(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)
① توحید پر ثابت قدمی اور شرک سے اجتناب
● توحید کی دعوت تمام انبیاء کا مشن ہے
{ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ } [النحل: 36]
● انسان کے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی
عن أَبَي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا»[صحيح البخاري 6483]
② اسماء وصفات پر ایمان بلا تعطیل وتشبیہ
● اللہ کے بارے میں جاننے والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں
{ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ} [فاطر: 28]
{وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ } [الأنعام: 91]
{ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا } [نوح: 13]
③ حب رسول اور ختم نبوت پر ایمان
● اہل حدیث اس امت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں اپنے والدین ، بال بچوں دوست واحباب تمام بزرگان دین اور ائمہ عظام سے بھی زیادہ
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» [صحيح البخاري 15]
● محبت کا سب بڑا تقاضا اتباع ہے اور اہل حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پرکسی بھی امام وبزرگ کے قول کو فوقیت نہیں دیتے
● اہل حدیث کے نزدیک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ تو اب کوئی نبی آسکتا ہے اور نہ ہی نبیوں والی خصوصیات کسی کومل سکتی ہیں۔
④ صحیح احادیث کا التزام اور مردود احادیث سے دوری
● عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: «إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ، فَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ صِدْقًا، وَمَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» [سنن ابن ماجه 35]
● عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا، فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ» [سنن أبي داود 3660]
● عن أَبَي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ»[صحيح مسلم 7]
⑤ حب صحابہ
The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین لکھنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر( دس روپے ) ادا کریں۔
This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR10.00 for it.