(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)
تمہید :
● گھر کا تصور (آدمی کے اصل گھر میں اس کے والدین ، بیوی اور بچے ہی شامل ہیں )
● رشتوں کی اہیمت
آدم کی طرح سب کو الگ الگ پیدا نہیں کیا ورنہ کوئی کسی کی مدد نہ کرتا نہ پہچانتا
{ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً} [الروم: 21]
① ایمان وعقیدہ
جو اللہ کا حق ادا نہیں کرتا وہ رشتوں کا کیسے کرے گا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « ...وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» [صحيح البخاري 6138]
میاں بیوی ایمان والے ہوں تو ان کی نظر میں ایمان کی دولت کو ترجیح حاصل ہوگی۔
{وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ} [التحريم: 11]
② علم دین
دینی علم نہ ہونے کے سبب ایک دوسرے کے حقوق سے ناواقف ہوتے ہیں پھر حق تلفی کرتے ہیں اور بے جا توقعات رکھتے ہیں ، بالخصوص مالی حقوق کا جاننا بہت ضروری ہے۔
● والد کے حقوق (انت ومالک لابیک کی تشریح)
● اولاد کے حقوق ( وفات سے قبل مالی حق نہیں)
● بھائی یا بہن کے حقوق (کبھی حق ہے کبھی نہیں)
● شوہر کے حقوق (زندگی میں جہیز وغیرہ کچھ بھی نہیں مرنے کے بعد نصف یا ربع)
● بیوی کے حقوق (نفقہ کے علاوہ زندگی میں کچھ نہیں مرنے کے بعد ربع یا ثمن)
● شفافیت (لکھا پڑھی اور گواہ)
③ غلط صحبت کا اثر
بعض لوگوں کی فطرت ہوتی ہے لوگوں کا گھر خراب کرنا ، ایسے لوگوں سے افراد خانہ کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ، بلکہ ایسے لوگوں سے فاصلے بنا کر رہنا چاہئے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا، أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ» [سنن أبي داود 2175]
● شوہر کو اکسانے والے
● بیوی کو اکسانے والے
● اولاد کو اکسانے والے
④ غلط جگہ نکاح یا غلط کاریوں کے سبب طلاق
طلاق کی وجہ سے بھی کئی گھر ٹوٹ جاتے ہیں اور کئی افراد بدحال ہوجاتے ہیں ۔
طلاق کے بہت سارے اسباب ہوتے ہیں جن میں بنیادی سب
● جنسی بے اعتدالی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ، لَعَنَتْهَا المَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ»[صحيح البخاري 7/ 30 ، رقم 5193]
طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ»: [سنن الترمذي 1160]
● زبان پر کنٹرول
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ إِلَى المُصَلَّى، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ» فَقُلْنَ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ العَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ»[صحيح البخاري 304]
⑤ مالی نا انصافی
عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رضي الله عنهما وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: “أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا؟ ” قَالَ: لَا، قَالَ: “فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ”. قَالَ: فَرَجعَ، فَرَدَّ عطِيَّتَهُ“[صحيح البخاري 3/ 158رقم 2587]
● باپ کا اولاد کو ھدیہ دینا
● باپ کا قوانین وراثت میں دخل اندازی
● بروقت وراثت تقسیم نہ کرنا (مسئلہ عدالتوں تک بھی جاتا ہے)
⑥ طاقت کا تصادم
جس کا سربراہ مرد نہ ہو وہ گھر بھی تباہ وبرباد ہوجاتاہے۔
{الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ}
”مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں“[4/النساء: 34]
جس گھر میں عورت کی حکمرانی وہ گھر تباہ ہوگا۔
The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(بیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
