پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں
حصہ اول
② دوسري علت: ”ابوجعفر الرازی“ کی ”ربیع“ سے روایت
اس علت کا جواب دیتے ہوئے موصوف نے سب سے بڑا غچہ یہ مارا کہ بغیر کسی شرم وحیا کے پے در پے تین سفید اور صریح جھوٹ بول دیا ۔ اس سے پہلے بھی موصوف ایک صریح جھوٹ بولتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں جس کا ثبوت اسکرین شاٹ کے ساتھ بحث مصرفِ زکاۃ کی پانچویں قسط میں دے چکاہوں۔ اور اب موصوف کے تین تازہ ترین صریح اور سفید جھوٹ کا ثبوت بھی اس تحریر کے ساتھ منسلک ہے۔ یادرہے کہ یہاں ہم غلط فہمی ، استدلال کی کمزوری یا تدلیس وتلبیس کوجھوٹ کا نام نہیں دے رہے ہیں بلکہ یہ جھوٹ موصوف کے وہ دعوے ہیں جو صراحتا حقائق کے خلاف ہیں تفصیل آگے آرہی ہے۔
◈ سب سے پہلے موصوف کی تلبیس کاری دیکھئے میں نے ”ابو جعفر الرازی“ کو ضعیف کہا ہی نہیں ہے پھر بھی موصوف نے بڑی چترائی سے لکھا کہ:
”مولانا نے اس حدیث کی تین علتیں بیان کی. 1- خالد بن یزید العتکی ضعیف ہے. 2- ابو جعفر الرازی ضعیف ہے.…الخ“
حالانکہ میں نے ”ابو جعفر الرازی“ کو ضعیف ہر گز نہیں لکھا ہے پھر بھی آں موصوف نے اس کی توثیق میں حاطب اللیل بن کر اقوالِ ناقدین کی قطار لگادیا چنانچہ بغیر کسی چھان پھٹک کے پندرہ اقوالِ توثیق اور چودہ اقوالِ جرح بڑی محنت سے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
”تمام اقوال کو جمع کرنے کے بعد کم از کم ابو جعفر الرازی صدوق کے درجہ میں آتے ہیں“
عرض ہے کہ:
اگر جھوٹ اورمکاری نے امانت داری کی خصلت کو مکمل تباہ نہیں کیا ہے تو بچی کچی ایمانداری بروئے کار لاتے ہوئے بتائیے کہ میں نے اس راوی کے صدوق ہونے کا انکار ہی کب کیا ؟ ایک طرف یہ ہاتھ کی صفائی اور دوسری طرف حضرت کی یہ ڈھٹائی دیکھو کتنی بے شرمی سے ارشاد فرماتے ہیں:
”مولانا نے اس راوی کے تعلق سے صرف امام ابو زرعہ اور امام ابن حبان کا قول نقل کیا ہے، اور باقی اہل علم کے اقوال جو مولانا کی رائے اور خواہش نفس کے خلاف ہیں اسے چھپالیا، یا وہاں تک نہیں پہنچ سکے…“
جوابا عرض ہے کہ:
میں نے اس راوی سے متعلق صرف دو محدثین کے اقوال اس لئے نقل کئے کیونکہ میرا خاص قسم کا دعوی تھا اوروہ یہ کہ:
” ”ابو جعفر الرازی“ جب ”ربیع بن انس“ سے روایت کرے تو وہ روایت ضعیف ہوتی ہے ، چنانچہ…“
اگر آنکھ کی بینائی سلب نہیں ہوگئی ہے تو تعصب کی پٹی ہٹاکر دیکھئے اور ملاحظہ کیجئے کہ یہ خاص اور نسبتی جرح ہے میں نے اسی کا دعوی کیا ہے ۔
اس لئے میں نے سب سے پہلے امام ابوزرعہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا جس میں اس راوی پر یہ جرح تھی کہ یہ بہت زیادہ وہم کے شکار ہوتے ہیں ۔
اس کے بعد یہ بتانے کے لئے کہ یہ خاص طریق پر محمول ہوگا میں نے امام ابن حبان رحمہ اللہ کے یہ اقوال نقل کئے :
● امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354) نے کہا:
”كان ممن ينفرد بالمناكير عن المشاهير لا يعجبني الاحتجاج بخبره إلا فيما وافق الثقات“
”یہ مشہور لوگوں سے منکر روایات کے بیان میں منفرد ہوتا ہے اس کی حدیث سے حجت پکڑنا مجھے پسند نہیں الایہ کہ ثقہ رواۃ سے اس کی تائید مل جائے“ [المجروحين لابن حبان: 2/ 120]
● امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفى354)نے یہ بھی فرمایا:
”والناس يتقون حديثه ما كان من رواية أبي جعفر عنه لأن فيها اضطراب كثير“
”محدثین ربیع بن انس سے ابو جعفر کی روایات سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ ان میں بہت اضطراب ہوتا ہے۔“ [الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 4/ 228]
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے دوسرے قول میں صراحت کردی ہے کہ ”ربیع بن انس“ سے ”ابو جعفر“ کی روایات سے محدثین اجتناب کرتے ہیں کیونکہ ان میں بہت اضطراب ہوتا ہے
اب ظاہر ہے کہ جو دعوی ہوگا دلیل اسی دعوی کے موافق ہی دی جائے گی موصوف کی طرح ہرکوئی حاطب اللیل تھوڑی ہے کہ جو بھی کوڑ کباڑ ملے سب سر پر لاد لو۔
الغرض یہاں خاص جرح تھی اور اسی کا دعوی تھا اس لئے عام توثیق پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ خاص اور عام میں تعارض نہیں ہوتا بلکہ خاص کو عام سے الگ کیا جاتا ہے۔
موصوف نے حددرجہ مکر وفریب سے کام لیتے ہوئے قارئین کے سامنے پہلے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے ہم نے ”ابو جعفر“ کی تضعیف ہی کردی ہے۔پھر اس فرضی موقف کی تردید میں محدثین کے اقوال نقل کرنے بیٹھ گئے جن کا میرے دعوی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
◈ اس کے بعد موصوف بڑی چابدسکتی سے لکھتے ہیں:
”ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ ابو جعفر الرازی جو روایت ربیع بن انس سے بیان کرتے ہیں ابن حبان رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ محدثین ان روایات سے بچتے تھے کیونکہ اس میں اضطراب ہوتا تھا.“
عرض ہے کہ:
ممکن ہے نہیں بلکہ عین یہی بات تو ہم نے کی تھی لیکن جب آنکھ پر تعصب کی پٹی بندھی ہو اور دل ہر طرح کی خبا،ثت سے پر ہو تو گنگا الٹی ہی بہے گی ، خود ساختہ موقف کو میری طرف منسوب کرکے اس کا جواب دیا جائے گا اور جو میرا اصل موقف ہوگا اس کے بارے میں یہ ظاہر کیا جائے گا کہ یہ بات تو ابھی بحث میں آئی ہی نہیں ہے ۔ واہ ۔
◈ جھوٹ کی ہیٹرک
بہر حال موصوف نے اس کا جواب دیتے ہوئے ایک ہی سانس میں تین سفید اور صریح جھوٹ بول ڈالے ، لکھتے ہیں:
”اگر اس قاعدہ کو مطلقا مان لیا جائے تو اس لازم آئے گا کہ ربیع بن انس کے طریق سے ابو جعفر الرازی کی تمام احادیث ضعیف قرار پائے، اور ابو جعفر الرازی نے تقریبا سو سے زائد روایت ربیع بن انس سے بیان کی ہے، جسے ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اپنی صحاح میں نقل کیا ہے، کیا وہ سب احادیث اس قاعدہ بموجب مطلقا ضعیف ہو جائیں گی؟؟“
فیس بک سے موصوف کی پوسٹ کا عکس بھی ملاحظہ کرلیں
موصوف کے ان الفاظ کا اسکرین شاٹ بھی ہم نے پیش کردیا ہے
قارئین مراجعہ کرسکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ کس بے غیرتی اور ڈھیٹ پن سے آں جناب نے تین صریح جھوٹ بول ڈالے چنانچہ:
➊ پہلا جھوٹ: امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ پر
موصوف کا یہ دعوی کہ :
”ابو جعفر الرازی نے تقریبا سو سے زائد روایت ربیع بن انس سے بیان کی ہے، جسے ابن خزیمہ نے بھی اپنی صحیح میں میں نقل کیا ہے ۔“
یہ صریح جھوٹ ہے اور اس کے بالکل برعکس سچائی یہ ہے کہ ابو جعفر الرازی کی ربیع بن انس کے طریق سے ایک بھی روایت ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں نقل نہیں کی ہے۔
➋ دوسرا جھوٹ: امام ابن حبان رحمہ اللہ پر
موصوف کا یہ دعوی کہ:
”ابو جعفر الرازی نے تقریبا سو سے زائد روایت ربیع بن انس سے بیان کی ہے، جسے ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں میں نقل کیا ہے ۔“
یہ صریح جھوٹ ہے اور اس کے بالکل برعکس سچائی یہ ہے کہ ابو جعفر الرازی کی ربیع بن انس کے طریق سے ایک بھی روایت ابن حبان رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں نقل نہیں کی ہے۔
➌ تیسرا جھوٹ: اصحاب صحاح کی طرف مذکورہ طریق سے تقریبا سو سے زائد روایت کی نسبت
موصوف کا یہ دعوی کہ:
”ابو جعفر الرازی نے تقریبا سو سے زائد روایت ربیع بن انس سے بیان کی ہے، جسے ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اپنی صحاح میں نقل کیا ہے“
مذکورہ طریق سے مذکورہ صحاح میں ”تقریبا سو سے زائد روایت“ کا دعوی صریح جھوٹ ہے۔
ابن خزیمہ اور ابن حبان رحمہ اللہ کی صحیح میں تو اس طریق سے ایک بھی روایت نہیں ہے جیسا کہ وضاحت کی جاچکی ہے۔
اور حاکم نے اس طریق سے چند روایات نقل کی ہیں لیکن ان کی تعداد ”تقریبا سو“ تو دور کی بات ہے ”سو کا آدھا یعنی پچاس“ بلکہ ”سو کا چوتھائی یعنی پچیس“ بھی نہیں ہے ۔
بلکہ میں کافی محنت کے بعد بھی مستدرک حاکم میں اس طریق سے صرف دس ہی روایات تلاش کرسکا مزید تلاش کرنے پر ہوسکتا کہ دو چار روایات اور مل جائیں ۔
اب اتنی کم روایت کو ”تقریبا سو سے زائد روایت“ کہنا سفید اور صریح جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟؟
◈ قارئین کرام !
ملاحظ فرمایا آپ نے ؟ دن دہاڑے اتنی خطرناک واردات انجام دینے والے نہ جانے کس منہہ سے منہجی ہونے کا دعوی کرتے پھرتے ہیں !!!
میں کہتا ہوں کہ یہ شخص پوری دنیا کے منہجیوں کو اکٹھا کرلے ، جھوٹے بڑے تمام متخصصین کو بلالے ، اپنے آقاؤں اور سوامیوں کو پکارلے ، شیاطین اور جن سے بھی مدد مانگ لے پھر بھی اپنے مذکورہ تینوں دعووں میں کوئی ایک دعوی بھی ثابت نہیں کرسکتا !
حیرت کی بات ہے کہ میری جو دلیل ہے ہی نہیں اس کے جواب میں اقوالِ جرح و تعدیل کے قطار لگائے جارہے ہیں ۔
اور میری جو اصل دلیل ہے اس کے جواب میں جھوٹ پر جھوٹ ، جھوٹ پر جھوٹ ، جھوٹ پر جھوٹ !
◈ یادرہے کہ جس دوسری علت کی بناپر ہم نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے اس میں ہم منفرد بھی نہیں ہیں بلکہ ہم سے پہلے متعدد اہل علم اسی علت کے سبب اس روایت کو ضعیف قرار دے چکے ہیں تین اہل علم کے حوالے ملاحظہ ہوں:
① علامہ البانی رحمہ اللہ اس روایت کی تضعیف میں ابن حبان رحمہ اللہ کا قول پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
« والناس يتقون من حديثه ما كان من رواية أبي جعفر عنه، لأن في أحاديثه عنه اضطرابا كثيرا . وهذه منها. فالحديث عندي ضعيف»
”محدثین ربیع بن انس سے ابو جعفر کی روایات سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ ان میں بہت اضطراب ہوتا ہے۔ (علامہ البانی کہتے ہیں) اور یہ روایت اسی طریق سے ہے لہٰذا یہ حدیث میرے نزدیک ضعیف ہے“ [سلسلة الأحاديث الضعيفة 5/ 56]
② علامہ مقبل رحمہ اللہ کے شاگرد مصطفی العدوی فرماتے ہیں:
«ضعف أبي جعفر في الربيع، فقد قال ابن حبان في ترجمة الربيع: الناس يتقون من حديثه ما كان من رواية أبي جعفر عنه؛ لأن في أحاديثه عنه اضطرابا كثيرا»
”اس روایت کے ضعیف ہونے کی ایک وجہ ربیع سے روایت میں ابو جعفر کا ضعیف ہونا ہے امام ابن حبان نے ربیع کے ترجمہ میں کہا ہے: محدثین ربیع بن انس سے ابو جعفر کی روایات سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ ان میں بہت اضطراب ہوتا ہے“ [سلسلة الفوائد الحديثية والفقهية (10/ 171)]
③ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ سنن ترمذی کی اس روایت پر حکم لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:
”إسناده ضعيف أبوجعفر الرازي ضعيف عن الربيع بن أنس وحسن الحديث عن غيره“
”اس کی سند ضعیف ہے اور ابوجعفر رازی یہ ربیع سے روایت کرے تو ضعیف ہے اور اس کے علاوہ دوسرے سے روایت کرے تو حسن ہے“ [أنوار الصحيفة (ضعيف سنن الترمذي )رقم 2647 ص ص 247]
ملاحظہ فرمائیں یہ تین اہل علم ہیں جو اسی علت کے سبب اس روایت کی تضعیف کررہے ہیں جس علت کے سبب میں نے اسے ضعیف کہا ہے۔
لیکن ان سب کے جواب میں فریق مخالف کے پاس کچھ نہیں ہے ، اگر ہے تو صرف اتنا کہ :
(((ممکن ہے کوئی کہے۔۔۔۔))) اور پھر تین جھوٹ ۔
«جاری ہے»
( کفایت اللہ سنابلی)

Pingback: تحقیق حدیث ”من خرج في طلب العلم فهو في سبيل الله حتى يرجع“ (3 ، آخری قسط) – Kifayatullah Sanabili