امام شافعی اور امام محمد رحمہما اللہ کا مناظرہ

You are currently viewing امام شافعی اور امام محمد رحمہما اللہ کا مناظرہ

امام شافعی اور امام محمد رحمہما اللہ کا مناظرہ

امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
«حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ: أَيُّهُمَا أَعْلَمُ: صَاحِبُنَا أَمْ صَاحِبُكُمْ؟ يَعْنِي أَبَا حَنِيفَةَ وَمَالِكَ بْنَ أَنَسٍ. قُلْتُ: عَلَى الْإِنْصَافِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، مَنْ أَعْلَمُ بِالْقُرْآنِ: صَاحِبُنَا أَمْ صَاحِبُكُمْ؟ قَالَ: صَاحِبُكُمْ، يَعْنِي مَالِكًا. قُلْتُ: فَمَنْ أَعْلَمُ بِالسُّنَّةِ: صَاحِبُنَا أَمْ صَاحِبُكُمْ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ صَاحِبُكُمْ. قُلْتُ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، مَنْ أَعْلَمُ بِأَقَاوِيلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُتَقَدِّمِينَ: صَاحِبُنَا أَمْ صَاحِبُكُمْ؟ قَالَ: صَاحِبُكُمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقُلْتُ: لَمْ يَبْقَ إِلَّا الْقِيَاسُ، وَالْقِيَاسُ لَا يَكُونُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْأَشْيَاءِ، فَمَنْ لَمْ يَعْرِفِ الْأُصُولَ فَعَلَى أَيِّ شَيْءٍ يَقِيسُ؟»
ترجمہ:
” امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن الحسن نے کہا: کہ امام مالک اورامام ابوحنیفہ رحمہما اللہ میں سے زیادہ جانکار کون ہیں؟
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا انصاف کے ساتھ بتلادوں؟
محد بن حسن نے کہا: جی ہاں۔
امام شافعی کہتے ہیں پھر میں نے کہا اللہ کے واسطے بتاؤ قران کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟
محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ قران کے زیادہ جانکار تھے۔
اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے پوچھا : اچھا یہ بتاؤ حدیث کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟
محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ حدیث کے زیادہ جانکار تھے۔
امام شافعی کہتے ہیں پھر میں نے کہا اللہ کے واسطے بتاؤ صحابہ کرام وسلف کے اقوال کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟
محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ اس کے زیادہ جانکار تھے۔
اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ اب باقی بچا قیاس تو قیاس انہیں چیزوں( قران وحدیث مع فہم سلف) ہی پر ہوتا ہے پس جو شخص (امام ابوحنیفہ) اصول (قرآن وحدیث مع فہم سلف) سے ناواقف ہو وہ قیاس کس پر کرے گا؟“
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 1/ 4 وإسناده صحيح]

Leave a Reply