فرض نمازکے بعد آیت الکرسی پڑھنے سے متعلق روایات کاجائزہ

You are currently viewing فرض نمازکے بعد آیت الکرسی  پڑھنے سے متعلق روایات کاجائزہ

فرض نمازکے بعد آیت الکرسی پڑھنے سے متعلق روایات کاجائزہ

فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق مختلف الفاظ میں متعدد روایات منقول ہیں ان روایات کا اکثر حصہ موضوع من گھڑت ہے صر ف ایک دو روایت سے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض نے اسے صحیح یا حسن یا جید قرار دیا اور بعض نے ضعیف ، یا موضوع و من گھڑت قرار دیا ہے۔

 صحیح یا حسن کہنے والے بعض  اہل علم کے حوالے

① امام منذری رحمہ اللہ (المتوفى656)نے کہا:

«رواه النسائي والطبراني بأسانيد أحدها صحيح ، وقال شيخنا أبو الحسن هو على شرط البخاري وابن حبان في كتاب الصلاة وصححه ، وزاد الطبراني في بعض طرقه وقل هو الله أحد ، وإسناده بهذه الزيادة جيد أيضا»
”اسے امام نسائی و امام طبرانی نے کئی اسانیدسے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند صحیح ہے ، اور ہمارے شیخ ابوالحسن کہتے ہیں کہ یہ بخاری کی شرط پر ہے اورابن حبان نے اسے کتاب الصلاۃ میں نقل کیا ہے اور صحیح کہا ہے اورطبرانی کے بعض طرق میں آیۃ الکرسی پڑھنے کے ساتھ ساتھ سورہ اخلاص پڑھنے کا بھی ذکر ہے اور اس اضافہ والی سند بھی جیدہے۔“ [الترغيب والترهيب للمنذري: 2/ 299]۔
عرض ہے کہ:
امام منذری رحمہ اللہ نے ترغیب وترہیب میں بہت ساری ایسی احادیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے جس پرعلامہ البانی رحمہ اللہ نے تعاقب کیا اور ان کا تساہل واضح کیا ہے ۔
نیز یہاں پر امام منذری رحمہ اللہ نے اپنے شیخ سے جو یہ نقل کیا کہ یہ حدیث بخاری کی شرط پر ہے یہ بہت بڑی غفلت ہے کیونکہ اس حدیث کا کوئی ایک بھی ایسا طریق نہیں ہے جس کے تمام راوۃ صحیح بخاری کے ہوں پھر اسے بخاری کی شرط پر صحیح قرار دینا کیا معنی رکھتاہے ؟ نیز امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح ہرگزنہیں کہا ہے کیونکہ اسے اپنی صحیح میں نقل نہیں کیا بلکہ کتاب الصلاۃ نامی دوسری کتاب میں نقل کیا جس میں صحت کا کوئی التزام نہیں کیا ہے ، اسی طرح قل ھواللہ احد کے اضافہ کے ساتھ والی روایت کو جید قرار دینا بھی درست نہیں کیونکہ اس کی سند واضح طور پر ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے باطل وجھوٹ قرار دیا ہے کماسیاتی۔
اب غور کیا جائے کہ ایسی تصحیح کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے جس کے ساتھ ہی واضح ضعیف روایت کو بھی جید کہا جائے ، ابن حبان کی طرف بلاوجہ تصحیح منسوب کی جائے اور ایسی حدیث کو بخاری کی شرط پربتلایا جائے جس
کے ایک راوی کا بخاری میں سرے سے وجود ہی نہ ہو اور ایک دوسرے راوی کی صرف دو روایت بخاری میں شواہد ومتابعات کے پیش نظر ہوں؟؟

② امام الدمياطي رحمہ اللہ (المتوفى705)نے کہا:

«واسناد الروایتین علی شرط الصحیح»
”ان دونوں روایات کی سند صحیح کی شرط پرہے“ [المتجر الرابح في ثواب العمل الصالح: 643]۔
عرض ہے کہ:
امام دمیاطی کی یہ کتاب بھی فضائل اعمال پر ہے اورموصوف نے اس کتاب میں بھی بہت ساری موضوع ومن گھڑت و ضعیف احادیث بھر دی ہیں ، ایسے میں ان کی تصحیح کی کوئی اہمیت نہیں بالخصوص جبکہ موصوف نے دو روایات کی سند کو علی شرط الصحیح کہہ دیا جو بالکل خلاف واقعہ ہے۔

③ امام ابن عبد الہادی رحمہ اللہ (المتوفى744)نے کہا:

«وَلم يصب فِي ذكره فِي الموضوعات فَإِنَّهُ حَدِيث صَحِيح»
”جنہوں نے اس حدیث کو من گھڑت احادیث میں ذکر کیا ہے انہوں نے درست نہیں کیا کیونکہ یہ حدیث صحیح ہے“ [المحرر في الحديث ص: 209]۔
عرض ہے کہ:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام ابن عبدالھادی کی اس تصحیح پر تعاقب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
«قلت: لم أجد للمتقدمين تصريحاً بتصحيحه.»
”میں (حافظ ابن حجر) کہتاہوں کہ مجھے نہیں ملا کہ متقدمین محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہو“ [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
اب خود غور کیا جائے کہ جس روایت کو متقدمین نے کسی ایک نے بھی صحیح نہیں قرار دیا بلکہ اس کے برعکس کئی ایک نے ضعیف و معلول قرار دیا ایسی روایت کو صحیح قرار دینا وہ بھی بغیر کسی مضبوط بنیاد کے قطعا غیر مسموع ہے۔

④ امام ہیثمی رحمہ اللہ (المتوفى807)نے کہا:

«وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ» وَفِي رِوَايَةٍ: وَ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُهَا جَيِّدٌ»
”ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہرفرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اسے جنت میں جانے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روک سکتی ، اور ایک روایت میں سورۃ اخلاص کا بھی اضافہ ہے ۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں کئی سندوں سے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند جید ہے“ [مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 10/ 102]۔
عرض ہے کہ:
امام ہیثمی رحمہ اللہ کے تساہل سے علم حدیث کا ادنی طالب علم بھی واقف ہے ، امام ہیثی رحمہ اللہ سورۃ اخلاص والی روایت کو بھی شامل کرکے جو جید کا حکم لگایا ہے اس پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے تنقید کی ہے اور بتایاہے کہ سورۃ اخلاص والی روایت باطل وجھوٹ ہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«فالعجب أيضاً من الحافظ الهيثمي؛ فإنه ذكر الحديث في المجمع (10/102) بهذه الزيادة، وقال: رواه الطبراني في الكبير و الأوسط بأسانيد، وأحدها جيد ! فلم يفرق بين روايته الصحيحة، والرواية الباطلة! وهو في ذلك تابع للمنذري في الترغيب (2/261) ، وتبعهما في ذلك جمع؛ منهم: الشوكاني في ، وصاحبنا المعلق على المعجم الكبير ، والدكتور فاروق في تعليقه على عمل النسائي ، وأخونا الشيخ الفاضل مقبل بن هادي الوادعي في تعليقه على تفسير ابن كثير (1/546 - الكويت) ، فضلاً عن ذاك الجاهل في ما أسماه صحيح صفة الصلاة ... ! فإنه ذكر فيه (ص 233) أنه يُسنُّ قراءة {قل هو الله أحد} مع المعوذتين۔»
”حافظ ہیثمی پر تعجب ہے کہ انہوں نے مجمع الزوائد (10/102) میں سورۃ اخلاص کے اضافہ کے ساتھ روایت ذکر کی اور اس کے بعد کہا: ''اسے طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں کئی سندوں سے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند جید ہے'' ۔ یہاں انہوں نے صحیح روایت اور جھوٹی روایت میں کوئی تفریق نہیں کی ، اور انہوں نے ایسا کرنے میں ''ترغیب '' (2/261)میں امام منذری کے قول کی پیروی کی ہے اور بہت سارے لوگوں نے ان دنوں کی پیروی میں یہی بات کہہ ڈالی جن میں امام شوکانی تحفة الذاكرين (ص 117) میں، دکتور فاروق نے ''عمل النسائی'' پر اپنی تعلیق میں ، اور ہمارے فاضل بھائی شیخ مقبل بن ہادی الوداعی نے تفسير ابن كثير (1/546 - الكويت) پر اپنی تعلیق میں یہ بات کہی ہے ۔ اور اس جاہل کی تو بات ہی الگ ہے جس نے ''صحیح صفۃ الصلاۃ'' نامی کتاب لکھی اور اس میں ص (ص 233) پر کہا کہ: معوذتین کے ساتھ سورہ اخلاص بھی پڑھ سکتے ہیں“ [السلسلة الضعيفة 13/ 33] ۔

⑤ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى852)نے کہا:

«هذا حديث حسن غريب»
”یہ حدیث حسن غریب ہے“ [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 294]۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث سے متعلق مختلف مقامات پر مختلف باتیں کہیں ہیں ، بلوغ المرام میں کہا ہے کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے [بلوغ المرام من أدلة الأحكام 1/ 58]
لیکن دوسرے مقام پر کہا:
«وقد أخرجه ابن حبان في كتاب الصلاة المفرد من رواية يمان بن سعيد عن محمد بن حمير ولم يخرجه في كتاب الصحيح۔»
”ابن حبان نے اسے ”کتاب الصلاۃ“ نامی علیحدہ کتاب میں یمان بن سعید کے طریق سے روایت کیا ہے اور اپنی کتاب صحیح میں اسے روایت نہیں کیا“ [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
بلکہ ایک مقام پر کہا:
«سلمنا، لكنه لا يستلزم أن يكون ما رواه موضوعاً»
”ہم نے تسلیم کرلیا کہ یہ روایت ضعیف ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ موضوع ہے“ [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔

⑥ امام سيوطي رحمہ اللہ (المتوفى911)نے کہا:

«والحديث صحيح على شرطه»
”یہ حدیث بخاری کی شرط پر صحیح ہے“ [اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة: 1/ 210]۔
امام سیوطی کی تصحیحات میں جو تساہل ہے وہ بھی معروف ومشہور ہے، یہ روایت بخاری کی شرط پر کیسے صحیح ہوسکتی ہے جب کہ اس کا ایک راوی بخاری میں سرے سے موجود ہی نہیں اور ایک دوسرے راوی کی صرف دو روایات شواہد کے پیش نظر منقول ہیں۔
یادرہے کہ یہ اس روایت کو صحیح یا حسن یا جید کہنے والے سب کے سب متاخرین اہل علم ہیں متقدمین و سلف میں سے کسی ایک بھی محدث نے اسے صحیح نہیں کہا ہے ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام ابن عبدالھادی کی تصحیح پر تعاقب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
«قلت: لم أجد للمتقدمين تصريحاً بتصحيحه.»
”میں (حافظ ابن حجر) کہتاہوں کہ مجھے نہیں ملا کہ متقدمین محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہو“  [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔

معاصرین میں علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے پھر علامہ البانی رحمہ اللہ ہی کی پیروی میں متعدد اہل علم نے اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھئے [ السلسلة الصحيحة :2/ 697:]۔

اس روایت پر کلام کرنے والے اور اسے ضعیف کہنے والے بعض اہل علم

دوسری طرف اہل علم کا ایک دوسرا گروہ ہے جو اس حدیث کی صحت کاقائل نہیں بعض نے اس پرکلام کیا ہے تو بعض نے اسے صراحتا ضعیف قرار دیا ہے حتی کی بعض نے انہیں موضوع ومن گھڑت گردانا ہے۔بعض حوالے ملاحظہ ہوں:

① امام عبد الله بن سلیمان بن الأشعث (المتوفى385) نے اس روایت کو معلول قرار دیتے ہوئے کہا:

«لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ ابْنُ حُمَيْرٍ إِلا بِطَرْسُوسَ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدَ أَهْلِ حِمْصَ.»
”محمدبن حمیر  نے (محمد بن زياد الحمصی  سے روایت کرتے ہوئے ) اسے صرف طرطوس میں بیان کیا ہے اور یہ روایت اہل حمص کے پاس ہے ہی نہیں“ [الخامس من الأفراد لابن شاهين ص: 232]۔

② امام ابن شاہين رحمہ اللہ(المتوفى385)نے امام عبد الله بن سلیمان کا قول برضاء ورغبت نقل کرتے ہوئے کہا:

«وَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ ابْنُ حُمَيْرٍ إِلا بِطَرْسُوسَ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدَ أَهْلِ حِمْصَ.»
”ہم سے امام عبد الله بن سليمان نے کہا کہ : محمدبن حمیر الحمصی نے (محمد بن زياد الحمصی کے سے روایت کرتے ہوئے ) اسے صرف طرطوس میں بیان کیا ہے اور یہ روایت اہل حمص کے پاس ہے ہی نہیں“ [الخامس من الأفراد لابن شاهين ص: 232]۔
اس قول کی مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔

③ امام دارقطنی رحمہ الله (المتوفى385) نے بھی اس پر کلام کیا ہے

چنانچہ امام سیوطی نے امام دارقطنی رحمہ اللہ کی کتاب سے سے نقل کرتے ہوئے کہا:
«تفرد به محمد بن حمير وليس بالقوي»
”اس روایت کو نقل کرنے میں محمدبن حمیر منفرد ہے اور یہ قوی حافظہ والا نہیں ہے۔“ [اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة: 1/ 210 نیز دیکھیں : الموضوعات لابن الجوزي 1/ 244 ، ایضا تخريج احاديث إحياء علوم الدين رقم 1106 ]۔

④ امام ابن الجوزي رحمہ اللہ(المتوفى597) اس روایت کو موضوعات میں نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:

«قال الدارقطني: غريب من حديث الألهاني عن أبي أمامة تفرد به محمد بن حمير عنه. قال يعقوب بن سفيان: ليس بالقوى »
”امام دارقطنی نے کہا: یہ روایت محمد بن زياد الألهاني کے طریق سے غریب ہے اور اوراسے نقل کرنے میں محمدبن حمیر منفرد ہے اورامام یعقوب بن سفیان نے کہا کہ محمدبن حمیر قوی حافظ والا نہیں ہے“ [الموضوعات لابن الجوزي 1/ 244]۔

فائدہ:
امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597) نے کہا:
«قُلْتُ كنت قد سَمِعت هَذَا الحَدِيث فِي زمن الصِّبَا فاستعملته نَحوا من ثَلَاثِينَ سنة لحسن ظَنِّي بالرواة فَلَمَّا علمت أَنه مَوْضُوع تركته فَقَالَ لي قَائِل: أَلَيْسَ هُوَ اسْتِعْمَال خير؟ قلت اسْتِعْمَال الْخَيْر يَنْبَغِي أَن يكون مَشْرُوعا، فَإِذا علمنَا أَنه كذب خرج عَن المشروعية.»
”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بچپن میں یہ حدیث سنی تھی اور تقریبا تیس سال تک اس پرعمل کرتارہا لیکن جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ حدیث موضوع ومن گھڑت ہے تو میں نے اس پر عمل کرنا چھوڑدیا ، امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری یہ بات سن کر ایک شخص نے کہا: کیا اچھا عمل نہیں ہے ؟ میں نے کہا: اچھے عمل کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسنون ہو اور جب ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ جھوٹ ہے تو یہ مسنون نہیں رہ گیا“ [الموضوعات لابن الجوزي 1/ 245]۔
عرض ہے کہ جولوگ تیس پچاس سال سے اس حدیث پر عمل کررہے ہیں ان کے لئے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کی اس بات میں بڑی عبرت ہے۔

⑤ امام نووی رحمہ  الله (المتوفى676)نے کہا:

«وروى الطبرانی في معجمه احاديث في فضل آية الكرسي دبر الصلاة المكتوبة لكنها كلها ضعيفة»
”امام طبرانی نے اپنی کتاب معجم میں فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق کئی احادیث روایت کی ہین لیکن یہ سب کی سب ضعیف ہیں“ [المجموع للنووی: 3/ 486 وانظر خلاصة الأحكام 1/ 469]۔

⑥ شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ الله (المتوفى728)نے کہا:

«قَدْ رُوِيَ فِي قِرَاءَةِ آيَةِ الْكُرْسِيِّ عَقِيبَ الصَّلَاةِ حَدِيثٌ لَكِنَّهُ ضَعِيفٌ وَلِهَذَا لَمْ يَرْوِهِ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكُتُبِ الْمُعْتَمَدِ عَلَيْهَا فَلَا يُمْكِنُ أَنْ يَثْبُتَ بِهِ حُكْمٌ شَرْعِيٌّ»
”نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق حدیث مروی ہے لیکن یہ ضعیف ہے ، اسی لئے معتمد علیہ کتب احادیث کے مصنفین نے اسے روایت ہی نہیں کیا لہٰذا ایسی حدیث شرعی حکم ثابت نہیں ہوسکتا۔“ [مجموع الفتاوى ( الباز المعدلة ) 22/ 508]۔

ایک دوسری جگہ نماز بعد اذکار کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
«وأما قراءة آية الكرسي فقد رويت بإسناد لا يمكن أن يثبت به سنة»
”اور رہی بات( فرض نماز بعد) آية الكرسي پڑھنے کی تو وہ ایسی سند سے مروی ہے جس سے سنت ثابت نہیں ہو سکتی“
[مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 22/ 516]

 ◈ تنبیہ

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا:
«وَبَلَغَنِي عَنْ شَيْخِنَا أَبِي الْعَبّاسِ ابْنِ تَيْمِيّةَ قَدّسَ اللّهُ رُوحَهُ أَنّهُ قَالَ مَا تَرَكْتُهَا عَقِيبَ كُلّ صَلَاةٍ»
”مجھے (کسی کے ذریعہ) خبر ملی ہے کہ ہمارے شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے کسی بھی نماز کے بعد اسے ترک نہیں کیا“ [زاد المعاد 1/ 285]۔
عرض ہے کہ:
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنا مشاہدہ ذکر نہیں کیا ہے بلکہ کسی نامعلوم شخص کے واسطے سے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس عمل کا ذکر کیا ہے لہٰذا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ واقعۃ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایسا کوئی عمل تھا کیونکہ اس بات کا ناقل مجہول و نامعلوم ہے نیز خود ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اپنے کلام میں میں ہمیں اس کے برعکس یہ بات مل رہی ہے کہ وہ اس روایت کو ضعیف قرار دے رہے ہیں کما مضی۔
نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے آیۃ الکرسی والی روایت کو ضعیف قرار دینے بعد فورا ہی کہا:
«وَأَمَّا إذَا قَرَأَ الْإِمَامُ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي نَفْسِهِ أَوْ قَرَأَهَا أَحَدُ الْمَأْمُومِينَ فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ إذْ قِرَاءَتُهَا عَمَلٌ صَالِحٌ وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ تَغْيِيرٌ لِشَعَائِرِ الْإِسْلَامِ كَمَا لَوْ كَانَ لَهُ وِرْدٌ مِنْ الْقُرْآنِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ عَقِيبَ الصَّلَاةِ . وَأَمَّا الَّذِي ثَبَتَ فِي فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الذِّكْرِ عَقِيبَ الصَّلَاةِ فَفِي الصَّحِيحِ… »
”اوراگر امام آیت الکرسی اپنے دل میں پڑھ لے یا مقتدی اس طرح پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا پڑھنا عمل صالح ہے اور اس میں شعائر اسلام کی تبدیلی نہیں ہے جس طرح کوئی شخص نماز کے بعد قران کی کسی بھی آیت کو پڑھ لے یا دعاء و ذکر کرے ، لیکن نماز کے بعد جن اذکار کو پڑھنے کی فضیلت کا ثبوت ہے تو صحیح بخاری وغیر میں دوسرے اذکار منقول ہیں“ [مجموع الفتاوى 22/ 509]۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ان الفاظ سے معلوم ہوا کہ وہ آیۃ الکرسی والی حدیث کو ضعیف ماننے کے باجود عام اذکار وادعیہ پر قیاس کرتے ہوئے اس کے پڑھنے میں حرج نہیں سمجھتے تھے ، ممکن ہے اسی بناد پر آپ آیۃ الکرسی بھی پڑھتے رہے ہوں لیکن اس سے یہ قطعا ثابت نہیں ہوتا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس سلسلے میں آنے والی حدیث کو بھی صحیح سمجھتے تھے کیونکہ آپ نے واضح طور پر اسے ضعیف قرار دیا اس کے بعد ہی اسے پڑھنے کاجواز بتلایا ہے پھر اس کے بعد فورا ان کا اذکار کاتذکرہ کیا ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں ۔ یہ بات ہم اس صورت میں کہہ رہے ہیں جب یہ فرض کرلیں کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایساکوئی عمل تھا ورنہ ہم یہ پہلے واضح کرچکے ہیں کہ خودابن تیمیہ رحمہ اللہ سے نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنا ثابت نہیں ہے۔

معاصرین میں سے بھی درج ذیل اہل علم نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے:

✿ علامہ عبدالرحمن بن يحيى المعلمي فرماتے ہیں:

«مدار الحديث على محمد بن حمير، رواه عن محمد بن زياد، الألهاني، عن أبي أمامة، وابن حمير موثق، غمزه أبو حاتم، ويعقوب بن سفيان، وأخرج له البخاري في الصحيح حديثين، قد ثبتا من طريق غيره، وهما من روايته عن غير الألهاني، فزعم أن هذا الحديث على شرط البخاري غفلة»
”اس حدیث کا دارو مدار محمدبن حمیر پر ہے اس نے محمد بن زياد الألهاني عن أبي أمامة کے طریق سے یہ روایت نقل کی ہے اس کی توثیق کی گئی ہے لیکن امام ابوحاتم اور امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہما اللہ نے اس پر جرح کی ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری میں اس کی صرف در روایات درج کی ہے اور یہ دونوں دوسرے طرق سے ثابت ہیں نیز ان دونوں کو اس نے محمد بن زياد الألهاني کے طریق سے روایت نہیں کیا ہے ، لہٰذا اس حدیث کو بخاری کی شرط پر سمجھنا غفلت ہے“ [حاشیہ الفوائد المجموعة بتحقیق المعلمی ص: 299]۔
اس کے بعد علامہ معلمی رحمہ اللہ نے اس کے دیگر طرق کاتذکرہ کرکے سب کو مردو قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ جرح وتعدیل میں علامہ معلمی رحمہ اللہ کو جس طرح عبور حاصل تھا عصر حاضر میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی خود علامہ البانی رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا:
«وان من اولئک العلماء الذین لھم قدم راسخة فی ھذا المجال : العلامة المحقق عبدالرحمن المعلمی الیمانی رحمہ اللہ»
”جن اہل علم کو فن رجال میں رسوخ حاصل ہے انہیں میں سے علامہ محقق عبدالرحمن المعلمی الیمانی رحمہ اللہ ہیں“ [مقدمہ صحیح موارد الظمآن: 1/ 54]۔

✿ شیخ ربيع بن هادي عمير المدخلي فرماتے ہیں:

«هو ضعيف في نظري من طريق أبي أمامة وحديثا جابر وعلي رضي الله عنهما لا يصلحان للاعتبار ولا ينهضان لجبران حديث أبي أمامة كما ترى خصوصا وأن لفظ حديث جابر يختلف تماما عن لفظ حديث أبي أمامة وعلي.»
”یہ حدیث میری نظر میں ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے ضعیف ہے اور جابر و علی رضی اللہ عنہما کی حدیث استشہاد کے قابل نہیں ، اور حدیث ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے ضعف کو دور نہیں کرسکتیں جیساکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ، بالخصوص جبکہ جابررضی اللہ عنہ کی حدیث کا متن ابوامامہ وعلی رضی اللہ عنہما کی حدیث کے متن سے بالکل الگ ہے“ [حاشیہ :النكت على ابن الصلاح 2/ 849]۔

✿ محدث مصر شیخ علي بن إبراهيم الحشيش أستاذ علوم الحديث جماعة أنصار السنة المحمدية نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے آپ لکھتے ہیں:

«وقول شیخنا الالبانی رحمہ اللہ ”والحدیث صحیح من طریق او من طرق اخری عن محمدبن حمیر ” غیر صحیح لان محور ارتکاز الضعف ھو محمدبن حمیر والطرق اللذی اوردھا الشیخ کما ھی مبینہ عبارۃ عن متابعات لمن ھو دون محمدبن حمیر۔»
”ہمارے شیخ البانی رحمہ اللہ کا یہ کہنا غیر درست ہے کہ : ” یہ حدیث محمدبن حمیر کے طریق سے یا محمدبن حمیر کے تلامذہ کے طرق سے صحیح ہے ” کیونکہ اس حدیث کے ضعف کا دار مدار محمدبن حمیر ہے اور محمدبن حمیر کے شاگردوں والے جن طرق کی طرف شیخ البانی نے اشارہ کیا ہے ان سب سے محمدبن حمیر کے کسی شاگرد ہی کی متابعت ہوتی ہے ناکہ محمدبن حمیر کی“ [علم مصطلح الحديث التطبيقي:ص294]۔
عرض ہے کہ محمدبن حمیر کے کسی شاگرد کی بھی کوئی متابعت ثابت نہیں ہے جیساکہ تفصیل اپنے مقام پر آرہی ہے اوراگرثابت ہوجائے تب بھی حدیث ضعیف ہی رہے گی جیساکہ شیخ علی بن ابراہیم الحسیش نے وضاحت کی ہے ۔

✿ محدث مصر علامہ محمد عمرو عبد اللطيف رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وخلاصة القول: أن الأحاديث الثلاثة لا يصح منها شيء ,بل هي منكرة ساقطة, وكان المتوقع أن يسأل القارئ -حفظه الله – عن حديث أبى أمامة الذي يوافق حديث علي في القطعة الأولى منه ,وكنت قد حسنته في ((تبييض الصحيفة)) (جـ1)لكنني رجعت عن ذلك لتفرد محمد بن حمير الحمصى -رحمه الله – به وهو موثق لكن أبا حاتم الرازي , ويعقوب بن سفيان الفسوي قد غمزاه بما يقتضي أنه لايحتمل منه مثل هذا الحديث ,وقد سبقنى إلي ذلك أخي الحبيب الشيخ علي إبراهيم حشيش في مجلة التوحيد أيام كان يتولى هذا الباب واتضح لي صحة تحقيقه بفضل ربي تعالى فاسأله العفو عما سلف))»
”خلاصہ کلام یہ کہ فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق تینوں احادیث میں سے کوئی بھی صحیح نہیں بلکہ یہ سب منکر وساقط ہیں اور توقع تو یہ تھی کہ مجلہ التوحید کے قارئین حدیث ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے متعلق سوال کریں گے جو ایک ٹکڑے میں حدیث علی رضی اللہ عنہ کے موافق ہے اور میں نے ((تبييض الصحيفة)) (جـ1) میں اسے حسن کہا تھا لیکن اب میں نے اس سے رجوع کرلیا ہے کیونکہ اسے روایت کرنے میں محمدبن حمیر منفرد ہے اس کی گرچہ توثیق کی گئی ہے لیکن امام ابوحاتم اور امام فسوی رحمہما اللہ نے اس پر ایسی جرح کی ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس کی اس جیسی منفرد روایت قبول نہ کی جائے ، اور مجھ سے پہلے یہی تحقیق ہمارے محترم بھائی شیخ علی ابراہیم حشیش نے بھی مجلہ التوحید میں پیش کی ہے جن دنوں وہ اس کالم کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے ، اور میرے نزدیک ان کی تحقیق الحمدللہ صحیح ثابت ہوئی ہے اس لئے میں رب تعالی سے پچھلی فروگذاشت پر معافی کا طلبگار ہوں“ [ مجلة الوحيد في عددي رجب وشعبان 1415هـ تحت باب أسئلة القراء عن الأحاديث ]۔

اب اگلی سطور میں ہم اس حدیث کے تمام طرق کاتفصیلی جائزہ لیں گے:

حدیث علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

علی رضی اللہ عنہ سے آیہ الکرسی والی حدیث دو طریق سے مروی ہے:

پہلا طریق (ازمحمد الباقر):

امام ابن السني رحمه الله (المتوفى364)نے کہا:
«حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَالْآيَتَيْنِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ: {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [آل عمران: 18] ، وَ {قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ} [آل عمران: 26] إِلَى قَوْلِهِ: {وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ} [آل عمران: 27] مُعَلَّقَاتٌ، مَا بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ، لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُنْزِلَهُنَّ تَعَلَّقْنَ بِالْعَرْشِ، قُلْنَ: رَبَّنَا، تُهْبِطُنَا إِلَى أَرْضِكَ، وَإِلَى مَنْ يَعْصِيكَ. فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: بِي حَلَفْتُ، لَا يَقْرَأُكُنَّ أَحَدٌ مِنْ عِبَادِي دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ إِلَّا جَعَلْتُ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، وَإِلَّا أَسْكَنْتُهُ حَظِيرَةَ الْقُدُسِ، وَإِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ بِعَيْنِي الْمَكْنُونَةِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ نَظْرَةً، وَإِلَّا قَضَيْتُ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ حَاجَةً، أَدْنَاهَا الْمَغْفِرَةُ، وَإِلَّا أَعَذْتُهُ مِنْ كُلِّ عَدُوٍّ وَنَصَرْتُهُ مِنْهُ، وَلَا يَمْنَعُهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ ۔»
”صحابی رسول علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک سورہ فاتحہ ، آیۃ الکرسی ، آل عمران کی یہ دو آیات {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [آل عمران: 18] ، وَ {قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ} [آل عمران: 26] ۔۔۔ {وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ} [آل عمران: 27] تک ، یہ تمام آیات عرش الہی سے چمٹی ہوئی ہوئی ہیں ان کے اور اللہ کے مابین کوئی پردہ حائل نہیں ہے ، جب اللہ تعالی نے ان آیات کو نازل کرنے کا ارادہ فرمایا تو یہ آیتیں عرش الہی سے چمٹ گئیں اور کہنے لگیں : اے رب ! تو اپنی زمین پر ہمیں اتار رہا ہے اور ایسے لوگوں کے حوالہ کررہا ہے جو تیری نافرمانی کرتے ہیں ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: میری ذات کی قسم ! میرے بندوں میں سے جو کوئی بھی ہرنماز کے بعد تمہاری تلاوت کرے گا، وہ کیسا بھی ہوگا میں اسے جنت عطاکروں گا، اور اسے حظیرۃ القدس یعنی اپنے عرش کے قریب جگہ دوں گا، اور ہردن سوبار اسےاپنی خاص نظر رحمت سے دیکھوں گا ، اور ہردن اس کی ستر ضرورتیں پوری کروں گا جس میں سب سے چھوٹی چیز مغفرت ہوگی ، اور میں اسے ہردشمن سے نجات دوں گا ،اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روک سکتی ۔“ [عمل اليوم والليلة لابن السني ص: 111 واخرجہ ایضا ابن الجوزی فی ” الموضوعات” 1/ 245 من طریق الحارث بہ ]۔
یہ حدیث موضوع ومن گھڑت ہے اس کی سند میں موجود امام ابن سنی کے شیخ ”أبو جعفر بن بكر“ کا کوئی سراغ نہیں ملتا معلوم نہیں یہ کون ہے۔
اس کے علاوہ سند میں ایک اور راوی ”الحارث بن عمير“ ہے اس کو گرچہ بعض محدثین نے ثقہ کہا ہے مگر بعض دیگر محدثین نے اس پر سخت ، واضح اور مفسر جرح کی ہے اور اسے جھوٹی حدیث بیان کرنے والا کہا ہے ، چنانچہ:
◈ امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
«كَانَ مِمَّن يَرْوِي عَن الْأَثْبَات الْأَشْيَاء الموضوعات۔»
”یہ شخص ثقہ راویوں کے حوالے سے من گھڑت احادیث بیان کرتاتھا“ [المجروحين لابن حبان: 1/ 223]۔
◈ امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
«روى عَن حميد الطَّوِيل وجعفر بن مُحَمَّد الصَّادِق أَحَادِيث مَوْضُوعَة۔»
”اس شخص نے حمید طویل اور ”جعفربن محمد صادق” سے من گھڑت احادیث بیان کیاہے“ [المدخل إلى الصحيح ص: 127]۔
یاد رہے کہ اس سند میں الحارث بن عمير نے ”جعفر بن محمد صادق“ ہی سے روایت کیا ہے یہ خاص جرح ہے اگرحارث کو ثقہ مان لین تب بھی اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔
◈ امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
«وما أراه إلا بين الضعف۔»
”میں اسے واضح طورپر ضعیف جانتاہوں“ [ميزان الاعتدال للذهبي: 1/ 440]۔
 ◈ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ اسی سند سے اس روایت کو موضوع قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
«هَذَا حَدِيث مَوْضُوع تفرد بِهِ الْحَارِث بن عُمَيْر.قَالَ أَبُو حَاتِمِ بْنُ حِبَّانَ: كَانَ الْحَارِث مِمَّن يروي عَن الْأَثْبَات الموضوعات.روى هَذَا الحَدِيث وَلَا أصل لَهُ وَقَالَ أَبُو بكر مُحَمَّد بن إِسْحَاق بن خُزَيْمَة: الْحَارِث كَذَّاب وَلَا أصل لهَذَا الحَدِيث »
”یہ حدیث موضوع ہے ،حارث بن عمیر اسے بیان کرنے میں منفرد ہے اورابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں حارث بن عمیر ثقہ راویوں کے حوالے سے من گھڑت احادیث بیان کرتاتھا ، اس نے جو یہ حدیث بیان کی ہے یہ بے بنیاد ہے اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے کہا : حارث بن عمیر بہت بڑا جھوٹا شخص ہے اس کی بیان کردہ یہ حدیث بے بنیاد ہے“ [الموضوعات لابن الجوزي 1/ 245]۔

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(بیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR250.00 for it.

Leave a Reply