صدقۃ الفطر میں رقم دینے سے متعلق راقم الحروف کا یہ ایک مقالہ ہے ، جو اہل السنہ کے خصوصی شمارہ (نمبر 77،78) میں مطبوع ہے ۔اس میں اس مضمون پر اب تک آٹھائے جانے والے سارے اعتراضات واشکالات کا جواب موجود ہے ۔
افادہ عام کے لئے اسے پی ڈی ایف کی شکل میں مزید اضافہ کے ساتھ نشرکیا جارہا ہے ان شاء اللہ مستقبل میں بعض اور اضافوں اور مزید متوقع اعتراضات کے جوابات کے ساتھ اسے کتابی شکل میں بھی شائع کیا جائے گا۔
(کفایت اللہ سنابلی)
باب اول
عہد رسالت میں بطور فطرہ دی جانے والی اشیاء
اشیاء فطرہ کی صراحت کرنے والی احادیث
”صاعا من طعام“ کا مفہوم اورایک غلط فہمی کا ازالہ
احادیث کی روشنی میں منصوص اشیاء فطرہ
منصوص اشیاء ہی سے فطرہ نکالنا افضل ہے
بعض اہل علم کے نزدیک منصوص اشیاء ہی سے فطرہ نکالنا واجب ہے
باب دوم
فطرہ دینے کی علت و حکمت
منکرین نقد کا متضاد طرزعمل
’’طعمة ‘‘ کا ایک وسیع اطلاق
باب سوم
فطرانہ میں غیرمنصوص اشیاء دینے کا حکم
صرف منصوص اشیاء سے فطرہ نکالنے کا حکم
کیا فطرہ میں دی جانے والی اشیاء کا معاملہ تعبدی ہے ؟
غیرمنصوص اشیاء سے فطرہ نکالنے کا حکم
باب چہارم
فطرانہ میں غیرمنصوص طعام دینے کا حکم
باب پنجم
فطرانہ میں نقد و رقم دینے کا حکم
پہلی دلیل : فطرہ والی احادیث
عہد رسالت میں نقد ورقم سے فطرہ کیوں نہیں ادا کیا گیا ؟
اعتراجات اور ان کے جوابات
کیا قیمت نکالنے میں دیگر صحابہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا؟
کیا عہد رسالت میں منصوص اشیاء فطرہ کی قیمتیں الگ الگ تھیں۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قیمت میں بھی صرف طعام ہی تو نکالا
آج گیہوں کی قیمت بڑھ گئی تو کیا زیادہ نکالا جائے گا؟
عہد رسالت میں نقد ودہم سے فطرہ ادا کیوں نہ کیا گیا؟
بعض مزید شبہات کاازالہ
کچھ غیرمتعلق اعتراضات اور ان کے جوابات
کیا قربانی میں بھی قیمت دینا جائز ہے۔
تیسری دلیل: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار
تابعین کا موقف
ائمہ واہل علم کا موقف
