ندیم ظہیر صاحب کی پہلی تحریر کا جواب : حصہ اول

You are currently viewing ندیم ظہیر صاحب کی پہلی تحریر کا جواب : حصہ اول

ندیم ظہیر صاحب کی پہلی تحریر کا جواب : حصہ اول

(حافظ زبیر علی زئی کے شاگرد حافظ ندیم ظہیر صاحب کی طرف سے شیخ کفایت اللہ سنابلی کی کتاب یزید بن معاویہ  پر جو اعتراضات کئے گئے تھے ، شیخ کفایت اللہ سنابلی نے ان تمام اعتراضات کی تسلی بخش جوابات دئے ہیں ، ملاحظہ فرمائیں)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کافی عرصے سے مختلف لوگ یوں دھمکیاں دے رہے تھے کہ تمہاری کتاب کاجواب لکھا جارہاہے اور جواب لکھنے والے کوئی زبیرعلی زئی صاحب کے شاگرد رشید ”ندیم ظہیر“ صاحب ہیں۔
آخروہ گھڑی آگئی کہ ”بڑ ے میاں تو بڑے میاں اور چھوٹے میاں سبحان اللہ“ کا نمونہ دیکھنے کو ملا۔ ہماری بعض تحریروں کوسیاق وسباق سے کاٹ کرمحترم جناب ندیم ظہیرصاحب نے ہماراتضاد دکھانے کی ناکام کوشش کی ہے ۔ اس پرمجھے یہی لگتاہے کہ جناب نے خود کو مجھ پر اور اپنے ممدوح استاذ پر قیاس کیا ہے اور اپنی طرح ناچیز کو بھی دو رُخا سمجھ لیا ہے۔ مشہور عربی مثل ہے:والمرء يقيس علي نفسه !
سب سے پہلے ہم جناب ندیم ظہیرصاحب کے جوابی اصولوں میں سے ایک اہم اصول کی نشاندہی کر دیں، تاکہ ان کے بیشتر اعتراضات کی نوعیت اور ہماری طرف سے ان کے جوابات سمجھنے میں قارئین کو آسانی ہو۔

ندیم ظہیرصاحب اور اُن کے استاذممدوح کے جوابی علم کلام کا ایک اہم اصول
( يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ )

ندیم ظہیر صاحب اور اُن کے استاذممدوح دونوں کا یہ خاص اصول و ضابطہ ہے کہ یہ حضرات اپنے مخالف کی جن باتوں کا کوئی علمی جواب نہیں دے پاتے تو مخالف کی بات کا مفہوم ہی بدل کرپیش کردیتے ہیں، پھر اس کا جواب عرض کرتے ہیں اور اس کے بعد خوش ہو جاتے ہیں کہ جواب ہوگیا..!!
یہ اور اُن کے استاذ ممدوح نے اکثرو بیشتر جن حضرات کے خلاف بھی قلم اٹھایا ہے، سب کے ساتھ یہی سلوک کیاہے کہ اُن کی کئی باتوں کوبدل کرایک خود ساختہ مفہوم ہدیہ قارئین کر دیا، اس کے بعد اس کا جواب دے کر خوش ہوگئے کہ جواب ہوگیا۔

ندیم ظہیر صاحب نے اپنے مضمون میں میراتضاد دکھا نے میں بڑا زورصرف کیاہے اس کاجائزہ توہم پیش کریں گے لیکن سب پہلے ہم ان کے استاذممدوح کا ایک صریح اورکھلا ہوا تضاد قارئین کے سامنے پیش کردیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ جو دوسروں کی آنکھوں میں تنکا تلاش کرتے ہیں خود ان کی آنکھوں میں کتنا بڑاشہتیرہوتاہے:

● پہلا رخ:-

”لایعرف“ کے الفاظ میں امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے ابوقلابہ کی تدلیس کا انکار کیا ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب امام ابو حاتم کے انھیں الفاظ سے حجت پکڑتے ہوئے لکھتے ہیں:
”حافظ ذہبی سے زیادہ بڑے امام اور متقدم محدث ابو حاتم الرازی نے ابو قلابہ کے بارے میں فرمایا: لا يعرف له تدليس“ اور اُن کا تدلیس کرنا معروف (معلوم) نہیں ہے۔ (کتاب الجرح والتعدیل: ٥/ ٥٨) “[دیکھیں: علمی مقالات: ٣/ ٤٩٦، ٤٩٧۔ معروف کے بعد بریکٹ میں (معلوم) حافظ زبیر علی زئی صاحب ہی کی طرف سے ہے]

 ● دوسرارخ:-

”لايعرف“ کے الفاظ میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک خاص مقام پر دو صحابہ کی ملاقات کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: ”ولايعرف لأبي ذر قدوم الشام زمن عمر“ ، ”اورعمرفاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ابوذررضی اللہ عنہ کا شام آنا معروف نہیں ہے۔“ چوں کہ یہ حوالہ یزید کی حمایت میں تھا اس لئے جب ہم نے امام بخاری کا یہ قول بطوردلیل وبطور حجت پیش کیا تو زبیرعلی زئی صاحب نے لکھا:
”اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنے اس دعوی کی کوئی دلیل بیان نہیں کی ہے۔“ (مقالات٦ /٣٨٠)
ایک اورجگہ لکھا:
”یہ واقعہ چوں کہ امام بخاری کی پیدایش سے پہلے ہوا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ امام بخاری سے ابو ذررضی اللہ عنہ تک صحیح سند پیش کی جائے کہ وہ عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام نہیں گئے تھے۔“ (مقالات:٦ /٥٨٧)

تبصرہ:-

قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ جس طرح امام ابوحاتم نے ”لايعرف“ کے ذریعہ ایک چیزکاانکارکیا ہے ٹھیک اسی طرح امام بخاری نے بھی ”لايعرف“ کے ذریعہ ایک چیز کاانکار کیاہے۔ لیکن چونکہ امام بخاری کے انکار سے یزید کادفاع ہورہاتھا اس لئے امام بخاری کے انکار پرزبیرعلی زئی صاحب دلیل مانگ رہے ہیں ۔جب کہ امام ابوحاتم کے انکارکونہ صرف حجت مان رہے ہیں بلکہ امام ذہبی کے قول کے خلاف اسے بطور حجت پیش کررہے ہیں!!
ندیم ظہیرصاحب نے اپنی تحریر کے آغاز میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے یزید کی حمایت میں ابن الجوزی رحمہ اللہ کے سارے سوابق اورلواحق چھین لئے اس میں کتنی سچائی ہے اس کی وضاحت توآگے آرہی ہے لیکن اس سے پہلے ہم ان کے استاذ ممدوح زبیرعلی زئی صاحب کا چہر ہ لوگوں کے سامنے دکھا دیں کہ انہوں نے کس طرح یزید کی مخالفت میں نہ صرف یہ کہ محدثین کے سوابق اورلواحق چھینے ہیں بلکہ ا ن کے حق میں کیسی بازاری زبان استعمال کی ہے:

کیا ابن الجوزی رحمہ اللہ نے عبدالمغیث رحمہ اللہ سے دشمنی نہیں کی ؟

آئیے! اس عنوان کے تحت کچھ لکھنے سے قبل ہم ندیم ظہیرصاحب کوان کا من پسنددورخی ڈبہ عنایت کر دیں:

 ● پہلارخ:-

ندیم ظہیرصاحب کے استاذ ممدوح کے آئینے میں اُن کا پہلا رخ یوں ہے:
”امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ نے انہیں ذاتی دشمنی کی وجہ سے شدید جروح کا نشانہ بنایاہے“ [الکواکب الدریہ: ٤٢ ، مؤلف: حافظ زبیرعلی زئی ،سال طباعت١٩٩٧ء ، ناشر:جماعت اہل حدیث حضرو،ضلع اٹک]

 ● دوسرارخ:-

ندیم ظہیرصاحب لکھتے ہیں:
”علمائے کرام کے آپسی اختلافات کو”دشمنی“ سے تعبیرکرکے سنابلی صاحب کن لوگوں کے لئے راہ ہموارکررہے ہیں؟ یہ اہل علم سے مخفی نہیں ہے۔“ (اشاعة الحدیث: ١٣٤ ص٣١)

تبصرہ:-

ندیم ظہیرصاحب کے استاذممدوح نے صرف امام مالک رحمہ اللہ ہی نہیں بلکہ ”وغیرہ“ کہہ کے محمدبن اسحاق پرشدید جرح کرنے والے تمام محدثین کے فیصلوں کو ”ذاتی دشمنی“ سے تعبیرکردیا ۔اس وقت ندیم ظہیر صاحب کوفکرنہیں ہوئی کہ محدثین کے فیصلوں کو ”ذاتی دشمنی“ سے تعبیرکرکے زبیرعلی زئی صاحب کن لوگوں کے لئے راہ ہموارکررہے ہیں؟؟؟
اس کے بعد عرض ہے کہ اگربات علما کے آپسی اختلاف کی ہوتو یقینا وہاں دشمنی کی بات کرنا غلط ہے۔لیکن کیایہاں ابن الجوزی رحمہ اللہ کا اختلاف صرف علمی اختلاف تک محدود ہے؟؟ ابن الجوزی نے عبدالمغیث کے خلاف لکھی گئی اس کتا ب کو جو نام دیا ہے وہی اس بات کی دلیل ہے کہ معاملہ صرف اختلاف کی حدتک نہیں، بلکہ بات دشمنی تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ کتاب کے اندر ابن الجوزی رحمہ اللہ نے عبدالمغیث کے حق میں جو نازیباکلمات استعمال کیے ہیں، ہم انہیں نقل کرکے استدلال کرنے کے بجائے اہلِ علم کافیصلہ ہی سنادیتے ہیں:

◈ ابن الجوزی رحمہ اللہ کی شاگردی میں ایک طویل مدت گزارنے والے ابو الحسن محمد بن احمد بن عمر القطیعی (المتوفی٦٣٤)کہتے ہیں:
«كان أحد ‌المحدثين ‌مع ‌صلابته في الدين، واشتهاره بالسنة، وقراءة القرآن. وجرت بينه وبين صاحب ”المنتظم“ – يعني: أبا الفرج بن الجوزي – نفرة كان سببها الطعن على يزيد بن معاوية»
”عبدالمغیث محدثین میں سے ایک تھے، دین میں صلابت کے ساتھ اور سنت اور قراءتِ قرآن میں مشہورہونے کے ساتھ ، ان کے اور صاحبِ ”المنتظم“ -یعنی ابن الجوزی- کے درمیاں نفرت شروع ہوگئی، جس کاسبب یزید بن معاویہ پر طعن تھا۔“ [ذيل طبقات الحنابلة لابن رجب 2/ 348 وابن رجب ینقل من تاریخ ابن القطیعی]
قارئین! دیکھا آپ نے! یہ ابن الجوزی کے ایک شاگردکی گواہی ہے کہ یزید پرطعن کی وجہ سے دونوں بزرگوں کے بیچ نفرت شروع ہوگی تھی۔

◈ اب امام ذہبی کا قول بھی پڑھ لیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
« ووقع بينهما عداوة لأجل يزيد »
”ان دونوں (ابن الجوزی اورعبدالمغیث) کے بیچ یزید کی وجہ سے دشمنی پیداہوگئی۔“ [تاريخ الإسلام ت بشار 12/ 761]

اب کوئی ندیم صاحب سے پوچھے کہ ابن الجوزی کے شاگرد نے اپنے استاذ کے علمی اختلاف کو ”نفرت“ سے تعبیرکرکے کن لوگوں کے لیے راہ ہموارکی ہے؟
اسی طرح اما م ذہبی نے ان دونوں بزرگوں کے علمی اختلاف کو ”دشمنی“ سے تعبیرکرکے کن لوگوں کے لیے راہ ہموارکی ہے؟؟؟

ادب واحترم کامعیار

ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”ہم نے ان کی تحریر پڑھی تواندازہ ہواکہ ان کے یہاں ادب واحترم کا معیارمحض ”حمایت یزید“ ہے۔“ (اشاعت الحدیث :١٣٤ ص٣٠)
یہ بھی موصوف کی سراسرغلط بیانی اورالزام تراشی ہے۔ اس دعوے کی دلیل میں ندیم ظہیر صاحب نے صرف امام ابن الجوزی رحمہ اللہ سے متعلق میرے بعض الفاظ پیش کیے ہیں، لیکن ہم نے اپنی اسی کتاب میں یزید کے خلاف لکھنے والے کئی اہلِ علم کا جواب بھی دیا ہے، لیکن ابن الجوز ی رحمہ اللہ کی تردید میں جو سختی آگئی، وہ دیگر اہلِ علم کے جواب میں ہرگز نہیں ہے۔ اور ابن الجوزی رحمہ اللہ کے جواب میں سختی کی وجہ کا بیان آگے آرہا ہے۔
ندیم ظہیر صاحب نے معاصرین میں زبیرعلی زئی صاحب کے حوالے سے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے ان سے متعلق جو سخت کلامی کی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ یزید کے مخالف تھے۔
محترم! معاصرین ہی میں ہندوستان میں ایک معروف مقررمحترم جناب ابوزید ضمیر حفظہ اللہ ہیں۔ یزید کے خلاف انہوں نے ایک پوری تقریرریکارڈ کرائی ہے ۔ چونکہ وہ انڈیا میں ہی ہیں، اس لیے ہم نے ان سے یزید کے مسئلے پربراہ راست بات چیت بھی کی ہے اوریزید کے خلاف ان کی باتوں سے اختلاف کیا ہے۔لیکن کیا ندیم ظہیرصاحب بتلاسکتے ہیں کہ ابو زید ضمیر صاحب کے خلاف ہم نے کہیں پرکوئی سخت زبان استعمال کی ہے؟

آئینہ:

ندیم ظہیر صاحب کربلائی آنسوبہارہے ہیں کہ ہم نے ابن الجوزی رحمہ اللہ سے ہرقسم کا سابقہ ولاحقہ چھین لیا ۔لیکن آں جناب کو اپنے استاذ کا چہر ہ نظر نہیں آتاکہ ہم نے یزید کے حق میں ایک جگہ ا مام سیوطی رحمہ اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ”امام“ لکھ دیا تو ان کے استاذ نے نہ صرف یہ کہ خود ”سیوطی“ کی امامت اور سوابق ولواحق چھین لئے بلکہ سوابق ولواحق کی جگہ انھیں ”حاطب اللیل“ لکھ دیا اور ”دسویں صدی کامولوی“ کا خطاب دے دیا۔ اسی پربس نہیں، بلکہ ناچیز پربھی برس پڑے کہ میں نے امام سیوطی کو ”امام“ کیسے لکھا دیا !! (دیکھئے : حدیث یزیدمحدثین کی نظرمیں :ص٧)
اب ہم یہاں ہم بھی بآسانی دورخی ڈبے بناسکتے ہیں۔ ملاحظہ کریں:

 ● پہلارخ:-

ندیم ظہیرصاحب لکھتے ہیں:
”محض یزید کی مخالفت کی وجہ سے ان (ابن الجوزی رحمہ اللہ) سے ہرقسم کا لاحقہ سابقہ چھین لیا گیااوران کی تمام خدمات کو نظرانداز کر دیاگیا، والعیاذباللہ۔“ (اشاعة الحدیث:١٣٤ص٣١)
مزیدلکھتے ہیں:
”کیاان کے حلقہ احباب میں کوئی رجل شدیدنہ تھا جوبغلیں بجانے کی بجائے انھیں محدثین کی پگڑیاں اچھالنے سے روکتا۔“ (اشاعة الحدیث:١٣٤ص٣١)

 ● دوسرارخ:-

ندیم ظہیرصاحب کے مقتدیٰ و ممدوح کے آئینے میں ندیم ظہیرصاحب کا دوسرا رخ کچھ یوں نظرآتاہے زبیر علی زئی صاحب کے الفاظ ہیں:
”مذکورہ بیان دسویں صدی کے ایک عالم ومولوی اورحاطب اللیل سیوطی صاحب پردروغ بے فروغ ہے اوراس کی واضح دلیل یہ ہے کہ سیوطی نے ابن عساکر کی روایت ذکرنہیں کی، بلکہ ابویعلی کی روایت ذکرکی ہے اورابویعلی کی سند میں ابومسلم الجذمی کاواسطہ موجود نہیں۔ (دیکھئے البدایہ والنہایہ: ٨/٣٢٦)۔۔۔ لہٰذا اگرایک منقطع سند کو انہوں نے ”ض“ کہہ دیاتواس سے متصل سند کیوں کرضعیف ہوجاتی ہے۔؟!۔۔۔۔۔۔”نیز حاطب اللیل کوامام قراردینا بھی اعجوبہ ہے۔“ (مقالات: ٦ /٤٠١ـ٤٠٢)

تبصرہ:-

ہم نے یزید کے حق میں جوبات امام سیوطی کی طرف منسوب کی، اسے تسلیم بھی نہیں کیا، پھر بھی امام سیوطی پر کیسا برسے کہ نہ صرف یہ کہ ان کے سوابق ولواحق چھینے، بلکہ انہیں حاطب اللیل کہہ ڈلا، اسی پربس نہیں، بلکہ اپنے علاوہ بھی کسی کے لیے اس بات کوجائزنہیں جانا کہ وہ سیوطی رحمہ اللہ کو ”امام“ کہے۔
قارئین کرام!
اب آپ ہی انصاف کریں! سابقے اورلاحقے چھیننے والی بات کس پرصادق آتی ہے؟ جس نے ابن الجوزی کے ساتھ بعض مقامات پر محض ”امام“ اور رحمہ اللہ نہیں لکھا اس پر یا اس پر جس نے نہ صرف خود سیوطی کونہ ”امام“ لکھا نہ حافظ، بلکہ دوسروں کے قلم سے بھی انہیں ”امام“ لکھنے کاحق چھین لیا؟!!
اب ہم ندیم ظہیر صاحب ہی کے الفاظ میں کہتے ہیں:
”کیاان کے حلقہ احباب میں کوئی رجل شدیدنہ تھا جوبغلیں بجانے کی بجائے انھیں محدثین کی پگڑیاں اچھالنے سے روکتا۔“ (اشاعة الحدیث:١٣٤ص٣١)
ندیم ظہیر صاحب کے استاذ ممدوح نے امام سیوطی رحمہ اللہ کے صرف سابقے اورلاحقے ہی نہیں چھینے بلکہ انہیں ”حاطلب اللیل“ کہہ کرذکرکیا ۔یہ اس لئے کیونکہ ان کا حوالہ ہم نے یزید کی حمایت میں دے دیا ۔دوسری طرف آں جناب نے اپنی اسی تحریر میں ابن الجوزی رحمہ اللہ کاذکر کیا تو انہیں ”حاطب اللیل“ نہیں کہا بلکہ ”حافظ“ کے لقب سے ذکرکیا کیونکہ انہوں نے یزید کی مذمت میں ایک کتاب لکھ دی تھی جس کاحوالہ انہوں نے دیا۔
ندیم ظہیر صاحب بتلائیں کہ ان کے استاذممدوح کی طرف سے امام سیوطی کو ”حاطلب اللیل ” کہنے اور امام ابن الجوزی کو ”حاطلب اللیل ” نہ کہنے کی کیا وجہ ہے؟
یادرہے امام ذہبی اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ دونوں نے ابن الجوزی رحمہ اللہ کو ”حاطب ليل“ کہا ہے ۔ دیکھئے: [تاريخ الإسلام للذهبي14/ 352 ، لسان الميزان لابن حجر 2/ 84]
ندیم ظہیرصاحب نے تو میرے تعلق سے صرف ابن الجوزی رحمہ اللہ کانام لیا ہے، جن کے خلاف میرے قلم میں شدت آئی اور اس کی وجہ کا تذکرہ آرہاہے۔ لیکن ان کے استاذممدوح نے تو ایسے کئی محدثین واہل علم کی پگڑیاں صرف اس بات پر اچھال دیں کہ میں نے یزید کی حمایت میں ان کا حوالہ دے دیا تھا۔

① امام سیوطی کاحوالہ گزر چکا ہے۔
مزید ملاحظہ ہو:

② ابن الجوزی رحمہ اللہ (المتوفی٥٩٧ )سے پہلے فوت ہونے والے امام و حافظ ابن القیسرانی رحمہ اللہ (المتوفی ٥٠٧)کاحوالہ ہم نے یزید کی حمایت میں دیا توزبیرعلی زئی صاحب نے نہ صرف یہ کہ ان کے سابقے اورلاحقے چھین لیے، بلکہ ان کے صوفی ہونے کاپرچارکرنے لگے اورلکھا:
”خودصوفی محمدبن طاہرالمقدسی نے یہ وضاحت بھی کی ہے۔“ (مقالات : ٦ /٣٩٩)

③ امام سیوطی رحمہ اللہ کے شاگرعلامہ محمدبن علی بن ابن طولون رحمہ اللہ(المتوفی ٩٥٣) جن کے بارے میں علامہ نجم الدین محمدالغزی رحمہ اللہ(المتوفی١٠٦١) نے لکھا:
« المام العلامة المسند۔۔۔ المحدث۔۔۔کان ماہراً فی النحو علامة فی الفقہ، مشہوراً بالحدیث »
آپ امام، علامہ ، مسند،محدث ہیں۔ آپ نحو میں ماہرتھے۔ فقہ میں علامة تھے، حدیث سے مشہور تھے۔“ [الکواکب السائرة :٢ /٥١]
ان کاحوالہ یزید کی حمایت میں ہم نے دے دیا توزبیرعلی زئی صاحب نے لکھا:
”دسویں صدی کے ایک حنفی مولوی ابن طولون نے۔۔۔“ (مقالات: ٦ /٤٠٦)
یہ توصرف مسئلہ یزید میں محدثین و اہل علم پر زبیرعلی زئی صاحب کی کچھ کرم فرمائیاں تھیں، اس کے علاوہ دیگرمسئلوں میںبھی اپنے خلاف کئی محدثین و اہلِ علم کی زبیرعلی زئی صاحب نے اچھی خاصی خاطرتواضع کی ہے، مثلا:

④ عصرحاضر کے معروف ومشہور اور پوری دنیا میں مقبول عظیم المرتبت محدث علامہ البانی رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا:
”معلوم ہوا البانی صاحب کسی طبقاتی تقسیم ِمدلسین کے قائل نہیں تھے، بلکہ وہ اپنی مرضی کے بعض مدلسین کی معنعن روایات کوصحیح اورمرضی کے خلاف بعض مدلسین (یاابریاء من التدلیس)کی معنعن روایات کوضعیف قرار دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کاکوئی اصول یاقاعدہ نہیں تھا لہٰذا تدلیس کے مسئلے میں ان کی تحقیقات سے استدلال غلط و مردودہے۔“ [ مقالات (٣ /٣١٧)۔ نورالعینین، جدیدایڈیشن(ص: ٣٨٨)۔ فتاوی علمیہ (٢ /٣٣٠)]
اب کیا کسی بھی عقلمند شخص کواس بات میں شبہہ ہوسکتاہے کہ ان الفاظ میں علامہ البانی رحمہ اللہ پرزبیرعلی زئی صاحب نے کیسا گھٹیا الزام لگایاہے!! ندیم ظہیرصاحب اب بتائیں کہ محدثین اوراہل علم کی پگڑیاں اچھالنے کا کاروبارکس کا رہاہے اور علمی مباحث میں اس فعل شنیع کی بنیاد رکھنے والا کون ہے؟؟
ندیم ظہیر صاحب کو دورخی ڈبے بنانے کابڑاشوق ہے ۔اب دیکھتے جاؤ ہم آپ کے اورآپ کے ممدوح استاذ کے کتنے دورخی ڈبے بناتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم جناب ندیم صاحب کے اشکالات اور شبہات کا تجزیہ پیش کریں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آں موصوف کی تحریر سے چند ایسی مثالیں پیش کریں، جس سے ان کی علمی لیاقت عیاں ہو سکے اور معلوم ہو جائے کہ گھسے پٹے اشعار کی مدد سے دوسروں کا استہزا اُڑانے والوں کی اپنی قابلیت کا کیا عالَم ہے۔

ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”جب امام ابن سعد رحمہ اللہ کی جرح تفرد کی صورت میں قبول ہی نہیں توپھرعبدالوہاب الثقفی متکلم فیہ کس طرح بن گئے“ (اشاعت الحدیث:١٣٤ص٣٣)
عجیب بات ہے !
محترم! کسی راوی کے بارے میں ایک ناقد کا کلام رد کرنے کا یہ مطلب کیسے ہوجائے گا کہ اس راوی کے بارے میں اس ناقد نے کوئی کلام کیا ہی نہیں ہے؟ کسی راوی کو ”متکلم فیہ“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بارے میں کلا م کیا گیا ہے۔ اب جو کلام کیا گیاہے اسے رد کرنے کا یہ مطلب کیسے ہوجائے گاکہ اس کے بارے میں وہ کلام کیا ہی نہیں گیا۔
یادرہے کہ آپ کے استاذممدوح نے امام بزار رحمہ اللہ کو ”متکلم فیہ“ کہا ہے۔(مجلہ الحدیث : نمبر٢٣ص٢٨)
لیکن انہیں ثقہ وصدوق بھی تسلیم کیا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کسی راوی پر جمہورکے خلاف ملنے والی جرح کو آپ کے استاذممدوح رد کردیتے ہیں۔کیا آ پ کے استاذممدوح کو پتہ نہیں تھا کہ جب جمہورکے خلاف امام بزار پرکی گئی جرح مردود ہے تو پھر امام بزار ”متکلم فیہ“ کیسے ہوگئے ؟؟ اسے کہتے ہیں : «گرو ”گڑ“ رہ گئے چیلا ”شکر“ ہوگئے » ۔
آگے اس سے بھی بڑا عجوبہ بلکہ ”بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ“ کا نمونہ دیکھئے :

ندیم ظہیرصاحب لکھتے ہیں:
✿ اگر ”فیہ ضعف“ کہنے کے باوجود بھی یہ راوی امام ابن کثیر کے نزدک ضعیف نہیں ہے توعبدالوہاب الثقفی کے بارے میں ”فیہ ضعف“ کی وجہ سے ابن سعد رحمہ اللہ کی طرف جرح کی نسبت کیوں کرصحیح ہوسکتی ہے؟ کیا یہ کھلا ہواتضاد نہیں ہے؟ (اشاعت الحدیث:١٣٤ص٣٤)
اللہ کے بندے!
اما م ابن کثیر کی جرح ”فیہ ضعف“ کو ہم نے امام ابن کثیر کی نظرمیں مطلق تضعیف نہیں مانا لیکن اس کے بعد یہ تو نہیں کہہ دیا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ کی طرف اس جرح کی نسبت بھی درست نہیں ہے!
عبدالوہاب ثقفی کے بارے میں بھی ہم بالکل یہی کہتے ہیں ابن سعد کی جرح ”فیہ ضعف“ میں ان کی مطلق تضعیف نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب کیسے ہوجائے گاکہ امام ابن سعد کی طرف ہم اس جرح کی نسبت ہی کاانکارکردیں؟؟
کسی راوی کو ”فيه ضعف“ کہنے اور کسی راوی کو ”ضعیف“ کہنے میں جو فرق ہے وہ علم حدیث کے کسی طالب علم کے پاس بیٹھ کرپڑھ لیں۔

✿ ہشام بن حسان کوہم نے تیسرے طبقہ کا مدلس بتلایا اور ایک جگہ ان کی معنعن روایت کو ردکیا توندیم ظہیر صاحب نے ہمارا تضاد ثابت کرنے کے لئے ہماری طرف سے صحیح قراردی گی ایک دوسری حدیث کی سند ”هشام عن محمدبن سیرین“ کاحوالہ دیا اوردعوی کیا کہ یہ حدیث ہمارے حق میں تھی اس لئے ہم نے اسے صحیح کہہ دیا یعنی ہشام کے عنعنہ کورد نہیں کیا ۔
حضرت ! یہاں ھشام ”عن“ سے ضرورروایت کررہے ہیں لیکن یہاں ان کے استاذ ”محمدبن سیرین“ ہیں اور محمدبن سیر ین سے ان کی روایات صحیح ہوتی ہیں ۔جیساکہ امام ابن المدینی رحمہ اللہ نے کہا ہے ۔(العلل لابن المدینی، ت الأزہری: ص:١٠٧)
ان مثالوں سے قارئین بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں ندیم ظہیرصاحب نے کس لیاقت کے بل بوتے ناچیز کا تضاد ثابت کرنے کرنے کی کوشش کی ہے؟
اب ندیم صاحب کے اعتراضات کا تفصیلی جائزہ پیشِ خدمت ہے:
ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کو ہم نے دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک کا تعلق امیر یزید سے ہے اور دوسرے کاتعلق امیر یزید کے ساتھ اصولِ حدیث سے بھی ہے۔ فی الحال ہم امیر یزید سے متعلق اُن کے اعتراضات پر نظر کرتے ہیں۔

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کا مقام ومرتبہ

ندیم ظہیر صاحب نے ناچیز پر یہ الزام لگایاہے کہ ناچیز نے مذمت یزید کی وجہ سے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے سارے سابقے اور لاحقے چھین لیے اور اُن کی خدمات کاانکار کر دیا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں:
”محض یزیدکی مخالفت کرنے کی وجہ سے ان سے ہرقسم کالاحقہ سابقہ چھین لیا گیااوران کی تمام خدمات کونظرانداز کردیاگیا ۔ العیاذباللہ“ (اشاعة الحدیث: شمارہ: ١٣٤، ص: ٣١)
عرض ہے کہ:
یہ سراسر غلط بیانی ہے۔ یزید والی کتاب سے پہلے بھی اور اب بھی بہت سارے مقامات پر امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کو ”امام“ اور ”رحمہ اللہ“ لکھنے پر ہمارا عمل رہاہے ۔جس کتاب کے حوالے سے ندیم ظہیرصاحب نے ہمارے موقف کی یہ من مانی ترجمانی کی ہے، اسی کتاب میں ابن الجوزی رحمہ اللہ سے متعلق ہماری یہ باتیں قارئین نوٹ کرلیں:
❀ ہم نے ابن الجوزی رحمہ اللہ کا مفصل تعاقب دسویں باب میں کیا ہے اور اُن کے تعاقب میں ہمارے سب سے پہلے الفاظ بطورہیڈنگ یہ ہیں: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٣)
① اسی صفحہ پر چوتھی سطر میں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٣)
② اسی صفحہ پرچھٹی سطر میں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٣)
③ اسی صفحہ پر ساتویں سطر میں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٣)
④ اسی صفحہ پر دسویں سطر میں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٣)
⑤ اسی صفحہ پرانیسویں سطر میں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٣)
⑥ صفحہ ٧٨٤پرنویں سطرمیں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٤)
⑦ صفحہ٧٨٥پرآٹھویں سطرمیں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٥)
⑧ صفحہ٧٩٤پردسویں سطرمیں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٩٤)
⑨ صفحہ٧٩٦پردوسری سطرمیں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٩٦)
⑩ صفحہ٧٩٧پرسویں سطرمیں ہے: ”ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٩٧)
یہ صرف اس مقام کے حوالے ہیں، جہاں بطورِ خاص ابن الجوزی رحمہ اللہ پرتعاقب کیا ہے۔

اسی بحث میں یزید کادفاع کرنے والے عبدالمغیث رحمہ اللہ کا بھی ذکر ہوا ہے، لیکن انہیں صرف چارمقامات پرہم نے ”رحمہ اللہ“ لکھاہے اور درج ذیل مقامات پر صرف ”عبدالمغیث“ ہے یعنی بغیرکسی سابقہ اورلاحقہ کے:
① صفحہ٧٨٥ پر دسویں سطر میں ہے: ”اورعبدالمغیث سے“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٥)
② اسی صفحہ پر تیرہویں سطر میں ہے: ”۔۔۔لیکن عبدالمغیث سے۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٥)
③ اسی صفحہ پر چودہویں سطر میں ہے: ”۔۔۔معاملہ عبدالمغیث کا۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٥)
④ صفحہ٧٨٧ پر پانچویں سطر میں ہے: ”۔۔۔نے عبدالمغیث کی۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٧)
⑤ اسی صفحہ پر چھٹی سطر میں ہے: ”۔۔ہوئے عبدالمغیث کی۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٧)
⑥ اسی صفحہ پر انیسویں سطر میں ہے: ”۔۔۔ عبدالمغیث نے۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٧)
⑦ صفحہ٧٨٨ پرانیسویں سطر میں ہے: ”۔۔۔نے عبدالمغیث کے۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٨)
⑧ صفحہ٧٩٠ پر چوتھی سطر میں ہے: ”۔۔۔پرعبدالمغیث کی۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٩٠)
⑨ اسی صفحہ پر چھٹی سطر میں ہے: ”۔۔۔نے عبدالمغیث پر۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٩٠)
⑩ صفحہ٧٩٢ پر چودہویں سطر میں ہے: ”۔۔۔کرکے عبدالمغیث کو۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٩٢)
⑪ اسی صفحہ پر سولہویں سطر میں ہے: ”۔۔۔بھی عبدالمغیث نے۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٩٢)
⑫ اسی صفحہ پرانیسویںسطر میں ہے: ”۔۔۔کہ عبدالمغیث پر۔۔۔“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٩٢)
قارئین ملاحظہ کریں!
ان بارہ مقامات پر ہم نے عبدالمغیث کے ساتھ کوئی سابقہ اورلاحقہ نہیں لگایاہے۔ اب ندیم ظہیر صاحب کی طرح کوئی کہے کہ ہم نے اما م عبدالمغیث رحمہ اللہ سے سابقے اورلاحقے چھین لئے تواس کاکیاعلاج ہے؟
آگے ندیم ظہیرصاحب نے ہماری کتاب کے شروع سے یعنی ”عرض مؤلف“ سے ایک مقام کاحوالہ دیتے ہوئے جوکچھ کہاہے، وہ اِن کی اصطلاح کے مطابق دوسرارخ ہے، جب کہ ان کا پہلارخ ان کے استاذممدوح کے آئینے میں کچھ اور نظرآتاہے۔ ملاحظہ ہو:

 ● پہلارخ:-

ہمارے خلاف تحریر کردہ اپنے زہریلے مقالے میں ندیم ظہیر صاحب کے استاذممدوح نے صرف ایک جگہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کا نام لکھا توان کے نام کے ساتھ ”حافظ“ لگایا، لیکن اسی مقالے میں دوصفحات (نمبر٤٠١ ،٤٠٢) میں امام سیوطی رحمہ اللہ کانا م تین بار لکھا لیکن ہرجگہ ”سیوطی“ ہی لکھنے پر اکتفا کیا، کیونکہ انہوں نے یزید کی مذمت میں پیش کی جانے والی ایک حدیث کو ضعیف کہہ دیا، جبکہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے یزیدکی مذمت میں کتاب لکھی ہے۔

 ● دوسرارخ:-

ندیم ظہیرصاحب لکھتے ہیں:
”ص(٣١) کے صرف ایک پیرے میںامام عبدالمغیث رحمہ اللہ کانام ٦بارلکھا اور ہر جگہ ان کے نام کے ساتھ ”امام“ اور ”رحمہ اللہ“ لگایا، کیونکہ یہ حامیانِ یزید میں سے تھے، اسی پیرے میں ١٠ دفعہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کاذکرکیا ،لیکن ہرجگہ ”ابن الجوزی“ ہی لکھنے پراکتفا کیا، کیونکہ یہ مخالفین یزیدمیں شمارہوتے ہیں۔“ (اشاعة الحدیث: شمارہ١٣٤ص٣١)
ندیم صاحب آپ کا یہ دوسرارخ ہے، جب کہ آپ کا پہلا رخ میں نے آپ کے استاذممدوح کے آئینے میں دکھا دیا ہے۔
اس کے بعد عرض ہے: کتاب کے اندر ہم نے کئی جگہ ابن الجوزی کو ”امام“ بھی لکھا ہے اور ”رحمہ اللہ“ بھی لکھا ہے۔ندیم ظہیرصاحب نے ”عرض مؤلف“ کے جس صفحے کا حوالہ دیا ہے، وہاں بے شک عبدالمغیث کو سابقے اورلاحقے کے ساتھ ذکرکیا گیا ہے اور ابن الجوزی کے ساتھ سابقہ اورلاحقہ نہیں ہے، لیکن اس کی وہ وجہ ہرگز نہیں، جو ندیم ظہیرصاحب نے بتائی ہے۔
دراصل امام ابن الجوزی رحمہ اللہ ایک مشہورومعروف امام اورمحدث ہیں، ان کی بہت ساری کتابیں عوام وخواص میں مشہور ہیں، اس کے برخلاف امام عبدالمغیث رحمہ اللہ سے عوام تودرکناربہت سے علما بھی اچھی طرح واقف نہیں۔ لہٰذا ابن الجوزی جیسے معروف ومشہور امام اور محدث کے مقابلے میں اگربغیرکسی سابقے اورلاحقے کے عبدالمغیث کا تذکرہ کیاجائے تو ممکن ہے کہ جو حضرات امام عبدالمغیث رحمہ اللہ کی شخصیت سے واقف نہیں، وہ یہ سمجھ لیں کہ یہ کوئی معمولی یاگمراہ وبدعتی یا جاہل شخص رہاہوگا، جس کا ابن الجوزی نے ردکیا ہے، چنانچہ کچھ عر صہ قبل محدث فورم پر ایک صاحب نے اما م عبدالمغیث رحمہ اللہ کاکچھ اسی طرح سے تعارف پیش کرنے کی ناکام کوشش کی تھی ۔
ویسے ہم یہ بات سمجھ نہیں سکے کہ ندیم ظہیرصاحب کو تکلیف کس بات پرہوئی ہے؟ آیا ابن الجوزی کو اس مقام پر بغیر امام اور رحمہ اللہ کے ساتھ لکھنے کی وجہ سے یا عبدالمغیث کے ساتھ امام اور رحمہ اللہ لگادینے سے؟
اگراول الذکر بات ہے تو کیا ہم ندیم ظہیر صاحب سے پوچھ سکتے ہیں کہ آں جناب نے کتاب کے ”عرض مؤلف“ سے ایک صفحے سے یہ بات کوٹ کردی، لیکن یہ کیوں نہیں بتایا کہ کتاب کے اندر کئی مقامات پر ابن الجوزی کو ناچیز نے ”امام“ اور ”رحمہ اللہ“ لکھاہے۔
ملاحظہ فرمائیں:
① صفحہ٣٥٩ پر اٹھارہویں سطر میں ہے: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٣٥٩)
② صفحہ٣٨٨ پر اٹھارہویں سطر میں ہے: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٣٨٨)
③ صفحہ٤٠٥ پر پندرہویں سطر میں ہے: ام ”ام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٤٠٥)
④ صفحہ٤٠٦ پر سولہویں سطر میں ہے: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٤٠٥)
⑤ صفحہ٤٦٢پرتیرہویںسطر میں ہے: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٤٦٢)
⑥ صفحہ٤٦٨پرساتویںسطر میں ہے: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٤٦٨)
⑦ صفحہ٦٣٣پرآٹھویںسطر میں ہے: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٦٣٣)
⑦ صفحہ٦٩٣پرپہلی سطر میں ہے: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٦٩٣)
⑨ صفحہ٧٧٠پرچوتھی سطر میں ہے: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٧٠)
⑩ صفحہ٧٨٣پرتیسری سطر میںہے: ”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ“ (دیکھئے :یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٨٣)
اس کے علاوہ اور بھی متعدد مقاما ت ہیں، جہاں ابن الجوزی رحمہ اللہ کا نام سابقے یالاحقے کے ساتھ مذکور ہے، لیکن ندیم ظہیر صاحب نے قارئین کو جس انداز میں ہمارے طرزعمل سے آگاہ کیاہے، اس سے ہرکوئی یہی سمجھے گاکہ ہم نے اپنی پوری کتاب میں کہیں بھی ابن الجوزی کو بغیرکسی سابقے اورلاحقے کے ذکر کیا ہے۔ یہ تدلیس وتلبیس کی بد ترین مثال ہے، جو آں جناب کو اپنے استاذ ممدوح سے ورثے میں ملی ہے۔

ابن الجوزی سے متعلق بعض سخت کلمات کامحرک

گذشتہ سطور میں ہم نے وضاحت کردی ہے کہ ابن الجوزی کو ہم نہ صرف ”امام“ اور ”رحمہ اللہ“ کا مستحق سمجھتے ہیں، بلکہ ان کے ساتھ ایسالکھتے بھی ہیں اورہماری جس کتاب کے حوالے سے بات کی گئی ہے، اسی کتاب میں دسیوں مقامات پر ہم نے ابن الجوزی کو ”امام“ اور ”رحمہ اللہ“ لکھا ہے۔
اس کے ساتھ بعض مقامات پر کچھ سخت الفاظ نوکِ قلم پرآگئے ہیں، لیکن اس کی وجہ یزید کی حمایت نہیں، بلکہ ان کا وہ طرزعمل ہے، جس میں انھوں نے یزید پربات کی تو حدسے آگے بڑھ گئے، جس کے نمونے ہمیں ان کی کتاب میں ملتے ہیں۔ چنانچہ:

✿ حافظ ابن الجوزی کے نزدیک یزید کفرونفاق پرگامزن:

ایک جگہ نفاق اور کفریہ باتیں یزید کی طرف منسوب کر دیں اور بلاجھک سبائیوں کی یہ باتیں نقل کر دیں کہ جنگ بدر میں اپنے کفار رشتے داروں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے یزید نے حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کروایا۔ چناں حافظ ابن الجوزی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
«جيء برأس الحسين بن علي، فوضع بين يدي يزيد بن معاوية فتمثل بهذين البيتين : ليت أشياخي ببدر شهدوا … جزع الخزرج من وقع الأسل . فأهلّوا واستهلوا فرحاً … ثم قالوا لي (بغيب) لا تُشل .قال مجاهد: نافق فيها، ثم والله ما بقي في عسكره أحد إلا (نزكه)، أي عابه ولامه» [الرد على المتعصب العنيد لابن الجوزي ص: 59]
ان الفاظ کا ترجمہ ہم اس کے مترجم نسخے سے نقل کرتے ہیں:
”جب یزیدکے پاس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کاسرلاکراس کے سامنے رکھا گیا تواس نے درج ذیل دو شعربطورتمثیل اوراستشہاد کے پڑھے:کاش کہ میرے بدروالے آباء اجداد نیزوں کی ضرب کی وجہ سے خزرج کی جزع اورچیخ وپکارکودیکھتے ،تواس موقع پروہ خوشی سے پھولے نہ سماتے اورپھرمجھے مبارک بادیتے اوریہ کہتے کہ شاباش! ناکام نہ ہوا۔حضرت مجاہد کہتے ہیں ان اشعارکی وجہ سے یزید منافق ہوگیا۔ پھرخداکی قسم اس کے حلقے اورلشکر میں جتنے بھی لوگ تھے سب نے اسے اس بات پرلعن طعن اورملامت کی۔“ [یزید کی شخصیت علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کی نظر میں، ص: ١١٧]
اس کے بعدحافظ ابن الجوزی نے ان اشعار کا پس منظر بتلاہے کہ بدر میں مسلمانوں نے کفار کو قتل کیا تھا، پھر بعد میں کفار نے احد میں مسلمانوں کوقتل کیا تھا، اس پر کافرو ں کی طرف سے یہ اشعار کہے گئے تھے، جسے ردوبدل کے ساتھ یزید نے بطور استشہاد اپنے کارنامے پرپڑھا۔
حافظ ابن الجوزی آگے لکھتے ہیں:
«فاستشهد بها يزيد، وكان غيَّرَ بعضها، ويكفي استشهاده بها خزياً » [الرد علی المتعصب العنید:ص٦٠]
(ترجمہ)
”قتل حسین رضی اللہ عنہ کے موقع پریزید نے کچھ ترمیم کے ساتھ ان اشعار کوپڑھا تھا۔یزید کی بے شرمی اورڈھٹائی کے لئے اورسب باتوں سے قطع نظراتناہی کافی ہے کہ اس نے ایسے موقع پر کہے گئے اشعارکواپنے جذبا ت کی ترجمانی کے لئے استعمال کیا۔“ [یزید کی شخصیت علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کی نظرمیں، ص: ١١٨]
دیکھا آپ نے!
حافظ ابن الجوزی ،یزید کی بے شرمی اورڈھٹائی کے لئے سب سے بڑی دلیل یہی دے رہے ہیں کہ یزید نے قتل حسین رضی اللہ عنہ کے ذریعے بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے اپنے کفار رشتے داروں کے خون کا بدلہ لیا۔ اگرہم اس بات کو بکواس کہہ دیں تو بتائیے کیا یہ جرم ہوگا؟

✿ حافظ ابن الجوزی کے نزدیک فضیلتِ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ میں وارد سنن ترمذی والی صحیح حدیث ، موضوع اور من گھڑت ہے:

حافظ ابن الجوزی نے اسی پربس نہیں کیا، بلکہ یزید کا کفر ونفاق دکھانے کے ساتھ ساتھ ساتھ ان کے والد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک جا پہنچے اور پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں وارد ایک صحیح حدیث کو من گھڑت قرار دیا، جس کی تفصیل ہم نے اپنی کتاب میں پیش کی تھی۔
یہاں بھی ملاحظہ فرمائیں:
”دوسرا اقتباس جس میں ابن الجوزی نے امام عبدالمغیث پر کذاب سے حجت پکڑنے کا الزام لگایا ہے، اسے نقل کرتے ہوئے ابن الجوزی نے لکھا:
«قال هذا الشيخ: قد قال النبي صلى الله عليه وسلم في حق معاوية: اللهم اجعله هادياً (واهد به) قال: ومن كان هادياً لا يجوز أن يُطعن عليه فيما اختار من ولاية يزيد»
”اس شیخ (عبدالمغیث) نے کہا: اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا: اﷲ اسے ہادی بنا دے اور اس کے ذریعے سے ہدایت دے اور جو شخص ہادی ہو تو اس پر اس وجہ سے طعن نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنا دیا۔“ [الرد على المتعصب العنيد لابن الجوزي ص: 75]
.
اس کے بعد ابن الجوزی نے اپنی سند سے اس روایت کے دو طریق ذکر کرنے کے بعد کہا:
«مدار الطريقين على محمد بن إسحاق بن حرب البلخي ، وكان كذاباً »
ان دونوں طریق کا مدار محمد بن اسحاق بن حرب البلخی پر ہے اور یہ کذاب تھا۔“ [الرد على المتعصب العنيد لابن الجوزي ص: 76]
پھر اس کا ایک اور طریق ذکر کے اس میں میں بھی ایک کذاب کی نشاندہی کی ہے ۔[الرد على المتعصب العنيد لابن الجوزي ص: 77]
عرض ہے کہ امام ترمذی نے یہ روایت ایک اور طریق سے بھی نقل کی ہے، جس میں کوئی کذاب راوی نہیں ہے، چناںچہ امام ترمذی رحمہ اللہ (المتوفی٢٧٩) نے کہا:
حدثنا محمد بن يحيى قال: حدثنا أبو مسهر، عن سعيد بن عبد العزيز، عن ربيعة بن يزيد، عن عبد الرحمن بن أبي عميرة، وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لمعاوية: «اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به»
”عبدالرحمن بن ابی عمیر فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ کے لیے دعا کی کہ اے اﷲ اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔“ [سنن الترمذي ت شاكر (5/ 687) رقم 3842]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ [دیکھیں: سلسلة الأحادیث الصحیحة (٤/ ٦١٥) رقم الحدیث (١٩٦٩)]
نیز حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اسے صحیح کہا ہے۔[ دیکھیں: فضائل صحابہ … صحیح روایات کی روشنی میں (ص: ٢٦)]
غور کریں کہ امام عبدالمغیث نے ایک صحیح حدیث پیش کی، جو سنن ترمذی اور مسند احمد وغیرہ جیسی حدیث کی مشہور کتابوں میں صحیح سند سے موجود ہے، لیکن ابن الجوزی اپنی طرف سے اس حدیث کی ٹوٹی پھوٹی سند لاکر پھر اس پر جرح کرکے عبدالمغیث کو مطعون کر رہے ہیں کہ انھوں نے موضوع حدیث سے استدلال کیا ہے۔ سبحان اﷲ. ( یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٩١،٧٩٢ )

✿ حافظ ابن الجوزی کی نظر میں امیرمعاویہ سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبولیت سے محروم:

اس کے بعد اس حدیث کو صحیح فرض کرنے کی صورت میں حافظ ابن الجوزی نے جو جواب دیا ہے، وہ بھی پڑھیے، لکھتے ہیں:
« ثم ليس من ضرورة الدعاء الإجابة، إذ لو وقعت في كل حال ما وقعت حرب صفين وتولية يزيد » [الرد على المتعصب العنيد لابن الجوزي ص: 77]
مترجم نسخہ سے اس کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
”لیکن اگراسے ثابت مان بھی لیاجائے یا یہ مرتبہ صحت اورثبوت کو پہنچ بھی جائے توپھربھی اس روایت میں زیادہ سے زیادہ ایک دعا کاذکرہے اورضروری تو نہیں ہے کہ ہردعا قبول بھی ہو، کیونکہ اگریہ دعا یا اس کی قبولیت ہر حال میں ہوتی توپھرصفین کا واقعہ اور یزید کی ولی عہد کا معاملہ کیوں ہوتا“ [یزید کی شخصیت علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کی نظرمیں:ص١١٨]
دیکھا آپ نے! پہلے تو امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں وارد ایک صحیح حدیث ہی کو من گھڑت کہہ دیا ۔ پھراسے صحیح فرض کرنے کی صورت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہی کو قبولیت سے محروم قراردے دیا ۔ نعوذباللہ من ذلک۔
یہ سب کیا ہے؟ ادب واخلاق کے پیکرجناب ندیم ظہیر صاحب !!!
آفرین ہے… دوسروں کی ہتک اور توہین کرنے والے بھی اب ادب و اخلاق کا درس دے رہے ہیں۔

✿ حافظ ابن الجوزی کے نزدیک امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ یزید کی محبت میں رشدوہدایت سے محروم:

آگے اس سے بھی بڑی بات دیکھئے ، امیر معاویہ کے بارے میں یہاں تک نقل کرتے ہوئے لکھا:
«وكان معاوية يقول: لولا هواي في يزيد لأبصرتُ رشدي»
”معاویہ کہا کرتے تھے کہ اگر یزید کے بارے میں میری خواہش نہ ہوتی تو میں رشد وہدایت کو دیکھ لیتا۔ [الرد على المتعصب العنيد لابن الجوزي ص: 46]
گویا ابن الجوزی کی نظر میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نعوذ باﷲ بیٹے کی محبت میں گرفتار ہو کر رشد و ہدایت سے محروم ہو چکے تھے۔
دراصل ابن الجوزی کی نظر میں یزید برا ہے، اس لیے موصوف نہ صرف یزید کو مطعون کر رہے ہیں، بلکہ یزید کے ساتھ ساتھ ان کے والد امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کر رہے ہیں، ان کی فضیلت کا انکار کر رہے ہیں اور ان کی مذمت میں آنے والی جھوٹی روایت کو بھی قبول کر رہے ہیں۔ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص٨٠٠)
.
ندیم ظہیرصاحب لکھتے ہیں:
”حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے سنابلی صاحب کا کوئی ردنہیں کیا، وہ پھربھی ۔۔۔۔“ (اشاعة الحدیث: ١٣٤ص٣٠)
اچھا محترما!
میں نے آپ پرکہاں رد کیا ہے؟ بتانے کی زحمت گواراکریں گے !!
اگر میں نے آپ پرنہیں بلکہ آپ کے استاذ ممدوح پررد کرتے ہوئے انہیں کی طرح قدرے سخت الفاظ استعمال کر لیے تو اس پر آپ میرے خلاف کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان استعمال کرسکتے ہیں۔لیکن جب ابن الجوزی رحمہ اللہ نے امیرمعایہ رضی اللہ عنہ کے خلاف نازیبا باتیں نقل کیں، ان سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبولیت سے محروم گردانا اور ان کے صاحبزادے یزید کی طرف کفر و نفاق کی باتیں اور سبائیوں کی من گھڑت خرافات منسوب کیں۔ اس پراگر میرے قلم کی نوک پر ابن الجوزی کے خلاف کچھ آگیا تو آپ کے لیے باعث تعجب کیوں؟
کیا خیر القرون کے امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اوران کے بیٹے یزید کا مقام ومرتبہ شروالقرون میں پیدا ہونے والے آپ کے استاذ ممدوح سے بھی کم ترہے؟
بہرحال حافظ ابن الجوزی سے متعلق بعض سخت کلمات لکھتے وقت وہی کچھ باتیں ذہن میں گردش کر رہی تھیں، جن کا اوپرتذکرہ کیا گیا ،یہی سبب تھاجس کی بناپر بعض مقامات پرسخت کلمات رقم ہوگئے ۔ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ چیزیں سخت کلامی کاجواز ہیں، بلکہ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ چیزیں سخت کلامی کی محرک ہوئی ہیں اوران شاء اللہ اگلے ایڈیشن میں ہم الفاظ کو نرم کرلیں گے ۔لیکن اس کے ساتھ یہ وضاحت ضروری ہے کہ تعبیرکے لحاظ سے گرچہ بعض مقامات پرسخت الفاظ آگئے ہیں لیکن معنوی طور پرہم نے ان الفاظ کے ذریعے کوئی خلافِ حقیقت بات کہنے کی کوشش ہرگز نہیں کی ہے۔ آئیے! ذیل میں ان الفاظ کو بھی دیکھ لیتے ہیں، جنہیں ندیم ظہیر صاحب نے نمایاں کیا ہے:
① ۔۔۔بکواس کی ۔۔۔
② ۔۔۔آپے سے باہرہوگئے۔۔۔
③ ۔۔۔مغالطہ ۔۔۔۔
④ ۔۔۔عبدالمغیث کی دشمنی میں امام احمد کے قول کی وکالت۔۔۔
⑤ ۔۔۔ٹوٹی پھوٹی سند۔۔۔
⑥ ۔۔۔خودابن الجوزی ہی ان عیوب سے متصف تھے۔۔۔
عرض ہے کہ:
➊ جہاں تک پہلی بات ”بکواس کی“ کے الفاظ کا تعلق ہے تواس سے ہماری مراد ”بے بنیاد سنگین الزامات ہیں“ ہیں۔ واضح رہے کہ آں جناب سے پہلے ہی ایک بھائی نے اس طرف توجہ دلائی تھی اوربعد میں ہم نے وہ الفاظ بدل دیے۔چناں چہ کافی دنوں قبل بعض پاکستانی حضرات کو ہم نے اس کتاب کی جو پی ڈی ایف ارسال کی ہے، اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں اور آیندہ اِڈیشن میں مطبوع سے بھی اسے تبدیل کر دیا جائے گا۔
➋ رہی دوسری بات آپے سے با ہر ہونے کی تو اس سے عبدالمغیث کے ساتھ دشمنی کرنے کی طرف اشارہ ہے اور اس پر تفصیل گذرچکی ہے ۔
➌ رہی تیسری بات تو ”مغالطہ باز“ کا خطاب ہم نے نہیں دیا ہے، جیساکہ ندیم ظہیر صاحب لوگوں کو باور کرانا چاہتے ہیں۔بلکہ یہ ندیم ظہیرصاحب ہی کی کرم فرمائی ہے، جیسے انھوں نے ہماری طرف ابن جوزی کو بکواسی قرار دینے کی نسبت کر کے مغالطہ دہی سے کام لیا ہے، البتہ ہم نے یہ ضرور کہاہے کہ مذکورہ مقام پرامام ابن الجوزی نے مغالطہ سے کام لیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حافظ ابن الجوزی نے امام عبدالمغیث کی بات کی غلط ترجمانی نہیں کی ہے؟ اگرنہیں تو امام عبدالمغیث کا وہی موقف با دلیل ثابت کریں، جسے ابن الجوزی نے امام عبدالمغیث کی طرف منسوب کیا ہے اور اگر نہیں ثابت کر سکتے تو بتلائیں کہ امام ابن الجوزی کے مذکورہ طرزِ عمل کی کیا توجیہ ہے؟ کوئی بہترین اورمعقول توجیہ آپ ہمیں بتلا دیں، ہم اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
➍ رہی چوتھی بات تودشمنی پرتفصیل گذرچکی ہے اور امام احمدکے قول کی وکالت انھوں نے عبدالمغیث کی دشمنی ہی میں کی ہے، کیونکہ ابن الجوزی خود امام احمد کے قول سے متفق نہیں ہیں۔ رہی بات ”غیرمنصف مزاج“ شخص ثابت کرنے کی تو یہ آپ کی کرم فرمائی ہے۔ دشمنی اور عداوت میں کسی مسئلے میں کسی سے غیر انصافی ہوگئی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ کلی طور پر اسے ”غیر منصف مزاج“ کا خطاب دیے دیا جائے۔
➎ رہی پانچوں بات ٹوٹی پھوٹی سند کی تواس سے متعلق ہم نے اپنی پوری بات گذشتہ سطور میں( ص ٦ ـ٧)نقل کر دی ہے۔ آپ ایساکریں کہ اس ٹوٹی پھوٹی سند کو صحیح وسالم ثابت کر دیں، ہم اپنی بات واپس لے لیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے ان کی سند کو ٹ ”وٹی پھوٹی“ کہہ کر ان کی تنقیص کی ہے تو آپ کے ممدوح استاذ نے کتنے محدثین کی سندوں کو ضعیف، باطل اور من گھڑت کہاہے۔ یہ سب کیا ہے؟ویسے آپ کی طرح ہم یہاں آپ کے دو رُخی پن کا ڈبہ بناسکتے ہیں، لیکن آگے بڑھ رہے ہیں۔
➏ رہی چھٹی بات تو یہاں آپ نے ہماری پوری بات نقل نہیں کی۔ دراصل یہاں ہم نے جو کچھ کہا ہے، وہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے قول کی ترجمانی کی ہے اور آگے امام ذہبی رحمہ اللہ کا قول بھی نقل کیا ہے۔ ہماری پوری بات یہ ہے:
ابن الجوزی نے اپنی زندگی میں کئی لوگوں پر بے جا جرح کرتے ہوئے ان کی طرف بے بنیاد عیوب کی نسبت کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے اندر یہ عیوب نہ تھے، بلکہ خود ابن الجوزی ہی ان عیوب سے متصف تھے اور شاید وہ اپنے اوپر دوسروں کو بھی قیاس کرنے لگ جاتے تھے۔ چناںچہ ابن الجوزی نے ابو سعد سمعانی کی طرف بے بنیاد عیوب کی نسبت کی تو امام ذہبی نے امام سمعانی کا دفاع کیا اور الٹا ابن الجوزی ہی کو ان عیوب سے متصف بتایا، چنانچہ  کہا:
«قلت: يا أبا الفرج، لا تنه عن خلق وتأتي مثله»
”میں (امام ذہبی) کہتا ہوں: اے ابو الفرج (ابن الجوزی)! تو دوسروں کو ایسے کام سے مت روک جسے تو خود کرتا ہے۔“ [تاريخ الإسلام ت بشار 11/ 992]
یہاں بھی یہی معاملہ ہے، یعنی ابن الجوزی نے امام عبدالمغیث پر یہ عیب لگایا ہے کہ انھوں نے جھوٹی روایات سے استدلال کیا، حالاںکہ امام عبدالمغیث نے ایسا کچھ نہیں کیا، بلکہ اس کے برعکس خود ابن الجوزی ہی نے یہ کام کیا ہے، یعنی موصوف نے اس کتاب میں موضوع اور من گھڑت روایات سے استدلال کیا ہے۔(یزید بن معاویہ… ص: ٢٩٣)
.
قارئین! دیکھا آپ نے!
کس طرح چالاکی کرکے ہماری ادھوری بات نقل کرکے قارئین کو ایسا تاثردیا گویا یہ بات ہم نے اپنی طرف سے کہی ہے۔
ویسے ابن الجوزی کے سلسلے میں امام ذہبی کا یہ قول بھی ندیم ظہیرصاحب پڑھیں اور تبصرہ کریں:
«والله عقيدته في السنة أحسن من عقيدتك، فإنك يوما أشعري، ويوما حنبلي، وتصانيفك تنبئ بذلك، فما رأينا الحنابلة راضين بعقيدتك ولا الشافعية، وقد رأيناك أخرجت عدة أحاديث في الموضوعات، ثم في مواضع أخر تحتج بها وتحسنها »
”اﷲ کی قسم! سنت کے معاملے میں ابو سعد کا عقیدہ تیرے عقیدے سے بہتر ہے، کیونکہ  تو کسی دن اشعری بن جاتا ہے اور کسی دن حنبلی۔ تیری تصانیف اسی بات پر غمازہیں۔ ہم نے حنابلہ کو تیرے عقائد پر راضی نہیں دیکھا اور نہ شوافع کو۔ اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ تو نے کئی احادیث کو موضوعات میں نقل کیا، پھر دیگر مواقع پر تو انھیں احادیث سے حجت پکڑتا اور انھیں حسن قرار دیتا ہے!!“ [تاريخ الإسلام ت بشار 11/ 993]

امام بخاری رحمہ اللہ کی تعلیل

امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک خاص مقام پردوصحابہ کے مابین ”امکانِ لقاء“ کا انکارکیاہے اور یہ بات ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے کہی ہے۔ ہم نے اس روایت کومردودثابت کرتے ہوئے اس پرامام بخاری کے فیصلے کوبطورحجت پیش کیا تواس پرزبیرعلی زئی صاحب نے امام بخاری کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے کہاکہ ”امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے اس دعوی کی کوئی دلیل بیان نہیں کی“ ۔
اس پرہم نے انہیں سمجھایا کہ امام بخاری رحمہ اللہ اوران جیسے ناقدین محدثین کی جانب سے اس طرح کے فیصلہ حجت ہوتے ہیں۔ چناں چہ ہم نے لکھا تھا:
”امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ اپنا قول ہے نہ کہ کسی اور کا، اس لیے سند کا مطالبہ ہی مردودہے۔
یاد رہے کہ ائمہ نقاد کا یہ کہنا کہ فلاں نے فلاں سے سنا نہیں۔ فلاں کی فلاں سے ملاقات نہیں یا اس طرح کے فیصلے دینا حجت و دلیل کی حیثیت رکھتا ہے، چناںچہ جب ہم کسی سندکومنقطع بتلاتے ہیں تو کسی امام سے محض یہ قول نقل کر دینا کافی سمجھتے ہیں کہ انھوں نے کہا ہے کہ اس راوی نے فلاں راوی سے نہیں سنا، وغیرہ وغیرہ۔
یہاں پر یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ ناقد کے اس فیصلے کی سند پیش کرو، یعنی اس نے جو یہ کہا ہے کہ فلاں نے فلاں سے نہیں سنا، اس کی سند پیش کرو۔ کیوںکہ یہ فیصلہ ایک ناقد کا ہے اور ائمہ نقد کے اس طرح کے فیصلے بجائے خود دلیل ہوتے ہیں۔ خود حافظ موصوف کی تحقیقی کتب سے ایسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہے، جہاں سند میں انقطاع کا حکم لگایاگیا ہے اور دلیل میں کسی ناقد امام کا اپنا قول ہی پیش کیا گیا ہے۔ بلکہ عدمِ لقا سے زیادہ نازک مسئلہ تدلیس کا ہے، یعنی کسی راوی سے متعلق ناقد کا یہ فیصلہ کرنا کہ وہ اپنے اساتذہ سے سنے بغیر روایت کر دیتا ہے۔ یہاں بھی ناقد کے قول کی سند نہیں مانگی جاتی، کیوںکہ ناقد کا فیصلہ بجائے خود دلیل ہوتا ہے۔“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص١١٠)
غور کریں!
ہم نے پوری صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ ائمہ نقد کے اس طرح کے فیصلے بجائے خود دلیل ہوتے ہیں۔ یعنی وہ دلیل کے محتاج نہیں ہوتے۔ پھربعد میں ہمیں امام بخاری کے فیصلے ودعوے کے مطابق ایک صحیح دلیل بھی مل گئی، جسے پیش کرنے کی کوئی ضرورت قطعا نہ تھی، لیکن پھربھی ہم نے اضافی طورپرزبیرعلی زئی صاحب کی ضدپوری کرنے کے لیے اسے بھی پیش کردیا اور کہا: ”بعد میں ہمیں اس دعوی کی صحیح دلیل بھی مل گئی۔“ اس پرندیم ظہیرصاحب لکھتے ہیں:
”سنابلی صاحب کی تحریر سے واضح ہوجاتاہے کہ جب تک یہ دلیل نہیں تھی ،دعوی بلادلیل تھا۔اورامام بخاری رحمہ اللہ کا دعوی بھی دلیل کا محتاج تھا۔“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ ص٣٧)
یہ کہنا کہ دعوی بلادلیل تھا قطعاً واضح نہیں ہوتا۔ صرف یہ واضح ہوتاہے کہ اس دلیل کا ہمیں علم نہیں تھا اور ندیم صاحب ایسی اصولی باتوں کو سمجھنے سے عاری ہیں۔ اور یہ کہنا کہ ناچیزکی تحریر سے واضح ہوجاتاہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا دعوی بھی دلیل کا محتاج تھا، سراسر مغالطہ بازی اور ہٹ دھرمی ہے۔ ہماری تحریرمیں صاف اورصریح طورپرموجودہے کہ ائمہ نقدکے اس طرح کے فیصلے بجائے خود دلیل ہوتے ہیں، پھر دلیل کے محتاج کیوں؟
آگے ندیم ظہیرصاحب نے دورخی ڈبہ پیش کیا ہے۔ آئیے! اس کاجائزہ لینے سے قبل ہم اُن کے استاذممدوح زبیرعلی زئی صاحب کے گھرسے وہ دورخی ڈبہ دوبارہ پیش کردیں جسے ہم نے شروع میں پیش تھا:

● پہلا رخ:-

”لایعرف“ کے الفاظ میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک خاص مقام پر دو صحابہ کی ملاقات کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: ”ولايعرف لأبي ذر قدوم الشام زمن عمر“ ، ”اورعمرفاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ابوذررضی اللہ عنہ کا شام آنا معروف نہیں ہے۔“ ہم نے امام بخاری کا یہ قول بطوردلیل وبطور حجت پیش کیا تو زبیرعلی زئی صاحب نے لکھا:
”اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنے اس دعوی کی کوئی دلیل بیان نہیں کی ہے۔“ (مقالات٦ /٣٨٠)
ایک اورجگہ لکھا:
”یہ واقعہ چوں کہ امام بخاری کی پیدایش سے پہلے ہوا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ امام بخاری سے ابو ذررضی اللہ عنہ تک صحیح سند پیش کی جائے کہ وہ عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام نہیں گئے تھے۔“ (مقالات:٦ /٥٨٧)

 ● دوسرارخ :-

”لایعرف“ کے الفاظ میں امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے ابوقلابہ کی تدلیس کا انکار کیا ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب امام ابو حاتم کے انھیں الفاظ سے حجت پکڑتے ہوئے لکھتے ہیں:
حافظ ذہبی سے زیادہ بڑے امام اور متقدم محدث ابو حاتم الرازی نے ابو قلابہ کے بارے میں فرمایا: ”لا يعرف له تدليس“ اور اُن کا تدلیس کرنا معروف (معلوم) نہیں ہے۔ (کتاب الجرح والتعدیل: ٥/ ٥٨)“ [دیکھیں: علمی مقالات: ٣/ ٤٩٦، ٤٩٧۔ معروف کے بعد بریکٹ میں (معلوم) حافظ زبیر علی زئی صاحب ہی کی طرف سے ہے]

تبصرہ:-

غور کیا جائے کہ ”لایعرف“ کے الفاظ سے ابوحاتم رحمہ اللہ نے ایک چیز کا انکار کیا تو نہ صرف یہ کہ اس سے حجت پکڑی جا رہی ہے، بلکہ اسے امام ذہبی رحمہ اللہ کے قول کے خلاف پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن انھیں الفاظ میں امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی ایک چیز کا انکار کیا ہے، مگر امام بخاری رحمہ اللہ کے اس فیصلے کو ناقابلِ قبول بتلایا جا رہا ہے اورکہا جا رہاہے کہ امام بخاری نے اپنے اس دعوی کی کوئی دلیل بیان نہیں کی ہے…!!
.
ندیم صاحب کے استاذ ممدوح کے گھرسے یہ دورخی ڈبہ ملاحظہ کرنے کے بعداب دیکھتے ہیں کہ ندیم صاحب نے ہمارے تعلق سے جو دورخی ڈبہ پیش کیا ہے، اس کی کیا حقیقت ہے۔

پہلے رخ کاخلاصہ:

پہلے رخ میں ندیم ظہیرصاحب نے یہ دکھلایا ہے کہ ہم نے امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ کی ایک جرح کو قبول نہیں کیا، کیونکہ امام احمدبن حنبل کی اس جرح کی بنیاد راوی پرلوٹ مار کے الزام پر تھی اور اس راوی پر لوٹ مارکے الزام کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

دوسرے رخ کاخلاصہ :

دوسرے رخ میں ندیم صاحب نے جودکھلایاہے اس کاماحصل یہ ہے کہ ہم نے ایک حدیث پر امام بخاری کافیصلہ نقل کیا کہ امام بخاری نے اسے معلول کہا ہے اور اس کی علت بھی بیان کی ہے۔اب زبیرعلی زئی صاحب نے امام بخاری کے اس فیصلے کو چیلنج کردیا اور امام بخاری کی بیان کردہ علت میں کمزروی نکالنے بیٹھ گئے ۔اس پرہم نے انہیں سمجھایا کہ جب کسی حدیث کو کوئی ماہر فن ”معلول“ کہہ دے تو گرچہ اس کی علت بیان نہ کرسکے، پھر بھی ماہر فن کا فیصلہ حجت ہوتا ہے۔ یعنی یہاں ہماری پوری بات کاتعلق کسی حدیث پر کسی ماہر فن کی طرف سے ”معلول“ کہے جانے کے فیصلے پرہے۔
.
عرض ہے کہ:
ندیم ظہیر صاحب نے جو اقتباس نقل کیا ہے، ہم اسی کو ماقبل کے الفاظ کے ساتھ نقل کرتے ہیں، جس سے ہمارا مقصود اچھی طرح واضح ہو جاتاہے،چناں چہ ہماری پوری بات یہ ہے:
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ محترم زبیر علی زئی اس پوزیشن میں ہیں ہی نہیں کہ وہ امام بخاری رحمہ اللہ کی بیان کردہ علت کو چیلنج کر سکیں، بلکہ علت کو چیلنج کرنا تو بہت دور کی بات؛ محترم زبیرعلی زئی اس بات کے بھی مجاز نہیں کہ امام بخاری کے قول”والحدیث معلول“ کے خلاف ایک حرف بھی کہنے کی جسارت کریں، کیوںکہ امام بخاری رحمہ اللہ ان عظیم المرتبت ائمہ حدیث میں سے ہیں جن کی بابت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی صراحت گزر چکی ہے کہ یہ ائمہ اگرکسی حدیث کو معلول کہہ دیں تو ان کا معلول کہنا ہی کافی ہوتا ہے، خواہ وہ معلول کہنے کی وجہ بیان کریں یا نہ کریں اور بسا اوقات یہ ائمہ معلول کہنے کی وجہ نہیں بیان کر پاتے، جس طرح جوہری کا معاملہ ہے کہ وہ کسی سونے جیسی چیز سے متعلق یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ کھوٹا ہے، لیکن اس کی وجہ نہیں بیان کرسکتا۔ یہی معاملہ ماہرینِ فن ائمہ نقد کا بھی ہے اور بہرصورت ان کا فیصلہ حجت ہے۔
اس وضاحت کے بعد ملاحظہ فرمائیں کہ محترم زبیر علی زئی کس بات کی کوشش کر رہے ہیں؟ جی ہاں موصوف امام بخاری رحمہ اللہ زکی بیان کردہ علت کا جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مودبانہ عرض ہے کہ محترم یہ آپ کا کام سرے سے ہے ہی نہیں، اﷲ کے واسطے آپ خود کو اتنے بڑے کام کے لیے تکلیف نہ دیں۔ یہ چیز آپ کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ آپ اس بات کے قطعاً اہل نہیں کہ کوئی امامِ فن کسی حدیث کو معلول کہہ دے اور اس کی علت بیان کرے تو آپ اس کی بیان کردہ علت کو غلط ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔یہ بالکل لایعنی اور بے سود کام ہے، کیوں کہ آپ ثابت بھی کرلے جائیں کہ امام بخاریرحمہ اللہ نے حدیث کو معلول کہنے کی کوئی صحیح وجہ بیان نہیں کی ہے تو بھی اس سے امام بخاری رحمہ اللہ  کے فیصلے پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، کیوںکہ محدثین کہہ چکے ہیں کہ ماہر فن امام کبھی کبھی حدیث کو معلول تو کہہ دیتا ہے، مگر اس کی صحیح وجہ بیان نہیں کرسکتا۔“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ ص١٢٢)
ہماری اس پوری بات سے واضح ہوجاتاہے کہ ہمارا مقصود فن حدیث کے اس اصول سے ہے کہ ماہرفن کی طرف سے کسی حدیث پر ”معلول“ کا فیصلہ حجت ہوتاہے، اگرچہ ماہرفن معلول کہنے کی صحیح علت بیان نہ کرے۔
اب قارئین غور کریں کہ دونوں باتوں میں کس قدربعدالمشرقین ہے!
کہاں کسی ماہرفن کی طرف سے کسی حدیث پرمعلول کا فیصلہ کرنا اورکہاں کسی ماہرفن کا کسی راوی پرجرح کرتے ہوئے صراحتاً ایسی چیزکوبنیاد بناناجو اس کے دائرہ فن سے باہرکی چیز ہے…!!
بلکہ کسی حدیث کو معلول کہنا تو بہت بڑی چیز ہے، کسی راوی پر جرح کی بات ہی لے لیں، ہمارا ماننا ہے کہ کسی راوی پرکوئی ناقد امام فن کے اصولوں کو بنیاد بناتے ہوئے جرح کرے تو وہ حجت ہے، بشرطیکہ اس کے خلاف دیگر ائمہ کے فیصلوں کے راجح ہونے کی دلیل مل جائے۔ لیکن اگرکوئی امام کسی راوی پر جرح کرتے ہوئے صراحتاً ایسی چیزوں کو بنیاد بناتاہے، جو اس کے فن کے دائرے سے باہرہے تو ایسی بنیاد پرکی گئی جرح قابلِ قبول نہیں۔ یہ دورخی موقف نہیں ہے، بلکہ یہ دو علیحدہ علیحدہ مسئلوں میں دو الگ الگ موقف ہے۔ اس فرق کی وضاحت ہم نے اپنی کتاب میں کردی تھی، لیکن ندیم ظہیر صاحب اسے سمجھنے سے یاتو قاصر ہیں یا بھولے بھالے قارئین کو فریب دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ہم نے دونوں مسئلوں میں فرق کی وضاحت ان الفاظ میں کی تھی :
”کردار کے لحاظ سے کسی پر طعن کرنا الگ معاملہ ہے اور روایت کے لحاظ سے کسی پر طعن کرنا دوسرا معاملہ ہے۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔کردار کے لحاظ سے جب کسی پر طعن کیا جاتا ہے تو وہ اجتہادی معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد خالص شہادت و گواہی پر ہوتی ہے اور خالص شہادت و گواہی صرف معاصر ہی دے سکتا ہے، نیز معاصر کی شہادت وگواہی بھی اسی صورت میں معتبر ہوتی ہے، جب وہ خالص مشاہدے پر مبنی ہو، یعنی سنی سنائی بات نہ ہو۔ دنیا کی کوئی بھی عدالت سنی سنائی باتوں کوشہادت وگواہی نہیں مان سکتی اور اسلام میں بھی اس کی گنجایش نہیں۔ اس بارے میں کتاب و سنت کے نصوص بہت ہیں، جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔
رہی بات روایت کے لحاظ سے کسی پر جرح کی جو خاص محدثین کا مشغلہ ہے تو یہ اجتہادی معاملہ ہے اور محدثین کے یہاں اس اجتہاد کی بنیاد راوی کی مرویات ہوتی ہیں۔ یعنی ایک محدث جب کسی راوی پر جرح کرتا ہے تو اس کی روایات کو دیکھ کرجرح کرتا ہے۔ اگر اس کی روایات دیگر ثقہ لوگوں کی روایات سے موافق ہوتی ہیں تو محدث اس کے ثقہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے اور اگر اس کی روایات دیگر ثقہ لوگوں کے خلاف ہوں تو محدث اس کے ضعیف ہونے کا فیصلہ کرتا ہے اور اگر مخالفت راوی کے کذب کی طرف اشارہ کرے تو محدث ایسے راوی کو کذاب کہتا ہے اور اس معاملے میں جرح کی بنیاد راوی کی روایات ہوتی ہیں، اس لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ جرح کرنے والا محدث، جس پر جرح کر رہا ہو، اس کے دور کا ہو، کیوںکہ وہ راوی کی روایات دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے اور پہلے دور کے راوی کی روایات کو بعد کے دور والا محدث بھی دیکھ سکتا ہے، کیوںکہ بعد کے دور کے محدث تک اس کی روایات ایسی سندوں سے پہنچ سکتی ہیں، جو اس راوی تک صحیح ہوں۔
بلکہ اگر محدث جس پر جرح کر رہا ہے، اس کے دور کا ہی ہو تو بھی محدث اس کا چہرہ دیکھ کر جرح نہیں کرے گا، بلکہ اس کی روایات ہی دیکھ کرجرح کرے گا۔ یعنی جرح کے معاملے میں محدث جس چیز کو بنیاد بناتا ہے، وہ راوی کی روایات ہی ہوتی ہیں، لہٰذا یہاں پر جارح اور مجروح کے درمیان معاصرت اور عدمِ معاصرت کی بحث ہی فضول ہے، کیوںکہ جرح کرنے والا محدث مجروح کے دور کا ہوگا تو بھی اس کی روایات ہی دیکھے گا اور اس کے دور کا نہیں ہوگا تو بھی اس کی روایات ہی دیکھے گا۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک محدث اپنے دور سے قبل کے کسی راوی پر ضعیف یا کذاب ہونے کی جرح کرتا ہے تو ہم اسے قبول کرتے ہیں اور یہ اعتراض نہیں کرتے کہ یہ محدث اس راوی کا معاصر نہیں ہے، جس پر وہ جرح کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ بعض جارحین کی جرح کی بنیاد راوی کی روایات کے بجائے راوی کا کردار ہی ہوتا ہے، مثلا کسی راوی کا شرابی ہونا، بدکار ہونا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس صورت میں جرح کرنے والے محدث کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ جس پر جرح کر رہا ہے، اس کے دور کا ہو اور اپنے ذاتی مشاہدے کو بنیاد بنا رہا ہو یا اگر اس کے دور کا نہ ہو تو ایسی گواہی کو بنیاد بنائے، جو اس راوی کے کسی سچے معاصر نے دی ہو، جو اس محدث تک صحیح سند سے پہنچی ہو۔ بصورتِ دیگر اس محدث کی گواہی رد کر دی جائے گی، چناںچہ جرح و تعدیل سے شغف رکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ بعض محدثین کی طرف بعض رواة سے متعلق شراب نوشی یا گانے بجانے وغیرہ کی جرح ملتی ہے، لیکن اس جرح کو اس لیے رد کر دیا جاتا ہے، کیوںکہ جارح جس پر جرح کر رہا ہے، اس کا معاصر نہیں ہے اور اس کے پاس صحیح سند سے یہ بات نہیں پہنچی ہے“ (یزیدبن معاویہ ۔۔۔ص٧٧٢ تا٧٧٣)
.
اپنی اسی کتاب میں ہم نے اس فرق کی وضاحت دوسرے مقام پر اس طرح کی ہے:
”کسی راوی کو ثقہ کہنے کے لیے دو چیزوں کا ثبوت ضروری ہے:(١)عدالت۔(٢)ضبط۔ان چیزوں کا فیصلہ یا تو ناقدین کے استقرا سے ہوتا ہے یا معاصرین کی شہادت سے۔ تفصیل ملاحظہ ہو:
ناقدانہ استقرا:- عام طور سے ان دونوں کا فیصلہ راوی کی مرویات کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ جب ایک راوی ایسی روایات بیان کرے، جو دوسرے ثقہ رواة کی مرویات کے موافق ہوں تو ایسے راوی کو ثقہ کہا جاتا ہے، کیوں کہ روایات کی موافقت جہاں ایک طرف اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ راوی ضابط ہے، یعنی اس کا حافظہ ٹھیک ہے، وہیں دوسری طرف اس میں اس بات کی بھی دلیل ہوتی ہے کہ راوی عادل بھی ہے، کیوں کہ اس نے ان روایات میں تبدیلی نہیں کی ہے۔ یعنی عام طور سے عدالت و ضبط کا فیصلہ راوی کی مرویات ہی کی بنا پر ہوتا ہے، جیساکہ اوپر امام ذہبی رحمہ اللہ کا حوالہ گزرا۔
جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ راوی کی توثیق یا تضعیف کے لیے عام طور سے راوی کی مرویات کو بنیاد بنایا جاتاہے تو یہیں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی راوی کی توثیق یا تضعیف کے لیے ضروری نہیں ہے کہ توثیق یا تضعیف کرنے والا اس راوی کے دور کا ہو، کیوں کہ جب روایات دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے تو کسی بھی دور کا ناقد محدث کسی بھی دور کے راوی کی مرویات کا استقرا کرکے اس کے بارے میں ثقاہت یا ضعف کا فیصلہ کر دیتا ہے ۔۔۔
شہادت اور گواہی:-تاہم اس عمومی طرزِ عمل کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار راوی کی عدالت کے سلسلے میں راوی کے اخلاق و کردار کو بھی پیشِ نظر رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے، مثلاً کسی راوی کے بارے میں یہ شہادت مل جائے کہ نمازی تھا، دیندار تھا، تقویٰ شعار تھا تو اس کی تعدیل کی جاتی ہے یا اس کے برعکس یہ مل جائے کہ وہ فاسق تھا یا شرابی تھا یا بد دین تھا وغیرہ وغیرہ، تواس پر جرح کی جاتی ہے اور یہ معاملہ خالص شہادت پر مبنی ہوتاہے نہ کہ اجتہاد پر، اس لیے اس معاملے میں شہادت اور گواہی کا ثابت شدہ ہونا ضروری ہے۔ نیز اس طرح کی شہادت اور گواہی دینے کا حق صرف انھیں لوگوں کو حاصل ہے، جو راوی کے ہم عصر ہوں اور اس کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والے ہوں۔یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی شہادت کو بنیاد بناکر جب محدثین جرح و تعدیل کرتے ہیں تو اس بارے میں صرف معاصرین ہی کی شہادت وگواہی قبول کرتے ہیں، نیز معاصرین سے بھی اس کا بسندصحیح نقل ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔ بصورت دیگر اس طرح کی باتوں کو رد کر دیتے ہیں، خواہ اس کی ہم نوائی بعد کے کسی بڑے سے بڑے امام ہی نے کیوں نہ کی ہو۔ آئیے اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔
احادیث کی روایت کرنے والوں میں ایک نام ”عمربن سعد بن ابی وقاص“ کا بھی ملتاہے، ان پر جرح و تعدیل کے ایک بہت بڑے امام ابن معین رحمہ اللہ نے جرح کی ہے اور انھیں غیر ثقہ قرار دیا ہے، لیکن امام ابن معین رحمہ اللہ نے ان پر جرح کے سلسلے میں جس چیز کو بنیاد بنایا ہے، اس کا تعلق اخلاق و کردار سے ہے، چناں چہ امام ابن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ثقہ نہیں ہے، کیوں کہ اس نے حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو؛ امام ابن ابی خیثمہ رحمہ اللہ (المتوفی: ٢٧٩) نے کہا:
« سأَلتُ يَحيى بن مَعِين عَن عُمر بن سَعد: أثقة هو؟ فقال: كيف يكون من قتل الحُسين بن علي، رضي الله عَنه، ثقة ؟»
”میں نے امام ابن معین رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ کیا عمربن سعد ثقہ ہیں؟ تو امام ابن معین رحمہ اللہ نے جواب دیا: جس نے حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا وہ کیسے ثقہ ہو سکتا ہے؟“ [الجرح والتعدیل لابن أب حاتم (٦/ ١١١، ت: ٥٩٢) و إسنادہ صحیح. نیز دیکھیں: تاریخ ابن أبي خیثمة (٢/ ٩٤٥، ت: ٤٠٣٣)]
یہاں پر امام ابن معین رحمہ اللہ نے عمربن سعد رحمہ اللہ ، جو کبار تابعین میں سے ہیں، انھیں غیرثقہ کہہ دیا اور اس کے لیے عمربن سعد رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک کردار (قتلِ حسین رضی اللہ عنہ ) کو بنیاد بنایا، لیکن چونکہ عمربن سعد رحمہ اللہ کا یہ کردار ثابت نہیں ہے، عمربن سعد رحمہ اللہ کے معاصرین میں سے کسی نے بھی ان کے اس کردار کی گواہی نہیں دی ہے، اس لیے دیگر محدثین نے امام ابن معین رحمہ اللہ کی اس جرح کو رد کر دیا ہے اور عمربن سعد رحمہ اللہ کو ثقہ و صدوق تسلیم کیا ہے۔“ (یزید بن معاویہ ۔۔۔ص٧٤٨،٧٥٣)
قارئین ملاحظہ فرمائیں!
ہم نے دومسئلوں کے فرق کو واضح کیا ہے، لیکن اس وضاحت سے آنکھیں بندکرکے ندیم ظہیرصاحب دو رُخی ڈبے بناکرخود کو بہت بڑاتیس مارخان سمجھتے ہیں…!!

نوٹ:-

اس ضمن میں آں جناب نے حافظ ابن حجر کا ایک قول پیش کیا ہے جس میں انہوں نے امام ابن سعد کی ایک جرح کی تفسیربیان کی ہے اورچونکہ ہم نے ان کی بیان کردہ تفسیرکو بے دلیل کہا، اس لیے ندیم ظہیرصاحب نے اسے بھی پہلے رخ کی قطار میں گنا دیا۔
عرض ہے کہ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں ہرشخص سمجھ سکتاہے کہ حافظ ابن حجرکی یہ تفسیرناقد کے اس فیصلہ کے قبیل سے نہیں ہے، جس میں ناقد راوی کی مرویات کادراسہ کرکے کوئی فیصلہ صادرکرتاہے، جسے حجت ماناجاتاہے۔
اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ ہمارے خلاف ندیم ظہیرصاحب نے جو دو رُخی ڈبے بنائے، وہ ڈھول کے پول ہیں، لیکن اس کے برعکس ہم نے ان کے استاذ ممدوح کے گھرسے جو دو رُخی ڈبے حاضر کیے ہیں، وہ بلاشک و شبہہ دورخی پالیسی پردلالت کرتے ہیں۔ اگر نہیں تو ندیم صاحب فرق واضح کریں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم ندیم ظہیر صاحب کے لیے بھی دو رخی ڈبہ حاضرکر دیں۔

 ● پہلا رخ:-

ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”امام بخاری کے قول ”ولايعرف لأبي ذر قدوم الشام زمن عمر“ پراعتراض کرتے ہوئے حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ نے لکھا: ”امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے اس دعوی کی کوئی دلیل بیان نہیں کی“ تو اس پرسنابلی صاحب لکھتے ہیں : ”بعد میں ہمیں اس دعوی کی صحیح دلیل بھی مل گی“ ۔۔۔سنابلی صاحب کی تحریرسے واضح ہوجاتاہے کہ جب تک یہ دلیل نہیں تھی دعوی بلادلیل تھااورامام بخاری رحمہ اللہ کادعوی بھی دلیل کامحتاج تھا۔“ (اشاعة الحدیث :١٣٤ص٣٧)
عرض ہے کہ :
اس سے یہ واضح نہیں ہوتاکہ امام بخاری کا دعوی بلادلیل تھا بلکہ صرف یہ واضح ہوتا ہے کہ اس دعوے کی صحیح اورصریح دلیل کا علم ناچیز کو نہ تھا۔ اوریہ توقطعا نہیں واضح ہوتا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا دعوی دلیل کا محتاج تھا، جیساکہ ماقبل میں وضاحت کی گئی ہے ۔
البتہ اپنے استاذممدوح کی ہمنوائی میں رقم کردہ ندیم ظہیرصاحب کے ان الفاظ سے یہ ضرورواضح ہوتاہے کہ امام بخاری یا ان جیسے محدثین کا اس طرح کا دعوی دلیل کا محتاج ہوگا۔یعنی بغیردلیل اس سے حجت پکڑنا درست نہ ہوگا۔اب ندیم ظہیرصاحب کا دوسرارخ ملاحظہ ہو:

 ● دوسرارخ:-

ندیم ظہیرصاحب ایک روایت کی سند کو منقطع ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ہماری تحقیق کے مطابق محمدبن سیرین رحمہ اللہ کی سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے، جیساکہ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”محمدبن سیرین کی سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ ص٤٣)

تبصرہ:-

یہاں اما م ابوحاتم رحمہ اللہ کے جس دعوے سے ندیم ظہیرصاحب نے استدلال کیا ہے یہ دعوی ندیم ظہیرصاحب کے اصول کے مطابق امام بخاری رحمہ اللہ کے دعوی کی طرح دلیل کا محتاج ہے! پھر اس محتاجِ دلیل دعوی سے بلادلیل احتجاج چہ معنی دارد؟؟
ہم نے امام بخاری کاوہ قول پیش کیا تھا، جس میں امام بخاری نے ایک خاص مقام پردوصحابہ کی ملاقات کے انکار کیا تھا توندیم ظہیرصاحب کے استاذممدوح نے لکھاتھا:
”یہ واقعہ چوںکہ امام بخاری کی پیدایش سے پہلے ہوا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ امام بخاری سے ابو ذررضی اللہ عنہ تک صحیح سند پیش کی جائے کہ وہ عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میںشام نہیں گئے تھے۔“ (مقالات:٦ /٥٨٧)
اب ہم آپ کے استاذممدوح کے اصول کے تحت کہتے ہیں:
”یہ واقعہ چوںکہ امام ابوحاتم کی پیدایش سے پہلے ہوا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ امام ابوحاتم سے محمدبن سیرین رحمہ اللہ تک صحیح سند پیش کی جائے کہ انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔“
دورخی ڈبے بنانے والو! کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک لیا کرو۔
لگے ہاتھوں اپنے استاذممدوح گے گھرسے دو رُخی ڈبے کا ایک اور نمونہ دیکھتے چلیں:

 ● پہلارخ:-

زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”حافظ ذہبی نے بھی عمرو بن یحییٰ کو ابن معین کی طرف منسوب غیرثابت جرح کی وجہ سے ”دیوان الضعفاء والمتروکین” (٢/ ٢١٢) رقم (٩٢٢٣) و غیرہ میں ذکر کیا ہے اور اصل بنیاد منہدم ہونے کی وجہ سے یہ جرح بھی منہدم ہے۔“ [ماہنامہ ”الحدیث“ (شمارہ: ٩٥، ص: ٨٢)]

 ● دوسرارخ:-

امام احمدرحمہ اللہ نے یزید کی طرف منسوب مدینہ میں لوٹ مار والی بے دلیل بات کو بنیاد بناکر جرح کی توزبیرعلی زئی صاحب نے اسے قبول کرلیا۔ دیکھئے:اضواء المصابیح از زبیرعلی زئی ص٢٧١۔

نوٹ:-

ہم نے حدیثِ یزید والی کتاب میں جولطیفہ پیش کیاہے، اس پرندیم ظہیر صاحب نے جو بھی ارشاد فرمایاہے، وہ ایک نئے لطیفے کااضافہ ہے۔

امام احمدرحمہ اللہ کارجوع؟

اس عنوان کے تحت ندیم ظہیرصاحب نے ہماری کتاب سے یزیدکے بارے میں امام احمدسے متعلق ان کی دوباتیں نقل کی ہیں:
① پہلی بات: امام احمد نے جرح سے رجوع کرلیاہے۔
② دوسری بات: امام احمد نے یزید کو خیرالقرون کی فضیلت کاحامل بتلایا ہے۔
اس کے بعد بدترین خیانت کا ارتکاب کرتے ہوئے دلیل صرف دوسری بات کی نقل کی ہے اورقارئین کواس مغالطے میں ڈالا ہے کہ ہم نے پہلی بات کے لیے بھی اسی روایت سے استدلال کیا ہے، جسے دوسری بات کی دلیل میں پیش کیا ہے۔ پھر مذاق اڑاتے ہوئے ”سوال چنا اورجواب گندم“ کی بھپتی کسی ہے اور از خود اس استہزا کا نشانہ بن گئے۔
قارئین کی خدمت میں عرض ہے کہ پہلی بات کی دلیل ماقبل میں ہی پیش کی جاچکی ہے، اس کے بعد دوسری بات شروع ہوئی اور آگے کی روایت ہم نے صرف دوسری بات ہی کی دلیل کے طورپرپیش کی ہے، جیساکہ ہمارے الفاظ اور سیاق روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، چناں چہ ہم پہلی بات بادلیل پیش کرتے ہوئے لکھا:
”دکتور محمد بن ہادی الشیبانی لکھتے ہیں:
«في عقيدة أحمد التي كتبت عنه ، وذالك قبل ثلاثة أيام من وفاته : وكان يمسك عن يزيد بن معاوية ،ويكله إالي الله»
”امام احمد رحمہ اللہ کی وفات سے تین دن قبل ان کے جو عقائد لکھے گئے، اُن میں ہے کہ امام امام احمدرحمہ اللہ  یزید بن معاویہ کے بارے میں خاموشی اختیارکرتے تھے اور ان کا معاملہ اﷲ پر چھوڑتے تھے۔“ [مواقف المعارضة ف عہد یزید بن معاویة (ص: ٧٢٢) بحوالہ طبقات الحنابلة (٢/ ٢٧٣)]
یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ امام احمدبن حنبل نے اخیر میں یزید کے معاملے کو اﷲ کے سپرد کر دیا تھا، یعنی یزید بن معاویہ پر قتل یا لوٹ مار یا کسی بھی قسم کا الزام لگانے سے رجوع کر لیا تھا، لہٰذا ان کے جس قول میں یزید بن معاویہ پر ظلم یا لوٹ مار کا الزام ہے، اس قول سے امام احمد رحمہ اﷲ رجوع کر چکے ہیں۔(یزیدبن معاویہ ۔۔۔۔٧٨١،٧٨٢)
قارئین! نوٹ فرمائیں کہ یزید سے متعلق امام احمدکی پہلی بات با دلیل پیش کی جاچکی ہے۔ اس کے بعدآگے دوسری بات ان الفاظ میں شروع ہو رہی ہے:
صرف یہی نہیں کہ امام احمدرحمہ اللہ نے اخیرمیں یزید بن معاویہ کے بارے میں اپنی جرح سے رجوع کر لیا، بلکہ اسے خیرالقرون کی فضیلت کاحامل بھی بتلایا ہے، چناں چہ امام ابوبکر الخلال (المتوفی: ٣١١ھ) نے کہا:۔۔(یزیدبن معاویہ ۔۔۔۔ ٧٨٢)
قارئین! دیکھیں بات کتنی واضح ہے کہ جرح والی بات بادلیل پیش کرنے کے بعدآگے ”صرف یہی نہیں بلکہ“ کے بعدالگ اوردوسرا دعوی شروع ہورہاہے اورپھراس دوسر ے دعوے کی دلیل اس کے بعد ”چناں چہ“ کہتے ہوئے پیش کی گئی ہے۔
اس دوسری دلیل کو پیش کرنے کے بعد ہم نے واضح کیا ہے کہ امام احمدیزید کی فضیلت کے بھی قائل ہوگئے تھے اور اس بارے میں اپنے سابق موقف یعنی یزید کی فضیلت کے سلسلے میں اپنے سابق موقف سے رجوع کرچکے تھے، کیونکہ شروع میں وہ یزید پر صرف جرح کرتے تھے اورفضیلت بیان نہیں کرتے تھے۔
لیکن ندیم ظہیر صاحب نے خیانت اورمکاری کرتے ہوئے ہماری پہلی بات کو ماقبل میں اس کی دلیل سے کاٹ کر دوسری بات کے ساتھ پیش کر دیا اور پھر دوسری بات کے لیے پیش کردہ دلیل کو پہلی بات پربھی فٹ کردیا ۔ اس کے بعد قارئین کو چنے گندم کی روٹی پکا کر کھلانے لگے۔سبحان اللہ!!
ندیم ظہیر صاحب نے چالاکی کرتے ہوئے پہلی بات کے تذکرے کے ساتھ اس کی دلیل ذکرنہیں کی، لیکن چناگندم کھانے کے بعدیہ وضاحت کی کہ یہ دکتورمحمدبن ہادی کے حوالے سے ہم نے جوبات نقل کی ہے، وہ غلط ہے ۔
عرض ہے کہ دکتورمحمدبن ہادی نے ”طبقاتِ حنابلہ“ کے جس نسخے سے نقل کیا ہے اس تک ہماری رسائی نہیں ہے، لیکن ہمیں ان کی نقل پر اعتماد ہے۔ ان کے بقول یہ بات امام احمدسے سن کر لکھی گئی ہے اور ظاہرہے کہ امام احمدکے کسی شاگرد نے اسے قلمبند کیا ہے، پھربعدکے لوگوں نے انہیں کے مکتوبات کو روایت کیا ہوگا۔ تاہم اگر ندیم ظہیرصاحب کو اس حوالے پر اعتماد نہیں ہے تو وہ شوق سے رد کر دیں۔
واضح رہے کہ اگرچہ ہم نے اپنی کتاب میں اس دوسری روایت کو پہلی بات کی دلیل میں پیش نہیں کیا ہے کیونکہ اس کے لئے صریح دلیل پیش کی جاچکی تھی، لیکن اگرکوئی اس دوسری روایت سے بھی اس بات پراستدلال کرے کہ امام احمد نے جرح سے رجوع کرلیا ہے تویہ بالکل درست ہے، کیونکہ امام احمدرحمہ اللہ نے نے اس روایت کے مطابق یزید کو خیرالقرون کی فضیلت کامصداق بتلایا ہے، یعنی اس دور کے جن لوگوں کواللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھا کہا ہے ان میں یزیدبھی شامل ہے۔ ظاہرہے کہ امام احمدرحمہ اللہ اگر یزید کی طرف منسوب ،ظلم ، ظلماً صحابہ کاقتل اورمدینہ میں لوٹ کھسوٹ کو ثابت مانتے توہرگزاسے خیرالقرون کی فضیلت کامصداق نہیں بتلاتے۔
ندیم ظہیرصاحب لکھتے ہیں:
”واضح رہے کہ خیرالقرون کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہے کہ اس دورمیں کسی ظالم ،یاضعیف راوی کاسرے سے وجودہی نہ ہوگا۔“ (اشاعة الحدیث ١٣٤ص٤٠)
عرض ہے کہ بے شک خیرالقرون کایہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس دورمیں کسی ظالم ،یاضعیف راوی کاسرے سے وجودہی نہ ہوگا، لیکن خیرالقرون میں جس کا ظالم اور ظلماً قاتل صحابہ اور ڈاکو ہونا ثابت ہوجائے اسے خیرالقرون کی فضیلت کامستحق بھی نہیں بتلایاجاسکتااورامام احمدنے یزید کو خیرالقرون کی فضیلت کامستحق بتلایاہے۔
اگرامام احمدنے یزیدپرجرح حافظہ کی خرابی بتاکرکی ہوتی تواول تو یہ ان کا فنی نقدہوتا، ہم اس کو رد ہی نہیں کرتے، نیز اسے یزیدکے خیرالقرون کی فضیلت کے مصداق ہونے کے منافی بھی نہیں بتاتے، کیونکہ حافظہ کی کمزوری کوئی گناہ یا جرم نہیں ہے، اس لیے اس کمزوری کے ساتھ بھی کسی کوخیرالقرون کی فضیلت کامصداق بتلایاجاسکتاہے، لیکن جس پرجرح کی بنیاد ظلم اور ظلماًصحابہ کاقتل اور مدینہ میں لوٹ کھسوٹ ہو، بھلا ایسے شخص کوکون معقول آدمی خیرالقرون کی فضیلت کامصداق بتلائے گا؟
لہٰذاجب امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ نے یزید پرلعنت کے سلسلے میں جواب دیتے ہوئے اسے خیرالقرون کی فضیلت کا مصداق بھی بتلادیا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام احمد کی نظر میں یزید کی طرف منسوب وہ باتیںثابت ہی نہیں ہیں جن کے سبب آپ نے اس پرجرح کی تھی، اس لیے سبب ختم ہوا تو جرح بھی ختم۔

رہا ندیم ظہیرصاحب کایہ کہنا:
”امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یزیدپرلعنت کے بارے میں سوال ہواتھانہ کہ لوٹ کھسوٹ اوراس سے حدیث بیان کرنے یانہ کرنے سے متعلق، لہٰذا انہوں نے لعنت ہی سے خاموشی اختیارکی ہے۔“ (اشاعة الحدیث: ١٣٤ص٤٠)
عرض ہے کہ گرچہ سوال لعنت ہی سے متعلق ہوا تھا، لیکن جواب میں امام احمدرحمہ اللہ نے یزید کوخیرالقرون کی فضیلت کا مصداق بھی بتا دیا ہے، جس کامفاداوپرواضح کیا جا چکا ہے اوریہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ جتنا سوال ہوجواب بھی اتنا ہی ہوتاہے۔
بہت سارے اساتذہ پوچھے گئے سوال کے جواب کے ساتھ کچھ زائد چیزیں بھی بتادیتے ہیں۔خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ دیکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمند رکے پانی کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ ”والحل ميتته“ (اس کامردہ حلال ہے) بھی ارشاد فرما دیا۔ (سنن نسائی رقم ٥٩ وصححہ الالبانی)
یہی معاملہ یہاں بھی ہے۔ سوال یزید پرلعنت سے متعلق ہوا تھا ، جواب میں امام احمد رحمہ اللہ صرف لعنت والی حدیث پڑھ کر اکتفا کرسکتے تھے، لیکن ساتھ ساتھ خیرالقرون والی حدیث بھی امام احمد نے پڑھ دی۔ رحمہ اللہ تعالیٰ.

امام احمدرحمہ اللہ اوریزید سے متعلق احادیث

ندیم ظہیرصاحب اسی ضمن میں لکھتے ہیں:
”امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یزیدمغفرت کی بشارت والے لشکرمیں شامل نہیں ہے، کیونکہ اگروہ شامل ہوتا توامام موصوف خیرالقرون والی عام دلیل کی بجائے مغفرت کی بشارت والی خاص دلیل سے استدلال کرتے۔“ (اشاعة الحدیث١٣٤ص٤١)
آپ خاص دلیل کی بات کرتے ہیں، بہت سارے مسائل میں امام احمدرحمہ اللہ نے فتوی دیا ہے، لیکن اس سے متعلق کئی خاص بلکہ عام احادیث بھی پیش نہیں کی ہیں تو کیاایسے تمام مسائل میں یہ کہہ دیا جائے کہ امام احمدرحمہ اللہ کی نظر میں یہ احادیث قابل استدلال نہ تھیں؟
اچھایہ بتائیں! یزید کی مذمت میں امام احمد کاحوالہ آپ اورآپ کے استاذممدوح پیش کرتے ہیں اورپوری امت کی مخالفت کرتے ہوئے یزید کی مذمت میں منقول ایک حدیث سے استدلال کرتے ہیں، بلکہ اسے حسن بھی کہتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ امام احمدرحمہ اللہ نے یزید کی مذمت کے وقت اس حدیث سے استدلال کیا یا اسے حسن کہا؟ اگرنہیں تو کیا دو رُخی ڈبوں کی قطار لگانی شروع کی جائے؟ اس اصول پر توحدیثِ یزید کو ناقابل استدلا ل اور مردود قراردینے والے اہل علم کے ناموں پرایک کتاب تیار ہو جائے گی اور آپ کے دو رُخی ڈبو ں کا بھی ایک مجموعہ شائع ہوجائے گا۔
ندیم ظہیرصاحب نے مزید لکھا:
”یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین کے علاوہ کسی ایک متقدم محدث نے بھی اسے یزیدکے حق میں پیش نہیں کیا۔“ (اشاعة الحدیث١٣٤ص٤١)
اچھا توسنیے! اسے یزید کے حق میں پیش کرنے والوں میں سب سے قدیم، جس محدث کانام ملتاہے، وہ امام مہلب بن احمداسدی رحمہ اللہ (المتوفی ٤٣٥) ہیں۔ اب آپ یہ بتائیے کہ یزید کی مذمت میں بخاری وغیرہ کی جن صحیح اور عام احادیث سے آپ اورآپ کے استاذممدوح یزید کی مذمت کشید کرتے ہیں، متقدمین میں سے کتنے محدثین نے ان احادیث کو یزید پرفٹ کیا ہے اور متاخرین میں سب سے پہلے کس نے ان صحیح اورعام احادیث کویزید پرفٹ کیا ہے؟
کیاخیال ہے! اب یہاں بھی دورخی ڈبہ بنادیا جائے؟

ترکش کا آخری تیر

تبدیلِ سنت والی من گھڑت حدیثِ یزید کے خلاف ہم نے صحیح مسلم سے بارہ خلفا والی حدیث پیش کی تو ندیم ظہیرصاحب نے ہماری منشا کے خلاف ہماری مراد کی ترجمانی کرکے اس کا جواب دیاہے۔ کہتے ہیں کہ صحیح مسلم کی حدیث کے ذریعے ہم نے یزید کومعصوم عن الخطا ثابت کرنے کی کوشش ہے۔نعوذ باللہ من ذلک۔
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے خودندیم ظہیرصاحب اوران کے استاذممدوح کے بارے میں یہ کہہ دیاجائے کہ ان لوگوں نے ایک من گھڑت حدیث کو بزعم خویش حسن قراردے کر، پھر اسے بنیاد بناکر یزید کو کافر قرار دینے کی کوشش کی ہے!!!
ہمیں یقین ہے کہ اگر ان کے بارے میں کوئی ایساکہہ دے توان کی طرف سے کربلائی آنسوؤں کا سیلاب آجائے گا، لیکن دوسروں کے تعلق سے یہ لوگ خود کوآزاد سمجھتے ہیں جس پر جیسے چاہیں اتہامات اور الزامات کے کوفی میزائل داغتے پھریں..!!
حضرت جی! حدیثِ مسلم سے ہمارامقصود ہمارے الفاظ سے بالکل ظاہر ہے۔ وہ آپ کی من مانی کوفی تشرح کا محتاج نہیں ہے۔ حدیثِ مسلم میں ہے کہ دین بارہ خلفاء تک غالب وبلند رہے گا اور آپ کے استاذممدوح کی حسن قراردی گئی، حدیث میں اسی دور میں سنت کی تبدیلی کی بات ہے۔
ندیم ظہیر صاحب صحیح مسلم کی بارہ خلفا والی حدیث سے متعلق فرماتے ہیں:
”اس حدیث پرہماراایمان ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی حق ہے،لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہورہا ہے کہ انفرادی طورپربھی کسی سے گناہ وخطاء سرزدنہیں ہوگی۔“ (اشاعة الحدیث١٣٤ص٤٥)
حضرت ! بات کسی کی انفرادی غلطی کی نہیں ، بات دین وسنت کی تبدیلی کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عہدِ یزید میں سنت تبدیل ہوگئی تو پھر بارہ خلفا تک دین کے، جس غلبے کی بات کہی گئی ہے، اس کا کیا مفہوم ہے؟
صحیح مسلم کی اس حدیث سے اگرچہ یزید کی عمومی فضیلت ثابت ہوتی ہے، لیکن اس مقام پر ہم نے صحیح مسلم کی یہ حدیث یزید کی فضیلت بتانے کے لئے نہیں پیش کی ہے، بلکہ یہ بتانے کے لیے پیش کی ہے کہ اس حدیث کی رو سے یزید کے دور میں بھی دین غالب رہے گا، جب کہ آپ کی مستدل حدیث کے مطابق اسی دور میں دین و سنت میں تبدیلی ہوجائے گی۔یہ تھا ہمارا مقصود۔ لیکن ندیم صاحب کسی اور وادی میں پہنچ گئے۔ رہی بات کسی سے انفرادی غلطی نہ ہونے کی تو ہم نے مسلم کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہی نہیں ہے۔
محمدبن الحنفیہ والی روایت بھی ہم نے یزید کو ”امام معصوم“ ثابت کرنے کے لیے نہیں پیش کی ہے ۔ندیم ظہر صاحب خواہ مخواہ ادھر ادھرکاچکر لگارہے ہیں۔ موضوع پر رک غور کریں تو افاقہ ہوگا۔ ان شاء اللہ۔(جاری ہے۔۔ )
نوٹ:-
اصولِ حدیث سے متعلق ندیم ظہیرصاحب کے دیگراعتراضات کا جائزہ دوسر ے حصے میں پیش کیا جائے گا۔ ان شاء اﷲ
ابوالفوزان کفایت اللہ سنابلی
(28 دسمبر2015)

دوسرا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر جائیں
ندیم ظہیر صاحب کی پہلی تحریر کا جواب : حصہ دوم

پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ لنک

Leave a Reply