استاذ الاساتذہ فضیلۃ نور الحسن مدنی حفظہ اللہ
سابق استاذ حدیث جامعیہ اسلامیہ سنابل
استاد کلیہ الحدیث ، بنگلور
استاد محترم فضلیۃ الشیخ نور الحسن مدنی حفظہ اللہ ایک معروف عالم دین اور ماہر حدیث ہیں ماضی میں ہندوستان کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ اسلامیہ سنابل میں استاد کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں انہوں نے دینی تعلیم اور طلبہ کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ فی الحال وہ کلیہ الحدیث بنگور میں استاذ ہیں، جہاں وہ حدیث اور فقہی مسائل کی تدریس کر رہے ہیں۔
ان کی خدمات کا ایک اہم حصہ فتاویٰ، تحقیقی مباحث اور عوامی مسائل پر احادیث کی روشنی میں وضاحت دینا ہے۔ وہ مختلف پلیٹ فارمز پر لیکچرز اور بیانات دیتے ہیں ،ان کا انداز بیان سادہ، مدلل اور احادیث پر مبنی ہوتا ہے، جو سامعین کو مسائل کی گہرائی تک پہنچاتا ہے۔
اس ویڈیو میں شیخ صاحب نے صدقۃ الفطر (زکوٰۃ الفطر) کے حکم، مقدار اور ادائیگی کے طریقہ پر بہت عمدہ اور تحقیقی انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے احادیث سے ثابت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے پانچ مخصوص اشیاء (کھجور، جو، گندم، پنیر ، کشمش) کا ذکر فرمایا ہے، اور انہی کو سنت کے مطابق ادا کرنا افضل ہے۔۔
شیخ صاحب نے جدید دور میں رقم (قیمت) دینے کے جواز پر تفصیل سے بحث کی۔ انہوں نے تابعیین کے دور، حضرت عمر بن عبد العزیز اور حسن بصری جیسے ائمہ کے اقوال سے دلائل دیے کہ قیمت ادا کرنا جائز ہے، بلکہ بعض حالات میں زیادہ بہتر بھی، کیونکہ غریبوں کی اصل ضرورت پوری ہوتی ہے اور بے فائدہ اشیاء ضائع نہیں ہوتیں۔
وہ ان اعتراضات کا بھی جواب دیتے ہیں جو بعض مکاتب فکر سے آتے ہیں (جیسے صرف کھانے کی چیز دینا ضروری ہے وغیرہ)، اور واضح کرتے ہیں کہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے جو قیامت تک کھلا رہے گا۔ انہوں نے عوامی غلطیوں جیسے عوامی طور پر فکس وزن (مثلاً 2.5 کلو گندم) کا اعلان کرنے یا چاول وغیرہ کو سنت قرار دینے کی بھی تردید کی اور تاکید کی کہ مقدار “صاع” (حجم) سے ہے، نہ کہ وزن سے۔
