”جمعیت وتنظیم“ سے متعلق معتدل موقف

You are currently viewing ”جمعیت وتنظیم“ سے متعلق معتدل موقف

”جمعیت وتنظیم“ سے متعلق معتدل موقف

ہمارے معاشرے میں چونکہ حکومت کی طرف سے اسلامی شعائر اور دینی مصالح کے تحفظ کے لیے وہ اقدامات نہیں کیے جاتے جو ایک اسلامی حکومت کا فریضہ اور مسلم معاشرے کی بنیادی ضرورت ہوتے ہیں۔
اس لیے اہلِ خیر اور اربابِ علم مل جل کر اس کمی کی تلافی کرتے ہیں اور دینی ودعوتی کام کو مربوط ومنظم کرنے کے لیے مختلف ادارے اور جماعتیں تشکیل دیتے ہیں جو شرعا بالکل درست اور ایک دینی ضرورت ہیں۔
اور یہاں اہل سنت اور سلفی علماء کا اس بات پر اتفاق ہے، ہمارے اس ماحول میں کسی معتبر عالم نے اس طریقہ کار کے عدم جواز کا فتوی نہیں دیا۔ کیونکہ انسانی جان کی طرح ہی دینی مصلحتوں کی حفاظت بھی شرعا ضروری امر ہے۔
تاہم ہمارے یہاں عوامی سطح پر دینی جماعتوں اور تنظیموں کی بابت دو طرح کے نظریے پائے جاتے ہیں:
① بعض لوگ تو سرے سے تنظیم سازی اور جماعتی نظم قائم کرنے کو ناجائز اور شرعا حرام سمجھتے ہیں۔
بلا شبہہ یہ سوچ درست نہیں ہے اور شرعی مصالح کے بالکل خلاف عاقبت نا اندیشی پر مبنی ہے۔ اسے ہمارے اکابر علماء ایک شاذ فکر قرار دیتے ہیں۔
② دوسری طرف ایک نظریہ یہ ہے کہ جماعتی زندگی از بس ضروری ہے۔ اور ہر تنظیم میں عامی ذہن اس بات کا دعویدار رہتا ہے کہ ہماری تنظیم میں شمولیت اختیار کرنا ضروری ہے۔
پھر اس دعوے پر التزامِ جماعت اور اطاعتِ امیر کی وہ احادیث منطبق کی جاتی ہیں جو ایک مسلم ریاست اور حاکم شرعی کی فرمانبرداری کے متعلق مروی ہیں۔ اور یہ نصوص شریعت میں معنوی تحریف ہے۔
بلکہ موجودہ دور میں بعض مواقع پر تنظیمی عصبیت اور جماعتی غلو یہاں تک دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی شخص کے ایک تنظیم سے نکلنے پر عداوت اور داخل ہونے پر محبت کا سلوک کیا جاتا یے، یعنی الولاء والبراء کی بنیاد ہی اپنی تنظیم کو ٹھہرا لیا گیا ہے جو حقیقت میں شرک اور معصیت کے لیے مشروع کیا گیا تھا۔
حقیقت بات یہ ہے کہ یہ دونوں رویے ہی اکابر علماء کے نزدیک معیوب اور ممنوع ہیں جس کی ان کے فتاوی میں واضح مذمت کی جاتی ہے۔ اور وہ عملا بھی اسی پر کاربند ہیں۔ حفظھم اللہ ورعاھم
اب ایسی صورت حال میں درست رویہ کیا ہے اور ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟
اس حوالے سے دو باتیں تو اوپر کی معروضات سے واضح ہو گئیں کہ جہاں تنظیم سازی کی حرمت اور جماعتی عصبیت کے دونوں نظریات غلط ہیں، وہیں ہمارے معاشرے میں دینی تعلیمات اور شرعی حدود وقیود کی پابندی کرتے ہوئے اداروں اور جماعتوں کا وجود بھی ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ہمیں یاد رکھنا چاہیے:

➊ جماعت اور تنظیم کی بنیاد پر محبت یا عداوت کا رویہ شرعا ناجائز ہے۔ کسی فرد کے ساتھ یہ سلوک صرف غلط منہج کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
➋ صحیح عقیدے اور اور منہج کی حامل ہر ادارے/جماعت میں شامل ہوا جا سکتا ہے، اس سے کسی کو روکنا اور شمولیت کو غلط نہیں قرار دیا جا سکتا۔
➌ منہج حق کے حامل ہر ادارے/تنظیم کے ساتھ تعاون علی الخیر کا رویہ رکھنا چاہیے۔ اور تفریق وتشتیت سے گریز کرنا ضروری ہے۔
➍ اس جماعت/تنظیم کی حیثیت ایک ادارے کی طرح ہوتی ہے کہ جس میں رہتے ہوئے اس کے قواعد وضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے، تا وقتیکہ کسی ممنوع کام کا حکم نہ دیا جائے۔ اگر کبھی ایسا ہو تو ایسی صورت میں کسی کارکن کے لیے امیر/عہدے دار کی بات ماننا جائز نہیں ہے۔
➎ ایسی کسی جماعت/تنظیم/ادارے سے علاحدگی اختیار کرنا شرعا ناجائز نہیں ہے۔ ایک شخص کسی بھی وجہ سے الگ ہو تو اس پر طعن وتشنیع کرنا اور نفرت وعداوت کا مظاہرہ کرنا درست نہیں۔
➏ کسی جماعت/تنظیم سے نکلنا بیعت توڑنا اور جاہلیت کی موت مرنا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ خصوصیات صرف مسلم ریاست/ حاکم کو حاصل ہوتی ہیں۔
➐ ایسی جماعت/ ادارے کے سربراہ کی حیثیت ایک منتظم کی ہوتی ہے، جس کی اطاعت تنظیم/ادارے کے اندر رہتے ہوئے دینی مصلحتوں کے پیش نظر کی جاتی ہے۔
➑ اس سربراہ کی حیثیت ایک شرعی حاکم/امیر کی نہیں ہوتی کہ جس کی اطاعت دینی فریضہ ہوتی ہے اور عدم اطاعت پر گناہ ہوتا ہے۔
➒ ہماری دینی استقامت کا تقاضا ہے کہ جب کسی ادارے/تنظیم میں خلاف شریعت طرز عمل دیکھیں تو متعلقہ فورم پر بغیر کسی مداہنت/تملق کے اس پر تنقید کریں۔ اور اگر وہ رویہ عوام میں پھیلایا جائے تو عوامی فورم پر نقد کر کے اس سے اعلان براءت کیا جائے۔
➓ ہر جماعت/ادارے کو دینی راہنمائی کے لیے دنیوی تعلیم یافتہ افراد کے بجائے علماء اور راسخین فی العلم سے مشاورت کا وتیرہ اپنانا چاہیے۔ اپنی دعوت کی بنیاد امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو رکھنا چاہیے۔
توحید وسنت کی اشاعت کے ساتھ شرک وبدعت کی مذمت اور اہل بدعت سے شرعی تعامل کے متقفہ ضوابط کا پابند رہنا چاہیے۔ اس میں خواہش پرستی کا اتباع کرنے سے بچنا چاہیے۔
⓫ دینی جماعتوں/اداروں کو ہر مسجد کو اپنی دعوتی نشاطات کا مرکز قرار دے کر اس کے قرب وجوار میں دعوتی نیٹ ورک کو مضبوط اور ہر پہلو سے وسیع کرنا چاہیے، عوام کی ذہن سازی کے لیے معاشرے کے ہر طبقے اور فورم تک اپنی اصلاحی آواز کو پہنچانا چاہیے۔
⓬ اور مدارس کا تعلیمی سسٹم مضبوط سے مضبوط بنانا چاہیے، ان میں علوم شرعیہ کی تدریس کا معقول انتظام ہو اور جدید معاشرتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے علماء ودعاة کی تیاری کا ضروری بندوبست ہو، تبھی جماعتوں اور اداروں کے قیام کی وجہ جواز بنے گی، وگرنہ یہ بھی محض ایک سیاست اور مفادات کا کھیل بن کر رہے جائیں گے۔ نسأل اللہ العافية

(فضیلۃ الشیخ حافظ شاہد رفیق حفظہ اللہ)

Leave a Reply