اس مضمون میں ہم مذاہب اربعہ کے ایسے مسائل جمع کررہے ہیں جن پر چاروں مذاہب کا اتفاق ہے مگر یہ مسائل مرجوح اور بے دلیل ہیں۔
{اس مضمون میں اب تک ایسے اٹھارہ ( 18) مسائل جمع کئے جاچکے ہیں }
شیخ الاسلام ابن تیمیه رحمه اللہ فرماتے ہیں :
«وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْ عُلَمَاءِ الْمُسْلِمِينَ إِنَّ الْحَقَّ مُنْحَصِرٌ فِي أَرْبَعَةٍ مِنْ عُلَمَاءِ الْمُسْلِمِينَ كَأَبِي حَنِيفَةَ، وَمَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، كَمَا يُشَنِّعُ بذلك الشِّيعَةُ عَلَى أَهْلِ السُّنَّةِ، فَيَقُولُونَ: إِنَّهُمْ يَدَّعُونَ أَنَّ الْحَقَّ مُنْحَصِرٌ فِيهِمْ. بَلْ أَهْلُ السُّنَّةِ مُتَّفِقُونَ عَلَى أَنَّ مَا تَنَازَعَ فِيهِ الْمُسْلِمُونَ وَجَبَ رَدُّهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ، وَأَنَّهُ قَدْ يَكُونُ قَوْلٌ مَا يُخَالِفُ قَوْلَ الْأَرْبَعَةِ: مِنْ أَقْوَالِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ لَهُمْ بِإِحْسَانٍ، وَقَوْلِ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةِ . مِثْلُ: الثَّوْرِيِّ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ وَغَيْرِهِمْ أَصَحُّ مِنْ قَوْلِهِمْ»
”مسلمانوں کے کسی عالم نے کبھی بھی یہ بات ہرگز نہیں کہی کہ حق صرف مسلمانوں کے چار ائمہ ہی میں منحصر ہے یعنی ابوحنیفہ ، مالک ، شافعی اور احمد _ جیسے کہ شیعہ اھل سنت کو یہ قبیح الزام دیتے ہیں کہ اھل سنت ان چار ائمہ میں ہی حق ہونے کے دعوے دار ہیں _بلکہ اھل سنت تو اس بات پر متفق ہیں کہ جب بھی مسلمانوں میں دین کی کسی بات پہ جھگڑا ہو تو واجب ہے کہ اسے اللہ اور اسکے رسول کی طرف لوٹایا جائے _ کیونکہ ایسا بالکل ممکن ہے کہ کوئی قول ان چاروں کے قول کے مخالف ہو اور مخالف قول صحابہ و تابعین میں سے کسی کا ہو ،اور یہ بھی ہوتا ہے کہ سفیان و اوزاعی و لیث و اسحاق کا قول ائمہ اربعہ کے قول سے راجح ہو“[منھاج السنة ، 2/369]
دوسرے مقام پہ لکھتے ہیں :
”أَنَّ أَهْلَ السُّنَّةِ لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِنَّ إِجْمَاعَ الْأَئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ حُجَّةٌ مَعْصُومَةٌ، وَلَا قَالَ: إِنَّ الْحَقَّ مُنْحَصِرٌ فِيهَا وَإِنَّ مَا خَرَجَ عَنْهَا بَاطِلٌ، بَلْ إِذَا قَالَ: مَنْ لَيْسَ مِنْ أَتْبَاعِ الْأَئِمَّةِ كَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَمَنْ قَبْلَهُمْ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْمُجْتَهِدِينَ قَوْلًا يُخَالِفُ قَوْلَ الْأَئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ ، رُدَّ مَا تَنَازَعُوا فِيهِ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَكَانَ الْقَوْلُ الرَّاجِحُ هُوَ الْقَوْلُ الَّذِي قَامَ عَلَيْهِ الدَّلِيلُ.“
”بلا شبہ اھل سنت یہ بات ہرگز نہیں کہتے کہ ائمہ اربعہ کا کسی مسئلہ پہ اتفاق و اجماع حجت اور خطا سے پاک ہے _ اور یہ بھی نہیں کہتے کہ حق صرف انہی میں منحصر ہے اور جو ان کے علاوہ ہے وہ باطل ہے _ بلکہ جب وہ ائمہ جن کے متبعین موجود نہیں جیسے کہ سفیان و اوزاعی وغیرہ، یا ان کے بعد والے لوگ ، بھی کوئی ایسی بات کہیں جو ان چاروں کی رائے کے خلاف ہو تو اس صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بات لوٹائی جائے گی _ اور وہی قول راجح قرار پائے گا جس پہ دلیل قائم ہو“[ منھاج السنة ، 3/412]
(منقول)
اب ملاحظہ ہوں مذاہب اربعہ کے ایسے متفقہ مسائل جو مرجوح اور بے دلیل ہیں
①
باجماعت نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ قدم سےقدم ملا کر کھڑے ہونا
چاروں مذاہب کا اتفاق ہے نماز میں نمازی ایک دوسرے سے قدم سے قدم ملا کر نہیں کھڑے ہوں بلکہ فاصلہ رکھیں گے لیکن فاصلہ رکھنے کے بعد ہر آدمی کے اپنے دونوں پاؤں کے بیچ کتنی دوری ہوگی اس پر چاروں مذاہب نے بے بغیرکسی دلیل کے اپنی اپنی رائے پیش کی ہے ۔دیکھئے :[الفقه على المذاهب الأربعة 1/ 234]
الحمدللہ صرف جماعت اہل حدیث کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ کندھے سے کندھا اور قدم سےقدم ملا کر کھڑے ہوتے ہیں جیساکہ صحیح بخاری کی حدیث ہے ۔
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256) نے کہا:
”حدثنا عمرو بن خالد، قال: حدثنا زهير، عن حميد، عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أقيموا صفوفكم، فإني أراكم من وراء ظهري، وكان أحدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه، وقدمه بقدمه“
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اپنی صفوں کو درست رکھا کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔ اس کے بعد ہم میں سے ہر شخص اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم اپنے ساتھی کے قدم سے ملا دیتا تھا“ [صحيح البخاري 1/ 146 رقم 725]
اس ثابت شدہ سنت پر مذاہب اربعہ کا عمل نہیں ہے ، حتی کہ مذہب حنبلی میں بھی اس حدیث کی تاویل کردی گئی ہے ، حنبلی علماء کے اس طرزعمل پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”ومن المؤسف أن هذه السنة من التسوية قد تهاون بها المسلمون، بل أضاعوها إلا القليل منهم، فإني لم أرها عند طائفة منهم إلا أهل الحديث، فإني رأيتهم في مكة سنة (1368) حريصين على التمسك بها كغيرها من سنن المصطفى عليه الصلاة والسلام بخلاف غيرهم من أتباع المذاهب الأربعة - لا أستثني منهم حتى الحنابلة - فقد صارت هذه السنة عندهم نسيا منسيا، بل إنهم تتابعوا على هجرها والإعراض عنها، ذلك لأن أكثر مذاهبهم نصت على أن السنة في القيام التفريج بين القدمين بقدر أربع أصابع، فإن زاد كره، كما جاء مفصلا في الفقه على المذاهب الأربعة (1 / 207) ، والتقدير المذكور لا أصل له في السنة، وإنما هو مجرد رأي“
”افسوس کی بات ہے کہ صف کی درستگی سے متعلق اس سنت پر عمل سے لوگوں نے کوتاہی کی ہے بلکہ اسے ضائع کردیا ہے کیونکہ میں نے اس پر کسی کے یہاں عمل نہیں دیکھا سوائے اہل حدیث کے کیونکہ میں نے سن 1368 میں مکہ میں اہل حدیثوں کو اس سنت کی پابندی کرتے دیکھا ہے جیساکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر سنن کے بھی پابند ہوتے ہیں ، برخلاف دوسرے لوگوں کے جو مذاہب اربعہ کی پیروی کرتے ہیں ، حتی کہ حنابلہ کو بھی میں مستثنی نہیں کرتا کیونکہ ان کے یہاں بھی یہ سنت بھلا دی گئی ہے ، بلکہ ان میں سبھوں نے اس سنت کر چھوڑ دیا اور اس سے اعراض کررکھا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں اکثر لوگوں نے یہ صراحت کر رکھی ہے کہ دوران قیام نمازی کے دونوں قدم کے بیچ چار انگلی کا فاصلہ ہونا چاہئے اس سے زیادہ فاصلہ رکھنا مکروہ ہے جیساکہ (الفقه على المذاهب الأربعة 1/ 207) میں اس کا تفصیلی ذکر ہے ، اور اس حد بندی کی سنت میں کوئی اصل نہیں ہے بلکہ یہ محض لوگوں کی رائے ہے“ [سلسلة الأحاديث الصحيحة 1/ 73]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے چاروں مذاہب پر نقد کرنے ساتھ ساتھ یہ اعتراف کیا ہے کہ اس سنت پر اہل حدیث عمل پیرا ہیں والحمد للہ۔
②
عیدین میں خطبہ کی تعداد
چاروں مذاہب کا اتفاق ہے کہ عیدین میں دو خطبے ہوں گے ۔[الفقه على المذاهب الأربعة 1/ 321]
الموسوعة الفقهية (الدررالسنية) والوں نے لکھا ہے:
”يسن للعيد خطبتان وهذا باتفاق المذاهب الفقهية الأربعة الحنفية والمالكية والشافعية والحنابلة“
”عید میں دو خطبہ سنت ہے اس پر چاروں فقہی مذاہب حنفية ، مالكية ،شافعية اورحنابلة کا اتفاق ہے“ [موقع الدرر السنية على الإنترنت ]
لیکن بخاری ( 961 ) ومسلم (885) کی احادیث میں صرف اور صرف ایک ہی خطبہ کا ذکر ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”المشهور عند الفقهاء رحمهم الله أن خطبة العيد اثنتان لحديث ضعيف ورد في هذا، لكن في الحديث المتفق على صحته أن النبي صلى الله عليه وعلى آله وسلم لم يخطب إلا خطبة واحدة وأرجو أن الأمر في هذا واسع“
”فقہاء رحمہم اللہ کے یہاں مشہور یہی ہے کہ عید میں دو خطبے ہوں گے ، اس کی وجہ اس سلسلے میں وارد ایک ضعیف حدیث ہے ، لیکن بخاری ومسلم کی متفق علیہ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ہی خطبہ دیا ہے ، اور مجھے امید ہے کہ اس معاملے میں وسعت ہے“ [مجموع فتاوى ورسائل العثيمين 16/ 246]
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے گرچہ مذاہب اربعہ کے اتفاق کے سبب وسعت کی بات کی ہے لیکن یہ تسلیم کرلیا ہے کہ دو خطبہ والی حدیث ضعیف ہے اور اس کے خلاف صحیحین کی احادیث سے صرف اور صرف ایک ہی خطبہ ثابت ہے۔ بلکہ شیخ ابن عثمین رحمہ اللہ اپنی زندگی کے آخر پانچ سالوں میں ایک ہی عیدین میں ایک ہی خطبہ پر عمل کیا تھا ، دیکھئے:[ لقاءاتي مع الشيخين د. عبدالله الطيار 2/ 190]
الحمدللہ اہل حدیث کا عیدین میں ایک ہی خطبہ پر عمل ہے ۔اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی اپنی آخر عمر میں چاروں مذہب کے خلاف ایک ہی خطبہ پر عمل کیا کیونکہ صحیح حدیث سے یہی ثابت ہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ کا بھی یہی فتوی ہے کہ عیدین مین ایک ہی خطبہ ہوگا۔[سلسلة الهدى والنور (مفرغ كاملا) 12/ 52
③
عورتوں کا مساجد میں نماز پڑھنا
چاروں ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ نوجوان عورتوں کا مساجد میں آکر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
امام ابن ھبیرہ البغدادی (المتوفی 560) فرماتے ہیں:
”واتفقوا علي أنه يكره للشباب منهن حضور جماعات الرجال“
”ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ نوجوان عورتوں كا مساجد ميں مردوں کی جماعت میں حضر ہونا مکروہ ہے“ [إجماع الأئمة الأربعة واختلافهم لابن هبيره : 1 / 172]
عرض ہے کہ عورتیں جوان ہوں یا بوڑھیں ان کا مسجد میں آنا سنت سے ثابت ہے ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مساجد میں آنے کی اجازت دی ہے نیز شوہروں کو حکم دیا ہے کہ اگر خواتین مسجد میں نماز پڑھا چاہیں تو انہیں مت روکو ۔[صحيح البخاري رقم 5238]
بعض احادیث میں عورتوں کے لئے گھر میں نماز پڑھنے کو افضل کہا گیا ہے اس اعتبار سے مسنون ہونے کے بعد افضل اور مفضول کی بات تو ہوسکی ہے مگر مکروہ کی بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔
اگر عورتوں کا مسجد آنا واقعی مکروہ ہوتا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شوہروں کو یہ حکم نہیں دیتے کہ اپنی بیوی کو مسجد آنے سے مت روکو بلکہ انہیں اجازت دیتے کہ وہ اپنی بیویوں کو اس مکروہ کام سے روک سکتے ہیں ۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی جوان اور بوڑی عورتوں میں کوئی تفریق کی ہے۔لہٰذا نوجوان عورتوں کے مسجد میں آنے کو مکروہ کہنا بے دلیل بلکہ احادیث کے خلاف ہے ۔
اسی لئے امام ابن ھبیرہ ائمہ اربعہ سے مذکورہ قول نقل کرنے کے بعد اس کی سختی سے تردید کی ہے چنانچہ:
امام ابن ھبیرہ البغدادی (المتوفی 560) نے کہا:
”قلت: والذي أري حضورهن الجماعات ، وأنهن يكن في آخر صفوف الرجال علي ماجاءت به الأحاديث ومضي عليه زمان المصطفي صلي الله عليه وسلم والصدر الأول غير مكروه بل مسنون وإن من علل كراهية ذلك بخوف الافتنان بهن فإن قوله ذلك مردود عليه بالحجج“
”میں کہتا ہوں کہ : میرا ماننا یہ ہے کہ عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا اس طرح کہ وہ مردوں کی صفوں کے بعد کھڑی ہوں گی جیساکہ احادیث سے یہ ثابت ہے اور عہدسالت اور شروع کے زمانے میں یہی معمول تھا ، یہ مکروہ نہیں بلکہ مسنون ہے ، اور جن لوگوں نے فتنہ کے خوف سےاسے مکروہ کہا ہے ان کی بات دلائل کی روشنی میں مردود ہے“ [إجماع الأئمة الأربعة واختلافهم لابن هبيره : 1 / 172]
④
عمدا چھوڑی گئی نمازوں کی قضاء
چاروں مذاہب کا اتفاق ہے کہ اگر جان بوجھ کر بغیر عذر کے بھی کسی نے نماز چھوڑی ہے خواہ سالہا سال سے ایسا کرتے آرہا ہے ہو اس پر ان نمازوں کی قضاء واجب ہے [الفقه على المذاهب الأربعة 1/ 446]
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”فجمهورهم قالوا: يجب عليه قضاء جميع الصلوات التي تركها بعد البلوغ ولو كانت أكثر من خمسين سنة، وهذا مذهب مالك، وأبي حنيفة، والشافعي، وأحمد، فجميع هؤلاء الأئمة الأربعة متفقون على أنه يجب عليه قضاء ما فاته بعد بلوغه“
”جمہور اہل علم کا کہنا ہے کہ جس نے بلوغت کے بعد نمازیں چھوڑدیں خواہ پچاس سال سے اس نے نمازیں چھوڑی ہوں اس پر ان تمام نمازوں کی قضاء واجب ہے ، یہ امام مالک ، امام ابوحنیفہ ، امام شافعی اور امام احمد کا مذہب ہے ، یہ تمام ائمہ اربعہ اس بات پر متفق ہیں کہ بلوغت کے بعد جو نمازیں چھوڑ دی گئی ان کی قضاء واجب ہے“ [مجموع فتاوى ورسائل العثيمين 12/ 104]
لیکن چاروں مذاہب کی یہ متفقہ رائے صحیح احادیث کے خلاف ہے ۔
کیونکہ صحیح احادیث کے مطابق جس سے کسی عذر کی بناپر کوئی نماز چھوٹ جائے اس کے لئے قضاء کا حکم ہے۔
مثلا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”من نسي الصلاة فليصلها إذا ذكرها“
”جو نماز پڑھنا بھول جائے اسے جب یاد آئے پڑھ لے“ [صحيح مسلم 2/ 471 رقم 680]
اسی طرح دیگر عذر سے متعلق بھی احادیث ہیں۔
اور جو شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے اس کے لئے قضاء کا حکم نہیں بلکہ وعید ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:
”بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة“
”آدمی کے شرک وکفر کے درمیان حد فاصل نماز ہے“ [صحيح مسلم 1/ 88 رقم 82]
شریعت میں دونوں طرح چھوٹنے والی نمازوں سے متعلق فرق کیا گیا ہے ۔
علاوہ بریں نمازیں یہ مقررہ اوقات میں فرض ہیں ۔ اور صحت صلاۃ کے لئے ان نمازوں کو ان کے اوقات میں پڑھنا ضروری ہے۔
اب معذورں کے لئے یہ استثناء ملتا ہے کہ وہ بعد میں پڑھ لیں تو ان کی نمازیں معتبر ہوں گی لیکن جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والوں کے لئے یہ استثناء نہیں ملتا ہے ۔ اس لئے ان کی طرف سے بعد میں نمازوں کی ادائیگی معتبر نہ ہوگی ۔ واللہ اعلم۔
لہٰذا اگر کسی شخص سے عذر کی بناپر نماز چھوٹ جائے تو عذر ختم ہوتے ہی وہ نماز کی قضاء کرے گا جیساکہ احادیث میں ہے۔
لیکن اگر کسی نے جان بوجھ کر نمازیں چھوڑ دیں تو شریعت میں اس کے لئے قضاء کی سہولت نہیں دی گئی بلکہ اس کے لئے سخت وعید وارد ہے لہٰذا ایسا شخص قضاء نہیں کرسکتا بلکہ وہ توبہ و استغفار کرے اور زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھے بکثرت صدقہ وخیرات کرے۔
ان دلائل کی وجہ سے بہت سے سارے ائمہ کا موقف چاروں مذہب کے متفقہ فتوی کے خلاف اور صحیح احادیث کے موافق ہے،ان میں درج ذیل ائمہ قابل ذکر ہیں:
امام حمیدی (المتوفى 219 ) رحمہ اللہ[مسند الحميدي 2/ 547]
امام ابن حزم (المتوفى456) رحمه الله [المحلى لابن حزم، ط بيروت: 2/ 10]
شيخ الاسلام ابن تيمية (المتوفى728)رحمه الله [مجموع الفتاوى، ت حسنين: 5/ 319]
امام ابن القيم رحمه الله (المتوفى751) [كتاب الصلاة لابن القیم: ص123 تا 260]
امام ابن رجب (المتوفى795)رحمه الله [فتح الباري لابن رجب: 5/ 139]
امام شوكاني (المتوفى1250)رحمه الله [نيل الأوطار 2/ 2]
علامہ البانی رحمہ اللہ[سلسلة الأحاديث الصحيحة 1/ 141]
امام ابن رجب رحمہ اللہ نے یہی قول امام حسن بصری ، امام شافعی کے شاگرد عبدالرحمن ، امام شافعی کے بھانجے ، امام حمیدی ، امام جوزجاني اور امام ابن بطة وغیرہ سے نقل کیا ہے [شرح علل الترمذي لابن رجب، ت همام: 1/ 294]
اس مسئلہ میں ائمہ اربعہ متفقہ کے موقف کے خلاف رائے رکھنے والے ائمہ واہل علم کی تعداد بہت بڑی ہے۔
⑤
حاملہ اور مرضعہ کے روزوں کی قضاء کا مسئلہ
چاروں ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ حمل والی اور دودھ پلانے والی عورت کو اگر یہ خوف لاحق ہو کہ رمضان میں ان کے روزہ رکھنے سےان کے بچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہیں لیکن بعد میں ان پر ان روزوں کی قضاء لازم ہے ۔
امام ابن ھبیرہ البغدادی (المتوفی 560) فرماتے ہیں:
”واتفقوا علي أن للحامل والمرضع مع خوفهما علي ولديهما الفطر وعليهما القضاء“
”ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ حمل والی اور دودھ پلانے والی عورت کو اگر اپنے بچوں پر خوف ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہیں لیکن بعد میں ان پر قضاء لازم ہے“ [إجماع الأئمة الأربعة واختلافهم لابن هبيره : 1 / 293]
ائمہ اربعہ کا متفقہ طور پر یہ کہنا کہ حاملہ اور مرضعہ پر روزوں کی قضاء واجب ہے ، اس کی کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ہے۔ نیز ان کا یہ موقف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے موقف کے بھی خلاف ہے ۔
صحابہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح ثابت ہے کہ حاملہ اور مرضعہ روزہ کی قضاء نہیں کریں گی ، چنانچہ:
امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385) نے کہا:
”حدثنا أبو صالح , ثنا أبو مسعود , ثنا محمد بن يوسف , عن سفيان , عن أيوب , عن سعيد بن جبير , عن ابن عباس , أو ابن عمر , قال: الحامل والمرضع تفطر ولا تقضي“
”ابن عباس یا ابن عمر رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ حمل والی اور دودھ پلانے والی عورت روزے کی قضاء نہیں کرے گی“ [سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 3/ 198 رقم 2385 وإسناده صحيح]
امام ایوب رحمہ اللہ نے ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ذکر میں شک کیا ہے ، لیکن کسی بھی اعتبار سے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ دونوں صحابی ہیں اس لئے ثقہ وضعیف کا مسئلہ ہی نہیں ، اور دونوں سے یہ مسئلہ ثابت ہے ۔تاہم ابوعبید کی سندمیں امام ایوب نے بغیر شک کے صرف ابن عباس رضی اللہ عنہ کا نام لیا ہے ، دیکھیں:[الناسخ والمنسوخ للقاسم بن سلام 1/ 65]
اس لئے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا تعین راجح ہے ۔
امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211) نے کہا:
”عن معمر، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر قال: الحامل إذا خشيت على نفسها في رمضان تفطر، وتطعم، ولا قضاء عليها“
”ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ : حاملہ عورت کو اگر رمضان میں خود پر خوف ہو تو وہ روزہ چھوڑ دے اور کھانے کا کفارہ دے اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہے“ [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 4/ 218 وإسناده صحيح]
نیز دیکھیں :[تفسير الطبري، ت شاكر: 3/ 428 ، تفسير ابن أبي حاتم: 1/ 307]
تابعین میں امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بھی یہ قول ہے چنانچہ:
امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211) نے کہا:
”أخبرنا معمر، عن أيوب، عن سعيد بن جبير قال: تفطر الحامل التي في شهرها، والمرضع التي تخاف على ولدها تفطران، وتطعمان كل واحدة منهما كل يوم مسكينا، ولا قضاء عليهما“
”امام سعید بن جبیررحمہ اللہ نے کہا کہ: رمضان میں حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت جس کو اپنے بچے پر خوف ہو یہ دونوں روزہ چھوڑ دیں گے اور ہر دن ایک مسکین کوکھانا کھلائیں گے اور ان دونوں پر قضاء نہیں ہے“ [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 4/ 216 وإسناده صحيح]
امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264) نے کہا:
”الشيخ الكبير والحامل والمرضع، يطعمون لكل يوم مدا من حنطة، ولا يقضوا“
”بڑی عمر کا بوڑھا شیخ ، حمل والی اور دودھ پلانی والے عورت ، یہ سب روزآنہ ایک مد گندم کھانا (مسکین کو) کھلائیں گے اور قضاء نہیں کریں گے“ [تفسير ابن أبي حاتم: 1/ 307 وإسناده صحيح]
امام ابوزرعہ سے یہ قول ثابت ہے کیونکہ ان کے شاگرد ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے ۔
اس مسئلہ میں بھی چاروں ائمہ کے متفقہ فتوی کے خلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے عدم قضاء کا فتوی مروی ہے ،بلکہ صحابہ میں عدم قضاء کے علاوہ کوئی دوسرا قول موجود ہی نہیں ہے اسی طرح یہ قول تابعین سے بھی ملتا ہے ، نیز امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264) کا بھی یہی قول ہے ۔ یعنی اس مسئلہ میں بھی ائمہ اربعہ کے متفقہ فتوی کے خلاف دیگر بڑے بڑے ائمہ کا قول موجود ہے۔
⑥
روزہ میں غلطی سے طلوع شمس سے پہلے یا طلوع فجر کے بعد کھا پی لینا
روزہ کی حالت میں اگر بھول کر کوئی کھا پی لے تو اکثر علماء اسی بات کے قائل ہیں یاد آتے ہی وہ کھانے پینے سے رک جائے ، اس سے اس کا روزہ صحیح ہوگا اور قضاء کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن اگر کوئی بھول کر نہیں بلکہ عمدا مگر غلطی سے کھاپی لیے اس طرح کہ اسے لگے کہ سورج غروک ہوگیا اور افطار کرلے ، یا غلط اندازے سے طلوع فجر کے بعد بھی کھا پی لیے تو اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ اسے اس روزہ کی قضاء کرنی ہوگی ۔
امام ابن ھبیرہ البغدادی (المتوفی 560) فرماتے ہیں:
”واتفقوا علي أنه إذا أكل وهو يظن أن الشمس قد غابت ، أو أن الفجر لم يطلع بخلاف ذلك أنه يجب عليه القضاء“
”ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی رمضان میں کھالے یہ سمجھتے ہوئے کہ سورج غروب ہوگیا ، یا اس کے برخلاف یہ سمجھتے ہوئے کہ ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی ، تو اس پر روزے کی قضاء واجب ہے“ [إجماع الأئمة الأربعة واختلافهم لابن هبيره : 1 / 288]
لیکن یہ قول صحیح بخاری وغیرہ کی اس حدیث کے خلاف ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ عہد رسالت میں بعض صحابہ طلوع فجر کا وقت معلوم کرنے کے لئے اپنے بستر پر کالا دھاگہ اور سفید دھاگہ رکھتے تھے اور جب تک ان دونوں کا فرق نظر نہیں آتا تب تک کھاتے پیتے رہتے تھے ۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کی کہ سفید اور کالے دھاگے سے مراد دن اور رات ہے ۔لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان صحابہ کو روزہ قضاء کرنے کاحکم نہیں دیا دیکھئے:
اس صحیح حدیث کی بناپر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف یہی ہے ایسی غلطی پر روزہ کی قضاء نہیں کی جائے گی۔ [مجموع الفتاوى 20/ 572]۔
عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دورمیں تقریبا اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’الْخَطْبُ يَسِيرٌ وَقَدِ اجْتَهَدْنَا‘‘”معاملہ بہت آسان ہے، ہم نے اجتہاد کیا ہے“[موطأ مالك:1/ 303واسنادہ صحیح]۔
شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ قضاء کی ضروت نہیں جن لوگوں نے اس سے قضاء مراد لی ہے انہوں نے تاویل کی ہے جو درست نہیں [مجموع الفتاوى 20/ 573]۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہی کی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اس عمل کو اجتہادی عمل قراردیا ہے جس سے اشارہ ملتاہے کہ قضاء کی ضرورت نہیں ۔
ایک روایت میں صراحت ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے کہا : ”وَاللهِ لَا نَقْضِيهِ“ یعنی اللہ کی قسم ہم قضاء نہیں کریں گے۔[المعرفة والتاريخ 2/ 765، السنن الكبرى للبيهقي 4/ 368 رجالہ ثقات]۔
شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے[مجموع الفتاوى 20/ 573] اورکئی محققین کی نظرمیں یہ روایت صحیح ہے مگر اس کی سند میں اعمش کا عنعنہ ہے لیکن اعمش نے یہاں عن المسيب بن رافع، عن زيد بن وهب کے طریق روایت کیا ہے اور زید بن وھب امام اعمش کے استاذ ہے اس لئے امام اعمش کو تدلیس کرنی ہوتی تو المسيب بن رافع کو ساقط کرکے روایت کرتے جیساکہ عبدالرزاق کی سند میں انہوں نے المسيب بن رافع کو ساقط کرکے زيد بن وهب سے روایت کیا ہے[مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 4/ 179]
لیکن یہاں وہ المسيب بن رافع کے واسطے سے زيد بن وهب سے روایت کررہے ہیں جس سے اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے اس سند میں تدلیس نہیں کی ہے، واللہ اعلم۔
بہر حال بخاری وغیرہ کی مذکورہ حدیث سے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے موقف پر دلیل ہے ۔نیز اس کی دلیل یہ حدیث بھی ہے:
”عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ“
”صحابی رسول عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے میری امت سے (انجانے میں ہونے والی ) غلطی ، بھول چوک اور زورزبردستی کے نتیجہ میں ہونے والے خلاف شرع کاموں کو معاف کردیاہے“ [سنن ابن ماجه رقم 2045 صحیح بالشواہد]
ابن تیمہ ہی جیسا قول دیگر کئی ائمہ سے بھی مروی ہے ۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”وحكي عن عروة، ومجاهد والحسن، وإسحاق: لا قضاء عليهم“
”امام عروہ ، امام مجاہد ،امام حسن اور امام اسحاق سے مروی ہے ان پر روزہ کی قضاء نہیں ہے“ [المغني لابن قدامة 3/ 147]
ان تمام نے ائمہ اربعہ کے متفقہ فتوی خلاف حدیث کے مطابق موقف اپنایا ہے ۔
⑦
فقراء ومساکین کو صدقۃ الفطر دینے کا وقت
چاروں مذاہب کا اتفاق ہے کہ عید الفطر سے ایک دو دن پہلے فقراء ومساکین کو صدقہ الفطر دے سکتے ہیں بلکہ بعض تو اس سے بھی قبل دینے کے قائل ہیں۔
لیکن صحیح حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کے دن ہی اسے ادا کرنے یعنی فقراء ومساکین کو دینے کا حکم دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو یہ حدیث:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى العَبْدِ وَالحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ مِنَ المُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ»
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی تھی۔ غلام ‘ آزاد ‘ مرد ‘ عورت ‘ چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ تھا کہ نماز (عید) کے لیے جانے سے پہلے یہ صدقہ ادا کر دیا جائے۔ [صحيح البخاري 1503]
.
امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456) اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
« فهذا وقت أدائها بالنص»
”تو فطرہ ادا کرنے کا (یعنی فقراء ومساکین کو دینے کا ) یہی وقت ہے“ [المحلى لابن حزم، ط بيروت: 4/ 266]
اس کے بعد جو لوگ اس سے پہلے دینے کا قائل ہیں ان کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
« لم يجز تقديمها قبل وقتها ولا يجزئ»
”فطرہ کا جو وقت ہے اس سے پہلے اسے دینا جائز نہیں ہے اور ایسا کرنے سے فطرہ ادا نہیں ہوگا“ [المحلى لابن حزم، ط بيروت: 4/ 266]
.
صاحب تحفۃ الأحوذی علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وأما إعطاؤها قبل الفطر بيوم أو يومين للفقراء فلم يقم عليه دليل»
”رہا یوم عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے فقراء کو فطرہ دینا تو اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے“ [تحفة الأحوذي 3/ 285]
جو حضرات ایک دو دن پہلے فقراء ومساکین کو فطرہ دینے کے قائل ہیں ان کا استدلال اس حدیث سے ہے:
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «يُعْطِيهَا الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا، وَكَانُوا يُعْطُونَ قَبْلَ الفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ»
ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر قبول کرنے والوں (یعنی جمع کرنے کی خاطر وصولنے والوں )کو دیتے تھے، اور لوگ صدقہ فطر ایک یا دو دن پہلے ہی دے دیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري 1511]
عرض ہے کہ:
امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کے فورا بعد لکھا ہے:
«كانُوا يُعْطُونَ لِيُجْمَعَ لا لِلفُقَرَاءِ»
”یہ لوگ ایک دو دن پہلے جمع کرنے کے لئے دیتے تھے نہ کہ (ڈائریکت) فقراء کو دیتے تھے“ [صحيح البخاري - بحاشية السهارنفوري - ت الندوي 3/ 563]
صاحب تحفۃ الأحوذی علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وهذا إن دل على التقديم فإنما يدل على جواز تقديمها للجمع لا على الأعطاء للفقراء قبل يوم الفطر»
”اس میں اگر کسی چیز کی دلیل ہے تو بس اتنی کہ فطرہ جمع کرنے والوں کو عید الفطر سے پہلے دیا جاسکتا ہے نہ فقراء کے حوالے کرنے کے لئے۔“ [تحفة الأحوذي 3/ 285 ]
اور مؤطا کی روایت میں صراحت ہے :
« مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَبْعَثُ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ إِلَى الَّذِي تُجْمَعُ عِنْدَهُ قَبْلَ الْفِطْرِ، بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةٍ.»
”نافع کہتے ہیں کہ ابن عمررضی اللہ عنہ صدقہ الفطرہ کو عید الفطر سے دو یا تین دن پہلے اس شخص کے پاس بھیجتے تھے جو جمع کرتا تھا“ [موطأ مالك ت الأعظمي 2/ 405 رقم994 وإسناده صحيح علي شرط الشيخين]
اور مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے:
« حدثنا أبو أسامة, قال: حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، أنه كان إذا جلس من يقبض الفطرة قبل الفطر بيومين أو يوم أعطاها إياه قبل الفطر بيوم أو يومين، ولا يرى بذلك بأسا »
”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص فطرہ جمع کرنے والا (یعنی وصول کرنے والا یا عامل) عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے بیٹھ جاتا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہ اسے فطرہ ایک یا دو دن پہلے دے دیتے تھے، اور اس میں کوئی حرج یا مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔“ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 6/ 421 وإسناده صحيح]
یہی معاملہ صحیح بخاری کی اس معلق اس روایت کا بھی ہے جس میں ذکر ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ زکاۃ رمضان یعنی صدقۃ الفطر کی رکھوالی کررہے تھے اور بار بار شیطان آرہا ہے تھا اس میں تین دن کا ذکر ہے ۔
تو یہاں بھی مال جمع کرنے کی بات ہے فقیر ومسکین کو دینے کی بات نہیں ۔ نیز دیکھیں :[المحلى لابن حزم، ط بيروت: 4/ 266]
خلاصہ یہ کہ:
اگر ایک یا دو تین دن پہلے فطرہ ان لوگوں کو دیا جاسکتا ہے جو پہلے جمع کرنے کے بعد عید کے روز فقراء ومساکین تک پہنچانے کی ذمہ داری لیتے ہوں ۔
ورنہ اگر ڈائریکٹ فقراء ومساکین کو دینا ہے تو عید کے روز ہی دینا چاہئے ۔
⑧
شوال کے چاند سے متعلق تنہا عورت کی گواہی
احناف اور حنابلہ کے یہاں رمضان کے چاند میں ایک عورت کی گواہی کافی ہے ، مگر شوال کے چاند میں چاروں مذاہب کا اتفاق ہے کہ اس میں ایک عورت کی گواہی کافی نہیں ہے ۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ ان سب سے اختلاف کرتے ہوئے اس بات کے قائل ہے کہ شوال کے چاند میں بھی تنہا عورت کی گواہی کافی ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”أما من فرق بين الهلالين فما نعلم لهم حجة“
”جن لوگوں رمضان اور شوال کے چاند کی تفریق کی ہے تو ہمیں ان کے حق میں کوئی دلیل نظر نہیں آتی“[المحلى لابن حزم: 6/ 235]
امام ابن حزم رحمہ اللہ کا موقف چاروں مذاہب کے بالمقابل زیادہ وزن دار معلوم ہوتا ہے۔
قدرے تفصیل ان کی کتاب ”المحلی“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
⑨
حلف بالطلاق کا مسئلہ
اگر شوہر بیوی کو کسی کام سے روکنے یا کوئی کام کروانے کی خاطر اس کے ساتھ طلاق کو معلق کردے ، مثلا یہ کہے اگر تو نے آج یہ کام نہیں کیا تو تجھ کو طلاق ، یا اگر تو آج بازار چلی گئی تو تجھ کو طلاق ، ایسا کرنے سے شوہر کی نیت صرف دھمکانا ہی ہو تو بھی اس مسئلہ میں چاروں مذاہب کا اتفاق ہے کہ یہ حلف بالطلاق ہے اور شرط پوری ہونے کے بعد طلاق واقع ہوجائے گی اور اس میں کفارہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، یعنی شرط پوری ہونے کے بعد شوہر کفارہ دے کر حلف بالطلاق سے دست بردار نہیں ہوسکتا۔[المبسوط للسرخسي 6/ 97-98 ، التلقين للثعلبی : 1/ 320-322 ، الوسيط للغزالی :5/ 427، 454 ، الإنصاف للمرداوي 9/ 59-60]
مذاہب اربعہ کا یہ متفقہ فتوی بھی بے دلیل اور بے بنیاد ہے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے بھی ایسا فتوی نہیں دیا ہے بلکہ اس قبیل کے ان کے دیگر فتاوی سے ظاہر ہے ان کی نظرمیں اس رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے جیساکہ امام ابن القیم رحمہما اللہ نے واضح کیا ہے۔ دیکھئے:[إغاثة اللهفان 2/ 791]
نیز تابعین میں بعض اہل علم نے حلف بالطلاق کاباطل قرار دیا ہے، چنانچہ:
● امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211) نے کہا:
”عن ابن جريج قال: أخبرني ابن طاوس، عن أبيه، أنه كان يقول: «الحلف بالطلاق باطل ليس بشيء“
”ابن طاوس فرماتے ہیں کہ امام طاوس رحمہ اللہ نے کہا: حلف بالطلاق باطل ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے“ [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 6/ 406 رقم 11401وإسناده صحيح]
امام طاوس رحمہ اللہ کے اس فتوی کو بعض لوگوں نے زبردستی تاویل کرنے کی کوشش کی ، لیکن امام ابن القیم رحمہ اللہ اس تاویل کے فساد کو اچھی طرح واضح کردیا ہے دیکھئے :[إغاثة اللهفان 2/ 790]
● امام سنيد بن داود المصيصى (المتوفى226) نے کہا:
”حدثنا عباد بن عباد المهلبي، عن عاصم الأحول، عن عكرمة، في رجل قال لغلامه: إن لم أجلدك مائة سوط، فامرأته طالق، قال:لا يجلد غلامه، ولا يطلق امرأته، هذا من خطوات الشيطان“
”عاصم الأحول روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ : اگر میں نے تمہیں سو کوڑے نہیں مارے تو میری بیوی کو طلاق ہے ، تو اس کے بارے میں امام عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: وہ اپنے غلام کو کوڑے نہ مارے اور نہ اپنی بیوی کو طلاق دے ، یہ بات شیطانی وسوسے کے تحت تھی“ [تفسیر سنيد بن داود المصيصى ، وإسناده صحيح وانظر: سير أعلام النبلاء ط الرسالة 5/ 36 ، إغاثة اللهفان 2/ 791]
● امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748) عکرمہ کے اس فتوی کو باسند نقل کرنےکے بعد فرماتے ہیں:
”قلت: هذا واضح في أن عكرمة كان يرى أن اليمين بالطلاق في الغضب من نزغات الشيطان، فلا يقع بذلك طلاق“
”میں کہتاہوں : یہ واضح ہے کہ عکرمہ غصہ میں حلف بالطلاق کو شیطانی وسوسہ سمجھتے تھے اور ایسی طلاق کو واقع نہیں قرار دیتے تھے“ [ سير أعلام النبلاء ط الرسالة 5/ 36 ، إغاثة اللهفان 2/ 791]
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی مذاہب اربعہ کے اس فتوی کی تردید کی اور اسے کتاب وسنت کے خلاف بتلاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ :
کتاب وسنت کی روشنی میں حلف کے بعد دوہی صورت ہے ۔
➊ ایک یہ کہ حلف باطل ہے اس کا نہ تو کوئی اعتبار ہے نہ کفارہ۔
➋ دوسرے یہ کہ حلف معتبر ہے لیکن اس میں کفارہ کی گنجائش ہے۔
دیکھئے : [سورۃ المائدة: 5/ 89 ، سورۃ التحريم: آیت66/ 2 ، صحيح مسلم 3/ 1272 رقم 1650]
ان دوصورتوں کے علاوہ حلف کی یہ تیسری صورت کہیں نہیں ہے کہ حلف کا اعتبار بھی ہوگا اور اس میں کفارہ کی گنجائش بھی نہ ہوگی ۔دیکھئے: [مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 33/ 142]
يحيي محمود محمد ابولهيجاء نے اپنی کتاب ”الإنفرادات الفقهية لابن تيمية عن الأئمة الأربعة“ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے موقف کو پیش کرکے اسی کو راجح قرار دیا ہے اور مذاہب اربعہ کے موقف اور ان کی طرف سے پیش کردہ سارے دلائل کی تردید کی ہے دیکھئے: [الإنفرادات الفقهية لابن تيمية عن الأئمة الأربعة في العبادات: ص 307 تا تا 329]
ابومالک کمال ابن السید سالم نے بھی اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے اسی کو راجح قرار دیا ہے دیکھئے: [صحيح فقه السنه :ص306]
⑩
ایک مجلس کی تین طلاق
چاروں ائمہ اور چاروں مذاہب کا اتفاق ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
لیکن یہ موقف صحیح وصریح حدیث کے خلاف ہے ، اس پر مفصل بحث کئے لئے دیکھیں ہماری کتاب ”احکام طلاق“ ۔
ہماری اس کتاب کو آن لائن پی ڈی ایف میں پڑھنے کے لئے اس لنک پر جائیں ۔
The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
