نعمتِ امن اور آفتِ خوف و جنگ

You are currently viewing نعمتِ امن اور آفتِ خوف و جنگ

نعمتِ امن اور آفتِ خوف و جنگ

① امن وامان کی اہمیت

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الخَطْمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا» [سنن الترمذي 2346 والحديث صحيح]
امن و امان معاشرے کی بنیاد ہے، اس کے بغیر نہ جان محفوظ رہتی ہے، نہ عزت، نہ مال، اور نہ ہی دینی و دنیاوی معاملات درست طور پر انجام پاتے ہیں۔جب امن قائم ہوتا ہے تو عبادات، تعلیم، تجارت اور روزمرہ زندگی سکون اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔اسی لیے امن کا قیام ہر معاشرے کی اولین ضرورت ہے، کیونکہ اس کے بغیر ترقی، خوشحالی اور استحکام ممکن نہیں۔

② خوف وجنگ کی تبارہ کاریاں

عن عَبْد اللَّهِ بْن أَبِي أَوْفَى مرفوعا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ العَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ العَافِيَةَ» [صحيح البخاري 7237]
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جنگ کوئی پسندیدہ چیز نہیں اور حتی الامکان اس سے بچنا چاہئے ۔
دراصل خوف اور جنگ کی حالت میں انسان کی زندگی سے سکون اور اطمینان ختم ہو جاتا ہے، نہ روزمرہ معمولات قائم رہتے ہیں اور نہ ہی خوشحال زندگی ممکن ہوتی ہے۔
ایسے حالات میں تعلیم، معیشت اور ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جہالت، غربت اور پسماندگی بڑھنے لگتی ہے۔

③ زمانہ جاہلیت اور حلف الفضول

صحابی رسول عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
”لقد شهدت في دار ابن جدعان حلفا، لو دعيت إليه في الإسلام لأجبت، تحالفوا أن ترد الفضول على أهلها، وألا يعز ظالم، مظلوما“
”میں نے ابن جدعان کے گھر میں ہونے والے معاہدہ امن(حلف الفضول)میں شرکت کی تھی،اورآج اسلام آنے کے بعد بھی اگر مجھےکسی ایسے معاہدہ کی طرف بلایاجائے تو میں اس میں شرکت کے لئے تیارہوں، ابن جدعان کے گھر میں اس بات پر عہد ہوا تھا کہ جس شخص کا بھی کوئی حق غصب کیا گیا اسے وہ حق دلایا جائے گا اور کسی بھی ظالم کو کسی مظلوم پر ظلم ڈھانے نہیں دیاجائے گا“ [الدلائل فی غریب الحدیث رقم265،وإسنادہ صحیح]

④ اسلام اور امن وسلامتی کا پیغام

﴿مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾ [المائدة: 32]
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»[صحيح البخاري 2766]
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ – رضي الله عنه – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ – صلى الله عليه وسلم -: أَيُّمَا رَجُلٍ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ ثُمَّ قَتَلَهُ , فَأَنَا مِنْ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ , وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا [صحيح ابن حبان رقم5982]
عن فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَِجَّةِ الْوَدَاعِ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ؟ ‌مَنْ ‌أَمِنَهُ ‌النَّاسُ ‌عَلَى ‌أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» [مسند أحمدرقم 23958 وإسناده صحيح]
امن وشانتی کایہ وہ پیغام ہے جسے آپ ﷺنے مسلمانوں کو اپنے آخری خطاب میں اوراسی عیدکے دن دیاتھا، اورہرقوم کاپیشوا اپنی وصیت اوراپنے آخری پیغام میں وہی کچھ کہتاہے جواس کی پوری زندگی کاماحصل ہوتاہے یقینا آپ ﷺکی زندگی میں قدم قدم پرامن وشانتی اورالفت ومحبت کی تعلیم ملتی ہے۔

⑤ امن واستقلال کے لیے نبوی فیصلے

● نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کی اولاد ونسل کی بھی فکر کی
.. ”فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ ذَلِكَ فِيمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمْ الْأَخْشَبَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا“ [بخاری :کتاب بدء الخلق :باب ذکرالملائکة رقم3231عن عائشة رضی اللہ عنہا]۔
● نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کی جانوں کی فکر میں ان کی ضد پوری نہ کی
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا وَنُؤْمِنُ بِكَ. قَالَ : وَتَفْعَلُونَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ. قَالَ : فَدَعَا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لَكَ : إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا، فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ. قَالَ : بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ .[ مسند أحمد2166 إسناده صحيح على شرط مسلم.]

⑥ قیام امن کے لیے پانچ مؤثر اسلامی اصول

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(چالیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR40.00 for it.