● ابوجعفر طحاوی رحمہ الله (المتوفى321) نے کہا:
«حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَ: ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حَضْرَمَوْتَ , فَإِذَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ الرُّكُوعِ , وَبَعْدَهُ» فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَغَضِبَ وَقَالَ: رَآهُ هُوَ وَلَمْ يَرَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا أَصْحَابُهُ »
”عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں مسجدِ حضرموت میں داخل ہوا، تو دیکھا کہ علقمہ بن وائل (اپنے والد سے) حدیث بیان کر رہے تھے: «بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے۔»
پھر میں نے یہ بات ابراہیم (النخعی) سے ذکر کی، تو وہ غصہ ہو گئے اور بولے: ”انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے نہیں دیکھا؟““
[شرح معاني الآثار، ت النجار: 1/ 224]
● امام طبراني رحمه الله (المتوفى360) نے کہا:
«حدثنا معاذ بن المثنى، ثنا مسدد، ثنا خالد، ثنا حصين، عن عمرو بن مرة قال: دخلت مسجد حضرموت، فإذا علقمة بن وائل يحدث، عن أبيه: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه قبل الركوع وبعده» فذكرت ذلك لإبراهيم، فغضب وقال: رآه ولم يره ابن مسعود وأصحابه»
”عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں مسجدِ حضرموت میں داخل ہوا، تو دیکھا کہ علقمہ بن وائل (اپنے والد سے) حدیث بیان کر رہے تھے: «بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے۔»
پھر میں نے یہ بات ابراہیم (النخعی) سے ذکر کی، تو وہ غصہ ہو گئے اور بولے: «انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے نہیں دیکھا؟! »“
[المعجم الكبير للطبراني 22/ 12]
.
یہ روایت منقطع ہونے کے سبب ضعیف ہے۔
کیونکہ تمام اہل فن کا اتفاق واجماع ہے کہ ابراہیم نخعی کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
تفصیل ملاحظہ ہو:
The remaining article is locked
Become a 3 Yearly member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے تین سالہ ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(نو سوروپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
