امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275) نے کہا:
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: ” أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً “، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ [سنن أبي داود 1/ 199 رقم 748]
امام ابوداؤد نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد اس غیر صحیح قراردیا ہے۔
عصر حاضر میں بعض دیوبندی مقلدین نے امام ابوداؤد کی طرف اس قول کی نسبت کا انکار کیا ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ بعض نسخوں میں یہ مذکور نہیں ہے ۔
عرض ہے کہ:
عصر حاضر کے دیو بندیوں سے قبل پوری دنیا میں کسی نے بھی امام ابوداؤد کی طرف اس کی نسبت کا انکار نہیں کیا ہے ۔
بلکہ متعدد اہل علم نے مذکورہ حدیث ابن مسعود کی تضعیف میں امام ابوداؤد کا یہ قول نقل کیا اور ان کے نقل میں پوری دنیا میں آج تک کسی نے بھی گرفت کرتے ہوئے یہ دعوی نہیں کیا کہ امام ابوداؤد سے یہ قول ثابت ہی نہیں ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ سنن ابی داؤد کے جن نسخوں میں یہ الفاظ ہیں وہ نسخے ان اہل علم کی نظر میں قابل اعتماد ہیں اور ان کے ثبوت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔
اب ذیل میں ہم چند اہل علم کے نام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی اپنی کتب میں امام ابوداؤد رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔
اور آخر میں ہم سنن ابی داؤد کے بعض مخطوطات یعنی قلمی نسخوں کا اسکین پیش کریں گے جن میں امام ابوداؤد رحمہ اللہ کا یہ قول موجود ہے۔
ملاحظہ ہو:
The remaining article is locked
Become a 3 Yearly member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے تین سالہ ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سوروپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
