اسلام میں خودداری اور بے نیازی کی فضیلت

You are currently viewing اسلام میں خودداری اور بے نیازی کی فضیلت

اسلام میں خودداری اور بے نیازی کی فضیلت

(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)

● تمہید

اللہ کے نبی ﷺ نے پیدائش سے لیکر وفات تک کسی طرح کے صدقات وخیرات کو ہاتھ نہیں لگایا نہ کبھی کسی کے سامنے دست سوال دراز کیا۔
{ أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى (6) وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى (7) وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَى } [الضحى: 6 - 8]

اب آئیے اصل موضوع پر بات کرتے ہیں اس موضوع کے تحت دس نکات پر گفتگو ہوگی

① تجارت

حلال تجارت رزق حاصل کرنے کے ذرائع میں سے سب سے بہترین ذریعہ ہے ، انصار کے سب سے مالدار صحابی سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اپنی آدھی دولت دینی چاہئی لیکن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اسے لینے انکار کردیا اور تجارت کے لئے بازار کا راستہ دریافت کرتے ہوئے کہا:
« هَلْ مِنْ سُوقٍ فِيهِ تِجَارَةٌ؟» ، ”کیا یہاں کوئی بازار ہے جہاں تجارت کی جاسکے“ [صحيح البخاري 2048]
اس پر مزید گفتگو آگے ہوگی، ایک اور حدیث ہے:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ»
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا“ ۔[سنن الترمذي ت شاكر 1209 تراجع الالباني عن تضعيفه وحسنه اخيرا]

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(بیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR20.00 for it.

Leave a Reply