سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی صحیح اور محفوظ روایت ہے :
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ "
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کندھوں کے برابر دونوں ہاتھ اٹھاتے، جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے اور جس وقت رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے تھے اور سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد کہتے، اورسجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔“
[صحيح البخاري 735]
دیگر صحابہ کرام سے بھی سجدوں میں رفع الیدین کی نفی صحیح احادیث میں موجود ہے :
امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ , ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ , نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ , نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ حِطَّانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , قَالَ: هَلْ أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ , ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ لِلرُّكُوعِ , ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ , ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَاصْنَعُوا وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں، آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا : اور رفع الیدین کیا، پھر اللہ اکبر کہا : اور رکوع کے لیے رفع الیدین کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا : اور رفع الیدین کیا، پھر فرمایا، تم ایسا ہی کیا کرو ! آپ دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 2/ 47]
سجدوں میں رفع الیدین پر مستدل روایات
① أبو جعفر طحاوي رحمه الله (المتوفى321) نے کہا:
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ خَفْضٍ، وَرَفْعٍ، وَرُكُوعٍ، وَسُجُودٍ وَقِيَامٍ، وَقُعُودٍ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " وَكَانَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ رِوَايَةِ نَافِعٍ شَاذًّا لِمَا رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ نَافِعٍ بِخِلَافِ مَا رَوَاهُ عَنْهُ عُبَيْدُ اللهِ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ (نماز میں) ہر جھکنے (خفض)، ہر اٹھنے (رفع)، رکوع میں، سجدہ میں، کھڑے ہونے (قیام) میں، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے (قعود بین السجدتین) میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے، اور وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
[شرح مشكل الآثار، ت الأرنؤوط: 15/ 46 رقم 5831]
یہ روایت شاذ ہے اس سے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
