راہ حق کے تقاضے

راہ حق کے تقاضے

(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)

① نیت

عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى المِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ» [صحيح البخاري 1]

② علم

«طلب العلم فريضة على كل مسلم» . [صحيح الجامع للألباني 3913]

➊ دینی اور دنیاوی علم میں فرق نہ کرنا

الف: دینی علم فرض عین ہے ، جبکہ دنیاوی علم زیادہ سے زیادہ فرض کفایہ ہے
ب: دینی علم کے حصول کے بعد اس پر عمل ضروری ہے جبکہ دنیاوی علم کے حصول کے بعد اس پر عمل ضروری نہیں ہے
ج: دینی علم نفلی عبادت سے بہتر ہے جبکہ دنیاوی علم نفلی عبادت سے بہتر نہیں ہے۔
تین لوگ سب سے پہلے جہنم میں اس میں ”عالم“ سے مراد ؟

➋ حصول علم میں ترتیب کتب احادیث والی ہونی چاہئے ، اخوانی جیساکہ نہیں امور سیاست سے شروعات ہو۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى اليَمَنِ، فَقَالَ: «ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ»[صحيح البخاري 1395]
بلکہ بعض امور میں طلب علم درست ہی نہیں جیسے مشاجرات صحابہ ۔

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(بیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR20.00 for it.

Leave a Reply