امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی بدزبانی اور فحش گوئی کے چند نمونے

You are currently viewing امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی بدزبانی اور فحش گوئی کے چند نمونے

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی بدزبانی اور فحش گوئی کے چند نمونے

ایمان آدم علیہ السلام سے متعلق امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان درازی

امام يعقوب بن سفيان،الفسوي، (المتوفى: 277) نے کہا:
« حدثني أبو بكر عن أبي صالح الفراء عن الفزاري قَال : قال أبو حنيفة : ايمان آدم وايمان ابليس واحد ، قال ابليس: رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي، وقال: رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ، وقال آدم: رَبَّنَا ظَلَمْنَا»
”امام فزاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوحنیفہ نے کہا : آدم علیہ السلام کا ایمان اور ابلیس کاایمان یکساں ہے ، ابلیس نے کہا ’’اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراه کیا ہے‘‘نیزابلیس نے کہا :’’اے میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں‘‘ اورآدم علیہ السلام نے بھی کہا :’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا‘‘،“أَنْفُسَنَا.» [المعرفة والتاريخ للفسوي: 2/ 788 واسنادہ صحیح]۔

خلیفہ اول ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا ایمان اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان

امام عبد الله بن أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى:290) نے کہا:
«حدثني إبراهيم بن سعيد نا أبو توبة عن أبي إسحاق الفزاري قال كان أبو حنيفة يقول إيمان إبليس وإيمان أبي بكر الصديق رضي الله عنه واحد قال أبو بكر يا رب وقال إبليس يا رب»
”امام فزاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوحنیفہ کا کہنا تھا کہ ابلیس کا ایمان اور ابوبکررضی اللہ عنہ کا ایمان یکساں تھا ، ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے کہا اے میرے رب !اور ابلیس نے بھی کہا ہے کہ اے میرے رب ! !“[السنة لعبد الله بن أحمد: 1/ 219 ، قال محقق الکتاب محمد سعيد سالم القحطاني :اسنادہ صحیح]۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی روایت کو شیطان کا قول کہنا

خطیب بغدادی رحمہ اللہ (المتوفى:643) نے کہا:
«أخبرنا ابن رزق، أَخْبَرَنَا أَحْمَد بْن جعفر بْن سلم، حَدَّثَنَا أحمد بن علي الأبار، حدّثنا محمّد بن يحيى النّيسابوريّ- بنيسابور- حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرِ عَبْدُ اللَّه بْنُ عَمْرِو بن أبي الحجّاج ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ: كُنْتُ بِمَكَّةَ- وَبِهَا أَبُو حَنِيفَةَ- فَأَتَيْتُهُ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَأَجَابَ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: فَمَا رِوَايَةٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: ذَاكَ قَوْلُ شَيْطَانٍ. قَالَ: فَسَبَّحْتُ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ: أَتَعْجَبُ؟ فَقَدْ جَاءَهُ رَجُلٌ قَبْلَ هَذَا فَسَأَلَهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَأَجَابَهُ. قال: فَمَا رِوَايَةٌ رُوِيَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» ؟ فَقَالَ: هَذَا سَجْعٌ. فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذَا مَجْلِسٌ لا أَعُودُ فِيهِ
”بخاری و مسلم کے ثقہ راوی عبد الوارث بن سعيد بن ذكوان کہتے ہیں کہ : میں مکہ میں تھااور وہاں ابوحنیفہ بھی تھے ، تو میں بھی ان کے پاس آیا اس وقت وہاں اورلوگ بھی تھے ، اسی بیچ ایک شخص نے ابوحنیفہ سے ایک مسئلہ پوچھا جس کا ابوحنیفہ نے جواب دیا ، جواب سن کراس شخص نے کہا کہ پھر عمربن الخطاب سے مروی روایت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں تو ابوحنیفہ نے کہا کہ یہ تو شیطان کی بات ہے ، اس پر انہوں نے سبحان اللہ کہا ، یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ کیا تمہیں تعجب ہورہا ہے ؟؟؟ ارے ابھی اس سے پہلے بھی ایک صاحب نے سوال کیا تھا جس کا ابوحنیفہ نے جواب دیا تو سائل نے کہا کہ پھر آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» ؟؟؟؟تو ابوحنیفہ نے کہا کہ یہ تو تک بندی ہے ۔ یہ سب سن کرمیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں ایسی مجلس میں آئندہ کبھی نہیں آؤں گا۔“أَبَدًا.» [تاريخ بغداد:13/ 388 ، السنة لعبد الله بن أحمد 1/ 226 واسنادہ صحیح]۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان درازی پر ائمہ کی شہادت

امام عبد الله بن أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى:290) نے کہا:

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR100.00 for it.

Leave a Reply