ندیم ظہیر صاحب کی تیسری تحریرکے جواب میں ہماری یہ تیسری تحریر ہے۔
پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر جائیں
ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کا جواب
ہمارے قارئین اس بات سے واقف ہیں کہ ندیم ظہیر صاحب کو دو رخی ڈبے بنانے کا بڑا شوق ہے، اس لئے ہم نے یہ طے کیا ہے کہ اب ان کے جواب میں لکھی جانے والی ہر تحریر کی ابتدا کم از کم ایک عدد دو رخی ڈبے سے ضرورکریں گے۔ سب سے پہلے شاگرد رشید ندیم ظہیر صاحب کا دو رخی ڈبہ ملاحظہ فرمائیں، پھر ہم ان کے استاذممدوح سے بھی ایک عدد دو رخی ڈبہ ہدیہ قارئین کریں گے۔
شاگرد کا دو رخی ڈبہ
● پہلا رخ:-
◈ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے یزید کے سلسلے میں کفر ونفاق پرمبنی جھوٹی باتیں نقل کیں، مثلا یہ کہ شہادتِ حسین پراس نے یہ شعر پڑھا کہ آج ہم نے بدر میں اپنے مقتول آبا و اجداد کا بدلہ لے لیا، بلکہ یزید کی مذمت کرتے کرتے ابن الجوزی رحمہ اللہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق بھی نازیباکلمات تحر یر کر دیے، حتی کہ ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبولیت سے محروم تک کہہ ڈالا۔ [دیکھئے:ندیم ظہیرصاحب کے اعتراضات کا جائزہ، حصہ اول، ص ١١تا١٧]
اس تناظر میں یزید سے متعلق امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے بے بنیاد الزامات کوہم نے ”بکواس“ لکھ دیا تھا، اس پرایک فاضل دوست نے توجہ دلائی کہ یہ لفظ مناسب نہیں تو میں نے فوراً اپنی کتاب سے یہ لفظ حذف کر دیا، لیکن ندیم ظہیر صاحب نے اس حوالے سے لکھا:
”حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے سنابلی صاحب کا کوئی ردنہیں کیا، وہ پھر بھی ”بکواسی“ ٹھہرے۔“ [ اشاعة الحدیث: ١٣٤ص٣٠]
دوسرا رخ :
◈ ابن الجوزی رحمہ اللہ سے متعلق ہماری مذکورہ بات سے قبل ندیم ظہیر صاحب کے استاذ ممدوح زبیر علی زئی صاحب نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی بات کو ”بکواس“ قرار دیتے ہوئے کہا:
”تواب یہ کتاب (فتاوی ابن تیمیہ )ہوگئی مشکوک، توعین ممکن ہے کہ ابن تیمیہ نے یہ بات کہی ہو تو اگرکہی ہے تو بکواس ہے، غلط ہے اور اگر نہیں کہی ہے تو وہ بری ہوگئے،لیکن دوسری کتابیں جو ہیں نا اقتضاء الصراط المستقیم اس میں بھی غلط باتیں ہیں، مثلاً عبداللہ بن عمر کے بارے میں تو جو بات غلط ہے وہ غلط ہے۔اگرچہ ہم اس کو ایک عالم سمجھتے ہیں اہل سنت کے ایک عالم تھے، لیکن ان کی جو غلطیاں تھیں، غلطیوں سے ہم بَری ہیں۔۔۔عبداللہ بن عمرکے بارے میں کوئی بات انہوں نے وہ بدعت والی جوکہی ہے۔۔۔“
قارئین کرام!
ملاحظہ فرمائیں یہ زبیر علی زئی صاحب کی اپنی آواز ہے۔ جس میں موصوف پہلے تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی طرف خرافات منسوب کرکے یہ فرماتے ہیں کہ :
”عین ممکن ہے ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ بات کہی ہے“
یعنی صرف ممکن نہیں بلکہ ”عین ممکن“ ہے ! مطلب ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے ایسی باتیں بعید نہیں ! لاحول ولاقوة إلا بالله !!!
کیا شیخ الإسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسی شخصیت کے ساتھ حسن ظن اور ائمہ دین کے احترام کا یہی تقاضا ہے۔
پھر ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی بات ہونے کی صورت میں اسے ”بکواس“ کہتے ہیں ۔ صاف کہتے ہیں کہ ”اگر کہی ہے تو بکواس ہے غلط ہے“ ۔
اسی پر بس نہیں بلکہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی دوسری کتابوں میں ایسی خرافات منسوب کرکے اسے ابن تیمیہ سے ثابت مانتے ہیں کہتے ہیں:
”لیکن دوسری کتابیں جو ہیں نا ”اقتضاء الصراط المستقیم“ اس میں بھی غلط باتیں ہیں“
پھر مثال بھی دے کر کہتے ہیں ”مثلا عبداللہ بن عمر کے بارے میں“ تو جوبات غلط ہے غلط ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا نام سن کو سائل بھی پوچھ بیٹھا ہے کہ : عبداللہ بن عمر کے بارے میں انہوں نے کیا کہا ؟
اس کے جواب میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر صریح بہتان تراشی کرتے ہوئے زبیر علی زئی صاحب فرماتے ہیں:
”عبداللہ بن عمرکے بارے میں کوئی بات انہوں نے وہ بدعت والی جوکہی ہے“
بہرحال ان الفاظ میں زبیرعلی زئی صاحب نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر جو پُر زہر تیر و نشتر چلائے ہیں، ان سے قطع نظرملاحظہ فرمائیں کہ آں جناب نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی بات کو ”بکواس“ کہا! یعنی ندیم ظہیر صاحب کے لہجے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ان کے استاذ زبیرعلی زئی صاحب کے نزدیک ”بکواسی“ تھے۔ پھر بھی اس حوالے سے ندیم ظہیر صاحب پر صم بکم کی کیفیت طاری ہے۔
کیا یہ دوغلی پالیسی اوردو رخی نہیں ہے؟
ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر جھوٹا الزام اور اس کارد
زبیرعلی زئی صاحب کے اس کلام میں ہمیں صرف یہ دکھلانا تھا کہ آں جناب نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی بات کو بکواس کہا ہے۔لیکن اسی ترنگ میں موصوف نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر ایک ایسا بدبودار الزام لگادیا ہے جسے سن کر نظرانداز کردینا کم ازکم ہمارے بس میں نہیں ہے۔وہ ہے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی طرف ابن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کو بدعت کہنے کی نسبت!
ہم یہ واضح کرنااپنا فرض سمجھتے ہیں کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کوئی غلط بات نہیں کہی، بلکہ یہ خالص رافضیوں اور بدعتیوں کی افترا پردازی اور بہتان طرازی ہے جس پر زبیرعلی زئی صاحب نے بھی آمنا وصدقنا کہہ دیا ہے۔دراصل روافض اور اہل بدعت نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر یہ بہتان باندھاہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کواقتضاء الصراط المستقیم میں بدعتی کہا ہے۔ جبکہ یہ سراسرجھوٹ اور افترا ہے۔سب سے پہلے ہم ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اصل موقف پیش کرتے ہیں، اس کے بعد اقتضاء الصراط المستقیم کی عبارت کا صحیح مفہوم واضح کرتے ہیں ۔
ابن عمررضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ دوران سفران جگہوں پر نماز پڑھ لیتے تھے جہاں جہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تھی، اس بابت ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ایک مقام پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے والد عمر فاروق سے سند کی تصحیح کے ساتھ ان کاایک قول نقل کیا ہے جس میں انہوں نے اس طرح کے عمل کی مذمت کی ہے بلکہ اسے اہل کتاب کی گمراہی کا پیش خیمہ بتلایا ہے۔ الفاظ یہ ہیں:
«كان عمر بن الخطاب في سفر فصلى الغداة ثم أتى على مكان فجعل الناس يأتونه فيقولون: صلى فيه النبي صلى الله عليه وسلم فقال عمر: إنما هلك أهل الكتاب أنهم اتبعوا آثار أنبيائهم فاتخذوها كنائس وبيعا فمن عرضت له الصلاة فليصل وإلا فليمض. »
”عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے توفجرکی نماز اداکی اور ایک مقام پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں لوگ آرہے ہیں اور کہتے جارہے ہیں کہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازپڑھی ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اہل کتاب اسی طرح ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے انبیا کے آثار کے پیچھے پڑے اور انہیں کنیسہ اور گرجا میں تبدیل کر دیا۔ اس لئے اگر(ایسی جگہوں پر پہنچ کر)کسی کے سامنے نماز کا وقت آجائے تو وہ پڑھ لے ورنہ آگے بڑھ جائے (اورنماز پڑھنے کے لئے ایسی جگہوں پرنہ رکے)۔“ [مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 1/ 281 وصحح سنده ابن تيمية وأخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 12 /544 وإسناده صحيح]
اور آگے چل کر ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
«هذا مما ساغ فيه اجتهاد الصحابة أو مما لا ينكر على فاعله لأنه مما يسوغ فيه الاجتهاد لا لأنه سنة مستحبة سنها النبي صلى الله عليه وسلم لأمته أو يقال في التعريف: إنه لا بأس به أحيانا لعارض إذا لم يجعل سنة راتبة. وهكذا يقول أئمة العلم في هذا وأمثاله: تارة يكرهونه وتارة يسوغون فيه الاجتهاد وتارة يرخصون فيه إذا لم يتخذ سنة ولا يقول عالم بالسنة: إن هذه سنة مشروعة للمسلمين. »
”اس بابت صحابہ کے اجتہاد کا جواز ہے یا ایسا کرنے والے پر نکیر نہیں کی جائے گی، کیونکہ یہ ان امور میں سے ہے جن میں اجتہاد کی گنجایش ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ ایسی مستحب سنت ہے جسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے مسنون قراردیا ہے۔ اسی طرح تعریف (عرفہ کی شام غیر حجاج کا اجتماع)میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں، اگر ایسا کسی وجہ سے کبھی کبھار ہو اور اسے سنت راتبہ نہ بنا لیا جائے،یہ اوراس طرح کے معاملات میں اہل علم کا موقف یہی ہے کہ کبھی اسے ناپسند کرتے ہیں، کبھی اس میں اجتہاد کو روا سمجھتے ہیں، اورکبھی اس کی رخصت دیتے ہیں، جب اسے سنت جاریہ نہ بنالی جائے۔اوراہل سنت کا کوئی عالم یہ بات نہیں کہتا کہ یہ مسلمانوں کے لئے مشروع سنت ہے۔“ [مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 1/ 282]
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اس عبارت سے ان کا موقف روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ بات درست نہیں کہ اس طرح کے عمل کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جاری کردہ سنت قرار دے دیا جائے اور اسے سنن رواتب کا درجہ دے دیا جائے البتہ اگرحالات کے لحاظ سے کبھی کبھار یہ عمل انجام دیا جائے تو یہ چیز ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک اجتہادی ہے اور بعض حالات میں اس کے جواز کی بھی گنجایش ہے
تاہم ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس عمل کو مستحب اور بہتر نہیں تسلیم کرتے۔ اس کی دلیل ان کی نظر میں یہ ہے کہ یہ عمل خلفائے راشدین اور جمہور صحابہ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ اس کی شروعات ان کے بعد ہوئی ہے۔
بعد میں شروعات کے الفاظ سے اس عمل پر بدعت کالیبل لگانا مراد نہیں، بلکہ نفی استحباب کی توجیہ پیش کرنا مقصود ہے کہ اس عمل کے مستحب نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ خلفائے راشدین اورجمہور صحابہ نے اسے نہیں کیا، اگریہ مستحب ہوتا توشروع کے یہ صحابہ بھی اس پر عامل ہوتے۔
یہی وہ بات ہے جو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”اقتضاء الصراط المستقیم“ میں ان الفاظ میں کہی ہے:
« فأما قصد الصلاة في تلك البقاع التي صلى فيها اتفاقا، فهذا لم ينقل عن غير ابن عمر من الصحابة، بل كان أبو بكر وعمر وعثمان وعلي، وسائر السابقين الأولين، من المهاجرين والأنصار، يذهبون من المدينة إلى مكة حجاجا وعمارا ومسافرين، ولم ينقل عن أحد منهم أنه تحرى الصلاة في مصليات النبي صلى الله عليه وسلم. ومعلوم أن هذا لو كان عندهم مستحبا لكانوا إليه أسبق، فإنهم أعلم بسنته وأتبع لها من غيرهم. وقد قال صلى الله عليه وسلم: ”عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدي، تمسكوا بها، وعضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة“ تحري هذا ليس من سنة الخلفاء الراشدين، بل هو مما ابتدع، وقول الصحابي إذا خالفه نظيره، ليس بحجة، فكيف إذا انفرد به عن جماهير الصحابة؟»
”رہاان علاقوں میں نماز کا قصد کرنا جہاں اتفاق سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے تو یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے منقول نہیں ہے،بلکہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم اورسابقون، اولون اور مہاجرین و انصار، مدینہ سے مکہ ،حج و عمرہ یا دوسرے سفر کے لیے نکلا کرتے تھے، لیکن ان میں سے کسی ایک سے بھی منقول نہیں کہ انہوں نے ان جگہوں پر نماز کا اہتمام کیا ہوجہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز اداکی تھی، ظاہر ہے کہ اگر یہ چیز ان کی نظر میں مستحب ہوتی تو سب سے پہلے وہی اسے انجام دیتے ، کیونکہ وہ دوسروں کی بنسبت سنت کے زیادہ جانکار اور زیادہ پیروکار تھے۔ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یہی ہے کہ ”میرے بعد میری اورخلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو، اس سے چمٹ جاؤ، اس پر مضبوطی سے جم جاؤ،اور نئی نئی ایجاد کردہ چیزوں سے دور رہو، کیونکہ ہرنو ایجاد چیزبدعت ہے اور ہربدعت گمرای ہے“ ۔ اور (نمازکے لیے) ایسی جگہوں کا اہتمام خلفائے راشدین کی سنت نہیں ہے، بلکہ یہ ان اعمال میں سے ہے جنہیں بعد میں شروع کیا گیا ہے۔ اور صحابی کے کسی قول وعمل کے مخالف دوسرے صحابی کا قول ملے تو وہ حجت نہیں ہے، پھر تمام صحابہ سے منفرد کسی ایک ہی صحابی کا قول وعمل کیسے حجت ہوسکتاہے۔“ [اقتضاء الصراط المستقيم 21/ 9]
ملاحظہ فرمائیں!
یہاں ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بدعتی ہرگزنہیں کہا اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی غلط بات کہی ہے، بلکہ ان کامقصود صرف یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ کا جو عمل ہے، وہ مستحب نہیں ہے کیونکہ خلفائے راشدین اورجمہور صحابہ سے یہ ثابت نہیں ہے بلکہ یہ عمل ان کے بعد شروع کیا گیا ہے۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس عمل کی شروعات جو بعد میں بتلائی تو اس سے ان کا مقصود اسے بدعت کے زمرے میں ڈالنا نہیں بلکہ جمہور صحابہ سے اس کا ثبوت نہ ملنے پر اس کے استحباب کی نفی مراد ہے، جیسا کہ انہوں نے اس سے قبل صراحتا لکھا ہے:
«ومعلوم أن هذا لو كان عندهم مستحبا لكانوا إليه أسبق»
”ظاہرہے کہ اگر یہ چیز ان کی نظر میں مستحب ہوتی تو سب سے پہلے وہی اسے انجام دیتے۔“ [اقتضاء الصراط المستقیم١ /٣٨٩]
مزید یہ کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسے اجتہادی معاملہ قراردیا ہے کمامضی، اور جس چیز کو بدعت کہا جائے، اسے اجتہادی معاملہ نہیں بتایا جاتا۔ اورسب سے بڑی بات یہ کہ خود ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بعض حالات میں اسے جائز قراردیا ہے، جیساکہ پہلے پیش کیا جاچکا ہے۔
ہاں اگرکوئی شخص ان جگہوں پر نماز پڑھنے کو سنت راتبہ کی حیثیت دے دے، ایسے مقامات کو بابرکت بتلانے لگے اور خاص یہیں نماز ادا کرنے کے لئے دوردراز سے سفرکرکے آئے تو یہ چیزضرور بدعت ہے، لیکن ابن عمررضی اللہ عنہ نے نہ تو ایسا کیا ہے اورنہ ہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ابن عمررضی اللہ عنہ کی طرف ایسی کوئی بات منسوب کی ہے۔
جن روافض اور اہل بدعت نے شیخ الاسلام کی طرف یہ منسوب کیا ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بدعتی کہا ہے، ان پر رد کرتے ہوئے شیخ عبدالرحمن الفقیہ حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
« ولیس فی هذہ حجة لأهل البدع، فابن تیمیة رحمہ اللہ لم یبدع ابن عمر، ونما قال مما ابْتُدِع، وبینہما فرق واضح، فمن قال بأن ابن تیمیة رحمہ اللہ نسب البدعة لابن عمر فہو مفتر ضال »
”ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اس بات میں اہل بدعت کے دعوی کی دلیل نہیں، کیونکہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ابن عمر کو بدعتی نہیں قراردیا بلکہ یہ کہا ہے: ”یہ عمل ان چیزوں میں سے ہے جنہیں بعد میں شروع کیا گیا ہے“ اور ان دونوں تعبیرات میں واضح فرق ہے، لہٰذا جو یہ کہتا ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بدعت کی نسبت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف کی ہے و ہ افترا پرداز اورگمراہ شخص ہے۔“ [ أرشیف ملتقی أهل الحدیث: ٢ /٣٤/٣٩٤]
واضح رہے کہ أرشیف ملتقی أہل الحدیث کے حوالے زبیرعلی زئی صاحب بھی دیا کرتے تھے مثلا دیکھئے[: مقالات: ٣ /١٢٣ نیز مقالات: ٤ /٤٢٠ نیز مقالات: ٦/ ٢٣٠۔]
روافض اورابن سبا کے کارندے اس طرح کی حرکتیں کریں توبات سمجھ میں آتی ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان بدعتیوں کا منہاج السنہ وغیرہ میں جو زبردست رد کیا ہے وہ اس پر بلبلارہے ہیں۔ لیکن خود کو اہل سنت کہلانے والوں کا یہ طرزعمل قطعا نہیں ہونا چاہئے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کے بارے میں اہل بدعت کی اڑائی ہوئی اس طرح کی بے ہودہ بات کی تصدیق کریں۔
{وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ} [النور: 16]
”تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منھ سے نکالنی بھی لائق نہیں۔ یا اللہ! تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے“ (النور:١٦)
استاذجی کا دو رخی ڈبہ
● پہلا رخ:-
◈ الکامل فی الضعفاء لابن عدی میں امام ابن عدی عمومی طور پرراوی کی منکر روایات ذکرتے ہیں تفصیل کے لئے دیکھئے :[حدیث یزیدمحدثین کی نظر میں ص٥٦تا٦١۔]
اسی الکامل میں ایک مقام پر ابن عدی رحمہ اللہ نے جس حدیث یزید کو ذکر کیا ہے اس کا کوئی دفاع نہیں کیا ہے۔اورامام ابن القیسرانی نے وضاحت کی ہے کہ گویا یہ حدیث ابن عدی کی نظر میں منکر ہے ۔اس پر زبیر علی زئی صاحب نے لکھا:
”حافظ ابن عدی نے اس روایت کو ہرگز منکر نہیں کہااورنہ منکر روایات میں ذکرکیاہے“ [مقالات ٦ /٣٨٩]
اس کے بعد زبیرعلی زئی صاحب نے ابن القیسرانی کی بات کو نرا ظن وتخمین قراردے کر مردود قرار دیا ہے [مقالات ٦ /٣٨٩]
● دوسرارخ:-
◈ الکامل فی الضعفاء لابن عدی میں امام ابن عدی نے ”ابن أبی ذئب عن صالح مولی التوأمة“ کی سند سے صالح بن نبہان مولی التوأمہ کی ایک روایت درج کی ہے۔ صالح مولی التوأمہ پردو طرح کا کلام ہے: ایک اس کے ضعیف ہونے پر اور دوسرا اس کے اخیر میں مختلط ہونے پر ۔ لیکن ابن عدی نے اپنی تحقیق میں اسے ”لا بأس بروایاتہ وحدیثہ“ یعنی ثقہ قراردیا ہے اور اس روایت میں ان کے شاگرد ابن ابی ذئب کو قدیم السماع بتلایا ہے، نیز جہاں یہ روایت درج کی ہے، وہاں کوئی جرح بھی نہیں کی۔ دیکھیں:[الکامل لابن عدی ت عادل : ٥/٨٥ ،٨٨،٨٩]
زبیرعلی زئی صاحب نے اس روایت کو ضعیف قراردیتے ہوئے باقاعدہ نمبرز ڈال کر کئی اہل علم کو اس کی تضعیف کرنے والا بتلایا ہے، اس ضمن میں نمبر (٧) کے تحت لکھتے ہیں:
٧ : حافظ ابن عدی نے اس روایت کو صالح بن نبہان مولی التوأمہ کی روایات (یعنی روایات منتقدہ)میں ذکرکیا ہے(دیکھئے الکامل لابن عدی ٤/١٣٧٤،دوسرانسخہ٥/٨٥) [بریکٹ والے الفاظ زبیرعلی زئی صاحب کی طرف سے ہیں۔اس کے بعد زبیرعلی زئی صاحب علامہ عینی کا کلام برضا ورغبت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:]
اورعینی حنفی نے کہا: ”ورواہ ابن عدی فی الکامل بلفظ أبی داؤد و عدہ من منکرات صالح۔۔۔“ اسے ابن عدی نے الکامل میں ابوداود کے لفظ کی طرح روایت کیا ہے اوراسے صالح کی منکر روایتوں میں شمارکیا ہے۔۔۔(شرح سنن ابی داودج٦ص١٢٨۔١٢٩) [مقالات ج ٣ص٢٠٧،٢٠٨]
قارئین کرام! انصاف کریں !
حدیثِ یزید کو ابن عدی نے ذکر کیا اور امام ابن القیسرانی نے وضاحت کی کہ ابن عدی کی نظر میں یہ منکر ہے تو زبیر علی زئی صاحب اس کا انکار فرمارہے ہیں اور ابن القیسرانی کی بات کو نرا ظن وتخمین بتلاکرمردود قراردے رہے ہیں۔ جبکہ وہ خود ایک ایسی روایت کی تضعیف امام ابن عدی کی طرف منسوب کررہے ہیں جسے ذکر کرکے امام ابن عدی نے اس پر کوئی جرح نہیں کی، بلکہ صالح التؤمہ کی توثیق کی ہے اور اس روایت میں اس کے شاگرد کو قدیم السماع بتلاکر اختلاط والی جرح کو بھی اس سے دور کردیا ہے۔
حدیثِ یزید سے متعلق ابن القیسرانی نے منکر کی بات ابن عدی کی طرف منسوب کی اور ابن عدی کی کتاب میں اس کے برخلاف کوئی صراحت موجود نہیں پھر بھی ابن القیسرانی کی بات زبیر علی زئی صاحب کی نظر میں مردود ہے ۔ لیکن دوسری طرف ان کی محولہ حدیث سے متعلق علامہ عینی نے منکر کی بات ابن عدی کی طرف منسوب کی اور ابن عدی کی کتاب میں ابن عدی کی طرف سے اس کے برخلاف صراحت موجود ہے، پھر بھی علامہ عینی کی بات ان کے سر آنکھوں پرہے ۔
کیا یہ صریح دو رخی اور دوغلی پالیسی نہیں ہے؟!
لطیفہ:
ابن القیسرا نی نے اپنی وضاحت لفظ ”کأن“ سے پیش کی تھی جسے بنیاد بناکر زبیرعلی زئی صاحب نے اسے ظن وتخمین قرار دیا، حالانکہ خود موصوف نے دوسرے مقامات پر لفظ ”کأن“ سے پیش کی گئی بات سے حجت پکڑی ہے۔ دیکھئے :[حدیث یزید محدثین کی نظر میں ص١١٣۔]
بطور لطیفہ عرض ہے کہ یہیں پر زبیرعلی زئی صاحب نے جس روایت کو ابن عدی رحمہ اللہ کی نظر میں ضعیف بتلایا ہے، اسی روایت سے متعلق امام احمد رحمہ اللہ کا ایک کلام ان کے بیٹے عبداللہ بن احمد نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے:
« کأن عندہ لیس یثبت أولیس صحیحا »
”گویاان کے نزدیک یہ ثابت نہیں ہے یا صحیح نہیں ہے۔“ [مسائل الامام احمد، ت زھیر:/١٤٢ فقرہ ٥٢٧]
ایک دوسرے نسخہ میں ہے :
« کأن عندہ لیس یثبت، أولیس بصحیح »
”گویاان کے نزدیک یہ ثابت نہیں ہے یا صحیح نہیں ہے۔“ [ مسائل الامام احمد، ت أبوالأشبال:ص١٢٦ فقرہ٥٢٧]
ملاحظہ فرمائیں دو دو نسخوں میں یہ عبارت ”کأن“ ہمزہ کے ساتھ ہی ہے بلکہ عبداللہ بن احمد سے روایت کرتے ہوئے احمد بن سلیمان نے بھی یوں بیان کیا :
« كأنه عندہ لیس بثبت أو لیس بصحیح »
”گویا کہ ان کے نزدیک یہ ثابت نہیں ہے یا صحیح نہیں ہے۔“ [ناسخ الحدیث ومنسوخہ لابن شاہین رقم ٣٥٢ واسنادہ صحیح]
ان حوالوں کے برعکس مسائل کے ایک مطبوعہ نسخے (بتحقیق المھنا) میں یہ عبارت یوں مطبوع ہے:
« كان عندہ لیس یثبت، أولیس صحیحا» [مسائل الامام احمد، ت المہنا:٢/٤٨٢۔٤٨٣ فقرہ ٦٧١]
تو زبیرعلی زئی صاحب نے اسے یوں ہی نقل کیا اورترجمہ کیا:
”وہ آپ کے نزدیک ثابت نہیں تھی یا صحیح نہیں تھی۔“ [مقالات ج ٣ص٢٠٧]
اب ”کان“ فعل ماضی کے ساتھ ”لیس یثبت“ کی بھی کوئی تک بنتی ہے؟ امام عبداللہ آں جناب کی طرح عربی زبان میں اتنے کمزور نہیں تھے کہ ”کان ليس یثبت“ جیسی بوجھل اورغیرمعقول تعبیر استعمال کرتے۔
اور آگے خود زبیرعلی زئی صاحب نے ابن شاہین والی روایت بھی سند کی تصحیح کی ساتھ نقل کی جس میں ”كأنه“ کا لفظ موجود ہے۔
مسائل کے اکثر نسخوں میں ”كأن“ ہونا اور عبداللہ بن احمد سے منقول ایک روایت میں بھی ”كأنه“ ہونا واضح دلیل ہے کہ صحیح عبارت ”أ“ (ہمزہ) کے ساتھ ہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہاں بھی امام احمد کی مرادکو ”كأن“ کے ذریعہ بتلایا گیا ہے، لیکن زبیرعلی زئی صاحب نے اسے نراظن و تخمین بتاکرمردود قرار نہیں، کیا یہ مزید دوغلی پالیسی نہیں ہے؟
اگرکہا جائے کہ ایک نسخے میں ”كأنه“ نہیں ہے بلکہ ”کان“ ہے اور زبیرعلی زئی صاحب نے اسی پر اعتمادکیا ہے توعربی زبان میں اس تعبیر کی کہاں تک گنجائش ہے، اس سے قطع نظر ایک تیسرا دو رخی ڈبہ وجود میں آجائے گا کیونکہ آگے یہ بات آرہی ہے کہ بقول شاگرد رشید، زبیرعلی زئی صاحب کے نزدیک ایک روایت میں ”ابوبکر“ اور ایک روایت میں ”ابن بکر“ آنے کے سبب دونوں میں سے کسی کا بھی تعین نہیں کیاجاسکتا۔
اب آئیے ان اعترضات پر نظر کرتے ہیں جنہیں ندیم ظہیر صاحب نے اپنی تیسری تحریر میں پیش کیا ہے۔
پہلا اعتراض
ہم نے لکھا تھا:
((یہ بے چارے دوسروں کی عبارات کو سیاق وسباق سے کاٹ کر نام نہاد تضاد دکھلانے کی بڑی کوشش کرتے ہیں، جب کہ ان کا اپنا حال ہے کہ یہ لوگ صرف ایک راوی ہی نہیں، بلکہ ایک سندکو ایک جگہ ضعیف ثابت کرتے ہیں اوردوسری جگہ بالکل اسی سند پر ”سندہ صحیح“ کا ٹھپا لگا دیتے ہیں۔
ایک مثال ملاحظہ ہو:
● پہلا رخ: –
◈ الکامل لابن عدی میں ایک قول مع سند اس طرح ہے:
«سمعت موسى بن القاسم بن موسى بن الحسن بن موسى الأشيب يقول، حدثني أبو بكر، قال: سمعت إبراهيم الأصبهاني يقول أبو بكر بن أبي داود كذاب» [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي ت عادل وعلي: 5/ 436]
اس سند کے بارے میں ندیم ظہیر صاحب کے استاذممدوح زبیرعلی زئی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں:
”اس روایت کاراوی ابوبکر یا بن بکر نامعلوم ہے۔ لہٰذا یہ جرح بھی ثابت نہیں ہے۔“ [مقالات ٤ /٣٨٠]
● دوسرارخ:-
◈ الکامل لابن عدی ہی میں ایک دوسرا قول بالکل اسی سندسے اس طرح ہے:
«سمعت موسى بن القاسم بن موسى بن الحسن بن موسى الأشعث يقول: حدثني أبو بكر، قال: سمعت إبراهيم الأصبهاني يقول: أبو بكر بن أبي يحيى كذاب » [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي ت عادل وعلي: 1/ 321]
اس سند کے بارے میں ندیم ظہیر صاحب کے استاذممدوح زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”وسندہ صحیح“ [مقالات ٥ /٥٥٢]
قارئین ! ملاحظہ فرمایا آپ نے ! قائل ایک ہی،قول بھی ایک ہی، اور سند بھی ایک ہی اور کتاب بھی ایک ہی ہے، لیکن ایک ہی سند کو ایک جگہ ضعیف ثابت کیا گیا اوردوسری جگہ عین اسی سند کو ڈنکے کی چوٹ پر ”سند ہ صحیح“ کہا گیا ! ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے!! )) [دیکھئے: ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریرکاجواب: ص١]
ہماری اس بات پر ندیم صاحب کے اعتراض پر نظر کرنے سے قبل میں قارئین سے گذارش کروں گا کہ یہاں دونوں مقامات پر موجود سند کو غور سے دیکھ لیں اور بات ذہن نشین کرلیں کہ ان دونوں مقامات پر ”ابراہیم الاصبہانی“ ہی کا قول منقول ہے اور جس سند سے منقول ہے وہ دونوں مقامات پر از اول تا آخر بالکل یکساں ہیں ۔الکامل میں اور بھی کئی مقامات پر ”ابراہیم الأصبھانی“ کے اقوال بالکل اسی سند سے منقول ہیں، نیز دیگر ائمہ رجال نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں بعینہ اسی سند سے ابراہیم الاصبھانی کے اقوال نقل کیے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ”ابراہیم الأصبھانی“ کے اقوال کو نقل کرنے والی یہ سند معروف ہے اور اس کے سارے رواة کے نام بھی واضح ہیں۔ اس لیے اس سند کو کوئی شخص ایک مقام پر صحیح قرار دے اور دوسرے مقام پر اس کی تضعیف کرے تو صریح تضاد بیانی ہے۔
اسی تضاد بیانی کا ارتکاب زبیرعلی زئی صاحب نے کیا ہے جس کا حوالہ ہم نے دیا تو اس پر ندیم ظہیر صاحب نے لکھا:
”سنابلی صاحب کو یہ دورخ بنانے کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی،صرف ایک عبارت کو حذف کرکے اپناہدف پوراکرلیاہے،کیونکہ حافظ زبیرعلی زئی محدث رحمہ اللہ نے اسی صفحے مقالات (٤/٣٨٠)جہاں الکامل لابن عدی کا حوالہ دیا وہاں تاریخ دمشق(٣١/٥٩)کا حوالہ بھی نقل کرکے لکھا: ”اس روایت کاراوی ابوبکر یا ابن بکر نامعلوم ہے۔ لہٰذا یہ جرح بھی ثابت نہیں ہے۔“ یعنی بعض کتابوں میں ابوبکر ہے تو بعض میں ابن بکرہے اوراس عدمِ تعین کی وجہ سے نامعلوم کہا ان دوراویوں میں سے کون ہے ؟ابوبکریا ابن بکر!!یہ تعین معلوم نہیں ،اورجہاں وسندہ صحیح کہاوہاں ابوبکرسے مراد ابن ابی الدنیا ہیں اورابن بکرکا کوئی شائبہ نہیں ۔
اب سنابلی صاحب بتائیں کہ تاریخ دمشق کاحوالہ حذف کرکے (یحرفون الکلم عن مواضعفہ) کا عملی ثبوت کس نے دیا ہے؟“ [ الحدیث ١٤٠ص١١]
جواب:
ندیم ظہیر صاحب نے اپنے استاذ ممدوح کو دو رخی ڈبے سے باہر نکالنے کے لیے ان کی عبارت میں معنوی تحریف کی ہے۔ زبیرعلی زئی صاحب کے الفاظ یہ ہیں:
”اس روایت کاراوی ابوبکر یا ابن بکر نامعلوم ہے۔ لہٰذا یہ جرح بھی ثابت نہیں ہے۔“ [مقالات ٤/٣٨٠]
زبیرعلی زئی صاحب کے الفاظ بالکل واضح ہیں کہ وہ یہاں دونوں رواة ہی کو نامعلوم بتلارہے ہیں یعنی ان کے کلام کا مفاد یہ ہے کہ اس سند میں ”ابوبکر“ ہو یا پھر ”ابن بکر“ ہو، دونوں ہی نامعلوم ہیں ۔
اگران کا مقصد یہ ہوتا کہ ان میں سے ایک ”ثقہ“ اور دوسرا ”نامعلوم“ ہے اور یہاں ان دونوں سے کسی کا تعین نہیں ہو پا رہا تو موصوف اپنے نقد کی بنیاد ”عدم تعین“ پر رکھتے ناکہ رواة کے ”نامعلوم ہونے“ پر ۔
لہٰذا جب معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک ہی سانس میں ”ابن بکر“ کے ساتھ ”ابوبکر“ کو بھی نامعلوم کہہ رہے ہیں تویہاں ابوبکر کو نامعلوم کہنا اوردوسری جگہ ابوبکر کی روایت کو صحیح کہنا واضح تضاد ہے۔
اس تضاد کو دکھلانے کے لئے اس بات کی قطعا ضرورت نہیں ہے کہ جہاں ا نہوں نے ابوبکر کو نامعلوم کہا ہے وہاں سے کلام کے اس حصے کو بھی نقل کیا جائے جس میں اس راوی کے ساتھ کسی اور راوی کو بھی نامعلوم کہا ہے اور اس پر کوئی حوالہ دیا ہے۔
فر من المطر وقام تحت المیزاب
(بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہوگیا)
نیزاگرندیم ظہیر صاحب کے کہنے پر یہ مان لیں کہ ان کے استاذممدوح نے یہاں دونوں رواة کے ”نامعلوم“ ہونے کی نہیں، بلکہ ”عدمِ تعین“ کی بات کہی ہے تو اس سے ان کے استاذ ممدوح کی پوزیشن بدتر سے بدترین ہوجاتی ہے اوربے اختیاروہ مشہورمثل یاد آجاتی ہے کہ ”فرمن المطر وقام تحت المیزاب“ یعنی بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے آکرکھڑا ہوگیا۔
کیونکہ تاریخ ابن عساکر کی جس روایت کی بنیاد پرندیم ظہیر صاحب عدمِ تعین کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں، اس روایت کو ابن عساکر نے ابن عدی کی کتاب الکامل ہی سے نقل کیا ہے۔[ دیکھئے :الکامل : ٥ /٤٣٦ ، نیز دیکھیں: موارد ابن عساکر فی تاریخ دمشق : جلد ٣ص١٧٣٩]
اور اس اصل کتاب کے تمام نسخوں میں یہاں ”ابوبکر“ ہی ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تاریخ ابن عساکر میں کاتب یا ناسخ کی غلطی سے ”ابوبکر“ یہ ”ابن بکر“ بن گیا، یعنی صرف ایک حرف ”و“ یہ ”ن“ سے بدل گیا ہے۔
اگر سرے سے پورا نام ہی بدل گیا ہوتا تو کسی حدتک آدمی کچھ اور سوچتا اور دیگرقرائن پرغور کرکے ترجیح کی کوشش کرتا لیکن جب صورت حال یہ ہے کہ ابن عدی کی معروف سند جس سے ”ابراہیم الأصبہانی“ کے اقوال متعدد مقامات پر نقل ہوئے ہیں اورہرجگہ یہ مکمل سند ابوبکر کے نام کے ساتھ ہی درج ہے او ر اہل علم اپنی اپنی کتابوں میں اس معروف سند کو ابوبکر کے نام کے ساتھ ہی درج کرتے آئے ہیں ایسی صورت میں صرف تاریخ ابن عساکر میں وہ بھی صرف ایک ہی مقام پر ”ابوبکر“ کی جگہ ”ابن بکر“ لکھا ہے تو کیا ایک لمحہ بھی توقف کے بغیر یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ کتابت یا نسخ کی غلطی ہے؟
بالخصوص جبکہ خود تاریخ ابن عساکر میں بھی اسی سند سے ”ابراہیم الأصبہانی“ کا ایک اور قول منقول ہے اور وہاں اس سند میں ”ابوبکر“ ہی درج ہے ۔ [دیکھئے:تاریخ ابن عساکر:٥٥ /١٧٣]
بلکہ عین متعلقہ سند ہی کو امام ابن عدی رحمہ اللہ کی الکامل سے متعدد ائمہ و محدثین نے نقل کیا ہے اورسب نے اس سند میں ”ابوبکر“ لکھا ہے، مثلا:
➊ امام ابن القطان رحمہ اللہ (المتوفی٦٢٨)نے نقل کیا:
«سمعت موسى بن القاسم بن موسى بن الحسن الأشيب . قال : حدثني أبو بكر قال : سمعت إبراهيم بن الأصبهاني يقول : أبو بكر بن أبي داود كذاب» [بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام 5/ 37]
➋ امام ذہبی رحمہ اللہ (المتوفی٧٤٨) نے نقل کیا:
«ابن عدي: سمعت موسى بن القاسم الأشيب، يقول:حدثني أبو بكر، سمعت إبراهيم الأصبهاني، يقول:أبو بكر بن أبي داود كذاب » [سير أعلام النبلاء للذهبي: 13/ 228]
➌ امام ذہبی رحمہ اللہ (المتوفی٧٤٨) نے دوسری کتاب میں نقل کیا:
«ثم قال ابن عدي: سمعت موسى بن القاسم بن الاشيب يقول: حدثني أبو بكر، سمعت إبراهيم الأصبهاني يقول: أبو بكر ابن أبي داود كذاب» [ميزان الاعتدال للذهبي ت البجاوي: 2/ 433]
➍ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی٨٥٢)نے نقل کیا :
«ثم قال ابن عدي: سمعت موسى بن القاسم بن الأشيب يقول: حدثني أبو بكر سمعت إبراهيم الأصبهاني يقول: أبو بكر بن أبي داود كذاب» [لسان الميزان لابن حجر، ت أبي غدة: 4/ 491]
علاوہ بریں راوی کے تعین کا اہم ذریعہ اساتذہ وتلامذہ کا رشتہ بھی ہے۔زبیرعلی زئی صاحب نے بھی لکھاہے :
”یادرہے کہ راوی کے تعین کے لئے اس کے شیوخ وتلامیذ کو مدِنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔“ [ فتاوی علمیہ العروف بتوضیح الکلام ج١ ص٣٣٦]
عرض ہے کہ اس انتہائی ضروری اصول کومدِنظر رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ ”ابوبکر“ یعنی ابن ابی الدنیا کا تذکرہ موسی بن القاسم کے اساتذہ میں ملتا ہے، مثلاً دیکھیں: [تاریخ بغداد: ١٣ /٦١]
اسی طرح ان کا تذکرہ ابراہیم الأصبھانی کے شاگردوں میں بھی ملتا ہے، مثلاً دیکھیں:[ تاریخ بغداد: ٦ /٤٢]
جبکہ ”ابن بکر“ نام کے کسی بھی راوی کا موسی بن القاسم کے اساتذہ یا ابراہیم الأصبھانی کے تلامذہ میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں اس سند میں ”ابوبکر“ ہی ہے جو صرف تاریخ ابن عساکر میں ایک جگہ کتابت یا نسخ کی غلطی سے ”ابن بکر“ بن گیا۔
یہ ساری باتیں ایسی نہیں ہیں جن کو سمجھنے اورمعلوم کرنے کے لئے بہت زیادہ گہرائی اور گیرائی کی ضرورت پڑے، بلکہ علم حدیث کا ایک بچہ بھی بآسانی ان باتوں کو معلوم کرسکتا اور سمجھ سکتاہے ۔اب ایسی صورت میں ندیم ظہیر صاحب اپنے استاذ ممدوح کو ان باتوں سے غافل اورنابلد بتلائیں تو للہ انصاف کیجئے کہ یہ اپنے استاذممدوح کادفاع ہے یاان پر بدترین جہالت اور اصول حدیث کے مبادیات سے بھی لاعلمی کی تہمت شنیعہ دھرنا ہے؟ ایسی ہی کسی صورت حال کو دیکھ کر کسی بزرگ نے کہا ہوگا کہ بے وقوف دوست سے عقلمند دشمن ہی بہترہے!!
دو رخی ڈبے کا تبادلہ
لطف کی بات یہ ہے کہ خود زبیرعلی زئی صاحب نے کئی مقامات پرسند میں موجود کتابت یا نسخ کی اس جیسی غلطیوں کی دیگر قرائن سے تصویب واصلاح کی ہے، اس لئے اگر ندیم ظہیرصاحب کی یہ بات مان لیں کہ یہاں زبیرعلی زئی صاحب نے رواة کے نامعلوم ہونے کی نہیں، بلکہ غیرمتعین ہونے کی بات کہی ہے تو پھر ایک دو رخی ڈبے کا انہدام تو ضرور ہوگا، لیکن اس کی جگہ دوسرا دو رخی ڈبہ تعمیر ہوجائے گا، ملاحظہ فرمالیں:
● پہلا رخ :-
◈ الکامل لابن عدی کے تمام نسخوں کی ایک سند میں ”ابوبکر“ ہے، نیز اس کتاب سے یہ سند اسی نام کے ساتھ دیگر ائمہ ومحدثین نے نقل کی ہے۔ اساتذہ وتلامذہ کا رشتہ بھی اسی نام کو ثابت کرتا ہے پھر بھی محض تاریخ ابن عساکر میں صرف ایک جگہ اس سند میں اس نام ”ابوبکر“ کی جگہ ”ابن بکر“ آگیا، یعنی صرف ایک حرف ”و“ کے بجائے ”ن“ کافرق ہے تو بقول ندیم ظہیر صاحب زبیرعلی زئی صاحب کا رخِ تحقیق یہ ہے :
”اس روایت کاراوی ابوبکر یا ابن بکر نامعلوم ہے۔(یعنی بقول ندیم ظہیرصاحب دونوں میں سے کوئی متعین نہیں)“ [ مقالات ٤ /٣٨٠]
● دوسرا رخ:-
➊ امام بخاری کی کتاب جزء رفع الیدین کی ایک سند میں ایک نسخے میں ”ابواسحاق“ ہے جبکہ دوسرے نسخے میں ”ابن اسحاق“ ہے، یعنی صرف ایک حرف ”ن“ یہ حرف ”و“ سے بدل گیا تو زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”نسخہ ظاہریہ کے مخطوطے میں ”ابن اسحاق“ ہے اوریہی صحیح ہے، جبکہ دوسرے مخطوطے میں غلطی سے ”ابواسحاق“ لکھ دیا گیاہے۔“ [جزء رفع الیدین مترجم زبرعلی زئی ص٣٨]
قارئین کرام !
ملاحظہ فرمائیں یہاں زبیر علی زئی صاحب نے یہ نہیں کہا: ابواسحاق یا ابن اسحاق نامعلوم ہے۔ کیونکہ کسی نسخے میں ابواسحاق ہے اورکسی میں ابن اسحاق ہے، بلکہ نسخہ ظاہریہ کے مخطوطے کے لفظ کو صحیح کہا اور دوسرے نسخے کے لفظ کو غلط قرار دے دیا ۔
➋ جزء القراء ة للبخاری کے نسخے میں ایک سند میں ”العباس“ کا لفظ ہے، لیکن زبیرعلی زئی صاحب نے اسے صحیح کرکے عیاش لکھا اور حاشیے میں کہا:
”من کتب الرجال، وجاء فی الأصل ”العباس“ (یعنی اصل نسخے میں ”عباس“ کا لفظ ہے، لیکن کتبِ رجال سے تصحیح کرتے ہوئے اسے ”العیاش“ لکھاگیا ہے)“ [جزء القراء ة للبخاری (مترجم)ص١٢٨]
ملاحظہ فرمائیں! اس نام میں ایک نہیں دو حرف کا فرق ہے اور صحیح نام کسی دوسری سند میں بھی وارد نہیں بلکہ محض کتبِ رجال میں اساتذہ وتلامذہ کی فہرست دیکھ کراسے ٹھیک کردیا ۔لیکن تاریخ ابن عساکر میں صرف ایک حرف غلط لکھا گیا اور دوسری کتاب بلکہ اصل کتاب الکامل میں صحیح لفظ ہی درج ہے، اسی طرح کتبِ رجال سے بھی صحیح لفظ کی طرف راہنمائی ملتی ہے، مگر یہاں اصل کتاب کی سند اور کتبِ رجال کے دلائل سب سے آنکھیں بندکرلی گئی ہیں۔
➌ جس طرح سند کے کسی نام میں ”ابو“ غلطی سے ”ابن“ ، یا ”ابن“ غلطی سے ”ابو“ لکھ جاتا ہے، اسی طرح ”عن“ کبھی غلطی سے ”بن“ لکھا جاتاہے، پھر دو نام ایک ہی نام ظاہر ہونے لگتے ہیں، لیکن کتبِ رجال میں اساتذہ وتلامذہ کا رشتہ دیکھ کر اس کی تصحیح کی جاتی ہے، جیساکہ جزء القراء ة للبخاری کے نسخے میں ایک سند میں ”حمادبن ایوب“ لکھا ہوا ہے، جو غلط ہے، یہاں ”بن“ اصل میں ”عن“ تھا، کاتب یا ناسخ کی غلطی سے ایک حرف ”ع“ یہ حرف ”ب“ سے بدل گیا ہے، چنانچہ زبیرعلی زئی صاحب اس سند میں یہ غلطی درست کرنے کے بعد حاشیے میں لکھتے ہیں:
”فی الأصل حماد بن أیوب“ وھوخطأ (یعنی اصل نسخے میں ”حمادبن ایوب“ لکھا ہے یہ غلط ہے۔“ [ جزء القرأة للبخاری مترجم زبیرعلی زئی :ص٢٧٦]
ملاحظہ فرمائیے کہ کاتب یا ناسخ سے ایسی چوک ہو رہی ہے کہ صرف ایک نہیں بلکہ دو نام غلط ہو رہے ہیں اور دوسری کسی کتاب میں یہ سند ٹھیک طور پرمنقول بھی نہیں ہے پھر بھی محض کتبِ رجال سے زبیرعلی زئی صاحب اس کی اصلاح فرمارہے ہیں ۔لیکن تاریخ ابن عساکر والی سند میں محض ایک حرف کی غلطی ان سے درست نہیں ہوپارہی جبکہ دوسری اوراصل کتاب ”الکامل“ میں یہ نام صحیح طور پر مندرج ہے اور کتب رجال بھی اس کی صحت پر مہر ثبت کررہی ہیں،کیا یہ دورخے پن کی بدترین مثال نہیں؟؟؟
حیرت ہے کہ ندیم ظہیر صاحب اپنے استاذ ممدوح کو ایک دو رخی گڈھے سے نکال کرایسے مقام پر کھڑا کر رہے ہیں جہاں سے وہ اس سے بھی گہری دو رخی کھائی میں جا پڑیں گے!!
دوسرا اعتراض
زبیرعلی زئی صاحب ندیمی اعتراضات کی زد میں اور ندیم ظہیر صاحب کی صفائی
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”ہم سابقہ تحریر میں واضح کرچکے ہیں کہ عبدالوہاب ثقفی پر ”فیہ ضعف” کی جرح بے بنیاد ہے۔“ [الحدیث (١٤٠) ص١٢]
عرض ہے کہ اگرعبدالوہاب ثقفی کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے کوئی اس جرح کو بنیاد بنائے تو بے شک یہ کہاجائے گا کہ ضعیف ثابت کرنے کے لیے یہ بے بنیاد جرح ہے، لیکن اگر کوئی درجہ ثقاہت طے کرنے کے لئے اس جرح کو پیش نظر رکھے تو اسے بے بنیاد قطعا نہیں کہا جاسکتا، جیساکہ ہم نے اپنی سابقہ تحریر میں زبیرعلی زئی صاحب کا آئینہ دکھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہرجرح بالکلیہ مردود اور بے بنیادقرارنہیں دی جاتی، بلکہ تضعیف کے بجائے رواة کا درجۂ ثقاہت طے کرنے کے لئے ان جروح کو پیش نظر رکھا جاتاہے اور جروح کی کیفیت کے لحاظ سے کسی کو ثقہ کے بجائے صدوق قراردیا جاتاہے جیساکہ زبیرعلی زئی صاحب نے ابوبکربن عیاش اور ابوغالب وغیرہ کو صدوق وحسن الحدیث قراردیاہے ۔ اورکسی کو اوثق کے بالمقابل کم ترثقہ بتلایاجاتاہے جیساکہ زبیرعلی زئی صاحب نے یزیدبن خصیفہ اورعلی بن الجعد وغیرہ کے بارے میں کہا ہے۔
ندیم ظہیر صاحب نے ”فیہ ضعف“ کی جرح پر جتنے شبہات وارد کیے تھے، ان سب کا جواب ہماری سابقہ تحریر میں مفصل دیا جا چکا ہے۔ [دیکھئے ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کاجواب:ص١٠ تا ١٣]
اسی ضمن میں ندیم ظہیر صاحب کے کچھ اعتراضات کا ماحصل یہ بھی تھا کہ ”ثقہ“ اور ”متکلم فیہ“ ایک ساتھ کیسے بول سکتے ہیں؟ اسی بات کو لے کر انھوں نے کئی اعتراضات کیے تھے، جن کے جوابات ہم نے ”رواة کا متکلم فیہ ہونا اور درجہ ثقاہت“ کے عنوان (دیکھئے ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کاجواب:ص ٩تا ١٠) اسی طرح ”متکلم فیہ راوی اور درجہ ثقاہت“ کے عنوان (دیکھئے ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کاجواب:ص ١٥تا ٢١)کے تحت پیش کیا اور بتلا یاکہ ان اعتراضات کی زد خود زبیر علی زئی صاحب پربھی پڑتی ہے۔اورآخر میں کہا: ”ندیم صاحب اپنے استاذممدوح کو ان اشکالات کی زد سے بچانے کے لئے جو بھی جوا ب دیں گے، وہی جواب ہمارا بھی ہے“ ۔اب اس پرندیم ظہیر صاحب نے جو خامہ فرسائی کی ہے، اسے دیکھتے ہیں۔
سب سے پہلے واضح ہو کہ ثقہ راوی عبدالوہاب الثقفی کو ضعیف بتلانے کے لئے نہیں، بلکہ اوثق راوی سے درجہ ثقاہت میں کم تر بتلانے کے لیے ہم نے انہیں ”ثقہ“ ماننے کے ساتھ ”متکلم فیہ“ کہا، اس پر ندیم ظہیر صاحب پریشان ہوگئے کہ ایک راوی ”ثقہ“ اور ”متکلم فیہ“ دونوں ایک ساتھ کیسے ہوسکتاہے؟یعنی: جب کسی راوی کو ”متکلم فیہ“ تسلیم کر لیا جائے تواس کا درجۂ ثقاہت متاثر ہوجاتاہے پھروہ ”ثقہ“ کے درجے پر نہیں رہ جاتا، بلکہ ”صدوق وحسن الحدیث ” کے درجے میں آجاتاہے ۔ اور اگر کسی راوی کو ”ثقہ وصحیح الحدیث ” تسلیم کرلیا گیا تو پھر اس پرکیا گیا کلام اس قابل نہیں رہتا کہ اس کے درجۂ ثقاہت کو متاثر کرے، اس لئے اسے ”متکلم فیہ“ کہنا غلط ہے۔ ملاحظہ فرمائیں! ندیم ظہیر صاحب کے الفاظ :
”اب کیا ہرکلام اس قابل ہے کہ راوی کے درجہ ثقاہت کو متاثر کرے؟ یقینا نہیں ۔۔۔۔ اگرکوئی کہے کہ اس سے کلام ختم تونہیں ہو جاتا، ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ وہ کلام ختم نہیں ہوتا، لیکن اس قابل بھی نہیں رہتا کہ راوی کو متکلم فیہ بناکر اس کے درجۂ ثقاہت کو متاثر کر دے۔“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣١]
غور فرمائیں کہ ندیم ظہیر صاحب کہہ رہے ہیں کہ ”اب کیا ہرکلام اس قابل ہے کہ راوی کے درجہ ثقاہت کو متاثر کرے ؟“
یعنی کوئی راوی درجہ ثقاہت پرپہنچ گیا اور اسے ثقہ تسلیم کر لیا گیا تو اب کوئی کلام اسے متکلم فیہ نہیں بنا سکتا، کیونکہ متکلم فیہ بنانے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ راوی درجہ ثقاہت سے گر کر درجہ ”صداقت و درجہ حسن“ پر آجائے گا۔
ندیم صاحب نے مزید کہا:
”عبدالوہاب الثقفی ثقہ و صحیح الحدیث کے مرتبہ سے گر کر صدوق وحسن الحدیث کیوں نہیں ہوئے ؟اوران کی روایت اعلی درجے کی صحیح کے بجائے حسن کیوں نہیں ہوئی؟“ [الحدیث نمبر (١٣٥،١٣٦ ) ص٣٤]
یعنی موصوف کی نظر میں یہ لازم ہے کہ جسے ”متکلم فیہ“ کہہ دیا گیا اسے درجہ ثقاہت سے گراکر درجہ صداقت پر رکھا جائے، اس کی حدیث کو ”صحیح” کہنے کے بجائے ”حسن ” کہا جائے۔
پھرندیم ظہیر صاحب نے اپنے استاذ کے طرزعمل سے اس بات کی مثال دیتے ہوئے کہا:
”ہمارے استاذمحترم نے جن راویوں کو متکلم فیہ کہا ہے تو محدثین کی جروح کی بناپر ان کا مرتبہ ثقاہت بھی بیان کر دیا ہے، مثلا: سنابلی صاحب ہی کے ذکرکردہ راوی ابوغالب، عبیداللہ بن عمرو اور امام بزار وغیرہ۔ان سب کو صدوق وحسن الحدیث قرار دیا۔“ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٦]
مطلب یہ ہے تحقیق کا تقاضا! کہ جب آپ نے کسی راوی کو ”متکلم فیہ“ کہہ دیا تو اب چونکہ اس کا درجہ ثقاہت متاثرہوگیاہے اس لئے اسے اس ”ثقاہت“ یعنی ”ثقہ“ کے درجے سے اتارئیے اور ”صدوق اورحسن الحدیث“ کے درجے پر بٹھائیے!
پھر ندیم ظہیر صاحب مجھ پر اعتراضات وارد کرتے ہوئے گویاہوئے :
اس کے برعکس سنابلی صاحب نے عبدالوہاب ثقفی کا کون سامرتبہ متعین کیا ہے؟
١۔ کیا عبدالوہاب الثقفی اس کے بعد ”اعلی درجے کی صحیح“ سے حسن درجے کی روایت بیان کرنے والے ہوگئے ہیں؟
٢۔کیااس جرح کی بنا پر وہ ثقہ سے ”صدوق“ کے درجے پرآگئے ہیں؟
٣۔کیا اب ان کی روایت تفرد کی صورت میں منکرہوگی ؟ [الحدیث نمبر( ١٣٥،١٣٦ ) ص٣٧]
ملاحظہ فرمائیں اس ضمن میں ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کی نوعیت یہ ہے کہ جب ایک راوی کو ”متکلم فیہ“ کہہ دیا گیا تو پھر وہ ”ثقہ“ کے درجے پرباقی کیسے رہا ؟
اعتراضات کی اس نوعیت پر ہم نے ندیم ظہیر صاحب کو آئینہ دکھا یا کہ آپ کے استاذ ممدوح نے صحیحین کے ایک راوی ”یزیدبن خصیفہ“ کو ”مختلف فیہ“ کہنے کے باوجود بھی اسے ”ثقہ“ ہی قرار دیا ہے۔یعنی اسے مرتبہ ثقاہت سے گراکر ”صدوق وحسن الحدیث“ کے مقام پر لاکرکھڑا نہیں کیا بلکہ اسے ”ثقہ“ ہی کے درجے پر رکھا، چنانچہ ہم نے لکھا:
”عرض ہے کہ آپ کے استاذمرحوم نے ”یزیدبن خصیفہ“ کو جو ”مختلف فیہ“ کہا ہے، اس پر بھی ٹھیک یہی سوالات وارد ہوتے ہیں:
١۔ کیا یزیدبن خصیفہ اس کے بعد ”اعلی درجے کی صحیح“ سے حسن درجے کی روایت بیان کرنے والے ہوگئے ہیں؟
٢۔کیااس جرح کی بنا پروہ ثقہ سے ”صدوق“ کے درجے پرآگئے ہیں؟
٣۔کیا اب ان کی روایت تفرد کی صورت میں منکرہوگی ؟
کیاخیال ہے ان سوالات کے جوابات کیا ہوں گے ؟ جو بھی جواب ہوں، وہی ہماری طرف سے بھی سمجھ لیں۔’“ [ ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کاجواب : ص ٢١]
”زبیرعلی زئی صاحب ”یزیدبن خصیفہ“ کو مختلف فیہ کہنے کے باوجودبھی اس کی عام احادیث کو حسن نہیں بلکہ صحیح ہی مانتے ہیں، اسی طرح ہم بھی عبدالوہاب کو متکلم فیہ کہنے کے باوجود عبدالوہاب کی عام احادیث کو حسن نہیں بلکہ صحیح ہی مانتے ہیں۔
اب عبدالوہاب الثقفی کو متکلم فیہ کہنے پر ندیم صاحب جو اشکالات اٹھارہے ہیں، عین وہی اشکالات ان کے استاذممدوح کی طرف سے یزیدبن خصیفہ کو ”مختلف فیہ“ کہنے پر بھی واردہوتے ہیں۔ اب ندیم صاحب اپنے استاذممدوح کو ان اشکالات کی زد سے بچانے کے لئے جو بھی جوا ب دیں گے، وہی جواب ہمارا بھی ہے۔” [ ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کاجواب :ص٩]
”آپ کاجویہ سوال ہے کہ ”عبدالوہاب الثقفی ثقہ وصحیح الحدیث کے مرتبہ سے گرکرصدوق وحسن الحدیث کیوں نہیں ہوئے ؟اوران کی روایت اعلی درجے کی صحیح کے بجائے حسن کیو ں نہیں ہوئی ؟“ تو جوابا عرض ہے کہ آپ یہ بھو ل رہے ہیں کہ آپ کے استاذممدوح نے بخاوی ومسلم کے راوی یزیدبن خصیفہ کو بھی مختلف فیہ لکھا ہے۔ (قیام رمضان:ص٦٣) اور انہیں ثقہ مانا ہے، یعنی ان پرکی گئی جرح کو توثیق کے مقابلے میں رد کیا ہے، لیکن پھربھی انہیں ثقہ وصحیح الحدیث ہی ماناہے۔
اب کیا ہم آپ سے آپ ہی کے الفاظ میں پوچھ سکتے ہیں کہ یزیدبن خصیفہ ثقہ وصحیح الحدیث کے مرتبہ سے گر کر صدوق وحسن الحدیث کیوں نہیں ہوئے ؟ اوران کی روایت اعلی درجے کی صحیح کے بجائے حسن کیو ں نہیں ہوئی ؟
دراصل راوی ہرکلام کے سبب ثقہ سے نیچے گرکرصدوق کے درجے پر نہیں آتا، بلکہ کسی کلام سے وہ ثقہ سے نیچے گر کر صدوق کے مقام پر آجاتاہے اور کسی کلام سے وہ ثقہ ہی کے درجے پر رہتاہے، لیکن ثقاہت میں اس راوی سے کم تر ہوتا ہے جس پر ویساکلام نہ کیا گیا ہو، جیسا اس پر کیا گیا ہے“ [ ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کا جواب: ص١٥،١٦]
ملاحظہ فرمائیں ان اعتراضات کی زد ندیم ظہیر صاحب کے استاد ممدوح پر بھی پڑ رہی ہے، اب ندیم ظہیر صاحب نے جو صفائی دی ہے، اسے پڑھیں اور سردھنیں، فرماتے ہیں:
”موصوف یزید بن خصیفہ کوعبدالوہاب الثقفی کے ساتھ جوڑ کر خلطِ مبحث کرناچاہتے ہیں،کیونکہ ہم سابقہ تحریر میں واضح کرچکے ہیں کہ عبدالوہاب الثقفی پر ”فیہ ضعف“ کی جرح بے بنیاد ہے ۔امام ذہبی اور حافظ ابن حجررحمہما اللہ نے ان کے نام کے ساتھ ”صح“ لکھ کرثابت کر دیا ہے کہ عبدالوہاب الثقفی ”من تکلم فیہ بلاحجة“ میں سے ہیں ۔اس کے برعکس یزید بن خصیفہ پرجرح کو تسلیم کیا گیا ہے۔ میزان یا لسان میں ”صح“ کی کوئی علامت ان کے نام کے ساتھ نظر نہیں آتی، بلکہ لسان المیزان(٩/٤٥٣) میں ”ھ“ کی علامت ہے ، یعنی ”مختلف فیہ والعمل علی توثیقہ“ اب اتنے نمایاں فرق کے باوجود سنابلی صاحب کا یہ کہنا: ”ندیم صاحب اپنے استاذممدوح کو ان اشکالات کی زد سے بچانے کے لئے جو بھی جوا ب دیں گے، وہی جواب ہمارا بھی ہے“ سینہ زوری کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔یزید بن خصیفہ کو محدثین خود ”مختلف فیہ“ قراردے رہے ہیں جبکہ عبدالوہاب الثقفی کا دفاع کررہے ہیں، پھر دونوں کو ایک ہی نظر دے دیکھنا اور موازنہ کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے ؟ لہٰذا موصوف کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ اگریزید بن خصیفہ مختلف فیہ ہے تو عبدالوہاب ثقفی متکلم فیہ کیوں نہیں ہوسکتاہے ؟“ [ الحدیث (١٤٠) ص١٢]
عرض ہے:
اس جواب میں ندیم ظہیر صاحب نے صرف یہ بتلانے کی کوشش کی ہے کہ عبدالوہاب الثقفی کو متکلم فیہ کہنے پر کوئی دلیل نہیں، جبکہ یزید بن خصیفہ کو متکلم فیہ یا مختلف فیہ کہنے پردلیل موجود ہے۔
لیکن قارئین انصاف کریں کہ کیا یہاں بحث کا نکتہ یہ تھا کہ عبدالوہاب ثقفی کو متکلم فیہ کہنے کی دلیل ہے یا نہیں؟ یا بحث کا نکتہ دراصل یہ تھا کہ عبدالوہاب ثقفی ”ثقہ“ اور ”متکلم فیہ“ دونوں ایک ساتھ کیسے ہے ؟ اسے تو ”متکلم فیہ“ ہونے کے بعد ”ثقہ“ سے گرکر ”صدوق وحسن الحدیث“ ہوجانا چاہئے !!! اوراس کی احادیث کو ”صحیح“ کہنے کے بجائے ”حسن“ کہنا چاہے !!!
یقینا یہ دوسری بات ہی موضوع بحث تھی۔ بلاشبہہ ہم نے یہ باتیں جن اعتراضات کے جواب میں کہی تھیں ان کا ماحصل یہی تھا کہ ایک راوی ”متکلم فیہ“ ہونے کے ساتھ ”ثقہ“ بھی کیسے ہوسکتا ہے؟ اسے تو ”ثقہ“ سے گرکر ”صدوق وحسن الحدیث ” ہوجانا چاہے !!!
یہی وہ اعتراض تھا جس کے جواب میں ہم نے آئینہ دکھایا کہ زبیرعلی زئی صاحب نے صحیحین کے راوی یزید بن خصیفہ کو ”مختلف فیہ“ کہا اور ”ثقہ“ بھی کہا ، پھر اس پرہم نے سوال اٹھایا:
”کیا ہم آپ سے آپ ہی کے الفاظ میں پوچھ سکتے ہیں کہ یزیدبن خصیفہ ثقہ وصحیح الحدیث کے مرتبہ سے گرکرصدوق وحسن الحدیث کیوں نہیں ہوئے ؟ اوران کی روایت اعلی درجے کی صحیح کے بجائے حسن کیو ں نہیں ہوئی ؟“ [ ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کا جواب: ص١٥،١٦]
پھرہم نے واضح کیا:
”دراصل راوی ہرکلام کے سبب ثقہ سے نیچے گرکرصدوق کے درجہ پرنہیں، آتابلکہ کسی کلام سے وہ ثقہ سے نیچے گرکرصدوق کے مقام پر آجاتاہے اور کسی کلام سے وہ ثقہ ہی کے درجہ پر رہتاہے، لیکن ثقاہت میں اس راوی سے کم ترہوتاہے جس پرویساکلام نہ کیا گیا ہو، جیسا اس پر کیاگیاہے“ [ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کا جواب: ص١٥،١٦]
لیکن قربان جائیں ندیم صاحب پر کہ اصل بات کا جواب نہیں بن پڑا تو بات بدل کر اس کا جواب لکھ مارا اور آخر میں بڑی معصومیت سے کہا:
”لہٰذا موصوف کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ اگریزید بن خصیفہ مختلف فیہ ہے تو عبدالوہاب ثقفی متکلم فیہ کیوں نہیں ہوسکتاہے ؟“
اللہ کے بندے! ہم نے کب یہاں ایسا کہا ؟؟
ہمارا مدعا تو یہاں یہ تھا کہ ” اگریزید بن خصیفہ ”مختلف فیہ“ ہونے کے باوجود بھی ”ثقہ وصحیح الحدیث“ کے مقام پر باقی رہ سکتا ہے تو عبدالوہاب ثقفی ”متکلم فیہ“ ہونے کے ساتھ ”ثقہ وصحیح الحدیث“ کے مقام پر کیوں نہیں رہ سکتا؟”
بالفاظ دیگر اگر یزید بن خصیفہ درجہ ثقاہت پر باقی رہنے کے باوجود بھی ”مختلف فیہ“ ہوسکتاہے تو عبدالوہاب ثقفی بھی درجہ ثقاہت پرباقی رہتے ہوئے ”متکلم فیہ“ کیوں نہیں ہوسکتا۔
ذرا عینک لگا کر ہمارے یہ الفاظ دوبارہ پڑھ لیں:
”زبیرعلی زئی صاحب ”یزیدبن خصیفہ“ کو مختلف فیہ کہنے کے باوجود بھی اس کی عام احادیث کو حسن نہیں بلکہ صحیح ہی مانتے ہیں، اسی طرح ہم بھی عبدالوہاب کو متکلم فیہ کہنے کے باوجود عبدالوہاب کی عام احادیث کو حسن نہیں بلکہ صحیح ہی مانتے ہیں۔“ [ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کاجواب :ص٩]
یہ وہی الفاظ ہیں جو عین اس اقتباس کے اندر موجود ہیں جسے ندیم ظہیر صاحب نے ہماری تحریر سے نقل کیا ہے لیکن ندیم ظہیر صاحب نے بڑی چابکدستی سے اس اقتباس سے ہمارے ان الفاظ کو حذف کر کے اس کی جگہ یہ علامت (۔۔۔۔۔۔ ) رکھ دی !!! سبحان اللہ!
ایک تو اقتباس سے اہم حصے کو حذف کیا ، پھراسے سیاق سے کاٹا ، اس کے بعداپنی طرف سے ایک اشکال گھڑ کریہاں چسپاں کردیا ۔ ان ساری حرکتوں کے باوجود ڈھٹائی دیکھو الٹا ناچیز ہی پر ”خلطِ مبحث” کاالزام جڑدیا اور ذرا بھی شرم وحیا نہ آئی!
اس تحریفی کارروائی کے بعد ندیم ظہیر صاحب نے بغیرکسی تفصیل کے محض تدلیس سے کام لیتے ہوئے کہا کہ امام بزار سے متعلق ہمارا جو الزامی حوالہ تھا، وہ بھی ”اسی طرح“ کا خلطِ مبحث ہے۔
عرض ہے کہ موصوف کے ”اسی طرح“ کے ڈھول کی پول ہم پہلے بھی کھول چکے ہیں، اس لئے یہ تدلیس کارگرنہیں ہوسکتی ۔
محترم قارئین! ملاحظہ فرمایا آپ نے ! ہم نے جو الزام وارد کیا تھا وہ وہیں کا وہیں دھرا ہے ، ظاہرہے گندم پیس کرچنے کی روٹی توبننے سے رہی !!
بہرکیف ندیم ظہیر صاحب نے یہاں اصل الزام کا جواب دیا ہی نہیں، بلکہ اس سے ہٹ کرایک دوسری دنیاآباد کردی ہے، آئیے اب اس دنیا کی بھی سیر کرلیتے ہیں۔
عبدالوہاب ثقفی پر ہونے والے کلام کا مفاد
ندیم ظہیر صاحب نے یہاں اصل الزام سے ہٹ کریہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عبدالوہاب ثقفی ”متکلم فیہ“ نہیں ہے، چناںچہ حاصل جواب رقم کرتے ہوئے فرمایا:
”دونوں کو ایک ہی نظر دے دیکھنا اور موازنہ کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے ؟ لہٰذا موصوف کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ اگریزید بن خصیفہ مختلف فیہ ہے تو عبدالوہاب ثقفی متکلم فیہ کیوں نہیں ہوسکتاہے؟“ [الحدیث (١٤٠) ص١٢]
یہ موازنہ تو ہم نے نہیں کیا ہے جیساکہ وضاحت کردی گئی ہے، لیکن ندیم ظہیر صاحب کا یہ حاصل جواب بتلا رہا ہے کہ آں جناب ”عبدالوہاب ثقفی“ کو ”متکلم فیہ“ نہیں مان سکتے اور موصوف کی نظر میں اس کی دلیل یہ ہے کہ اس پر ”بلاحجت کلام کیا گیا ہے“ ، جیساکہ علامت ”صح“ سے پتا چلتاہے۔
”بلاحجت“ کا کیا مفہوم ہے؟ اس پربات تو آگے آرہی ہے، لیکن اس سے پہلے کوئی عقلمند آں جناب کو سمجھائے کہ کیا کسی راوی کے بارے میں ”بلاحجت کلام کیا جانا“ اسے ”متکلم فیہ“ کہے جانے کے منافی ہے؟؟
اللہ کے بندے! ”متکلم فیہ“ کہنے کا مطلب ہی یہی ہے کہ ”اس پرکلام کیا گیا ہے“ قطع نظر اس کے کہ وہ کلام ”قابل حجت“ ہے یا ”بلاحجت“ ہے ۔
لگتا ہے ندیم ظہیر صاحب نے ”متکلم فیہ“ کی تعبیرکو کوئی خاص صیغہ جرح سمجھ رکھا ہے اوراس جرح سے کسی راوی کو متصف ماننے کے لئے ان کے یہاں کوئی خاص مقدار کا کلام مطلوب ہے !
اگرایسا ہے تو محترم جان لیں کہ ”متکلم فیہ“ کے الفاظ راوی پر کیے گئے کلام کو بتلانے کے لئے ایک تعبیر ہیں، کسی راوی پر کیے گئے کلام کو ”متکلم فیہ“ کی تعبیر سے بیان کرنے کے لئے کلام کی کسی مقدار کی شرط لگانا لایعنی اورفضول بات ہے، کیونکہ نفسِ کلام کا وجود ہی اسے متکلم فیہ کہنے کے لئے کافی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسماء الرجال کی کتب میں پوری دنیا کے کسی بھی محدث نے ”متکلم فیہ“ کی تعبیر کو کسی راوی کا درجہ نہیں بتلایا۔
اگرندیم ظہیر صاحب ہماری بات نہیں مانتے توکم ازکم اپنے استاذممدوح ہی سے کچھ سبق حاصل کریں اوریاد کریں کہ ان کے استاذممدوح زبیرعلی زئی صاحب کو ان کی زندگی میں ہم نے تین تین بار جواب دیا ہے اور ہر بار عبدالوہاب کو متکلم فیہ لکھا ہے، لیکن موصوف نے کسی تحریر کے جواب میں یہ نہیں لکھا کہ عبدالوہاب الثقفی کو متکلم فیہ کہنا ہی غلط ہے، بلکہ ایک مقام پر لکھا :
”کچھ رواة متکلم فیہ کا اگر یہ مطلب ہے کہ کچھ راوی ضعیف ہیں تو یہ بات غلط ہے، جیسا کہ اس مضمون میں راویوں کی مفصل تحقیق کر کے ثابت کر دیا گیا ہے۔ اگر مجرد کلام کا تذکرہ ہے تو عرض ہے کہ جمہور محدثین کی توثیق کے بعد متکلم فیہ ہونا چنداں مضر نہیں ہوتا۔ صحیحین (یا ان دونوں میں سے کسی ایک)کے کئی مرکزی راوی مثلاً فلیح بن سلیمان، یحییٰ بن سلیم الطائفی اور عکرمہ مولیٰ بن عباس وغیرہم بھی تو متکلم فیہ ہیں، لیکن جمہور کی توثیق کی وجہ سے اُن پر جرح مردود ہے۔“ [مقالات ٦/ ٣٨٢]
ملاحظہ فرمائیں یہاں زبیرعلی زئی صاحب غیرضعیف یعنی ثقہ رواة کے لئے متکلم فیہ کی تعبیر استعمال کرنے پرکوئی اعتراض نہیں کر رہے، بلکہ عبدالوہاب الثقفی ہی کو ثقہ مان کر ان کے لئے ”متکلم فیہ“ کی تعبیر پر انہیں کوئی اشکال نہیں ہے۔لیکن ندیم ظہیر صاحب ان سے دس قدم آگے بڑھ کرشور مچائے جا رہے ہیں کہ عبدالوہاب الثقفی کو متکلم فیہ کہناہی غلط ہے۔اسی کو کہتے ہیں: ”گرو گُڑ رہ گئے اورچیلا شکرہوگئے۔“
الغرض ”متکلم فیہ“ کی تعبیرسے فقط یہ بتلانا مقصود ہوتاہے کہ راوی پر کلام کیا گیا ہے۔لیکن کلام کی مقدار و تاثیر کیا ہے؟ یہ اصل تفصیل کی بنیاد پرطے ہوتا ہے۔چنانچہ تفصیل دیکھنے کے بعد اگرپتا چلے کہ جو کلام کیا گیا ہے، وہ تضعیف کے لیے کافی نہیں تو یہ تو کہا جاسکتاہے کہ بلاحجت کلام کیا گیا ہے لیکن یہ ہرگزنہیں کہا جاسکتا کہ کلام ہی نہیں کیا گیا ہے۔ یعنی کلام کے بلاحجت ہونے سے کلام کورد کیا جاسکتاہے لیکن کلام کے صدور کا انکار تو نہیں کیا جاسکتا! لہٰذا جب یہ بات مسلم ہے کہ ایک راوی پر کلام کیا گیا ہے تواس راوی کا مقابلہ اگرایسے راوی سے ہو، جس پر ایک حرف کا بھی کلام نہ ہوتو ظاہر ہے کہ ثقہ غیرمتکلم فیہ کے بالمقابل ثقہ متکلم فیہ کادرجہ کم ترہی ہوگا۔
واضح رہے کہ یہاں ہم نے عبدالوہاب ثقفی کا مقابلہ یزید بن خصیفہ سے نہیں کیا، بلکہ معاذبن معاذ جیسے ثقہ بالاجماع سے کیا ہے جن پر ایک حرف کا بھی کلام نہیں۔ یزید بن خصیفہ کی مثال تو یہ بتلانے کے لئے دی گئی تھی کہ ایک راوی متکلم فیہ ہونے کے بعد بھی ثقہ کے مقام پر باقی رہ سکتا ہے، جیساکہ ماقبل میں وضاحت کی جاچکی ہے۔ لہٰذا جب ایک اوثق کے مقابلے میں ان کا درجۂ ثقاہت کم تربتلانے کے لئے ان پرہونے والے کلام کا حوالہ دیا جا رہا ہے تو یہ کہہ دینے سے کہ کلام بلاحجت ہے، نفسِ کلام ختم نہیں ہو جاتا۔
ہاں اگرہمارا دعوی اس کے ضعیف ہونے کا ہوتا تویہ کہنا بجاتھا کہ اس پربلاحجت کلام کیا گیا ہے۔لیکن ہماری سابقہ تحریریں اس بات پر شاہد ہیں کہ ہم نے اسے ضعیف ہرگزنہیں مانا بلکہ اسے صرف متکلم فیہ کہا ہے اور وہ بھی صرف اوثق راوی سے اس کا درجہ ثقاہت کم تربتلانے کے لیے لکھا ہے۔
اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ ایک حدیث ایسی ہے جو باجماعِ امت صحیح ہے اور دوسری حدیث ایسی ہے جس پر بعض کاکچھ کلام ہے لیکن یہ کلام بلاحجت ہونے کے سبب مردودہے اس لئے یہ حدیث بھی صحیح ہے۔اب ان دونوں حدیثوں میں درجہ بندی کی جائے توظاہر ہے کہ پہلے درجے پر وہی حدیث ہوگی جو باجماعِ امت صحیح ہوگی اورجس حدیث پرکچھ کلام کیا گیا ہے، اس کا درجہ اس کے بعد ہوگا اگرچہ کلام بلاحجت ہے۔
اب آئیے یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ علامت ”صح“ اور ”بلاحجت“ کا کیامفہوم ہے۔
”میزان“ اور ”لسان“ میں علامت ”صح“ کا مفہوم
ندیم ظہیر صاحب نے ایک ہی سانس میں امام ذہبی اور ابن حجر دونوں کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ یہ دونوں جب علامت ”صح“ استعمال کریں توان دونوں کی مراد ہوتی ہے: ”من تکلم فیہ بلاحجة“ یعنی اس طرح کے راوی پر بغیرحجت کے کلام کیا گیا ہے، جبکہ یہ مراد صرف ابن حجررحمہ اللہ کی ہے، جیساکہ انہوں نے لسان المیزان میں صراحت کی ہے۔ کما سیأتی.
✿ میزان میں علامت ”صح“ کامفہوم
میزان میں علامت ”صح“ سے امام ذہبی رحمہ اللہ کی کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کتاب کے مقدمے میں تو نہیں کی، لیکن کتاب کے اندر ایک راوی پر گفتگو کرتے ہوئے اس علامت سے اپنی مراد واضح کردی ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ کا یہ وضاحتی بیان ان کی مطبوعہ کتاب میں موجود نہیں، لیکن ابن حجررحمہ اللہ نے ان کی کتاب سے اسے یوں نقل کررکھا ہے:
«وقد وجدت له في أثناء الكتاب ما يصلح أن يكون في الخطبة كقوله في ترجمة أبان العطار: إذا كتبت (صح) أول الاسم فهي إشارة إلى أن العمل على توثيق ذلك الرجل»
”میں نے (امام ذہبی کی) کتاب (میزان) کے درمیان میں یہ بات پائی ہے جو کتاب کے مقدمہ ہونی چاہیے کہ امام ذہبی ”ابان العطار ” کے ترجمے میں لکھتے ہیں: جب میں ”صح“ کی علامت کسی راوی کے شروع میں لگاؤں تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس راوی کے ثقہ ہونے پر ہی عمل ہے۔“ [لسان الميزان لابن حجر، ت أبي غدة: 1/ 200]
امام ذہبی رحمہ اللہ کی وضاحت کے پیش نظر ان کی علامت ”صح“ میں وہ متکلم فیہ رواة بھی آجائیں گے جن پربلاحجت کلام ہوا ہے یعنی ایساکلام ہوا ہے جو رواة کی تضعیف کے لیے دلیل نہیں ہے، اسی طرح اس میں وہ رواة بھی آجائیں گے جو مختلف فیہ ہیں، یعنی ان پر ایسا کلام ہوا ہے جوقابل حجت یعنی تضعیف پردال ہے، مگراس کے ساتھ اس کی توثیق بھی ملتی ہے اورتوثیق ہی راجح ہے۔
لیکن حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے ان دوقسم کے رواة کے لئے الگ الگ علامت استعمال کی ہے۔ چنانچہ جس ثقہ راوی پر بغیر حجت کے کلام کیا گیا ہے اس کو ثقہ بتلانے کے لئے ابن حجررحمہ اللہ نے ”صح“ کی علامت استعمال کی ہے ۔لیکن جس ثقہ راوی کے بارے میں قابل حجت کلام ہے لیکن اختلاف ہے یعنی دوسری طرف توثیق کے بھی دلائل ہیں اور وہی راجح ہیں ایسے راوی کے لئے ”ھ“ کی علامت استعمال کی ہے، اس کی تفصیل ملاحظہ ہو:
✿ لسان المیزان میں علامت ”صح“ کامفہوم
ابن حجررحمہ اللہ اپنی علامت ”صح“ کامفہوم بتلاتے ہوئے لکھتے ہیں:
«ومن كتبت قبالته: (صح) فهو ممن تكلم فيه بلا حجة»
”میں نے جس راوی کے شروع میں (صح) لکھا ہے تو وہ ایسا راوی ہے جس پر بلاحجت کلام کیا گیا ہے“ [لسان الميزان لابن حجر، ت أبي غدة: 9/ 247]
✿ لسان المیزان میں علامت ”ھ“ کامفہوم
ابن حجررحمہ اللہ اپنی علامت ”ھ“ کامفہوم بتلاتے ہوئے لکھتے ہیں:
”أو صورة (هـ) فهو مختلف فيه والعمل على توثيقه“
”میں نے جس راوی کے شروع میں (ھ) لکھا ہے تو وہ ایسا راوی ہے جو مختلف فیہ ہے، لیکن عمل اس کی توثیق پر ہے“ [لسان الميزان لابن حجر، ت أبي غدة: 9/ 247]
ملاحظہ فرمائیں کہ ابن حجررحمہ اللہ نے ”ھ“ کی علامت کے ساتھ مذکور راوی کے بارے میں کہا ہے: «والعمل علی توثیقہ» (یعنی عمل اس راوی کی توثیق پر ہے) یہ وہی الفاظ ہیں جو امام ذہبی رحمہ اللہ نے ”صح“ کی علامت کے ساتھ مذکور رواة کے بارے میں کہے ہیں، جس سے پتا چلتاہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ کی علامت ”صح“ میں ہر وہ ثقہ راوی شامل ہے جس پر کسی بھی طرح کا کلام کیا گیا ہے جبکہ ابن حجر رحمہ اللہ کی علامت ”صح“ میں صرف وہی ثقہ راوی مراد ہے جس پر بلاحجت کلام کیا گیا ہو، اور وہ ثقہ جس پر تضعیف والا کلام کیا گیا ہو، اگرچہ مرجوح ہو یعنی وہ مختلف فیہ ہو تو اس کے لئے ابن حجررحمہ اللہ نے اپنی الگ علامت ”ھ“ استعمال کی ہے۔
یعنی امام ذہبی اور ابن حجر دونوں کی علامت ”صح“ میں یہ بات تو مشترک ہے کہ اس سے متکلم فیہ رواة کو ثقہ بتلانا اوران پر کیے گئے کلام کو رد کرنا مقصود ہے لیکن ایسے متکلم فیہ رواة پر کلام کی نوعیت کیا ہے؟ اس بار ے میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے کوئی تخصیص نہیں کی، بلکہ ہرطرح کا کلام ان کی علامت میں شامل ہے۔ جبکہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے ایک خاص نوعیت کے کلام والے راوی کے لئے ”صح“ کی علامت استعمال کی ہے اور وہ ہے ”بلاحجت کلام“ اور دوسری نوعیت کے کلام کے لئے انہوں نے دوسری علامت استعمال کی ہے۔
اس لئے جب امام ابن حجر رحمہ اللہ کسی راوی کے ساتھ ”صح“ کی علامت استعمال کریں تو یہ کہنا بجا ہے کہ انہوں نے توثیق کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر کیے گئے کلام کو ”بلاحجت“ قرار دیاہے۔ لیکن جب امام ذہبی رحمہ اللہ کسی راوی کے ساتھ ”صح“ کی علامت استعمال کریں تو ان کے بارے میں یہ قطعا نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے اس راوی کی توثیق کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر کیے گئے کلام کو بھی ”بلاحجت“ قرار دے دیا ہے، کیونکہ ان کی علامت میں ثقہ پر وہ کلام بھی شامل ہے جو قابلِ حجت ہے لیکن مرجوح ہے۔
الغرض ”صح“ کی علامت سے صرف ابن حجر رحمہ اللہ کے یہاں بلاحجت کلام مراد ہے لیکن امام ذہبی رحمہ اللہ کی علامت ”صح“ میں بلاحجت کلام کے ساتھ قابلِ حجت کلام بھی شامل ہے، اگرچہ اسے ترجیح حاصل نہیں ہے۔ اس لئے امام ذہبی رحمہ اللہ کی علامت ”صح“ اس بارے میں صریح نہیں ہے کہ وہ عبدالوہاب القفی پر کئے گئے کلام کو ”بلاحجت“ ہی قراردے رہے ہیں۔ البتہ ابن حجررحمہ اللہ نے اپنی علامت ”صح“ میں ”بلاحجت“ ہی کی بات کہی ہے لیکن اس کا وہ مفہوم نہیں ہے جو بدقسمتی سے ندیم ظہیر صاحب نے سمجھ لیا ہے۔
✿ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی علامت ”صح“ ‘ میں ”بلاحجت“ کا مفہوم
ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی علامت ”صح“ میں کلام کو جو ”بلاحجت“ کہا ہے تو اس سے ان کی مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایساکلام ہرحال میں مردود اور کسی بھی معاملے میں قطعی کارآمد نہیں ہے، بلکہ اگرثقہ راوی کا درجہ طے کرنا ہو یا اوثق کے مقابلے میں کسی کوکم ترثقہ بتلانا تو اس طرح کے کلام کو پیش نظررکھاجائے گا الایہ کہ وہ ناقد امام سے ثابت ہی نہ ہو۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی یہ مراد ہم اپنے گھر سے نہیں بتلا رہے، بلکہ انہیں کے منہج اور طرزعمل سے معلوم کررہے ہیں ۔چنانچہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ فتح الباری کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
« القسم الثاني فيمن ضعف بأمر مردود كالتحامل أو التعنت أو عدم الاعتماد على المضعف لكونه من غير أهل النقد ولكونه قليل الخبرة بحديث من تكلم فيه أو بحاله أو لتأخر عصره ونحو ذلك ويلتحق به من تكلم فيه بأمر لا يقدح في جميع حديثه كمن ضعف في بعض شيوخه دون بعض وكذا من اختلط أو تغير حفظه أو كان ضابطا لكتابه دون الضبط لحفظه فإن جميع هؤلاء لا يجمل إطلاق الضعف عليهم بل الصواب في أمرهم التفصيل »
”دوسری قسم ان رواة کی ہے جن کے ضعیف کہنے کی بنیاد مردود ہوتی ہے مثلا متحامل نے جرح کی ہو یا متشدد نے جرح کی ہو یا جارح خود ہی قابل اعتماد نہ ہوکیونکہ وہ ائمہ ناقدین میںسے نہ ہو یا اگر ہو تو جس راوی پر جرح کیا ہے اس کی احادیث کی بابت زیادہ معلومات نہ رکھتا ہو یا اس کی حالت کے بارے میں اسے زیادہ واقفیت نہ ہویااس سے متأخر ہو وغیرہ وغیرہ۔نیز اسی قسم میں وہ رواة بھی ہیں جن کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جس سے اس کی تمام احادیث پرعیب نہیں لگتا جیسے کسی راوی کو اس کے صرف بعض مشائخ کے ساتھ ہی ضعیف کہا گیا نہ کہ تمام مشائخ کے ساتھ ، اسی طرح جس پر اختلاط یا تغیرِ حفظ کی جرح ہے یا جو کتاب سے روایت کرنے میں حفظ سے روایت کرنے کی بنسبت زیادہ ضابط ہے ۔ تو اس قسم کے تمام رواة کو علی الاطلاق ضعیف نہیں کہا جاسکتا، بلکہ ان کے بارے میں تفصیل کی جائے گی“ [مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 460]
یہاں غور کیجیے کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے جرحِ مردود میں مبنی برتشدد وغیرہ کلام کے ساتھ اس کلام کو بھی شامل کیا ہے جس کا تعلق اختلاط یا تغیرِ حفظ وغیرہ سے ہواورآخر میں یہ وضاحت کی کہ اس طرح کا کلام راوی کے مطلق ضعیف ہونے پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ اس بارے میں تفصیل کی جائے گی۔
یعنی اس طرح کے کلام کو بنیاد بناکر کوئی کسی راوی کو ضعیف قراردے تواس کے لئے کہا جائے گا کہ یہ جو کلام کیا گیا ہے وہ بلاحجت ہے یعنی اس میں ایسی حجت نہیں ہے جو راوی کے ضعیف ہونے پر دلالت کرے۔ اس لئے تضعیف کے معاملے میں یہ کلام مردود ہے، لیکن جب تضعیف مقصود نہ ہو بلکہ راوی کا درجۂ ثقاہت طے کرنے کامسئلہ ہو تو اس معاملے میں اس کلام کو پیشِ نظر رکھا جاسکتاہے۔
حافط ابن حجر رحمہ اللہ کا اپنا طرزعمل پر اسی بات پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ انہوں نے لسان میں بعض رواة کے بارے میں لکھا ہے کہ ”تکلم فیہ بلاحجة“ (یعنی اس پر بلاحجت کلام کیا گیا ہے) لیکن تقریب میں ان پر وارد کلام کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کا درجہ ثقاہت کم تر بتلایا ہے بلکہ بعض کے حافظے پرکلام کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ثقہ سے گراکر صدوق کے درجے پر رکھا ہے مثلا:
◈ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں ایک راوی ”ابان بن عبد اللہ البجلی“ کے بارے میں علامت ”صح“ لگاتے ہوئے لکھا :
« (صح) أبان بن عبد اللہ البجلی »
”یعنی ”أبان بن عبد اللہ البجلی“ پر بلاحجت کلام کیا گیا ہے“ [لسان المیزان لابن حجر، ت أبی غدة :٩ /٢٤٨]
◄ لیکن خود ابن حجررحمہ اللہ تقریب میںاس راوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
”أبان بن عبد اللہ۔۔۔البجلی ۔۔۔صدوق فی حفظہ لین“
”یعنی ابان بن عبداللہ البجلی صدوق ہے اور اس کے حفظ میں کمزوری ہے۔“ [ تقریب التہذیب لابن حجر: رقم ١٤٠]
◈ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں ایک راوی ”ابو بکر بن عیاش“ کے بارے میں علامت ”صح“ لگاتے ہوئے لکھا :
« (صح) أبو بکر بن عیاش »
”یعنی ”ابو بکر بن عیاش“ پر بلاحجت کلام کیا گیا ہے۔“ [لسان المیزان لابن حجر، ت أبی غدة :٩ /٤٦٢]
◄ لیکن خود حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اس راوی کے درجہ ثقاہت میں اس کے حافظے پر جرح تسلیم کی ہے
چنانچہ ایک مقام پر لکھا:
« أبو بکر بن عیاش فی حفظہ مقال »
”ابوبکربن عیاش کے حافظہ پرکلام ہے“ [فتح الباری لابن حجر :٥ /٢٥]
ایک دوسرے مقام پر لکھا:
« أبو بکر سییء الحفظ »
”ابوبکر(بن عیاش) برے حافظے والا ہے۔“ [ فتح الباری لابن حجر :١ /٩٧]
اس ضمن میں بہت ساری مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ہم بخوف طوالت صرف دوہی مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں ۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ کے اس طرزعمل سے صاف واضح ہے کہ لسان المیزان میں علامت ”صح“ سے انہوں نے راوی پر کلام کو جو ”بلاحجت“ کہاہے اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایسے کلام میں راوی کی تضعیف کے لئے حجت نہیں ہے، البتہ راوی کا درجہ ثقاہت بتلاتے ہوئے اس کلام کوپیش نظر رکھا جائے گا۔
✿ زبیرعلی زئی صاحب اور لسان المیزان کی علامت ”صح“
◈ ماقبل میں ہم نے جو ”ابان بن عبداللہ البجلی“ کی مثال پیش کی ہے کہ ابن حجررحمہ اللہ نے لسان المیزان میں اس پر ”صح“ کی علامت لگائی ہے ،ندیم ظہیر صاحب کے اصول سے جب لسان المیزان میں اس راوی پر علامت ”صح“ آگئی تو اب اس پرکیا گیا ہر کلام ہرلحاظ سے مردود اور بے بنیاد ہونا چاہیے، لیکن ندیم ظہیر صاحب کے استاذ ممدوح نے اس راوی پر کلام ہی کی وجہ سے اسے ثقہ سے گرا کر ”حسن الحدیث“ قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس کے بارے میں لکھا:
”حسن الحدیث“ ( یہ حسن الحدیث ہے)۔ [سنن ابن ماجہ رقم (١٩٦٣) مع تحقیق زبیرعلی زئی]
سنن ترمذی میں اس کی ایک حدیث ہے جس کی سند میں اس کے علاوہ بقیہ سارے رواة ، ثقہ کے درجہ پرفائز صحیحین کے راوی ہیں۔اس پر حکم لگاتے ہوئے زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”إسنادہ حسن“ ( اس کی سند حسن ہے۔) [دیکھئے: سنن الترمذی ، انگریزی نسخہ رقم (٥٣٨) مع تحقیق زبیرعلی زئی]
یعنی زبیر علی زئی صاحب نے محض ”ابان بن عبداللہ البجلی“ پرکلام کے سبب اس سند کو ”صحیح“ سے گرا کر ”حسن“ کے درجے پر رکھا ہے۔
◈ ماقبل میں ہم نے جودوسری مثال ”ابوبکربن عیاش“ کی پیش کی ہے کہ ابن حجررحمہ اللہ نے لسان المیزان میں اس پر ”صح“ کی علامت لگائی ہے ،ندیم ظہیر صاحب کے اصول سے جب لسان المیزان میں اس راوی پر علامت ”صح“ آگئی تو اب اس پرکیا گیا ہر کلام ہر لحاظ سے مردود اور بے بنیاد ہونا چاہیے، لیکن ندیم ظہیر صاحب کے استاذ ممدوح نے اس راوی پر کلام ہی کی وجہ سے اسے ثقہ سے گراکرصدوق و حسن الحدیث قراردیا ہے۔
چنانچہ ایک مقام پرلکھتے ہیں:
”امام ابوبکربن عیاش صدوق وحسن الحدیث ۔۔۔“ [مقالات:ج ٥ص٣١٣]
ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
”ابوبکربن عیاش صدوق وحسن الحدیث ۔۔۔“ [مقالات:ج ٥ص٤٨٩]
ایک تیسرے مقام پر لکھتے ہیں:
”ابوبکربن عیاش۔۔۔ صدوق وحسن الحدیث ہیں۔“ [نور العینین :ص١٧٠]
اب ندیم ظہیر صاحب بتلائیں کہ جب لسان المیزان میں کسی راوی پر ”صح“ کی علامت آجائے تو اس راوی پرموجود ہر کلام ہرلحاظ سے مردود اور بے بنیاد ہوتا ہے توکیا آں جناب کے استاذمحترم کو یہ بات پتا نہ تھی؟ انہوں نے کیوں اس اصول سے غافل ہوکر کئی ایسے رواة کو ثقہ کے بجائے صدوق وحسن الحدیث قرار دیا ہے جس پر لسان میں ”صح“ کی علامت موجود ہے؟ جیساکہ ماقبل میں دو مثالیں پیش کی گئی اور مزید بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔اسے کہتے ہیں: ”گرو گُڑ رہ گئے اور چیلا شکر ہوگئے“ !
الغرض اس تفصیل سے یہ بات صاف ہوگئی کہ لسان المیزان میں کسی راوی پر ابن حجررحمہ اللہ کی طرف سے علامت ”صح“ کا وہ مطلب ہے ہی نہیں جو ندیم ظہیر صاحب نے پیش کیا ہے، اس لئے موصوف نے ہماری اصل بات کے جواب سے بچنے کے لئے یہ جو دوسری دنیا بسائی تھی، وہ نیست ونابود ہوچکی ہے، اور جن دلائل کی بنیاد پر ہم نے عبدالوہاب الثقفی کو متکلم فیہ قراردیا ہے وہ دلائل اپنی جگہ پرقائم و دائم ہیں، والحمدللہ۔
کیا یزید بن خصیفہ کو محدثین نے ”مختلف فیہ“ کہا ہے؟
آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ بات مکررواضح کردیں کہ اس ضمن میں ہم نے یزید بن خصیفہ کی مثال صرف یہ بتلانے کے لئے دی تھی کہ ایک راوی متکلم فیہ ہونے کے بعد بھی ثقہ کے مقام پر باقی رہ سکتا ہے، بالفاظ دیگرجس راوی کو ثقہ تسلیم کر لیا گیا اسے بھی متکلم فیہ کہاجاسکتاہے۔اس سے ہٹ کر ہمارا مقصود یہ ہر گز نہیں تھا کہ جس طرح کا کلام عبدالوہاب ثقفی پر ہوا ہے، عین اسی طرح کا کلام یزید بن خصیفہ پر بھی ہوا ہے۔
ہم نے ہرگز بطور الزام یہ سوال نہیں اٹھایا تھا کہ زبیرعلی زئی صاحب نے یزید بن خصیفہ کو مختلف فیہ کیوں کہہ دیا؟ بلکہ سوال یہ اٹھا یا تھا کہ اسے جب مختلف فیہ کہہ دیا تو پھر اس کے ساتھ ساتھ اسے ثقہ ہی کے مقام پر کیوں رکھا ؟ بقول ندیم صاحب تو اسے ثقہ سے گرکر صدوق ہوجانا چاہیے!
کیونکہ اس مقام پر ندیم ظہیر صاحب کا سوال یہی تھا کہ جب عبدالوہاب ثقفی کو متکلم فیہ کہہ دیا گیا تو پھر وہ ثقہ کیسے باقی رہا؟ اسے تو ثقہ سے گر کر صدوق ہوجانا چاہئے!
لیکن یہاں ندیم ظہیر صاحب ہمارے اصل سوال (زبیر علی زئی صاحب کے یہاں بھی ”مختلف فیہ“ اور ”ثقہ“ دونوں ایک ساتھ کیسے؟)کا جواب دینے کے بجائے اس بات کا ثبوت دینے بیٹھ گئے کہ یزیدبن خصیفہ مختلف فیہ کیوں ہے؟ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ندیم ظہیر صاحب یہ بات بھی ثابت نہ کر سکے۔
انہوں نے یہ دعوی توکردیا کہ محدثین نے اسے مختلف فیہ قراردیا ہے لیکن سوائے ابن حجررحمہ اللہ کی علامت ”ھ“ کے کوئی اورثبوت نہیں پیش کیا ہے اورحقیقت یہ کہ ابن حجررحمہ اللہ نے میزان میں اس راوی سے متعلق منقول امام احمد کے قول ”منکرالحدیث“ کو تضعیف کے معنی میں لیکر اس پر ”ھ“ کی علامت لکھی یعنی یہ اشارہ کیا کہ اس کے ضعیف اورثقہ ہونے میں اختلاف ہے، امام احمد کی نظر میں یہ ضعیف ہے دیگر ائمہ کے یہاں ثقہ ہے اوراسی پر ہی عمل ہے۔
لیکن خود حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے فتح الباری کے مقدمہ میں امام احمد کے قول ”منکر الحدیث“ کو تضعیف کے معنی میں نہیں لیا، بلکہ تفرد و غرابت کے معنی میں لیا ہے، چنانچہ ابن حجررحمہ اللہ یزید بن خصیفہ سے متعلق متعدد ائمہ فن کی توثیق نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
«وروى أبو عبيد الآجري عن أبي داود عن أحمد أنه قال منكر الحديث قلت هذه اللفظة يطلقها أحمد على من يغرب على أقرانه بالحديث عرف ذلك بالاستقراء من حاله وقد احتج بابن خصيفة مالك والأئمة كلهم»
”ابوعبیدالآجری نے ابو داود کے واسطے نقل کیا ہے کہ امام احمد نے اسے ”منکر الحدیث” کہاہے ۔ میں (ابن حجر) کہتاہوں کہ : امام احمد رحمہ اللہ یہ الفاظ اس راوی پر بولتے ہیں جو اپنے ساتھیوں میں تنہا ہی کوئی حدیث روایت کرتے ہیں، یہ بات امام احمد کی حالت کے استقراء کے بعد معلوم ہوئی ہے اور ابن خصیفہ سے امام مالک اور تمام ائمہ نے احتجاج کیا ہے۔“ [مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 453]
اوریہ بات معروف ہے کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتابوں میں فتح الباری کو سب سے مستند کتاب قرار دیا ہے۔ ان کے شاگرد امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
« رأيته في موضع أثنى على شرح البخاري و التغليق و النُّخبة ، ئم قال: وأمَّا سائر المجموعات، فهي كثيرةُ العدد، واهية العُدَد، ضعيفةُ القُوى، ظامئة الرُّوى »
”میں نے ایک مقام پر دیکھا کہ ابن حجررحمہ اللہ نے اپنی کتب ”فتح الباری ”، ” تغلیق التعلیق ” اور ”نخبة الفکر” کی خوبیاں بیان کیں پھر کہا: رہی (میری) بقیہ کتابیں تووہ تعداد میں زیادہ ہیں ، کمزور مواد پرمشتمل ہیں ، ان میں مضبوطی نہیں ہے اور وہ علمی پیاس بجھانے سے قاصر ہیں“ [الجواهر والدرر في ترجمة شيخ الإسلام ابن حجر (2/ 659)]
لہٰذ لسان المیزان کے مقابلے میں شرح بخاری میں مذکور ان کی بات ہی ان کا اصل موقف ہے۔لہٰذا علی الاطلاق محدثین تو دور کی بات صرف ابن حجررحمہ اللہ کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اس راوی کو ”مختلف فیہ“قرار دیتے ہیں۔
اور لطف یہ ہے کہ اس راوی کو مختلف فیہ کہنے کے لئے جو اصل دلیل امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے، وہ ابو عبید الآجری سے منقول ہے اور زبیر علی زئی صاحب اسے مجہول گردانتے ہیں اور اس کے نقل پر اعتماد نہیں کرتے ۔
واضح رہے کہ ہماری نظر میں یزید بن خصیفہ یقینا متکلم فیہ ہے اور عبدالوہاب ثقفی بھی متکلم فیہ، دونوں کے متکلم فیہ ہونے کے الگ الگ دلائل موجود ہیں ۔
تیسرا اعتراض
ندیم ظہیر صاحب لکھتے ہیں:
”نثل النبال۔۔۔۔۔۔سے ہم نے حوالہ نقل کیا اورمن وعن اسی طرح نقل کیا جس طرح مذکورہ کتاب میں موجود ہے، ایک حرف بھی آگے پیچھے نہیں کیااوریہ بھی نہیں کیا کہ لکھا کسی اور کتاب سے،حوالہ کسی اور کتاب کادے دیا،پھریہ تحریف کس طرح بن گئی؟“ [ الحدیث (١٤٠) ص١٢]
اس بے بسی پر واقعی مجھے ترس آرہاہے!
حضرت !آپ نے جو تحریف کی تھی، وہ اصل میں تحریف لفظی نہیں تھی، بلکہ تحریف معنوی تھی، جو تدلیس کے لبادے میں مخفی تھی، اس لیے الفاظ من وعن نقل کرنے کا رونا مت رویئے۔
آپ نے شیخ ابو اسحاق الحوینی کے جملے کا ذکر ابن حجررحمہ اللہ کے قول کے فورا بعد کرکے یہ ظاہر کیا تھا کہ ابواسحاق الحوینی نے بھی بالکل وہی بات کہی ہے جو ابن حجر رحمہ اللہ نے کہی ہے ۔جب کہ حقیقت میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جس کی تفصیل سابقہ تحریر (ندیم ظہیر صاحب کی دوسری تحریر کاجواب :ص١١ تا ١٣ )میں پیش کی جا چکی ہے جس کے جواب سے آپ کی بے بسی عیاں ہے۔
اورتف ہے کہ آپ نے انتہائی بے شرمی کے ساتھ یہ بھی لکھ ڈالا:
”مذکورہ کتاب محدث ابواسحاق الحوینی کے تلمیذالشیخ ابوعمرواحمدبن عطیہ الوکیل حفظہ اللہ نے مرتب کی ہے،اگربقول سنابلی صاحب یہ تحریف ہے تواس تحریف کے مرتکب الشیخ ابو عمرو احمد ہوئے ہیں، والعیاذباللہ۔“ [الحدیث (١٤٠) ص١٣]
شیخ ابوعمرحفظہ اللہ نے تو اپنے استاذ کی بات کو پورے سیاق کے ساتھ جوں کا توں نقل کیا ہے، ان پر تحریف کا الزام کس نے لگایا ہے؟ یہ کارستانی تو آپ نے کی ہے کہ ایک طویل کلام سے صرف ایک جملے کو اٹھا یا اور اسے لے جاکر ابن حجررحمہ اللہ کے قول کے بعد ایسے پیش کیا کہ اس کا بھی وہی مطلب ظاہر ہو جو ابن حجررحمہ اللہ کے قول کا ہے ۔ اس لئے یہ مذموم حرکت صرف آپ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔
چوتھااعتراض
ندیم ظہیرصاحب لکھتے ہیں:
”اگرآنجناب لکھتے کہ سوید متروک، شدید ضعیف راوی کی روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے تو ضعیف+ضعیف والے بھی اسے لائقِ التفات نہ جانتے البتہ متکلم فیہ سے گذارا ہوسکتا تھا۔“ [الحدیث (١٤٠) ص١٤]
عرض ہے کہ ”متروک ، شدید ضعیف“ یہ آپ کی ترجیح ہے اور جو آپ کی ترجیح ہے ضروری تو نہیں ہے کہ ہمارابھی اس پرایمان ہو !
آپ کے استاذ ممدوح کی ہر تحقیق و ترجیح پرہم آنکھ بند کرکے اعتماد نہیں کرتے توآپ کی کیا حیثیت ہے !
اس میں کوئی شک نہیں بعض ائمہ نے انہیں متروک وسخت ضعیف مانا ہے، لیکن بعض ائمہ نے انہیں صرف ضعیف مانا ہے اور بعض نے اسے قابل اعتبار بتلایا ہے، حتی کہ بعض نے تو اس کی توثیق بھی کی ہے۔
◈ سوید بن عبدالعزیر کے معاصر و ہم وطن ،امام عبد الرحمن بن ابراہیم، دحیم رحمہ اللہ (المتوفی٢٤٥) فرماتے ہیں:
« ثقة ، وکانت له أحادیث یغلط فيها»
”یہ ثقہ ہیں ، ان کے پاس کچھ احادیث تھیں جن میں یہ غلطی کرتے تھے۔“ [ تہذیب الکمال للمزی:١٢ /٢٦٠ نقلا عن عثمان بن سعید]
نوٹ:- یہ قول عثمان بن سعید نے نقل کیا ہے اور اس طرح کے اقوال کو زبیرعلی زئی صاحب حجت سمجھتے تھے دیکھئے: [یزید بن معاویہ ۔۔۔ص ٧١٤ نیز ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کا جائزہ (حصہ دوم)ص: ١٣]
◈ اس کے علاوہ متشددین میں سے کئی ایک ائمہ ہیں جنہوں نے ان کو متروک یا سخت ضعیف نہیں بلکہ صرف ضعیف کہا ہے ۔مثلا ابوحاتم ، امام نسائی اورامام ابن حبان وغیرہ ، اورمتشددین کاکسی راوی پر سخت جرح نہ کرنا اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایسا راوی سخت ضعیف نہیں ہے۔
◈ بلکہ امام ابن حبان رحمہ اللہ(المتوفی٣٥٤) جیسے متشدد جارح نے ان پرسخت جرح کرنے کے بعد اس سے رجوع کرلیا اور انہیں ثقہ سے قریب قرار دیا، ان کے الفاظ ہیں:
« وهو ممن أستخير الله عز وجل فيه لأنه يقرب من الثقات»
”یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ سے استخارہ کر رہا ہوں، کیونکہ یہ ثقات سے قریب ہیں۔“ [المجروحين لابن حبان، تزايد: 1/ 351]
مزید دیکھے: غایة التحقیق ص٧٥ ۔ ازعلامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ۔
◈ نیز امام دارقطنی(المتوفی٣٨٥) جیسے ناقد نے کہا:
« وسوید بن عبد العزیز الواسطی سکن الشام یعتبربه »
”اورسوید بن عبدالعزیز واسطی شام میں سکونت پذیرتھے، ان کے ذریعے اعتبار کیا جائے۔“ [سؤالات البرقانی للدارقطنی ت القشقری:ص٣٥]
◈ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی کتاب ”تقریب التھذیب“ کے بارے میں زبیر علی زئی صاحب نے لکھا:
”تقریب کاحوالہ بطور اختصاراوربطور خلاصہ اور اعدل الاقوال دیا جاتا ہے“ [مجلہ ”الحدیث“ شمارہ(١)ص١١]
عرض ہے کہ اسی کتاب میں حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اس راوی کو سخت ضعیف نہیں کہا، بلکہ صرف ضعیف لکھا ہے۔ دیکھیں :[ تقریب ٢٦٩٢]
علامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ نے مفصل بحث کرتے ہوئے یہی تحقیق پیش کی ہے کہ یہ راوی متروک یا سخت ضعیف نہیں، بلکہ صرف ضعیف ہے۔ دیکھئے:غایة التحقیق ص٧٢ تا ٧٩۔ازعلامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ۔
ایامِ قربانی والا رسالہ لکھتے وقت علامہ محمدرئیس ندوی رحمہ اللہ کی یہ تحقیق پیش نظر تھی، اس وقت بھی ہماری نظر میں انہیں کی تحقیق راجح قرارپائی تھی، اسی لئے ہم نے اس کتاب میں جہاں صراحتاً اسے ضعیف لکھا ہے، وہاں اسے سخت ضعیف نہیں بتلایا۔
ندیم ظہیر صاحب کے استاذممدوح زبیرعلی زئی صاحب نے اس راوی کو کہیں متروک یا سخت ضعیف لکھا ہو، یہ تو ہماری نظر سے نہیں گزرا، البتہ بعض مقامات پر ہم نے یہی دیکھا ہے کہ موصوف نے اس راوی کو متروک یا سخت ضعیف نہیں بلکہ صرف ضعیف لکھا ہے، مثلاً:
➊ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
”اسنادہ ضعیف ،سوید بن عبدالعزیز ضعیف (تقریب ٢٦٩٢)“ [سنن ترمذی (انگریزی نسخہ) رقم ١٣٦٠]
➋ نیز ایک دوسرے مقام پر لکھا:
”اسنادہ ضعیف من أجل سوید بن عبدالعزیز وھو ضعیف“ [سنن ترمذی ابن ماجہ (مترجم) رقم ٤١١٥]
➌ ایک تیسرے مقام پر لکھا:
”اس کی سند ضعیف ہے ۔اسے ابن خزیمہ (٤٩٨)نے سویدبن عبدالعزیزسے روایت کیا ہے۔سوید مذکور جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے“ [ مقالات ج٢ص٦٤]
➍ ایک چوتھے مقام پر لکھا:
”اس کی سند ضعیف ہے اس میں وجہ ضعف چار ہیں ۔١: سوید بن عبدالعزیزبن نمیرالسلمی الدمشقی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے“ [اضواء المصابیح : ص٣١٧]
ملاحظہ فرمائیں چار وجہ ضعف ہیں جن میں سے ایک سوید بن عبدالعزیز ہے، پھربھی سند صرف ضعیف ہی ہے۔
➎ ایک پانچوں مقام پر امام بخاری رحمہ اللہ نے سوید کو ”فی حدیثہ نظر ، لایحتمل ” لکھا، اس پر حاشیہ لگاکر اپنا فیصلہ درج کرتے ہوئے زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
« ضعیف » (یہ راوی ضعیف ہے) [تحفة الأقویاء: ص٥٣]
حالانکہ اسی صفحے پر سوید سے قبل والے راوی کو موصوف نے ”متروک” اور سوید کے بعد والے راوی کو ”ضعیف جدا“ لکھا ہے۔
ان حوالوں کی روشنی میں ظن غالب ہے کہ زبیرعلی زئی صاحب نے بھی شاید اسے صرف ”ضعیف“ ہی مانا ہے، واللہ اعلم۔
بہرحال ہماری نظر میں راجح یہی ہے کہ یہ راوی متروک وسخت ضعیف نہیں بلکہ صرف ضعیف ہے۔لہٰذا ندیم ظہیر صاحب اپنی ترجیح کو بنیاد بنا کر فریق مخالف کوجواب دینے کاحق نہیں رکھتے۔ اورجب ہم نے اس راوی کو ضعیف مانا ہے تو ضعیف راوی کے بیان کو بطور دلیل نہیں بلکہ بطور تائید ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بالخصوص جبکہ خاص اس راوی کے بارے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ کا قول ”یعتبر بہ“ گزر چکا ہے۔
نیز زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
”اس مسئلے میں میری تحقیق یہی ہے کہ صرف صحیح اور حسن حدیث سے ہی استدلال کرنا چاہیے، یہ علاحدہ بات ہے کہ کسی صحیح محتمل الوجہین روایت کا مفہوم معمولی ضعیف (جسکا ضعیف شدید نہ ہو) سے متعین کیا جاسکتا ہے۔“ [مجلہ ”الحدیث“ (شمارہ: ٧، ص: ١٠)]
ایک اور مقام پر کسی اور کا قول برضا و رغبت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”فیض الباری کے حاشیہ پر لکھا ہوا ہے کہ «لابأس بضعف الرواية فإناتكفي لتعيين أحد المحتملات » یعنی ضعیف حدیث سے دو محتمل معنوں میں سے ایک معنی کا تعین کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ [ نور العینین : ص٢٦٧]
الغرض یہ کہ ہماری نظر میں جب یہ روایت صرف ضعیف ہے تو سند کے ایک مفہوم کی وضاحت میں بطور دلیل نہیں بلکہ بطورتائید اسے ذکر نے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ندیم ظہیر صاحب نے آگے لکھا:
”پہلے ابن جریج کی روایت میں محل نظر زیادت کی تائید میں سوید(متروک)کی روایت پیش کی ، بعدازاں جب سوید پر اعتراض ہواتوسوید کی تائید (متابعت) ابن جریج سے کرا دی، یہ محض غرض وغایت نہیں تو اور کیا ہے“ [الحدیث (١٤٠) ص١٤]
پہلی بات تو یہ کہ ہماری نظر میں سوید متروک نہیں بلکہ صرف ضعیف ہے۔
دوسری بات یہ کہ سوید کی روایت کو اس سے قبل مذکور روایت کے متن (جس کو ندیم ظہیر صاحب محل نظر زیادت کہہ رہے ہیں ) کی تائید میں نہیں بلکہ اس متن کی جو سند ہے، اس کی اصل کیفیت واضح کرنے کے بعد اس واضح کردہ اورثابت شدہ کیفیت کی تائید مزید میں پیش کیا گیا ہے، کیونکہ اس سند میں صراحتاً وہی بات موجود تھی جسے پہلے واضح کیا گیاتھا۔ بالفاظ دیگر سوید کی روایت والی سند کو ماقبل میں کیفیت ِسند کی ایک بحث میں ”بطور دلیل“ نہیں بلکہ ”بطورتائید“ پیش کیا گیا ہے۔ پہلی بحث میں وضاحت سے سند کی ایک کیفیت ثابت کی گئی، پھر اس ثابت شدہ نتیجے کی تائید میں ایک ضعیف روایت کی سند پیش کی گئی جو اس بارے میں بالکل صریح تھی۔ یعنی اس ضعیف روایت کی سند کو ماقبل میں مذکور کیفیت ِسند کی بحث میں ”مرکزی دلیل“ کے طور پر نہیں، بلکہ پہلے سے ثابت شدہ بات کی ”تائید مزید“ کے طور پر پیش کیا گیا۔
پھرجب سوید کی یہ روایت مجموعی بحث سے صحیح قرار پائی تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ایام قربانی سے متعلق سلیمان بن موسی کی روایت کو ان کے شاگرد ابن جریج نے بھی روایت کیا ہے۔ پھر سلیمان بن موسی سے ان کے دوسرے شاگرد امام التنوخی کی روایت بھی ثابت ہوگئی جو سوید کی وجہ سے ضعیف ہو رہی تھی۔ کیونکہ جب امام التنوخی کاصحیح متابع مل گیا تو اس کے نیچے سوید کا ضعیف ہونا بے اثر ہوگیا۔
المختصر یہ کہ سوید کی روایت کو ماقبل کی روایت کی صحت کے لئے مرکزی دلیل کے طور پر نہیں پیش کیا گیا، کیونکہ وہ تو پہلے سے ہی صحیح تھی، البتہ ماقبل کی روایت چونکہ ثابت شدہ تھی، اس لئے اسے سوید کی روایت کی تصحیح کے لئے بطور متابع پیش کیا گیا ۔
ندیم ظہیر صاحب کا واویلا تب صحیح ہوتا جب ماقبل کی روایت ضعیف ہوتی اور اس کی تصحیح کے لئے ہم نے مابعد کی روایت ہی کومرکزی دلیل بنایا ہوتا جو ضعیف تھی، لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔
اس لئے جب ہم نے سوید کو متکلم فیہ بتاکر اس کی حدیث کو یہ صراحت کرتے ہوئے صحیح قراردیا :
”سنن دارقطنی وغیرہ میں سلیمان بن موسیٰ سے سوید کی روایت صحیح ہے، اگرچہ وہ متکلم فیہ ہیں، کیونکہ بیہقی کی زیربحث روایت میں ابن جریج جیسے بلندپایہ ثقہ امام نے بھی سلیمان سے یہ بات موصولاً بیان کی ہے۔ والحمدللہ.
اسی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ محمدرئیس ندوی رحمہ اللہ آگے فرماتے ہیں:
”جس کا واضح مفاد یہ ہے کہ نافع بن جبیر سے حدیث مذکور کو سلیمان سے نقل کرنے میں امام سعید بن عبدالعزیز کی متابعت ابن جریج نے کررکھی ہے۔“ (غایة التحقیق فی تضحیة ایام التشریق:ص:٨٦)“ [چاردن قربانی کی مشروعیت ص١٧)]
تو اس سے یہ قطعا ظاہر نہیں ہوتا کہ ہم نے سوید کو ثقہ ظاہرکرنے کے لئے اسے متکلم فیہ لکھا ہے، اگرایسا ہوتا تو آگے ہمیں فورا کیونکہ کہہ کر سوید کی روایت کے لئے متابعت پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔
یہ ندیم ظہیر صاحب کے اس جواب کی حقیقت تھی جو موصوف نے اپنے مجلے میں کسی سائل کو پٹی پڑھانے کے تحریر کیا ہے۔ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ یہ سائلین کتنے سادہ لوح ہیں کہ ندیم ظہیر صاحب انہیں احمق سمجھ کر کچھ بھی تحریر فرما دیتے ہیں اوریہ بے چارے اسے جواب سمجھ لیتے ہیں۔اللہ ہم سب کو حق بات کہنے اور حق بات قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین.
وکتبہ
ابوالفوزان کفایت اللہ سنابلی
ممبئی
9/7/2017م