تحقیق حدیث ”من خرج في ‌طلب ‌العلم فهو ‌في ‌سبيل ‌الله ‌حتى ‌يرجع“ (3 ، آخری قسط)

You are currently viewing تحقیق حدیث ”من خرج في ‌طلب ‌العلم فهو ‌في ‌سبيل ‌الله ‌حتى ‌يرجع“ (3 ، آخری قسط)

تحقیق حدیث ”من خرج في ‌طلب ‌العلم فهو ‌في ‌سبيل ‌الله ‌حتى ‌يرجع“ (3 ، آخری قسط)

پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں
حصہ دوم

③ تيسري علت: وقف اور رفع کا اختلاف

زیرِ بحث روایت کی تضعیف میں تیسری علت پیش کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا:
{ {بعض رواۃ نے اسے مرفوع بیان ہی نہیں کیا ہے جیساکہ اس روایت کی تخریج کرنے بعد خود امام ترمذی رحمہ اللہ نے وضاحت فرمائی چنانچہ کہا:
”ورواه بعضهم فلم يرفعه“ ”اور بعض دوسرےرواۃ نے جب اسے بیان کیا تو اسے مرفوع نہیں بیان کیا“ [سنن الترمذي رقم 2647 ت شاكر]} }

 اس پر فریق مخالف نے میری ”علمی لیاقت“ کو جس طمطراق کے ساتھ آشکارا کیا ہے وہ پڑھنے کے قابل ہے موصوف لکھتے ہیں:

”اب مولانا کی تیسری علت پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں تاکہ ان کی علمی لیاقت سب کے سامنے آجائے.مولانا نے امام ترمذی کے قول: ورواہ بعضہم ولم یرفعہ کو تیسری علت بنایا ہے، اور تینوں علت کو مؤثر مان کر اس حدیث کو مردود قرار دیا ہے.معلوم نہیں مولانا نے اس کو علت کیسے بنا لیا؟ مجرد رفع و وقف کا متعارض ہونا کسی حدیث کیلئے علت قادحہ نہیں ہوتا، بلکہ مرفوع و موقوف کے طرق کو جمع کرکے قواعد حدیث کی رو سے قرائن کی روشنی میں مرفوع و موقوف میں سے کسی ایک طریق کو ترجیح دی جاتی ہے…مولانا نے تو یہاں پر فل غچہ مار دیا، مرفوع حدیث کی سند تو موجود ہے تاہم مولانا نے موقوف سند کا تذکرہ ہی نہیں کیا، نیز قرائن ترجیح بھی ذکر نہیں کیا، اور نہ ہی اسباب ترجیح ذکر کیا، بس اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے اسے علت بنا لیا، اور حدیث کو ضعیف قرار دے دیا“

جوابا عرض ہے کہ:
موصوف نے میری ”علمی لیاقت“ اجاگر کرنے کے لئے اپنی جس ”علمی استعداد“ کو متعارف کروایا ہے اس کی اوقات کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجئے کہ مذکورہ علت کو پیش کرتے ہوئے زیرِ بحث حدیث کی تضعیف کرنے والا میں پہلا شخص نہیں ہوں بلکہ علامہ البانی رحمہ اللہ جیسے محدثُ العصر اور ان کے متعدد شاگردوں نے بھی اس حدیث کی تضعیف میں اس علت کو پیش کیا ہے۔
چنانچہ:

① علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”ورواه بعضهم، فلم يرفعه قلت فهو ضعيف لهذا الاختلاف في رفعِهِ“
”اور بعض دوسرےرواۃ نے جب اسے بیان کیا تو اسے مرفوع نہیں بیان کیا لہٰذا سے مرفوع بیان کرنے میں اختلاف کے سبب یہ حدیث ضعیف ہے“ [هداية الرواة مع تخريج المشكاة الثاني للألباني 1/ 155 ]
صرف یہی نہیں بلکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے دوسری جگہ یہ گمان ظاہر کیا ہے کہ شاید موقوف روایت ہی درست ہے چنانچہ لکھتے ہیں:
”وقد رواه بعضهم، فلم يرفعه كما قال الترمذي، ولعله الصواب.“
”اور بعض دوسرے رواۃ نے جب اسے بیان کیا تو اسے مرفوع بیان نہیں کیا جیساکہ امام ترمذی نے کہا ہے اور شاید اس روایت کا مرفوع نہ ہونا ہی درست ہے“ [سلسلة الأحاديث الضعيفة 5/ 56]

② علامہ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد ابو اسحاق الحوینی لکھتے ہیں:

«قال الترمذي: ((حديث حسن غريب، وقد رواه بعضهم فلم يرفعه)) أ. هـ. وهذا أحد أوجه ضعفه أيضاً. »
”امام ترمذی نے کہا : «یہ حدیث حسن غریب ہے اور بعض دوسرے رواۃ نے جب اسے بیان کیا تو اسے مرفوع بیان نہیں کیا » ۔ اور اس روایت کے ضعیف ہونی کی وجوہات میں سے یہ بھی ایک وجہ ہے“ [النافلة في الأحاديث الضعيفة والباطلة 1/ 23]

③ علامہ البانی رحمہ اللہ کے دوسرے شاگرد حسن ابو الأشبال الزہیری لکھتے ہین:

”وقال الترمذي : «هذا حديث حسن غريب ، وقد رواه بعضهم فلم يرفعه » . قلت : وهذه علة وهي الإختلاف في وقفه ورفعه“
”امام ترمذی نے کہا : «یہ حدیث حسن غریب ہے اور بعض دوسرے رواۃ نے جب اسے بیان کیا تو اسے مرفوع بیان نہیں کیا » میں (حسن ابو الأشبال) کہتاہوں کہ یہ (اس حدیث کے ضعیف ہونے کی) علت ہے یعنی اس حدیث کے مرفوع اور موقوف ہونے میں اختلاف کا ہونا“ [جامع بيان العلم وفضله- تحقیق حسن أبو الأشبال الزهيري (1/ 241) حاشیہ رقم 271]

یہ تین حوالے ”علمی لیاقت“ میں موصوف کے قد کو بتانے کے لئے کافی ہیں۔
ایک طرف محدثُ العصر علامہ البانی رحمہ اللہ اور ان کے دو شاگرد ہیں یہ سب متفق ہیں کہ مذکورہ علت بھی زیربحث حدیث کی تضعیف میں ایک علت ہے اور دوسری طرف تنِ تنہا یہ شخص ہے جو اپنی الگ ہی ٖڈفلی بجارہا ہے ! اور اب قارئین خود فیصلہ کریں کہ علم کہاں ہے ؟ اور کون علمی لیاقت کے افلاس کا شکار ہے ؟

 اب آئیے یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ موصوف نے اپنے اس عجوبہ گھر کی عمارت کس بنیاد پر کھڑی کی ہے آں جناب فرماتے ہیں :

”مجرد رفع و وقف کا متعارض ہونا کسی حدیث کیلئے علت قادحہ نہیں ہوتا، بلکہ مرفوع و موقوف کے طرق کو جمع کرکے قواعد حدیث کی رو سے قرائن کی روشنی میں مرفوع و موقوف میں سے کسی ایک طریق کو ترجیح دی جاتی ہے“

عرض ہے کہ:
اسے کہتے ہیں مارے گھٹنا پھوٹے سر !
آں جناب کہنا یہ چاہتے ہیں ”جمع طرق“ اور ”قرائن“ کے پیش نظر مرفوع وموقوف میں سے کسی ایک کو ترجیح دی جاتی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ موصوف کو کیا لگتا ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ جن کی زندگی ہی اس فن میں گزر گئی وہ اور ان کے ساتھ وہ دیگر اہلِ علم جنہوں نے زیرِ بحث حدیث کی تضعیف میں وقف و رفع کے اس اختلاف کو بطورِ علت پیش کیا ہے ، کیا ان میں سے کسی کو بھی ”جمع طرق“ اور ”قرائن“ کا وہ بنیادی پاٹھ یاد ہی نہ رہا جس کا رٹا موصوف لگائے جارہے ہیں ؟
حضرت ! صرف رٹنے سے کام نہیں چلتا ، سمجھنا اور تطبیق وعمل کے طریقوں سے واقفیت بھی ضروری ہے اور اس سے محرومی آنجناب کے سب سے بڑی کمزوری ہے ۔

ذکرِاختلاف یا ترجیح

دراصل موصوف نے اپنی ”ذہنی لیاقت“ سے نہ جانے کیسے یہ سمجھ لیا کہ یہاں ہم نے وقف ورفع میں سےکسی ایک کیفیت کو ترجیح دے دی ہے چنانچہ موصوف نے لکھاہے:

”اور مرفوع و موقوف والی علت یہاں مؤثر نہیں، کیونکہ موقوف کے راجح ہونے کے قرائن موجود نہیں.“

اور اس سے پہلے موصوف نے بڑے اعتماد سے لکھا ہے:

”مولانا نے تو یہاں پر فل غچہ مار دیا، مرفوع حدیث کی سند تو موجود ہے تاہم مولانا نے موقوف سند کا تذکرہ ہی نہیں کیا، نیز قرائن ترجیح بھی ذکر نہیں کیا، اور نہ ہی اسباب ترجیح ذکر کیا“

جوابا عرض ہے کہ:
جب ہم نے ترجیح ہی نہیں دی ہے تو قرائنِ ترجیح اور اسبابِ ترجیح یا سند کے ذکر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
ذرا اپنی ”بصری لیاقت“ کو بروئے کار لائیے اور ہمارے مضمون کا ایک ایک حرف دوبارہ پڑھئے اور بتائیے کہ ہم نے کہاں یہ دعوی کررکھا ہے کہ مرفوع اور موقوف سند میں سے موقوف سند راجح ہے ؟؟
دراصل یہاں کسی ایک پہلو کو راجح قرار دینے کی گنجائش ہی نہیں ہے اور اختلاف بدستور قائم ہے اسی لئے تو دو احتمالات کے حامل اس برقرار اختلاف کو ”علت“ قرار دیا گیا ۔

موقوف کی سند ؟

رہا سوال یہ کہ موقوف روایت کی تو سند ہی نامعلوم ہے تو پھر مرفوع روایت جس کی سند معلوم ہے اس کے مقابل میں اسے کیسے کھڑا کیا جاسکتا ہے ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں جو مرفوع روایت کی سند ہے وہی کون سی مشرف بصحت ہے ؟ وہ بھی تو مسلسل بالعلل اور درجہ صحت سے یکسر محروم ہے ۔
یعنی رد اور عدم قبولیت میں مرفوع اور موقوف دونوں روایت کی حالت یکساں ہے ۔ مرفوع مسلسل بالعلل ہونے کے سبب مردود ہے اور موقوف نامعلوم السند ہونے کے سبب مردود ہے۔

جمع طرق

اور موصوف نے جو جمع طرق کی بات کی ہے تو اس معاملے میں بھی دونوں کی کیفیت یکساں ہے کیونکہ موقوف روایت کا ذکر جب امام ترمذی رحمہ اللہ نے کردیا ہے تو اس کے کم از کم ایک طریق کے وجود کی شہادت امام ترمذی نے دے دی ہے ۔ اوریہی پوزیشن مرفوع روایت کی بھی ہے کیونکہ اس کا بھی مرکزی طریق (أبوجعفر الرازي، عن الربيع بن أنس، عن أنس بن مالك عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم) ایک ہی ہے۔

قرائن

رہی بات قرائن کی تو موقوف کے حق میں مرفوع کے برخلاف ایک قرینہ پیش کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے ”لزوم الطريق“ يا ”سلوك الجادة“ کا قرنیہ
اس کا مطلب یہ کہ راوی کی عام عادت مرفوع بیان کرنے کے ہوتی ہے اس لئے مرفوع بیان کرنے والے کو غلطی لگنے کا امکان زیادہ ہے ، یعنی ہوسکتا ہے کہ روایت اصلا موقوف ہی ہو لیکن راوی چونکہ عام طور سے مرفوع روایات ہی بیان کرنے کا عادی ہوتا ہے اس لئے امکان قوی ہے کہ اس نے اس موقوف روایت کو بھی حسبِ عادت مرفوع بیان کردیا ہے۔
جبکہ اگر راوی نے اگر کسی روایت کو موقوف بیان کیا ہے تو اس کا یہ بیان اس کی عادت کے برخلاف ہے یعنی اس نے روایت کو ایسی کیفیت میں بیان کردیا ہے جس کیفیت میں بیان کرنے کا وہ عادی نہیں ہے اس لئے قوی امکان ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اور ہوش وحواس میں ایسا کیا ہے اور اس کے اس بیان میں کسی وہم ونسیان کا دخل نہیں ہے ۔

✿ ائمہ علل کی کتابیں دیکھئے تو وصل وارسال اور وقف و رفع میں اختلاف کے وقت اکثر وہ مرسل اور موقوف ہی کو ترجیح دیتے ہیں ۔
بلکہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے تو صراحت کر رکھی ہے کہ اکثر محدثین کی ترجیح یہی ہوتی ۔
● امام نووي رحمه الله (المتوفى676) فرماتے ہیں:
”ومنهم من قال: الحكم لمن أرسله أو وقفه. قال الخطيب: وهو قول أكثر المحدثين“
”وصل وارسال اور رفع ووقف میں اختلاف کی صورت میں ایک قول یہ ہے کہ مرسل اور موقوف کو ترجیح دی جائے گی ، خطیب بغدادی فرماتے ہیں: یہی اکثر محدثین کا قول ہے“
[التقريب والتيسير للنووي (ص38) نیز دیکھئے :كفاية للخطيب البغدادي ص: 411]

● اور امام سخاوي رحمه الله (المتوفى902) خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے قول کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”لأن عدوله عن الجادة مشعر بتحفظه وتثبته“
”کیونکہ راوی کا معروف عادت کے برخلاف بیان کرنا اس کے حفظ وضبط کی طرف اشارہ کرتا ہے“
[شرح التقريب والتيسير للسخاوي :ص130]
یعنی ”سلوک الجادہ“ کے پیش نظر اکثر محدثین مرسل وموقوف ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔

✿ یہی وجہ ہے کہ:
علامہ البانی رحمہ اللہ نے گرچہ موقوف روایت کو حتمی طور پر راجح نہیں قرار دیاہے لیکن یہی گمان ظاہر کیاہے کہ شاید موقوف روایت ہی درست ہو چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”وقد رواه بعضهم، فلم يرفعه كما قال الترمذي، ولعله الصواب.“
”اور بعض دوسرے رواۃ نے جب اسے بیان کیا تو اسے مرفوع بیان نہیں کیا جیساکہ امام ترمذی نے کہا ہے اور شاید اس روایت کا مرفوع نہ ہونا (یعنی موقوف ہونا) ہی درست ہے“ [سلسلة الأحاديث الضعيفة 5/ 56]
.
اورچونکہ موقوف روایت کی سند نامعلوم ہے اور اس کی صحت متحقق نہیں ہے اس لئے حتمی طور پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کی ترجیح کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
الغرض یہ کہ زیر بحث حدیث کو جب رواۃ نے مرفوعا اور موقوفا دونوں طرح بیان کیا ہے اور دونوں میں سے کسی کی سند بھی درجہ صحت پر فائز نہیں ہے اور دونوں کا مزید کوئی اور طریق موجود بھی نہیں ہے تو اس اختلاف میں دونوں پہلو کا احتمال ہے لہٰذا یہ اختلاف بھی ایک علت ہے ۔ اسی لئے علامہ البانی رحمہ اللہ نے بڑی صراحت کے ساتھ کہا ہے:
فهو ضعيف لهذا الاختلاف في رفعِهِ،
”اسے مرفوعا بیان کرنے میں موجود اس اختلاف کے سبب یہ حدیث ضعیف ہے“ [هداية الرواة – مع تخريج المشكاة الثاني للألباني (1/ 155)]
بات بہت واضح ہے لیکن اسے سمجھنے کے لئے ”منہجی لیاقت“ سے زیادہ ”تاصیلی لیاقت“ کی ضرورت ہے۔

امام ترمذی کی تحسین

اب رہی یہ بات کہ پھر امام ترمذی نے اس سند کو ”حسن غريب“ کہا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے ؟
دراصل جامع الترمذی میں ”حسن“ امام ترمذی کی خاص اور ذاتی اصطلاح ہے اور ان کی نظر میں اس کا معنی عام اور معروف مصطلحہ ”حسن“ سے الگ ہے۔
جو شخص امام ترمذی کے اس منہج سے نابلد ہوگا وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جائے گا جیسا کہ فریق مخالف کا حال ہے موصوف نے اپنی اسی ”لیاقت“ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے:

”بلکہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے تو اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے“

عرض ہے کہ:
⟐ امام ترمذی کا جامع الترمذی میں کسی حدیث کو ”حسن“ کہنا عام اصطلاحی معنی میں ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ خاص امام ترمذی کی اپنی اصطلاح ہے جس کی وضاحت انہوں نے خود اسی کتاب کے اخیر میں ان الفاظ میں کردی ہے:
«وما ‌ذكرنا ‌في ‌هذا ‌الكتاب ‌حديث ‌حسن فإنما أردنا به حسن إسناده عندنا .كل حديث يروى لا يكون في إسناده من يتهم بالكذب، ولا يكون الحديث شاذا، ويروى من غير وجه نحو ذلك- فهو عندنا حديث حسن»
”ہم نے اپنی اس کتاب (جامع الترمذی) میں جو ”حدیث حسن“ کہا ہے تو ہمارے نزدیک اِس حُسنِ اسناد سے مراد ہر وہ حدیث ہے جس کی سند میں کوئی متہم بالکذب راوی نہ ہو ، وہ حدیث شاذ نہ ہو اور اسی سے ملتی جلتی بات دوسری سند سے بھی مروی ہو تو ہمارے نزدیک ایسی حدیث ”حسن“ ہے ۔“ [كتاب العلل الواقع بآخر جامع الترمذي 6/ 251]

⟐ اس کا مطلب صاف ہے کہ اگر سند میں مذکورہ عیوب کے علاوہ دیگر علتیں ہوں مثلا:
سند میں ضعیف ، مختلط ، عن سے روایت کرنے ولا مدلس ہو ، یا سند منقطع یا مرسل ہو ، یا وصل وارسال اور وقف و رفع کے اختلاف کی علت ہو ، تو بھی ایسی روایت کو امام ترمذی ”حسن“ کہہ سکتے ہیں۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”الضعيف بسبب سوء الحفظ والموصوف بالغلط والخطأ وحديث المختلط بعد اختلاطه والمدلس إذا عنعن وما في إسناده انقطاع خفيف، فكل ذلك عنده من قبيل الحسن بالشروط الثلاثة وهي:أن لا يكون فيهم من يتهم بالكذب ولا يكون الإسناد شاذ وأن يروى مثل ذلك الحديث أو نحوه من وجه آخر“
”سوء حفظ کا شکار ضعیف راوی ، غلطی اور خطأ کرنے والا راوی ، ایسا مختلط راوی جس نے اختلاط کے بعد روایت بیان کیا ، ایسا مدلس راوی جس نے عن سے بیان کیا ، ایسے تمام رواۃ کی سند نیز ایسی سند جس میں ہلکا انقطاع ہو تو اس قسم کی تمام سندیں امام ترمذی کی نظر میں ”حسن“ ہوں گی ان تین شرطوں کے ساتھ : پہلی یہ کہ سند میں متہم بالکذب راوی نہ ہو ، دوسری یہ کہ سند شاذ نہ ہو اور تیسری یہ کہ عین اسی جیسی روایت یا اس سے ملتی جلتی روایت دوسرے طریق سے مروی ہو“ [النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر 1/ 387]

⟐ اب آئیے مذکورہ بات کے کچھ واضح دلائل جامع الترمذی سے ملاحظہ فرمالیں:

● سند میں ضعیف راوی اور امام ترمذی کی تحسین :

« هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه، لا نعرفه إلا من حديث عبيد الله بن موسى ، وأيوب بن عائذ يضعف ويقال: كان يرى رأي الإرجاء وسألت محمدا عن هذا الحديث، فلم يعرفه إلا من حديث عبيد الله بن موسى واستغربه جدا »[سنن الترمذي ت شاكر 2/ 512 رقم 614]

● سند میں کثیر الخطاء اور مختلط راوی اور امام ترمذی کی تحسین :

هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث طاووس، عن جابر إلا من هذا الوجه» قال محمد بن إسماعيل: «ليث بن أبي سليم صدوق وربما يهم في الشيء» وقال محمد بن إسماعيل: قال أحمد بن حنبل: «ليث لا يفرح بحديثه، كان ليث يرفع أشياء لا يرفعها غيره فلذلك ضعفوه»[سنن الترمذي ت شاكر 5/ 113 رقم 2801]

● منقطع سند اور امام ترمذی کی تحسین:

«هذا حديث حسن غريب، وإسناده ليس بمتصل وأبو جعفر محمد بن علي بن الحسين لم يدرك علي بن أبي طالب»[سنن الترمذي ت شاكر 4/ 99 رقم 1519]

● مرسل سند اور امام ترمذی کی تحسین:

«هذا حديث حسن غريب لا نعرفه إلا من حديث ليث بن سعد، ولا نعلم لعمارة بن شبيب سماعا من النبي صلى الله عليه وسلم»
[سنن الترمذي ط الرسالة (6/ 137) رقم 3844]
.
ملاحظہ فرمائیے ان مثالوں میں تحسین کا حکم بھی امام ترمذی کا ہے اور اسی کے ساتھ سند میں موجود علت کی نشاندی بھی امام ترمذی ہی کی طرف سے ہے۔ یہ مثالیں اس بات کی قطعی دلیل ہیں کہ امام ترمذی کی تحسین سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ وہ سند عام اصطلاحی معنی میں بھی ”حسن“ ہے ۔ بلکہ یہ مثالیں بتلاتی ہیں کہ کوئی سند سخت ضعیف نہ ہوکر فقط ضعیف ہو مثلا مرسل ، منقطع وغیرہ ہو تو امام ترمذی اس پر بھی ”حسن“ کا اطلاق کرتے ہیں ۔

عود الی المقصود

تو جب ”ارسال“ اور ”انقطاع“ جیسی علت کے ہوتے ہوئے اور اس کا اعتراف کرتے ہوئے امام ترمذی کسی سند کو ”حسن“ کہہ سکتے ہیں اور ان کی یہ تحسین اس علت کے منافی شمار نہیں ہوگی ۔
تو اسی طرح ”وقف و رفع کے اختلاف“ کی علت کے ہوتے ہوئے اور اس کا اعتراف کرتے ہوئے بھی امام ترمذی کسی سند کو حسن کہہ سکتے ہیں اور یہاں بھی ان کی تحسین اس علت کے منافی نہیں سمجھی جائے گی ۔

اس تفصیل سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ زیر بحث حدیث کی روایت میں ”وقف و رفع کا اختلاف“ بھی ایک علت ہے جیساکہ اس علت کا تذکرہ اس فن کے ماہرین اور متخصصین نے کیا ہے۔
فریق مخالف کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ اس علت اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے کی ”لیاقت“ سے یکسر محروم ہیں جیسا کہ ہم سطور بالا میں اچھی طرح واضح کرچکے ہیں۔

✿ اپنی مصطلحہ ”حسن“ کی تعریف میں امام ترمذی کے قول ”ويروى من غير وجه نحو ذلك“ کا مفہوم:

اس بحث کے ساتھ ایک اور اشکال کو رفع کردینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے گرچہ اس کا تعلق زیرِ بحث تیسری علت سے نہیں ہے بلکہ زیرِ تحقیق روایت پر امام ترمذی کے قول ”حسن غریب“ سے ہے۔
اشکال یہ ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی خاص مصطلحہ ”حسن“ کی تعریف کے اخیر میں « ويروى من غير وجه نحو ذلك » یعنی تعددِطرق کی شرط لگائی ہے ۔
تو امام ترمذی نے جب زیر تحقیق روایت کو ”حسن غريب“ کہاہے تو پھر اس سے ملتی جلتی وہ دوسری روایت کون سی ہے جس کے پیش نظر امام ترمذی نے اسے ”حسن غريب“ کہا ہے۔

عرض ہے کہ :
اس کے کئی جوابات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ امام ترمذی کی یہ شرط کُلّی نہیں بلکہ اغلبی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ایسی کئی روایات نقل کی ہیں جنہیں ”حسن“ کہنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اس کا کوئی دوسرا طریق موجود ہی نہیں ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے دکتور خالد الدریس کی کتاب : [ الحديث الحسن لذاته ولغيره : ج ص 1146 تا ص 1157] ۔
اس جواب سے یہ اشکال بھی ختم ہوجاتا ہے کہ امام ترمذی جب ”حسن“ متعدد الطرق والی روایت کو کہتے ہیں تو پھر بعض مقامات پر اس کے ساتھ ”غریب“ کا لاحقہ بھی لگاتے ہوئے ”حسن غريب“ کیوں کہتے ہیں ؟ کیونکہ ایسی صورت میں بظاہر تعارض دکھ رہا ہے یعنی لفظ ”حسن“ تعددِ طرق کا متقاضی ہے اور لفظ ”غریب“ اس کی نفی کرتا ہے !!!
تو مذکورہ جواب کی روشنی میں دفعِ تعارض کے لئے یہی کہا جائے گا کہ امام ترمذی کی تعریف ِ ”حسن“ میں تعددِ طرق کی شرط کلُّی نہیں بلکہ اغلبی ہے ۔

خلاصہ تحقیق

جامع الترمذی (رقم 2647) میں مروی حدیث ”من خرج في ‌طلب ‌العلم فهو ‌في ‌سبيل ‌الله ‌حتى ‌يرجع“ کی سند مذکورہ تین علتوں کے سبب ضعیف ومردود ہے۔
سنن ابن ماجه (رقم 227) میں موجود روایت کو اس کا شاہد بنانا درست نہیں ہے کیونکہ وہ اصلا ایک اسرائیلی روایت ہے جسے راوی نے نے غلطی سے مرفوع حدیث بنادیا جیساکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہ تحقیق پیش کی ہے تفصیل کے لئے مصرفِ زکاۃ فی سبیل اللہ والی بحث سے ہماری تیسری قسط کی طرف مراجعت کریں۔ اس کی بقیہ قسطیں اب آگے پیش کی جائیں گی ان شاء اللہ !
(کفایت اللہ سنابلی)

(ختم شد)

Leave a Reply