رفع الیدین پر امام ابوحنیفہ اور امام ابن المبارک کا مناظرہ

You are currently viewing رفع الیدین پر امام ابوحنیفہ اور امام ابن المبارک کا مناظرہ

رفع الیدین پر امام ابوحنیفہ اور امام ابن المبارک کا مناظرہ

امام بیہقی رحمه الله (المتوفى458) نے کہا:
«أخبرَنا أبو عبدِ اللهِ الحافظُ، أخبرَنا الحسنُ بن حَليمٍ الصّائغُ بمَروَ، حدثنا أبو الموَجِّهِ، أخبرَنِى أبو نَصرٍ محمدُ بنُ أبى الخَطّابِ السُّلَمِيُّ وكانَ رجلًا صالِحًا قالَ: أخبرَنِي عليُّ بنُ يونُسَ، حدَّثَنا وكيعٌ قال: صَلَّيتُ في مَسجِدِ الكوفَةِ، فإِذا أبو ‌حَنيفَةَ قائمٌ يُصَلِّى، وابنُ ‌المُبارَكِ إلى جَنبِه يُصَلِّى، فإِذا عبدُ اللَّهِ ‌يَرفَعُ يَدَيه كُلَّما رَكَعَ وكُلَّما ‌رَفَعَ، وأبو ‌حَنيفَةَ لا ‌يَرفَعُ، فلمَّا فرَغوا مِنَ الصَّلاةِ قالَ أبو ‌حَنيفَةَ لِعَبدِ الله: يا أبا عبدِ الرحمنِ، رأَيتُكَ تُكثِرُ ‌رَفعَ اليَدَينِ، أرَدتَ أن تَطيرَ؟! فقالَ له عبدُ اللَّهِ: يا أبا ‌حَنيفَةَ قَد رأَيتُكَ ‌تَرفَعُ يَدَيكَ حينَ افتَتَحتَ الصَّلاةَ، فأَرَدتَ أن تَطيرَ؟! فسَكَتَ أبو ‌حَنيفَةَ. قالَ وكيعٌ: فما رأَيتُ جَوابًا أحضَرَ مِن جَوابِ عبدِ اللهِ لأبِى ‌حَنيفَةَ »
”وكيع بن الجراح فرماتے ہیں: میں نے کوفہ کی مسجد میں نماز پڑھی۔ میں نے دیکھا کہ ابو حنيفہ (امام اعظم رحمہ اللہ) کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، اور عبد اللہ بن المبارك (رحمہ اللہ) ان کے ساتھ (بغل میں) نماز پڑھ رہے تھے۔ تو عبد اللہ بن المبارك ہر بار جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے تھے)، جبکہ ابو حنيفہ رفع یدین نہیں کر رہے تھے۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابو حنيفہ نے عبد اللہ سے کہا: اے ابا عبد الرحمن! میں نے دیکھا کہ تم بہت زیادہ ہاتھ اٹھا رہے ہو (رفع یدین کر رہے ہو)، کیا تم اڑنے کا ارادہ رکھتے ہو؟! عبد اللہ بن المبارك نے جواب دیا: اے ابا حنيفہ! میں نے بھی دیکھا کہ تم نے نماز شروع کرتے وقت (تکبیر تحریمہ پر) ہاتھ اٹھائے تھے، کیا تم اڑنے کا ارادہ رکھتے تھے؟! اس پر ابو حنيفہ خاموش ہو گئے (کوئی جواب نہ دے سکے)۔ وكيع فرماتے ہیں: ابن المبارک نے ابوحنیفہ کو جو جواب دیا اس سے بڑھ کر حاضر جوابی میں نے کبھی نہیں دیکھی“ [السنن الكبير للبيهقي (3/ 500 رقم 2573 ت التركي) وإسناده صحيح]

یہ سند صحیح ومتصل ہے ۔اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
اگلی سطور میں ہم اس سند کے ہر ہر راوی کی توثیق پیش کریں گے اور آخر میں اس کے دوسرے طرق واسانید پر بھی بات کریں گے ۔
ملاحظہ ہو پہلے مذکورسند کے ہر راوی کی توثیق:

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR100.00 for it.

Leave a Reply