حدیث ابن مسعود اور ابن المبارک رحمہ اللہ کی جرح

You are currently viewing حدیث ابن مسعود اور ابن المبارک رحمہ اللہ کی جرح

حدیث ابن مسعود اور ابن المبارک رحمہ اللہ کی جرح

محدثین میں یہ بات معروف ومشہور ہے امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے سنن ترمذی وغیرہ میں موجود ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کو ضعیف یعنی غیر ثابت قرار دیا ہے جس میں صرف ایک دفعہ رفع الیدین کا ذکر ہے ۔
مگر حیرت ہے کہ ہزاروں سال بعد دیوبندی حضرات نے ائمہ فن کی تصریحات سے روگردانی کرتے ہوئے ایک نیا شوسہ چھوڑا ہے کہ ابن المبارک رحمہ اللہ جس روایت کی تضعیف کی ہے وہ ترمذی والی حدیث نہیں بلکہ طحاوی وغیرہ کی روایت کردہ دوسری حدیث ہے۔

اس مضمون میں ہم تین چیزوں پر بات کریں گے ۔

① سنن ترمذی میں موجود ابن المبارک رحمہ اللہ کے کلام اور سیاق وسباق کی وضاحت۔
② ان اہل علم کے حوالے جنہوں نے ابن المبارک رحمہ اللہ کی تضعیف کو ترمذی کی حدیث ابن مسعود کے ساتھ نقل کیا ہے۔
③ علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ کی کتاب ”نصب الراية“ پر عربی حاشیہ میں اس بابت پیش کردہ مغالطات کے مفصل جوابات

① سنن ترمذی اور امام ابن المبارک رحمہ اللہ کا کلام

امام ترمذی رحمہ اللہ نے ركوع والے رفع الیدین کے ثبوت میں زہری عن سالم عن ابن عمر رضی اللہ عنہ کے طریق سے مروی مرفوع حدیث پیش کی ہے ۔ اس کے بعد امام ابن المبارک رحمہ اللہ سے اس حدیث کی تصحیح نقل کی ہے ۔
چنانچہ امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279) نے کہا:
«وقال عبد الله بن المبارك: قد ثبت حديث من يرفع، وذكر حديث الزهري، عن سالم، عن أبيه، ولم يثبت حديث ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرفع إلا في أول مرة. حدثنا بذلك أحمد بن عبدة الآملي قال: حدثنا وهب بن زمعة، عن سفيان بن عبد الملك، عن عبد الله بن المبارك»
”عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ : رفع یدین کرنے والوں کی حدیث ثابت ہے پھر انہیں نے یہ حدیث زہری عن سالم عن ابیہ (عبداللہ بن عمر) کے طریق سے ذکر کی پھر مزید کہا کہ ابن مسعود کی وہ حدیث ثابت نہیں ہے جس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہلی مرتبہ (تکبیر تحریمہ میں) ہاتھ اٹھائے“ [سنن الترمذي ت شاكر 2/ 38 وإسناده صحيح]

یہاں غور کریں کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی رفع الیدین والی حدیث سے متعلق امام ابن المبارک کی جو تصحیح نقل کی ہے اس میں ساتھ ہی ابن المبارک رحمہ اللہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو ضعیف بھی کہا ہے جس میں صرف ایک دفعہ ہی رفع الیدین کا ذکر ہے ۔
عصر حاضر کے بعض دیوبندی حضرات کا کہنا ہے کہ یہاں ابن المبارک رحمہ اللہ سے جس حدیث ابن مسعود کی تضعیف مروی ہے وہ سنن ترمذی میں اس کے آگے مذکور مشہور حدیث ابن مسعود نہیں ہے ۔ کیونکہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس سے پہلے ہی یہ تضعیف ذکر کی ہے اور آگے جہاں وہ مشہور حدیث سند کے ساتھ لائے ہیں وہاں ابن المبار ک کی تضعیف ذکر نہیں کی ہے ۔
عرض ہے کہ:
امام ابن المبارک کے اس کلام میں صرف حدیث ابن مسعود کی تضعیف ہی نہیں ہے بلکہ حدیث ابن عمر کی تصحیح بھی ہے بلکہ کلام کے شروع میں پہلے حدیث ابن عمر کی تصحیح ہی ہے ۔
دراصل امام ترمذی رحمہ اللہ نے پہلے حدیث ابن عمر پیش کی ہے اس لئے ساتھ ہی اس کی تصحیح سے متعلق ابن المبارک کا کلام پیش کردیا اور اس کلام کے اخیر میں حدیث ابن مسعود کی تضعیف تھی ۔
چونکہ یہاں ساتھ ساتھ حدیث ابن مسعود کی تضعیف کاحوالہ بھی آچکا تھا اس لئے آگے جب امام ترمذی رحمہ اللہ حدیث ابن مسعود لائے تو وہاں ابن المبارک کے کلام کو دوبارہ ذکر نہیں کیا ۔

امام بیہقی کا حدیث ابن مسعود کے بعد ابن المبارک کی تضعیف پیش کرنا

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے ابن المبارک رحمہ اللہ کا یہ کلام نقل کیا ہے اور انہوں نے پہلے اپنی سند سے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کی اس کے فورا بعد اپنی سند سے ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس کلام کو نقل کیا،چنانچہ:
امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458) نے کہا:
✿ [1699] «أخبرنا أبو طاهر الزيادي، أنا أبو حامد بن بلال، ثنا محمد بن إسماعيل الأحمسي، ثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمة، قال: قال عبد الله: لأصلين بكم صلاة رسول الله – صلى الله عليه وسلم -. قال: فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة واحدة
✿ [1700] « أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ، أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، ثنا أحمد بن محمد بن الأزهر، ثنا عبد الله بن عبد الوهاب الخوارزمي، ثنا وهب بن زمعة، ثنا سفيان بن عبد الملك، قال: سمعت عبد الله بن المبارك يقول: قد ثبت حديث عبد الله بن عمر عن النبي – صلى الله عليه وسلم – في رفع الأيدي ، وذكر حديث الزهري، عن سالم، عن أبيه، ولم يثبت حديث ابن مسعود؛ أنه رفع يديه في أول تكبيرة » [الخلافيات بين الإمامين 2/ 359]
ملاحظہ فرمائیں !
یہاں امام بیہقی رحمہ اللہ نے عین حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بعد ہی ابن المبارک کے اس کلام کو نقل کیا جو اس بات کی بہت واضح دلیل ہے کہ ابن المبارک رحمہ اللہ کی تضعیف اسی حدیث ابن مسعود ہی سے متعلق ہے ۔

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR100.00 for it.