You are currently viewing روزہ اورتقوی

روزہ اورتقوی

(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)

اس موضوع کے تحت ہم روزہ کے بنیادی مقصد یعنی تقوی حاصل کرنے کے مختلف پہلوؤں پر بات کریں گے۔ اور یہ واضح کریں گے کہ روزہ ہم کو کئی طرح کا تقوی سکھاتاہے جن میں سے دس پر تفصیل سے گفتگو کی جائے گی تاکہ روزہ کا مقصد اور اس کی تربیتی اہمیت کی وضاحت ہوسکے۔
(نوٹ: ان تمام نکات کی روشنی میں ریکارڈ کی گئی مکمل تقریر کی ویڈیو بھی اس نوٹس کے آخر میں موجود ہے۔)

قرآن نے روزہ کا مقصد تقوی بتایا ہے۔

{ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ } [البقرة: 183]

① تنہائی میں اللہ کاخوف:

یہ تقوی کی سب سے اعلی قسم ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ………..وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ [صحيح البخاري 1423]
تقوی کی یہ سب سے اعلی قسم روزہ سے حاصل ہوتی ہے روزہ ہمیں تنہائی میں اللہ سے ڈرنا سکھاتا ہے
اسی لئے بکثرت نفلی روزوں کی تعلیم ہے ، شوال ، ذی الحج ، محرم ، شعبان ، ایام بیج ، پیر وجمعرات کے روزے ۔

② اللہ کی معرفت

جو اللہ کی طاقت جانتا ہے وہی اللہ سے ڈرتا ہے
{ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ } [فاطر: 28]
رمضان میں اللہ کے بارے میں باتیں ہوتی ہیں اور لوگ اللہ کے بارے میں جانتے ہیں ۔ بلکہ رمضان میں مسلمان اپنے پیروں واولیاء کو چھوڑ کر صرف اللہ اللہ کرتے ہیں۔
{ مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ} [الحج: 74]
{ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا } [نوح: 13]
الغرض اللہ کی طاقت اللہ کے اسماء وصفات کے بارے میں جاننا بھی تقوی ہے اور روزہ تقوی کی یہ قسم بھی ہمارے اندر پیدا کرتاہے۔

③ قناعت پسندی:

پیٹ کی خاطر خرام خوری سے بچنا تقوی ہے۔
دنیا میں نصف جرائم پیٹ کی خاطر ہی واقع ہوتے ہیں اگر پیٹ پر کنٹرول حاصل ہوجائے اور صرف حلال کھانے کی عادت ڈال لیں تو دنیا سے نصف برائیاں ختم ہوجائیں۔
(الف): حرام مشروبات و ماکولات سے تو بچنا ہی ہے
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاتَ يَوْمٍ «يَا عَائِشَةُ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ قَالَ: «فَإِنِّي صَائِمٌ» …[صحيح مسلم 1154]
(ب): حلال مشروبات وماکولات سے بھی بچنا ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ص قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي…[صحيح البخاري7492]
بہرحال تقوی کی یہ قسم بھی روزہ ہمیں سکھاتا ہے

④ زبان پرقابو:

زبان پر کنٹرول بھی بہت بڑا تقوی ہے۔ جیلوں میں ایسے لوگوں کی کثرت ہے جو زبان پر گرفت کھودینے سبب جیل پہنچ گئے۔
زبان پر کنٹرول عام طور پر غریب اور کمزور کرتا ہے ۔
مگر مالدار اور طاقت ور آدمی بے خوفی کے سبب اس کی ضروت محسوس نہیں کرتا ، لیکن روزہ مالدار آدمی کو بھی زبان پر کنٹرول سکھاتا ہے۔
(الف) حرام کلام زبان سے نکالنا تو منع ہے ہی :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ» [صحيح البخاري 1903]
(ب) حلال سختی کلامی جو عام دنوں میں جائز ہے روزہ کی حالت میں یہ بھی ممنوع ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ أَوْ جَهِلَ عَلَيْكَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ ” [صحيح ابن خزيمة 1996]

⑤ اعضاء وجوارح پر قابو:

اعضاء وجوارح پر کنٹرول بھی تقوی ہے۔
(الف):حرام طریقے سے ہاتھ پاؤں کا استعمال تو ہمیشہ ہی ناجائز ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ص، عَنِ النَّبِیِّ َۖ قَالَ: المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ [صحیح البخاری رقم 10]
(ب):حلال دائرہ میں جو استعمال عام دنوں میں جائزہ ہے روزہ کی حالت میں وہ بھی ممنوع ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ ” [صحيح البخاري 1894]

⑥ شہوت پر گرفت

The remaining article is locked
Register for free and Login To Unlock This Article
Free registered access to limited articles Become a subscriber member for full access
باقی مضمون مقفل ہے
اس مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے مفت رجسٹرڈ ہوکر لاگ ان کریں
مفت رجسٹرڈ کی رسائی محدود مقالات تک ہی ہوتی ہے مکمل رسائی کے لئے سبسکرائبر ممبر بنیں