ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر (آئینہ ان کو دکھایا تو برامان گئے ) کا جواب
پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر جائیں
ندیم ظہیر صاحب کی پہلی تحریر کا جواب: حصہ دوم
ندیم ظہیر صاحب کو آئینہ دکھانے کا بڑا شوق ہے، اس جوابی تحریر میں بھی ہم ان کے اس شوق کی پوری رعایت رکھیں گے۔ ان شاء اﷲ
یہ بے چارے دوسروں کی عبارات کو سیاق وسباق سے کاٹ کر نام نہاد تضاد دکھلانے کی بڑی کوشش کرتے ہیں، جب کہ ان کا اپنا حال ہے کہ یہ لوگ صرف ایک راوی ہی نہیں، بلکہ ایک سندکو ایک جگہ ضعیف ثابت کرتے ہیں اوردوسری جگہ بالکل اسی سند پر ”سندہ صحیح“ کا ٹھپا لگا دیتے ہیں۔
ایک مثال ملاحظہ ہو:
● پہلا رخ: –
◈ الکامل لابن عدی میں ایک قول مع سند اس طرح ہے:
«سمعت موسى بن القاسم بن موسى بن الحسن بن موسى الأشيب يقول، حدثني أبو بكر، قال: سمعت إبراهيم الأصبهاني يقول أبو بكر بن أبي داود كذاب» [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي ت عادل وعلي: 5/ 436]
اس سند کے بارے میں ندیم ظہیر صاحب کے استاذممدوح زبیرعلی زئی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں:
”اس روایت کاراوی ابوبکر یا بن بکر نامعلوم ہے۔ لہٰذا یہ جرح بھی ثابت نہیں ہے۔“ [مقالات ٤ /٣٨٠]
● دوسرارخ:-
◈ الکامل لابن عدی ہی میں ایک دوسرا قول بالکل اسی سندسے اس طرح ہے:
«سمعت موسى بن القاسم بن موسى بن الحسن بن موسى الأشعث يقول: حدثني أبو بكر، قال: سمعت إبراهيم الأصبهاني يقول: أبو بكر بن أبي يحيى كذاب » [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي ت عادل وعلي: 1/ 321]
اس سند کے بارے میں ندیم ظہیر صاحب کے استاذممدوح زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”وسندہ صحیح“ [مقالات ٥ /٥٥٢]
قارئین ! ملاحظہ فرمایا آپ نے ! قائل ایک ہی،قول بھی ایک ہی، اور سند بھی ایک ہی اور کتاب بھی ایک ہی ہے، لیکن ایک ہی سند کو ایک جگہ ضعیف ثابت کیا گیا اوردوسری جگہ عین اسی سند کو ڈنکے کی چوٹ پر ”سند ہ صحیح“ کہا گیا ! ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے!!
عبدالوہاب الثقفی اور اختلاط
ندیم ظہیر صاحب نے میری کتاب کے ایک ہی صفحہ سے کچھ الفاظ کو سیاق وسباق سے کاٹ کریہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے عبدالوہاب الثقفی کو ”مختلط“ بھی کہا ہے اور پانچ سطر بعد ہی ہم نے اپنی بات بدل دی اور اس سے انکار کردیا ۔ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٢٦،٢٧]
ندیم صاحب کی یہ کوئی نئی کرم فرمائی نہیں ہے۔ آں جناب اس طرح کی حرکتوں کے عادی ہیں ، لیکن یہ بے چارے بھول جاتے ہیں کہ دنیا سے ابھی انصاف رخصت نہیں ہوا اور آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، جو دونوں کی طرف کی بات سن کرہی کوئی رائے قائم کرتے ہیں ۔
ندیم صاحب کی اس الزام تراشی کا پردہ چاک کرنے کے لیے ہم آگے اپنی پوری بات مکمل سیاق وسباق کے ساتھ نقل کررہے ہیں، لیکن اس سے پہلے یہ واضح کر دیں کہ مختلط رواة کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ مثلاً:
① ✿ ایک قسم ان مختلطین کی ہوتی ہے جن کی حالتِ اختلاط کے بعدکی روایات ضعیف ہوتی ہیں یعنی اختلاط کے بعد یہ مختلطین بھی ضعیف مانے جاتے ہیں ایسے مختلطین کے شاگردوں کے بارے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کن شاگردوں نے اختلاط سے پہلے روایت کیا ہے اور کن شاگردوں نے اختلاط کے بعد روایت کیا ہے۔جن شاگردوں کی روایات اختلاط سے قبل ہوں، وہ صحیح قرارپاتی ہیں ۔مختلطین کی یہی قسم زیادہ عام و مشہور ہے ۔
اس معنی میں ہم عبدالوہاب الثقفی کو مختلط نہیں مانتے اور نہ اس بناپر حدیثِ یزید کو ضعیف کہتے ہیں ۔ اس کی وضاحت ہم پہلے بھی کرچکے ہیں۔
② ✿ لیکن مختلطین کی ایک اور قسم ان مختلطین کی ہے جن کے مختلط ہونے کے بعد بھی ان کی روایات عام طور سے ان کے اختلاط سے متاثر نہیں ہوتی، ان کے اختلاط کی مدت کم ہونے کی وجہ سے یا اختلاط کے اثرات کم ہونے کی وجہ سے یا اختلاط کے عارضی ہونے کی وجہ سے یااور کسی وجہ سے۔ ایسے مختلطین اختلاط کے بعد بھی ثقہ ہی مانے جاتے ہیں اوراختلاط کے بعد بھی عام طور سے ان کی احادیث کو صحیح تسلیم کیاجاتاہے ۔متعدد محدثین کے اقوال میں یہ باتیں ملتی ہیں۔ مثلا : امام علائی رحمہ اللہ (المتوفی: ٧٦١) فرماتے ہیں:
”أما الرواة الذين حصل لهم الاختلاط في آخر عمرهم فهم على ثلاثة أقسام:أحدها: من لم يوجب ذلك له ضعفا أصلا ولم يحط من مرتبته إما لقصر مدة الاختلاط وقلته كسفيان بن عيينة وإسحاق بن إبراهيم بن راهويه وهما من أئمة الإسلام المتفق عليهم وإما لأنه لم يرو شيئا حال اختلاطه فسلم حديثه من الوهم كجرير بن حازم وعفان بن مسلم ونحوهما“
”جو رواة آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوئے ہیں، ان کی تین قسمیں ہیں: ایک وہ ہیں جن کااختلاط انہیں ضعیف نہیں بناتا اورانہیں ثقہ کے مرتبے سے نہیں گراتا، یا تومدت اختلاط کے مختصر اور اختلاط کے کم ہونے کی وجہ سے جیسے سفیان بن عیینہ ،اسحاق بن ابراہیم ہیں ،یہ دونوں ائمہ اسلام میں سے ہیں ان پر اتفاق ہے۔یااس وجہ سے کہ مختلط نے حالتِ اختلاط کے بعدکچھ بھی روایت نہیں کیا، لہٰذا اس کی حدیث وہم سے پاک ہے، جیسے جریربن حازم اورعفان بن مسلم وغیرہما“ [المختلطين للعلائي، ط القاهرة: ص: 3]
عبدالوہاب الثقی کے اختلاط کو ہم سفیان بن عیینہ والی قسم میں ہی شمار کرتے ہیں ،لہٰذا اختلاط کے بعد بھی ہم ان کوضعیف نہیں کہتے اور نہ ان کی احادیث کو صحیح قرار دینے کے لئے یہ شرط لگاتے ہیں کہ وہ ان شاگردوں کی بیان کردہ ہوں، جنہوں نے اختلاط سے قبل سناہے۔ البتہ اس قسم کے مختلطین کے بارے میں ہمارا کہنا یہ ہے کہ یہ گرچہ درجۂ ثقاہت سے گرکر ضعیف شمار نہیں ہوتے لیکن نفسِ ثقاہت میں ان کا مقام ان رواة سے کم تر ہوگا جن پر اختلاط وغیرہ کی کوئی جرح نہیں کی گئی ہے۔
عبدالوہاب الثقفی کے بارے میں ہم نے یہی کہا تھا کہ یہ گرچہ ثقہ ہیں، لیکن متکلم فیہ ہیں۔ ابن سعد نے ان پر ”فیہ ضعف” کی جرح کی ہے اور اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ان پر اختلاط کی جرح ہے۔ یہاں ہم نے عبدالوہاب الثقفی کے بارے میں اختلاط کی بات اسی مفہوم میں کہی ہے ۔یعنی ان کی روایت کی تضعیف کے لئے نہیں بلکہ ثقاہت میں ان کا مرتبہ بتانے کے لیے، لیکن حافظ زبیرعلی زئی صاحب اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ ہم نے عبدالوہاب الثقفی کو عام ومشہور معنی میں ”مختلط” ثابت کیا ہے، یعنی ایسا مختلط کہا ہے جو اختلاط کے بعد ضعیف ہوجاتا ہے اوربعد ازاختلاط اس کی صرف وہی احادیث قبول ہوتی ہیں جو ان کے ایسے شاگردوں سے مروی ہوں، جنہوں نے اختلاط سے قبل ان سے سنا ہے۔
ظاہر ہے کہ ہم نے عبدالوہاب الثقفی کو ایسا مختلط ہرگزنہیں کہا تھا، جیسا انہوں نے سمجھ لیا تھا۔ اگرایسا ہوتا تو ہم ان کے اختلاط ہی کو اس روایت کی تضعیف کے لئے مرکزی علت کے طورپر پیش کرتے ۔لیکن ایساہرگزنہیں ہے۔ ہم نے کہیں پر بھی نہیں لکھا کہ یہ روایت اس لئے ضعیف ہے، کیونکہ اسے بیان کرنے والا عبدالوہاب الثقفی ہے جو مختلط ہے اور اس کا قبل ازاختلاط اس روایت کا بیان کرنا ثابت نہیں ۔
یہی وضاحت کرنے کے لئے اور زبیرعلی زئی صاحب کی” غلط فہمی ”دورکرنے کے لئے ہم نے باقاعدہ ”دوسری غلط فہمی“ کا عنوان دے کر اپنی بات کو واضح کیا، لیکن قربان جائے چھوٹے میاں (ندیم ظہیر صاحب) پرکہ انہوں نے ہماری وضاحت ہی کو ہمارا دوسرار خ بناکر پیش کردیا! !
ملاحظہ فرمائیں سیاق وسباق کے ساتھ ہماری پوری بات، ہم نے لکھا تھا:
”دوسری غلط فہمی: ہم نے عبدالوہاب ثقفی کو متکلم فیہ بتلانے کے لیے ابن سعد کی جرح ”فیہ ضعف“ پیش کی اور بطورِ تائید یہ بات کہی کہ آخر میں یہ مختلط ہوگئے تھے۔ اس سے حافظ زبیر علی زئی صاحب نے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے انھیں مختلط ثابت کیا ہے اور اسی بنیاد پر ان کی روایت کو ضعیف کہا ہے، پھر وہ یہ بتانے بیٹھ گئے کہ عبدالوہاب ثقفی نے اختلاط کے بعد کوئی روایت بیان ہی نہیں کی یا یہ کہ زیربحث روایت کو انھوں نے اختلاط سے قبل ہی بیان کیا ہے، حالاںکہ اس فرضی جرح کے جواب میں بھی موصوف اپنی ذکر کردہ باتوں کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔
عرض ہے کہ ہم نے نہ تو عبدالوہاب کو مختلط کہا ہے اور نہ ان پر کی گئی اختلاط کی جرح کو روایت کی تضعیف کے لیے دلیل بنایا ہے۔ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ یہ متکلم فیہ ہیں، کیونکہ ابن سعد نے ان کے بارے میں ”فیہ ضعف” کہا ہے اور اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اخیر میں وہ مختلط ہوگئے تھے۔ حافظ زبیر علی زئی صاحب نے کم از کم اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وہ اخیر میں مختلط ہوگئے تھے۔“(یزیدبن معاویہ۔۔۔ص٢٣٩)
یہ ہے ہماری پوری بات جہاں سے ندیم صاحب نے صرف چند جملے نقل کرکے تضاد دکھانے کی کوشش کی ہے ۔قائین ان الفاظ کو پورے سیاق سے جوڑیں، بالخصوص خط کشیدہ اور نمایاں الفاظ پردھیان دیں تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم نے اپنی پہلی تحریر میں عبدالوہاب الثقفی کے اختلاط کو بنیادی علت بنایا ہی نہیں، نیز ان کو عام ومشہور معنی میں ”مختلط“ نہیں ، بلکہ ”متکلم فیہ“ بتلانے کے لئے ابن سعد کی جرح کے ساتھ ساتھ لکھا تھا کہ عبدالوہاب الثقفی اخیر میں مختلط ہوگئے تھے ۔اس سے زبیر علی زئی صاحب نے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے عبدالوہاب کے اختلاط کو بنیاد بناکر ان کی حدیث کو ضعیف کہا ہے اور ان کو عام ومشہور معنی میں ایسا مختلط کہا ہے جس کی اختلاط کے بعدبیان کردہ احادیث ضعیف ہوتی ہیں۔ جبکہ ظاہر ہے کہ ہم نے نہ تو اصل علت کے طور پر ان کو مختلط کہا ہے اور نہ اس معنی میں مختلط کہا ہے جس معنی میں انہوں نے سمجھ لیا ہے۔
اس لئے ہم نے ”دوسری غلط فہمی“ کے عنوان سے ان کی یہ غلط فہمی دورکی ہے۔ ہمارے اس پورے کلام کا اصل مقصود ہی اسی بات کا اعلان کرنا ہے کہ ہم عبدالوہاب الثقفی کو ویسا مختلط مانتے ہی نہیں جیساسمجھ لیا گیا ہے ۔اسی لئے ہم نے ”دوسری غلط فہمی“ کے عنوان سے یہ پوری بات کہی ہے۔ لیکن ناسمجھی کی حدہوگئی کہ جس ”غلط فہمی“ کو دور کرنے کے لئے مذکورہ بالا پوری بات کہی گئی، وہی ”غلط فہمی“ پھر پال لی گئی اور ”ازالہ غلط فہمی“ والی بات سے غلط فہمی دور کرنے کے بجائے اسے غلط فہمی کے متضاد بات بناکر پیش کردیا گیا ۔ نا للہ و نا لیہ راجعون.
یہ تو ایسے ہی ہوگا کہ زبیر علی زئی صاحب نے ایک جگہ امام بزار کو ”متکلم فیہ” کہا ہے۔ اس سے کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ زبیرعلی زئی صاحب امام بزار کو ضعیف مانتے ہیں ۔اس کے بعد زبیرعلی زئی صاحب نے یہ وضاحت کی کہ وہ انہیں ضعیف نہیں مانتے ہیں ۔تو ان دونوں باتوں کو دو رخ بنادیا جائے ۔اسی طرح کی حرکت ندیم ظہیر صاحب نے یہاں کی ہے۔
وكم من عائبٍ قولاً صحيحاً … وآفتُهُ من الفهم السقيمِ
اہلِ علم کے ساتھ معیوب القابات
حافظ زبیر علی زئی صاحب نے امیر یزید کے معاملے میں اپنے مطلب کے خلاف اہلِ علم کے اقوال سامنے آنے پر انہیں جن معیوب اوصاف سے ذکر کیا ہے، اس کاہم نے تذکرہ کیا تو بے چارے ندیم ظہیر صاحب اس کی صفائی پیش کرنے بیٹھ گئے اوریہ بھول گئے کہ خود زبیر علی زئی صاحب نے بھی اس طرزِعمل کی اس وقت مذمت کی، جب دوسرے ان کو اپناتے ہیں۔ محترم حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے ایک جگہ لکھا:
”جب مرضی کامعاملہ ہو، مثلا: فاتحہ خلاف الامام کامسئلہ وغیرہ تودیوبندی حضرات حافظ ابن تیمیہ کوشیخ الاسلام ،امام،اورعلامہ وغیرہ لکھتے ہیں اوراگرمرضی کے خلاف بات ہوتو شیخ الاسلام پرتنقید ،تنقیص اورتوہین آمیزجملے بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ کیاانہیں اللہ کاخوف نہیں ہے؟“ (فتاوی علمیہ المعروف توضیح الاحکام ١/٦٣٧)
سیوطی رحمہ اللہ ۔ ”حاطلب اللیل“ اور ”امام“
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”علامہ سیوطی رحمہ اللہ کو حاطب اللیل کہنا (باوجود یکہ اہل علم کے ہاں معروف ہے اوراس کے موجد حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ قطعا نہیں ہے)“ [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٢٧]
ا چھا یہ بتائیں کہ کیا علامہ سیوطی رحمہ اللہ کو ”امام“ کہنا اہلِ علم کے ہاں معروف نہیں ہے؟
علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی انہیں ”امام“ کہا ہے ۔ شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے بھی کئی مقامات پر سیوطی رحمہ اللہ کو ”امام“ لکھا ہے۔بلکہ خود آپ کے استا ذ ممدوح نے بھی بقلم خود کئی مقامات پر ان کو ”امام“ لکھا ہے۔دیکھئے ہماری کتاب ”حدیث یزید محدثین کی نظرمیں“ (ص: ٧ تا ١١)
پھرناچیزنے جب سیوطی رحمہ اللہ کو ”امام“ لکھ دیا توآپ کے زبیرعلی زئی صاحب نے اسے عجوبہ کیسے کہہ دیا ؟ حیرت کی بات ہے کہ معیوب القابات سے ائمہ واہلِ علم کا نام ذکر کرنا آپ کے یہاں جائز ہے، لیکن اچھے القابات سے اہلِ علم کے تذکرہ کو آپ لوگ عجوبہ کہتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ اہل علم نے ابن الجوزی رحمہ اللہ کو بھی ”حاطب لیل“ کہا ہے۔پھرآپ کے استاذصاحب نے انہیں ”حاطب لیل“ کیوں نہیں کہا؟ اس لئے کہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے ان کے مطلب کی بات کی ہے !!
ندیمی گروہ اور مخالفین کی عبارات کے ساتھ کھلواڑ
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ سے متعلق بعض مقامات پر ہم نے اعتراف کیاکہ کچھ کلمات سخت ہوگئے اوروعدہ کیا کہ آئندہ اصلاح کرلی جائے گی، اس پر ندیم صاحب پھولے نہیں سما رہے۔ لکھتے ہیں:
”سنابلی صاحب کا اعتراف اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے نہ سیاق وسباق کو کاٹااورنہ ان کی کسی عبارت کو بدلاہے۔“ [ الحدیث نمبر ( ١٣٥،١٣٦ ) ص٢٨]
اللہ کے بندے ! آپ کی طرف سے سیاق وسباق کوکاٹنے کا عمل صرف ابن الجوزی ہی سے متعلق نہیں، یہ توآپ کا عمومی اصول ہے۔ بلکہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کا رد بھی میں نے جہاں کیا وہاں سب سے پہلے انہیں امام اور رحمہ اللہ لکھا اور پوری کتاب میں اوربھی کئی مقامات پر انہیں امام اور رحمہ اللہ لکھا، پھر بھی ندیم ظہیر صاحب نے ابن الجوزی رحمہ اللہ کے متعلق میرا کون سارخ قارئین کے سامنے پیش کیا ہے؟جبکہ دورخی ڈبے کا بھوت ان پر ہمیشہ سوار رہتاہے۔
دل کے حال سے لاعلمی یا تحریفی کارروائی
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”کسی بات کا مقصد یا وجہ تسمیہ صفحات کے بجائے آپ کے دل ودماغ میں ہوگی توہمارے سمیت تمام لوگ وہی مفہوم سمجھیں گے جوصفحات پرمنقول ہوگا۔ معلوم شد کہ دلوں کے بھید صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ ہم نے اگرآپ کے کسی واضح ،صریح اورتحریر شدہ مفہوم کوبدلاہوتاتوآپ یہ صفائیاں۔۔الخ“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٢٨]
قارئین! نوٹ فرمائیں کہ موصوف یہاں دعوی کررہے ہیں کہ وہ واضح ،صریح ،اورتحریرشدہ مفہوم کو نہیں بدلتے ،جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔
ہماری بات تو جانے دیجئے، یہ لوگ روایات کے اندر موجود واضح اور صریح بات کا مفہوم بھی بدل ڈالتے ہیں، مثلا: حدیث میں واضح اورصریح طورپر ”اغتصبھا“ کا لفظ موجود ہے، لیکن ندیم صاحب کے استاذممدوح نے یہاں غصب کرنے کا معنی قبضہ میں لینے سے کردیا۔ کیا یہ واضح اورصریح مفہوم کو بدلنا نہیں ہے ؟تفصیل کے لئے دیکھئے ہماری کتاب: ”یزیدبن معاویہ ۔۔۔“ (ص١٤٧ تا١٥٣)نیزدیکھیں: ”حدیث یزید محدثین کی نظر میں“ (ص ١٧٦ تا ١٨٢)
جہاں تک ہماری باتوں کو بدلنے کی بات ہے توہم نے حدیثِ یزید کی سند کو اصلامنقطع قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی سند سے ایک راوی ساقط ہے اوراسی نے یہ من گھڑت روایت بیان کی ہے۔یعنی ہم نے سند کے اندر موجود رواة میں سے کسی کو بھی کذاب نہیں کہا، بلکہ پوری صراحت سے اس کی نفی بھی۔ ملاحظہ ہوں ہمار ے الفاظ :
”ہم نے زیربحث روایت کو مردود قراردیا تو اس لئے نہیں کہ اس کی سند میں کوئی ضعیف یا کذاب راوی ہے۔۔۔۔۔۔ہمارے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ زیربحث روایت کی سندسے ایک راوی ساقط ہے اوریہ نامعلوم ہے ،اس نے امام بخاری رحمہ اللہ کے قول کی روشنی میں ناممکن بات بیان کی ہے،لہٰذا یہ روایت موضوع اورمن گھڑت ہے۔اسے کسی دجال اورکذاب سبائی نے گھڑا ہے۔“(یزید بن معاویہ ۔۔ص٨٣،٨٤)
ملاحظہ فرمائیں! ہم نے کس قدر واضح او ر صریح لفظوں میں کہا ہے کہ حدیثِ یزید کی سند میں موجود رواة میں سے کسی کو ہم نے کذاب نہیں کہا ، بلکہ اس سند سے جو راوی ساقط ہے، اسی نے یہ جھوٹی کہانی بیان کی ہے جو کسی دجال اور سبائی کی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔یعنی جسے ہم کذاب ودجال کہہ رہے ہیں، اسے ہم سند کے اندر مذکور نہیں مان رہے، لیکن ہماری اس بات کو بدلتے ہوئے حافظ زبیر علی زئی صاحب نے لکھا:
”اس حسن لذاتہ متصل روایت کو باطل یاموضوع قراردینا ظلم ہے اوراس کے ثقہ وصدوق راویوں میں سے کسی کو سبائی درندہ قراردینا توظلم عظیم ہے ،جس کاحساب ایسے الفاظ کہنے والے کو اللہ کی عدالت میں دینا پڑے گا۔“ (مقالات ٦/٣٨٢)
اب قارئین انصاف کے ساتھ بتلائیں کہ کیا ہمارے واضح ، صریح اور تحریرشدہ مفہوم کوبدلا گیا یا نہیں ؟
اوربات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ یہ لوگ ہماری واضح اور صریح باتوں کو بدل دیتے ہیں بلکہ بعد میں جب اس کا شکوہ کیا جاتا ہے اور مزید وضاحت وصراحت کی جاتی ہے تو اس پر بھی یہ حضرات اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے، بلکہ اپنی تحریفی کارروائی پرمصر رہتے ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے :حدیث یزید محدثین کی نظر میں (ص١٥٢تا١٥٤)
اس معاملے میں ندیم ظہیر صاحب بھی اپنے استاذممدوح سے پیچھے نہیں، بلکہ وہ ان سے بھی دو قدم آگے ہی ہیں۔ ہم باربار وضاحت کرچکے ہیں کہ ہم عبدالوہاب ثقفی پرضعف و اختلاط کی جرح اس لئے نہیں پیش کر رہے ہیں کہ عبدالوہاب ثقفی کو ضعیف ثابت کرکے حدیثِ یزید کو ضعیف قراردیا جائے یا انہیں عام معنوں میں مختلط ثابت کرکے یہ کہہ کرحدیث کو ضعیف کہا جائے کہ عبدالوہاب ثقفی کا اس حدیث کو اختلاط سے قبل بیان کرنا ثابت نہیں، بلکہ ہم باربار وضاحت کرچکے ہیں کہ عبدالوہاب الثقفی پرضعف و اختلاط کی جرح سے ہم صرف یہ بتاناچاہتے ہیں کہ یہ راوی درجۂ ثقاہت میں اس ثقہ راوی کے درجہ پر نہیں ہے، جس پر ضعف واختلاط کی جرح نہیں ہے ۔
لیکن ندیم ظہیر صاحب ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے قارئین سے یہی کہتے جا رہے ہیں کہ عبدالوہاب ثقفی ضعف واختلاط کی جرح سے ضعیف ثابت نہیں ہوتا ۔ چناں چہ ندیم ظہر صاحب یہ عنوانات لگاتے ہیں :
◈ پہلا اعتراض :عبدالوہاب الثقفی متکلم فیہ ہیں؟
◈ دوسرا اعتراض : اوثق کی مخالفت
◈ تیسرا اعتراض :اختلاط
قارئین دیکھیں کہ کس طرح چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ندیم ظہیر صاحب نے یہ تینوں باتیں الگ الگ اعتراض کے نام پر ذکر کرکے یہ ظاہر کیا ہے کہ حدیث کو ضعیف کہنے کے لئے ان تینوں باتوں کو اصل بنیاد بنایا گیا ہے ۔ حالانکہ ان تینوں باتوں میں سے صرف دوسری بات (اوثق کی مخالفت) کو ہم نے حدیث کی تضعیف میں اصل بنیادوں میں ذکر کیا ہے اورضعف واختلاط والی بات کا تعلق سند پر اصل اعتراض سے نہیں بلکہ عبدالوہاب کا درجہ ثقاہت طے کرنے سے ہے ۔لیکن یہ بے چارے ضعف واختلاط کی بحث کو درجۂ ثقاہت کی بحث سے ہٹا کر سیدھااصل سند پر لے جاکر فٹ کردیتے ہیں اور پھر ان کی طرف سے جواب کا ماحصل یہ ہوتاہے کہ عبدالواب الثقفی ثقہ ہے اور اختلاط کی جرح تضعیفِ حدیث کی دلیل نہیں !!
اللہ کے بندے! ہم نے کب عبدالوہاب الثقفی کے ثقہ ہونے سے انکار کیا ہے؟ اسی طرح ہم نے کب یہ کہا ہے کہ اس کے مختلط ہونے کے بعد اس کی احادیث ضعیف ہوتی ہیں ؟ جب ہم باربار اس کی وضاحت و صراحت کرچکے ہیں، پھر بھی ہماری وضاحتوں اور صراحتوں سے رو گردانی کرتے ہوئے ہماری باتوں کو الگ رنگ میں پیش کرنا یہ واضح ،صریح اورتحریر شدہ مفہوم کو بدلنا نہیں تو اور کیا ہے؟
سیاق وسباق کے ساتھ ندیم ظہیر صاحب کا کھلواڑ
آگے ندیم ظہیر صاحب نے یہ صفائی پیش کی ہے کہ وہ سیاق وسباق سے دوسروں کی باتوں کو نہیں کاٹتے۔ پھرانہوں نے بطور مثا ل ہماری تحریرسے دو اقتباسات نقل کئے ہیں اورآگے چل کر بطورنتیجہ ان دونوں اقتباسات میں متضاد باتیں دکھلائی ہیں ۔ یہ کارروائی انہوں نے یہ صفائی پیش کرنے کے لئے کی ہے کہ وہ سیاق وسباق سے باتوں کو نہیں کاٹتے، لیکن کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں بھی انہوں نے ہاتھ کی صفائی دکھائی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں اقتباسات میں بھی کوئی متضاد بات نہیں ہے ۔
یہاں ندیم صاحب نے دو ڈبے بنائے ہیں، آئیے ہم ان دونوں کا جائزہ لیتے ہیں :
✿ پہلا ڈبہ :
➊ ”لہ رؤیة“ کی بناپر کسی کو صحابی کہنا کسی بھی صورت میں درست نہیں ۔
➋ جن لوگوں کو رؤیت کے لحاظ سے صحابی کہا گیا ہے، وہ طبقہ ثانیہ میں شمارہوتے ہیں۔ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٢٩]
ندیم صاحب نے ان دونوں باتوں کو متضاد ظاہر کیا ہے، لیکن یہ محض ان کے ہاتھ کی صفائی ہے، کیونکہ یہ دونوں باتیں الگ الگ ہیں ۔
پہلی بات میں عام اصطلاحی معنی میں صحابی کہنے کا ذکر ہے، جبکہ دوسری بات میں غیراصطلاحی معنی میں مقید اورتشریفی طورپرکسی کو صحابی کہنے کاذکرہے ۔ لہٰذا پہلی بات دوسری بات کے خلاف قطعاً نہیں ہے ۔دراصل پہلی بات کو ندیم صاحب نے مکمل سیاق وسباق سے کاٹ کرپیش کیا ہے ۔
ندیم ظہیر صاحب نے پہلی بات کے لئے جواقتباس پیش کیا ہے، اسے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”الغرض جس کے بارے میں یہ کہا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٢٩]
یہاں ”الغرض“ سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے پہلے پوری بحث موجود ہے اوربطور خلاصہ وہ بات کہی گئی ہے جسے ندیم ظہیر صاحب نے نقل کیا ہے۔ اب قارئین ماقبل کی پوری بحث پڑھیں گے تو انہیں صفحہ( ٧٢٠) پر ایک وضاحت ان الفاظ میں نظرآئے گی :
”واضح رہے کہ بعض اہلِ علم ”لہ رؤیة“ والوں کو صحابی کہہ دیتے ہیں تو ان کی نظر میں صحابی کا عام اصطلاحی معنی مراد نہیں ہوتا، بلکہ تشریفی طور پر مقید صحبت ان کی مراد ہوتی ہے، چناں چہ ایسے ہی ایک شخص کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ولا صحبة لعبد الرحمن، بل له رؤية، وتلك صحبة مقيدة»
”عبدالرحمن صحابی نہیں ہیں، بلکہ انھیں رئویت حاصل ہے اور یہ ایک مقید صحبت ہے۔“ [سير أعلام النبلاء للذهبي: 3/ 484]
یعنی صحابی ہونے اور صاحبِ رویت ہونے میں فرق ہے، الغرض ابن مطیع صحابی نہیں ہیں۔ میرے ناقص علم کی حد تک کسی نے بھی انھیں صحابی نہیں کہا۔ بعض اہلِ علم نے صحابہ والی کتاب میں جو ان کا تذکرہ کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ انھیں صحابی مانتے ہیں، بلکہ انھوں نے فقط رئویت کا لحاظ کرتے ہوئے انھیں صحابہ والی کتاب میں ذکر کر دیا ہے۔“ (یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٢٠)
معلوم ہوا کہ ندیم ظہیر صاحب نے پہلی بات جہاں سے نقل کی ہے، وہاں بھی ماقبل میں ہم نے یہ وضاحت کر رکھی ہے کہ غیراصطلاحی معنی میں بعض اہلِ علم کسی کو صحابی کہہ دیتے ہیں، لیکن اس سے عام اصطلاحی معنی مراد نہیں ہوتا۔ اس سیاق کے ساتھ وہ بات دیکھیں جسے ندیم صاحب نے ڈبے میں پہلے نمبر پرنقل کیا ہے توروزروشن کی طرح کا اس کا یہی مفہوم سامنے آئے گا کہ ”لہ رؤیة“ کی بناپر عام اصطلاحی معنی میں کسی کو”صحابی“ کہنا کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے اور حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے یہی کیا کہ محض ”لہ رؤیة“ کی بنیاد پر ابن مطیع کو عام اصطلاحی معنی میں ”صحابی“ بناڈالا، جو کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے۔
خلاصہ یہ کہ ندیم ظہیر صاحب کی طرف سے پہلے نمبر پر نقل کردہ ہماری بات کا مفہوم یہی ہے کہ ”لہ رؤیة“ کی بناپر عام اصطلاحی معنی میں کسی کو ”صحابی ” کہنا کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے اوراس میں اس بات کا بالکل انکار نہیں ہے کہ رؤیت کے لحاظ سے غیر اصطلاحی معنی میں کسی کو صحابی کہا جاسکتا ہے، بلکہ جیساکہ واضح کیا گیا کہ پہلی بات جس بحث کاخلاصہ ہے، اسی بحث میں ہم نے خود لکھ رکھا ہے کہ ”بعض اہلِ علم ”لہ رؤیة“ والوں کو بھی صحابی کہہ دیتے ہیں” ۔
✿ دوسرا ڈبہ :
➊ پوری تاریخِ اسلام میں۔۔۔ اور معاصرین میں بھی زبیر علی زئی صاحب پوری دنیا میں واحد شخص ہیں ۔
➋ عرض ہے جن لوگوں نے عامربن مسعود کو صحابی کہا ہے، ممکن ہے انہوں نے فقط رؤیت کے لحاظ سے صحابی کہاہو۔[ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٢٩]
اس ڈبے میں جو پہلی بات ہے، اسے ندیم صاحب نے بھی اقتباس میں مکمل نقل کیا ہے، سب سے پہلے قارئین اسے مکمل پڑھ لیں:
”الغرض جس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ ”لہ رؤیة“ ، ان کو ”صحابی“ کہنا کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے، اس لیے زبیر علی زئی صاحب کا ابن مطیع کو صحابی کہنا اور ان پر صحابہ کے احکامات منطبق کرنا اصولِ حدیث کے سراسر خلاف ہے۔ ہمارے ناقص علم کی حد تک پوری تاریخِ اسلام میں کسی ایک بھی ثقہ و معروف محدث نے اس طرح کا موقف اختیار نہیں کیا ہے اور معاصرین میں بھی زبیر علی زئی صاحب پوری دنیا میں واحد شخص ہیں، جنھوں نے نہ صرف یہ کہ ابن مطیع کو صحابی کہا ہے، بلکہ ان پر صحابہ کے احکامات بھی منطبق کر دیے“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص٧٢٢)
اس اقتباس کی پہلی سطر پر وضاحت گزر چکی ہے اور قارئین کو معلوم ہوچکا ہے کہ یہاں عام اصطلاحی معنی میں کسی کو صحابی کہنے اور اس پر صحابی کے احکامات منطبق کرنے (مثلااصطلاحی ”صحابی“ کا مقام دینا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کو متصل ماننا)کی بات ہورہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ”لہ رؤیة“ و الے شخص کو عام اصطلاحی معنی میں صحابی کہنا اوران پر صحابہ کے احکامات منطبق کرنا پوری تاریخِ اسلام میں کسی ایک بھی ثقہ محدث کا موقف نہیں رہاہے بلکہ یہ صرف اورصرف حافظ زبیرعلی زئی صاحب کی اپنی ایجاد ہے۔
اس ڈبے میں جس دوسری بات کو ندیم ظہیر صاحب نے پیش کیا ہے، اس میں عام اصطلاحی معنی میں نہیں بلکہ غیر اصطلاحی معنی میں محض رؤیت کے لحاظ سے تشریفی طور پر صحابی کہنے کی بات ہے اوراس معنی میں جب کسی کو صحابی کہاجاتاہے تواس پر عام صحابہ کے احکامات بھی منطبق نہیں کئے جاتے، مثلا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کو متصل نہیں ماناجاتا۔یہ دونو ں الگ الگ باتیں ہیں، یہاں تضاد والی کوئی بات ہے ہی نہیں ۔
ندیم ظہیر صاحب ان دونوں باتوں کو متضاد بتاکر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پہلی بات میں زبیرعلی زئی صاحب کو جس معاملے میں منفرد کہا گیا ہے، دوسری بات میں ہم نے دوسروں کی طرف بھی وہی چیزمنسوب کی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں باتیں الگ الگ ہیں، پہلی بات میں اصطلاحی طورپر صحابی کہنے کا ذکر ہے اور دوسری بات میں غیر اصطلاحی طورپر صحابی کہنے کاذکرہے۔
غیراصطلاحی معنی میں کسی کو صحابی کہاجاتاہے تو اسے عام اصطلاحی میں صحابی کا مقام نہیں دیا جاتا نہ اس پراس عام صحابی کے احکامات منطبق ہوتے ہیں، لیکن زبیرعلی زئی صاحب نے ابن مطیع کو نہ صرف یہ کہ عام اصطلاحی معنی میں صحابی کہا ہے، بلکہ صحابی کے احکامات بھی ان پر منطبق کئے ہیں ۔یہ بلاشبہہ ایک نئی ایجاد ہے جسے اصول حدیث میں ایک طرح کی ”بدعت“ ہی جاسکتاہے۔
یہ ہیں دونوں باتیں جنہیں ندیم ظہیر صاحب نے دوسرے ڈبے میں پیش کرکے انہیں باہم متضاد ظاہرکرنے کی مذموم کوشش کی تھی، لیکن قارئین ہماری دونوں باتوں کو سیاق وسباق سے دیکھیں گے توندیم صاحب کے بارے میں ہمارے اس تبصرے کی تصدیق کریں گے کہ وہ سیاق وسباق سے باتوں کو کاٹ کران کا معنی ومفہوم بدلنے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں ۔
لطیفہ :
آگے ندیم ظہیر صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی طرف سے ہماری بعض باتوں کا جواب کسی دیوبندی کے اعتراضات کے جواب میں لکھی جانے والی تحریر میں دیا جائے گا۔
عرض ہے کہ آپ دیوبندی یا بریلوی کسی کے ساتھ بھی ہمیں جواب دے دیں، آپ آزاد ہیں،لیکن اتنا یادرکھیں کہ ہم بھی دیوبندیوں یا بریلویوں کی تحریروں کا جواب لکھتے رہتے ہیں الحمد للہ اور ان شاء اللہ ہم بھی ایسے ہی کسی مبارک موقع پر آپ کی دیوبندی تحریر کا کا جواب الجواب پیش کردیں گے۔
اعتراض والے عنوانات
ندیم ظہیر صاحب نے آگے حدیثِ یزید پربحث کی ہے اورحدیث پر اعتراضات کو عنوان وار پیش کیا ہے، لیکن اس ضمن میں موصوف نے انتہائی چالاکی سے کام لیتے ہوئے کچھ پرفریب عنوانات بھی قائم کر دیے ہیں اور قارئین کو یہ دکھا یا ہے کہ ہم نے حدیثِ یزید کی سند پر فلاں فلاں اعتراض کئے ہیں ۔
حالانکہ ہم نے ندیم ظہیر صاحب کے جواب میں جو پہلی تحریر پیش کی ہے، اس میں پوری طرح وضاحت و صراحت کے ساتھ لکھا تھا:
”کس بنا پر ضعیف ہے؟ اس سوال کا کوئی تک بنتاہی نہیں ہے، کیونکہ ہم نے پوری صراحت کے ساتھ اس روایت کے ضعیف و مردود ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس روایت کے مردود ہونے کی وجوہات بالاختصار درج ذیل ہیں:
⟐ امام العلل امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو معلول قرار دیا ہے۔
⟐ امام العلل امام بخاری رحمہ اللہ کی بیان کردہ علت۔
⟐ ثقہ کی ایسی زیادتی جو قرائن کی روشنی میں مردود ہے۔“ (یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٩٧)
ندیم ظہیر صاحب! ہماری اس قدر صراحت کے باوجود آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ پھر بھی سوال کر رہے ہیں کہ یہ روایت کس بنا پر ضعیف ہے ؟“ (ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کا جائزہ ، قسط اول کا جواب ،حصہ دوم:ص٩،١٠)
لیکن اس قدر وضاحت وصراحت کے بعد بھی ندیم ظہیر صاحب اپنی تحریفی کارروائی سے باز نہیں آرہے اورجواعتراض ہم نے حدیثِ یزید کی سند پر نہیں کیا، اسے سند پر اعتراض بناکر پیش کر دیا ۔
پہلا اعتراض: عبدالوہاب الثقفی متکلم فیہ ہیں؟
اس عنوان پربحث کرنے سے پہلے ہم چند باتیں واضح کردیں۔
① عبدالوہاب الثقفی پر ہم نے جو بھی کلام پیش کیا، اس کا مقصود صرف یہ ہے کہ اس کلام کی وجہ سے عبدالوہاب الثقفی ثقاہت میں اس درجہ کا راوی نہیں ہے، جس پر کوئی کلام نہیں ہوا۔ یعنی ہمارامقصود یہ نہیں ہے کہ عبدالوہاب الثقفی ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کی وجہ سے حدیثِ یزید ضعیف ہے، بلکہ ہمارا مقصود یہ ہے کہ عبدالوہاب الثقفی کا درجۂ ثقاہت اس راوی سے کم تر ہے جس کی اس نے مخالفت کی ہے، اس لئے اوثق نیز اکثر کے خلاف اس کی بات غیرمقبول ہے۔
② عبدالوہاب کو گرچہ ہم متکلم فیہ مانتے ہیں، لیکن ان پر کلام اس درجہ کا نہیں ہے کہ انہیں ثقہ کے مرتبہ سے ہی گراکر صدوق کے مرتبے پر پہنچا دے، بلکہ اس کلام کے باوجود بھی یہ ثقہ ہی ہیں، لیکن ثقہ ہونے میں اس راوی جیسے نہیں ہیں جس پر کوئی کلام ہی نہیں ،جیساکہ اظہر من الشمس ہے۔
بطور مثال عرض ہے کہ حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے ایک راوی ”یزید بن خصیفہ“ کو مختلف فیہ لکھا ۔(قیام رمضان:ص٦٣)
اس کے باوجودبھی اسے ثقہ ہی تسلیم کیا ہے۔
ان وضاحتوں کو غور سے پڑھنے اور سمجھنے کے بعد اس عنوان کے تحت ندیم ظہیر صاحب کی ساری باتیں دیکھی جائیں تو وہ بوکھلاہٹوں کے سوا کچھ نہیں ۔
راوی کا متکلم فیہ ہونا اوردرجۂ ثقاہت
ندیم ظہیر صاحب نے یہ کہنے کے بعدکہ چندراویوں کے بعد ہرراوی پر کچھ نہ کچھ کلام مل جاتاہے ،آگے فرماتے ہیں:
”اب کیا ہرکلام اس قابل ہے کہ راوی کے درجہ ثقاہت کو متاثر کرے ؟ یقینا نہیں ۔۔۔۔۔اگرکوئی کہے کہ اس سے کلام ختم تونہیں ہوجاتا،ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ وہ کلام ختم نہیں ہوتالیکن اس قابل بھی نہیں رہتا کہ راوی کو متکلم فیہ بناکر اس کے درجہ ثقاہت کو متاثر کرے۔ اگر سنابلی صاحب کے طرزعمل کودیکھا جائے توہر دوسرا راوی متکلم فیہ ٹھہرے گا۔“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣١]
عرض ہے کہ ندیم صاحب یہ بھول رہے ہیں کہ ان کے استاذ ممدوح نے بخاری ومسلم کے راوی یزید بن خصیفہ کو ”مختلف فیہ“ لکھا ہے ۔(قیام مضان ص٦٣)
واضح رہے کہ حافظ زبیرعلی زئی صاحب ”یزیدبن خصیفہ“ کو مختلف فیہ کہنے کے باوجود بھی اس کو ثقہ ہی مانتے ہیں ۔جس طرح ہم عبدالوہاب الثقفی کو متکلم فیہ کہنے کے باوجودبھی اسے ثقہ ہی ماتے ہیں۔
نیز زبیرعلی زئی صاحب ”یزیدبن خصیفہ“ کو مختلف فیہ کہنے کے باوجودبھی اس کی عام احادیث کو حسن نہیں بلکہ صحیح ہی مانتے ہیں، اسی طرح ہم بھی عبدالوہاب کو متکلم فیہ کہنے کے باوجود عبدالوہاب کی عام احادیث کو حسن نہیں بلکہ صحیح ہی مانتے ہیں۔
اب عبدالوہاب الثقفی کو متکلم فیہ کہنے پر ندیم صاحب جو اشکالات اٹھارہے ہیں، عین وہی اشکالات ان کے استاذممدوح کی طرف سے یزیدبن خصیفہ کو ”مختلف فیہ“ کہنے پر بھی واردہوتے ہیں۔ اب ندیم صاحب اپنے استاذممدوح کو ان اشکالات کی زد سے بچانے کے لئے جو بھی جوا ب دیں گے، وہی جواب ہمارا بھی ہے۔
ایسانہیں ہے کہ یہ آئینہ ہم پہلی بار دکھا رہے ہیں، بلکہ ہم نے حافظ زبیر علی زئی صاحب کی زندگی میں ہی یہ مثال دے کر سمجھا دیا تھا۔ دیکھئے: ”یزید بن معاویہ..“ (ص: ١٥٨)
لیکن ندیم ظہیر صاحب مجھ پر اشکالات تو پیدا کر رہے ہیں، لیکن اس معاملے میں ان کے استاذ کا جو حوالہ ہم نے دیا تھا، اس پر ندیم ظہیر صاحب نے کوئی صفائی پیش نہیں کی ، ندیم صاحب سے گزارش ہے کہ پہلے خود آئینہ دیکھیں اور اپنے گھر کی خبرلیں، پھر دوسروں پر اعتراض کریں ۔
ہم باربار وضاحت کرچکے ہیں کہ عبدالوہاب الثقفی کو متکلم فیہ کہنے سے ہمارا مقصود یہ نہیں ہے کہ وہ ضعیف ہے، بلکہ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ اس کلام کی وجہ سے وہ ثقہ سے گرکرصدوق وحسن الحدیث ہوگیا ہے، بلکہ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ یہ گرچہ ثقہ ہے، لیکن ثقاہت میں اس راوی کے درجہ پر نہیں جس پر ضعف واختلاط کی سرے سے کوئی جرح ہی نہیں ہوئی ہے۔نیزہم ان کے متکلم فیہ ہونے کی بات صرف مخالفت کے باب میں کی ہے ہرجگہ نہیں ۔
نوٹ:-
معاذبن معاذ پر بات آگے آرہی ہے۔ ندیم ظہیر صاحب اس بات پر بضد ہیں کہ معاذپربھی امام احمد نے جرح کی ہے ۔عرض ہے کہ بفرض محال یہ بات تسلیم بھی کرلیں کہ امام احمد نے معاذ پر جرح کی ہے، اس لیے یہ بھی متکلم فیہ ہیں توبھی کیا ہرمتکلم فیہ ایک ہی درجے کا ہوتاہے؟ کیا معاذپربھی ویساہی کلام ہے جیساعبدالوہاب الثقفی پر کلام ہے؟
بلکہ اگر یہ بھی مان لین کہ عبدالوہاب اور معاذ دونوں پر کوئی جرح نہیں ہے توبھی کیا دونوں ثقاہت کے ایک ہی درجہ پرہیں؟ ہرگز نہیں، بلکہ دونوں پر کلام مانیں یا نہ مانیں بہرصورت درجہ ثقاہت میں عبدالوہاب الثقفی ،معاذ سے کم تر ہیں ،اس لئے مخالفت کے وقت معاذ ہی کی بات کو ترجیح دی جائے گی۔
کوئی بھی طالب علم عبدالوہاب ثقفی اور معاذ سے متعلق ائمہ کے اقوال یکجاکرکے دیکھ لے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ گرچہ دنوں ثقہ ہیں، لیکن ثقاہت میں معاذ ، عبدالوہاب ثقفی سے بڑھ کرہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اورابن سعد کی جرح ”فیہ ضعف“
امام ابن سعد رحمہ اللہ نے عبدالوہاب پر ”فیہ ضعف“ کی جرح کی ہے، اس بارے میں حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے یہ فرمایا کہ ابن حجررحمہ اللہ نے امام ابن سعد کی جرح ”فیہ ضعف“ کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اس سے اختلاط کی جرح مراد ہے۔
اس پر ہم نے کہا تھا کہ ابن حجررحمہ اللہ نے اس تشریح پرکوئی دلیل ذکر نہیں کی۔ ہوسکتاہے کہ دیگرائمہ کی طرف سے اختلاط کی جروح کوسامنے رکھتے ہوئے ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ تشریح کی ہو، لیکن یہ بات اس تشریح کے لئے کافی نہیں ہے۔
دوسری طرف کئی ائمہ و اہلِ علم مثلا امام ذہبی وغیرہ نے ابن سعد کی یہ جرح ”فیہ ضعف” کو نقل کیا ہے لیکن انہوں نے یہ تشریح نہیں کی کہ ابن سعد کی مراد اختلاط کی جرح ہے ۔اس لئے ہم نے کہا کہ ابن سعد کی جرح اختلاط کی جرح نہیں، بلکہ مطلق حافظے پرجرح ہے۔
اس پر ندیم صاحب شورمچارہے ہیں کہ ہم نے ابن حجررحمہ اللہ کی بات نہیں مانی !
اللہ کے بندے! حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی یہ تشریح کیاکسی راوی پرخودابن حجررحمہ اللہ کی اپنی ناقدانہ جرح ہے، جواسماء الرجال میں حجت ودلیل کے درجہ میں ہے؟
آپ کے استاذممدوح کا حال تو یہ ہے کہ وہ بعض رواة پر ابن حجر رحمہ اللہ کی تحقیق کوبلاچوں چرارد کرتے دیتے ہیں اور آپ ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم ابن حجررحمہ للہ کی اس تشریح پر بھی ایمان لے آئیں، جس کی دلیل نہ حافظ حجررحمہ اللہ نے دی ہے نہ آپ کے استاذممدوح نے اورنہ آپ نے!
ابن سعدہی کی مثال لے لیں، انہوں نے عبداللہ بن وھب کو مدلس کہا، اس بناپر حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے الفتح المبین میں انہیں تیسرے طبقہ کا مدلس قرار دے رکھا ہے۔ (دیکھئے: الفتح المبین ص٣٣ طبع جدید ، ص٢٥ طبع قدیم، نیزدیکھئے: مقالات ٢/١٥٨)
جبکہ ایک مقام پر زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی تحقیق یہ ہے کہ ابن وھب مدلس نہیں تھے“ (مقالات١ /٣٠٨)
لیکن ابن حجررحمہ اللہ کی اس تحقیق کو ماننے کے لئے حافظ زبیرعلی زئی صاحب تیار نہیں ہوئے ، کیوں؟
دوسری بات یہ کہ ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرابن حجررحمہ اللہ کی تشریح مان لیں توبھی ہماری بات اپنی جگہ پربرقراررہتی ہے ، چناں چہ ہم نے لکھاتھا:
”اگر ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ امام ابن سعد رحمہ اللہ نے اختلاط کی جرح مراد لی ہے تو بھی ہمارا قول متکلم فیہ اپنی جگہ پر باقی رہے گا، کیوںکہ ایسی صورت میں بھی عبدالوہاب ثقفی متکلم فیہ کی زد سے باہر نہیں ہو سکتے اور یہ چیز انھیں ثقاہت میں ان لوگوں کے مرتبے سے کم کر دے گی، جن پر سرے سے کوئی جرح ہوئی ہی نہیں ہے نہ ضعف کی اور نہ اختلاط کی۔ لہٰذا ان کے متکلم فیہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے بالاتفاق ثقہ کے مقابل میں ان کی ثقاہت کا درجہ کم ہوگا اور ترجیح کی بات آئے گی تو ان کے متکلم فیہ ہونے کی وجہ سے ان کے مقابل میں ان لوگوں کی روایت کو راجح کہا جائے گا جن پر سرے سے کوئی جرح ہوئی ہی نہیں ہے۔“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص٢٣٨)
شیخ ابواسحاق الحوینی اور ابن سعد کی جرح ”فیہ ضعف“
ندیم ظہیر صاحب نے آگے شیخ ابواسحاق الحوینی کو ابن حجررحمہ اللہ کا موید بناکرپیش کیا ہے جبکہ ان کے پیش کردہ کلام میں کسی طرح سے بھی یہ مفہوم نہیں نکلتا۔ ندیم صاحب نے ان کی یہ عبارت پیش کی ہے:
«وقد تكليم بعض العلماء فيه ، من جهة أنه اختلط»
”بعض علماء نے (عبدالوہاب )میںاختلاط کی بناپر کلام کیا ہے۔“ (نثل النبال بمعجم الرجال ٢/ ٤٣٩) [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٢]
ندیم ظہیر صاحب کے بارے میں ہم بہت پہلے ہی بتاچکے ہیں کہ یہ صاحب دوسروں کی عبارات میں تحریف کرنے ،انہیں سیاق وسباق سے کاٹنے اوران کا مفہوم بدلنے میں ماہر ہیں۔ یہاں بھی انہوں نے اپنی اسی مہارت کااستعمال کیا ہے۔اصل حقیقت واضح کرنے کے لئے مناسب ہے کہ شیخ ابو اسحاق الحوینی کا پورا کلام نقل کردیا جائے۔ دراصل انہوں نے جس کتاب ”نثل النبال بمعجم الرجال” سے ابواسحاق الحوینی کا کلام نقل کیا ہے، وہ کتاب ابواسحاق الحوینی کی اپنی تالیف کردہ نہیں، بلکہ کسی اور صاحب نے اسے مرتب کیا ہے اور محولہ مقام پر مرتب نے ابواسحاق الحوینی کا جو کلام نقل کیا ہے، وہ اصل میں ابو اسحاق الحوینی کی اپنی کتاب ”بذل الاحسان” میں جلداول رقم (٤٨) کے تحت موجود ہے اوریہی سے پورا کلام مرتب نے بھی نقل کردیا ہے جو مع ترجمہ یہ ہے:
« أخرج له الجماعة. وهو ثقةٌ وما ضرَّهُ اختلاطه كما يأتي. وثقه ابنُ معين، والعجليُّ، وابنُ سعدٍ وقال: ”فيه ضعفٌ“ !.
* أما ابن أبي حاتم فترجمه في الجرح والتعديل (3/ 1/ 71) وجعله اثنين فترجم مرة لـ عبد الوهاب بن عبد المجيد بن الصلت ، ومرة لـ عبد الوهاب الثقفي ، ثم قال: سألت أبي عنه، فقال: مجهول !
* فتعقبه الذهبيُّ بأنهما واحدٌ، وقال: وأما الثقفيُّ فثقةٌ مشهورٌ .
* وقد تكلم بعض العلماء فيه، من جهة أنه اختلط.
* قال ابن معين: اختلط بأخرةٍ .
* وقال عَمرو بنُ عليّ: اختلط حتى كان لا يعقل، وسمعته وهو مختلط يقولُ: حدثنا محمَّد بن عبد الرحمن بن ثوبان، باختلاطٍ شديد .
* وقال عقبة بن مكرم: اختلط قبل موته بثلاث سنين أو أربع سنين .
* وكذا قال أبو داود والعقيليُّ أنه تغير.
* عَقَّبَ الذهبيُّ في السير (9/ 239) بقوله: لكن ما ضرَّهُ تغيُّرُهُ، فإنه لم يحدث زمن التغير بشيءٍ .
* ومستند الذهبيّ في ذلك ما رواه العقيليُّ في الضعفاء (ق 130/ 2) بسندٍ صحيحٍ إلى أبي داود، قال: جرير بن حازم، وعبد الوهاب الثقفي تغيرا، فحُجب الناسُ عنهم. اهـ.
ترجمہ:
ایک جماعت نے ان سے روایت لی ہے ،یہ ثقہ ہیں، ان کے اختلاط نے انہیں نقصان نہیں پہنچایا، جیساکہ آرہاہے،انہیں ابن معین ،عجلی اورابن سعد نے ثقہ کہا ہے۔ ابن سعد نے مزید کہا : ”ان کے اندرضعف ہے“
*ابن ابی حاتم نے ”الجرح والتعدیل“ (٣/١/٧١)میں ان کاتذکرہ کیا ہے اور انہیں دو راوی بنادیا ہے۔ایک جگہ ”عبدالوہاب بن عبدالمجید بن الصلت“ کے نام سے ان کاذکر کیا ہے اور ایک جگہ ”عبدالوہاب الثقفی“ کے نام سے ان کا ذکر کیا ہے اورکہا : ”میں نے اپنے والد سے ان کے بارے میں پوچھا توانہوں نے کہا: یہ مجہول ہے“
*اس پر امام ذہبی نے تعاقب کیا کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں اورکہا کہ ثقفی مشہور ثقہ ہیں ۔
* بعض علماء نے ا ن پریہ کلام کیا ہے کہ وہ مختلط ہوگئے تھے۔۔
*ابن معین نے کہا: ”یہ آخر میں مختلط ہوگئے تھے“ ۔
*عمروبن علی نے کہا: ”یہ مختلط ہوگئے تھے، یہاں تک کہ سمجھ بھی نہیں پاتے تھے ،اورمیں نے ان کو حالتِ اختلاط میں کہتے ہوئے سنا :ہم سے محمدبن عبدالرحمن بن ثوبان نے بیان کیا ہے،شدید اختلاط کے ساتھ“
*عقبہ بن مکرم نے کہا: ”یہ اپنی موت سے تین یاچار سال قبل اختلاط کا شکار ہوگئے تھے۔“
*اسی طرح ابوداؤد اور العقیلی نے کہا کہ ”یہ تغیرِ حفظ کا شکار ہوگئے تھے۔“
*امام ذہبی نے ”السیر“ (٩/٢٣٩) میں اس پر تعاقب کرتے ہوئے کہاکہ: ”لیکن ان کے اختلا ط نے انہیں نقصان نہیں پہنچایا، کیونکہ زمانہ تغیر میں انہوں نے کچھ بیان نہیں کیا ۔“
*امام ذہبی کے اس قول کی بنیاد وہ روایت ہے جسے امام عقیلی نے ضعفاء میں(ق١٣٠/٢) ابوداؤد سے بسند صحیح ⋆بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا جریربن حازم اور عبدالوہاب الثقفی یہ دونوں تغیر کا شکارہوگئے تولوگوں کو ان سے روایت سے روک دیا گیا ۔ [دیکھئے: بذل الاحسان ١/٣٨٧تا٣٨٨ تحت رقم ٤٨، نیزدیکھیں: نثل النبال بمعجم الرجال٢/٤٣٨،٤٣٩ ]
⋆ مؤخر الذکرعقیلی کی سند صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہے۔دیکھئے: ”یزید بن معاویہ …” (ص٢٤٠تا٢٤٢)
.
قارئین کرام !
یہ ہے سیاق وسباق کے ساتھ شیخ ابواسحاق الحوینی کا پورا کلام۔
اس کلام کی ابتداء میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے لکھا ہے:
وثقه ابنُ معين، والعجليُّ، وابنُ سعدٍ وقال: ”فيه ضعفٌ“
انہیں ابن معین ،عجلی اورابن سعد نے ثقہ کہا ہے ۔ابن سعد نے مزید کہا : ”ان کے اندرضعف ہے“
یہاں پر ابن سعد کی طرف سے ”فيه ضعفٌ“ کی جرح نقل کرتے ہوئے ابواسحاق الحوینی نے یہ قطعا نہیں کہا کہ اس سے اختلاط مراد ہے ۔بلکہ اسے ابن سعد کی توثیق کے ساتھ نقل کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں، پھر ابوحاتم کی طرف سے مجہول کی جرح نقل کرکے امام ذہبی سے اس کا رد پیش کرتے ہیں ۔
اس کے بعد ان کے اختلاط پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وقد تكلم بعض العلماء فيه، من جهة أنه اختلط.»
”اوربعض علماء نے ا ن پریہ کلام کیا ہے کہ وہ مختلط ہوگئے تھے۔“
پھران علما ء میں ابن معین ،عمروبن علی ،عقبہ بن مکرم اور ابوداؤد کا نام گناتے ہیں اوراس فہرست میں ابن سعد کا نام قطعا نہیں گناتے ۔بلکہ ابن سعد کے نام سے ”فيه ضعفٌ“ کی جرح وہ اپنے کلام کے شروع ہی میں نقل کردیتے ہیں ۔
یہ سیاق اس بات پر صاف دلالت کرتاہے کہ ابواسحاق الحوینی یہاں ابن سعد کی جرح کو بھی شامل کرکے یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ علماء نے اختلاط ہی کی بناپر ان پر جرح کی ہے، بلکہ یہاں یہ بتارہے ہیں کہ بعض علماء نے ان پر اختلاط کی بھی جرح کی ہے، پھر اختلاط کی جرح کرنے والوں کا نام بھی گنادیتے ہیں۔
اس مفصل وضاحت سے قارئین بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ دوسروں کی عبارات کا من مانی مفہوم پیش کرنا ندیم ظہیر صاحب کا خاص مشغلہ ہے۔
میزان اورلسان المیزان او ر علامت ”صح“
ندیم ظہیر صاحب نے یہ کہا ہے کہ میزان اور لسان المیزان میں علامت ”صح“ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس راوی پر کلام بلاحجت ہے۔
پھرآگے لکھتے ہیں:
”معلوم ہوا حافظ ابن حجر کے نزدیک عبدالوہاب الثقفی پر ”فیہ ضعف“ کی جرح بے بنیادہے یا پھر اختلاط سے متعلق ہے“ [الحدیث نمبر ( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٢]
ندیم صاحب یہ بتائیں کہ کیا میزان اور لسان المیزان میں ابن سعد کی جرح بھی نقل کی گئی ہے؟اگرنہیں تو خاص اس جرح کے بارے میں آپ نے کیسے کہہ دیا کہ ابن حجریاامام ذہبی نے اسے بالکل بے بنیاد قراردیاہے؟
اورمزے کی بات یہ ہے کہ آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ ”یاپھر اختلاط سے متعلق ہے“ تو کیا علامت ”صح“ سے اختلاط والی جرح بے بنیاد نہیں قرارپاتی؟ دوسروں پر بوکھلاہٹ کے جملے کسنے والے ذرااپنی اس بوکھلاہٹ کا علاج کروائیں !!
ندیم ظہیر صاحب آگے بڑے طمطراق سے متکبرانہ جوش میں لکھتے ہیں:
”مقام حیرت ہے کہ سنابلی صاحب، جن کا فن جرح وتعدیل میں کوئی مقام ہے نہ کوئی خدمت، وہ معاذبن معاذسے متعلق امام احمدرحمہ اللہ کے کلام کوردکرنے کے لئے اپنی دور کی کوڑی کو حجت اور عبدالوہاب الثقفی کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی توضیح کو ”خالی ازدلیل“ سمجھتے ہیں ۔“ [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٢]
ہم نے امام احمد کے قول کو رد نہیں کیا بلکہ امام احمد کے قول کاجو خود ساختہ مفہوم آپ نے پیش کیا ہے، اسے رد کیا ہے اورحافظ ابن حجرکی توضیح سے متعلق بات گزرچکی ہے۔ رہا آپ کا یہ کہنا کہ ”سنابلی صاحب جن کا فن جرح وتعدیل میں کوئی مقام ہے نہ کوئی خدمت“ تو ہمیں اس بات کا اعتراف ہے، یقینا فن جرح وتعدیل میں نہ ہمارا کوئی مقام ہے نہ خدمت ۔لیکن آپ نے اس میدان میں کون ساتیرمارلیا ہے جس پر اتنا اترارہے ہیں ؟!
یہ بتائیں کہ آپ کے یہاں جرح وتعدیل کے نام پر ہرمدلس کے ساتھ عن عن کی رٹ اور جمہور جمہور کی گردان کے سوا کچھ اوربھی نظر آتا ہے؟ اس سے آگے بڑھے تو حسن لغیرہ کی حجیت کا علی الاطلاق انکار کر دیا۔ کیا ایسے ہی شاذ اصولوں کی آبیاری فن جرح وتعدیل میں ”گراں قدر خدمات“ کہلاتی ہیں؟!
عبدالوہاب پر اختلاط کی جرح اور ندیم صاحب کافریب
ندیم ظہیر صاحب آگے لکھتے ہیں:
”اگرکوئی کہے کہ عبدالوہاب پراختلاط کی جرح ہے،لہٰذا وہ متکلم فیہ ہی ہیںتوعرض ہے کہ جس طرح ثقہ ،متقن وثبت راوی مدلس ہوسکتاہے اور اس کی وہی روایت مردو دہے جوعن والی ہواوراس بناپر اسے کوئی متکلم فیہ نہیں کہتا،اسی طرح ثقہ ،متقن وثبت وغیرہ راوی مختلط بھی ہوسکتاہے اوراس کی وہی روایت مردود ہے جو اختلاط سے بعدوالی ہو،لہٰذاایسی صورت میں اس کے ساتھ متکلم فیہ کی جرح لگاکراختلاط سے پہلے والی روایات کومشکوک نہیں بنایاجاسکتا۔“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٢]
اللہ کے بندے! پہلی بات تو یہ کہ تدلیس حافظہ پر کلام ہے ہی نہیں اورنہ ہی اصلا اسے جرح ماناجاتاہے جبکہ اختلاط یہ حافظہ پر کلا م ہے اوریہ جر ح ہے۔
دوسری بات یہ کہ کتنی بار وضاحت کی جائے کہ ہم عبدالوہاب ثقفی پر اختلاط کی جرح اس لئے نہیں پیش کررہے ہیں کہ عبدالوہاب ثقفی کو عام معنوں میں مختلط ثابت کرکے یہ کہہ کرحدیث کو ضعیف کہا جائے کہ عبدالوہاب ثقفی کا اس حدیث کو اختلاط سے قبل بیان کرنا ثابت نہیں، بلکہ ہم باربار وضاحت کرچکے ہیں کہ عبدالوہاب الثقفی پر اختلاط کی جرح سے ہم صرف یہ بتاناچاہتے ہیں کہ یہ راوی درجۂ ثقاہت میں اس ثقہ راوی کے درجہ پر نہیں ہے، جس پر اختلاط کی جرح نہیں ہے ۔ لہٰذا جب یہ ثقاہت میں اس راوی سے کمتر ہے جس کے خلاف یہ روایت بیان کررہاہے تو اوثق کے خلاف اس کا بیان مردود ہوگا۔
یعنی اس کا اوثق کے خلاف روایت کرنا یہ اصل علتوں میں سے ایک ہے اوراس سے متعلق ضعف واختلاط وغیرہ کی بحث کا تعلق اس کے درجۂ ثقاہت سے ہے، لیکن ندیم ظہیر صاحب ہوشیاری کا سہارا لیتے ہوئے اختلاط کی بحث کو درجہ ثقاہت کی بحث سے ہٹا کر سیدھااصل سند پر لے جاکر فٹ کردیتے ہیں اور پھرجواب یہ دیتے ہیں کہ اختلاط سے پہلے والی روایات کو مشکوک نہیں بنایاجاسکتا۔ سبحان اللہ!
بالفاظ دیگر یہ سمجھ لیں کہ اس کا ”متکلم فیہ” ہی ہونا گرچہ اس کی احادیث کے ضعیف ہونے کی اصل دلیل نہیں لیکن اس کادرجۂ ثقاہت طے کرنے کی دلیل ہے، کیونکہ وہ رواة درجۂ ثقاہت میں اس سے بڑھ کرہوں گے جن پر سرے سے کوئی کلام ہی نہیںہے۔بلکہ وہ رواة بھی ثقاہت میں اس سے بڑھ کرہوں گے جن پر کلام ہو لیکن اس کے مقابل میں ہلکا کلام ہو۔
”ثقہ“ راوی کو متکلم فیہ کہنااور ”ضعیف“ راوی کو متکلم کہنا
قارئین یہ نوٹ فرمالیں کہ ”متکلم فیہ“ یہ ثقہ راوی کو بھی کہا جاتاہے اور ضعیف راوی کو بھی کہاجاتاہے۔عبدالوہاب ثقفی کو گرچہ ہم نے متکلم فیہ کہا ہے، لیکن پوری صراحت کردی ہے کہ متکلم فیہ ماننے کے باوجود ہم اسے ثقہ ہی مانتے ہیں۔
ایک دوسری کتاب میں ہم نے ایک ضعیف راوی کو ایک مقام پر پوری صراحت کے ساتھ ضعیف قراردیا ہے اور دوسری جگہ اسے متکلم فیہ کہا، لیکن اسے ثقہ ہرگزنہیں کہا اور نہ ہی اسے ثقہ ظاہر کرنے کے لئے اس کے لئے متکلم فیہ کا لفظ استعمال کیا ۔لیکن ندیم ظہیر صاحب نے اپنی تحریفی کارروائی کے بل بوتے قارئین کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے:
”سنابلی صاحب جیسے لوگ متکلم فیہ کادم چھلا اپنے مفاد کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں کیونکہ جب کسی راوی کو متکلم فیہ قراردے دیا تو خواہ اسے ضعف کی طرف گھمادو، چاہے اسے صحیح وحسن کی طرف“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٢]
ندیم صاحب اپنے پورے ٹولے کے ساتھ مل کر ہماری کسی بھی کتاب سے کوئی ایک مثال پیش کر دیں، جہاں ہم نے کسی ایک ہی راوی کو متکلم فیہ کہہ کر اسے ثقہ ظاہر کرکے ایک جگہ اس کی حدیث کو صحیح کہا ہے اور دوسری جگہ اسی راوی کو متکلم فیہ کہہ کراسے ضعیف ظاہرکرکے اس کی حدیث کو ضعیف کہا ہو۔ اگروہ ایسی مثال نہیں پیش کرسکتے تو سوائے اس کے اور کیا سمجھا جائے کہ بہتان تراشی کرنا اور دوسروں کی عبارات سے کھلواڑکرنااس ٹولے کی عادت بن چکی ہے۔
ندیم ظہیر صاحب نے مذکورہ بات کہہ کرآگے جو کچھ لکھا ہے، وہاں بھی حسب عادت ہاتھ کی صفائی دکھائی ہے۔ نقل فرماتے ہیں:
”سلیمان بن موسی سے سوید کی روایت صحیح ہے، گرچہ یہ متکلم فیہ ہیں“ (چاردن قربانی کی مشروعیت ص١٧) [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٢]
ہماری عبارت کا یہ ایک ٹکڑا پیش کرکے ندیم صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے یہاں پر سوید کو متکلم فیہ کہہ کر اسے ثقہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ ہم نے اسی کتاب میں پوری صراحت کے ساتھ اسے ضعیف کہا ہے اور منقولہ عبارت میں بھی ہم نے اسے ثقہ ظاہر کرکے اس کی روایت کو صحیح نہیں کہا، بلکہ اس کا متابع پیش کرنے کے بعد اس کی روایت کو صحیح کہا ہے ۔ ملاحظہ ہو اس مقام سے ہماری پوری بات:
”سنن دارقطنی وغیرہ میں سلیمان بن موسیٰ سے سوید کی روایت صحیح ہے، گرچہ وہ متکلم فیہ ہیں، کیونکہ بیہقی کی زیربحث روایت میں ابن جریج جیسے بلندپایہ ثقہ امام نے بھی سلیمان سے یہ بات موصولاً بیان کی ہے۔ والحمدللہ.
اسی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ محمدرئیس ندوی رحمہ اللہ آگے فرماتے ہیں:
”جس کا واضح مفاد یہ ہے کہ نافع بن جبیر سے حدیث مذکور کو سلیمان سے نقل کرنے میں امام سعید بن عبدالعزیز کی متابعت ابن جریج نے کررکھی ہے۔“ [غایة التحقیق فی تضحیة ایام التشریق:ص:٨٦] ۔(چاردن قربانی کی مشروعیت ص١٧)
قارئین یہاں غور فرمائیں کہ ندیم ظہیر صاحب نے جو جملہ نقل فرمایا ہے، اس کے فورابعد ہم نے ”کیونکہ“ کہہ کراس بات کی وجہ بتادی ہے کہ سوید کی روایت کیوں صحیح ہے؟اوروہ یہ کہ ابن جریج ثقہ نے سوید کی متابعت کردی ہے۔ یعنی سوید کو متکلم فیہ کہہ کر اسے ثقہ ظاہرکرکے اس کی روایت کو صحیح نہیں کہا گیا، بلکہ اسے متکلم فیہ ضعیف ہی ماناگیا ہے اورثقہ سے اس کی متابعت کی بناپراس کی حدیث کو صحیح کہا گیاہے۔ لیکن ندیم صاحب قارئین پریہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہم نے سوید کو متکلم فیہ کہہ کر اسے ہی ثقہ ومقبول مان لیا ہے ۔ سبحان اللہ!!
متکلم فیہ راوی اور درجہ ثقاہت
ندیم ظہیر صاحب نے اپنے پہلے مضمون میں جارحین کی جرح رد کرنے کا یہ مطلب سمجھ لیا تھا کہ وہ جرح بالکلیہ مردود ہوتی ہے اور راوی کا درجہ ثقاہت طے کرتے وقت بھی اس جرح کا کوئی اعتبار نہیں کیاجاسکتا۔ اس پر ہم نے کہا تھا کہ اگر جرح رد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بالکلیہ ہی رد کردیاجائے توآپ کے استاذممدوح بعض مختلف فیہ راویوں مثلا ابوغالب کو جمہورکے اقوال کی بنیاد پر ثقہ کے بجائے صدوق اور ان کی احادیث کو صحیح کے بجائے حسن کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اگر جروح بالکلیہ ہی رد کی جاتی ہیں تو آخرجمہور کا توثیق یافتہ ایک راوی، ثقہ کے بجائے صدوق کیسے بنتاہے؟ اس کا کوئی جواب ندیم ظہیر صاحب تو نہیں دے سکے ۔البتہ انہوں نے ایک دوسرا اعترض پیش کرتے ہوئے کہا:
”ہماراسوال یہ ہے کہ جب کسی راوی سے متعلق ہربے بنیاد جر ح بالکلیہ مقبول ہوتی ہے توپھرعبدالوہاب الثقفی ثقہ وصحیح الحدیث کے مرتبہ سے گر کر صدوق وحسن الحدیث کیوں نہیں ہوئے ؟اوران کی روایت اعلی درجے کی صحیح کے بجائے حسن کیو ں نہیں ہوئی؟“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٤]
عرض ہے کہ ”بے بنیاد جرح بالکلیہ مقبول ہوتی ہے“ یہ ہم نے ہرگزنہیں کہا، بلکہ آپ ناسمجھی میں جو ہر جرح کوبالکلیہ مردود مان بیٹھے تھے، اسی کی تردید کرتے ہوئے ہم نے آپ کو یہ سمجھا یا تھا کہ توثیق کے مقابلے میں گرچہ کوئی جرح رد کردی جاتی ہے، لیکن راوی کا مرتبہ ثقاہت طے کرتے وقت ایسی جرح کو پیش نظررکھاجاتاہے، پھر اس بات کو ہم نے آپ کے استاذممدوح کے آئینہ میں ثابت کیا تھا کہ وہ بھی ہرجرح کو بالکلیہ مردود قرارنہیں دیتے ۔
اس کے جواب میں آپ کچھ نہیں بول سکے، اس لئے اس کمی کو ”بالکلیہ مقبول“ کی اتہام آمیز تعبیرسے پوری کررہے ہیں ۔
بہرحال آپ کاجویہ سوال ہے کہ ”عبدالوہاب الثقفی ثقہ وصحیح الحدیث کے مرتبہ سے گرکرصدوق وحسن الحدیث کیوں نہیں ہوئے ؟اوران کی روایت اعلی درجے کی صحیح کے بجائے حسن کیو ں نہیں ہوئی ؟“ تو جوابا عرض ہے کہ آپ یہ بھو ل رہے ہیں کہ آپ کے استاذممدوح نے بخاوی ومسلم کے راوی یزیدبن خصیفہ کو بھی مختلف فیہ لکھا ہے (قیام رمضان:ص٦٣) اور انہیں ثقہ مانا ہے، یعنی ان پرکی گئی جرح کو توثیق کے مقابلے میں رد کیا ہے، لیکن پھربھی انہیں ثقہ وصحیح الحدیث ہی ماناہے۔
اب کیا ہم آپ سے آپ ہی کے الفاظ میں پوچھ سکتے ہیں کہ یزیدبن خصیفہ ثقہ وصحیح الحدیث کے مرتبہ سے گرکرصدوق وحسن الحدیث کیوں نہیں ہوئے ؟ اوران کی روایت اعلی درجے کی صحیح کے بجائے حسن کیو ں نہیں ہوئی ؟
دراصل راوی ہرکلام کے سبب ثقہ سے نیچے گرکرصدوق کے درجہ پرنہیں، آتابلکہ کسی کلام سے وہ ثقہ سے نیچے گرکرصدوق کے مقام پر آجاتاہے اور کسی کلام سے وہ ثقہ ہی کے درجہ پر رہتاہے، لیکن ثقاہت میں اس راوی سے کم ترہوتاہے جس پرویساکلام نہ کیا گیا ہو، جیسا اس پر کیاگیاہے۔
ندیم ظہیر صاحب آگے لکھتے ہیں:
”یہ کیسامتکلم فیہ راوی ہے کہ تفرد کی صورت میں بھی ان پر کوئی جر ح نہیں ،چنانچہ امام ذہبی نے فرمایا: ”قلت: الثقف لاینکر لہ اذا تفرد بحدیث“ (میزان الاعتدال ٤/٢١) [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٤]
عرض ہے کہ یہ یزیدبن خصیفہ جیسامتکلم فیہ راوی ہے، جسے آپ کے استاذممدوح نے مختلف فیہ کہا ہے ۔(قیام رمضان:ص٦٣)اس کے تفرد پربھی کوئی جرح نہیں ہوتی، بلکہ اس کا تفرد بھی مقبول ہوتاہے ۔لیکن اگر یزیدبن خصیفہ اپنے سے اوثق محمدبن یوسف کی مخالفت کرے گا تووہاں اس کی بات رد کردی جائے گی۔یہی معاملہ عبدالوہاب الثقفی کا بھی ہے کہ اس کا تفرد بھی مقبول ہے، لیکن اگریہ اپنے سے اوثق کی مخالفت کرے گا تو وہاں اس کی بات رد کر دی جائے گی۔
وضاحت:-
امام ذہبی کے مذکورہ بالا کلام میں تفرد کا مطلب کسی راوی کاایک حدیث کو روایت کرنے میں پورے طورسے منفرد ہونا ہے، یعنی اس حدیث کو سرے سے کوئی دوسرا راوی روایت ہی نہ کرے۔ اور اگرکسی حدیث کوکئی لوگ روایت کر رہے ہوں، لیکن ان میں سے کوئی ایک راوی جماعت کے خلاف کوئی بات بیان کردے تو اسے شاذکہتے ہیں۔ بعض اس پر بھی تفرد کا اطلاق کردیتے ہیں، لیکن امام ذہبی کے مذکورہ بالا کلام میں تفرد اس معنی میں نہیں ہے۔مزید تفصیل کے لئے تفرد سے متعلق اہل فن کی تصریحات دیکھی جائیں ۔
ندیم ظہیرصاحب کو یہ پتا ہی نہیں ہے کہ تفرد کس کس معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ اگر انھیں یہ پتا ہوتا تو یہ بے چارے ،شیخ ابواسحاق الحوینی کے کلام میں امام ذہبی کا یہ قول پڑھ کراسے یہاں نقل نہ کرتے اورامام ذہبی کے اسی قول پر کیا موقوف، یہ بے چارے تو نہ جانے کتنے ائمہ کے اقوال کا ایسا یسامطلب سمجھ بیٹھتے ہیں جو ان ائمہ کے خواب وخیال میں بھی نہیں ہوتا۔
ندیم ظہیر صاحب آگے اپنے عالمانہ جوش میں فرماتے ہیں:
”اگرتسلیم کرلیا جائے کہ عبدالوہاب الثقفی حقیقی متکلم فیہ ہیں تو بھی ان پر کلام کی نوعیت ایسی نہیں کہ ان کا تفرد مخالفت کی صورت میں قبو ل نہ ہو،لہٰذا سنابلی صاحب حدیثِ یزید کی تردید میں جوجال بننے کی کوشش کررہے ہیں اوراس میں پہلا اعتراض ہی عبدالوہاب الثقفی پرجڑدیا ہے تواس بارے میں انہیں علمی میدان میں منہ کی کھانی پڑگے (ان شا ء اللہ)“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٤]
علمی میدان کی بات کرنے والے اپنی اسی بات میں جس بے علمی کا مظاہر ہ کررہے ہیں، اسے اہلِ علم بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔
ندیم صاحب امام ذہبی کا قول (جس میں عبدالوہاب کے تفرد نہ کہ مخالفت کو غیرمنکرقراردیا گیا ہے) نقل کرکے علمی جوش میں یہ بتارہے ہیں کہ ان کا تفرد مخالفت کی صورت میں قبول ہوتاہے۔سبحان اللہ
اللہ کے بندے ! آپ اپنے کلام میں جس بات کے لئے تفرد کا لفظ استعمال کررہے ہیں، وہ اصل میں شذوذہے، کیونکہ مخالفت والے معاملے میں آپ نے اس کا استعمال کیا ہے اور امام ذہبی نے تفرد کا جو لفظ استعمال کیا ہے، اس کا بالکل علاحدہ مفہوم ہے، جس کی وضاحت اوپرکی جاچکی ہے۔ اس لئے علمی جوش کا مظاہر ہ کرنے سے بہترہے کہ اصولِ حدیث کے کسی طالب علم کے پاس بیٹھ کر امام ذہبی کے مذکورہ بالا قول کا مفہوم سمجھ لیں۔
یادرہے کہ ثقہ متکلم فیہ ہی نہیں بلکہ کوئی ثقہ غیر متکلم فیہ بھی اگراپنے سے اوثق کی مخالفت کرتاہے تو اس کی بات بھی بعض حالات میں رد کردی جاتی ہے ، اسے خوب سمجھ لیں۔
آگے ندیم ظہیر صاحب نے بڑی ڈھٹائی کامظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور خیانت کی اور یہ فرمایا:
”موصوف نے متکلم فیہ کی اصطلاح کو اپنے مشکل وقت کا سہاراسمجھ رکھا ہے ،بالکل اسی طرح جس طرح جناب ظفراحمد تھانوی دیوبندی نے ”مختلف فیہ“ کو سمجھ رکھا تھا“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٥]
اس کے بعد ندیم ظہیر صاحب نے تھانوی صاحب کی تردید میں شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی بعض عبارات پیش کی ہیں۔
عرض ہے کہ یہ ندیم ظہیر صاحب کی اسی طرح کی خیانت اور دھوکا دہی ہے، جس طرح کی خیانت اور دھوکا دہی بریلوی حضرات کیا کرتے ہیں، کیونکہ ظفراحمد تھانوی صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جس ضعیف راوی کی حدیث کو حسن قراردینا چاہتے ہیں، وہاں یہ اصول لے آتے ہیں کہ جس راوی کی توثیق و تضعیف میں اختلاف ہو، وہ راوی حسن الحدیث ہوتا ہے اور اس کی روایت حسن ہوتی ہے۔
شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے ان کے اسی اصول پر رد کیا ہے، جو بالکل بجاہے، لیکن ندیم ظہیر صاحب نے اپنی خاص عادت کے تحت شیخ اثری حفظہ اللہ کی عبارات سے صرف چند الفاظ اس طرح نقل کئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ کسی راوی کو ”مختلف فیہ“ کہنے ہی پررد کررہے ہیں۔ اس لئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ للہ کی پوری عبارت نقل کردی جائے، جس سے ایک طرف یہ بات صاف ہوجائے کہ شیخ اثری حفظہ اللہ نے کس چیز پررد کیا اوردوسری طرف ندیم ظہیر صاحب کی معروف ”عادتِ شریفہ“ پر مزید شواہد بھی سامنے آجائیں گے ۔
ندیم صاحب شیخ اثری حفظہ اللہ کے الفاظ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”فن رجال سے معمولی شدبدرکھنے والاطالب علم بھی جانتاہے کہ شاید کوئی بھی ثقہ راوی ایسانہ ہو، جس پرجر ح نہ کی گئی ہو یا کوئی ایسا ضعیف نہ ہو، جس کو کسی ایک نے بھی ثقہ نہ کہا ہو۔یوں کیا تمام کو ”مختلف فیہ“ قراردے دیا جائے گا“ (اعلاء السنن فی المیزا ن ص٢٤٥) [الحدیث نمبر ( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٥]
اب شیخ اثری حفظہ اللہ کی پوری بات ملاحظہ ہو:
”مولانا صاحب نے ابواب الاستنجاء کے تحت طبرانی اوسط سے حضر ت عمررضی اللہ عنہ کا اثر نقل کیا، جس کے بار ے میں علامہ ہیثمی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ اس میں ”روح بن جناح“ ضعیف ہے ۔مگرخود ان کا فیصلہ ہے ”ھو مختلف فیہ وثقہ دحیم فالحدیث حسن“ ۔ حالانکہ سوائے امام دحیم کے باقی سب ائمہ جرح وتعدیل نے اس کو ضعیف کہا ہے حتی کہ امام ابن حبان نے اسے وضع احادیث سے متہم قراردیاہے ۔حافظ ابن حجررحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں : ”ضعیف اتھمہ ابن حبان“ ۔امام ابن عدی نے الکامل میں اورحافظ ذہبی رحمہ اللہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے اسی اثر کو نقل کرکے اس کے منکر ہونے کا اشارہ کیا ہے۔
مگرغورفرمایا آپ نے کہ صرف امام دحیم رحمہ اللہ کی توثیق پر وہ ”مختلف فیہ“ اوراس کی حدیث حسن ہے ۔یہ ہیں اس اصول کے برگ وبار،حالانکہ فن رجال سے معمولی شدبدرکھنے والاطالب علم بھی جانتاہے کہ شاید کوئی بھی ثقہ راوی ایسانہ ہو جس پرجر ح نہ کی گئی ہو یا کوئی ایسا ضعیف نہ ہو جس کو کسی ایک نے بھی ثقہ نہ کہا ہو۔یوں کیا تمام کو ”مختلف فیہ“ قراردے دیا جائے گا؟“ [ دیکھئے: اعلاء السنن فی المیزا ن ص٢٤٥]
شیخ اثری حفظہ اللہ کے اس پورے کلام کو پڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ تھانوی صاحب کے اس اصول کی تردید کررہے ہیں کہ جس راوی کو ثقہ اورضعیف کہنے میں اختلاف ہو، وہ صدوق اور حسن الحدیث ہوتاہے۔ اس اصول کے تحت تھانوی صاحب ایک ضعیف راوی کو مختلف فیہ کہہ کر اسے علی الاطلاق صدوق اورحسن الحدیث کا درجہ دے دیتے ہیں۔ اگلے مکمل اقتباس میں یہ بات اور وضاحت کے ساتھ آرہی ہے۔
لیکن حدیث یزید سے متعلق میرے کلام میں متکلم فیہ کہنے کا مطلب کسی ضعیف راوی کو صدوق وحسن الحدیث بنانا سرے سے ہے ہی نہیں، بلکہ دو ثقہ راوی جب ایک دوسرے کے خلاف روایت کریں تو صرف مخالفت کی اس صورت میں ترجیح کے لئے ہم دیکھتے ہیں کہ کون متکلم فیہ ہے اور کتنا متکلم فیہ؟ تاکہ یہ پتا لگایاجائے کہ دونوں ثقہ راویوں میں سے کون دوسرے کی نسبت اوثق ہے؟ پھر تمام قرائن کی روشنی میں اوثق کے خلاف ثقہ کی مخالفت کورد کردیا جائے، جیساکہ اصولِ حدیث کا قاعدہ ہے ۔
نیزاس معاملے میں ہم کسی ثقہ راوی کے ساتھ متکلم فیہ کی بحث صرف اسی وقت کرتے ہیں، جب وہ دوسرے ثقہ راوی کی مخالفت کررہاہو، لیکن اگر کوئی ثقہ راوی کسی دوسرے ثقہ کی مخالفت نہیں کرتا تو وہاں ہم صرف اسے ثقہ ہی کہتے ہیں، وہاں ہم اس کے متکلم فیہ ہونے پر بحث نہیں کرتے ۔
اب انصاف کرنے والے انصاف کریں کہ کہاں ہماری یہ بات اور کہاں تھانوی صاحب کا یہ اصول کہ جس راوی کے ثقہ وضعیف ہونے میں اختلاف ہو، اسے مختلف فیہ کہہ کرحسن الحدیث بنا لیا جائے ؟ بھلااس تھانوی اصول سے ہماری بات کی کیا نسبت ؟
ندیم صاحب شیخ اثری حفظہ اللہ کی کتاب سے دوسرا اقتباس لیتے ہوئے لکھتے ہیں:
”مولانا عثمانی نے اس اصو ل کو اعلاء السنن میں جابجااختیارکیا اوراکثروبیشتراس سے اپنی موید روایات کو سہارا دیا۔“ (أیضا ص٢٣٨) [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٥]
اب شیخ اثری حفظہ اللہ کی پوری بات ماقبل کے سیاق وسباق کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں:
”جس راوی کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل کی آرامختلف ہوں، بعض نے ثقہ وصدوق اوردوسروں نے متروک وضعیف کہا ہو تو ایسے راوی کو حضرت موصوف صدوق اوراس کی حدیث حسن قراردیتے ہیں ۔۔۔ان کا یہ اصول وضابطہ کوئی درست ضابطہ نہیں ہے ۔صحیح بات وہی ہے جو عموماائمہ فن نے اختیارکی ہے کہ راوی کے ”مختلف فیہ” ہونے میں قرائن کی بناپر توثیق کو اورکبھی جر ح کو راجح قراردیاجاتاہے۔۔۔اس لئے مختلف فیہ راوی کو صدوق اوراس کی روایت کو حسن قراردیناجہابذہ محدثین کا موقف نہیں ہے ۔۔۔کتبِ جرح تعدیل سے ادنی واقفیت رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ بہت کم ثقہ ایسے ہیں جن پر جرح کا کوئی کلمہ نہ ہو،اسی طرح بہت کم ضعیف راوی ہیں جن کو کسی نے بھی ثقہ نہ کہا ہو۔تو کیا ایسے تمام راویوں کو صدوق اوران کی احادیث کو حسن قراردے دیا جائے؟ ”مولانا عثمانی نے اس اصو ل کو اعلاء السنن میں جابجااختیارکیا اوراکثروبیشتراس سے اپنی موید روایات کوسہارادیا۔“ (دیکھئے: اعلاء السنن فی المیزا ن ص٢٣٨)
ندیم صاحب کی نقل کردہ بات کو ماقبل کے سیاق کے ساتھ دیکھیں تو بات کس قدر واضح ہے کہ یہاں تھانوی صاحب کے اس اصول کی تردید کی جارہی ہے کہ مختلف فیہ راوی صدوق اورحسن الحدیث ہوتاہے۔یہی حال دیگر اقتباسات کا بھی ہے ،کوئی بھی کتاب اٹھاکردیکھ لے۔
آخر میں عرض ہے کہ خود حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے بھی ٹھیک تھانوی صاحب کے الفاظ ”مختلف فیہ“ کا استعمال یزیدبن خصیفہ کے بارے میں کیا ہے۔ (قیامِ رمضان:ص٦٣)
اسی طرح صحیح بخاری کے ایک اور راوی ”علی بن الجعد“ کے بارے میں حافظ زبیرعلی زئی صاحب فرماتے ہیں:
”اگرکوئی کہے کہ آپ نے بھی صحیح بخاری کے راوی علی بن الجعد پر جرح کی ہے توعرض ہے کہ میں نے علی بن الجعد کو ضعیف نہیں کہا، بلکہ لکھا ہے: ”علی بن الجعد مختلف فیہ راوی ہے، جمہور نے اس کی توثیق کی ہے مگر۔۔۔“ ( اوکاڑوی کاتعاقب ص٦٥) اورلکھا ہے : ”گرچہ وہ ثقہ وصدوق ہے ،لیکن سخت بدعتی بھی ہے،ایسے راوی کی روایت اگربالاتفاق ثقہ راویوں کے خلاف ہو تومردود ہوگی ۔۔۔“ (اوکاڑوی کاتعاقب ٦٧)یعنی میں نے علی بن الجعد کو ثقہ وصدوق تسلیم کیا ہے اوران کی صرف ایک روایت کو شذوذ(امام مالک کی مخالفت)کی وجہ سے شاذقراردیا ہے“ [ مقالات٤ /٤٨٠]
کیاخیال ہے ؟ندیم ظہیر صاحب کے الفاظ میں کہہ دیاجائے کہ زبیرعلی زئی صاحب نے ”مختلف فیہ“ کی اصطلاح کو اپنے مشکل وقت کا سہاراسمجھ رکھا ہے ،بالکل اسی طرح جس طرح جناب ظفراحمد تھانوی دیوبندی نے ”مختلف فیہ“کو سمجھ رکھا تھا!
ندیم صاحب کامکرر دو رخی ڈبہ
ندیم صاحب نے پھر دوبارہ اپنا وہی ڈبہ پیش کر دیا ہے کہ جس کے تعلق سے ہم لکھ چکے تھے:
(((ابن سعد کی جرح سے متعلق ندیم صاحب نے میرے لیے جو دورخی ڈبہ بنانے کی کوشش کی ہے وہ کچھ یوں ہے:
پہلا رخ:-عبدالوہاب ثقفی کو ابن سعد نے ”فيه ضعف“ کہا، اس لیے ہم نے اسے ”متکلم فیہ“ کہا۔
دوسرارخ:- ابن سعد نے ایک دوسرے راوی پرجرح کی تو ہم نے کہا کہ ابن سعد جرح میں منفرد ہوں تو ان کی جرح قبول نہیں ہوتی۔
اللہ کے بندے!
کیا اس دوسرے راوی کے بارے میں ہم نے یہ کہا ہے کہ یہ ”متکلم فیہ“ نہیں ہے؟ ؟؟
ہم نے یہ کہا ہے کہ ان کے بارے میں ابن سعد کی جرح یعنی ان کا کلام قبول نہیں ہے، لیکن اس کا یہ مطلب کیسے ہو گیا کہ ابن سعد نے ان پرکلام کیا ہی نہیں؟ یعنی یہ ”متکلم فیہ“ بھی نہیں ہیں؟؟؟
اگرایسے ہی دو رُخی ڈبہ بناناہو تواپنے استاذممدوح کے گھرکایہ دو رُخی ڈبہ ملاحظہ کریں:
● پہلارخ:-
زبیرعلی زئی صاحب امام بزار رحمہ اللہ پربعض ناقدین کی جرح نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
”بزاربذات خود متکلم فیہ ہیں۔“ (فتاوی علمیة: ج١ص١٢١ ، مجلہ اشاعة الحدیث نمبر٢٣ ص٢٨)
● دوسرارخ:-
جس طرح ہم نے عبدالوہاب ثقفی کو متکلم فیہ ماننے کے ساتھ ثقہ ہی تسلیم کیا ہے، اسی طرح زبیرعلی زئی صاحب نے بھی بزار کو متکلم فیہ ماننے کے ساتھ ثقہ ہی تسلیم کیا۔ (دیکھئے: نورالعینین:ص٤١٨، مقالات ج٣ص١٣٩)
جس راوی سے متعلق جرح وتوثیق دونوں ہوں وہ زبیرعلی زئی صاحب کے نزدیک ثقہ تب مانا جاتا ہے، جب جمہورسے اس کی توثیق ثابت ہو،جس کا مطلب یہ ہواکہ جمہورنے امام بزار کی توثیق کی ہے اور جمہورکے خلاف جرح کے بارے میں زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”جمہورمحدثین کے مقابلے میں بعض محدثین کی جرح وتعدیل مرجوح ومردودہوتی ہے۔“ (مقالات ج١ص٥٣١)
سوال یہ ہے کہ جب جمہورکی توثیق کے مقابلے میں بعض محدثین کی جرح قبول ہی نہیں، بلکہ مردود ہوتی ہے تو پھر امام بزار آپ کے استاذممدوح کی نظر میں ”متکلم فیہ“ کیسے بن گئے؟؟
تبصرہ بر تبصرہ:-
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”سنابلی صاحب کے اپنے پسندیدہ راوی پرامام ابن سعد کی جرح غیرمقبول اوران کے موقف کے خلاف روایت کرنے والے راوی پرابن سعدرحمہ اللہ کی جرح مقبول ۔آہ!“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٣)
واہ ! اب ہماری سنو:
زبیرعلی زئی صاحب کے اپنے پسندیدہ راوی پربعض محدثین کی جرح مردود اور ان کے موقف کے خلاف روایت کرنے والے راوی بلکہ امام اورمحدث بزارپربعض محدثین کی جرح مقبول ۔واہ !
ندیم صاحب مزید لکھتے ہیں:
”عرض یہ ہے کہ جب امام ابن سعد رحمہ اللہ کی جرح تفرد کی صورت میں قبول ہی نہیں توپھرعبدالوہاب ثقفی متکلم فیہ کس طرح بن گئے؟“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٣٣)
ہم بھی آپ ہی کے الفاظ میں پوچھتے ہیں:عرض یہ ہے کہ جب جمہورکے خلاف بعض محدثین کی جرح مردود یعنی قبول ہی نہیں توپھرامام بزار ”متکلم فیہ“ کس طرح بن گئے؟!!)))
(دیکھئے ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کاجائزہ، حصہ دوم:ص٢،٣)
ہمارے اس جوا ب پر ندیم ظہیر صاحب کوئی صفائی نہیں دے سکے، بلکہ اپنی ہی بات دوسرے الفاظ میں دہراتے ہوئے کہا:
”اس سلسلے میں ہمارابنیادی اعتراض یہ تھا کہ ایک جگہ اپنے خلاف آنے والی امام ابن سعد کی منفردجرح کو رد کررہے ہیں تو دوسری جگہ اپنے حق میں پیش کررہے ہیں ،آخرکیوں ؟“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٦]
عرض ہے کہ راوی کی توثیق کے مقابلے میں ہم نے دونوں جگہ ابن سعد کی جرح کو رد کیا ہے، یعنی ابن سعد کی جرح کی بنیاد پر دونوں راویوں میں سے کسی کو بھی ضعیف نہیں کہا ہے۔ البتہ ان دونوں راویوں کے درجہ ثقاہت طے کرنے میں ہم ابن سعد کی جرح کو پیش نظر رکھتے ہیں اوردونوں راویوں سے متعلق پیش نظررکھتے ہیں، ابن سعد کی اس جرح کی وجہ سے یہ دونوں راوی ثقاہت میں اس راوی کے مقام پر نہیں ہوں گے، جس پر ایسی کوئی جرح نہیں ہے۔
اب بتلائیں یہاں تضاد اوردورخی بات کہاں ہے ؟ مزید وضاحت پچھلی تحریر میں ہوچکی ہے ۔
ندیم ظہیر صاحب آگے فرماتے ہیں:
”ہمارے استاذمحترم نے جن راویوں کو متکلم فیہ کہا ہے تو محدثین کی جروح کی بناپر ان کا مرتبہ ثقاہت بھی بیان کردیا ہے ،مثلا :سنابلی صاحب ہی کے ذکرکردہ راوی ابوغالب ،عبیداللہ بن عمرواورامام بزار وغیرہ۔ان سب کو صدوق وحسن الحدیث قراردیا اوراس میں نہ کوئی دورائے ہے اورنہ کوئی مفاد ہی مقصود ہے، لہٰذا اس سلسلے میں شیخ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ کو بطور مثال پیش کرنا قطعامفید نہیں۔“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٦]
جناب! یہ بات ہم نے یہ بتانے کے لئے کہی تھی کہ توثیق کے مقابلے میں گرچہ جروح رد کی جاتی ہیں، لیکن راوی کا مرتبہ ثقاہت بتانے کے لئے ان جروح کو پیش نظررکھاجاتاہے۔ آپ کااعتراض یہ تھا کہ جب ابن سعد کی منفرد جرح رد ہوتی ہے تو عبدالوہاب متکلم فیہ کیسے بن گئے ؟ تو ہم نے آپ کے استاذ کا آئینہ دکھایا کہ وہ کس طرح جروح کورد کرنے کے بعد بھی انہیں جروح کے پیش نظر راوی کو متکلم فیہ کہتے ہیں۔اب آپ کا اعتراض خودآپ کے استاذممدوح پربھی واردہوگیا۔ آپ اپنے استاذپر وارد اپنے ہی اعتراض کو رفع نہ کرسکے، بلکہ ٹھیک یہی بتانے بیٹھ گئے کہ آپ کے استاذ نے محدثین کی جروح کی بناپر راویوں کا مرتبہ ثقاہت بھی بیان کردیا ہے۔
حضرت ! پھراس بات کا جواب کون دے گاکہ جب جمہور کے مقابلے میں جروح مردودہوتی ہیں تو انہیں مردود جروح کی بناپر کوئی راوی متکلم فیہ کیسے بن گیا؟ آپ کے دورخی ڈبے سے تو یہ دورائے بن گئی !
ندیم ظہیر صاحب آگے فرماتے ہیں:
”نیزمحدث العصررحمہ اللہ نے عبدالوہاب ثقفی جیسے راوی کو ایسی بے بنیاد جرح کی وجہ سے کبھی متکلم فیہ نہیں کہا، باوجود یہ کہ بہت سے جلیل القدرراویوں پر اس قسم کا کلام موجودہے“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٧]
اچھا!
کیا بخاری ومسلم سمیت کتب ستہ کے جلیل القدر راوی یزیدبن خصیفہ کے بارے میںآ پ کے محدث العصر نے ”مختلف فیہ“ نہیں کہا ؟ ذرا اپنے محدث العصر کی کتاب ”قیام رمضان“ کا صفحہ نمبر (٦٣) اٹھاکردیکھئے۔ وہاں آپ کے محدث العصر بخاری ومسلم سمیت کتب ستہ کے جلیل القدر راوی ”یزیدبن خصیفہ“ کو ”مختلف فیہ“ لکھ رہے ہیں ۔
ندیم ظہیر صاحب کہتے ہیں:
”اس کے برعکس سنابلی صاحب نے عبدالوہاب ثقفی کا کون سامرتبہ متعین کیا ہے؟“ [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٧]
مجھ سے یہ سوال کرنے سے پہلے اپنے استادِ مرحوم کے اصول کے مطابق یہ بتائیے کہ انہوں نے ”یزیدبن خصیفہ“ کو ”مختلف فیہ“ کہہ کران کا کون سا مرتبہ متعین کیاہے؟
حضرت! بات واضح ہے کہ جس طرح آپ کے استاذمرحوم نے ”یزیدبن خصیفہ“ کو ”مختلف فیہ“ کہہ کر بھی ان کے لئے ثقہ ہی کا مرتبہ متعین کیا ہے، لیکن محمدبن یوسف کے مقابلے میں انہیں کم درجے کا ثقہ بتلانا چاہاہے۔ ٹھیک اسی طرح ہم نے بھی عبدالوہاب ثقفی کو متکلم فیہ کہہ کربھی ان کے لئے ثقہ ہی کا مرتبہ متعین کیا ہے، لیکن ان رواة کے مقابلے میں انہیں کم درجے کا ثقہ بتلایا ہے، جن پر ایسا کوئی کلام نہیں ہے۔
ندیم ظہیر صاحب آگے لکھتے ہیں:
”١۔ کیا عبدالوہاب الثقفی اس کے بعد ”اعلی درجے کی صحیح“ سے حسن درجے کی روایت بیان کرنے والے ہوگئے ہیں؟
٢۔کیااس جرح کی بناپروہ ثقہ سے ”صدوق“ کے درجے پرآگئے ہیں؟
٣۔کیا اب ان کی روایت تفرد کی صورت میں منکرہوگی ؟“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٧]
عرض ہے کہ آپ کے استاذمرحوم نے ”یزیدبن خصیفہ“ کو جو ”مختلف فیہ“ کہا ہے، اس پر بھی ٹھیک یہی سوالات وارد ہوتے ہیں:
١۔ کیا یزیدبن خصیفہ اس کے بعد ”اعلی درجے کی صحیح“ سے حسن درجے کی روایت بیان کرنے والے ہوگئے ہیں؟
٢۔کیااس جرح کی بناپروہ ثقہ سے ”صدوق“ کے درجے پرآگئے ہیں؟
٣۔کیا اب ان کی روایت تفرد کی صورت میں منکرہوگی ؟
کیاخیال ہے ان سوالات کے جوابات کیا ہوں گے ؟ جو بھی جواب ہوں، وہی ہماری طرف سے بھی سمجھ لیں۔
اس کے بعد آپ نے جو بھی کہا ہے، وہ سب الٹ کر آپ کے استاذمرحوم پر ہی جارہا ہے اورآپ کے دورخی ڈبے میںانہیں کا چہر ہ نظرآرہاہے۔ اس لئے اپنے استاذممدوح کے چہرے سے اس دورخی گرد کو صاف کریں ۔ہمارا معاملہ خود بخود صاف ہوجائے گا۔
معاذبن معاذ پرامام احمد کاکلام
اس عنوان کے تحت ندیم ظہیر صاحب نے پھر وہی باتیں دہرائی ہیں، جن کا مفصل جواب ہم گذشتہ تحریر میں دے چکے ہیں،قارئین مراجعت فرمائیں۔
ندیم ظہیر صاحب فرماتے ہیں:
”فی حدیثہ شیئ“ علمائے محققین کے نزدیک جرح ہے“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٨]
اللہ کے بندے ! ہمیں کب اس سے انکارہے؟ لیکن ہرجگہ اس سے جرح ہی مراد ہو،یہ لازم تو نہیں ۔بالخصوص جب کہ سیاق وسباق اسی بات پردلالت کرے کہ یہ جرح نہیں ہے۔ مفصل وضاحت گذشتہ تحریر میں کی جاچکی ہے۔
اورہم نے جہاں اس کا ترجمہ محل نظر سے کیا ہے، اس کے متعلق گذشتہ تحریر میں وضاحت کردی ہے کہ خودامام احمد کے دوسرے قول سے اس کی تشریح ہوجاتی ہے اور جہاں ہم اسے جرح نہیں مانتے، وہاں بھی بتادیا ہے کہ سیاق کے لحاظ سے اس کی گنجائش نہیں، نیز دوسرے مقام پر خود امام احمد نے ایسے راوی کی اعلی صیغے سے توثیق کی ہے ۔
آگے ندیم ظہیر صاحب نے کچھ محدثین کے اقوال نقل کرکے یہ سمجھایا ہے کہ محدثین ”فی حدیثہ شیئ“ بول کرجرح کرتے ہیں ۔ بھلا ہمیں کب اس سے انکارہے؟ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اس جگہ بھی اس کا یہی مفہوم لے لیا جائے جہا ں نہ سیاق اس کا ساتھ دیتا ہو نہ ہی قائل کے دوسرے اقوال سے اس کی تائید ہوتی ہو ۔
بطور مثال عرض ہے کہ محدثین ”ثقہ“ بول کر عام طور سے عدالت و ضبط کے اعتبار سے ثقہ بتلاتے ہیں، لیکن بعض محدثین کبھی کبھی محض دین داری بتانے کے لے ثقہ بول دیتے ہیں اور سیاق اورقائل کے دوسرے اقوال سے پتا چلتاہے کہ یہاں ثقہ سے محض دین داری بتلانا مقصود ہے تو کیا ندیم ظہیر صاحب کے اصول سے سیاق اور قائل کے دیگراقوال سے آنکھیں بند کرکے یہ کہاجائے کہ ایسے مواقع پر بھی ثقہ کا معنی عدالت وضبط دونوں لحاظ سے توثیق ہے؟
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”امام احمد کا یہاں مقصود کتابت کی کیفیت بتانا نہیں بلکہ اپنے تبصرے ”فی حدیثہ شیئ” وغیرہ کا پس منظربتاناہے“ [الحدیث نمبر ( ١٣٥، ١٣٦ ) ص٣٩]
عرض ہے کہ اس کے پس منظر میں کتابت کی کیفیت ہی کا تو بیان ہے ، اس لئے یہ تبصرہ بھی کتابت ہی سے متعلق ہے۔
ندیم ظہیر صاحب آگے لکھتے ہیں:
”وکان فی حدیثہ بعض ترک الأخباروالألفاظ” منہج ہے یاجرح؟اگرکوئی راوی اپنے حافظے سے لکھے اور اس کے لکھے ہوئے میں اخبار والفاظ کا ترک ہوتو کیا محدثین کے یہاں یہ پسندیدہ امرہے؟کیا محدثین اسے بطور خوبی بیان کرتے ہیں یابطورخامی؟یقینا بطور خامی بیان کرتے ہیں اور یہ خامی ہی جرح کہلاتی ہے“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٩،٤٠]
ہرخامی جرح نہیں کہلاتی ، اصل جرح صرف دو لحاظ سے ہوتی ہے: عدالت کے لحاظ سے یا حفظ کے لحاظ سے۔
اس کے علاوہ راوی میں کچھ اورچیزوں کو بھی عیب مانا جاتا ہے، لیکن اسے جرح نہیں گرداناجاتا، مثلا :
◈ مجہولین سے روایت بیان کرنا
مجہولین سے روایات بیان کرنا بالخصوص منکر روایات بیان کرنا یہ بھی عیب ہے ، لیکن کوئی راوی مجہولین سے روایت کرے یا کسی راوی کے بارے میں یہ کہاجائے کہ وہ مجہولین سے روایت بیان کرتاہے تو اسے جرح نہیں ماناجاتا ۔ امام حاکم(المتوفی ٤٠٥) اس چیز کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
« وربما توہم طالب ہذا العلم أنہ بجرح فیہ ولیس کذلک » (معرفة علوم الحدیث للحاکم ص١٦٤)
”اوربسااوقات علم حدیث کاطالب علم اس غلط فہمی میں پڑسکتاہے کہ یہ (یعنی مجہول سے روایت کرنا)راوی کے اندر جرح ہے ،لیکن ایسامعاملہ نہیں ہے۔“
مزیدتفصیل کے لئے ”انوارالبدر فی وضع الیدین علی الصدر” (ص: ٣٥٧تا٣٥٨) دیکھیں۔
◈ مرسل روایت بیان کرنا
کسی راوی کا ارسال کرنا اورمرسل حدیث بیان کرنا ، یہ بھی کوئی پسندیدہ امر نہیں ہے ، لیکن کیا جس راوی کے بارے میں کسی نے یہ کہہ دیا کہ وہ مرسل حدیث بیان کرتاہے، اسے ہم جرح مان لیں؟
◈ تدلیس کرنا
اسی طرح تدلیس کا مسئلہ ہے۔ تدلیس کرنا بھی ایک طر ح کا عیب ہے، لیکن قول راجح میں تدلیس بھی کوئی جرح نہیں ہے ۔
حافظ عبدالرؤف المناوی ، امام ابن حجرکی اصولِ حدیث والی کتاب کی شرح میں لکھتے ہیں:
« والذی علیہ أہل الأصول أن التدلیس فی الأسانید لیس بجرح مطلقا »
”اہلِ اصول جس بات پرہیں وہ یہ کہ اسانید میں تدلیس کوئی جرح نہیں ہے“ (الیواقیت والدرر شرح شرح نخبة الفکر٢/١٩)
معلوم ہوا کہ راوی پرہر عیب جرح شمارنہیں ہوتا، اس لئے ندیم صاحب کا یہ فرمانا کہ خامی ہی جرح کہلاتی ہے ،بالکل غلط ہے۔
لہٰذا کسی راوی کا بعض اخبار والفاظ کوترک کرکے لکھنا گرچہ معیوب بات ہے، لیکن یہ جرح کسی صورت میں نہیں ہے اورحافظہ پر جرح تو بالکل ہی نہیں، چونکہ ہماری بحث حافظہ پرجرح ہی سے متعلق ہے، اس لئے اس طرح کی باتوں کی بناپر کسی کو ”متکلم فیہ“ نہیں کہاجاسکتا۔
ندیم ظہیر صاحب آگے لکھتے ہیں:
”گوشے میں بیٹھ کرلکھنابھی کوئی جرح نہیں ہے ،کیونکہ اگریہ جرح ہوتی توامام احمدرحمہ اللہ اس بناپرخالد کوبھی مجروح قراردیتے ،لیکن ایسا نہیں ہے“ [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤٠]
گوشے میں بیٹھ کرلکھنے کو کس نے جرح قراردیا ؟امام احمد رحمہ اللہ جائے کتابت بتلارہے ہیں، یہاں جرح کی بات کون کررہاہے ؟
ندیم ظہیر صاحب آگے لکھتے ہیں:
”ظاہرہے خالد اور معاذبن معاذ نے اپنے اپنے حافظے سے احادیث لکھیں ،ان دونوں میں سے جس میں بھی انہوں نے کوئی علت محسوس کی اسی سے متعلق” فی حدیثہ شیء ” لکھ دیا۔“ [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤٠]
تیسرے راوی کو کیوں بھول گئے ؟ ان کے بارے میں بھی امام احمد نے تو کچھ کہا ہے اور اوپر بتایاجاچکاہے کہ ان کے بارے میں امام احمد کی بات حافظے یاعدالت پر کوئی جرح نہیں ہے ۔اسی سیاق میں امام احمد نے معاذ کے بارے میں بھی بات کی ہے ،لہٰذا یہ بھی حافظے یا عدالت پر جرح نہیں ہے ۔ہم نے جو پہلے لکھا تھا۔اسے بھی دیکھیں:
”اس پورے سیاق سے صاف ظاہرہورہاہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے ان تینوں محدثین کی ذات یاحفظ یاان کی احادیث پرکوئی جرح نہیں کی ہے، بلکہ ان تینوں محدثین کا اپنے استاذامام شعبہ سے سنی ہوئی احادیث لکھنے کا جو منہج و طریقہ تھا، اس کی وضاحت کی ہے۔ نیز معاذ کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ نے پہلے یہ صراحت کردی ہے کہ وہ حفظ شدہ چیزیں لکھتے تھے۔ اس کے بعد کہا ہے کہ ان کی حدیث میں کچھ تھا۔ یہ سیاق صاف دلالت کرتاہے کہ ”یہ کچھ“ ان کے حافظہ پر جرح قطعا نہیں ہے، بلکہ جو کچھ بھی ہے ان کی کتابتِ حدیث کے منہج سے تعلق رکھتا ہے۔ جس طرح ٹھیک اس سے پہلے یحییٰ القطان کے بارے میں بھی کہا کہ وہ حفظ كرلیتے تھے اورگھرجاکرلکھتے تھے، پھرکہا کہ ان کی حدیث میں بعض اخبار اوربعض الفاظ کا ترک ہوتا تھا۔
ندیم صاحب! کم سے کم اس بات پرہی غورکریں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے ان تینوں کے بارے میں یہ وضاحت کی ہے کہ وہ مجلسِ سماع کے بعد ہی اپنی احادیث کو لکھ لیتے تھے، بلکہ معاذ کے بارے میں تویہ صراحت کی ہے کہ وہ سماع سے فارغ ہونے کے بعد اسی مقام پرکسی جانب بیٹھ کراپنی احادیث لکھ لیتے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ جو راوی مجلسِ سماع ہی میں سماع کے بعد فوراً سنی ہوئی احادیث لکھ لے، بھلا اس کے حافظے پرجرح کی کیا گنجایش نکل سکتی ہے؟ اور راوی بھی کوئی معمولی راوی نہیں، بلکہ ایسا راوی جس کے حفظ و اِتقان کے اعتراف پر تمام ائمہ متفق اللسان ہیں۔“ [دیکھئے دوسری تحریر کا جواب : حصہ دوم]
بلکہ خود امام احمد رحمہ اللہ نے بھی دوسرے مقامات پر معاذ کی اعلی صیغہ کے ساتھ توثیق کررکھی ہے۔
ندیم ظہیر صاحب آگے لکھتے ہیں:
”اگربزعم سنابلی یہ اسلوب منہج کا حصہ ہوتا توخالد کے تذکرے کے بعدبھی ”فی حدیثہ شیء“ کا اظہارفرماتے ،لیکن ایسانہیں ہے ،کیونکہ یہ جرح ہے جسے سنابلی صاحب زبردستی اسلوب وکیفیت کانام دینے کی کوشش میں ہیں“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤٠]
عرض ہے کہ اگریہ حافظے یا عدالت پر جرح ہوتی تو امام احمد تیسرے راوی ”یحییٰ بن سعید القطان” پربھی حافظے یا عدالت کے لحاظ سے جرح کرتے ،لیکن ایسانہیں ہے ۔ اوپربتایاجاچکا ہے کہ یہ حافظے یا عدالت پرکوئی جرح نہیں ہے۔ لہٰذا معاذکے بارے میں بھی امام احمد کی بات حافظے یاعدالت پر جرح نہیں ہے، بلکہ شعبہ سے احادیث لکھنے کے طریقہ کا بیان ہے اور طریقہ کتابت کا بیان خالد کے بارے میں بھی ہے کہ وہ بھی شعبہ سے سنی ہوئی احادیث لکھ لیتے تھے، نیزیہ بھی بتایاکہ اسی مجلس میں لکھ لیتے تھے ۔ یعنی تینوں کے طریقۂ کتابت پربات ہے اور دوکے بارے میں منہجِ کتابت کی بات بھی ہے، یہاں جرح کا کوئی نام ونشان نہیں ہے ۔بس ندیم صاحب زبردستی یہاں اپنا اُلو سیدھاکرنے کی کوشش میں ہیں۔
ندیم ظہیر صاحب آگے لکھتے ہیں:
”یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ توثیق کے بعد جرح نہیں ہوسکتی ۔اگرایساہی ہے توامام ابن سعد نے بھی تو عبدالوہاب ثقفی کو مطلق ثقہ قراردینے کے بعدہی ”فیہ ضعف” کہا ہے ۔دوسرا یہ کہ معاذبن معاذامام احمد کے نزدیک ضعیف تو نہیں کہ ہرجگہ جرح ہی کرتے بلکہ ”فی حدیثہ شی ئ” کے باوجودبھی وہ ثقہ ہی ہیں ،لیکن سنابلی صاحب کے اصول کے مطابق متکلم فیہ ہیں“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤٠،٤١]
دیکھئے! بات کوکیسے گھمادیا گیا ؟!
حضرت! یہ کس نے کہا کہ توثیق کے بعد جرح نہیں ہوسکتی ، لیکن کیا توثیق کے بعد ایسی جرح ہوسکتی ہے، جو توثیق والے صیغے کے منافی ہو ؟
ابن سعد نے ”ثقہ“ کے صیغے کے بعد جو ”فیہ ضعف“ کہا ہے تو یہ جرح ان کے صیغہ توثیق کے منافی نہیں ہے ، لیکن امام احمد رحمہ اللہ نے معاذ کو صرف ”ثقہ“ ہی نہیں، بلکہ ”قرة عين في الحديث“ اور ”اليه المنتهي بالبصرة في التثبت“ جیسے اعلی صیغے سے معاذکی توثیق کی ہے۔ اب اگر امام احمد کی نظر میں معاذ کی احادیث محلِ نظر ہوتیں تو کیا امام احمدرحمہ اللہ معاذ کی اتنے اعلی صیغوں سے توثیق کرتے ؟
رہی ندیم صاحب کی دوسری بات تو عرض ہے کہ امام احمد کے نزدیک بے شک یہ ضعیف نہیں لیکن ثقاہت میں اس درجے سے کم تربھی نہیں ہیں کہ ان کے بارے میں ”فی حدیثہ شی ء“ بطور جرح بولاجائے۔الغرض جب معاذکے حفظ پر امام احمد نے جرح ہی نہیں کی توانہیں متکلم فیہ کہنے کے گنجایش ہی نہیں ہے ۔
دوسرااعتراض :اوثق کی مخالفت
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”اگرعبدالوہاب ثقفی امام ابن سعد رحمہ اللہ کے کلام کی وجہ سے” متکلم فیہ ”ہیں تو معاذبن معاذبھی امام احمدرحمہ اللہ کے کلام کی وجہ سے ”متکلم فیہ ”ہیں ،لہٰذاایسی صورت میں یہ اعتراض خودبخود ختم ہوجاتاہے کہ عبدالوہاب ثقفی نے ثقہ بالاتفاق کی مخالفت کی ہے۔“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤١]
اول تو آپ یہ ثابت کرہی نہیں پائے کہ معاذبن معاذبھی متکلم فیہ ہیں ،دوسرے اگربفرض محال مان بھی لیاجائے کہ وہ بھی متکلم فیہ ہے توبھی ان پر اس قدر کلام نہیں ہے، جس قدر عبدالوہاب پر کلام ہے ، اس لئے معاذمتکلم فیہ ہونے کے باوجودبھی عبدالوہاب کی بنسبت اوثق ہی رہیں گے اوریہاں اصل بحث یہی ہے کہ ثقہ نے اوثق کی مخالفت کی ہے، جیساکہ آپ نے ”اوثق کی مخالفت” کا عنوان لگایاہے۔
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”نیزیہ مخالفت قطعا مضر نہیں ،جیساکہ خود سنابلی صاحب نے حافظ ابن عبدالہادی کاقول نقل کیا ہے کہ ”جب زیادتی کو روایت کرنے والاحافظ اورثبت ہواورجس نے زیادتی بیان نہیں کی ہے وہ بھی ایساہی ہو یا ثقاہت میں اس سے کمتر ہو توایسی صورت میں زیادتی قبول کی جائے گی۔“ (یزیدبن معاویہ ص٢١٦)“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤١]
اس قول میں صاف لکھا ہواہے کہ جس نے زیادتی بیان نہیں کی ہے، وہ بھی ایساہی یعنی زیادتی بیان کرنے والے کے درجہ کا ثقہ ہویاثقاہت میں اس سے کمترہو۔ لیکن کیا یہاںمعاذ، جنہوں نے زیادتی بیان نہیں کی ہے، وہ عبدالوہاب جیسے ہی ثقہ ہیں؟ یاثقاہت میں اس سے کم ترہیں؟ہرگزنہیں بلکہ معاملہ برعکس ہے اور وہ یہ کہ زیادتی بیان نہ کرنے والے معاذثقاہت میں نہ عبدالوہاب سے کم تر ہیں اورنہ صرف اس کے درجہ کے ثقہ ہیں، بلکہ اس سے اعلی درجے کے ثقہ وثبت ہیں ۔لہٰذایسی اصورت میں ابن عبدالہادی کا قول آپ کے موافق نہیں، بلکہ آپ کے بالکل خلاف ہے۔
تیسرااعتراض :اختلاط
اس عنوان کے تحت ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”عبدالوہاب ثقفی پر اختلاط کے سلسلے میں جو اعتراض ہے، اسے خود سنابلی صاحب نے حل کردیا ہے ،چنانچہ لکھتے ہیں:” عبدالوہاب پر کی گئی جرحِ اختلاط سے متعلق عرض ہے کہ چونکہ اہلِ فن نے اختلاط کی جرح کے ساتھ ساتھ یہ بھی صراحت کر دی ہے کہ یہ معاملہ ان کی زندگی کے آخری ایام کا تھا۔ علاوہ بریں کسی بھی محدث نے ان کے اختلاط کو بنیاد بناکر کسی روایت کو ضعیف نہیں کہا ہے، اس لیے عمومی طور پر ان کی بیان کردہ مرویات کے بارے میں یہی فیصلہ ہوگا کہ وہ ان کے اختلاط سے متاثر نہیں ہیں۔ واﷲ اعلم.”(یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص٢٤٥)“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤١]
عبدالوہاب ثقفی کو کوئی شخص عام معنی میں مختلط مان کر، ان کی بیان کردہ احادیث کو اس بناپر ضعیف قرارد ے کہ عبدالوہاب کا اختلاط سے قبل بیان کرناثابت نہیں ہے ،تو ایسے اعتراض کا یہ حل ہم نے پیش کیا ہے۔
لیکن کیا ایسا اعتراض ہم نے حدیث پزیدپرپیش کیا ہے ؟ ہرگز نہیں، بلکہ مکرروسہ کررہم نے وضاحت کی ہے کہ عبدالوہاب ثقفی پر اختلاط کی جرح ہم اس لئے نہیں پیش کررہے ہیں کہ عبدالوہاب ثقفی کو عام معنوں میں مختلط ثابت کرکے یہ کہہ کرحدیث کو ضعیف کہا جائے کہ عبدالوہاب ثقفی کا اس حدیث کو اختلاط سے قبل بیان کرنا ثابت نہیں، بلکہ ہم باربار وضاحت کرچکے ہیں کہ عبدالوہاب الثقفی پر اختلاط کی جرح سے ہم صرف یہ بتاناچاہتے ہیں کہ یہ راوی درجۂ ثقاہت میں اس ثقہ راوی کے درجہ پر نہیں ہے، جس پر اختلاط کی جرح نہیں ہے اورجب یہ ثقاہت میں اس راوی سے کمترہے، جس کے خلاف یہ روایت بیان کررہاہے تو اوثق کے خلاف اس کا بیان مردود ہوگا۔
یعنی اس کا اوثق کے خلاف روایت کرنا یہ اصل علتوں میں سے ایک ہے اوراس سے متعلق اختلاط کی بحث کا تعلق اس کے درجہ ثقاہت سے ہے۔ لیکن ندیم ظہیر صاحب دھوکا دہی سے کام لیتے ہوئے اختلاط کی بحث کو درجۂ ثقاہت کی بحث سے ہٹا کر سیدھااصل سند پر لے جاکر فٹ کردیتے ہیں اور پھراس کاجواب دینے بیٹھ جاتے ہیں۔
اللہ کے بندے! اگرہمارے اصل اعتراض کا کوئی جواب سجھائی نہیں دیتاتوچپ ہی سادھ لیں، لیکن یہ حرکت نہ کریں کہ اعتراض کوبدل کرجواب دینے بیٹھ جائیں ۔
آگے لکھتے ہیں:
”سنابلی صاحب نے اس اعتراض کے باوجود عبدالوہاب ثقفی کی روایت کو ”بہت ہی اعلی درجے کی صحیح“ روایت بھی قراردیاہے“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤١]
ہم بتلاچکے ہیں کہ اختلاط والی بات ہم نے براہِ راست سند پر فٹ نہیں کی ہے اورنہ اس کے سبب اس راوی کو ضعیف کہا ہے، حتی کہ صدوق بھی نہیں کہا، بلکہ محض ان کو متکلم فیہ بتاکر ان سے اوثق راوی کی بنسبت ان کادرجہ ثقاہت کم تربتانے کے لئے یہ بات کہی ہے اوراسے ثقہ ہی ماناہے۔ پھر یہ کہا ہے کہ اس ثقہ نے حدیث یزید میں اوثق کی مخالفت کی ہے، لہٰذااس ثقہ کی بات مرجوح ہے۔
اورجس دوسرے مقام پر ہم نے اس کی دوسری حدیث کو اعلی درجے کی صحیح کہا تھا تو وہ اس وجہ سے کہ اس دوسری حدیث کے سارے رجال بشمول عبدالوہاب صحیحین کے رجال تھے اورعبدالوہاب ثقہ کا اس حدیث میں وہم یا مخالفت ثابت نہیں ہے اورصحیحین کے رجال سے آنی والی احادیث غیر صحیحین کے رجال والی احادیث سے اعلی ہی ہوتی ہیں ۔
اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ آپ کے استاذممدوح نے بخاری ومسلم سمیت کتبِ ستہ کے راوی ”یزیدبن خصیفہ“ کوایک جگہ مختلف فیہ کہا ہے(قیام رمضان ص٦٣) تو اگر یزید بن خصیفہ سمیت صحیحین کے رجال کے ساتھ کوئی حدیث مروی ہو اوراس میں یزیدبن خصیفہ کی مخالفت یااس کا وہم ثابت نہ ہوتو کیا وہ حدیث ان احادیث کی بنسبت اعلی درجے کی صحیح نہ ہوگی جن کے رجال صحیحین کے رجال نہ ہوں؟
چوتھااعتراض:امام بخاری رحمہ اللہ کی تعلیل
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”سیدناابوذررضی اللہ عنہ ،سیدناعمررضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں شام گئے تھے یانہیں؟ یہ ایک مختلف فیہ امر ہے ۔اگرامام بخاری رحمہ اللہ ان کے جانے کاانکارکرتے ہیں تو بہت سے اہل علم ان کے جانے کا اقراربھی کرتے ہیں“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤١،٤٢]
عرض ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے انکارکے خلاف کسی ایک بھی محدث کااقرارموجود نہیں ہے۔ یہ محض ندیم ظہیر صاحب کی خام خیالی ہے ۔
”ذکرکرنے“ اور ذکرکردہ بات کا ”اقراراوراس کی تصحیح کرنے“ میں فرق:
ندیم صاحب! کسی امام کا کوئی بات ”محض ذکرکرنا“ ایک چیزہے اور اس ذکرکردہ چیزکا ”اقراراوراس کی تصحیح کرنا“ دوسری چیز ہے۔ اگرکسی امام نے کوئی بات ذکرکردی تو اس کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس بات کااقراربھی کررہاہے اوراس کی تصحیح بھی کررہاہے ۔
ندیم ظہیر صاحب نے آگے امام بخاری کے خلاف بزعم خویش جن اہلِ علم کااقرارپیش کیا ہے، وہ ان اہلِ علم کا اقراروتصحیح نہیں، بلکہ ان کی طرف سے محض ایک چیز کاذکر ہے، بالکل ایسے ہی جیسے مؤرخین یا محدثین کسی کے حالات میں کچھ چیزیں ذکرکرتے ہیں۔
اگرندیم ظہیرصاحب کے اس فلسفۂ اقرار کو درست مان لیاجائے تواس کا مطلب یہ ہوگا کہ مؤرخین نے تاریخ کے نام پر جو کچھ بھی ذکر کیا ہے، مؤرخین اس کا اقراربھی کرتے ہیں اوراس کی تصحیح بھی کرتے ہیں !! بلکہ محدثین بھی صحابہ اور راویوں کے حالات میں بہت سی باتوں کا ذکر کرتے ہیں تو کیا یہ مان لیا جائے کہ محدثین نے صحابہ یا راویوں کے حالات میں جوکچھ بھی ذکر کیا ہے، ان سب باتوں کا وہ اقراربھی کرتے ہیں اوران کی تصحیح بھی کرتے ہیں ؟
ظاہر ہے کہ معاملہ ایسانہیں، جس کی ایک زبردست دلیل یہ بھی کے ندیم ظہیرصاحب نے امام بخاری کے خلاف جن لوگوں کے ذکر نے کو ان کا اقرار سمجھ لیا ہے، انہیں میں سے ایک ابن کثیر رحمہ اللہ بھی ہیں، جن کے ذکرکرنے کو ان کااقراربتا کر ندیم ظہیر صاحب نے البدایہ والنھایہ کا حوالہ دیاہے۔ [الحدیث نمبر( ١٣٥، ١٣٦ ) ص٤٣]
اب ندیم ظہیر صاحب سے کوئی پوچھے کہ اگرامام ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام بخاری کے انکار کے خلاف اقرارکیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ امام ابن کثیرنے اسی کتاب البدایہ والنھایہ ہی میں حدیث یزید کی تضعیف کرتے ہوئے اپنی تائید میں امام بخاری رحمہ اللہ کی یہی تعلیل بلاچوں و چرا اور بغیر کسی تعاقب کے نقل کردی ہے؟
ا س تفصیل سے واضح ہوجاتاہے کہ ندیم ظہیر صاحب نے امام بخاری (المتوفی ٢٥٦) کے قول کے خلاف جن اہلِ علم (امام ذہبی المتوفی٧٤٨ ، اما م ابن عساکرالمتوفی ٥٧١،امام ابن اثیرالمتوفی٦٣٠،امام ابن عبدالبرالمتوفی٤٦٣ اور امام ابن کثیرالمتوفی٧٧٤رحمہم اللہ) کے حوالے دیے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اپنی ذکرکردہ بات کا اقراری اور اسے صحیح قراردینے والا نہیں ہے، اس لئے یہ اہل علم امام بخاری کے خلاف ہیں ہی نہیں ،لہٰذا محض ذکرکرنے کو اقراربتاکر مختلف فیہ امر والا ندیمی حربہ قطعا کارگر نہیں ہوسکتا۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے انکار کے خلاف جن جن کے نام پیش کئے گئے ہیں، اول تو ان میں سے کسی نے بھی اپنی بے سند ذکرکردہ بات کا اقرارنہیں کیا ہے، دوسرے یہ کہ ا ن میں سے کوئی بھی امام بخاری رحمہ اللہ کے دورسے قبل یا ان کا معاصر نہیں ہے، بلکہ یہ سب کے سب امام بخاری رحمہ اللہ کی وفات کے دو تین سوسال، یاچار سو سال کے بعد پیدا ہونے والے ہیں اوربلاسندبات ذکررہے ہیں ،صاف ظاہر ہے کہ یہ گپ بہت بعد کی پیداوار ہے، جسے بعض اہل علم نے محض تاریخی قصوں کی طرح ذکرکردیا ہے ۔
علامہ البانی اورزبیرعلی زئی صاحب کی طرف غلط نسبت:
ندیم ظہیر صاحب نے محض ذکرکرنے کو اقراربتاکرمختلف فیہ امر والی جو مضحکہ خیزی کی ہے، اسے نہ صرف علامہ البانی رحمہ اللہ بلکہ اسی سانس میں اپنے استاذ مرحوم کی طرف بھی منسوب کر ڈالا ، فرماتے ہیں:
”شاید یہی وجہ ہے کہ دورحاضرکے دو عظیم محدث مذکورہ (مزعومہ)علت کے باوجودزیربحث حدیث کی سند کو حسن قراردیتے ہیں“ [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص ٤٢]
اس کے بعد آں جناب نے علامہ البانی رحمہ اللہ اوراپنے استا ذ ممدوح کاحوالہ پیش کیا ہے۔
عرض ہے کہ مختلف فیہ امر والی بات تو بہت دورکی ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ نے سرے سے امام بخاری کی تعلیل ہی پرکوئی بات نہیں کی ہے، بلکہ حدیث کوان الفاظ کے ساتھ نقل ہی نہیں کیا ہے، جس کی بناپر امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیل کی ہے۔کوئی بھی علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب اٹھاکردیکھ لے، ان کی پیش کردہ حدیث میں نہ یزید کا کوئی نام ونشان ہے نہ وہ بات ہے، جس کی بناپرامام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیل کی ہے۔لہٰذاجب علامہ البانی رحمہ اللہ نے اما م بخاری رحمہ اللہ کی تعلیل اورسببِ تعلیل کو ذکر ہی نہیں کیا تو ان کی طرف امام بخاری رحمہ اللہ پررد کی نسبت ہی غلط ہے، چہ جائے کہ ندیم ظہیر صاحب کی مختلف فیہ امر والی مضحکہ خیزی ان کی طرف منسوب کی جائے۔
تنبیہ بلیغ:
واضح رہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے جس سند کو حسن کہا ہے، وہ منقطع ہے، کیونکہ اس میں ابوالعالیہ یہ ابوذررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، جبکہ ابوذررضی اللہ عنہ سے ان کاسماع ثابت نہیں ہے۔جیساکہ امام ابن معین ، امام بیہقی اورامام ابن کثیر رحمہم اللہ کا موقف ہے دیکھئے: یزیدبن معاویہ (ص ١٦٩)
رہاان کے استاذممدوح حافظ زبیرعلی زئی صاحب کاحوالہ تو عرض ہے کہ اپنے استاذمرحوم پر پررحم فرمائیں اور اپنا اُلو سیدھا کرنے کے لئے ان کی طرف اپنی مضحکہ خیزی منسوب نہ کریں ۔ہمارے ساتھ حافظ زبیرعلی زئی صاحب کی جوبھی تحریری گفتگو ہوئی ہے، اس میں انہوں نے کہیں بھی مختلف فیہ امر کی بات نہیں کی، بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ کی بات کو بے دلیل ہی کہنے کو اپنا اصل جواب بنایا ہے۔
ہاں انہوں نے اس کے بعددوسرے نمبرپرتائیداً یہ جواب ضروردیا ہے کہ ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ ابوذررضی اللہ عنہ ، ابوبکررضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد شام تشریف لے گئے، لیکن انہوں نے اسے اصل بنیاد نہیں بنایا، بلکہ محض ثانوی درجے میں تائیداً اس کا ذکر نے پر اکتفا کیا ہے ۔ اگریہ ان کی اصل بنیاد ہوتی تو وہ امام بخاری جیسے سلطان المحدثین کے خلاف صرف ابن عبدالبرہی کا حوالہ ذکرکرنے پراکتفا نہ کرتے، بلکہ دوتین حوالے اورذکرکرکرکے جمہورکی تعداد دکھاتے، پھرمختلف فیہ امر کی بات کرکے امام بخاری کے خلا ف جمہور کا موقف راجح قراردیتے۔ کیونکہ مختلف فیہ امر میں جمہور جمہور کی گردان تو ان کا خاص مشغلہ تھا۔
مزید یہ کہ جب ہم نے تیسری تحریرمیں ان کے اس دوسرے جواب کی اصل حقیقت بیان کردی توانہوں نے اپنے دس جھوٹ والی تحریر میں جہاں امام بخاری کا قول ردکیا ہے، وہاں صرف اسے غیرثابت کہنے پراکتفا کیا ہے او ر ابن عبدالبر والی بات کو نہیں دہرایا ۔
اس سے واضح ہے کہ ندیم ظہیرصاحب کے استاذممدوح نے مختلف فیہ امر والی بات کہہ کر امام بخاری کاقول رد نہیں کیا، بلکہ یہ ندیم صاحب ہی ہیں جو مختلف فیہ امر کا نیاحربہ لے کرمیدان میں اترے ہیں اورموصوف کو اس کی ضرورت کیوں پڑی؟ اسے بھی ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔
دراصل ندیم ظہیر صاحب نے اپنے استاذ ممدوح کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جب یہی بات دہرائی کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی بات بے دلیل ہے، اس لئے مردود ہے تو اس پر ہم نے ندیم ظہیر صاحب ہی کادورخی ڈبہ پیش کردیا اورکہا کہ پھرآپ نے ابو حاتم کے بے دلیل قول کو کیسے قبول کرلیا ؟
اپنے اس دورخی ڈبے سے باہر نکلنے کے لیے ندیم ظہیر صاحب نے کچھ اس طرح ہاتھ پیر چلایا کہ امام بخاری کی بات کے ساتھ مختلف فیہ امرکا دم چھلا لگا دیا، تاکہ یہ کہہ سکیں کہ امام بخاری کی بات مختلف فیہ ہے اس لئے اسے ردکیا گیاہے اور امام ابو حاتم کی بات سے کسی کا اختلاف ثابت نہیں، اس لئے اسے قبول کیا گیا ہے۔
ندیم ظہیر صاحب اورایک معاصر محقق سے استمداد:
ندیم ظہیر صاحب اس ضمن میں امام ذہبی کی ذکرکردہ بات کاحوالہ دینے کے بعدلکھتے ہیں:
”اما م ذہبی کے مذکورہ قول کی وجہ سے ”المطالب العالیہ (١٨/٢٧٤،٢٧٥)طبع دارالعاصمہ“ کے محقق الشیخ عبدالقادربن عبدالکریم بن عبدالعزیزنے امام بخاری کی تعلیل ردکرتے ہوئے ”حدیث یزید“ کو حسن قراردیا ہے، یعنی نفی پراثبات کو مقدم کیا ہے“ [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص ٤٢]
عرض ہے کہ ندیم ظہیر صاحب نے یہاں بدترین تدلیس سے کام لیا ہے، کیونکہ محقق نے اس حدیث کو ”حسن“ نہیں بلکہ ”حسن لغیرہ“ قراردیا ہے ۔محقق نے صاف طور سے لکھاہے:
« وھو بھذہ الطرق والشاہد حسن لغیرہ ، واللہ اعلم »
”اوریہ حدیث ان طرق اورشاہد کے ساتھ حسن لغیرہ ہے۔“ (المطالب العالیہ (١٨/٢٧٧)طبع دارالعاصمہ )
اورحسن لغیرہ حدیث ندیم ظہیر صاحب کے استاذممدوح کی نظر میں حجت نہیں ہوتی ہے ۔چناں چہ :
حافظ زبیرعلی زئی صاحب ایک مقام پر فرماتے ہیں:
”قول ِراجح میں حسن لغیرہ روایت ضعیف ہی ہوتی ہے۔“ [مقالات ١ /٦١٢]
دوسری جگہ زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”قول ِراجح میں حسن لغیرہ روایت حجت ہی نہیں ہے، بلکہ ضعیف ومردود کی ایک قسم ہے۔“ [اختصار علوم الحدیث مترجم :ص٥٧]
تیسری جگہ زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”میری تحقیق میں حسن لغیرہ روایت کو حجت نہیں سمجھاجاتا، بلکہ اسے ضعیف ہی کی ایک قسم سمجھاجاتاہے۔“ [مقدمہ الاتحاف الباسم فی تحقیق مؤطا امام مالک ص٥٥]
سوا ل یہ ہے کہ جب آپ کے استاذممدوح کی نظر میں حسن لغیرہ ضعیف ومردودہی ہوتی ہے اورمحقق مذکور نے اسے پوری صراحت کے ساتھ ”حسن لغیرہ“ ہی کہا ہے تو ندیم ظہیر صاحب نے یہ کیوں ظاہر کیا کہ محقق نے اسے حسن کہاہے؟ یہ حربہ اسی لئے تھا نا کہ قارئین یہ سمجھ لیں کہ محقق نے اس حدیث کو ”حسن لذاتہ“ مانا ہے!کیا یہ بدترین تدلیس نہیں ہے؟
ہم قارئین کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لئے بتلادیں کہ ندیم ظہیر صاحب اوران کے استاذممدوح نے حدیث یزید کی جس سند کو حسن ثابت کرنے کے لئے زمین آسمان ایک کررکھا ہے، عین اسی سند کو محقق مذکورنے پوری صراحت کے ساتھ ضعیف قراردیا ہے، چنانچہ محقق نے لکھا ہے:
«قلت :هذا إسناد ضعيف ، فيه مهاجر بن مخلد أبومخلد ، قال أبوحاتم : لين الحديث ۔۔۔الخ»
”میں کہتاہوں:یہ سند ضعیف ہے ، اس میں مہاجربن مخلدابومہاجرہے ،(اس کے بارے میں ) ابوحاتم نے کہا: یہ لین الحدیث ہے ۔۔۔ الخ“ (المطالب العالیہ (١٨/٢٧٧)طبع دارالعاصمہ )
اس محقق نے نہ صرف یہ کہ خود اس سندکوضعیف کہاہے، بلکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے جس سند کو حسن کہا، اس پر بھی لکھا:
«إن أراد به الحسن لغيره فنعم وإلا فلا »
”اگر علامہ البانی کی مراد حسن لغیرہ ہے تو ٹھیک ہے ورنہ (یہ حدیث حسن )نہیں۔“ (المطالب العالیہ (١٨/٢٧٦)طبع دارالعاصمہ )
علامہ البانی رحمہ اللہ کی تردید کرتے وقت بھی محقق کا اسے حسن لغیرہ ہی کہنا اس سے بھی ظاہرہے کہ محقق کی نظر میں اس کی کوئی سند اصلا حسن لذاتہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ محقق نے المطالب العالیہ میں درج سند (جو ندیم ظہیر صاحب اوران کے استاذ کی پیش کردہ سند نہیں، بلکہ منقطعا یوں ہے:وقال أبو بکر:حدثنا هوذة بن خلیفة، عن عوف، عن أبی مجلز، عن أبی العالیة (؟) قال: لما کان یزید )کے بارے میں جو یہ کہا ہے :
« رجاله ثقات ،ماعدا ھوذة بن خلیفة فھوصدوق، وعليه فھوحسن »
”اس کے رجال سوائے ہوذہ بن خلیفہ کے ثقہ ہیں اور یہ صدوق ہے لہٰذا یہ (سند) حسن ہے“ (المطالب العالیہ (١٨/٢٧٦)طبع دارالعاصمہ )
تو محقق نے یہاں حسن لذاتہ ہی مراد لیا ہے، کیونکہ مطلق حسن کہا ہے، لیکن محقق نے گرچہ یہاں پر ظاہری سندکے اعتبارسے یہ کہاہے، لیکن آگے چل کر انہوں نے اس سند ہی کومرجوح قراردے دیاہے۔(المطالب العالیہ (١٨/٢٧٧)طبع دارالعاصمہ )
لہٰذاجب محقق ظاہری طورپر اسے حسن(لذاتہ) کہنے کے باوجودبھی اسے مرجوح ہی مانتے ہیں تو ان کی نظر میں یہ سند مرجوح ہونے کے سبب ضعیف ہی ہے۔بلکہ محقق ہی کے اصول سے یہ سند ا صلاً بھی ضعیف ہے، کیونکہ اس میں موجود راوی ”أبی مجلز“ اصل میں ”أبومخلد ، یعنی مھاجربن مخلد أبو مخلد“ ہی ہے، جیساکہ عوف کے دیگرشاگردوں نے بیان کیا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: یزیدبن معاویہ (ص١٣٤تا١٣٦)
اور ”مھاجربن مخلدأبومخلد“ کو محقق صراحتاً ضعیف قراردیتے ہیں، جیساکہ ماقبل میں نقل کیا جاچکاہے۔لہٰذا محقق کے اصول کے مطابق یہ سند بھی ضعیف ہی ہے۔ اور المطالب العالیہ میں ”أبی مجلز“ لکھا جانا یہ تحریف ہے ۔ ”اتحاف الخیرة المہرة“ کے محقق نے بھی لکھا ہے :
« فی المطالب:أبی مجلز۔ وھوتحریف ، وأبوخالد ھومھاجربن مخلد أبو مخلد، ویقال: أبوخالد »
”المطالب العالیہ میں ”أبی مجلز“ یہ تحریف ہے ، ابوخالد یہ مہاجر بن مخلد ابو مخلد ہے، اسے ابوخالدبھی کہا جاتاہے۔“ (تحاف الخیرة المہرةص٥ /١٨٨ حاشیہ رقم ٦)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ محقق نے عین اس سند کو حسن کہا ہی نہیں ہے جسے ندیم ظہیر صاحب حسن ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں، بلکہ محقق نے جس دوسری سند کوحسن کہا ہے، اسے بھی مرجوح یعنی ضعیف ہی مانا ہے، بلکہ ان کے اصول کے مطابق یہ اصلاً بھی ضعیف ہے، کیونکہ اس میں ”ابی مجلز“ نہیں، بلکہ ”ابومخلد“ ہے اورمحقق اسے صراحتاً ضعیف قراردیتے ہیں۔
رہی یہ بات کہ محقق نے امام بخاری کی تعلیل کورد کردیا ہے توعرض ہے کہ اس محقق نے امام بخاری رحمہ اللہ کی تعلیل کے خلاف کسی بھی محدث کا فیصلہ پیش نہیں کیا ہے اورنہ ہی امام بخاری کے انکار کے خلاف کسی محدث کی طرف سے اثبات واقرار کا قول پیش کیا ہے ،بلکہ محقق نے صرف مؤرخین سے یہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایساذکر کیاہے اور گذشتہ سطور میں بتایاجاچکاہے کہ کسی کا کوئی چیز بالخصوص تاریخی قصوں کا محض ذکر کرنا، اس بات کی دلیل نہیںہے کہ ذکرکرنے والا اسے صحیح بھی مانتاہے اور اس کا اقراری بھی ہے۔محقق کے الفاظ دیکھیں:
« ولکنی رأیت أن المؤرخین مثل الامام الذهبي وابن کثیر ذکروا بأن أباذر قدم الشام زمن عمر رضی اللہ عنه »
”لیکن میں نے دیکھا ہے کہ امام ذہبی اورامام ابن کثیر جیسے مؤرخین نے ذکرکیا ہے کہ ابوذررضی اللہ عنہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام آگئے تھے۔“ (المطالب العالیہ (١٨ /٢٧٥)طبع دارالعاصمہ )
ملاحظہ فرمائیں محقق صاحب نے محض تاریخی حیثیت سے اس قصے کے ذکرکئے جانے ہی کو امام بخاری کے انکارکے خلاف پیش کیا ہے، جبکہ ذکر کرنا اور ذکرکردہ چیز کا اثبات واقرارکرنا اور اسے صحیح قراردینا الگ معاملہ ہے۔نیز یہ بھی دیکھ لیں کہ محقق نے ابن کثیر رحمہ اللہ کا حوالہ بھی امام بخاری رحمہ اللہ کے مقابلے میں پیش کردیا ہے، حالانکہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ کے زبردست مؤید ہیں اور حدیثِ یزید کی تضعیف میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام بخاری کی یہ تعلیل نقل کی ہے اورکوئی رد نہیں کیا، جو اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ دوسری جگہ امام ابن کثیررحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کی تعلیل کے خلاف جو قصہ ذکر کیا ہے، اسے بس ذکر ہی کیاہے، اس کی تصحیح اور اس کااقرارقطعاً نہیں کیا ہے۔
دوسری طرف اس محقق سے بڑے محقق دکتور بسام بن عبداللہ الغانم العطاوی نے امام بخاری رحمہ اللہ ہی کی تائید کی ہے اورلکھا ہے:
« فالبخاری أعلّ الحدیث هنا بمناقضته الواقع التاریخی الذی ینف وجود أبی ذر فی الشام زمن الحادثة المذکورة فی الحدیث۔فقد جاء فی روایات متعددة أن أبا ذر رضی اللہ عنه انتقل من المدینة لی الشام فی خلافة عثمان رضی اللہ عنہ، حین کان معاویة رضی اللہ عنہ أمیراً علیہا »
”امام بخاری رحمہ اللہ نے یہاں اس حدیث کی تعلیل اس لئے کی ہے، کیونکہ یہ اس تاریخی حقیقت کے خلاف ہے جو حدیث میں مذکورحادثہ کے وقت شام میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے وجود کی نفی کرتی ہے۔چناں چہ متعدد روایات میں آیاہے کہ ابوذررضی اللہ عنہ مدینہ سے شام عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں منتقل ہوئے اوراس وقت معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے امیر تھے“ (الأحادیث التی أعل المام البخاری متونہا بالتناقض:ص٢٣١)
”ذکروبیان“ اور ”تصحیح واقرار“ میں فرق:
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”ان محدثین نے ”بلغنی“ یا ”قیل“ وغیرہ کے ذریعے سے سیدناابوذررضی اللہ عنہ کے شام جانے کاتذکرہ نہیں کیا ہے،بلکہ اپنے علم کے مطابق اس بات کا اظہارکیا اوران کی اپنی بات کو بے سند کہنا مضحکہ خیزہے“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤٣]
عرض ہے کہ ان محدثین نے یہاں اپنی تصحیح یا تشریح ، یا اقرارکا اظہار نہیں کیا ہے ، بے شک محدثین جب تصحیح یا تشریح یا اقرار کااظہار کریں تو یہ ان کی اپنی بات ہوتی ہے ، لیکن محدثین جب ماضی میں پیش آنے والے کسی قصے کا محض ذکرکریں اور اس کی تصحیح یااس کااقرارواثبات نہ کریں یہ تو محدثین کی اپنی بات قطعا نہیں ہوتی ،اس لئے اسے خلط ملط نہ کریں اور خوب سمجھ لیں ۔
محدثانہ کلام اورمؤرخانہ کلام میں فرق:
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”اسی طرح یہ محض مورخین نہیں کہ ان کی بات کوتاریخی کہہ کررد کردیاجائے، بلکہ علم جرح وتعدیل میں بھی ان کے اقوال کو حیثیت دی جاتی ہے“ [ الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤٣]
یہاں توآپ نے مضحکہ خیزی کی تمام حدیں پارکردی ہیں۔ اللہ کے بندے ! محدثین ہونے کا یہ مطلب کیسے ہوگیا کہ یہ محدثین مؤرخین کی طرح تاریخی حیثیت سے تاریخی قصے بیان نہیں کرسکتے ہیں اور جرح و تعدیل میں ان کے اقوال کو حیثیت دی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب کیسے ہوگیا کہ یہ تاریخی حیثیت سے قصے ذکرکريں تووہاں بھي ان قصوں کو جرح وتعديل کے ناقدانہ فيصلوں کي حيثيت دے دي جائے ؟!
نديم ظہير صاحب لکھتے ہيں:
”باقي رہا مذکورہ محدثين کي اس بات کي دليل کيا ہے توعرض ہے کہ اگرسيدنا ابوذر رضي اللہ عنہ کے شام جانے سے انکارپر دليل طلب کرناجرم ہے تواقرارپراس جرم کا ارتکاب کيوں؟“ [الحديث نمبر( 135،136 ) ص43]
محترم ہوش وحواس ميں ہيں کہ آپ کيا کہہ رہے ہيں ؟
انکارپردليل ؟
بھلامنکر سے بھي دليل طلب کي جاتي ہے؟
رہا اقرار پردليل طلب کرنا تو اقرار پرکس نے دليل طلب کي ؟ پہلے آپ اقرارثابت توکريں ؟
آگے نديم صاحب اپني عادت خاصہ (تحريف الکلم عن مواضعہ) کو بروئے کار لاتے ہوئے فرماتے ہيں:
”مزيد اسے سنابلي صاحب کے ”نادر اصول“ کي روشني ميں سمجھئے ، موصوف لکھتے ہيں: ”متعدد اہلِ علم نے ان صحابہ کي طرف بالجزم چاردن قرباني کا قول منسوب کيا ہے ممکن ہے ان اقوال کي صحيح سنديں ايسي کتب ميں ہوں، جن تک ہماري رسائي نہ ہويا جو مفقود ہوچکي ہوں ، يادرہے کہ اللہ تعالي نے صرف کتاب وسنت کي حفاظت کي ذمے داري لي ہے نہ کہ امتيوں کے اقوال کي بھي، اس لئے امتيوں کے اقوال کي صحيح سندوں کا مفقود ہوجانا کوئي تعجب کي بات نہيں ہے (چاردن قرباني کي مشروعيت ص33) قارئين کرام !آپ تو سمجھ گئے ہوں گے کہ اس عبارت سے کيا مترشح ہورہاہے، يعني ”متعدداہل علم نے سيدنا ابوذررضي اللہ عنہ کے شام جانے کا تذکرہ کيا ہے ،ممکن ہے کہ ان اقوال کي سنديں ايسي کتب ميں ہوں، جن تک ہماري رسائي نہ ہوياجو مفقود ہوچکي ہوں“ سنابلي صاحب نے يہ ”نادراصول گھڑاتو اپنے فائدے کے لئے تھا، ليکن يہاں الٹ پڑگيا“ [الحديث نمبر( 135،136 ) ص43]
عرض ہے کہ :
يہاں ہم نے کوئي اصول نہيں پيش کيا ہے بلکہ ”ممکن ہے“ کہہ کر محض ايک امکاني بات کہي ہے اوراسے دليل ہرگزنہيں بنايا، بلکہ آگے چل کراسي صفحہ پرپوري صراحت کے ساتھ ہم نے لکھ ديا ہے:
”عام طور سے فقہاء اس نوعيت کے اقوال سے حجت پکڑتے ہيں، اس لئے ہم ايسے اقوال کي فہرست پيش کرتے ہيں“ (چاردن قرباني کي مشروعيت ص33)
صاف ظاہر ہے کہ ہم نے اپنے نزديک اسے حجت نہيں بنايا ہے بلکہ فقہاء کے طرزعمل کي وجہ سے الزامي طور پر ان اقوال کو پيش کيا ہے،ليکن بے چارے نديم ظہير صاحب يہ ظاہر کر رہے ہيں کہ ہم نے کوئي اصول بيان کرکے ان اقوال کو حجت تسليم کر ليا ہے!سبحان اللہ !
بلکہ ان حوالہ جات کو بطور الزام پيش کرنے کي بات کہنا خود بتلاتاہے کہ ہم ايسے اقوال کو حجت سمجھتے ہي نہيں، لہٰذا اب قارئين خود فيصلہ کريں کہ ہماري بات الٹ گئي ہے يا نديم صاحب کا دماغ ہي الٹ گيا ہے؟
بطور فائدہ عرض ہے کہ زبيرعلي زئي صاحب نے بھي کئي مقامات پر بطورالزام اس طرح کے بے سند اقوال پيش کئے ہيں، بلکہ ايک جگہ بے سند اقوال پيش کرنے کے بعد لکھتے ہيں:
”اس قسم کے بے سند حوالے حنفيہ کے يہاں ”فقہ حنفي “ميں حجت ہوتے ہيں، لہٰذا ان حوالوں کو بطورالزامي دليل پيش کيا گيا ہے“ [ مقالات3 /163 ]
کياخيال ہے؟ آپ کے استاذ کي اس وضاحت سے آنکھيں بندکرکے يہ شور مچانا شروع کرديا جائے کہ زبيرعلي زئي صاحب اپنے مفاد کے لئے بے سند حوالے بھي پيش کرنا رواسمجھتے ہيں ؟
امام بخاری رحمہ اللہ کے قول پر پیش کردہ دلیل اور اس پر ندیمی اعتراضات کاجائزہ
امام بخاری کاناقدانہ فیصلہ دلیل کا محتاج نہیں:
ہم نے بار بار وضاحت کی ہے کہ ناقدین جب اثباتِ سماع یا انکارِ سماع و لقاء کا فیصلہ کرتے ہیں تو اُن کے اس طرح کے فیصلے حجت ہوتے ہیں، اس معاملے میں ان کے فیصلوں پردلیل طلب نہیں کی جاتی اور اگر دلیل طلب کی جانے لگی تو پھر دنیا کی کسی ایک حدیث کو بھی صحیح یا ضعیف ثابت کرنا محال و ناممکن ہے۔ بلکہ ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ اپنے اس اصول سے کسی ایک حدیث کو بھی صحیح یا ضعیف ثابت کرکے بتائیں، لیکن زبیرعلی زئی صاحب نے ہمارے اس مطالبے کو پورا نہیں کیا، بلکہ اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا۔
متضاد طرزعمل پر گرفت اور فریق مخالف کی خاموشی:
ہم ان کی زندگی میں باربار یہ کہتے رہے کہ یہ اصول غلط ہے اور خود آپ بھی دوسری جگہوں پر اس اصول پر عمل نہیں کرتے، اس لئے صرف حدیثِ یزید میں ہی ایسا اصول کیوں اپنا رہے ہیں؟ چنانچہ ہم نے لکھا تھا:
”یاد رہے کہ ائمہ نقاد کا یہ کہنا: فلاں نے فلاں سے سنا نہیں۔فلاں کی فلاں سے ملاقات نہیں یا اس طرح کے فیصلے دینا حجت و دلیل کی حیثیت رکھتا ہے، چناںچہ جب ہم کسی سند کو منقطع بتلاتے ہیں تو کسی امام سے محض یہ قول نقل کر دینا کافی سمجھتے ہیں کہ انھوں نے کہا ہے کہ اس راوی نے فلاں راوی سے نہیں سنا، وغیرہ وغیرہ۔ یہاں یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ ناقد کے اس فیصلے کی سند پیش کرو، یعنی اس نے جو یہ کہا ہے کہ فلاں نے فلاں سے نہیں سنا تو اس کی سند پیش کرو، کیوں کہ یہ فیصلہ ایک ناقد کا ہے اور ائمہ نقاد کے اس طرح کے فیصلے بجائے خود دلیل ہوتے ہیں۔ خود حافظ موصوف کی تحقیقی کتب سے ایسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، جہاں سند میں انقطاع کا حکم لگایاگیا ہے اور دلیل میں کسی ناقد امام کا اپنا قول ہی پیش کیا گیاہے۔“ (یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨،٧٩)
نیز اس کے بعد اسی تحریر میں ہم نے مزید لکھا تھا:
”الغرض امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک خاص مقام پر دو صحابہ کی عدمِ ملاقات کی جو بات کہی ہے تو اس بات کا تعلق محدثین و ناقدین کے فن سے ہے۔ محدثین و ناقدین کو یہ اتھارٹی حاصل ہے کہ وہ دو رواة کے مابین عدمِ سماع یا عدمِ معاصرت یا عدمِ لقا کی صراحت کریں اور محدثین کے اس طرح کے اقوال کی بنیاد محدثین کی فنی مہارت ہوتی ہے، لہٰذا محدثین اپنے فن کی بات کہیں تو یہ حجت ہے۔ یہاں محدثین سے سند کا مطالبہ مردود ہے… ہم بھی حافظ موصوف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آں جناب نے جہاں جہاں بھی سند کے انقطاع پر ناقدین کے حوالے سے تاریخِ وفات یا تاریخِ پیدایش کے اقوال پیش کیے ہیں، ان اقوال کی سند صحیح پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان اقوال میں جو بات ہے، اس کی بھی سند صحیح پیش کریں!!
اگراس طرح کے اقوال میں براہِ راست ناقدین سے سند کا مطالبہ درست ہے تو ہمارا دعویٰ ہے کہ عام کتبِ احادیث تودور کی بات؛ سنن اربعہ کی کوئی ایک حدیث بھی صحیح یاضعیف ثابت نہیں کی جاسکتی۔۔۔میرے خیال سے اس اصول کے تحت دیگر کتب تو دور کی بات سنن اربعہ ہی سے کسی ایک بھی حدیث کو صحیح یا ضعیف ثابت کرنا ناممکن ہے اور اگر ممکن ہے تو ہمیں صرف ایک حدیث کی تحقیق ناقدین سے بسند صحیح ثابت اقوال نیز ناقدین کے اقوال میں جو بات ہے، اس کی بھی سند صحیح پیش کرکے دکھلایا جائے، بارک اﷲ فیکم۔“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص٨٠،٨١)
متضاد طرزعمل کو دورخی ڈبے میں دکھانے پرفریق مخالف کا رد عمل :
اس متضاد طرزعمل کاحوالہ دیے جانے پر بھی حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا اور ان کی وفات کے بعد ان کے شاگرد ندیم ظہیر صاحب بھی اپنی پہلی تحریر میں اس بات سے لاجواب ہی رہے، لیکن ندیم ظہیر صاحب کے جواب میں جب ہم نے اسی بات کو اُن کے من پسند دورخی ڈبے میں پیش کردیا تو اس پر ندیم ظہیرہڑبڑا گئے اور اسی بوکھلاہٹ میں یہ لکھ مارا:
”سنابلی صاحب نے ہماری طرف ایک مستقل اصول کی نسبت کردی کہ ہم ناقد کے ہرقول پردلیل کے طالب ہیں ،جیساکہ امام بخاری رحمہ اللہ کے قول پرطلب دلیل کااظہارکیا گیاہے،حالانکہ اس کا ایک پسِ منظرہے، وہ یہ کہ اہل علم کی ایک جماعت کے اقوال امام بخاری کے قول کے برعکس ہیں، اسی وجہ سے ہم نے اسے مختلف فیہ بھی قراردیا ہے ،لیکن امام ابوحاتم کے قول : «لم یلق الحسن ومحمدبن سیرین باذرالغفاری» کے خلاف کون سے محدثین ہیں ؟“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤٣]
ندیم ظہیر صاحب کے اس جواب کا ماحصل یہ ہے کہ ان کی طرف سے امام بخاری کا قول اس لئے رد کیا گیا ہے، کیونکہ وہ جمہور کے خلاف ہے اور جمہور کے خلاف ہونے کے سبب ہی اس کی دلیل طلب کی گئی ہے۔
➊ اولا: حافظ زبیرعلی زئی صاحب کی زندگی میں ہمارے اوران کے بیچ جو بھی بحث ہوئی ہے، کوئی بھی شخص طرفین کی تحریریں پڑھ کردیکھ لے، وہاں کہیں یہ بات نہیں ملے گے کہ ان کی طرف سے امام بخاری کا قول اس لئے رد کیا گیا ہے، کیونکہ وہ جمہور کے خلاف ہے اوراسی لئے اس کی دلیل طلب کی گئی ہے۔
➋ ثانیا: اگرامام بخاری کا قول جمہور کے خلاف ہونے کے سبب حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے رد کیا ہوتا تو وہ یقینا امام بخاری کے قول کے خلاف جمہور کے اقوال پیش کرتے اورپوری صراحت کے ساتھ یہ کہتے کہ امام بخاری کا قول جمہو ر کے خلاف ہے، اس لئے مردود ہے ،بالخصوص جبکہ وہ اس طرزِعمل کے عادی تھے ۔
➌ ثالثا: اگرامام بخاری کا قول جمہور کے خلاف ہونے کے سبب رد کیا گیاتھا تو بس اس کا رد کردینا ہی کافی تھا ، لیکن یہ ضرورت کیوں آن پڑی کہ ان کے قول کو بے سند اوربے دلیل کہتے ؟ کیا حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے جہاں جہاں بھی جمہور کے اقوال کی بناپر بعض کے اقوال رد کیے ہیں، وہاں بعض کے اقوال کو بے سند اوربے دلیل کہہ کررد کیا ہے؟
➍ رابعا : حافظ زبیرعلی زئی صاحب کی وفات کے بعد اس بحث کے آگے بڑھانے کی ذمے داری ندیم صاحب نے اٹھائی، لیکن انہوں نے بھی اپنی پہلی تحریر میں کہیں یہ بات نہیں کہی کہ امام بخاری کا یہ قول اس لئے مردود ہے، کیونکہ وہ جمہور کے خلاف ہے اورجمہورکے خلاف ہونے کے سبب اس کی دلیل طلب کرنا ضروری ہے۔
اب قارئین حیران ہوں گے کہ یہ لوگ پہلے جب امام بخاری کے قول کو بے دلیل کہہ کرہی رد کررہے تھے تو اچانک یہ لوگ ایسا کیوں کہنے لگے کہ امام بخاری کا قول جمہور کے خلاف ہونے کے سبب مردود ہے؟!
اس کی وجہ بڑی دلچسپ ہے اوروہ یہ کہ ندیم ظہیر صاحب نے پہلی تحریر میں دل کھول کر دورخی ڈبے بنائے تھے ، اس لئے ہم نے بھی جواباً دورخی ڈبوں کی قطار لگا دی، انہیں ڈبوں میں سے ایک ڈبہ یہ بھی تھا :
(((● پہلا رخ:-
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”امام بخاری کے قول ”ولايعرف لأبي ذر قدوم الشام زمن عمر“ پراعتراض کرتے ہوئے حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ نے لکھا: ”امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے اس دعوی کی کوئی دلیل بیان نہیں کی“ تو اس پرسنابلی صاحب لکھتے ہیں : ”بعد میں ہمیں اس دعوی کی صحیح دلیل بھی مل گی“ ۔۔۔سنابلی صاحب کی تحریرسے واضح ہوجاتاہے کہ جب تک یہ دلیل نہیں تھی دعوی بلادلیل تھااورامام بخاری رحمہ اللہ کادعوی بھی دلیل کامحتاج تھا۔“ (اشاعة الحدیث :١٣٤ص٣٧)
عرض ہے کہ :
اس سے یہ واضح نہیں ہوتاکہ امام بخاری کا دعوی بلادلیل تھا بلکہ صرف یہ واضح ہوتا ہے کہ اس دعوے کی صحیح اورصریح دلیل کا علم ناچیز کو نہ تھا۔ اوریہ توقطعا نہیں واضح ہوتا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا دعوی دلیل کا محتاج تھا، جیساکہ ماقبل میں وضاحت کی گئی ہے ۔
البتہ اپنے استاذممدوح کی ہمنوائی میں رقم کردہ ندیم ظہیرصاحب کے ان الفاظ سے یہ ضرورواضح ہوتاہے کہ امام بخاری یا ان جیسے محدثین کا اس طرح کا دعوی دلیل کا محتاج ہوگا۔یعنی بغیردلیل اس سے حجت پکڑنا درست نہ ہوگا۔اب ندیم ظہیرصاحب کا دوسرارخ ملاحظہ ہو:
● دوسرارخ:-
ندیم ظہیرصاحب ایک روایت کی سند کو منقطع ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ہماری تحقیق کے مطابق محمدبن سیرین رحمہ اللہ کی سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے، جیساکہ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”محمدبن سیرین کی سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ ص٤٣)
تبصرہ:-
یہاں اما م ابوحاتم رحمہ اللہ کے جس دعوے سے ندیم ظہیرصاحب نے استدلال کیا ہے یہ دعوی ندیم ظہیرصاحب کے اصول کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ کے دعوی کی طرح دلیل کا محتاج ہے! پھر اس محتاجِ دلیل دعوی سے بلادلیل احتجاج چہ معنی دارد؟؟
ہم نے امام بخاری کاوہ قول پیش کیا تھا، جس میں امام بخاری نے ایک خاص مقام پردوصحابہ کی ملاقات کے انکار کیا تھا توندیم ظہیرصاحب کے استاذممدوح نے لکھاتھا:
”یہ واقعہ چوںکہ امام بخاری کی پیدایش سے پہلے ہوا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ امام بخاری سے ابو ذررضی اللہ عنہ تک صحیح سند پیش کی جائے کہ وہ عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میںشام نہیں گئے تھے۔“ (مقالات:٦ /٥٨٧)
اب ہم آپ کے استاذممدوح کے اصول کے تحت کہتے ہیں:
”یہ واقعہ چوںکہ امام ابوحاتم کی پیدایش سے پہلے ہوا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ امام ابوحاتم سے محمدبن سیرین رحمہ اللہ تک صحیح سند پیش کی جائے کہ انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔“دورخی ڈبے بنانے والو! کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک لیا کرو۔))) [دیکھئے، ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کا جائزہ حصہ اول ص٢٢،٢٣]
جب ہم نے یہ دورخی ڈبہ پیش کیا تو ندیم صاحب کے ہاتھ پیراس میں بری طرح پھنس گئے، پھرموصوف نے اس سے نکلنے کے لئے کچھ اس طرح ہاتھ پیر چلائے کہ ”گروگڑ رہ گئے اورچیلا شکر ہوگئے“ کا ثبوت دیتے ہوئے یہ لکھ ماراکہ امام بخاری کا قول جمہور کے خلاف ہے، اس لئے دلیل طلب کی گئی، حالانکہ امام بخاری کے خلاف کسی ایک بھی محدث کا فیصلہ موجود نہیں ہے، جیساکہ وضاحت کی جاچکی ہے، بلکہ دیگرمحدثین سے امام بخاری کی تائید ہی ملتی ہے
اضافی جواب پرندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات
گذشتہ تفصیلات سے واضح ہوگیا کہ امام بخاری کا قول بجائے خود حجت ہے اوران کے قول پردلیل کامطالبہ غلط ہے، لیکن چونکہ فریق مخالف باربار طلبِ دلیل پر مصرتھا، اس لئے بعد میں جب ہمیں صریح دلیل بھی مل گئی تو اسے بھی اضافی جواب کے طور پیش کر دیا، گرچہ اصلاً اسے پیش کرنے کی ضرروت نہیں ہے۔ اب اس پر جو ندیمی اعتراضات ہیں، ان کے جوابات ملاحظہ ہوں:
ہم نے ابن سیرین والی روایت کے مجموعی مفہوم کے لئے متفرق شواہد پیش کئے تھے، لیکن اصل جن الفاظ سے استدلال کیا تھا، اس کے دو شواہد پیش کئے تھے، ندیم ظہیر صاحب نے ان دونوں شواہد پر اعتراضات کئے ہیں۔
پہلے شاہد پر اعتراضات کاجائزہ:
مناسب معلوم ہوتاہے کہ پہلے شاہد کے طورپر ہم نے جو روایت مع وضاحت پیش کی، سب سے پہلے اسے نقل کردیاجائے:
امام ابن الاعرابی (المتوفی ٣٤٠) نے کہا:
«نا محمد، نا يونس بن محمد، نا صالح بن عمر، نا عاصم بن كليب، عن أبي الجويرية، عن زيد بن خالد الجرمي قال: كنت جالسا عند عثمان إذ أتاه شيخ فلما رآه القوم قالوا أبو ذر فلما رآه قال مرحبا وأهلا بأخي، فقال أبو ذر: مرحبا وأهلا يا أخي، لقد أغلظت علينا في العزيمة، وأيم الله لو عزمت علي أخبره الخبور ما استطعت، (لفظ ابن أبي شيبة :وايم الله لو أنك عزمت علي أن أحبو لحبوت ما استطعت أن أحبو) أني خرجت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة متوجها نحو حائط بني فلان فلما جاء جعل يصعد بصره ويصوبه ثم قال لي: «ويحك بعدي» فبكيت فقلت: يا رسول الله، وإني لباق بعدك قال: «نعم فإذا رأيت البناء علا سلع فالحق بالمغرب »
”زیدبن خالد الجرمی کہتے ہیں: میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک بزرگ آئے جب لوگوں نے انہیں دیکھا توکہا: یہ ابوذررضی اللہ عنہ ہیں ۔جب عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا توکہا: ہم اپنے بھائی کو مرحبا اور خوش آمدید کہتے ہیں۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے ہمیںحکم دینے میں سختی کی ہے ۔اللہ کی قسم اگرآپ مجھے حکم دیں کہ میں زمین پرگھسٹ کرچلو تواپنی استطاعت بھر میں یہ بھی کرنے کے لیے تیارہوں ۔میں اللہ کے نبیe کے ساتھ ایک رات بنوفلاں کے باغ کی جانب نکلا، جب آپ پہنچے تو نگاہ اوپردوڑانے لگے پھر نگاہ سیدھی کی اور کہا: ”میرے بعد تمھاری بربادی ہو” ۔ میں روپڑا اورکہا: اے اللہ کے رسول صلي الله عليه وسلم! کیا میں آپ کے بعد باقی (باحیات ) رہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور جب تم یہ دیکھنا کہ عمارتیں سلع تک پہنچ چکی ہیں تو مغرب (شام ) کی طرف روانہ ہوجانا۔“ [معجم ابن الأعرابی ١/٧٥ وإسناده صحيح أوحسن علي الأوقل وأخرجه مختصرا ابن شبة في 3/ 1041]
اس کی سند صحیح ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ کے شاگردشیخ مشہورحسن نے اس کی سند کو حسن قراردیا ہے۔ (ا لعراق فی أحادیث وآثار الفتن:ص٣٥٣)
اس حدیث سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں:
① اول: اللہ کے نبی صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ایک خاص علامت کے بعد ابوذررضی اللہ عنہ کو مدینہ سے شام جانے کا حکم دیا تھا۔
② دوم: اس علامت کے ظہور سے پہلے ابو ذر رضی اللہ عنہ مدینہ سے شام نہیں جاسکتے تھے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور علامت کے بعد ہی انھیں مدینہ سے نکلنے کا حکم دیاتھا۔
③ سوم: اس علامت کے ظہور کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ کا شام روانہ ہونا طے شدہ ہے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایسا حکم دیا تھا۔
④ چہارم: ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کوعثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت ہی میں ظاہر کیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ ہی کی خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی گئی علامت ظاہرہوئی تھی، جسے دیکھ کر ابوذر رضی اللہ عنہ شام روانہ ہوگئے۔ یعنی عثمان رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں ابوذر رضی اللہ عنہ شام گئے تھے، اس سے قبل آپ مدینہ میں ہی مقیم تھے۔ (دیکھئے: ”ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کاجائزہ“ ،حصہ دوم ، ص٢٣،٢٤)
اب اس پر ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات [الحدیث ( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤٦،٤٧] جوابات کے ساتھ ملاحظہ ہوں:
✿ ”اللہ کے نبی صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ایک خاص علامت کے بعد ابوذررضی اللہ عنہ کو مدینہ سے شام جانے کا حکم دیا تھا۔“
اعتراض: ”جی بالکل لیکن وہ خاص علامت کب ظہورپذیرہوئی؟ مذکورروایت میں درکنارکسی بھی صحیح روایت میں اس کا تذکرة نہیں“
جواب:
عرض ہے کہ مذکورہ روایت میں یہ ذکرہے کہ عہدعثمانی میں ابوذررضی اللہ عنہ شام گئے تھے اورکسی بھی صحیح روایت میں یہ نہیں ملتا کہ عہدعثمانی سے قبل بھی ابوذررضی اللہ عنہ شام میں موجود تھے۔ یہی اس بات کی دلیل ہے کہ عہدعثمانی سے قبل ابوذر رضی اللہ عنہ شام میں موجود ہی نہیں تھے ۔لہٰذا یہ علامت بھی عہدعثمانی میں ہی ظاہر ہوئی تھی، جسے دیکھ کر وہ مدینہ سے شام آگئے ۔امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی توکہا ہے :
« والمعروف أن أبا ذر کان بالشام زمن عثمان، وعلیہا معاویة، ومات یزید ف زمن عُمَر، ولا یعرف لأب ذر قدوم الشام زمن عُمَر »
”معروف (معلوم وثابت شدہ) بات یہ ہے کہ ابو ذررضی اللہ عنہ شام میں عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں تھے اور اس وقت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ شام کے امیر تھے اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں وفات پاگئے اور عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ابو ذررضی اللہ عنہ کا شام آنا نامعلوم ہے۔“ (التاریخ الأوسط للبخار:١/ ٣٩٧)
✿ ”اس علامت کے ظہور سے پہلے ابو ذر رضی اللہ عنہ مدینہ سے شام نہیں جاسکتے تھے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور علامت کے بعد ہی انھیں مدینہ سے نکلنے کا حکم دیاتھا“
اعتراض : ”اس میں محض سکونت ترک کرنے کا ذکر ہے ،اس کا یہ مفہو م لینا کہ وہ کسی جہادی مہم یاتجارتی غرض سے بھی مدینہ سے باہر نہیں نکل سکتے، بالکل غلط ہے“
جواب:
یہ نکتہ امام بخاری رحمہ اللہ کی سمجھ نہیں آیا کہ ابوذررضی اللہ عنہ گرچہ شام میں نہیں تھے، لیکن جہادی مہم پر تو شام آسکتے تھے؟
شام یہ مدینہ کے پڑوس میں نہیں ہے کہ شام کی جہادی مہم میں ابوذررضی اللہ عنہ کو فوراپہنچا دیا جائے، بلکہ یہ بہت دور کا علاقہ ہے، اس لئے ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہاں پہنچانے کے لئے پہلے مدینہ سے نکالنے کا توثبوت فراہم کریں۔نیزابویعلی کی روایت میں حدیث یزید کے الفاظ ہیں:
« کان أبوذربالشام زمن یزید بن أبی سفیان »
”اورابوذررضی اللہ عنہ یزیدبن سفیان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام میں تھے“ (المطالب العالیة بزوائد المسانید الثمانیة :١٨/٢٧٨)
اب اس مردود روایت میں جہادی مہم میں شامل ہونے کی بات ہورہی ہے؟ یاشام میں ان کی سکونت بھی بتائی جارہی ہے؟ کیا اس سے مدینہ کی سکونت ترک کرنا لازم نہیں آتا؟ لہٰذاجب حدیثِ رسول کے مطابق ابوذررضی اللہ عنہ اس علامت سے قبل مدینہ ترک نہیں کرسکتے تھے، جس کاظہورعہدعثمانی میں ہوا تو حدیث یزید میں کسی کا یہ بیان کرنا کہ عہدِ عثمانی سے قبل یزیدبن ابی سفیان ہی کے دور میں ابوذررضی اللہ عنہ شام میں رہ رہے تھے، یہ ایک من گھڑت کہانی کے سواکچھ نہیں، جیساکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے۔
✿ ”اس علامت کے ظہور کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ کا شام روانہ ہونا طے شدہ ہے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایسا حکم دیا تھا“
اعتراض: ”جی بالکل !لیکن اس علامت کا ظہورکب ہوا؟ واضح دلیل کا محتاج ہے نہ کہ موصوف کے ذہنی اختراع کا“
جواب:
شام میں ابوذررضی اللہ عنہ کا ورود عہدِعثمانی سے قبل ثابت ہی نہیں ہے ،یہی اس بات کی دلیل ہے کہ عہدِعثمانی سے قبل ابوذر رضی اللہ عنہ شام میں موجود ہی نہیں تھے ۔ لہٰذا یہ علامت بھی عہدعثمانی میں ہی ظاہر ہوئی تھی، جسے دیکھ کر وہ مدینہ سے شام آگئے ۔یہی امام بخاری نے کہا ہے۔ کمامضی.
✿ ”ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کوعثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت ہی میں ظاہر کیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ ہی کی خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی گئی علامت ظاہرہوئی تھی، جسے دیکھ کر ابوذر رضی اللہ عنہ شام روانہ ہوگئے۔ یعنی عثمان رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں ابوذر رضی اللہ عنہ شام گئے تھے، اس سے قبل آپ مدینہ میں ہی مقیم تھے“
اعتراض : ”مذکورہ، ودیگراحادیث سے یہ توثابت ہے کہ سیدناابوذررضی اللہ عنہ شام سے واپس مدینہ عہدعثمان رضی اللہ عنہ میں آئے ،لیکن کسی صحیح روایت سے قطعا یہ ثابت نہیں کہ سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ مدینہ سے شام گئے بھی عہدعثمانی ہی میں تھے۔“
جواب:
مذکورہ بالا اور دیگر احادیث سے یہ توثابت ہوتا ہے کہ ابوذررضی اللہ عنہ شام عہد عثمانی میں تھے، لیکن کسی بھی صحیح روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عہد عثمانی سے پہلے بھی ابوذررضی اللہ عنہ شام میں موجود تھے ۔عہدعثمانی میں ابوذر شام میں ہوتے ہیں اور اس کا تذکرہ متعدد روایات میں ملتا ہے تواگر عہد عثمانی سے قبل یزیدبن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی اگر آپ شام میں تھے تو اس کا تذکرہ بھی کسی روایت میں ملنا چاہیے نا ؟ امام بخاری نے اسی بات کا انکارکیا ہے؟ اب ان کے انکارکے خلاف ثبوت کون دے گا؟
اعتراض:
”سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ واپسی کے فیصلے پرناپسندیدگی کا اظہارفرمارہے ہیں ،اوریہ واضح ہے کہ اگر عہدعثمان سے پہلے مدینہ چھوڑتے وقت یہ علامت ظاہرہوچکی تھی تووہ عہدعثمان میں بھی برقرارتھی ۔۔۔الخ“
جواب:
عہدعثمان سے پہلے مدینہ چھوڑنے کا ثبوت کہاں ہے؟ شام میںان کا وجوداور عثمان رضی اللہ عنہ کا انہیں واپس بلانا، پھران کایہ حدیث پیش کرنا، ان سب کا تذکرہ عثمان رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں ہو رہاہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ علامت کا ظہور عثمان رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں ہواتھا۔اگرآپ کے بقول عہدعثمان سے پہلے یہ علامت ظاہر ہوچکی تھی توآپ عہدعثمان سے پہلے شام میں ابوذررضی اللہ عنہ کا وجود ثابت کریں۔
دوسرے شاہد پر اعتراضات کاجائزہ:
مناسب معلوم ہوتاہے کہ دوسراشاہد بھی مع سند ومتن پہلے پیش کر دیا جائے، ملاحظہ ہو:
امام بیہقی رحمہ اللہ (المتوفی٤٥٨) نے کہا:
«حدثنا أبو عبد الله الحافظ، حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قلابة بن الرقاشي، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا أبو عامر وهو صالح بن رستم الخزاز عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامت، قال: قالت أم ذر والله ما سير عثمان أبا ذر ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا بلغ البناء سلعا فاخرج منها، فلما بلغ البناء سلعا وجاوز خرج أبو ذر إلى الشام. وذكر الحديث في رجوعه ثم خروجه إلى الربذة وموته بها»
”ابوذررضی اللہ عنہ کی بیوی ام ذررضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! عثمان رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو نہیں روانہ کیا بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے ابو ذر!) جب عمارتیں سلع تک پہنچ جائیں تو تم یہاں (مدینہ ) سے نکل جانا۔ چناں چہ جب عمارتیں سلع تک پہنچ گئیں اور تجاوز کرگئیں تو ابوذ ررضی اللہ عنہ شام کی طرف نکل گئے۔ پھر انھوں نے شام سے ابوذررضی اللہ عنہ کی واپسی اور پھر ربذة کی جانب ان کی روانگی اور وہاں وفات کا ذکر کیا۔“(دلائل النبوة للبیہقی: ٦ /٤٠١ وإسناده صحيح وصححه الحاكم والذهبي ، انظر: المستدرك : ٣ /٣٤٤ رقم٥٤٦٨)
اس روایت میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے دورسے قبل ابو ذر رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی سکونت ترک نہیں کی تھی، کیونکہ اسی دور میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی سکونت ترک کرنے والا بتلایا گیا ہے…الخ (دیکھئے ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کاجائزہ،حصہ دوم ،ص ٢٤،٢٥)
ہم نے یہ دوسراصحیح شاہد پیش کیا تھا جس میں ابوذررضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے عثمان رضی اللہ عنہ پر لگائے گئے اس الزام کو رفع کیا ہے کہ انہوں نے ابوذررضی اللہ عنہ کو مدینہ سے نکال دیا ۔ابوذررضی اللہ عنہ کی بیوی فرماتی ہیں کہ ابوذررضی اللہ عنہ کا مدینہ کی سکونت چھوڑنا یہ عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے نہیں تھابلکہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پر عمل کرتے ہوئے مدینہ چھوڑ کرشام چلے گئے تھے، پھران کو واپس مدینہ بلایا گیا تو وہ ربذہ چلے گئے، کیوں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی انہیں مدینہ چھوڑنے کاحکم دیا تھا۔
اس حدیث کے مطابق عثمان رضی اللہ عنہ پرالزام تھا کہ ان کی وجہ سے ابوذررضی اللہ عنہ نے مدینہ کی سکونت ترک کردی تھی، لیکن ابوذررضی اللہ عنہ کی بیوی نے عثمان رضی اللہ عنہ کادفاع کرتے ہوئے کہا کہ ابوذررضی اللہ عنہ نے مدینہ کی سکونت عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم کی وجہ سے نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے ترک کی تھی ۔
ابوذررضی اللہ عنہ کی اہلیہ کے بیان سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ان کے شوہر ابوذررضی اللہ عنہ نے مدینہ کی سکونت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی ترک کی تھی اورایساانہوں نے حدیث پر عمل کرتے ہوئے کیا تھا، یعنی حدیث میں مذکورعلامت بھی دورعثمانی میں ہی ظاہرہوئی تھی ۔
دکتور بسام بن عبداللہ الغانم العطاوی نے اس حدیث کو امام بخاری کے قول کی دلیل بتلایا ہے۔دیکھئے: ”الأحادیث التی أعل المام البخاری متونہا بالتناقض“ (ص: ٢٣١)
ندیم ظہیر صاحب نے اس حدیث کو ضعیف قراردیا ہے، حالانکہ امام حاکم اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قراردیا ہے ۔ندیم صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں موجود ”ابوقلابہ الرقاشی“ مختلط ہوگئے تھے اور یہاں ان سے یہ حدیث ”احمدبن الکامل“ نے روایت کی ہے اورانہوں نے ابوقلابہ سے ان کے اختلاط کے بعد سناہے۔ ندیم ظہیر صاحب نے امام ابن خزیمہ کا یہ قول نقل کیاہے:
« قال ابن خزیمة فی صحیحہ: ثنا أبو قلابة بالبصرة قبل أن یختلط ویخرج لی بغداد »
”یعنی ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں کہا :ہم سے ابوقلابہ نے بیان کیا اختلاط کے شکار ہونے اوربغداد روانہ ہونے سے پہلے“ [الحدیث ( ١٣٥، ١٣٦ ) ص٤٦،٤٧ بحوالہ ذیل میزان الاعتدال للعراقی]
جواباً عرض ہے کہ یہاں پر دوباتیں قابل بحث ہیں:
اول: کیا واقعی ابوقلابہ عام معنوں میں ایسے مختلط ہوگئے تھے کہ اختلاط کے بعد ان کی رویات ضعیف شمارکی گئیں ؟
دوم: کیا احمدبن الکامل نے ابوقلابہ سے اختلاط کے بعد سناہے؟
① ابوقلابہ کے اختلاط کی نوعیت:
”مختلط“ کا لفظ اصطلاحی اور غیر اصطلاحی دونوں معنوں میں مستعمل ہوتاہے اورسیاق وسباق اورمحدثین کا تعامل دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کہاں کس مفہوم میں یہ استعمال ہوا ہے۔ اصطلاحی معنی میں ”مختلط“ کا مطلب یہ ہے کہ اختلاط کے بعد ایسے راوی پر خطا غالب ہے، اس لئے اس کی صرف وہی روایات صحیح ہوں گی، جو اختلاط سے قبل اس سے سنی گئی ہیں ۔
غیراصطلاحی معنی میں ”مختلط“ کا مطلب یہ ہے کہ کسی راوی کا حافظہ بعد میں متغیر ہوگیا اور پہلے کی بنسبت اس کے حفظ میں نقص آگیا، لیکن اس پر خطا غالب نہیں ہے ۔ایسے راوی کو بھی لغوی طوپر ”مختلط“ کہہ دیا جاتا ہے، لیکن چونکہ اختلاط کے بعد اس پر خطاغالب نہیں ہوتی، اس لئے اختلاط کے بعدبھی اس کی روایت صحیح یاکم ازکم حسن ہی ہوتی ہیں، الا یہ کہ کسی خاص روایت میں اس کے اختلاط کا اثر ثابت ہوجائے۔ ایسے راوی کو لغوی اعتبار سے ”مختلط“ کہہ دیا جاتاہے، لیکن عام اصطلاحی معنی میں اسے ”مختلط“ نہیں مانا جاتاہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی٣٥٤) نے اسی مفہوم میں ایک راوی کو مختلط کہتے ہوئے فرمایا:
« وهو مختلط ، ولم یکن اختلاطا فاحشا ، فلذلك أدخلناہ فی الثقات »
”یہ مختلط ہے، لیکن اس کا اختلاط فاحش نہیں ہے، اس لئے ہم نے اسے ثقات میں داخل کیا ہے۔“ [الثقات لابن حبان، ط دار الفکر٦/٣٥١]
ظاہر ہے کہ یہاں امام ابن حبان رحمہ اللہ نے عام اصطلاحی معنی میں مختلط نہیں کہا ہے بلکہ تغیر اور نقصِ حفظ مراد لیا ہے۔
ایک امام نے ایک راوی کے بارے میں اختلاط کی بات کہی تو امام ذہبی رحمہ اللہ نے یہ وضاحت کی کہ یہاں ان کے کلام میں اختلاط سے عام یعنی اصطلاحی اختلاط مراد نہیں ہے، بلکہ تغیر اور نقصِ حفظ مراد ہے، چنانچہ امام ذہبی رحمہ اللہ (المتوفی٧٤٨ ) نے کہا:
« وقال أبو زرعة: سمع من أبی سحاق بعد الاختلاط وهو ثقة ،قلت:ما اختلط أبو سحاق أبدا ونما یعنی بذلك التغیر ونقص الحفظ »
”ابوزرعہ نے کہا: زہیر نے ابواسحاق سے ان کے مختلط ہونے کے بعد سناہے۔ میں (ذہبی ) کہتاہوں:ابواسحاق کبھی مختلط نہیں ہوئے، یہاں مختلط سے ابوزعہ کی مراد یہ ہے کہ وہ تغیر اور نقصِ حفظ کا شکار ہوگئے تھے۔“ [تذکرة الحفاظ للذہبی، ط دار الکتب ١/١٧١]
امام ذہبی رحمہ اللہ کی وضاحت سے معلوم ہوا کہ امام ابوزرعہ کی بات میں اختلاط سے اصطلاحی اختلاط نہیں، بلکہ تغیر اور نقصِ حفظ مراد ہے۔ معلوم ہوا کہ کبھی کبھی کسی راوی کو غیر اصطلاحی معنی میں بھی مختلط کہا جاتا ہے اوراس سے مراد تغیر و نقص حفظ ہوتا ہے۔یہی حال ابوقلابہ الرقاشی کا بھی ہے کہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے محض تغیرِ حفظ کے معنی میں اختلاط کی بات کہی ہے۔اس بات کی دلیل یہ ہے کہ محدثین نے ابوقلابہ کی مرویات کو مطلقاً صحیح کہا ہے، جیساکہ زیرِبحث حدیث ہی کا معاملہ ہے کہ امام حاکم اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہاہے۔ نیزحافظ ابن حجررحمہ اللہ لکھتے ہیں:
« صدوق یخطیء تغیر حفظه لما سکن بغداد »
”یہ صدوق ہیں، غلطی کرتے تھے اور بغداد میں سکونت اختیارکرنے کے بعد ان کاحفظ متغیر ہوگیاتھا۔“ (تقریب التہذیب لابن حجر: رقم ٤٢١٠)
غورکریں! حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے انہیں عام معنی میں مختلط ثابت نہیں کیا، بلکہ صرف تغیرِ حفظ کی بات کی ہے ۔
ابوقلابہ ہی کی طرح ایک راوی بغداد پہنچے تو ان کا حافظہ متغیر ہوگیا، ان کے بارے میں حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اسی طرح تغیرِ حفظ کی بات کہی ہے، اس پر حافظ زبیرعلی زئی صاحب فرماتے ہیں:
”حافظ ابن حجرنے تقریب التھذیب میں کہا: ”صدوق تغیر حفظہ لماقدم بغداد وکان فقیھا“ بہت سچے ہیں جب آپ بغدادتشریف لائے تو آپ کاحافظہ متغیر ہوگیااورآپ فقیہ تھے (٣٨٦١)سابقہ عبارت سے صاف ظاہرہے کہ تغیرِحفظ کی وجہ سے ابن ابی الزنادکی حدیث ضعیف نہیں ہوئی، بلکہ حسن لذاتہ کے درجہ پر ہے، لہٰذا یہاں تغیرِحفظ مضرنہیں ہے“ [ مقالات٤ /٣٧٥،٣٧٦]
معلوم ہواکہ حافظ ابن حجرنے بغداد پہنچنے کے بعد ان کے تغیرِحفظ ہی کی بات کہی ہے، یعنی انہوں نے ابن خزیمہ کے قول کا مطلب تغیرِ حفظ ہی لیا ہے اور یہ مضر نہیں ۔بلکہ بعض محققین تو ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی بات کو تغیرِحفظ کے معنی میں بھی ناقابل قبول قراردیتے ہیں، یعنی سرے سے ہی اسے رد کرتے ہیں، چنانچہ تحریر التقریب کے مؤلفین (دکتور بشار عواد اور شیخ شعیب ارناؤوط) ابوقلابہ الرقاشی کے تغیرِ حفظ کے بارے میں لکھتے ہیں:
«أما تغير حفظه، فلم يذكره سوى ابن خزيمة، فقال: حدثنا أبو قلابة بالبصرة قبل أن يختلط ويخرج إلى بغداد . وهذا القول مدفوع بوصف البغاددة له بالحفظ والإتقان، مثل محمد بن جرير الطبري، والخطيب البغدادي، بل قال ابن الأعرابي: وكان من الثقات، وكان قد حدث بسامراء وبغداد فما ترك من حديثه شيئا »
”جہاں تک ان (ابوقلابہ الرقاشی ) کے تغیرِ حفظ کی بات ہے تو اس کا تذکرہ سوائے ابن خزیمہ کے کسی نے نہیں کیا ہے۔ ابن خزیمہ کہتے ہیں: ” ہم سے ابوقلابہ نے بیان کیا اختلاط کے شکار ہونے اوربغداد روانہ ہونے سے پہلے ” یہ قول اس وجہ سے مردود ہے، کیونکہ اہلِ بغداد نے ابوقلابہ الرقاشی کو حفظ واتقان سے متصف کیا ہے ،مثلا محمدبن جریر طبری اور خطیب بغدادی نے بلکہ ابن الأعرابی نے کہا: یہ ثقات میں سے تھے اور سامراء اوربغداد میں حدیث بیان کرتے تھے، پس ان کی احادیث میںسے کوئی حدیث ترک نہیں کی گئی ۔“ [تحرير تقريب التهذيب 2/ 389 رقم4210]
معلوم ہواکہ ابن خزیمہ کے علاوہ کسی نے بھی تغیرِ حفظ کی بات نہیں کی ہے، حتی کہ اہلِ بغداد نے بھی نہیں۔
ایک راوی سے متعلق صرف اورصرف امام بیہقی رحمہ اللہ نے اختلاط و تغیر کی بات کہی تو اس پر حافظ زبیرعلی زئی صاحب فرماتے ہیں:
”شیخ عبدالرحمن المعلمی کاخیال ہے کہ حمادکا آخری عمر میں سوئے حفظ (یااختلاط)سوائے بیہقی کے کسی نے ذکر نہیں کیا ہے“ [مقالات٢ /٤١٣]
اس تفصیل سے معلوم ہواکہ ابوقلابہ الرقاشی کا عام اصطلاحی معنی میں مختلط ہونا ثابت ہی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ محدثین نے ان کی احادیث کو مطلقاً صحیح قراردیاہے۔
② ا حمدبن الکامل کا ابوقلابہ سے وقتِ سماع:
بالفرض یہ مان لیں کہ ابوقلابہ اصطلاحی معنی میں مختلط ہوگئے تھے تو بھی اس بات کاقطعا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ احمدبن الکامل نے اختلاط کے بعد ابوقلابہ سے سناہے۔امام ابن خزیمہ نے اختلاط کے الزام میں صرف یہ کہا ہے کہ یہ بغداد جانے سے پہلے اختلاط کا شکار نہیں ہوئے تھے ،لیکن یہ نہیں کہا ہے کہ بغداد پہنچنے کے فوراً بعد اختلاط کا شکار ہوگئے۔ اس لئے احمدبن الکامل کا سماع اس وقت بھی ہوسکتاہے جب یہ شروع شروع میں بغداد آئے تھے ۔
اسی لئے امام عراقی نے ابن خزیمہ کے قول کی بنیاد پر جن رواة کے بارے میں یہ کہا ہے کہ انہوں نے بغداد میں ان سے سنا ہے، ان کے بارے میں یہ قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ انہوں نے اختلاط کے بعد ہی سناہے، چناں چہ کہا:
« ومن من سمع منه ببغداد فہو بعد الاختلاط أو مشکوك فیه »
”جنہوں نے ابوقلابہ سے بغداد میں سناہے، ان کا سماع اختلاط کے بعد ہے یا مشکوک ہے۔“ (التقیید والیضاح ص٤٦٢)
مشکوک ہے، یعنی یہ بھی ہوسکتاہے کہ بغداد میں سننے والوں نے بھی اختلاط سے قبل سناہو۔کیونکہ بغداد میںقدم رکھتے ہی فوراً ان کے مختلط ہوجانے کی بات ابن خزیمہ نے نہیں کی ہے۔ چونکہ احمدبن الکامل نے ابوقلابہ سے جوروایات بیان کی ہیں، انہیں محدثین نے صحیح قراردیاہے، اس لئے بالفرض یہ تسلیم کرلیں کہ ابوقلابہ بغداد میں مختلط ہوگئے تھے تو بھی احمدبن الکامل کاان سے سماع اختلاط سے پہلے ماناجائے گا۔
حافظ زبیرعلی زئی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں:
”جن محدثین کرام نے اس روایت کو صحیح یاقوی قراردیا ہے، ان کے نزدیک (بشرط تسلیم اختلاط)یہ روایت حماد نے اختلاط سے پہلے بیان کی ہے“ [مقالات٢ /٤١٣]
ایک دوسری جگہ حافظ زبیرعلی زئی صاحب فرماتے ہیں:
”محدثین کی تصحیح سے یہی ظاہرہے کہ عبدالوارث بن سفیان کا ان سے سماع اختلاط سے پہلے کا ہے“ [مقالات٦ /١٣٣]
ایک تیسری جگہ حافظ زبیرعلی زئی صاحب فرماتے ہیں:
”جمہورمحدثین کرام کا اس کی بیان کردہ حدیث کوحسن یا صحیح قراردینااس کی دلیل ہے کہ عمروبن مرہ کا عبداللہ بن سلمہ سے سماع اس کے اختلاط سے پہلے کاہے، لہٰذا اس سند پراختلاط کاالزام مردودہے“ [اضواء المصابیح ص ٩٦ رقم (٥٨) نیزدیکھیں:الحدیث شمارہ ٢٦،ص٤]
عرض ہے کہ ابوقلابہ سے احمدبن الکامل کی احادیث کو بھی محدثین نے صحیح قراردیاہے، اس لئے محدثین کی تصحیح سے یہی ظاہر ہے کہ احمدبن الکامل کا ابوقلابہ سے سماع اختلاط سے پہلے کا ہے۔
مزید اسے حافظ زبیرعلی زئی صاحب کے ایک ”نادر اصول“ کی روشنی میں سمجھئے ،موصوف لکھتے ہیں:
”اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ہشام بن عروہ نے یہ حدیث مدینے میں بیان نہیں کی تھی اورنہ اس کا کوئی ثبوت ہے کہ عراقیوں نے ان سے یہ حدیث مدینہ جاکر نہیں سنی، مگر صرف عراق ہی میں سنی ہے“ [ مقالات٦ /٢٥٨]
قارئین کرام ! آپ تو سمجھ گئے ہوں گے کہ اس عبارت سے کیا مترشح ہورہاہے؟ یعنی « اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ابوقلابہ الرقاشی نے نے یہ حدیث بصرہ میں بیان نہیں کی تھی اورنہ اس کا کوئی ثبوت ہے کہ بغدادیوں نے ان سے یہ حدیث بصرہ جاکر نہیں سنی مگر صرف بغداد ہی میں سنی ہے»
حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے یہ ”نادراصول“ گھڑاتو اپنے فائدے کے لئے تھا، لیکن یہاں ان کے شاگردرشید پرالٹ پڑگیا!!
قارئین کرام !آپ نے دیکھ لیا کہ ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کے جوابات ہم نے خود ان کے استاذممدوح ہی کی روشنی میں دے دیے ہیں۔
کیا علامہ البانی رحمہ اللہ نے پوری روایت کو ضعیف کہا ہے؟
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو ضعیف ہی قراردیاہے۔دیکھئے سلسلہ ضعیفہ (١٢/٤٨٩رقم:٥٧١٩)“ [الحدیث ( ١٣٥،١٣٦ ) ص٤٩]
یہاں بھی ندیم ظہیر صاحب نے تدلیس سے کام لیا ہے۔ اول توعلامہ البانی رحمہ اللہ نے اس پوری روایت کو ضعیف نہیں کہا، بلکہ صرف مرفوع حصے ہی کو ضعیف کہا ہے، جس سے ہمارے استدلال پرکوئی فرق نہیں پڑتا۔
دوسرے یہ کہ ندیم ظہیر صاحب نے قارئین پر یہ ظاہر کیا ہے کہ جس وجہ سے وہ اس روایت کو ضعیف کہہ رہے ہیں، ٹھیک اسی وجہ سے علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو ضعیف کہا ہے، جب کہ معاملہ ایسا نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ اس سند میں موجود ”ام ذر رضی اللہ عنہا“ کو صحابیہ ہی نہیں مانتے ۔بس اسی وجہ سے انہوں نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔ چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
« وأم ذر لم تثبت صحبتہا، کما بینته فی التعلیق علی ترجمتہا من (تیسیر الانتفاع) »
”ام ذر کی صحبت ثابت نہیں ہے جیساکہ میں نے ”تیسرالانتفاع” میں ان کے ترجمہ پر تعلیق میں بیان کیا ہے۔“ [سلسلہ ضعیفہ (١٢ /٤٩٠رقم:٥٧١٩]
لیکن ندیم ظہیر صاحب نے اس سند پر اعتراض کرتے ہوئے یہ بات ہرگز نہیں کہی ہے کہ ام ذر رضی اللہ عنہا صحابیہ نہیں ہیں ،جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ وہ علامہ البانی رحمہ اللہ کی وجہ تضعیف سے متفق نہیں ہیں ،پھر جب وہ خود اس وجہ تضعیف سے متفق نہیں ہیں توبلاوجہ اپنی تائید میں علامہ البانی رحمہ اللہ کاحوالہ دینے کا مطلب ؟
ہماری نظر میں راجح یہی ہے کہ یہ صحابیہ ہیں ۔لیکن چونکہ ندیم ظہیر صاحب نے بھی یہ جراَت نہیں کی ہے کہ ان کے صحابیہ ہونے کا انکار کریں، اس لئے ہم مزید تفصیل پیش کرنا ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔ اگرندیم صاحب اعلان کردیں کہ وہ بھی ام ذررضی اللہ عنہا کو صحابیہ نہیں مانتے تو ہم اس کاجواب بھی حاضر کردیں گے ۔
دوسری بات یہ کہ بالفرض مان لیں کہ ام ذررضی اللہ عنہا صحابیہ نہیں ہیں تو بھی ایسی صور ت میں اس روایت کا صرف مرفوع والاحصہ ((ذا بلغ البنیان سلع فاخرج منہا)) اس سند سے ضعیف ثابت ہوگا، کیونکہ یہاں اسے ام ذرضی اللہ عنہا بیان کررہی ہیں اور ان کے صحابیہ نہ ماننے کی بناپر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کاسماع ثابت نہیں ۔یادرہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صرف اتنے حصہ ہی کو ”حدیث الترجمة“ بناکراسے ضعیف کہا ہے اور روایت کا بقیہ حصہ چوں کہ ام ذررضی اللہ عنہا کا اپنا ذاتی مشاہد ہ ہے، اس لئے یہ حصہ خودعلامہ البانی رحمہ اللہ کے اصول سے بھی صحیح وثابت ہے اوریہی حصہ ہمارے استدلال کی بنیاد ہے ۔
بلکہ مرفوع والا حصہ بھی گرچہ اس سند سے ضعیف ہو، لیکن معجم ابن الاعرابی والی روایت میں یہ حصہ بھی ابوذررضی اللہ عنہ کے بیان سے مرفوعا ثابت ہے، جسے ہم نے پہلے شاہد کے طور پر ذکرکیا ہے اورندیم ظہیر صاحب نے بھی اس سند پرکوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔لہٰذا اس شاہد کے ساتھ اس روایت کا یہ حصہ بھی صحیح وثابت ہے، یعنی پوری روایت صحیح ہے۔ نیزچونکہ ام ذررضی اللہ عنہا کے شوہر ابوذررضی اللہ عنہ کے بیان سے یہ مرفو ع حصہ ثابت ہے، اس لئے بالفرض ام ذررضی اللہ عنہا صحابیہ نہیں ہیں تو ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے شوہرہی سے اس حدیث کو سن کربیان کیا ہو، بالخصوص جب کہ وہ اسی حدیث پر اپنے شوہرکا عمل بیان کررہی ہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ کارجوع
حسنِ ظن کے نام پر ندیم ظہیر صاحب نے اپنی خیانت پر جو پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے، اگر سیاق و سباق سے آنکھیں بندکرلیں،تب بھی اس پریقین کرنے کی گنجایش اس لئے نہیں ہے، کیونکہ آگے چل کر خود ندیم ظہیر صاحب نے اس بات کو بے سند کہہ کررد کیا تھا، جسے ہم نے صریح رجو ع کی دلیل میں پیش کیا تھا۔
دکتورمحمدبن ہادی کے حوالے سے متعلق ہم اپنی پہلی تحریر میں واضح کرچکے ہیں کہ انہوں نے یہ بات لکھی ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کی وفات سے تین دن قبل جو عقیدہ لکھا گیا، اس میں یزید سے متعلق ان کی خاموشی والا موقف بھی لکھا گیا۔
اب یہ لکھی ہوئی چیز کوئی دو تین سو سال بعد بیان کررہاہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اسی نے خود یہ بات لکھی ہے، ظاہر ہے شروع میں اس کالکھنے والا کوئی امام احمد کاشاگرد ہی ہے، پھر اس لکھی ہوئی چیز ہی کو بعد کے لوگوں نے بیان کیا ہے۔
یہ بات ہم نے محض دکتور محمدبن ہادی کے الفاظ دیکھتے ہوئے کہی تھی ،اب اگر ندیم صاحب کااعتراض یہ ہے کہ اسے امام احمد کے کسی شاگرد نے نہیں لکھا ہے، یعنی یہ مکتوب کی روایت نہیں ہے، بلکہ بعد بہت بعد کے کسی اما م نے بلاسند اس کو بیان کیا ہے توعرض ہے پھربھی معنوی طور پر یہ بات صحیح سند سے امام احمدرحمہ اللہ سے ثابت ہے، لہٰذا اسے پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چناں چہ ہم پہلی تحریر میں ہی وضاحت کرچکے ہیں کہ اما م احمد رحمہ اللہ نے لعنت سے متعلق پوچھے جانے والے سوال پر خاموشی اختیارکرنے کی بات کہی، لیکن ساتھ میں یزید کو نہ صرف مومن قراردیا، بلکہ اسے خیرالقرون والی فضیلت کا مصداق بھی قراردیاہے۔
لعنت کی نفی کے لئے صرف اسے مؤمن کہہ دینا کافی تھا، کیونکہ خیرالقرون کیا، موجوده دورکے بھی کسی مومن پرلعنت نہیں کی جاسکتی ۔لیکن امام احمد رحمہ اللہ یزید کو صرف مومن کہنے پراکتفا نہیں کررہے، بلکہ اس کی یہ فضیلت بھی بتلارہے ہیں کہ وہ قرون مشہود لہا بالخیر میں سے ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کی پہلے جو جرح ہے وہ حافظہ کی جرح نہیں ہے، بلکہ ظلم اورظلماً صحابہ کاقتل اور لوٹ کھسوٹ کی جرح ہے، بھلا بتلائیے کہ جس کی نظر میں یزید اتنے سنگین اکبرالکبائر اورگھٹیا حرکتوں والاہو، بھلا وہ یزید کی فضیلت بیان کرسکتاہے ؟
رہاندیم ظہیرصاحب کا یہ کہنا:
”یہ استدلال تو ایسے ہی ہے جیسے کسی محدث کے یہاں پہلے سے ضعیف قرارپائے راوی سے متعلق پوچھا جائے کہ کیا وہ کذاب تھا ؟تو محدث اس کے کذاب کاانکارکردے ، پھرکوئی اٹھ کرکہہ دے کہ محدث نے اس کے ضعف سے بھی رجوع کر لیا ہے!!“ [الحدیث ( ١٣٥،١٣٦ ) ص٥٢]
تو یہ تمثیل اس وقت درست ہوتی جب یزیدبن معاویہ پرضعف کی جرح ہوتی،ظاہر ہے کذب کی جرح سے نفی، ضعف کی جرح سے نفی کو مستلزم نہیں ، لیکن یزید پرضعف کی جرح نہیں، بلکہ اس پر ظلم اور ظلماًصحابہ کے قتل اور لوٹ کھسوٹ کی جرح ہے اورایسی جرح اس بات سے مانع ہے کہ جارح اس مجروح کی فضیلت بیان کرے ۔
رہاندیم ظہیر صاحب کا یہ فرمانا:
”اہل ایمان ومسلمان خواہ کتناہی گناہ گارکیوں نہ ہو، اسے اس فضیلت سے محروم نہیں کیاجاسکتا۔ یہی اہل سنت کا موقف ہے۔ کسی کو اس فضیلت سے محروم کرنے کے لئے اسے کافر،مشرک یامنافق ثابت کرنا ضروی ہے“ [ الحدیث ( ١٣٥،١٣٦ ) ص٥٢]
اہلِ سنت کا یہ عقیدہ توہے کہ اہلِ ایمان ومسلمان کو اللہ کی رحمت ومغفرت اورجنت سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔کسی کو اس سے محروم کرنے کے لئے اسے کافر ،مشرک یامنافق ثابت کرنا ضروری ہے۔ لیکن اہلِ سنت کا یہ عقیدہ وہ بھی متفقہ عقیدہ ہم نے کہیں نہیں پڑھاکہ قرون مشہودلھا بالخیر کی فضیلت ہرفرد کے لئے ہے، خواہ وہ ظالم وجابر ، شرابی وزانی ،قاتلِ صحابہ اور لوٹ کھسوٹ کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔ ندیم صاحب اگراہلِ سنت کی عبارتوں سے اہلِ سنت کا یہ متفقہ موقف ثابت کردیں توہم اسے تسلیم کرنے میں ایک پل کی تاخیرنہیں کریں گے۔
دوسرا اگر مان بھی لیں کہ کوئی بھی فرد اس فضیلت سے مستثنیٰ نہیں توبھی کسی کوایسی فضیلت کاادنی مستحق ماننا اورکسی کی ایسی ادنی فضیلت کو بیان کرنا ، دونوں میں فرق ہے۔
جوامام ،یزید کو ظالم، ظلماً صحابہ کاقاتل او ر مدینہ جیسے مقدس شہر میں لوٹ کھسوٹ کرنے والا قراردے،کیا وہی اس کے بارے میں یہ کہہ سکتاہے کہ وہ خیرالقرون کی فضیلت والا ہے؟ بھلا ظلم ، قتل وغارت گری اورلوٹ کھسوٹ کے مقابلے میں اس عمومی فضیلت کے ادنی استحقاق کی کیا حیثیت ہے کہ اسے وہی امام بیان کرے جس نے یہ جرح کی ہے؟!
انہیں باتوں پر ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کاجواب ختم ہوتا ہے ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آں جناب نے غیرمعقول اعتراضات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ”تحریف الکلم عن مواضعہ” والے ا صول پر خوب عمل کیا ہے اورہمارے اصل دلائل کا جواب دینے کے بجائے ادھر ادھرکی باتیں لکھ ڈالی ہیں۔ حالانکہ اس طرح کے طرزِ عمل کے بارے میں خود ان کے استاذممدوح زبیرعلی زئی صاحب فرماتے ہیں:
”یادرہے کہ مخالف کے اصل دلائل کا جواب نہ دینا اورادھرادھرکی باتیں لکھ دینا جواب نہیں کہلاتا بلکہ شکست فاش کہلاتاہے۔“ [مقالات٥ /٢٦١]
وکتبہ
ابوالفوزان کفایت اللہ سنابلی
ممبئی
17/10/2016
تیسرا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر جائیں
ندیم ظہیر صاحب کی تیسری تحریر کا جواب