جرح قرار دیا ہے تو اس کی کیا توجیہ ہوسکتی ہے؟
تو سنیے! ہم اس کے بارے میں بھی آپ کی تسلی کرا دیتے ہیں ۔
ایک راوی ”جریربن حازم“ کے بارے میں امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ نے ”في بعض حديثه شيء“ کہا جسے ہم نے حافظہ پر جرح قرار دیا، جس کی وجہ یہ ہے کہ اسی راوی سے متعلق خود امام احمدبن حنبل ہی کے دوسرے اقوال میں یہ صراحت آگئی ہے کہ امام احمد کی مراد کیا ہے اور جس طرح ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر ہوتی ہے ، ایک حدیث دوسری حدیث کی تشریح ہوتی ہے، اسی طرح ناقد کاایک قول بھی دوسرے قول کی تشریح کرتاہے۔
چناں چہ ”جریربن حازم“ کے بارے میں امام احمد رحمہ للہ نے جو ”في بعض حديثه شيء“ کہا ہے توامام احمد نے اپنے دوسرے اقوال میں صراحت کر دی ہے کہ اس سے مراد قتادہ سے ان کی بیان کردہ روایات ہیں، جن میں ان کے حافظہ نے کوتاہی کی ہے، چنانچہ امام ابن رجب رحمہ اللہ امام احمد کے شاگرد کی کتاب کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:
«ونقل الأثرم عن أحمد… قال: عمرو بن الحارث روى عن قتادة (مناكير، وقال) في جرير بن حازم: كان يحدث بالتوهم أشياء عن قتادة يسندها بواطيل »
”اثرم نے امام احمد سے نقل کیا کہ انھوں نے جریربن حازم کے بارے میں فرمایا: یہ وہم کے شکار ہو کر قتادہ سے کچھ چیزیں مسند بیان کرتے تھے، جوباطل ہوتی تھیں۔“ (شرح علل الترمذی لابن رجب، ت ہمام :٢ /٦٩٩)
واضح رہے کہ ابن رجب نے امام احمد کے اس قول کو اثرم کے سولات سے نقل کیا ہے اور سوالات اثرم کا مطبوعہ نسخہ مکمل نہیں ہے۔
بطورِ فائدہ عرض ہے کہ ابن رجب حنبلی ہی نے اپنی اسی کتاب شرح علل الترمذی میں عثمان بن سعید الدارمی کے حوالے سے امام ابن معین کاقول نقل کرتے ہوئے لکھا:
«وقال عثمان بن سعيد: …قلت: ما حال المؤمل في سفيان؟ قال: هو ثقة . قلت: هو أحب إليك أو عبيد الله؟ فلم يفضل أحدهما على الآخر.» (شرح علل الترمذی لابن رجب، ت ہمام:٢/٧٢٢ )
تواس قول کا حوالہ دیتے ہوئے زبیر علی زئی صاحب نے لکھا:
”ابن رجب حنبلی نے شرح علل الترمذی میں یہ قول عثمان بن سعید الدارمی کی کتاب سے نقل کیا ہے۔ (دیکھئے: ٢/٥٤١ وفی نسخة اخری ٣٨٤،٣٨٥) تنبیہ: سوالات عثمان بن سعید الدارمی کا مطبوعہ نسخہ مکمل نہیں ہے۔“ (مقالات: ١ /٤٢٠ ،نیزدیکھیں:نمازمیں ہاتھ باندھنے کاحکم اورمقام :ص ٣١،٣٢)
جریربن حازم سے متعلق منقولہ بالا امام احمد کے قول کا ابتدائی حصہ امام بیہقی نے بھی اپنے استاذ امام ابوعبداللہ الحاکم کے طریق سے صحیح سند سے ان الفاظ میں نقل کیا ہے:
«جرير كان يحدث بالتوهم»
یعنی امام احمد نے کہا: ”جریر (بن حازم) وہم کے شکارہوکر حدیث بیان کرتے تھے۔“ (السنن الکبری للبیہقی، ط الہند: ٤/ ٢٨١ و اسنادہ صحیح)
نیز امام بیہقی نے خلافیات میں جریر بن حازم سے متعلق ”أشياء عن قتادة أسندها كلها باطل (وفی مخطوطة بواطیل)“ کا قول بھی نقل کیا ہے اور اسے اپنے استاذ ابو عبداللہ الحاکم کی طرف منسوب کیاہے ۔یہ تقریباً وہی الفاظ ہیں، جو امام احمدکے مذکورہ قول کے اخیر میں ہیں اور اس قول کا ابتدائی ٹکڑا امام حاکم ہی کی سند سے بیہقی نے نقل کیا ہے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ امام حاکم نے یہ قول امام احمد ہی سے اپنی اسی سند سے نقل کیا ہے، جس سے اسی قول کا پہلا ٹکڑا نقل کیا ہے۔ کما مضٰی.
الغرض ”جریر بن حازم“ سے متعلق ہم نے امام احمد کا جو قول نقل کرکے اسے حافظہ پر جرح قرار دیا ہے، خود امام احمد نے اپنے دوسرے قول میں اس کی صراحت کر دی ہے، جبکہ معاذ بن معاذ کے حافظہ پرکہیں بھی امام احمد رحمہ اللہ نے جرح نہیں کی۔ اس لیے ان کے ایک مجمل قول کو حافظہ پر جرح بتلانا بہت بڑی زورزبردستی ہے، بالخصوص جبکہ سیاقِ کلام اس بات پر دلالت کرتاہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کا یہ قول سرے سے جرح ہی نہیں ہے، جیساکہ تفصیل گزر چکی ہے۔
اس تفصیلی وضاحت کے بعد عرض ہے کہ ندیم صاحب نے جو یہ لکھا ہے:
« بلکہ امام احمد کی جرح ابن سعدرحمہ اللہ کی جرح سے کہیں بڑھ کر ہے، جو سنابلی صاحب کی تحریر کی روشنی میں یہ منظر پیش کر رہی ہے کہ ”عبدالوہاب ثقفی ثقہ نے معاذ بن معاذ متکلم فیہ کی مخالفت کی ہے“ اور یہ مخالفت قطعاً مضر نہیں ہے۔ » (اشاعة الحدیث ١٣٤، ص: ٣٦،٣٧)
یہ ندیم صاحب ہی کے استاذممدوح کے لہجے میں ”مداری پن“ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ جب معاذ بن معاذ البصری پر امام احمد رحمہ اللہ نے سرے سے جرح ہی نہیں کی، بلکہ انہیں بصرہ میں بہت بڑے تثبت والا قراردیا ہے تو ایک خود ساختہ جرح کو امام احمد کی طرف منسوب کرکے معاذبن معاذ کو متکلم فیہ بتلانا چہ معنی دارد؟
امام بخاری رحمہ اللہ کی تعلیل
امام بخاری نے تبدیلِ سنت والی حدیث کو معلول قرار دیا ہے اور اس پرنقد کرتے ہوئے ایک خاص مقام پر ایک خاص وقت میں سر زمینِ شام میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ورود کا انکار کیا ہے، یعنی یہاں ایک خاص وقت میں یزیدبن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ابوذر رضی اللہ عنہ کی ملاقات کا انکار کیا ہے۔
ہم نے امام بخاری کا یہ نقد پیش کیا تو زبیرعلی زئی صاحب حد درجہ عجوبہ گوئی کرتے ہوئے اس کی دلیل طلب کرنے لگے۔
ہم نے بار بار وضاحت کی کہ جناب ناقدین جب اثباتِ سماع یا انکارِ سماع و لقاء کا فیصلہ کرتے ہیں تو اُن کے اس طرح کے فیصلے حجت ہوتے ہیں، اس معاملے میں ان کے فیصلوں پردلیل طلب نہیں کی جاتی اور اگر دلیل طلب کی جانے لگی تو پھر دنیا کی کسی ایک حدیث کو بھی صحیح یا ضعیف ثابت کرنا محال و ناممکن ہے۔ بلکہ ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ اپنے اس اصول سے کسی ایک حدیث کو بھی صحیح یا ضعیف ثابت کرکے بتائیں، لیکن زبیرعلی زئی صاحب نے ہمارے اس مطالبے کو پورا نہیں کیا، بلکہ اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا۔
زبیرعلی زئی صاحب کی وفات کے بعد ہمیں ایک صحیح روایت مل گئی، جس سے امام بخاری رحمہ اللہ کے قول کی زبردست تائید ہوتی تھی، اس لیے بعد میں ہم نے زبیر علی زئی صاحب کے ساتھ کی گئی اپنی گفتگو میں ”استدراک“ کے عنوان سے اس روایت کا بھی اضافہ کر دیا اورساتھ میں اشارہ بھی کردیا کہ یہ دلیل پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیوں کہ اس کے بغیر بھی امام بخاری کا ناقدانہ فیصلہ حجت اور قابل قبول ہے۔ اس پر ندیم صاحب نے لکھا:
”ہمارا حسنِ ظن ہے کہ اگر یہ دلیل ان کو پہلے مل جاتی توالفاظ کے ہیرپھیرسے اتنے زیادہ صفحات کبھی سیاہ نہ کرتے اورنہ دورخی ہی کامظاہرہ کرتے۔“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٧)
عرض ہے کہ یہ حسن ظن نہیں بلکہ قارئین کے ساتھ فراڈ کرنے کی ایک ناپاک چال ہے اور بس۔ ہم نے صفحات ہرگزسیاہ نہیں کیے تھے۔ زبیرعلی زئی صاحب کی تردید میں اس سلسلے کی ہماری پہلی تحریر ہماری کتاب سے پڑھ لی جائے، اس میں ہم نے امام بخاری رحمہ اللہ کا فیصلہ پیش کیا اور اس پر کوئی بحث نہیں کی، لیکن زبیرعلی زئی صاحب ہی نے اس کا انکار کرکے ایک دوسری بحث شروع کر دی اور دو رُخے پن کا مظاہرہ بھی انھیں کی طرف سے ہوا، کیونکہ ہمارے ساتھ اس بحث میں تو آں جناب ناقد کی طرف سے انکارِ لقا پر ثبوت مانگ رہے تھے، لیکن دوسری طرف ناقدین کے اس طرح کے اقوال کو حجت تسلیم کر رہے تھے۔
امام بخاری کے فیصلے کے انکار پر ہم نے زبیر علی زئی صاحب کی زندگی ہی میں ان کے دوسرے رخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا تھا:
”یاد رہے کہ ائمہ نقاد کا یہ کہنا: فلاں نے فلاں سے سنا نہیں۔فلاں کی فلاں سے ملاقات نہیں یا اس طرح کے فیصلے دینا حجت و دلیل کی حیثیت رکھتا ہے، چناںچہ جب ہم کسی سند کو منقطع بتلاتے ہیں تو کسی امام سے محض یہ قول نقل کر دینا کافی سمجھتے ہیں کہ انھوں نے کہا ہے کہ اس راوی نے فلاں راوی سے نہیں سنا، وغیرہ وغیرہ۔ یہاں پر یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ ناقد کے اس فیصلے کی سند پیش کرو، یعنی اس نے جو یہ کہا ہے کہ فلاں نے فلاں سے نہیں سنا تو اس کی سند پیش کرو، کیوں کہ یہ فیصلہ ایک ناقد کا ہے اور ائمہ نقاد کے اس طرح کے فیصلے بجائے خود دلیل ہوتے ہیں۔ خود حافظ موصوف کی تحقیقی کتب سے ایسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، جہاں سند میں انقطاع کا حکم لگایاگیا ہے اور دلیل میں کسی ناقد امام کا اپنا قول ہی پیش کیا گیاہے۔“ (یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨،٧٩)
نیز اس کے بعد اسی تحریر میں ہم نے مزید لکھا تھا:
”الغرض امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک خاص مقام پر دو صحابہ کی عدمِ ملاقات کی جو بات کہی ہے تو اس بات کا تعلق محدثین و ناقدین کے فن سے ہے۔ محدثین و ناقدین کو یہ اتھارٹی حاصل ہے کہ وہ دو رواة کے مابین عدمِ سماع یا عدمِ معاصرت یا عدمِ لقا کی صراحت کریں اور محدثین کے اس طرح کے اقوال کی بنیاد محدثین کی فنی مہارت ہوتی ہے، لہٰذا محدثین اپنے فن کی بات کہیں تو یہ حجت ہے۔ یہاں محدثین سے سند کا مطالبہ مردود ہے… ہم بھی حافظ موصوف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آں جناب نے جہاں جہاں بھی سند کے انقطاع پر ناقدین کے حوالے سے تاریخِ وفات یا تاریخِ پیدایش کے اقوال پیش کیے ہیں، ان اقوال کی سند صحیح پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان اقوال میں جو بات ہے، اس کی بھی سند صحیح پیش کریں!!
اگراس طرح کے اقوال میں براہِ راست ناقدین سے سند کا مطالبہ درست ہے تو ہمارا دعویٰ ہے کہ عام کتبِ احادیث تو دور کی بات؛ سنن اربعہ کی کوئی ایک حدیث بھی صحیح یاضعیف ثابت نہیں کی جاسکتی۔۔۔میرے خیال سے اس اصول کے تحت دیگر کتب تو دور کی بات سنن اربعہ ہی سے کسی ایک بھی حدیث کو صحیح یا ضعیف ثابت کرنا ناممکن ہے اور اگر ممکن ہے تو ہمیں صرف ایک حدیث کی تحقیق ناقدین سے بسند صحیح ثابت اقوال نیز ناقدین کے اقوال میں جو بات ہے، اس کی بھی سند صحیح پیش کرکے دکھلایا جائے، بارک اﷲ فیکم۔“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص٨٠،٨١)
ندیم صاحب! خط کشیدہ الفاظ کو عینک لگاکر پڑھئے، ہم نے آپ کے استاذ ممدوح کی زندگی میں اسی بحث میں ان کا دوسرا رخ پیش کیا تھا جس کا کوئی جواب انھوں نے نہیں دیا تھا۔ پھر ان کی مفصل تحریر کے جواب میں ہم نے دوبارہ اپنی یہی بات دہرائی تھی۔ (دیکھئے: یزید بن معاویہ ۔۔۔ص١١٠ ، ص١١٩، ١٢٠)
اور دہرائی ہی نہیں، بلکہ جواب نہ دینے کا شکوہ بھی کیا، لیکن اس شکوے کے باوجود بھی زبیرعلی زئی صاحب نے اپنی اگلی تحریرمیں میری اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا، جس میں ان کے دوسرے رخ کی طرف اشارہ تھا۔
قارئین! ملاحظہ فرمائیں کہ زبیرعلی زئی صاحب نے تو اپنے اس دوسرے رخ سے متعلق اٹھائے گئے سوال کا جواب نہیں دیا۔ لیکن اب ان کی وفات کے بعد ان کے ایک شاگرد نمودار ہوئے ہیں اور ”الٹاچور کوتوال کو ڈانٹے“ والی کہاوت کا مصداق بن کر مجھ پر ہی دو رُخی کا فتوی جڑ رہے ہیں۔ سبحان اللہ…!!
ندیم صاحب! ٹھنڈے دماغ سے سوچ کربتائیں کہ اس بحث میں دو رُخی کا مظاہرہ کس کی طرف سے ہوا تھا؟!
شاید میرا قصور یہ تھا کہ میں نے مہذب انداز میں دوسرے رخ کی بابت سوال اٹھا یا تھا، لیکن ندیم صاحب کی طرح مداری پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دورخی ڈبے بنانے کی زحمت نہیں کی ۔ اگردو رُخی ڈبہ بنا دیا ہوتا تو کیا پتا جواب مل جاتا، خواہ اُوٹ پٹانگ ہی سہی !!
”فائدہ“ کو لطیفہ کہنے پرندیم ظہیر صاحب کی ناراضگی
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”تاریخ الاسلام“ میں ایک روایت کی ایسی سند درج کی جس میں ”ابومسلم“ کااضافہ تھا اس کے بعد امام ذہبی نے اس کی دوسری سند بتلائی جس میں ابومسلم نہیں تھا ۔ہم نے سیاق وسباق سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ یہاں بتلارہے ہیں کہ اصل سند میں ”ابومسلم“ کا وجود نہیں ہے یعنی انقطاع کی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔
اس پرزبیرعلی زئی صاحب نے بطور ”فائدہ“ کہا کہ امام ذہبی نے ”تاریخ الاسلام“ کے بعد ”سیراعلام النبلاء“ لکھی ہے اوراس میں اس روایت پرکلام نہیں کیا اس لئے یہ منسوخ ہے۔
ہم نے جوابا کہا کہ یہ ”فائدہ“ نہیں بلکہ ”لطیفہ“ ہے کیونکہ سیراعلام النبلاء میں امام ذہبی نے اس روایت کی صرف وہی سند ذکرکی ہے جس میں ”ابومسلم“ نہیں ہے۔ اس لئے یہاں یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ اس میں ”ابومسلم“ نہیں ہے۔(دیکھئےحدیث یزید محدثین کی نظرمیں ص١٦٢)
اس کے بعد ہم نے قارئین کی خدمت میں زبیرعلی زئی صاحب کی تحریروں سے نسخ پراستدلال کے عجیب وغریب نمونے پیش کئے جس پر ندیم ظہیر صاحب ناراض ہوگئے۔اس لئے ان کی ناراضگی دورکرنے کے لئے ہم ان کے استاذممدوح کے تحریروں سے دورخی ڈبہ پیش کرتے ہیں جو ندیم صاحب کو بہت پسند ہے ، ملاحظہ فرمائیں:
● پہلا رخ :-
زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”فائدہ:بطورفائدہ عرض ہے کہ حافظ ذہبی نے تاریخ الاسلام کے بعد سیراعلام النبلاء (مشہورکتاب)لکھی اوراس میں سند کے اختلاف کے ساتھ مسندالرویانی سے یزید والی حدیث مذکورنقل کی ،لیکن اس کے بعد کوئی کلام نہیں کیا۔(ج١ص٣٢٩۔٣٣٠)۔اس سے معلوم ہواکہ ذہبی کامذکورہ بالا بیان جرح ہی نہیں ،اوراگرکوئی شخص اسے جرح باورکرانے پربضدہے تو یہ منسوخ ہے۔“ [مقالات ٦ /٤٠٥]
● دوسرارخ:-
ایک دوسری روایت کی تضعیف کے ضمن میں لکھتے ہیں:
”سیر (یعنی سیراعلام النبلائ) میں حافظ ذہبی نے سکوت کیا ہے مگرتاریخ الاسلام میں اس واقعے کے فورابعد فرمایا: ”اسماعیل : فیہ لین“ اسماعیل (راوی) میں کمزوری ہے۔(ص٢٥٦)“ [ مقالات ٦ /٢٦٨]
تبصرہ:-
ایک مقام پر زبیرعلی زئی صاحب جب یہ مانتے ہیں کہ امام ذہبی اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں مذکور بات کو اپنی بعدوالی دوسری کتاب سیراعلام النبلاء میں نہ دہرائیں تو وہ بات امام ذہبی کی نظر میں منسوخ ہوگی۔
تو دوسرے مقام پر زبیرعلی زئی صاحب نے امام ذہی کی کتاب تاریخ الاسلام میں مذکور اس بات سے کیسے استدلال کرلیا جسے امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی بعدوالی دوسری کتاب سیراعلام النبلاء میں نہیں دہرایا؟؟
امید ہے کہ ندیم ظہیر صاحب کو ان کا من پسند دورخی ڈبہ پسندآئے گا اوروہ ناراض نہیں ہوں گے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کے نقدکی تائیدمیں ہماری طرف سے پیش کردہ دلیل
گزشتہ صفحات میں یہ وضاحت گزر چکی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نقد و دعوے پر یعنی ایک خاص مقام پر ایک خاص دور میں دوصحابہ کی باہمی ملاقات کے انکار پر دلیل پیش کرنے کی ضرورت تھی ہی نہیں، کیونکہ دلیل تو اس کے ذمے ہوتی ہے جو اثبات کرے،منکرپردلیل پیش کرنی لازم نہیں ہوتی۔ لیکن چونکہ زبیرعلی زئی صاحب اس بات پر مصررہے کہ دلیل بھی مطلوب ہے، اس لیے اُن کی وفات کے بعد امام بخاری رحمہ اللہ کی تائید میں ہمیں ایک صحیح حدیث مل گئی تو اسے بھی ”استدراک ” کے عنوان سے پیش کر دیا گیا، اگرچہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔
اس حدیث کی صحت پر ندیم ظہیر صاحب نے جو اعتراضات کیے ہیں، ان کے جوابات آگے آرہے ہیں، لیکن اس سے قبل ہم اس حدیث کی سند کا تعارف ندیم ظہیر اور اُن کے استاذممدوح صاحبان کے اصولوں کی روشنی میں پیش کر دیتے ہیں:
ندیمی اصولوں کی روشنی میں حدیث مذکور کی سند کاتعارف
ہماری طرف سے پیش کردہ روایت کی سند یوں ہے:
ثنا عبدالوهاب الثقفي ، عن هشام عن محمد بن سيرين عن أبي ذر رضي الله عنه
❀ محمدبن سیرین رحمہ اللہ
محمدبن سیرین رحمہ اللہ صحیحین سمیت کتبِ ستہ کے رجال میں سے ہیں اورندیم ظہیر صاحب کے استاذ ممدوح نے سنن وغیرہ کی احادیث کی تحقیق میں کہیں بھی اُن پر کوئی جرح نہیں کی ہے اور نہ اُن کی وجہ سے کسی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں دعوی کیا:
« لم یلق الحسن ومحمد بن سیرین أبا ذر الغفاری »
”حسن بصری اور محمدبن سیرین نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔“ (المراسیل لابن أبی حاتم، ص: ١٨٨)
امام ابوحاتم کے اس قول سے متعلق ہمارا موقف کیا ہے؟ وہ آگے آرہا ہے، لیکن ندیم ظہیر صاحب اور اُن کے استاذممدوح زبیرعلی زئی صاحب کے اصول کے مطابق ناقد کے اس طرح کے فیصلوں پر بھی دلیل مطلوب ہوتی ہے۔
چنانچہ ایک خاص مقام پرایک خاص وقت میں امام بخاری رحمہ اللہ نے یزیدبن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ابوذر رضی اللہ عنہ کی ملاقات کا انکار کیا تو زبیرعلی زئی صاحب نے لکھا:
”اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنے اس دعوی کی کوئی دلیل بیان نہیں کی ہے۔“ (مقالات٦/٣٨٠)
ایک اورجگہ لکھا:
”یہ واقعہ چونکہ امام بخاری کی پیدایش سے پہلے ہوا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ امام بخاری سے ابو ذررضی اللہ عنہ تک صحیح سند پیش کی جائے کہ وہ عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میںشام نہیں گئے تھے۔“ (مقالات: ٦/٥٨٧)
معلوم ہوا کہ ندیم ظہیر اور اُن کے استاذ ممدوح کی نظر میں امام ابوحاتم کا یہ دعوی بے دلیل ہے، اس لیے غیرمقبول ہے!!ْ
❀ ہشام بن حسان
ہشام بن حسان صحیحین سمیت کتبِ ستہ کے رجال میں سے ہیں ۔یہ بھی زبیر علی زئی صاحب کے نزدیک ثقہ ہیں۔ سنن کی تحقیق میں ان کی بہت سی مرویات کو زبیرعلی زئی صاحب نے صحیح قراردیا ہے۔ ہشام بن حسان تیسرے طبقے کے مدلس ہیں اوریہاں عن سے روایت کر رہے ہیں۔ زبیرعلی زئی صاحب کے یہاں مدلس کی عن والی روایت قبول نہیں ہوتی، لیکن زبیر علی زئی صاحب بعض مقامات پر بعض مدلسین کی ان کے مخصوص اساتذہ سے ان کی معنعن روایات کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ اسی قبیل سے ہشام کی محمد بن سیرین سے معنعن روایات بھی ہیں ہیں، چنانچہ ایک مقام پر ایک حدیث کے اندر انقطاع کا شبہہ بتانے کے بعد اس کی تائید میں زبیر علی زئی صاحب نے ”ہشام عن محمد بن سیرین“ کی سند سے مروی ایک حدیث پیش کرتے ہوئے کہا:
اس کی سند میں انقطاع کا شبہہ ہے، لیکن امام نسائی (٣/٤٧ح ١٢٨٧)نے اسے عبدالوہاب بن عبدالمجید حدثنا ہشام عن محمد(بن سیرین) عن عبدالرحمن بن بشر (بن مسعود) عن ابی مسعود الانصاری (عقبہ بن عمرو)رضی اللہ عنہ کی سند سے ”روایت کیا ہے۔ فائدہ :امام علی ابن المدینی نے فرمایا :ہشام کی محمد(بن سیرین) سے حدیثیں صحیح ہیں۔ (دیکھئے کتاب الجرح والتعدیل: ٩/٥٥ وسندہ صحیح اور الفتح المبین (٦٦)“ (فضائل درود وسلام مترجم از زبیرعلی زئی، ص: ١١٥،١١٦)
قارئین كرام!
ملاحظہ فرمائیں یہاں پر زبیرعلی زئی صاحب نے تائیداً جس حدیث سے حجت پکڑی ہے، اس کی سند میں ہشام نے محمد بن سیرین سے بصیغہ ”عن“ روایت کیا ہے اور زبیرعلی زئی صاحب نے امام علی ابن المدینی کا قول پیش کرکے بتایا کہ محمدبن سیرین سے ہشام کی احادیث صحیح ہوتی ہیں، یعنی محمدبن سیرین سے ہشام مدلس کا عنعنہ مضر نہیں ہے۔
❀ عبدالوہاب ثقفی
عبدالوہاب بھی صحیحین سمیت کتبِ ستہ کے رجال میں سے ہیں۔ یہ وہی عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی ہیں، جنھوں نے سنن نسائی کی اس حدیث کو ہشام سے روایت کیا ہے، جسے زبیرعلی زئی صاحب کے حوالے سے اوپر پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ تبدیلِ سنت والی حدیث پر بحث کرتے ہوئے ان کی توثیق پرزبیرعلی زئی صاحب نے بڑی طویل گفتگو کی ہے۔ ندیم ظہیرصاحب تواس راوی کو سرے سے متکلم فیہ ہی نہیں مانتے، جیسا کہ اپنی تحریر میں انھوں نے صراحت کی ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہواکہ امام بخاری رحمہ اللہ کے انکار کی تائید میں پیش کی جانے والی حدیث ندیم ظہیر اور ان کے استاذ ممدوح کے اُصولوں کی روشنی میں بالکل صحیح اوربے داغ ہے۔
حدیث مذکور پرندیمی اعتراضات کا جائزہ
✿ عبدالوہاب ثقفی پر اعتراض کا جائزہ
ندیم صاحب نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ جب متکلم فیہ ہیں تو اُن کی حدیث اعلی درجے کی صحیح کیسے ہوسکتی ہے؟
عرض ہے کہ یہ متکلم فیہ ہیں، لیکن ان پر ایساکلام نہیں ہے جو انھیں ثقاہت کے مرتبے سے گراکر صدوق وحسن الحدیث کے درجے پر پہنچا دے۔اس لیے یہ متکلم فیہ ہونے کے باوجود بھی ثقہ ہی کے مرتبے پر فائز ہیں اور چونکہ شیخین نے ان سے احتجاج کیا ہے اور کتبِ ستہ میں ان کی روایات مذکور ہیں، اس لیے ان کی مرویات صحت میں اعلی درجے ہی کی ہوں گی، بشرطیکہ کسی خاص روایت میں ان کے وہم یا ان کی مخالفت کا ثبوت نہ ملے۔
✿ ہشام کے عنعنہ پر اعتراض کاجائزہ
ندیم صاحب نے نہ صرف یہ کہ اس سند میں ہشام کے عنعنہ پر اعتراض کیا ہے، بلکہ ایک دوسرے مقام سے ہمارے الفاظ پیش کیے ہیں، جہاں ہم نے ہشام کے عنعنہ کے سبب ایک روایت کو ضعیف کہا ہے۔
عرض ہے کہ جہاں ہم نے ہشام کے عنعنہ کو رد کیا ہے، وہاں ہشام کی روایت محمدبن سیرین سے نہیں ہے اور یہاں ہشام کی روایت ابن سیرین سے ہے اور ابن سیرین سے اُن کی روایت صحیح ہوتی ہے، اس لیے یہاں ان کا عنعنہ قادح نہیں ہے۔
تعجب ہے کہ ندیم ظہیر صاحب نے ان دوباتوں میں فرق کیے بغیر ہمارا تضاد دکھانے کی کوشش کی ہے اور قارئین کو یہ بتایاہے کہ یزید کی حمایت میں ملنی والی حدیث میں ہم نے ان کا عنعنہ قبول کرلیا، جبکہ یزید کی مخالفت میں ہم نے ان کا عنعنہ رد کردیا۔
ندیم ظہیر صاحب!
ہوش میں آئیں!
ہم نے اپنی اسی کتاب میں یزید کے خلاف پیش کی جانے والی ایک ایسی روایت بھی درج کی ہے، جس میں یہی ہشام عن سے روایت کر رہے ہیں۔ (دیکھئے: یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص٨٩٨)
لیکن یزید کے خلاف پیش کی جانے والی اس روایت میں بھی ہم نے ہشام کے عنعنہ کو رد نہیں کیا ہے، کیوں کہ اس روایت میں بھی ہشام کا عنعنہ محمدبن سیرین سے ہے۔
سمجھے دو رخی ڈبوں کے شوقین ندیم صاحب!
✿ محمدبن سیرین سے متعلق اعتراضات کا جائزہ
محمدبن سیرین سے متعلق ندیم صاحب نے لکھا ہے:
”امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: محمدبن سیرین کی سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے ۔“ (المراسیل ص: ١٨٨، اشاعة الحدیث ١٣٤ ص٤٣)
عرض ہے کہ یہ قول ابن ابی حاتم کا نہیں بلکہ ان کے والد امام ابوحاتم رحمہ اللہ کا ہے اور اُن کے الفاظ یہ ہیں:
« لم یلق الحسن ومحمد بن سیرین أبا ذر الغفاری »
”حسن بصری اور محمدبن سیرین نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔“ (المراسیل لابن أبی حاتم، ص: ١٨٨)
گزشتہ صفحات میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ ندیم ظہیر صاحب اور اُن کے استاذ ممدوح کے اصول کی روشنی میں امام ابوحاتم کا یہ قول محتاجِ دلیل ہے اورامام ابوحاتم رحمہ اللہ نے اس کی کوئی دلیل ذکر نہیں کی، اس لیے یہ غیرمقبول ہے۔
لیکن ہماری نظر میں یہ قول اسی طرح حجت ہے، جس طرح امام بخاری رحمہ اللہ کا قول حجت ہے۔ دونوں اقوال میں دونوں ائمہ نے لقاء کا انکار کیا ہے۔ امام بخاری نے ایک خاص وقت میں یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ابوذر رضی اللہ عنہ کی ملاقات کا انکار کیا ہے اور امام ابو حاتم نے محمد بن سیرین کی ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کا انکار کیا ہے، چونکہ ہمارے یہاں دو رُخی اور دوغلی پالیسی نہیں ہے، اس لیے ہم امام ابو حاتم کے اس قول کو بھی قبول کرتے اور اسے حجت مانتے ہیں۔
امام ابو حاتم رحمہ اللہ کا یہ قول پہلے ہماری نظر سے نہیں گزرا تھا، ندیم صاحب کے پیش کرنے کے بعد ہی ہمیں اس پر آگاہی ہوئی ہے۔ جزاہ اللہ خیرا۔ ہم ندیم صاحب کے شکریے کے ساتھ اسے قبول کرتے ہیں اور اہلِ حق کا یہی شیوہ رہاہے، چنانچہ امام ابوحاتم ہی نے اپنی اسی کتاب المراسیل (ص ٩٠) میں شریح اور ابو مالک الاشعری کے درمیان انقطاع بتلایا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ اس انقطاع پر آگاہ نہ ہوسکے اور رواة کی ثقاہت کو دیکھتے ہوئے شریح عن ابی مالک والی ایک سند کو صحیح قرار دیا۔ لیکن ایک طالب علم نے جب شیخ البانی رحمہ اللہ کو اس علت سے آگاہ کیااوربتایا کہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے مراسیل میں شریح اور ابومالک کے درمیان انقطاع بتلایا ہے تو علامہ البانی رحمہ اللہ نے فوراً اسے قبول کرلیااورپوری وضاحت بھی کر دی۔ (دیکھئے: الضعیفة : ١٢/٧٣١ رقم ١٥٠٢)۔
اللہ کے فضل وکرم سے ہم بھی اسی منہج پرقائم ہیں اورکوئی بھی شخص، خواہ وہ ہمارا موافق ہو یا مخالف، اگر وہ ہماری غلطی پر آگاہ کرتا ہے تو ہم بغیرکسی چوں چرا کے اسے قبول کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں قبولِ حق کے لیے یہ معیار قطعاً نہیں ہے کہ اپنا ہم مشرب اور اپنی پارٹی ہی کا کوئی فرد حق بات لے کرآئے گا یا ازخود اس پرآگاہی ہوجائے گی، تبھی اسے قبول کریں گے۔ باقی صرف نام نہاد اعلان کرتے پھرنا ہے کہ کوئی بھی ہماری غلطی بتائے گا تو علانیہ رجوع کریں گے۔ ایسے اعلانِ رجوع کامطلب ان کے یہاں صرف یہ ہوتا کہ کل ان کی کوئی رائے بدل گئی تو یہ اس کا اعلان کر دیں گے یاان کے ہم مشرب اورچہیتے نے ان کے کان میں ان کی کسی غلطی کی طرف اشارہ کردیا تو اس سے رجوع کرلیں گے۔ لیکن اگرکسی مخالف نے دورانِ بحث ان کی کسی غلطی اور چوک پرگرفت کرلی تو حق پرستی کاثبوت دیتے ہوئے اسے قبول کرنے کے بجائے یا تو اپنی غلط بات پر اڑے رہیں گے یا اس کی کوئی بھونڈی تاویل کردیں گے ۔
بہرحال اما م ابوحاتم رحمہ اللہ کا یہ قول سامنے آنے کے بعد ہم صاف اعلان کرتے ہیں کہ روایتِ مذکورہ کی سند صحت کے کسی بھی درجے پر نہیں، بلکہ انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سند میں انقطاع کے باوجود بھی اصل متن مجموعی طور پر صحیح و ثابت ہے، کیونکہ اس کے متفرق شواہد موجودہیں۔ شواہد پیش کرنے سے قبل یہ واضح کر دیا جائے کہ زبیر علی زئی صاحب نے بھی منقطع السند حدیث کو شواہد کی بنا پر صحیح کہا ہے۔ چنانچہ ہمارے ساتھ ہی بحث کرتے ہوئے زبیرعلی زئی صاحب نے لکھا:
”ابوالعالیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلابیان کیا کہ «کان یفطرعلی التمر » آپ چھوہاروں پرروزہ افطارکرتے تھے۔ (الکامل: ٤ /٩٧) یہ روایت گرچہ مرسل ہے لیکن صحیح بخاری (٩٥٣)اورسنن الترمذی(٥٤٣)وغیرہما میں اس کے صحیح شواہد ہیں لہٰذایہ بھی منکرنہیں بلکہ صحیح ہے“ (مقالات ٦/٣٩٠ نیز دیکھئے ہماری کتاب : حدیث یزید محدثین کی نظر میں : ص٦٧)
ایک اورمنقطع سند کی تصحیح کرتے ہوئے زبیرعلی زئی صاحب نے لکھا:
«صحيح ۔۔۔سنده ضعيف لإنقطاعه ، والحديث السابق شاهد له»
”یہ حدیث صحیح ہے۔۔۔اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن گذشتہ حدیث اس کی شاہد ہے۔“ (سنن ابوداود رقم ٣٦٨ مع حواشی زبیرعلی زئی)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی٨٥٢) فرماتے ہیں:
«هذا حديث حسن غريب أخرجه أبو يعلى في مسنده هكذا ورجاله رجال الصحيح إلا العلاء بن ثعلبة فقال أبو حاتم الرازي إنه مجهول. وإنما حسنته لأن لجميع ما تضمنه المتن شواهد مفرقة»
”یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے امام ابویعلی نے اپنی مسند میں اسی طرح روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سوائے علاء بن ثعلبہ کے، کیونکہ ابوحاتم نے اسے مجہول کہا ہے۔ لیکن میں نے اس حدیث کو حسن اس لیے قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے اندر موجود متن کے لیے متفرق شواہد موجودہیں“ [ الأمالی المطلقة لابن حجر، ص: 198]
عرض ہے کہ روایت مذکورہ کے متن کے لیے بھی عمومی طور پر لفظی یا معنوی متفرق شواہد موجود ہیں۔ صرف اور صرف درج ذیل دو فقروں کے شواہد ہمیں نہیں مل سکے :
➊ وقال: ولا أری أمراء کم لا سیحولون بینک وبین ذلک. قلت: یحولون بینی وبین أمرک الذی أمرتنی بہ؟ قال: نعم. قال أبو ذر: یا رسول اللہ – صلی اللہ علیہ وسلم -، أفلا آخذ سیف فأضرب بہ من یحول بین و بین أمرک الذ تأمرنی بہ؟ قال: لا
➋ قال: فجعل یمر فی مردود (ومردود فیہ فلوس) فقالوا: انظروا لی رقابکم، ہذا یزہد فی الدنیا وہذہ الدنانیر معہ، فلما نظروا لی فلوس.
باقی اس روایت کے متن کے لفظی یامعنوی متفرق شواہد کے لیے دیکھئے:
◈ صحیح بخاری ٢ /١٠٧ رقم١٤٠٦۔
◈ صحیح مسلم ٢ /٤٤٨ رقم رقم ٦٤٨۔
◈ سنن ابن ماجہ ٢ /١٢٢٧ رقم ٣٧٢٤، زبیرعلی زئی صاحب نے اسے صحیح کہا ہے۔(مشکاة مع حواشی زبیرعلی زئی رقم٤٧٣١ )
◈ صحیح ابن حبان ١٣ /٣٠٢ رقم ٥٩٦٤ شیخ شعیب الارناؤوط نے اسے صحیح مسلم کی شرط پرصحیح کہا ہے۔
◈ دلائل النبوہ للبیہقی ٦ /٤٠١ امام حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے۔ (المستدرک ٣/٣٤٤ رقم٥٤٦٨)
◈ الطبقات الکبری ط دار صادر :٤ /٢٣٢ واسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ وانظر تاریخ المدینة لابن شبة:٣ /١٠٣٦۔
◈ تاریخ المدینة لابن شبة :٣ /١٠٣٤ ۔حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اس سند کو حسن قراردیاہے۔(تغلیق التعلیق٢ /٤٣٦)
آگے ہم ان شواہد کو پیش کرتے ہیں جن کا تعلق اس بات سے ہے کہ عہدِ عثمانی سے قبل ابو ذررضی اللہ عنہ مدینہ ہی میں مقیم تھے اور عہدِ عثمانی ہی میں ابوذر رضی اللہ عنہ شام گئے۔
امام ابن الاعرابی (المتوفی ٣٤٠) نے کہا:
«نا محمد، نا يونس بن محمد، نا صالح بن عمر، نا عاصم بن كليب، عن أبي الجويرية، عن زيد بن خالد الجرمي قال: كنت جالسا عند عثمان إذ أتاه شيخ فلما رآه القوم قالوا أبو ذر فلما رآه قال مرحبا وأهلا بأخي، فقال أبو ذر: مرحبا وأهلا يا أخي، لقد أغلظت علينا في العزيمة، وأيم الله لو عزمت علي أخبره الخبور ما استطعت، (لفظ ابن أبي شيبة :وايم الله لو أنك عزمت علي أن أحبو لحبوت ما استطعت أن أحبو) أني خرجت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة متوجها نحو حائط بني فلان فلما جاء جعل يصعد بصره ويصوبه ثم قال لي: «ويحك بعدي» فبكيت فقلت: يا رسول الله، وإني لباق بعدك قال: «نعم فإذا رأيت البناء علا سلع فالحق بالمغرب »
”زیدبن خالد الجرمی کہتے ہیں: میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک بزرگ آئے جب لوگوں نے انہیں دیکھا توکہا: یہ ابوذررضی اللہ عنہ ہیں ۔جب عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا توکہا: ہم اپنے بھائی کو مرحبا اور خوش آمدید کہتے ہیں۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے ہمیںحکم دینے میں سختی کی ہے ۔اللہ کی قسم اگرآپ مجھے حکم دیں کہ میں زمین پرگھسٹ کرچلو تواپنی استطاعت بھر میں یہ بھی کرنے کے لیے تیارہوں ۔میں اللہ کے نبیe کے ساتھ ایک رات بنوفلاں کے باغ کی جانب نکلا، جب آپ پہنچے تو نگاہ اوپردوڑانے لگے پھر نگاہ سیدھی کی اور کہا: ”میرے بعد تمھاری بربادی ہو” ۔ میں روپڑا اورکہا: اے اللہ کے رسولe! کیا میںآپ کے بعد باقی (باحیات ) رہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور جب تم یہ دیکھنا کہ عمارتیں سلع تک پہنچ چکی ہیں تو مغرب (شام ) کی طرف روانہ ہوجانا۔“ [معجم ابن الأعرابی ١/٧٥ وإسناده صحيح أوحسن علي الأوقل وأخرجه مختصرا ابن شبة في 3/ 1041]
اس کی سند صحیح ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ کے شاگردشیخ مشہورحسن نے اس کی سند کو حسن قراردیا ہے۔ (ا لعراق فی أحادیث وآثار الفتن:ص٣٥٣)
اس حدیث سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں:
① اول: اللہ کے نبی صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ایک خاص علامت کے بعد ابوذررضی اللہ عنہ کو مدینہ سے شام جانے کا حکم دیا تھا۔
② دوم: اس علامت کے ظہور سے پہلے ابو ذر رضی اللہ عنہ مدینہ سے شام نہیں جاسکتے تھے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور علامت کے بعد ہی انھیں مدینہ سے نکلنے کا حکم دیاتھا۔
③ سوم: اس علامت کے ظہور کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ کا شام روانہ ہونا طے شدہ ہے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایسا حکم دیا تھا۔
④ چہارم: ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کوعثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت ہی میں ظاہر کیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ ہی کی خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی گئی علامت ظاہرہوئی تھی، جسے دیکھ کر ابوذر رضی اللہ عنہ شام روانہ ہوگئے۔ یعنی عثمان رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں ابوذر رضی اللہ عنہ شام گئے تھے، اس سے قبل آپ مدینہ میں ہی مقیم تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ (المتوفی٤٥٨) نے کہا:
«حدثنا أبو عبد الله الحافظ، حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قلابة بن الرقاشي، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا أبو عامر وهو صالح بن رستم الخزاز عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامت، قال: قالت أم ذر والله ما سير عثمان أبا ذر ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا بلغ البناء سلعا فاخرج منها، فلما بلغ البناء سلعا وجاوز خرج أبو ذر إلى الشام. وذكر الحديث في رجوعه ثم خروجه إلى الربذة وموته بها»
”ابوذررضی اللہ عنہ کی بیوی ام ذررضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! عثمان رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو نہیں روانہ کیا بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے ابو ذر!) جب عمارتیں سلع تک پہنچ جائیں تو تم یہاں (مدینہ ) سے نکل جانا۔ چناں چہ جب عمارتیں سلع تک پہنچ گئیں اور تجاوز کرگئیں تو ابوذ ررضی اللہ عنہ شام کی طرف نکل گئے۔ پھر انھوں نے شام سے ابوذررضی اللہ عنہ کی واپسی اور پھر ربذة کی جانب ان کی روانگی اور وہاں وفات کا ذکر کیا۔“(دلائل النبوة للبیہقی: ٦ /٤٠١ وإسناده صحيح وصححه الحاكم والذهبي ، انظر: المستدرك : ٣ /٣٤٤ رقم٥٤٦٨)
اس روایت میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے دورسے قبل ابوذر رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی سکونت ترک نہیں کی تھی، کیونکہ اسی دور میں ابوذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی سکونت ترک کرنے والا بتلایا گیا ہے۔
نیز اس روایت میں غورکریں کہ خود ابوذررضی اللہ عنہ کی بیوی اُم ذر رضی اللہ عنہا نے یہ صراحت کردی ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ سے ابوذررضی اللہ عنہ کے نکلنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں نکال دیا تھا، بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ ایک خاص علامت کے ظہور کے بعد مدینہ سے نکل کر شام چلے جانا، چنانچہ اسی حدیث پر عمل کرتے ہوئے ابوذ رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی سکونت ترک کی تھی اور شام چلے گے، پھر وہاں سے واپس آئے تو ربذہ چلے گئے اور وہیں وفات پائی۔
یہ روایت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس علامت کے ظہور کے بعد ابوذررضی اللہ عنہ کو مدینہ سے نکلنے کاحکم دیا تھا، وہ علامت عثمان رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں ظاہر ہوئی تھی اوراسی دور میں ابوذر رضی اللہ عنہ فرمان نبوی پر عمل کرتے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو عثمان رضی اللہ عنہ کا دفاع کرتے ہوئے ابوذر رضی اللہ عنہ کی بیوی یہ حدیث ہرگز نہ پیش کرتیں۔
معلوم ہوا کہ محمدبن سیرین والی روایت کی سند میں گرچہ انقطاع ہے لیکن سوائے دو فقروں کے پوری روایت کے متن کے لیے صحیح یا حسن متفرق شواہدموجود ہیں، اس لیے ان دوفقروں کے علاوہ باقی مکمل روایت شواہد کی روشنی میں صحیح وثابت ہے اورہمارے استدلال کی بنیاد جن فقروں پر ہے وہ ثابت شدہ حصہ ہیں۔
محمدبن سیرین سے متعلق ایک اور اعتراض
ندیم ظہیر صاحب نے لکھا:
”انھیں کے نزدیک اس میں ایک اورعلت پائی جاتی ہے، چنانچہ سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
”یہ بات بھی قابل غور ہے کہ روایت میں مذکورقصہ شام کے علاقہ کا ہے اور محمدبن سیرین بصرہ کے رہنے والے تھے ۔۔۔ بنابریں جب یہ واقعہ بھی شام کے علاقہ کا ہے اور محمدبن سیرین رحمہ اللہ بصرہ کے رہنے والے ہیں تو یہیں پر یہ شبہہ پیداہوگیا کہ یہ واقعہ ان کا اپنامشاہدہ ہو یہ بہت بعید ہے۔“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٤٤)
ہم سب سے پہلے اپنی پوری بات نقل کردیتے ہیں:
”لیکن اس سے قبل یہ بات بھی قابل غور ہے کہ روایت میں مذکورقصہ شام کے علاقہ کا ہے اور محمدبن سیرین بصرہ کے رہنے والے تھے اورامام ابوحاتم رحمہ اللہ نے علاقہ کے اس اختلاف کی بنیاد پر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے محمدبن سیرین رحمہ اللہ کے سماع کومحل نظر قراردیا ہے، چنانچہ امام ابن أبی حاتم رحمہ اللہ (المتوفی٣٢٧)نے کہا:
« سئل أبي، عن ابن سيرين سمع من أبي الدرداء؟ قال: قد أدركه، ولا أظنه سمع منه ذاك بالشام وهذا بالبصرة»
”میرے والد سے پوچھا گیا کہ کیا محمدبن سیرین رحمہ اللہ نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے سنا ہے ؟ تو آپ نے کہا: محمدبن سیرین رحمہ اللہ نے ابوالدردائ رضی اللہ عنہ کا دور توپایا ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ان سے سنا ہے، کیونکہ ابوالدرداء شام میں ہوتے تھے اور محمدبن سیرین رحمہ اللہ بصرہ کے رہنے والے تھے۔“ [المراسيل لابن أبي حاتم ت الخضري: ص: 187]
بنابریں جب یہ واقعہ بھی شام کے علاقہ کا ہے اور محمدبن سیرین رحمہ اللہ بصرہ کے رہنے والے ہیں تو یہیں پر یہ شبہہ پیداہوگیا کہ یہ واقعہ ان کا اپنامشاہدہ ہو یہ بہت بعید ہے۔اب رہ جاتا ہے یہ احتمال کہ محمدبن سیرین رحمہ اللہ نے یہ واقعہ خود عمروبن حزم رضی اللہ عنہ سے سنا ہو، توعرض ہے کہ اس روایت میں انھوں نے ایسی کوئی صراحت نہیں کی ہے، بلکہ ان سے بذریعہ ”عن“ روایت کی بھی وضاحت نہیں کی ہے، اور ان کے اساتذہ میں عمروبن حزم رضی اللہ عنہ کانام نہیں ملتاہے اورنہ ہی عمروبن حزم رضی اللہ عنہ کے تلامذہ میں محمدبن سیرین رحمہ اللہ کا نام ملتاہے۔لہذا اس واقعہ کے اصل شاہد اور محمدبن سیرین رحمہ اللہ کے مابین انقطاع ہے۔“ (یزید بن معاویہ۔۔۔ص٩٠٢)
قارئین كرام !
ہماری پوری بات پڑھیں گے توآپ کو معلوم ہو جائے گا کہ محمدبن سیرین کی ایک دوسری روایت ہے، جس میں وہ بغیرکسی واسطے اورحوالے کے خود شام کا ایک واقعہ بیان کر رہے ہیں، اس پر ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ شام کا واقعہ ہے اور محمدبن سیرین بصرہ کے رہنے والے ہیں، اس لیے محمدبن سیرین اس واقعے کے چشم دید گواہ نہیں ہوسکتے ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے یہ روایت کسی اور کے ذریعے سنی ہے، یعنی ہمارا مقصود یہ تھا کہ یہ روایت منقطع ہے۔
ندیم ظہیر صاحب نے جہاں سے ہمارے الفاظ کااقتباس لیا ہے، وہاں پر ہم نے متعلقہ بحث کا اختتام ان الفاظ میں کیا:
”۔۔۔لہٰذا اس واقعہ کے اصل شاہد اور محمدبن سیرین رحمہ اللہ کے مابین انقطاع ہے۔“ (دیکھئے ماقبل میں ہماری الفاظ کی آخری سطر)
ندیم ظہیر صاحب نے نا جانے کس عقل ومنطق سے ہماری اس بات کو محمد بن سیرین کی اس روایت پر فٹ کر دیا، جسے ابن سیرین نے ابوذررضی اللہ عنہ سے بذریعہ ”عن“ نقل کیا ہے۔
اللہ کے بندے! اس روایت میں تو خود ابن سیرین نے ابوذر رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر کر کے یہ بتا دیا ہے کہ یہ ان کا اپنا مشاہدہ نہیں، اس کے باوجود بھی اس روایت پر ہماری مذکورہ بات فٹ کرنا پرلے درجے کی بوکھلاہٹ نہیں تو اور کیا ہے؟
اور اس کے بعد حددرجہ تدلیس وتلبیس کرتے ہوئے ندیم ظہیر صاحب نے یہ لکھ مارا:
”اورایسی روایت سنابلی صاحب کے نزدیک من گھڑت ہوتی ہے۔ دیکھئے یزید بن معاویہ۔۔۔ص٩٠٦“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٤٤)
یہ سراسرتدلیس و تلبیس ہے کیونکہ مذکورہ بات ہم نے صرف انقطاع ثابت کرنے کے لیے کہی تھی ۔پھر انقطاع ثابت کرنے کے بعد ہم نے یہ کہا کہ یہ روایت محمدبن سیرین کا ذاتی مشاہدہ نہیں ہے، بلکہ انھوں نے کسی نامعلوم شخص سے یہ بات سنی ہے۔اس کے بعد ہم نے یہ کہا کہ اس نامعلوم شخص نے اصل واقعہ کو بدل دیا ہے، کیونکہ اصل واقعہ دوسری صحیح سند سے ثابت ہے جو اس مجہول ونامعلوم شخص کے بیان کردہ واقعہ سے مختلف ہے، چناں چہ ہم نے لکھا تھا:
” اب اس بات کی صریح دلیل ملاحظہ کیجیے کہ محمدبن سیر ین رحمہ اللہنے یہ پوری کہانی کسی غیرثقہ سے سنی ہے جس نے ایک صحیح واقعہ کو بدل کرایک جھوٹا واقعہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ امام ابن عساکررحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ یہ اصل واقعہ نقل کیا ہے، جو صحابی رسول عمروبن حزم رضی اللہ عنہ کا نہیں، بلکہ ان کے بیٹے محمدبن عمروبن حزمرحمہ اللہکا ہے جوصحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں۔ صحیح سند سے ثابت شدہ یہ واقعہ درج بالا واقعہ سے کافی مختلف ہے۔اسی لئے امام ابن عساکررحمہ اللہنے درج بالا واقعہ کو غیرصحیح قراردیتے ہوئے اصل واقعہ پیش کیا ہے۔۔۔ (اس کے بعد ہم نے ابن عساکر کی سند سے اصل واقعہ دوسری صحیح سند سے پیش کیا پھر آگے لکھا)
اس روایت میں اصل واقعہ عمروبن حزم رضی اللہ عنہ کا نہیں بلکہ ان کے بیٹے محمدبن عمرو کا ہے ۔ ابن عبدربہ(المتوفی ٣٢٨) نے بھی یہ واقعہ محمدبن عمرو ہی کاذکر کیا ہے۔(العقد الفرید: ٥ /١١٨ ) اسی طرح امام ابن اثیر رحمہ اللہ (المتوفی ٦٣٠) نے بھی یہ واقعہ محمدبن عمرو ہی کا ذکر کیا ہے ۔(الکامل فی التاریخ: ٣ /٣٠٠)۔
اس سے ثابت ہوا کہ محمدبن سیرین رحمہ اللہ کی روایت میں مذکور قصہ بدل دیا گیا ہے یعنی وہ من گھڑت ہے۔“ (دیکھئے یزیدبن معاویہ ۔۔۔۔ص٩٠٣ تا٩٠٦)
اگردنیا سے انصاف رخصت نہیں ہوگیا تو قارئین ہماری پوری بات پڑھ کر بتائیں گے کہ کیا ہم نے واقعی یہ کہا ہے کہ ایسی روایت (یعنی جس میں روایت کرنے والے اور اصل شاہد کے مابین انقطاع ہو وہ محض انقطاع کی وجہ سے) من گھڑت ہوتی ہے؟
لطیفہ :
ندیم صاحب آگے لکھتے ہیں:
”لطیفے کے طور پرسنابلی صاحب لکھتے ہیں :”امام بخاری رحمہ اللہ کے دعوے کے خلاف زبیرعلی زئی صاحب کوئی روایت پیش نہیں کر سکے، لیکن۔۔۔۔(یزیدبن معاویہ ۔۔١٩٤) توعرض ہے کہ جس روایت کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے آپ ایڑی چوٹی کازورلگارہے ہیں وہ حسن لذاتہ روایت اس دعوے کے خلاف ہی تو ہے۔“ (اشاعة الحدیث :٣٤اص٤٤)
عرض ہے کہ جس روایت کو آپ اورآپ کے استاذممدوح حسن لذاتہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زورلگا رہے ہیں، امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی روایت ہی میں تو یزیدبن ابی سفیان سے ابوذر رضی اللہ عنہ کے سماع کا انکار کیا ہے!
جب امام بخاری رحمہ اللہ کا نقد ہی اسی روایت پر ہے تو پھر یہی روایت امام بخاری کے دعوے کے خلاف کیسے ہوگئی ندیم جی؟!
امام بخاری رحمہ اللہ امام العلل ہیں، اس لیے انھوں نے جس روایت پر نقد کردیا ہے وہ روایت خود امام بخاری رحمہ اللہ کے خلاف دلیل کا کام نہیں دے سکتی۔ ہم نے آپ کے استاذ ممدوح کو سمجھاتے ہوئے لکھا تھا:
”محترم زبیر علی زئی نے امام بخاری کے فیصلے کے خلاف جس روایت کو پیش کیا ہے، وہ بالکل وہی روایت ہے جس پر امام بخاری رحمہ اللہ نقد کر رہے ہیں اور جس پر ہم بحث کر رہے ہیں، اس کی سند بھی وہی ہے اور مضمون بھی وہی ہے۔ حافظ موصوف نے بس اتنا کیا کہ اسی روایت کو ایک دوسری کتاب سے پیش کر دیا اور قارئین کو یہ تاثر دیا کہ یہ کوئی علاحدہ روایت ہے، جس سے ابو ذر رضی اللہ عنہ کا صحابیِ رسول یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور میں شام میں ہونا ثابت ہوتا ہے۔
اب قارئین خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ انتہائی عجیب و غریب بات نہیں ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ جس روایت پر نقد کر رہے ہیں، عین اسی روایت کو دوسری کتاب سے پیش کرکے یہ باور کرایا جائے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے دعوے کے خلاف ثبوت مل رہا ہے؟
یہ تو بالکل وہی مثال ہوئی کہ بریلویوں کی کتاب ”فیضانِ سنت” میں جو یہ لکھا ہے کہ اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں اس کتاب کو پسند فرمایا ہے۔ اب کوئی اہلِ حدیث اس بات کا انکار کرے تو اس انکار پر کوئی بریلوی اسی کتاب کا دوسرا اڈیشن لاکر یہ کہے: دیکھو اس میں تمھارے دعوے کے خلاف ثبوت موجود ہے!!
محترم زبیر علی زئی سے درخواست ہے کہ زیرِ بحث روایت کو پہلے صحیح تو ثابت کریں، اس کے بعد اسے بطورِ دلیل پیش کریں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے خاص اس روایت پر جرح کی ہے، لہٰذا جب تک آپ اس جرح کا ازالہ دیگر ائمہ نقد کے حوالوں سے پیش نہ کر دیں، تب تک یہ روایت جرح کی زد سے باہر نہیں نکل سکتی اور جب تک یہ روایت جرح کی زدسے باہر نہیں نکل سکتی، تب تک یہ صحیح بھی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے آں جناب پہلے اس روایت کو جرح کی زد سے نکالیں اور اس پر کی گئی جرح کا ازالہ پیش کریں، ورنہ یہ روایت صحیح ثابت نہیں ہوسکے گی، بلکہ ضعیف ہی رہے گی اور ضعیف روایت کو صحیح ثابت کرنے سے پہلے ہی بطورِ دلیل پیش کرنا، بلکہ اس پر کی گئی جرح ہی کے جواب میں پیش کر دینا انتہائی نامعقول بات ہونے کے ساتھ ساتھ حد درجہ مضحکہ خیز بھی ہے۔“ ( یزیدبن معاویہ …، ص: ١٢٧ تا ١٢٨۔)
یہ تھی ندیم صاحب کی پہلی قسط، جس میں موصوف نے خواہ مخواہ میرا تضاد ثابت کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ہمارا جواب پڑھ کرقارئین کو بخوبی علم ہوجائے گہ ندیم صاحب میرا تضاد تو ثابت نہیں کرپائے، البتہ رنگے ہاتھوں خود انھیں کے اور ان کے استاذممدوح ہی کے کچھ تضادات اور دورخی پالیسیوں کے نمونے سامنے آگئے ۔
ندیم صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ اگرہماری کتاب سے متعلق ان کے پاس معقول اور قابل استفادہ باتیں ہیں تو انہیں پیش فرمائیں، ہم شکریے کے ساتھ انھیں قبول کریں گے، لیکن اگرآں جناب لفظوں کی ہیرا پھیری کریں گے تواچھی طرح جان لیں کہ میرے سامنے یہ حربہ نہ توآپ کے استاذممدوح کا چلا تھا نہ آپ ہی کا چل سکے گا اور باقی الفاظ کی شدت و حدت کے متعلق یہ اصول ازبر کر لیں کہ ”جیسی کہیں ویسی سنیں” کے مطابق آپ سے معاملہ کیا جائے گا۔ اب یہ اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کیا کہتے ہیں اور جواب میں کیا سنتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اپنے استاذ ممدوح کے طرزِ تکلم و تخاطب سے ہٹ کر علمی افادے اور استفادے کی راہ اختیار کریں، تاکہ دیگر لوگ بھی اس سے استفادہ کریں۔
اللہ ہم سب کو حق بات کہنے اور اسے قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین
ابوالفوزان کفایت اللہ سنابلی
ممبئی /4 جنوری /2016م
اگلا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر جائیں
ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کا جواب