مذہب اہل حدیث اور مذہب حنبلی میں فرق

You are currently viewing مذہب اہل حدیث اور مذہب حنبلی میں فرق

مذہب اہل حدیث اور مذہب حنبلی میں فرق

اہلِ حدیث کے مذهب اور حنبلی مذهب کے درمیان بہت سے فرق ہیں، جو کئی پہلوؤں سے واضح ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:

① پہلا فرق: اہلِ مذہب کے اعتبار سے

اہلِ حدیث میں صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین شامل ہیں۔ ان میں کچھ لوگ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے فقہی مذهب پر بھی تھے۔
اس کے برعکس، حنبلی مذهب میں صرف وہی لوگ داخل ہیں جو امام احمد بن حنبل کے بعد آئے اور ان کے فقہی مذهب کو اپنایا۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ تمام حنبلی اہلِ حدیث کے مذهب پر نہیں تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ، جیسے ابن عقیل وغیرہ، معتزلہ کے عقائد پر بھی تھے۔
امام لالکائی نے اپنی کتاب “شرح أصول اعتقاد أهل السنة” میں اہلِ حدیث کی بڑی جماعت کا نام لیا ہے۔ انہوں نے قتیبہ سے روایت نقل کی ہے کہ:
”جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ اہلِ حدیث سے محبت کرتا ہے، جیسے یحییٰ بن سعید، عبدالرحمٰن بن مہدی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ اور ان جیسے دوسرے لوگوں سے، تو سمجھو کہ وہ سنت پر ہے۔ اور جو ان کی مخالفت کرے، وہ بدعی ہے۔“
امام صابونی نے اپنی کتاب “عقیدة السلف أصحاب الحدیث” میں اہلِ حدیث کی جماعت میں امام شافعی، سعید بن جبیر، زہری، شعبی، تیمی، لیث بن سعد، اوزاعی، ثوری، سفیان بن عیینہ، حماد بن سلمہ، حماد بن زید، یونس بن عبید، ایوب سختیانی اور ان جیسے لوگوں کا نام لیا۔ اس کے بعد یزید بن ہارون، عبدالرزاق، جریر بن عبدالحمید، پھر محمد بن یحیٰ ذہلی، امام بخاری، امام مسلم، ابو داود، ابو زرعہ رازی، ابو حاتم اور ان کے بیٹے، محمد بن مسلم بن وارہ، محمد بن اسلم طوسی، عثمان بن سعید دارمی، ابن خزیمہ (جو امام الأئمة کہلاتے تھے)، ابو یعقوب اسحاق بن اسماعیل بستی اور ابو سعید یحیٰ بن منصور ہروی وغیرہ شامل ہیں۔
امام لالکائی نے مزید کہا: ”ہر دور میں کوئی نہ کوئی سلفی امام یا خلف کا عالم اللہ کے حق کو قائم کرتا اور دین کی نصیت کرتا رہا، اور اہلِ حدیث کے عقیدے کو کتاب و سنت اور صحابہ کے آثار کی روشنی میں جمع کرتا رہا۔

② دوسرا فرق: موضوعِ بحث کے اعتبار سے

اہلِ حدیث کا مذهب قطعیدلائل اور قطعی مسائل پر بحث کرتا ہے، یعنی معنوی تواتر، قطعی اجماع اور ان سے نکلنے والے احکام (جو بھی قطعی ہی ہوتے ہیں)۔
جبکہ حنبلی مذهب (جیسے ابو حنیفہ، مالک اور شافعی کے مذاہب) فقہی فروع اور ظنی مسائل پر بحث کرتا ہے۔

③ تیسرا فرق: شرعی حکم کے اعتبار سے

اہلِ حدیث کا مذهب اتباعِ واجب ہے، جبکہ حنبلی مذهب اتباعِ جائز ہے۔
اس لیے اہلِ حدیث کے ائمہ اپنی کتابوں کی ابتدا قطعی اجماع سے کرتے ہیں۔
عبدالرحمٰن بن ابی حاتم نے اپنے والد اور ابو زرعہ سے اہلِ سنت کے اصولِ دین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا۔
امام بخاریؒ نے فرمایا: ”میں نے ہجاز، مکہ، مدینہ، کوفہ، بصرہ، واسط، بغداد، شام اور مصر کے ایک ہزار سے زیادہ علماء سے ملاقات کی، ایک نسل کے بعد دوسری نسل… میں نے ان میں ان اصولوں پر کوئی اختلاف نہیں دیکھا۔

④ چوتھا فرق: انتساب کے اعتبار سے

اہلِ حدیث رسول اللہ ﷺ کے حدیث کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔
حنبلی امام احمد بن حنبل کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔
امام لالکائی نے لکھا: ”جو شخص کوئی نیا عقیدہ اپناتا ہے، وہ اس کے بانی کی طرف منسوب ہوتا ہے، سوائے اہلِ حدیث کے۔ ان کا بانی رسول اللہ ﷺ ہیں، وہ آپ ﷺ کی طرف منسوب ہوتے ہیں، آپ کے علم پر بھروسہ کرتے ہیں، آپ سے دلیل لیتے ہیں اور آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔“
ابو الحسن اشعری نے معتزلہ سے توبہ کے بعد صرف اہلِ حدیث کی طرف انتساب کیا، حنبلی کی طرف نہیں۔ انہوں نے “الإبانة” میں لکھا کہ ہم کتاب و سنت، صحابہ، تابعین اور ائمہ حدیث کے قول پر قائم ہیں اور امام احمد بن حنبل کے قول کو مانتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ نے حق کو واضح کرنے، گمراہی کو دور کرنے اور بدعات کو کچلنے والے امام تھے۔
یہ بات جاننی چاہیے کہ امام احمد کا عقیدہ امام مالک، شافعی، ثوری، اوزاعی وغیرہ سے الگ نہیں تھا، لیکن وہ امتحان میں ڈٹ گئے، صبر کیا اور متکلمین کی ایجاد کردہ باتوں کا تفصیل سے رد کیا، اس لیے وہ امام اہلِ سنت کہلائے۔
مغرب کے کچھ شیوخ نے کہا: ”مذہب تو مالک اور شافعی کا ہے، لیکن ظہور احمد کا ہے۔
حنبلیوں کو اہلِ حدیث کے عقیدے کا سب سے زیادہ حصہ ملا، کیونکہ امام احمد نے عقیدے کے باب میں تفصیلی کلام کیا اور جہمیہ اور معتزلہ کا تفصیل سے رد کیا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فرمایا: ”حنبلیوں میں کچھ لوگ اثباتِ صفات کی طرف زیادہ مائل رہے، کچھ نفي اور اثبات دونوں سے رکے رہے، لیکن بڑے اصولوں پر وہ متفق تھے۔ اس لیے وہ سب سے کم اختلاف والی جماعت رہی، کیونکہ وہ سنت اور آثار سے خوب چمٹے رہے۔ امام احمد کے پاس اصولِ دین میں ایسے واضح اقوال تھے جو دوسروں کے پاس نہ تھے۔“
اہلِ حدیث سے مراد صرف روایتِ حدیث اور سند کے ماہر نہیں، بلکہ جو اسے حفظ، سمجھ اور ظاہر وباطن دونوں طرح سے عمل میں لائے۔ ابن تیمیہ نے فرمایا: ”ہم اہلِ حدیث سے صرف روایت لکھنے والوں کو نہیں کہتے، بلکہ جو اسے حفظ، معرفت، فہم اور عمل سے زیادہ حقدار ہو۔“

آخر میں خطیب بغدادی نے اپنی کتاب “شرف أصحاب الحدیث” میں لکھا:
”اللہ نے اہلِ حدیث کو شریعت کے ستون بنایا اور ان سے ہر بری بدعت کو توڑا۔ وہ اللہ کے امین، نبی ﷺ اور امت کے درمیان واسطہ، اور ملت کے محافظ ہیں۔ ان کی روشنیاں چمکتی ہیں، فضیلتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہر گروہ اپنی خواہش یا رائے کی طرف جھکتا ہے، سوائے اہلِ حدیث کے۔ ان کا سہارا کتاب، دلیل سنت، گروہ رسول ﷺ اور انتساب آپ ﷺ کی طرف ہے۔ وہ نہ خواہشات کی طرف جھکتے ہیں نہ آراء کی طرف۔ جو ان سے دشمنی کرے اللہ اسے توڑ دے، جو مخالفت کرے اللہ اسے رسوا کرے۔ جو ان سے جدا ہو وہ کامیاب نہ ہو۔ دین کی حفاظت چاہنے والا ان کی طرف محتاج ہے۔“
تحریر: ڈاکٹر احمد محمد الصادق النجار (عربی سے ترجمہ)

 

Leave a Reply