تحقیق حدیث ”من خرج في ‌طلب ‌العلم فهو ‌في ‌سبيل ‌الله ‌حتى ‌يرجع“ (1)

You are currently viewing تحقیق حدیث ”من خرج في ‌طلب ‌العلم فهو ‌في ‌سبيل ‌الله ‌حتى ‌يرجع“ (1)

تحقیق حدیث ”من خرج في ‌طلب ‌العلم فهو ‌في ‌سبيل ‌الله ‌حتى ‌يرجع“ (1)

امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279) نے کہا:
”حدثنا نصر بن علي، قال: حدثنا خالد بن يزيد العتكي، عن أبي جعفر الرازي، عن الربيع بن أنس، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من خرج في طلب العلم فهو في سبيل الله حتى يرجع»: «هذا حديث حسن غريب ورواه بعضهم فلم يرفعه»“
”انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے نکلے تو وہ لوٹنے تک اللہ کی راہ میں (شمار) ہو گا“ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے بعض اہل علم نے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے“
[سنن الترمذي ت شاكر رقم 2647]
.
ترمذی کی اس سند کو میں نے تین علتوں کی بناپر ضعیف قرار دیا تھا ، بعض لوگوں نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے اس مضمون میں ہم اس جواب کا تفصیلی جائزہ پیش کریں گے ۔ سب سے پہلے دیکھ لیتے ہیں اس سے متعلق دیگر اہل علم ومحققین کیا فرماتے ہیں:
امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322) نے ضعفاء میں ”خالد بن يزيد“ کی منکر روایات میں اسے بطو مثال پیش کیا ہے ۔ [ضعفاء العقيلي (التأصيل) 1/ 583]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس سند کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ اوراس سند کی تضعیف سے تاحیات رجوع نہیں کیاہے۔ دیکھیں:[هداية الرواة – مع تخريج المشكاة الثاني للألباني (1/ 155)]
علامہ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد أبو الأشبال الزهيري نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔[جامع بيان العلم وفضله- تحقیق أبو الأشبال الزهيري (1/ 241) حاشیہ رقم 271]
علامہ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد ابو اسحاق الحوینی نے بھی اسے ”ضعیف“ قرار دیاہے۔ [النافلة في الأحاديث الضعيفة والباطلة 1/ 23]
شعيب الأرنؤوط اور ان کی ٹیم نے بھی سنن ترمذی پر اپنی تعلیق میں اسے ضعیف قرار دیاہے دیکھیں:[ سنن الترمذي – ط الرسالة 4/ 590 حاشیہ 1]
علامہ مقبل رحمہ اللہ کے شاگرد شیخ مصطفی العدوی نے بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے [سلسلة الفوائد الحديثية والفقهية 10/ 170]
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیں: [أنوار الصحيفة (ضعيف سنن الترمذي )رقم 2647 ص ص 247]

تعدد طرق کا مسئلہ

بعض لوگوں کا یہ عجیب رویہ ہے کہ جب خود کسی حدیث کو ضعیف ثابت کرنا ہو تو تعدد طریق کا راگ الاپیں گے لیکن جب ضعیف حدیث کو گلے لگانا ہو تو تعدد طرق کو بالائے طاق رکھ دیں گے مثلا:
➊ فطرہ سے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی (ادوا صاعا من طعام ) والی روایت کو مرفوعا صحیح گردانیں گے حالانکہ تعدد طرق کے سبب اس روایت کا موقوف ہونا ہی راجح قرار پاتا ہے۔
➋ فطرہ سے متعلق عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی روایت کے من پسند متن والے صرف چار طرق پیش کرکے روایت کو ضعیف گردانیں گے جبکہ اس کے کل سات طرق ہیں اور تمام طرق مع سند ومتن کے پیش نظر اس روایت کے صحیح ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔
➌ اذان پر اجرت سے متعلق روایت کے صرف کچھ ہی طریق سامنے رکھتے ہوئے اسے صحیح گردانیں گے حالانکہ یہ روایت اپنے تمام طرق کے پیش نظر ضعیف ومردود قرار پاتی ہے۔
➍ یزید سے متعلق تبدیل سنت والی روایت کی صرف ایک سند کو سامنے رکھتے ہوئے حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا تھا میں نے ان کی حیات ہی میں ان سے اسی بنا پر اختلاف کیا تھا کہ اس روایت کے اکثر طرق میں سند منقطع ہے لہٰذا اس کی منقطع سند ہی راجح ہے ۔ مگر کچھ لوگ ہمیشہ یہ تاثر دینے کے کوشش کریں گے میں نے بلاوجہ اس مسئلہ مین شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ سے اختلاف کرلیا ۔
اس کی علاوہ اور بھی مثالیں ہیں ۔

 فریق مخالف کی پیش کردہ متابعات کی حقیقت

فریق مخالف نے تین علتوں میں پہلی علت (خالد بن يزيد) کے ضعف کو رفع کرنے کے لئے دو ٹوٹی پھوٹی متابعات پیش کی ہیں، جو حددرجہ بے وزن اور یکسر ناقابل التفات ہیں۔
اور لطف تو یہ ہے کہ آں جناب یہ متابعات کسی ایسے سیارہ سے ڈھونڈ کر نہیں لائے ہیں جہاں تک ہماری رسائی نہ ہو بلکہ یہ سب شاملہ میں موجود ہے۔
بلکہ شاملہ میں موجود بعض کتب کے مؤلفین نے اس حدیث کی تخریج کرتے ہوئے ان متابعات کا ذکر بھی کیا ہے ۔
”عباد بن یوسف“ کی متابعت کا ذکر شاملہ کی کتاب (سلسلة الفوائد الحديثية والفقهية10/ 170) کے مؤلف نے کیا ہے۔
”محمد بن مصعب“ کی متابعت کا ذکر شاملہ کی کتاب (الموسوعة الحديثية 19/ 107 ) کے مؤلف نے کیا بلکہ اس متابعت پر ابن عساکر کی روایات کو لیکر جو تفصیل اس مؤلف نے ذکر کی ہے عین یہی تفصیل فریق مخالف نے نقل کردی ہے۔
اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ شاملہ کی ان کتابوں کے مؤلفین نے گرچہ ان متابعات کا ذکر کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان میں سے ہر ایک نے اس حدیث کو ضعیف ہی کہا ہے
آپ تفصیلی جواب ملاحظہ ہو:

سند کی علتیں 

ہم نے اس سند کی تضعیف میں کل تین علتیں پیش کی تھیں ، اب ذیل میں ہم ہرایک علت کو پیش کرکے اس پر وارد کردہ اعتراضات کے جوابات حاضر کریں گے ۔

① پہلی علت: ”خالد بن يزيد العتكي“ کا ضعف

اس کی سند میں موجود ”خالد بن يزيد العتكي“ ضعیف ہے۔
امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264): نے ”لا بأس به“ کہا ہے [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 3/ 361]
لیکن:
● امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322)نے کہا:
”لا يتابع على كثير من حديثه“
”اس کی اکثر حدیثوں پر متابعت نہیں کی جاتی ہے“ [الضعفاء للعقيلي، ت د مازن: 2/ 233]
● امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748) نے کہا:
”يروي عن أبي جعفر الرازي ضعف“
”یہ ابو جعفر رازی سے روایت کرتا ہے اور ضعیف قرار دیا گیا ہے“ [المغني في الضعفاء للذهبي، ت نور: 1/ 207]
● حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) نے کہا:
”صدوق يهم“
”یہ سچا ہے اوروہم کا شکار ہوتا ہے“ [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم1692]
● تحرير التقريب كي مؤلفين (دكتور بشار عواد اور شعيب ارنؤوط):
”ضعيف يعتبر به“
”یہ ضعیف ہے اور( متابعات وشواہد میں) قابل التفات ہے“ [تحرير التقريب: رقم1692]

⟐ فائدہ:

علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس سند کی تضعیف میں اس علت کو پیش کیا ہے چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”ويرويه خالد بن يزيد العتكي، قال العقيلي في الضعفاء : لا يتابع على كثير من حديثه، ثم ذكر له هذا الحديث“
”اسے خالد بن یزید عتکی روایت کرتا ہے اور عقیلی نے ضعیفاء میں کہا ہے: اس کی اکثر حدیث میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ، پھراس حدیث کو (بطور مثال) پیش کیا ہے۔“ [هداية الرواة – مع تخريج المشكاة الثاني للألباني (1/ 155)]

اب اس پر اعتراضات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔

◈ پہلا اعتراض : توثیق سے متعلق

 فریق مخالف لکھتے ہیں:
”اور امام نسائی رحمہ اللہ نے خالد بن یزید الہداد کے بارے میں ((لیس بہ باس)) کہا ہے.“

جوابا عرض ہے کہ:
امام نسائی سے بسند صحیح اس قول کا ثبوت نہیں ملا۔
ذہبی عصرعبدالرحمن المعلمی جرح وتعدیل کے اقوال سے متعلق فرماتے ہیں:
”إذا وجد في الترجمة كلمة جرح أو تعديل منسوبة إلى بعض الأئمة فلينظر أثابتة هي عن ذاك الإمام أم لا؟“
”جب کسی راوی کے ترجمہ میں جرح یا تعدیل کا کوئی کلمہ بعض ائمہ کی طرف منسوب ملے تو یہ تحقیق ضروری ہے کہ وہ اس امام سے ثابت بھی ہے یا نہیں“
[التنكيل 1/ 250]
علاوہ بریں امام نسائی نے خالد بن یزید کو ھدادی کی نسبت کے ساتھ ”ليس به بأس“ کہا ہے [تهذيب التهذيب : 3/ 130]
یعنی دوسری نسبت کے ساتھ مذکور خالد بن یزید کے بارے میں یہ بات نہیں ہے اس لئے ممکن ہے کہ اس دوسری نسبت سے اس راوی نے جو غطلیاں کی ہیں امام نسائی رحمہ اللہ نے انہیں پیش نظر کر مذکورہ توثیق نہیں کی ہے اس لئے یہ توثیق مشکوک ہے ۔ کیونکہ جمہور ائمہ نقد کے تعامل اور دلائل کی رو سے راجح بات یہی ہے کہ یہ دونوں نسبت ایک ہی راوی کی ہے اور یہ دونوں ایک ہی راوی ہے۔

 موصوف نے لکھاہے:
”امام ذہبی امام عقیلی کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: امام عقیلی نے ایک حدیث مقارب ذکر کی ہے“

یہاں موصوف ”مقارب“ سے نامعلوم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
واضح ہونا چاہئے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے راوی کو نہیں بلکہ حدیث یعنی متن کو ”مقارب“ کہاہے یعنی معنی میں کوئی نکارت نہیں ہے البتہ سند وثبوت کے لحاظ سے وہ حدیث منکر ہی ہوتی ہے۔
بلکہ امام ذہبی راوی کو بھی مقارب بول دیں تو بھی یہ لازم نہیں آئے گا کہ انہوں نے اس کی توثیق کی ہے چنانچہ ایک جگہ امام ذہبی نے لکھا ہے:
”هذا مجهول مقارب الحديث“ ”یہ مجہول اور مقارب الحدیث ہے“[ميزان الاعتدال للذهبي ت البجاوي: 3/ 8]
یہاں راوی کو مجہول کہنے کے ساتھ اسے مقارب بتارہے ہیں معلوم ہوا کہ امام ذہبی کا ”مقارب“ کہنا توثیق کو مستلزم نہیں ہے۔
بلکہ ایک راوی ”ملازم بن عمرو السحيمى“ جن کو کسی امام نے ضعیف نہیں کہا بلکہ ان کے بیٹے نے صرف ”مقارب“ کہہ دیا تو اسی سبب امام ذہبی نے ان کا تذکرہ میزان میں کردیا چنانچہ امام ذہبی لکھتے ہیں:
”وروى عنه ولده صالح، قال: حاله مقارب. قلت: لاجل هذه اللفظة أوردته، وإلا فالرجل صدوق“
”ان سے ان کے بیٹے صالح نے روایت کیا ہے اور کہا: اس کی حالت مقارب ہے ، میں کہتاہوں: اسی کلام کی وجہ سے میں نے اسے اس کتاب میں داخل کیا ہے ورنہ یہ صدوق ہے“[ميزان الاعتدال للذهبي ت البجاوي: 4/ 180]

◈ دوسرا اعتراض: ‌ ”خالد بن يزيد العتكي“ و ”خالد ‌بن ‌يزيد ‌الهدادي“ اور ایک دوسرے کی متابعت:

یہ دونوں ایک ہی راوی ہیں جیساکہ امام ابن حجر رحمہ اللہ اوردیگر اہل علم نے وضاحت کررکھی ہے۔
لیکن موصوف نے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ اگر یہ دونوں الگ ہیں تو پھر دونوں ایک دوسری کی متابعت کررہے ہیں.

چنانچہ موصوف لکھتے ہیں:
”ابو حاتم اور ابن حبان رحمہما اللہ نے ان دونوں کو الگ مانا ہے…..اور اگر دونوں کو الگ الگ مانتے ہیں تو ایسی صورت میں ایک دوسرے کی متابعت کر رہے ہیں.“

جوابا عرض ہے کہ:
امام ابوحاتم اور امام ابن حبان نے صرف دو نہیں بلکہ انہیں کل تین الگ الگ رواۃ مانا ہے:
چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
”وجعل بن حبان في الثقات العتكي وصاحب اللؤلؤ والهدادي ثلاثة“
”ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقات میں عتکی ، صاحب اللؤلو اور ھدادی کو تین الگ الگ راوی مانا ہے“ [تهذيب التهذيب لابن حجر، ط الهند: 3/ 130 نیز دیکھیں الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 8/ 223 أیضا 8/ 222 أیضا 6/ 266]

اسی طرح امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بھی انہیں تین رواۃ مانا ہے اور تین مقامات پر الگ الگ تذکرہ کیا ہے ملاحظہ ہو:
خالد بن يزيد روى عن شريك….[الجرح والتعديل: 3/ 361]
خالد بن يزيد أبو يزيد صاحب اللؤلؤ….[الجرح والتعديل: 3/ 361]
خالد بن يزيد الهدادي…..[الجرح والتعديل : 3/ 358]
تو جب بعض امام ابوحاتم اور امام ابن حبان نے انہیں تین الگ الگ رواۃ مانا ہے تو دو ہی کیوں ؟ صاف کہہ دیں کہ یہ تین رواۃ ہیں اور تینوں آپس میں ہر ایک کی متابعت کررہے ہیں !!
دراصل اگر انہیں تین مان بھی لیں تو پھر یہ الگ الگ متابع نہیں بلکہ ان تینوں سے روایت کرنے والے ”نصر بن علي“ پر اضطراب کا الزام لگ جائے گا اور اور اس طریق کی تضعیف کے لئے ایک مزید علت کا اضافہ ہوجائے گا۔
کیونکہ نصر بن علی کے بہت سےشاگردوں نے اسے بیان کیا ہے لیکن کسی بھی روایت میں نصر بن علی نے تینوں کو ایک ساتھ جمع کرکے بیان نہیں کیا ہے جیساکہ دیگر محدثین مثلا امام مسلم وغیرہ کا ایسے مواقع پر یہی طرزعمل ہوتاہے۔
دلائل کی رو سے درست بات یہ ہے کہ یہ تین نہیں بلکہ ایک ہی راوی ہے کیونکہ متن بھی ایک ہے اور طریق بھی ایک ہے اورمزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ کسی بھی روایت میں نصر بن علی نے تعدد مشائخ کی صراحت نہیں کی ہے۔

◈ تیسرا اعتراض : خالد بن يزيد کی متابعات

موصوف نے خالد بن یزید کی دو متابعات پیش کرکے خالد بن یزید کے ضعف کی بھرپائی کرنے کی کوشش کی ہے ۔
ہم شروع میں عرض کرچکے ہیں کہ موصوف نے یہ متابعات معاصر مؤلفین کی ان کتب سے اچک لی ہیں جو شاملہ میں موجود ہیں اور خود ان مؤلفین نے بھی ان متابعات کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔
دراصل علی الاطلاق یہ ماننا کہ ضعیف کی ضعیف متابعت کردے تو ضعف ختم ہوجاتا ہے یہ مقدمہ ہی غلط ہے ۔
کیونکہ بعض راوی کا ضعف ایسا ہوتا ہے کہ اس کی روایت متابعت کے قابل نہیں رہ جاتی ہے ۔
مثلا ضعیف راوی تلقین قبول کرنے والا ہو۔
یا مغفل اور بہت زیادہ غلطی کرنے والا ہو ۔
یا متابع لہ سے بھی زیادہ ضعیف و کمزور ہو۔
یا اس کی روایت منکرات وتفردات پر مبنی ہو ۔
بلکہ کبھی کبھی یہ چیزیں بھی نہ ہوں لیکن متقدمین ماہریں محدثین نے کسی روایت کو منکر قرار دے رکھا ہے۔
تو پھر متاخرین کا غیر معروف کتابوں سے متابعات وشاہد لا کر اسے تقویت دینا بے سود ہے۔
اور موصوف کی پیش کردہ متابعات کا یہی حال ہے ۔

 ① چنانچہ موصوف کی پہلی متابعت یہ ہے:

 حدثنا جعفر بن محمد الفريابي، ثنا إبراهيم بن العلاء، ثنا عباد بن يوسف أبو عثمان، عن أبي جعفر الرازي، عن الربيع بن أنس، عن أنس بن مالك، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ‌من ‌خرج ‌يطلب ‌العلم فهو في سبيل الله حتى يرجع»
[الجزء الثالث من فوائد أبي علي الصواف (ص27 بترقيم الشاملة آليا)]

عرض ہے کہ:
اس متابعت کو شاملہ میں موجود کتاب ”سلسلة الفوائد الحديثية والفقهية“ میں علامہ مقبل رحمہ اللہ کے شاگرد شیخ مصطفی العدوی نے ذکر کیا ہے اور لکھا ہے:
”وتابع يزيد عباد بن يوسف، أخرجه أبو علي الصواف في فوائده“
”عباد بن یوسف نے یزید کی متابعت کی ہے جسے ابو علی الصواف نےاپنے فوائد میں روایت کیا ہے۔“
[سلسلة الفوائد الحديثية والفقهية 10/ 170]
پھر اس متابعت کے باوجود اس روایت کو ضعیف قرار دیتے ہوئے لکھا:
”الخلاصة أن الخبر ضعيف لأمور“
➊ ضعف أبي جعفر في الربيع، فقد قال ابن حبان في ترجمة الربيع: الناس يتقون من حديثه ما كان من رواية أبي جعفر عنه؛ لأن في أحاديثه عنه اضطرابا كثيرا.
وقال في ترجمة أبي جعفر: كان ينفرد بالمناكير عن المشاهير، لا يعجبني الاحتجاج بخبره إلا فيما وافق الثقات، ولا يجوز الاعتبار بروايته فيما يخالف الأثبات.
➋ إشارة الترمذي إلى الوقف.
➌ الكلام في الراويين عن أبي جعفر
[سلسلة الفوائد الحديثية والفقهية (10/ 170)]
یعنی شیخ نے بھی زیر بحث تینوں اسباب کی بناپر اس روایت کو ضعیف قرار دیا اور عباد بن يوسف کی متابعت کو کوئی وزن نہیں دیا ہے۔
.
حقیقت یہی ہے کہ اس متابعت کا کوئی وزن نہیں ہے اس لئے ان کا ذکر وعدم ذکربرابر ہے۔
کیونکہ:
یہ متابعت درج ذیل وجوہ وجہ سے بے معنی ہے:
◄ اول: ”عباد بن یوسف“ خالد بن یزید کے بھی نچلے درجے کا راوی ہے ۔ تو بھلا یہ متابع کیسے بن سکتا ہے۔
إبراهيم بن العلاء سے اس کی توثیق جس سند سے ہے اس کے بعض رواۃ کی توثیق نامعلوم ہے ۔
ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس توثیق پر اعتماد نہیں کیا ہے اسی لئے اس راوی کو ”مقبول“ لکھاہے [ تقريب التهذيب 3154]
امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی لکھا ہے:
”ليس بالقوي“ ”یہ القوی نہیں ہے“ [المغني في الضعفاء للذهبي، ت نور: 1/ 328]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مقبول متابعت کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ متابع متابع لہ سے اونچے درجہ کا ہو یا اس کے برابر ہو مگر اس سے کم درجہ کا نہ ہو۔
چنانچہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”ومتى توبع السيء الحفظ بمعتبر كأن يكون فوقه، أو مثله، لا دونه“
”جب برے حافظے والے کی متابعت کی جائے ایسے راوی سے جو معتبر ہو یعنی اس سے اونچے درجہ کا ہو یا اس کے برابر ہو نہ کہ اس سے کم درجہ کا ہو“
[نزهة النظر ص: 129]
◄ دوم: امام عقیلی رحمہ اللہ جیسے ماہرعلل نے جب یہ فیصلہ کردیا ہے کہ اس روایت میں خالد بن یزید کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔
تو ایسے ماہر فن کا فیصلہ ہوتے ہوئے معمولی درجے کی کتب سے وہ بھی ضعیف راوی سے وہ بھی منفرد اور غریب روایت بیان کرنےوالے راوی سے متابعت لانا بے سود اور لایعنی چیز ہے اور اور محدثین کے منہج سےناواقفیت کا نتیجہ ہے۔

 ② موصوف کی پیش کردہ دوسری متابعت پہلی سے بھی بدتر ہے:
موصوف نے دوسری متابعت پیش کرتے ہوئے جو کچھ گیان دیا ہے وہ سب شاملہ میں موجود کتاب (الموسوعة الحديثية 19/ 107 ) کے مؤلف کی کاوش ہے جسے موصوف نے بڑی سعادت مندی کے ساتھ اپنے گلے کا ہار بنالیاہے۔
حالانکہ اس مؤلف نے یہ متابعت پیش کرنے کے باوجود بھی اس روایت کو ضعیف ہی گردانا ہے۔

موصوف لکھتے ہیں:
”ابن سمعون نے اپنی امالی ص: 111 میں ابو علی محمد بن محمد بن حذیفہ سے، انہوں نے احمد بن محمد بن ابی الخناجر سے، انہوں نے محمد بن مصعب القرقسانی سے، انہوں نے ابو جعفر الرازی سے، انہوں نے ربیع بن انس سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو نقل کیا ہے…اس کا لفظ: من خرج فی طلب العلم فہو فی سبیل اللہ عز وجل حتی یرجع … ابو علی محمد بن محمد بن حذیفہ ان کی جرح و تعدیل میں کسی امام کا قول نہیں ملا.تاہم امام ذہبی نے انہیں محدث کہا ہے، سیر اعلام النبلاء (15/ 331). اور ان سے ائمہ کی جماعت نے روایت کیا ہے، جیسے ابن سمعون، ابن شاہین، ابن ابی الحدید وغیرہم.کم از کم ان کی جہالت عین تو اس سے ختم ہو جاتی ہے.البتہ ان کی متابعت تاریخ دمشق (5/ 213) میں احمد بن محمد بن ابراہیم بن حکیم المدینی کے طریق سے آئی ہے.“

● ابن سمعون کے الفاظ یہ ہیں:
«حدثنا أبو علي محمد بن محمد بن أبي حذيفة، حدثنا أحمد بن محمد بن أبي الخناجر، حدثنا ‌محمد ‌بن ‌مصعب، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن ‌الربيع ‌بن ‌أنس، عن أنس بن مالك، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم»[أمالي ابن سمعون الواعظ ص111 ]
● ابن عساکر کے الفاظ یہ ہیں:
أخبرنا أبو العباس أحمد بن محمد بن أحمد بن إبراهيم الأصبهاني المقريء الكشائي أنا أبو الخير محمد بن أحمد بن محمد بن عبد الله الفقيه المعروف بررا أنا أبو بكر أحمد بن موسى بن مردويه الحافظ نا أبو عمرو أحمد بن محمد بن إبراهيم بن حكيم المديني إملاء نا أبو علي أحمد بن محمد بن يزيد بن مسلم المعروف بابن أبي الخناجر بأطرابلس نا محمد بن مصعب القرقساني نا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم من خرج في طلب العلم فهو في سبيل الله حتى يرجع [تاريخ دمشق لابن عساكر: 5/ 213]
عرض ہے کہ:
یہ متابعت اور پھر ابن عساکر کی سند سے سند ابن سمعون کی متابعت یہ سب کچھ شاملہ میں موجود کتاب (الموسوعة الحديثية 19/ 107 ) کے مؤلف نے پیش کیا ہے پھر بھی مؤلف نے اس حدیث کو ضعیف ہی کہا ہے۔
یہ متابعت درج ذیل وجوہ سے بے وزن ہے:
اول: ابوعلی کی جو متابعت ابن عساکر سے پیش کی گئی ہے اس کی سند میں ابن عساکر کے شیخ اور شیخ الشیخ کے بارے میں صرف اتنا ملتا ہے کہ یہ نیک اور صالح تھے ۔
مگر روایت حدیث میں ان کے حفظ وضبط سے متعلق کچھ نہیں ملتا ہے ۔اس لئے یہ متابعت ”محمد بن مصعب“ تک بھی ثابت نہیں ۔
دوم: ”محمد بن مصعب“ بھی اس لائق نہیں ہے کہ وہ متابع بن سکے اس کا ضعیف ہونا تو فریق مخالف نے بھی تسلیم کیا ہے۔
لیکن یہ صرف ضعیف نہیں بلکہ مغفل اور بکثرت غلطی کرنے والا بھی ہے ۔
چنانچہ:
⟐ خطيب بغدادي رحمه الله (المتوفى463) نے کہا:
”كان كثير الغلط بتحديثه من حفظه“
”یہ بکثرت غلطی کرنے والا تھاکیونکہ اپنے حفظ سے بیان کرتا تھا“[تاريخ بغداد، مطبعة السعادة: 3/ 277]
⟐ امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233) نے کہا:
”لم يكن محمد بن مصعب من أصحاب الحديث كان مغفلا“”محمد بن مصعب یہ اصحاب الحدیث میں سے نہیں تھا بلکہ یہ مغفل تھا“
[العلل ومعرفة : 1/ 492 وإسناده صحيح]
اور بکثرت غلطی کرنے اور مغفل راوی کی روایت متابعت میں قبول کرنا منہج محدثین کے خلاف ہے ۔
چنانچہ:
”مناهج المحدثين“ کے مؤلف دکتور مرتضی الزین لکھتے ہیں:
”فالحديث الضعيف يتقوي بالشروط الآتية : (1) أن لا يكون في إسناده متهم ولا مغفل كثير الخطأ“
”ضعیف حدیث ضعیف حدیث سے مل کر ان شرطوں کے ساتھ قوی بنتی ہے : پہلی شرط یہ ہے کہ اس کی سند میں کوئی متہم یا مغفل بکثرت غلطی کرنے والا راوی نہ ہو“[مناھج المحدثین فی تقویة الأحاديث الحسنة والضعيفة: ص81]
◄ سوم: تیسری وجہ وہی ہے جو اس سے پہلے والی متابعت کے تحت دوسرے نمبر پر ذکر کی گئی کہ امام عقیلی رحمہ اللہ کا فیصلہ کہ اس روایت میں خالد بن یزید کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ فریق مخالف کی طرف سے خالد بن یزید کے حق میں جو دو متابعات پیش کی گئی ہیں وہ شاملہ کی بعض کتب کے مؤلفین سے کاپی پیسٹ ہے اور درحقیقت وہ متابعات اس لائق ہی نہیں ہیں کہ انہیں کوئی وزن دیا جائے اسی لئے شاملہ کی کتب کے جن مؤلفین نے ان متابعات کو پیش کیا ہے انہوں نے بھی زیر بحث کو ضعیف ہی مانا ہے ۔

اس طرح کی متابعات پیش کرنے والے لوگ دراصل محدثین کے منہج سے ناواقف ہوتے جیساکہ علامہ معلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وقد أضلّ هذا القسمُ قومًا مِمّنْ لم يتدبروا ما سلف من مناهج الأئمة والمصنِّفين، فاغْترُّوا بكثرة الطُّرقِ الواردةِ في تلك المصنفاتِ، وحسِبُوا أنهم وقفوا على ما لم يقفْ عليه المتقدمون، فسمُّوا تلك الطرق متابعاتٍ و شواهد فجعلوا الغرائب والمناكير عواضِد يشدُّون بها ما اسْتقرّ أهلُ النّقْدِ على طرْحِهِ ووهنِهِ. ولم يفطن هؤلاء القوم إلى أن عصور الرواية قد انقضت وتلك الأحاديث في عيون النقاد غريبة منكرة مهجورة»
”اس قسم نے کچھ ایسے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے جو نہیں جان سکے کہ سلف ائمہ ومحدثین کا منہج کیا ہے تو یہ لوگ مصنفين کی کتب میں وارد کثرت طرق سے دھوکہ کھا گئے اور یہ گمان کرلیا کہ وہ ایسی چیز پر واقف ہوگئے ہیں جن پر متقدمین واقف نہیں ہوسکے تھے تو ان لوگوں نے ان طرق کو متابعات اور شواہد کا نام دے دیا اور ان غرائب اور مناکیر کو اتنا وزن دار سمجھ لیا کہ اس کے ذریعہ اس روایت کو مضبوط گردانیں گے جن روایات کو محدثین کمزور قرار دے کر رد کرچکے ہیں. انہیں یہ سمجھ نہیں ہے کہ روایت کا دور ختم ہوچکا ہے اور یہ احادیث ناقدین کی نظر میں غریب ، منکر اور ناقابل التفات تھیں“ [النكت الجياد المنتخبة من كلام شيخ النقاد (1/ 138)]
”جاری ہے۔۔۔۔“
((کفایت اللہ سنابلی)

اگلاحصہ پڑھنے کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں
حصہ دوم

This Post Has 2 Comments

Leave a Reply