(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)
✿ تمہید ( اسلام مالی نظام ، زکاۃ ، وراثت ، تجارت، ہبہ ، قرض ، سود وغیرہ)
① دینی اعتبار سے
● حکم الہی کی پامالی ، بلا عذر تقسیم میں تاخیر جائز نہیں
● مالی معاملات (مصارف زکاۃ ، حقوق وارثین ، قرض ، سود) کی تفصیلات قرآن میں تاکہ بر وقت اور درست عمل ہو۔
● الإرث التقدیری. حمل، خنثی مشکل، مفقود کے مسائل کتب میراث میں تاکہ تقسیم ترکہ میں تاخیر نہ ہو۔
● وفات کے قریب وارثین کا دل نرم اور مائل بتقوی ہوتا ہے اس وقت انصاف آسان اور ظلم کے امکانات کم ہوتے ہیں بنسبت تاخیر کے
② تجہیز وتکفین میں
ترکہ میں پہلا حق میت کی تجہیز وتکفین کا خرچ ہے مگر تقسیم میں تاخیر کے سبب یہ خرچ غیر ترکہ سے ہوتاہے۔مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا کفن کم پڑ گیا ان کے پاؤں کی طرف اذخر گھاس ڈال دی گئی مگر کسی اور نے کفن خرید کر نہیں دیا ، کیونکہ یہ میت کی تکریم کے خلاف ہے۔ کیونکہ دوسروں کا دیا ہوا لینا یہ خودداری اور سخاوت نفس کے خلاف ہے ، حدیث ملاحظہ ہو:
عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى، أَوْ ذَهَبَ، لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلاَهُ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ»[صحيح البخاري 4082]
أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ: ” قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ، بَدَتْ رِجْلاَهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلاَهُ بَدَا رَأْسُهُ [صحيح البخاري 1275]
③ تعلیمی و تبلیغی
بروقت میراث تقسیم ہو تو درست طریقہ تقسیم سے پورا خاندان واقف ہوتا ہے اس لئے یہ مسائل بھی اگلی نسل کو معلوم ہوتے ہیں اور نتیجہ میں اگلی نسل اسی خاندانی روایت پر عمل کرتی ہے۔ بصورت دیگر اگلی نسل بھی لاعلم رہتی ہے اور خاندانی غلطی دہراتی ہے۔
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمِ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»،[صحيح مسلم 1017]
④ خاندانی
قطع رحمی اور رشتہ داروں کے حقوق کی پامالی
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ» [سنن أبي داود 4902]
⑤ عدالتی
بروقت تقسیم پر تمام ثبوت وگواہ موجود ہوتے ہیں بعد میں ایسا نہیں ہوتا جس کے سبب پیچیدہ تنازعات جنم لیتے ہیں ۔
● عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، بِقَوْلِهِ: فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلاَ يَأْخُذْهَا “[صحيح البخاري 2680]
● عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دُرِسَتْ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ، أَوْ قَدْ قَالَ: لِحُجَّتِهِ، مِنْ بَعْضٍ، فَإِنِّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ “. فَبَكَى الرَّجُلَانِ، وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي لِأَخِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِذْ قُلْتُمَا، فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا، ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ» [مسند أحمد مخرجا 26717]
● بعض جذباتی باتیں کرتے ہیں کہ تقسیم سے مشترکہ گھر ٹوٹ جائیں گے اور رشتہ دار آنسو بہائیں گے ۔ حالانکہ بروقت صرف آنسو بہیں گے لیکن تقسیم وراثت میں تاخیر ہوئی تو بعد میں خون بہے گا۔
⑥ معاشی
● تمام وارثین کا اپنے مال سے فائدہ نہ اٹھا پانا
● بہتر طریقے سے انویسٹ نہ کرپانا
● وارثین میں کسبی نشاط کا فقدان
⑦ شرعی احکام کی تنفیذ
● جب تک حصہ نہیں ملتا وارث زکاۃ نہیں نکال سکتا
● عام عطیات بھی نہیں دے سکتا جیسے اسماء رضی اللہ عنہا نے ہبہ کیاتھا۔
«وَقَالَتْ أَسْمَاءُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَابْنِ أَبِي عَتِيقٍ: وَرِثْتُ عَنْ أُخْتِي عَائِشَةَ بِالْغَابَةِ، وَقَدْ أَعْطَانِي بِهِ مُعَاوِيَةُ مِائَةَ أَلْفٍ، فَهُوَ لَكُمَا»[صحيح البخاري 2/ 919]
اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے وارثین :
⋆ اسماء -اخت ش (سگی بہن)
⋆ ام کلثوم -اخت ش (سگی بہن)
⋆ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر -ابن الاخ الشقیق {سگابھتیجا = عبدالرحمن بن ابی بکر کے بیٹے}
محجوبین :
ایک ”باپ شریک بھتیجا“ اور ایک ”سگے بھتیجے کا بیٹا“ ۔
1-قاسم بن محمد بن ابی بکر- ابن الاخ لاب {باپ شریک بھتیجا = محمد بن ابی بکر کے بیٹے}
حاجب سگا بھتیجا بحیثیت اقوی
2-عبداللہ بن أبي عتيق محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر – ابن ابن الاخ الشقیق {سگے بھتیجے کا بیٹا = عبدالرحمن بن ابی بکر کے پوتے}
⑧ رفاہی
بعض تنظیمیں بیوہ اور مطلقہ خواتین کی مدد زکاۃ و خیرات کے مال سے کرتی ہیں ۔ حالانکہ اگر ان کا حق وراثت دلا دیا جائے تو شاید ان میں سے کئی ایک کو زکاۃ وخیرات کی ضرورت نہیں ۔
صحابی رسول عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
”لقد شهدت في دار ابن جدعان حلفا، لو دعيت إليه في الإسلام لأجبت، تحالفوا أن ترد الفضول على أهلها، وألا يعز ظالم، مظلوما“
”میں نے ابن جدعان کے گھر میں ہونے والے معاہدہ امن(حلف الفضول)میں شرکت کی تھی،اورآج اسلام آنے کے بعد بھی اگر مجھےکسی ایسے معاہدہ کی طرف بلایاجائے تو میں اس میں شرکت کے لئے تیارہوں، ابن جدعان کے گھر میں اس بات پر عہد ہوا تھا کہ جس شخص کا بھی کوئی حق غصب کیا گیا اسے وہ حق دلایا جائے گا اور کسی بھی ظالم کو کسی مظلوم پر ظلم ڈھانے نہیں دیاجائے گا“ [الدلائل فی غریب الحدیث رقم265،وإسنادہ صحیح]
ایک دوسری روایت میں اللہ کے نبی ﷺ نے اس عہد پرڈتے رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
”فما أحب أن لي حمر النعم، وأني أنكثه“ ، ”مجھے یہ قطعا گوارہ نہیں کہ میں اس معاہدہ کو توڑدوں خواہ اس کے بدلے مجھے سرخ اونٹوں سے مال مال کردیا جائے“ [مسند أحمد ط الرسالة:1 /190رقم1655 وإسنادہ صحیح]
⑨ حفظ وامانت
● تقسیم میں تاخیر کے سبب بعض جائداد چوری ہوجاتی یا غصب کرلی جاتی ہے ، اور اشتراک کے سبب سب بے توجہی برتتے ہیں۔
● کبھی کوئی ایک ہی انوسٹ کرتا ہے فائدہ ہوتا تو پورا نفع خود لیتا ہے اور نقصان کی صورت میں سب کو نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے
● کچھ جائداد سے بعض وارثین کرایہ وغیرہ لیکر فائدہ اٹھاتے اور دوسرے محروم رہتے ہیں ۔
⑩ اخروی اعتبار سے
● میت کے قرض کی ادائیگی میں تاخیر میت کی حق تلفی
⋆ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میت کے قرض کی جلد ادائیگی پر خصوصی توجہ دیتے تھے ۔
⋆ عمر رضی اللہ عنہ نے بوقت شہادت کہا:
يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، انْظُرْ مَا عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ، فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سِتَّةً وَثَمَانِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ: إِنْ وَفَى لَهُ، مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَإِلَّا فَسَلْ فِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَإِنْ لَمْ تَفِ أَمْوَالُهُمْ فَسَلْ فِي قُرَيْشٍ، وَلاَ تَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ، فَأَدِّ عَنِّي هَذَا المَالَ…[صحيح البخاري 3700]
⋆ جنتی صحابی زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے وقت کہا تھا:
وَإِنِّي لاَ أُرَانِي إِلَّا سَأُقْتَلُ اليَوْمَ مَظْلُومًا، وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ هَمِّي لَدَيْنِي، أَفَتُرَى يُبْقِي دَيْنُنَا مِنْ مَالِنَا شَيْئًا؟ فَقَالَ: يَا بُنَيِّ بِعْ مَالَنَا، فَاقْضِ دَيْنِي..[صحيح البخاري 3129]
⋆ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ تاخیر کے لئے اجازت دی مگر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے تاخیر نہ کی:
فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُ مِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لاَ، قَالَ: فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لاَ... [صحيح البخاري 3700]
⋆ معلوم قرض ادا کرنے کے بعد بھی چار سال ابن زبیر رضی اللہ عنہ موسم حج میں اعلان کرتے رہے:
فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ، قَالَ بَنُو الزُّبَيْرِ: اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا، قَالَ: لاَ، وَاللَّهِ لاَ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ: أَلاَ مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَلْنَقْضِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ كُلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ، فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ….. [صحيح البخاري 3700]
● وراثت کی تقسیم میں تاخیر کرنا بھی حدود اللہ سے تجاوز ہے۔
﴿ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (13) وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ﴾ [النساء: 13، 14]
(ترتیب: کفایت اللہ سنابلی)
