دعائے شب قدر «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» کی تحقیق
(تحریر : کفایت اللہ سنابلی)
✿ ✿ ✿
یہ حدیث مرفوعا اور موقوفا دونوں طرح مروی ہے ۔ہم سب سے پہلے مرفوع حدیث پر بات کریں گے اور اخیر میں موقوف روایت پربحث ہوگی ۔
اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے معاصر اہل علم وباحثین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا“ سے ”عبداللہ بن بریدہ“ کے سماع کا انکار کیا ہے ۔ پھر طرفین کی بحث اس نکتے پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کا یہ فیصلہ درست اور معتبر ہے یا اسے غیر مقبول اور غیر معتبر سمجھا جائے۔
لیکن اس بحث میں ہم قارئین کے سامنے اس حقیقت سے پردہ اٹھائیں گے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کا اصلاً ایسا کوئی موقف موجود ہی نہیں کہ ”عبداللہ بن بریدہ“ کا ”ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا“ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ درحقیقت، امام دارقطنی رحمہ اللہ کے اصل کلام اور ان کی کتابوں کی تمام متعلقہ عبارات کو براہ راست سامنے رکھنے کے بجائے، بعض متاخرین نے ثانوی مراجع پر زیادہ اعتبار کرلیا ، جس کی وجہ سے یہ غلط فہمی پھیل گئی۔ اس غلط فہمی سے متاثر ہو کر معاصر کئی باحثین بھی اسی نتیجے پر پہنچ گئے۔ورنہ متقدمین میں سے کوئی ایک بھی ناقد ومحدث اس موقف کا حامل نہیں ملے گا۔
اور متاخرین کی بات کریں تو رجال کی سب سے بڑی کتاب ”تہذیب الکمال“ کی اصل ”الکمال“ میں امام عبدالغنی المقدسی نے یہ صراحت کر رکھی ہے کہ عبداللہ بن بریدہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے۔اس مسئلہ پر حوالوں کے ساتھ تفصیلی بحث قارئین آگے پڑھیں گے۔
اب آئیے ہم سب سے پہلے مرفوع حدیث اور اس کے طرق کو دیکھتے ہیں۔
مرفو ع حدیث کو اماں عائشہ سے نقل کرنے والے ”عبداللہ بن بریدہ“ ہیں ۔ اور پھر ان سے اس حدیث کو ان کے تین شاگردوں سے روایت کیا ہے۔
تفصیل ملاحظہ ہو:
پہلے شاگرد : ابومسعود الجریری
روایت
الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ لَوَ عَلِمْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا كُنْتُ أَدْعُو بِهِ؟ قَالَ: «تَقُولِينَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»
”جریری نے عبداللہ بن بریدہ سے انہوں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر معلوم ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہو: ”اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“ (اے اللہ! بیشک تو معاف کرنے والا ہے، تو معافی کو پسند کرتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما دے۔)“
تخريج
أخرجه أحمد في ”مسنده“ (25505) عن علي بن عاصم ۔
وأخرجه المروزي في ”قيام الليل“ (ص259) واللفظ له من طريق خالد بن عبدالله الواسطي۔
وأخرجه النسائي في ”السنن الكبري“ (10645) من طريق عبدالرحمن بن مرزوق۔
وأخرجه النسائي في ”السنن الكبري“ (10646) من طريق مخلد بن يزيد۔و ابن راهويه في ”مسنده“ (1362) من طريق العنقزي۔وابن منده في ”التوحيد“ (300) من طريق نعمان بن عبدالسلام۔والقضاعي في ”مسند الشهاب“ (1475) من طريق علي بن قادم ۔وقوام السنه في ”الترغيب“ ( 1799) من طريق الفريابي ۔و إسحاق الأزرق كما في ”العلل“ (15/ 88) للدارقطني كلهم (مخلد والعنقزي ونعمان والفريابي و إسحاق الأزرق) من طريق سفيان الثوري ۔
وخالفهم الأشجعي فرواه عن الثوري عن علقمة بن مرثد عن ابن بريدة عن عائشة به ، أخرجه أحمد في ”مسنده“ (26215)۔ قال الدارقطني فی ”العلل“ (15/ 88) : ”وقول الأزرق أصح“ ۔
جميعهم (علي بن عاصم وخالد بن عبدالله وعبدالرحمن بن مرزوق والثوري ) عن الجريري به۔
وخالفھم عبد الحميد بن واصل فرواہ عن الجريري، عن أبي عثمان النهدي، قال: قالت عائشة فذکر نحوہ ، أخرجه الطبراني في ”الدعاء“ (915) ، قال الدارقطني في ”العلل“ 5/ 132: ”وهم فيه... والصحيح عن الجريري عن ابن بريدة“
وخالفھم جمیعا يزيد بن هارون فرواه -فيما أخرجه أحمد في ”مسنده“ (25495)- عن الجريري من هذا الطريق فأوقفه على عائشة ، وهو وهم منه بلا ريب لمخالفته رواية الجماعة۔
دوسرے شاگرد : کہمس بن حسن
روایت
«كَهْمَسِ بْنِ الحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ القَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: قُولِي: ”اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“ »
”کہمس بن حسن نے عبداللہ بن بریدہ سے انہوں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ آپ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: : اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو « ”اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“ » (اے اللہ! بیشک تو معاف کرنے والا ہے، تو معافی کو پسند کرتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما دے۔) ۔“
تخریج
أخرجه الترمزي (3513) واللفظ له والنسائي في ”السنن الكبري“ (10642) من طريق جعفر بن سليمان الضبعي۔
وأخرجه النسائي في ”السنن الكبري“ ( 7665) و (11624) و (10643 )من طريق خالد بن الحارث۔
وأخرجه ابن ماجه (3850 ) من طريق وكيع بن الجراح
وأخرجه ابن راهويه في ”مسنده“ (1361) من طريق النظر بن شميل
كلهم (جعفر بن سليمان و خالد بن الحارث و وكيع بن الجراح و النظر بن شميل) عن كهمس به
وخالفهم علي بن غراب فيما ذكره الدارقطني في ”العلل“ ( 15/ 89) فرواه عن كهمس، عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، عن عائشة، فزاد في الإسناد والد عبد الله بن بريدة ۔ قال الدارقطني ووهم في قوله عن ”أبيه“ . قلت : ولا يوجد رواية علي بن غراب مسندا۔
وخالفهم غندر فيما أخرجه أحمد (25384 ) ويزيد بن هارون فيما أخرجه أحمد( 25497 ) والمعتمر فيما أخرجه النسائي في ”الكبري“ (10644) فقالوا عن كهمس عن ابن بريدة قالت عائشة ... هكذا مرسلا، ولذلك قال النسائي بعد رواية المعتمر: ”مرسل“ ۔ والصواب رفعه كما رواه الجماعة و رواية الجريري المتقدمة في أول هذا التخريج تؤيدهم.
وخالفهم جميعا يزيد بن هارون فرواه موقوفا علي عائشه ۔ أخرجه ابن أبي شيبة في مصنفه رقم (31150) وهو خطأ بلارب لمخالفته للجماعة ۔ نعم ! الرواية الموقوفة ثابتة من طرق أخري كما سياتي البحث في موضعه ۔
ایک غلط فہمی کاازالہ
”کہمس بن حسن“ کے چار شاگردوں (جعفر بن سليمان ، خالد بن الحارث، وكيع بن الجراح اور النظر بن شميل) نے بالاتفاق اس حدیث کو ”عن عائشة“ کہہ کربیان کیا یعنی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ لیکن بعض راویوں نے ”أن عائشة“ کہہ کر یعنی اس حدیث کو مرسلا بیان کیا ہے ۔
مذکورہ تخریج میں واضح کیا گیا ہے کہ مرسلا بیان کرنے والے راویوں سے غلطی ہوئی ہے اور درست سند وہی ہے جس میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے بیان کیا ہے کیونکہ اکثر راویوں کا یہی بیان ہے۔
مرسل روایات میں ایک روایت کو جب امام نسائی نے نقل کیا تو آخر میں واضح کردیا کہ یہ بیان مرسل ہے چنانچہ امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا:
«أخبرنا محمد بن عبد الأعلى، قال: حدثنا المعتمر، قال: سمعت كهمسا، عن ابن بريدة ”أن عائشة قالت: يا نبي الله“ . مرسل.» [سنن النسائي الكبرى، ط التأصيل: 12/ 457 رقم 10820]
یہاں امام نسائی رحمہ اللہ نے روایت کی کیفیت کو بتلایا ہے کہ یہ روایت مرسل بیان کی گئی ہے ۔
مگر امام نسائی رحمہ اللہ نے یہاں نہ تو مرسل روایت کو اس سلسلے کی دیگر مسند روایات پر ترجیح دی ہے اور نہ ہی یہ دعوی کیا ہے کہ ابن بریدہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سرے سے سنا ہی نہیں ۔
لیکن سخت حیرت کی بات ہے کہ عصر حاضر كے بعض لوگوں نے امام نسائی رحمہ اللہ کی اس وضاحت کی بناپر امام نسائی کی طرف یہ منسوب کردیا کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن بریدہ کے سماع کے قائل نہیں ۔
ہم کہتے ہیں یہ بات سراسر غلط ہے اور عصر حاضر کے بعض لوگوں سے قبل پوری دنیا میں کسی نے بھی امام نسائی کے اس قول کا یہ مطلب نہیں سمجھا ہے۔
بلکہ امام نسائی کے اس کلام میں سماع کے انکار کا وجود تو درکنار وہ راوی کے اس مرسل بیان کو بھی ترجیح نہیں دے رہے ہیں بلکہ انہوں نے اس سلسلے کی اکثر روایات مسند ہی ذکر کی ہیں۔
تیسرے شاگرد : ابوہلال راسبی
ابو بكر الشافعي البزَّاز ( المتوفی 354) نے کہا:
«حدثنا أبو محمد الحارث بن محمد بن أبي أسامة التميمي، ثنا أبو عبد الرحمن الأسود بن عامر ولقبه شاذان، ثنا أبو هلال يعني الراسبي، عن عبد الله بن بريدة قال: قالت أم المؤمنين: - قال أبو هلال أحسبه، قال عائشة - يا رسول الله إن وافقت ليلة القدر بما أدعو؟، قال: قولي: ”اللهم إني أسألك العفو والعافية“ »
”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے لیلۃ القدر (شب قدر) مل جائے تو میں کیا دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ » (اے اللہ! میں تجھ سے معافی اور عافیت مانگتی ہوں۔)“ [الفوائد الشهير بالغيلانيات لأبي بكر الشافعي (رقم 610) وأخرجه الطبراني في الأوسط (رقم 2500) فقال: حدثنا أبو مسلم قال: نا أبو عمر الضرير قال: نا أبو هلال الراسبي به نحوه مختصرا ، وأبو هلال الراسبي ضعيف كما فصلت الكلام عليه في كتابي ”تحفة الزاهد في تكرار الجماعة في المسجد الواحد“ ]
یہ روایت ابوہلال راسبی کے ضعیف ہونے کے سبب مردو وغیر مقبول ہے لیکن ما قبل میں مذکور ”ابومسعود الجریری“ اور ”کہمس بن حسن“ کی روایات صحیح ہیں ۔
خلاصہ تخریج
اس حدیث کی تمام اسانید وطرق کو مفصل دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اس کا مرفوع طریق ہی درست و محفوظ ہے اور عبداللہ بن بریدہ سے ”ابومسعود الجریری“ اور ”کھمس بن حسن“ کی روایات بالاتفاق ثابت وصحیح ہیں ۔
لیکن اس کے اوپر کا طریق جو تمام سندوں کا اصل مدار ہے وہ یہ ہے :
{عن عبد الله بن بريدة عن عائشة مرفوعا}
اور اس کے متصل اور منقطع ہونے میں اختلاف ہے۔
اتصال وانقطاع پر بحث
ہم سب سے پہلے قائلین انقطاع کے تمام دلائل کا جائزہ لیں گے اس کے بعد اتصال کے ثبوت میں متعدد دلائل پیش کریں گے ۔ ہماری یہ بحث درج ذیل حصوں پر مشتمل ہوگی :
● امام دارقطنی کے کلام پر بحث
● واسطہ والی روایات پر بحث
● معاصرت وامکانِ سماع پر بحث
● اتصال وسماع کے دلائل کا ذکر
اب ہر ایک کی تفصیل ملاحظہ ہو:
امام دارقطنی کے کلام پر بحث
اس سے پہلے کہ ہم امام دارقطنی کے کلام پر بحث کریں مناسب معلوم ہوتا کہ ارسال سے متعلق ایک اہم نکتہ کی وضاحت کردی جائے جس سے غفلت کی بنیاد پر بہت ساری غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں ۔
ارسال کا ایک مطلب یہ ہے کہ راوی ایسے دور کا واقعہ بیان کرے جس دور میں وہ پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔ مثلا تابعی عہد رسالت کے واقعات کو بیان کرے ۔
اسی طرح ارسال کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ راوی کا ایسے شخص کی کوئی بات نقل کرنا جس سے اس کی سرے سے ملاقات و سماع ممکن ہی نہیں ہے ، جیسے کوئی راوی ایسے شخص کی بات نقل کرے جس کی زندگی میں وہ پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔ مثلا کوئی تابعی ایسے صحابی کی بات نقل کرے جس کی وفات اس تابعی کی پیدائش سے پہلے ہی ہوچکی ہے۔
لیکن غور کیجئے کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا ایک تابعی بلاواسطہ عہد رسالت میں کسی ایسے صحابی کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکالمہ بیان کرے ، جس صحابی سے اس تابعی کی ملاقات وسماع ثابت ہو ؟یعنی تابعی کے دور تک وہ صحابی زندہ رہے ہوں جس بناپر بعد میں وہ تابعی اپنے دور میں اس صحابی سے ملاقات کرلئے ہوں اور سماع بھی کرلیاہو۔کیا ایسا ممکن نہیں ہے ؟؟؟
میرے خیال سے ہر عقل مند اور صاحب علم شخص کا جواب ہوگا کہ بالکل ایسا ممکن ہے ۔
ہر ارسال مطلقا عدم سماع کو مستلزم نہیں ۔
ماقبل میں ارسال کی جو آخری صورت بیان کی گئی ہے ، اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ ہر ارسال مطلقا عدم سماع کو مستلزم نہیں ہوتا ۔
مطلب یہ کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک تابعی بلاواسطہ عہد رسالت کا ایک واقعہ بیان کرے جس میں ایک صحابی اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین مکالمہ ہوا ہو ۔ اور اس صحابی سے اس تابعی کی اپنے دور میں دوسرے مواقع پر ملاقات بھی ثابت ہو ۔
ایسی صورت میں یہاں تابعی کی روایت مرسل تو ہوگی کیونکہ وہ بلاواسطہ جس مکالمہ کو بیان کررہا ہے اس وقت وہ موجود تھا ہی نہیں ، لیکن اس کے اس روایت کے مرسل ہونے سے یہ قطعا لازم نہیں آئے گا کہ اس تابعی کی اس صحابی سے علی الاطلاق ملاقات وسماع ہی کا انکار کردیا جائے ۔کیونکہ دوسرے مواقع پر ان دونوں کی ملاقات وسماع ثابت ہے ۔
”مرسل“ کا ”مرسل عنہ“ سے سماع کی ایک مثال
اب آئیے کتب حدیث سے مرسل حدیث کی ایک مثال سامنے رکھ کردیکھتے ہیں تاکہ بات اور واضح ہوجائے ، چونکہ آگے امام دار قطنی رحمہ اللہ کے جس کلام پر ہم بحث کریں گے وہ ایسی مرسل حدیث پر ہے جس میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے ۔ اس لئے ہم یہاں مثال میں بھی ایسی ہی ایک مرسل حدیث لیتے ہیں جس میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کا ذکر ہے ، ملاحظہ ہو:
امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275) نے کہا:
«حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا الأسود بن شيبان، حدثنا أبو نوفل يعني ابن أبي عقرب، قال: قالت عائشة: يا رسول الله أين عبد الله بن جدعان، قال: «في النار» ، قال: فاشتد عليها، قال: «يا عائشة، ما الذي اشتد عليك» ، فقالت: كان يطعم الطعام ويصل الرحم، قال: أما إنه يهون عليه بما تقولين »
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ بن جدعان کہاں ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وہ جہنم میں ہے۔» یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہت گراں گزری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اے عائشہ! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم پر یہ بات اتنی گراں گزری؟» انہوں نے عرض کیا: «وہ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا اور صلہ رحمی کرتا تھ ۔» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بے شک، جو کچھ تم کہہ رہی ہو، اس کی وجہ سے اس پر (عذاب) ہلکا کر دیا جائے گا ۔»“ [المراسيل لأبي داود ص: 143 ]
اس روایت کی سند ”نوفل بن ابی عقرب“ تک صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے ۔ لیکن آگے مرسل ہے کیونکہ ”نوفل بن ابی عقرب“ نے بلاواسطہ یعنی ”عن عائشہ“ کے بجائے ”قالت عائشہ“ کہہ کر اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایسی بات نقل کی جو عہد رسالت میں کہی گی ہے ، اور ”نوفل بن ابی عقرب“ تابعی ہیں یعنی عہد رسالت میں موجود نہیں تھے اس لئے یہ روایت مرسل ہے ۔ جیساکہ امام ابوداؤد نے کہا ہے نیز امام ابن رجب رحمہ اللہ نے بھی اسی سبب اس روایت کر ”مرسل“ کہا ہے دیکھیں:[ تفسير ابن رجب الحنبلي 2/ 535]
دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”نوفل بن ابی عقرب“ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس روایت کا کوئی بھی حصہ نہیں سنا ہے۔ بلکہ اس حدیث کو مرسل کہنے والے محدثین کا یہی مقصود ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوگا کہ ”نوفل بن ابی عقرب“ کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے علی الاطلاق سماع ثابت ہی نہیں ہے ۔
یہی وجہ ہے دیگر مقامات پر ”نوفل بن ابی عقرب“ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے یعنی ”عن عائشہ“ کہہ کر جو روایات بیان کرتے ہیں محدثین ان کو صحیح قرار دیتے ہیں اور وہاں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کے سماع کا انکار نہیں کرتے ۔ مثلا دیکھیں (سنن أبي داود 2/ 77 رقم الحدیث 1482) یہ حدیث بالاتفاق صحیح ہے۔
امام دارقطنی کی پہلی عبارت
امام دارقطنی کا جو کلام ہے وہ بھی بالکل اسی نوعیت کا ہے ، چنانچہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ پر مشتمل ایک مرسل حدیث ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے :
((ایک لڑکی نے اماں ا عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے اللہ کے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ اس کے باپ نے اس کی شادی اپنے بھتیجے سے کر دی تاکہ اس کی ذلت یا کمتری کو اس کے ذریعے دور کرے ۔نبی ﷺ نے معاملہ اسی لڑکی کو اختیار دے دیا کہ چاہے تو قبول کرے یا رد کرے ۔اس لڑکی نے کہا: مجھے باپ کا فیصلہ منظور ہے، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو معلوم ہو جائے کہ کیا ان کا اپنے معاملے میں کوئی اختیار ہے یا نہیں۔ ))
اس حدیث کو ”عبداللہ بن بریدہ“ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے یعنی ”عن عائشة“ کہہ کر نہیں بلکہ بلا واسطہ یعنی ”جاءت فتاة إلى عائشة“ کہہ کر مرسلا روایت کیا ہے ۔جیساکہ ان کے درج ذیل شاگردوں نے بالاتفاق ان سے مرسل ہی کی شکل میں نقل کیا ہے۔
➊ عبد الله بن إدريس ( ابن أبي شيبة 9/ 176 )
➋ يزيد بن هارون (العلل للدارقطني 15/ 89 )
➌ عون بن كهمس ( سنن الدارقطني 4/ 335 )
➍ نضر بن شمیل (إسحاق بن راهويه 3/ 748)
➎ عبدالوھاب بن عطاء (الصغري للبيهقي (3/ 27 )
اول الذکر تین کی روایت کا حوالہ امام دارقطنی نے ”علل“ میں دیا ہے کما سیاتی ، جبکہ سنن میں صرف ”عون بن کھمس“ کی روایت پیش کی ہے ۔
مذکورہ شاگردوں کے برخلاف درج ذیل شاگردوں نے اس حدیث متصل بناکر روایت کردیا :
➊ جعفر بن سليمان ( سنن الدارقطني: 3/ 233 )
➋ علي بن غراب (سنن النسائي 6/ 86 )
➌ وكيع بن الجراح (مسند أحمد 41/ 492 )
ظاہر ہے کہ ان تینوں کا اس مرسل حدیث کو متصل بناکر پیش کرنا غلط ہے ۔
اسی غلطی کو بتانے کے لئے امام دارقطنی نے ان تینوں کی متصل بیان کردہ روایت کو اپنی سنن میں پیش کیا اور اسی ضمن میں ”عون بن كهمس“ کی مرسل روایت بھی پیش کی۔ یاد رہے کہ عون اس روایت کے مرکزی راوی کھمس کے بیٹے ہیں اور انہوں اس حدیث کو مرسل ہی روایت کیا ہے ۔ ۔
اب امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385) کی روایات اور آخر میں ان کا کلام ملاحظہ ہو:
● نا أبو عمر القاضي محمد بن يوسف , نا محمد بن الحجاج الضبي , نا وكيع , عن كهمس بن الحسن , عن عبد الله بن بريدة , عن عائشة, قالت: جاءت فتاة إلى النبي صلى الله عليه وسلم , فقالت: يا رسول الله إن أبي - ونعم الأب هو - زوجني ابن أخيه ليرفع من خسيسته , قال: «فجعل الأمر إليها». فقالت: إني قد أجزت ما صنع أبي ولكن أردت أن تعلم النساء أن ليس إلى الأباء من الأمر شيء
● نا أحمد بن الحسين بن الجنيد , نا زياد بن أيوب , نا علي بن غراب , نا كهمس بن الحسن , حدثني أبي , عن عبد الله بن بريدة , عن عائشة , أن فتاة دخلت عليها ح.
● ونا أبو عمر القاضي , نا الفضل بن موسى , نا عون يعني ابن كهمس , نا أبي , عن عبد الله بن بريدة , قال: جاءت فتاة إلى عائشة , فقالت: إن أبي زوجني ابن أخيه ليرفع من خسيسته وإني كرهت ذلك , قالت: اقعدي حتى يجيء رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذكري ذلك له , فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فأرسل إلى أبيها فجاء أبوها , «وجعل الأمر إليها». فلما رأت أن الأمر جعل إليها , قالت: إني قد أجزت ما صنع أبي إني إنما أردت أن أعلم هل للنساء من الأمر شيء أم لا؟ قال ابن الجنيد: فقالت: يا رسول الله قد أجزت ما صنع أبي ولكني أردت أن أعلم للنساء من الأمر شيء أم لا
● نا محمد بن مخلد , نا الرمادي , نا أبو ظفر عبد السلام بن مطهر , عن جعفر بن سليمان , عن كهمس , عن عبد الله بن بريدة , عن عائشة , قالت: جاءت امرأة تريد رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم تلقه فجلست تنتظره حتى جاء , فقلت: يا رسول الله إن لهذه المرأة إليك حاجة , قال لها: «وما حاجتك؟» , قالت: إن أبي زوجني ابن أخ له ليرفع خسيسته بي ولم يستأمرني فهل لي في نفسي أمر؟ , قال: «نعم» , قالت: ما كنت لأرد على أبي شيئا صنعه ولكني أحببت أن تعلم النساء ألهن في أنفسهن أمر أم لا؟
هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا [ سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: ج 4 ص 334تا336]
.
ملاحظہ فرمائیں امام دارقطنی کے اس کلام کا مقصود یہ ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ پر مشتمل مذکورہ حدیث مرسل ہے اور اسے ”عبداللہ بن بریدہ“ نے مرسلا ہی روایت کیا ہے ۔
یعنی اماں عائشہ رض اللہ عنہا کے اس واقعہ کا کوئی بھی حصہ ”عبداللہ بن بریدہ“ نے اماں عائشہ سے نہیں سنا ہے۔ ، لیکن ان کے نچلے طبقات کے بعض رواۃ نے غلطی کرتے ہوئے ”عن عائشہ“ کہ کر بیان کردیا ۔ یعنی مرسل کو متصل بنادیا ۔
امام دارقطنی نے رواۃ کی اس غلطی پر گرفت کرتے ہوئے اور حدیث کی اصل پوزیشن مرسل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
«هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا»
”اس حدیث کے یہ تمام طرق مرسل ہیں ، ابن بریدہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ نہیں سنا ہے“ [سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 4/ 335]
یعنی امام دارقطی رحمہ اللہ نے اپنے اس کلام سے پہلے اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ والی جس مرسل حدیث کے مختلف طرق پیش کئے ہیں خاص انہیں سے متعلق امام دارقطنی کا یہ کلام ہے کہ ان میں سے کسی بھی طریق میں ابن بریدہ کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہ سے کچھ بھی سماع ثابت نہیں ہے ۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس حدیث کے علاوہ دوسری کسی حدیث میں بھی ابن بریدہ کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے ۔
امام دارقطنی کی دوسری عبارت
امام دارقطنی رحمہ اللہ کی ”علل“ والی عبارت ”سنن“ والی عبارت کی بنسبت زیادہ واضح ہے بلکہ ”سنن“ میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے مرسل والا صرف ایک ہی طریق پیش کیا لیکن ”علل“ میں مرسل کے تین طرق کا حوالہ دے کراسے راجح قرار دیا ۔ اور تعبیر ایسی استعمال کی جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ارسال یعنی عدم سماع کا معاملہ اسی حدیث کی روایت کے ساتھ خاص ہے نہ کہ علی الاطلاق عدم سماع کا حکم لگانا مقصود ہے۔
چنانچہ علل میں امام دارقطنی کا کلام یہ ہے:
« وسئل عن حديث عبد الله بن بريدة، عن عائشة قالت امرأة: يا رسول الله إن أبي زوجني من ابن أخيه ليرفع خسيسته ولم يستأمرني، فهل في نفسي من أمر؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم قالت: ما كنت أرد على أبي شيئا صنعه، ولكني أحببت أن يعلم النساء ألهن في أنفسهن أمر أم لا؟.
فقال: يرويه كهمس بن الحسن، واختلف عنه؛
فرواه جعفر بن سليمان الضبعي، وعلي بن غراب، ووكيع، عن كهمس، عن ابن بريدة، عن عائشة.
وخالفهم عبد الله بن إدريس، ويزيد بن هارون، وعون بن كهمس، رووه عن كهمس، عن ابن بريدة؛ أن فتاة أتت عائشة، فقالت: إن أبي زوجني، ولم يستأمرني، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم، فذكرت ذلك له … ، فيكون مرسلا في رواية هؤلاء الثلاثة، وهو أشبه بالصواب.»
”امام داقطنی رحمہ اللہ سے عبد اللہ بن بریدہ کے حوالے سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کے بارے میں پوچھا گیا جس میں ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! میرے باپ نے مجھے اپنے بھائی کے بیٹے سے شادی کر دی تاکہ وہ میرے ذریعے اپنی کمتری یا ذلت کو دور کرے ، اور اس نے مجھ سے مشورہ نہیں کیا، تو کیا میرے معاملے میں میرا کوئی اختیار ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“ ۔ پھر اس عورت نے کہا: میں تو اپنے باپ کے فیصلہ کو رد نہیں کرتی، لیکن میں چاہتی تھی کہ عورتیں جان لیں کہ کیا ان کے اپنے معاملے میں کوئی اختیار ہے یا نہیں۔
امام دارقطنی نے جواب دیا :
یہ حدیث ”کہمس بن الحسن“ روایت کرتے ہیں، اوران سے روایت کرنے امیں ان کے شاگردوں میں اختلاف ہوا ہے۔
تو ”جعفر بن سلیمان الضبعی“ ، ”علی بن غراب“ ، اور ”وکیع“ نے کہمس سے، «عن ابن بريدة، عن عائشة » . کہہ کر روایت کیا (یعنی اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے متصل بناکر)۔
لیکن ”عبد اللہ بن ادریس“ ، ”یزید بن ہارون“ ، اور ”عون بن کہمس“ نے کہمس سے، انہوں نے عبد اللہ بن بریدہ سے اس طرح روایت کیا کہ: « ایک لڑکی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور کہا: میرے باپ نے مجھے شادی کر دی اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا، پھر نبی ﷺ آئے تو اس نے ان سے ذکر کیا...» تو ان تینوں کی روایت کے اعتبار سے یہ روایت مرسل ہے اور اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ درست ہے۔“
[العلل للدارقطني، ت محفوظ السلفي: 15/ 89]
امام دارقطنی رحمہ اللہ کی اس دوسری عبارت سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ نے ”سنن“ میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے عبداللہ بن بریدہ کے اصل سماع کا انکار نہیں کیا بلکہ حدیث تخییر جو مرسلا مروی ہے جس میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک واقعہ کا ذکر ہے خاص اس حدیث اور اس کے طرق سے متعلق امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں عبداللہ بن بریدہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ نہیں سنا ہے۔
یہی امام دارقطنی رحمہ اللہ کے کلام کا درست مفہوم ہے۔
اس کی زبردست تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ سے زیر تحقیق روایت یعنی دعائے شب قدر سے متعلق بھی سوال ہوا ۔ اوردعائے شب قدر والی حدیث کو عبداللہ بن بریدہ ہی روایت کررہا ہے وہ بھی مرسلا نہیں بلکہ اماں عائشہ رضی اللہ کے واسطے سے۔
تو اس کے جواب میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے دونوں مشہور طرق ”جریری“ اور ”کھمس“ کے شاگردوں کا اختلاف ذکرکیا اور دونوں جگہ ”عبدالله بن بريدة عن عائشة“ کے طریق ہی کو درست قرادیا ۔ لیکن یہاں ارسال کا حکم نہیں لگایا نہ عدم سماع کی بات کی ۔ دیکھیں: [العلل للدارقطني ج 15 ص 88 تا 89]
ماقبل میں ”جریری“ اور ”کہمس“ کی روایات کی تخریج کے ضمن میں امام دارقطی رحمہ اللہ کی ترجیحات پیش کی جاچکی ہیں ۔
امام دارقطنی کی تعلیل میں امام نسائی کی موافقت
امام دارقطني رحمہ اللہ(المتوفى385) نے اپنی ”سنن“ میں جس حدیثِ تخییر پر ارسال کا حکم لگایاہے اس میں وہ منفرد بھی نہیں ہیں، بلکہ ٹھیک یہی حکم امام نسائی رحمہ اللہ(المتوفى303) نے بھی لگایا ہے ۔
چنانچہ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«أخبرني زياد بن أيوب، دلويه، قال: حدثنا علي بن غراب، قال: حدثنا كهمس بن الحسن، قال: حدثني عبد الله بن بريدة، عن عائشة، أن فتاة دخلت عليها، فقالت: إن أبي زوجني ابن أخيه ليرفع بي خسيسته، وأنا كارهة، قالت: اجلسي حتى يأتي النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأخبرته، فأرسل إلى أبيها فدعاه، فجعل الأمر إليها، فقالت: يا رسول الله، قد أجزت ما صنع أبي، ولكني أردت أن أعلم أللنساء من الأمر شيء؟.قال أبو عبد الرحمن: هذا الحديث يرسلونه»
”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک لڑکی آپ کے پاس آئی اور کہا: میرے والد نے اپنے بھتیجے سے میری شادی کر دی ہے تاکہ میرے ذریعے اپنی پست حیثیتی کو بلند کر سکے، اور میں اسے ناپسند کرتی ہوں ۔
اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو یہ بات بتائی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کو بلایا اور معاملہ اس لڑکی کے اختیار میں کر دیا۔ تو اس لڑکی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے والد کے کیے ہوئے کام کو جائز قرار دے دیا ، لیکن میں چاہتی تھی کہ یہ معلوم ہو جائے کہ کیا عورتوں کو بھی اس معاملے میں کوئی حق ہے؟ ابو عبد الرحمن (یعنی امام نسائی) نے کہا: اس حدیث کو دوسرے رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں ۔“
[سنن النسائي الكبرى، ط التأصيل: 7/ 422رقم 5580]
ملاحظہ فرمائیں کہ نسائی کی یہ روایت ”علي بن غراب“ کے طریق سے ہے اور اس طریق کی روایت کو امام دارقطنی اپنی ”سنن“ اور ”علل“ دونوں میں مرسل قرار دے چکے ہیں ۔ کمامضی ۔
یہاں پر یہی بات امام نسائی رحمہ اللہ بھی ارشاد فرمارہے ہیں اور امام نسائی رحمہ اللہ کے اس کلام کی بنیاد پرکسی نے نہیں کہا کہ امام نسائی رحمہ اللہ ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا“ سے ”عبد الله بن بريدة“ کے سماع کے منکر ہیں ۔
تو یہی مقصود امام دارقطنی رحمہ اللہ کے کلام کا بھی ہے اور امام دارقطنی کی ”سنن“ میں عدم سماع سے مراد فقط اس مرسل حدیث کے طرق میں عدم سماع ہے نہ کی علی الاطلاق جیساکہ امام دارقطنی ہی کی دوسری کتاب ”علل“ سے ان کا موقف واضح ہے کما مضی ۔
امام بیہقی کے یہاں امام دارقطنی کے کلام کاحوالہ
متاخرین جب یہ قول ذکر کرتے ہیں تو عام طور سے امام دارقطنی اور امام بیہقی دونوں کے حوالے سے ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ کے نقل کے بعد ہی یہ قول زیادہ مشہور ہوا ہے۔
بلکہ بعض تو صرف امام بیہقی ہی کے حوالے سے یہ قول ذکر کرتے ہیں دیکھیں:[نصب الراية 3/ 192 ، تنقيح التحقيق - ابن عبد الهادي 4/ 307 ]
امام بیہقی رحمہ اللہ(المتوفى458) نے ایک جگہ لکھا ہے:
«هذا مرسل؛ ابن بريدة لم يسمع من عائشة - رضي الله عنها أخبرني بذلك أبو عبد الرحمن السلمي، أنا علي بن عمر الحافظ - رحمه الله - فذكره »
”یہ مرسل ہے، ابن بریدہ نے عائشہ سے نہیں سنا، مجھے یہ بات حافظ علی بن عمر دارقطنی رحمہ اللہ کے حوالے سے ابوعبدالرحمن السلمی نے بتائی ہے“ [الخلافيات بين الإمامين 6/ 56]
ظاہر ہے اگر کوئی صرف اسی نقل پر اکتفاء کرے گا تو اسے یہی لگے گا کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہاں علی الاطلاق سماع کا انکار کیا ہے کیونکہ یہاں نہ تو امام دارقطنی کے کلام کا پورا سیاق موجود ہے اور نہ ہی اس بابت امام دارقطنی رحمہ اللہ کی دیگرتصریحات پیش نظر ہیں ۔ نیز امام بیہقی کو یہ قول بتانے والا ابوعبدالرحمن السلمی ہے جو متکلم فیہ ہے بلکہ بعض نے اس پر شدید جرح کی ہے ۔معلوم نہیں اس نے کس انداز میں امام دارقطنی کا قول نقل کیا کیونکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کی اپنی کتابوں میں یہ بات الگ انداز میں ہے جس میں مطلقا سماع کا انکار نہیں ہے ۔
بہر حال ہماری معلومات کی حدتک امام بیہقی رحمہ اللہ سے قبل کسی بھی محدث نے امام دارقطنی رحمہ اللہ کے کلام سے یہ مطلب نہیں لیا ہے کہ انہوں نے یہاں مطلقا سماع کا انکارکیا ہے ۔
اور امام بیہقی رحمہ اللہ کے اس نقل کے بعد ہی امام دارقطنی رحمہ اللہ کی طرف اس قول کی نسبت اور اس کے حوالے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس لئے امام بیہقی رحمہ اللہ کے بعد کا کوئی بھی حوالہ اس بابت معتبر نہیں ہے ۔
بالخصوص جبکہ آج امام دارقطنی رحمہ اللہ کی ”سنن“ اور ”علل“ کے حوالے براہ راست اور مکمل سیاق وسباق کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہیں اور وہاں ایسا کوئی موقف نظر نہیں آتا ۔
بلکہ ممکن ہے کہ خود امام بیہقی رحمہ اللہ بھی خاص حدیث تخییر کی سند میں عدم سماع کے قائل ہوں نہ کہ علی الاطلاق ہر روایت میں ۔ کیونکہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے دعائے شب قدر والی حدیث پرانقطاع کا حکم نہیں لگایا ہے حالانکہ یہ روایت ”ابن بريده عن عائشة“ کے طریق سے امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کئی کتب میں نقل کی ہے دیکھیں:[ شعب الإيمان( 5/ 281 ) ، الأسماء والصفات (1/ 149) الدعوات الكبير (1/ 323) فضائل الأوقات (ص257) وغیرہ]
فائدہ
ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597) نے حدیث تخییر کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :
« ابن بُريدة لم يسمع من عائشة»
”ابن بریدہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا ہے“ [جامع المسانيد لابن الجوزي 8/ 313 ]
ابن الجوزی رحمہ اللہ نے یہ بات حدیث تخییر کے تحت کی ہے ۔جس سے ظاہر ہے کہ یہ ان کا اپنا نقد نہیں بلکہ انہوں نے حدیث تخییر پر موجود کسی امام کے کلام کو نقل کردیا ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابن الجوزی نے اسی کتاب میں جب دعائے شب قدر والی حدیث ذکر کی تو وہاں اس عدم سماع کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جبکہ یہ حدیث ”ابن بريده عن عائشة“ کے طریق سے ہے۔دیکھئے : [جامع المسانيد لابن الجوزي 8/ 187 ]
واسطہ والی روایت پر بحث
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ابن بریدہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہ سے ”يحيى بن يعمر“ کے واسطے سے روایت کی ہے ۔ (صحيح البخاري رقم6619 )
اس لئے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا سماع اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں ہے۔
عرض ہےکہ:
● اولا:
صرف اور صرف ایک ہی سند میں یہ معاملہ ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ابن بریدہ کا یہ عام معمول ہو کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے اکثر کسی کے واسطے ہی سے روایت کرتا ہے۔ بلکہ ابن بریدہ کا عام معمول تو یہ ہے کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے براہ راست روایات نقل کرتے ہیں۔
● ثانیا:
کسی راوی کا کسی راوی سے بالواسطہ روایت کرنا فی نفسہ انقطاع کی دلیل نہیں ہے ۔ کیونکہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں ایک راوی نے اپنے استاذ سے براہ راست بھی روایت کیا ہے اور بالواسطہ بھی روایت کیا ہے ۔ مثلا:
✿ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا:
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ المَدِينَةِ، أَوْ مَكَّةَ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ» ثُمَّ قَالَ: «بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ». ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ، فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا» أَوْ: «إِلَى أَنْ يَيْبَسَا»[صحيح البخاري 216]
اس حدیث میں مجاھد بلاواسطہ عبداللہ بن عباس سے روایت بیان کررہے ہیں ۔
لیکن ایک دوسری حدیث میں مجاھد نے طاؤس کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے چنانچہ:
✿ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا:
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ»، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ فَقَالَ: «لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا»[صحيح البخاري 1361]
اب کیا اس روایت کی بنا پر یہ دعوی کرنا درست ہوگا کہ مجاھد کا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے کیونکہ یہاں انہوں نے طاؤس کے واسطے سے ان سے روایت نقل کی ہے ؟؟؟
ظاہر ہے کہ محض اس بنا ایسا دعوی نہیں کیا جاسکتا ۔
لہٰذا اگر عبداللہ بن بریدہ نے بھی ایک روایت میں ایک واسطے سے اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کردی تو محض اس چیز کو بناد بناکر یہ دعوی نہیں کیا جاسکتا کہ ابن بریدہ کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ہی ثابت نہیں ہے۔
معاصرت وامکانِ سماع پر بحث
اس بات پر اہل علم کا اتفاق ہے کہ عبداللہ بن بریدہ اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا (المتوفی57) کے مابین طویل معاصرت ثابت ہے ۔
متقدمین کے یہاں دورانِ معاصرت ان دونوں کی ملاقات کا انکار کسی سے ثابت نہیں امام دارقطنی کے قول کی وضاحت کی جاچکی ہے کہ وہ مطلقا انکار سماع پر دلیل نہیں ہے ۔
عصر حاضر میں بعض لوگوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ گرچہ عبداللہ بن بریدہ اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین طویل معاصرت ثابت ہے لیکن اس معاصرت کے دوران دونوں کی ملاقات ممکن نہیں ہے ۔
اس کی دلیل ان کے بقول یہ ہےکہ عبداللہ بن بریدہ سن تحمل سے پہلے ہی اپنے والد کے ساتھ بصرہ چلے گے ، پھر وہاں سے مختلف علاقوں کا سفر کرتے رہے لیکن مدینہ لوٹ کر نہیں آئے ۔
جواباعرض ہے کہ:
یہ دعوی کہ عبداللہ بن بریدہ سن تمیز سے پہلے مدینہ چھوڑ چکے تھے بالکل بے بنیاد ہے بلکہ صحیح روایات کے خلاف ہے ۔
مدینہ میں امکان سماع
امام أبو زرعة الدمشقي رحمه الله (المتوفى281) نے کہا:
«حدثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبُّوَيْهِ قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: جِئْتُ إِلَى أُمِّي يَوْمَ قَتْلِ عُثْمَانَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمَةُ، قُتِلَ الرَّجُلُ. فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، اذْهَبْ فَالْعَبْ مَعَ الْغِلْمَانِ»
”عبد اللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے دن اپنی ماں کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے ماں! اس شخص (یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کو قتل کر دیا گیا ہے۔
تو میری ماں نے کہا: بیٹا تم جاؤ! اوربچوں کے ساتھ کھیلو“ ۔(یعنی ان معاملات میں مت پڑو) [تاريخ أبي زرعة الدمشقي ص630 وإسناده صحيح لاغبار عليه]
یہ روایت اس بات کی بہت واضح دلیل ہے کہ عبداللہ بن بریدہ مدینہ میں سن تمییز میں بھی وقت گزار چکے ہیں ، ان کا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق سوال کرنا اور ماں کا یہ کہنا کہ جاؤ بچوں کے ساتھ کھیلو ۔ اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ وہ عمر کے ایسے مرحلے میں تھے جس میں حدیث کا سماع وحفظ کیا جاسکتا ہے۔
چناچنہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع حدیث ہےاور اسے انہوں نے کب روایت کیا اس کے تعلق سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہے ہیں:
«كنت ألعب مع الغلمان، فبصرت برسول الله صلى الله عليه وسلم، فاختبأت في دهليز باب دار قوم، فجاء، فدخل فحطأني حطأة أو حطأتين، ثم قال: اذهب فادع لي معاوية . »
”میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اچانک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میں کسی گھر کے دروازے کی دہلیز میں چھپ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آئے، پھر آپ نے مجھے ہلکی سی تھپکی ماری (یا ایک دو ہلکی ضرب لگائی، جو پیار اور شفقت کی علامت تھی)۔ پھر فرمایا: جاؤ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔“ [صحيح مسلم رقم 2604 مستخرج أبي عوانة 20/ 50 رقم 11363 واللفظ له]
معلوم ہوا کہ بچوں کے ساتھ کھیلنے کی عمر تحمل وادا کی عمر ہوتی ہے۔
ایک بے بنیاد مفروضہ
ایک شخص نے لکھا ہے کہ اس واقعہ میں یہ صراحت نہیں ہے کہ شہادت عثمان کے روز ”عبداللہ بن بریدہ“ مدینہ میں ہی تھے ، ہوسکتا ہے کہ وہ بصرہ چلے گئے اور وہاں انہیں شہادت کی خبر ملی ہو جس کے بعد انہوں نے اپنی والدہ سے سوال کیا ہو ۔
عرض ہے کہ :
اولا:
جب یہ بات متفق علیہ کہ عبداللہ بن بریدہ مدینہ میں ہی پیدا ہوئے تھے تو بغیر کسی ثبوت کے ان کے بچپن کے اس واقعہ کے مدینہ سے باہر کا بتلانا غیر معقول وغیر مسموع ہے۔
ثانیا:
اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ ”يَوْمَ قَتْلِ عُثْمَانَ“ یعنی شہادت کے روز ہی عبداللہ بن بریدہ نے یہ بات کہی اور اس زمانے میں عین اسی دن شہادت کی خبر بصرہ کیسے پہنچ سکتی ہے ؟؟؟
ظاہر ہے کہ اس وقت موبائل یا انٹرنیت توتھا کہ پل بھر میں ایک جگہ کی خبر پوری دنیا میں نشر ہوجائے۔
ثالثا:
امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
«أنبأنا أبو علي الحداد أنا أحمد بن الفضل بن محمد أنا محمد بن اسحاق بن مندة أخبرنا القاسم بن القاسم السياري قال جدي أحمد بن سيار حدثنا عمار حدثنا يحيى بن واضح عن الحسين بن واقد عن عبد الله بن بريدة قال: ”شهدت الدار يوم قتل عثمان فرأيت الحسن بن علي معه“ »
”میں حضرت عثمانؓ کی شہادت کے دن دار (گھرِ عثمان) کے پاس تھا میں نے دیکھا کہ آپ کے ساتھ حسن بن علی رضی اللہ عنہ موجود تھے ۔“ [تاريخ دمشق لابن عساكر: ج 27 ص129 تا 130 وإسناده صحيح]
یہ بہت واضح اور صریح دلیل ہے کہ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت عبداللہ بن بریدہ مدینہ میں موجود تھے اس لئے اس کے بر خلاف سارے مفروضے بے بنیاد ہیں۔
عبداللہ بن بریدہ کا دیگر اہل مدینہ سے سماع
کچھ لوگوں پر حیرت ہے کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن بریدہ کے سماع کی نفی کرنے کے لئے یہ دعوی کربیٹھتے ہیں کہ ابن بریدہ بچپن میں مدینہ چھوڑ کر چلے گئے تھے پھر کبھی بھی واپس مدینہ نہیں آئے اس لئے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کا سماع ممکن نہیں ہے ۔
لیکن دوسری طرف یہ لوگ ابن بریدہ کا سماع دیگر کئی ایسے مدنی صحابہ ثابت مانتے ہیں جو مدینہ ہی کے رہنے والے تھے اور مدینہ سے باہر سکونت اختیار کرنا ان سے ثابت نہیں ہے ۔مثلا:ْ
ام المؤمنین ام سلمہ (المتوفی63)رضی اللہ عنہا ( السنن للبيهقي رقم 3418 وإسناده صحيح وصرح ابن بریدہ بالسماع )
اور دیگر ان کے اساتذہ میں مدنی صحابہ ۔
عرض ہے کہ جس طرح ان دیگر مدنی صحابہ سے ابن بریدہ کا سماع ممکن ہے ایسے ہی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ممکن ہے ۔
تنبیہ:-
ایک شخص نے لکھاہے کہ اگر ابن بریدہ کا سماع عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے تو پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر فلاں وفلاں مدنی صحابہ سے کیوں ثابت نہیں ہے؟
عرض ہے کہ جہاں تک ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بات ہے تو:
عبداللہ بن عباس سے ابن بریدہ کے سماع کا انکار کسی نے نہیں کیا ہے ۔
بلکہ امام المقدسي (المتوفی 600) نےکہا ہے:
«عبد الله بن بُرَيدة... سمع: أباه، وعبد الله بن عَبَّاس »
”عبداللہ بن بریدہ ۔۔۔ نے اپنے والد اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے“ [الكمال في أسماء الرجال6/ 122 ]
نیز ”عبد الله بن بريدة عن ابن عباس“ سے مروی موقوف طریق کو امام ابوحاتم (المتوفی277)رحمہ اللہ نے درست قرار دیا ہے۔[العلل لابن أبي حاتم 2/ 603]
نیز علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس سند کوموقوفا صحیح قرار دیا ہے، دیکھیں:[سلسلة الأحاديث 1/ 219]
رہی بات یہ کہ فلاں اور فلاں دیگر مدنی صاحبہ سے ان کا سماع کیوں ثابت نہیں ۔
عرض ہے کہ:
دیگر مدنی صحابہ میں سے بھی بعض سے ان کا سماع ثابت ہے جس پر سب کا اتفاق ہے کما مضی اور بقیہ میں سے بھی سب سے نفس لقاء کا انکار نہیں کیا جاسکتا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سے حدیث کا سماع نہیں کیا ۔
اور یہ ضرری نہیں کہ ایک شخص ایک علاقہ میں موجود تمام اہل علم سے لازمی طور پر شرف تلمذ حاصل کرے ۔ بلکہ شاید ہی کوئی راوی ایسا ہو جس نے اپنے زمانے اور علاقے میں موجود تمام کے تمام اہل علم کی شاگردی اختیارکی ہو یا ہر ایک سے کوئی نہ کوئی روایت بیان کی ہے ۔ اس لئے یہ صرف عبداللہ بن بریدہ کا معاملہ نہیں ہے تمام رواۃ کا یہی حال ہے لہٰذا یہ اعتراض فضول ہے۔
امام ابن سعد کا بے دلیل قول
ایک صاحب نے لکھا ہے کہ امام ابن سعد کے بقول ”عبداللہ بن بریدہ“ مدینہ سے شہادت عثمان سے قبل ہی نکل چکے تھے جیساکہ:
امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230) نے کہا:
«ثم خرج منها غازيا إلى خراسان في خلافة عثمان بن عفان، فلم يزل بها حتى مات بمرو في خلافة يزيد بن معاوية»
”پھر وہ (بصرہ) سے نکل کر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں غزوہ کی غرض سے خراسان چلے گئے، پھر وہی موجود رہے یہاں تک کہ یزید بن معاویہ کی خلافت میں مرو فوت ہوئے“ [الطبقات الكبرى ط دار صادر 7/ 8]
عرض ہے کہ:
یہ بات امام ابن سعد رحمہ اللہ نے بے سند ذکر ہے اور چونکہ یہ ماقبل ذکر کردہ صحیح وصریح روایات کے خالف ہے ، اس لئے مردود وغیر مسموع ہے۔
نیز امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ان کے برخلاف ذکر کیا ہے چنانچہ :
امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
«فلما وقعت فتنة عثمان في المدينة خرج بريدة عنها بابنيه وسكن البصرة »
”جب مدینہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق فتنہ برپا ہوا تو اس کے بعد بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے دونوں بیٹوں کو لیکر مدینہ سے نکل گئے اور بصرہ میں سکونت اختیار کرلی“ [صحيح ابن حبان : 4/ 225]
اور ابن حبان رحمہ اللہ کی بات ہی اکثر اہل علم نے ذکر کی ہے اور صحیح روایات بھی اس پر شاہد ہیں کمامضی ۔
ایسی صورت میں امام ابن سعد رحمہ اللہ کا بیان غیر مسموع ہے نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
«وشذ بن سعد فقال منكر الحديث قلت ولم يلتفت أحد إلى بن سعد في هذا فإن مادته من الواقدي في الغالب والواقدي ليس بمعتمد»
”اور ابن سعد نے سب کے برخلاف یہ کہا کہ یہ راوی منکر الحدیث ہے۔ میں (یعنی الحافظ ابن حجر) کہتا ہوں: اس معاملے میں کسی نے بھی ابن سعد کی بات کی طرف التفات نہیں کیا، کیونکہ ان کا زیادہ تر مواد (یعنی روایات اور معلومات) عموماً واقدی سے اخذ کردہ ہے، اور واقدی قابل اعتماد نہیں ہے“ [مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 417]
اتصال وسماع کے دلائل کا ذکر
متقدمین میں سے کسی۔۔۔
The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
