آئندہ سطور میں ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایسے آثار پیش کریں گے جن سے واضح ہوتا ہے کہ عہدِ صحابہ میں تقلید کا طریقہ رائج نہیں تھا بلکہ اصل منہج ”اتباعِ سنت“ کا تھا۔ صحابہ کرام کسی ایک عالم کی بات سن کر اس پر جمود اختیار نہیں کرتے تھے بلکہ دوسرے صحابی سے اس کی تحقیق اور تصدیق بھی کر لیتے تھے۔ اس طرزِ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اصل معیار رسول اللہ ﷺ کی سنت تھی، نہ کہ کسی شخصیت کی بلا دلیل پیروی۔ یہی وجہ ہے کہ اختلاف یا اشکال کی صورت میں وہ تحقیق کرتے اور سنت کی طرف رجوع کو ترجیح دیتے تھے۔
ملاحظہ ہو اس سلسلے کے بعض آثار:
The remaining article is locked
To unlock, become a Standard or higher member
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
غیر مقفل کرنے کے لیے اسٹینڈرڈ یا اس سے اعلیٰ ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
