خواتین اور انفاق (صدقات وخیرات)

You are currently viewing خواتین اور انفاق (صدقات وخیرات)

خواتین اور انفاق (صدقات وخیرات)

(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)

اس موضوع کے تحت ہم دس نکات پر بات کریں گے ملاحظہ ہو:

① خواتین کے مالی حقوق

خواتین کے کئی  مالی حقوق ہیں ، یعنی ان کی ملکیت میں مال آنے کے کئی ذرائع ہیں ، یہ ذرائع جاننا خواتین کے لئے ضرری ہے تاکہ خواتین کو مال ملے کیونکہ جب تک انہیں مال نہیں ملے گا تب تک وہ انفاق کیسے کرسکیں گی ، ایک درس میں ہم نے ایسے دس ذرائع پر بات کی ہے  یہ ایک  الگ موضوع ہے۔

② خواتین کے لئے انفاق کی فضیلت

{الْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ ...... أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا} [الأحزاب: 35]
عَنْ أَسْمَاءَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنْفِقِي، وَلاَ تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، وَلاَ تُوعِي، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ» [صحيح البخاري 2591]
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خرچ کیا کر، گنا نہ کر، تاکہ تمہیں بھی گن کے نہ ملے اور جوڑ کے نہ رکھو، تاکہ تم سے بھی اللہ تعالیٰ (اپنی نعمتوں کو) نہ چھپا لے

③ خواتین کے لئے انفاق کی ضرورت۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ إِلَى المُصَلَّى، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ» فَقُلْنَ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ العَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ»، قُلْنَ: وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ شَهَادَةُ المَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ» قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: «فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ» قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: «فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا» [صحيح البخاري 304]

④ انفاق کے لئے کسب ۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا» قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا، قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لِأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَصَدَّقُ [صحيح مسلم 2452]

⑤ وراثت وصول کرکے تعاون ۔

«وَقَالَتْ أَسْمَاءُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَابْنِ أَبِي عَتِيقٍ: ‌وَرِثْتُ ‌عَنْ ‌أُخْتِي ‌عَائِشَةَ بِالْغَابَةِ، وَقَدْ أَعْطَانِي بِهِ مُعَاوِيَةُ مِائَةَ أَلْفٍ، فَهُوَ لَكُمَا»[صحيح البخاري 2/ 919]
اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے وارثین :
اسماء -اخت ش (سگی بہن)
ام کلثوم -اخت ش (سگی بہن)
عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر -ابن الاخ الشقیق {سگابھتیجا = عبدالرحمن بن ابی بکر کے بیٹے}
محجوبین :
ایک ”باپ شریک بھتیجا“ اور ایک ”سگے بھتیجے کا بیٹا“ ۔
1-قاسم بن محمد بن ابی بکر- ابن الاخ لاب {باپ شریک بھتیجا = محمد بن ابی بکر کے بیٹے}
حاجب سگا بھتیجا بحیثیت اقوی
2-عبداللہ بن أبي عتيق محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر - ابن ابن الاخ الشقیق {سگے بھتیجے کا بیٹا = عبدالرحمن بن ابی بکر کے پوتے}

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(بیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR20.00 for it.