ترک رفع الیدین پر بحث ومباحثہ (حصہ دوم)

You are currently viewing ترک رفع الیدین پر بحث ومباحثہ (حصہ دوم)

ترک رفع الیدین پر بحث ومباحثہ (حصہ دوم)

پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر جائیں

ترک رفع الیدین پر بحث ومباحثہ

آفتاب صاحب نے صحیح مسلم کی حدیث سے ترک رفع الیدین پر جو استدلال کرنے کی کوشش کی تھی اس کا مفصل جواب ماقبل میں ہم دے چکے ہیں ۔
یہاں بطور فائدہ یہ بھی واضح کردیں صحیح مسلم کی حدیث میں تشہد میں سلام کے وقع جس رفع یدین سے منع کیا گیا ہے اس کی تشیبہ ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ‘‘ یعنی سرکش گھوڑوں کی دموں سے دی گئی ہے ، اوریہ مسنون رفع الیدین سے ایک الگ شکل ہے کیونکہ مسنون رفع الیدین میں ہاتھ اوپر اور نیچے اٹھتے ہیں ، جبکہ صحیح مسلم کی اس حدیث میں ہاتھ کو دائیں طرف اور بائیں اٹھانے اور اشارہ کرنے کی بات ہے جیساکہ طبرانی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:
”عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ»“
”جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے ہم السَّلَامُ عَلَيْکُمْ ور السَّلَامُ عَلَيْکُمْاورمسعر نے اپنے ہاتھ کودائیں بائیں اشارہ کرکے بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ لوگ اپنے ہاتھوں کواس طرح کیوں اٹھاتے ہیں جیسا کہ سرکش گھوڑے کی دم تم میں سے ہر ایک کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنی ران پر ہاتھ رکھے پھر اپنے بھائی پر اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام کرے“ [المعجم الكبير للطبراني :2/ 205 رقم 1836 واسنادہ صحیح]
اس حدیث‌ میں غورکریں یہاں یہ بات مسلم ہے کہ اس میں بوقت سلام والے رفع الیدین کا تذکرہ ہے ، اورہاتھ کو دائیں بائیں اٹھانے کی بھی صراحت ہے ، اوریہاں اس صورت کو’كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ کہا گیا ہے۔ یعنی اسے
اس سے ثابت ہواکہ ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟‘‘ کی صورت جس رفع الیدین میں پائے جاتی ہے اس کا مسنون رفع الیدین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اور گھوڑا دم کیسے ہلاتا ہے یہ جاننے کے لئے نیچے کی ویڈیو دیکھیں:

⑤  اعتراض از: آفتاب

میں نے بطورتنزل ایک بات کہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ یہ استدلال کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کی صحت ثابت ہوجائے تو جواز الامرین کا ثبوت فراہم ہوجائے گا، کیونکہ صحت کے ثبوت کے باوجود بھی یہ روایت جواز الامر ین کی دلیل نہیں ہوگی
کبھی آپ کہ رہے ہیں کہ جواز الامرین کی دلیل ہو سکتی ہے اور اب کہ رہے ہیں کہ نہیں ہو گی ۔

، جیساکہ بہت سے اہل علم نے اسے صحیح فرض کرنے کے باوجود بھی جواز الامرین کی دلیل نہیں مانا ہے کیونکہ دیگر کئی چیزوں کے احتمالات ہیں، مثلا:
١:عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کرتے وقترفع الیدین کرنا بھول گئے ہوں جیسے اوربھی بہت سی چیزیں آپ رضی اللہ عنہ بھول گئے تھے، کیونکہ تمام صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی تر ک کی بات نہیں روایت کی ہے حتی کہ سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت کا شرف حاصل کرنے والے خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایسی کوئی روایت نقل نہیں کی ہے بلکہ اس کے برعکس اثبات رفع کی روایت نقل کی ہے، بلکہ بعض اہل علم کے بقول خودا بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف اثبات رفع کی روایت بھی منسوب ہے امام ابن االملقن فرماتے ہیں:
قَالَ الْبَيْهَقِيّ فِي «خلافياته» ويعارضه بِأَنَّهُ قد رَوَى حَدِيثا مسلسلًا عَن عَلْقَمَة، عَن عبد الله، عَن النَّبِي – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم – ذكر فِيهِ الرّفْع عِنْد الرُّكُوع وَالرَّفْع مِنْهُ [البدر المنير 3/ 492]
لیکن اس روایت تک ہماری رسائی نہیں ہوسکی ، واللہ اعلم۔
٢:عدم رفع سے سے مراد تکبیر تحریمہ کے وقت ایک سے زائد والا رفع ہو جیساکہ عیدین کی نماز میں ہوتاہے۔
٣: عدم رفع کا یہ عمل اس وقت کا ہو جب تطبیق مشروع تھی اور تطبیق کے نسخ کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت بھی منسوخ ہوئی اورابن مسعورضی اللہ عنہ ان دونوں سے لاعلم رہے جیساکہ اوربھی بہت سی چیزوں سے آپ واقف نہ ہوسکے۔
یہ احتمال کن محدثین سے لیئے ہیں حوالہ دیں ۔ جو محدثین اس حدیث کو صحیح بھی کہ رہے ہوں اور عدم رفع الیدین کے قائل بھی نہ ہوں۔ ان کے نام ضرور بتائیں

یہ دلیل ان سے طلب کی باتی ہے جن کا دعوی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی رفع الیدین ترک نہیں کیا ، اگر آپ کا بھی یہ دعوی ہے تو آپ سے بھی دلیل مانگی جائے گی۔
جن کا دعوی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی رفع الیدین ترک نہیں کیا آپ ان سے بھی یہ مطالبہ نہیں کرسکتے ، کیونکہ ان کا یہ بھی تو دعوی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین بھی کبھی ترک نہیں کیا ہے ، پھر آپ اس رفع الیدین سے متعلق یہی مطالبہ کیونکہ نہیں کرتے ؟؟؟ اسی طرح احناف کا بھی یہی دعوی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین ترک نہیں کیا ، پھر کیا احناف سے یہ مطالبہ درست ہوگا کہ وہ تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین سے متعلق تاحیاۃ کی صراحت دکھلائیں ؟؟؟
واضح رہے کہ خود کو مسلمان کہنے والا ایک فرقہ تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کو بھی منسوخ مانتا ہے اور اس مسئلہ پر ان کی طرف سے مستقل کتابیں لکھی جاچکی ہیں جو نیٹ کے متعدد صفحات پر موجود ہیں، بلکہ یہی بات بعض تابعین کی طرف بھی منسوب ہے اولطف تو یہ ہے کہ خود عبداللہ بن مسعور رضی اللہ عنہ سے بھی تکبرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک کی ایک روایت منقول ہے ، اگر اس موقف کے حاملین آپ سے مطالبہ کریں کہ تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کے دوام کی صراحت دکھلائیں تو کیا یہ مطالبہ درست ہے؟؟؟
لطف تو یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کے تارکین بھی اس کے ترک پر وہی حدیث مسلم پیش کرتے ہیں جسے آپ پیش کررہے ہیں۔
تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین پر اختلاف سے متعلق ہم ایک الگ مضمون جلد ہی پیش کریں گے۔
نیزاسی طرح مالکیہ قیام میں ارسال یدین کے قائل ہیں اب اگر وہ وضع یدین کی احادیث سے متعلق یہ مطالبہ کریں کہ ان میں تاحیات کی صراحت دکھلاؤ تو کیا کہ مطالبہ درست ہے؟؟؟
محترم جو شخص اعمال صلاۃ میں سے کسی عمل کی بابت تاحیات کا قائل ہے اس کے لئے بس یہی کافی ہے کی کسی صحیح حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پیش کردے ، تاحیاۃ کی صراحت پیش کرنا اس کے ذمہ نہیں ہے ، بلکہ جو ترک یا نسخ کا مدعی ہے اسی پر لازم ہے کہ ترک یا نسخ کی دلیل پیش کرے اور اگر نہ پیش کرسکے تو اعمال صلاۃ میں سے یہ عمل اصلا دائمی ہی تسلیم کیا جائے گا۔
مثال کے طور پر قیام نماز ، میں ارسال یدین کا مسئلہ ہے میرے ناقص علم کی حدتک کسی بھی حدیث میں اس عمل سے متعلق تاحیاۃ کی صراحت نہیں ہے ، تو کیا آپ اسے دائمی تسلیم نہیں کریں گے؟؟؟
اصل میں کئی متشدد یہ سوال کرتے ہیں کہ صحیح حدیث سے صراحت کے ساتھ دکھاؤ کہ امام ابو حنیفہ کی تقلید کرنی چاھئیے اس طرح کے سوالات کے جوابات میں کچھ حنفی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حدیث دکھاؤ جس میں صراحت کے ساتھ ذکر ہو کہ رکوع والا رفع الیدین ہمیشہ کرنا ہے ۔ میرے حساب سے دونوں اطراف کے یہ سوالات غلط ہیں۔

محترم ہم یہاں ایک مسئلہ پر تحقیقی گفتگوکررہے ہیں ، کیا صحیح ہے اورکیا غلط ، اس لئے دلائل پر بات کریں تصحیح وتضعیف کسی دلیل کا نام نہیں ہے۔
اگر کوئی محدث کسی حدیث کو بیان کرکے اس صحیح یا ضعیف کہے اور کوئی دلیل بیان نہ کرے تو آپ کے نذدیک اس کا حوالہ بطور دلیل کے نہیں دیا جاسکتا ۔ کیا میں صحیح سمجھا ؟

امام ابوحاتم رحمہ اللہ متاخرین میں سے کوئی عام امام نہیں ہیں ، بلکہ متقدمین میں سے امام ناقد اورامام حجت ہیں ، فن رجال میں امام حجت کا مطلب ہے جسے رواۃ پر جرح کی اٹھارٹی حاصل ہو ، اس پایہ کے ائمہ فن اگر برضاء رغب کسی کا قول نقل کریں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ امام اس قول سے متفق ہیں اب پیش رو قائل کوئی بھی ہو اس سے بحث نہیں کیونکہ ایک دوسرے امام حجت نے اسے برضاء رغبت نقل کیا ہے لہٰذا اس امام کی طرف سے بھی یہی جرح تسلیم کی جائے گی، اورمذکورہ عبارت پڑھ کرعام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ امام ابوحاتم نے مذکورہ بات سے متفق ہیں ۔
میں نے جب بھی کوئی ایسا قول پیش کیا جس میں امام نے کسی دوسرے محدث کا قول ذکر کیا تو آپ کے فورم پر حضرات نے مجھ سے اس امام تک اس محدث کے قول کی سند پوچھی اور یہ بات درست بھی ہے ۔اور آپ ایک نامعلوم محدث کے ذکر شدہ قول سے حجت پکڑ رہے ہیں ۔ حیرت ہے

امام زیلعی فرماتے ہیں :
قال ابن أبي حاتم في ” كتاب العلل ( ٨ ) ” : سألت أبي عن حديث رواه سفيان الثوري عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة عن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم قام فكبر فرفع يديه ثم لم يعد فقال أبي : هذا خطأ يقال : وهم فيه الثوري فقد رواه جماعة عن عاصم وقالوا كلهم : إن النبي صلى الله عليه و سلم افتتح فرفع يديه ثم ركع فطبق وجعلهما بين ركبتيه ولم يقل أحمد ما روى الثوري انتهى . فالبخاري . وأبو حاتم جعلا الوهم فيه من سفيان [نصب الراية 1/ 293]
اب دیکھیں بعینہ اسی اقتباس کو نقل کرکے حنفیت کے ایک بہت بڑے امام یہ اقرار کررہے ہیں کہ امام ابوحاتم نے سفیان ثوری کو زیرنظر حدیث میں واہم قرار دیا ہے اور آپ کو اس اقتباس میں قائل کا نام ہی نظر ہی نہیں آتا، اب کس کی فہم عبارت کو درست سمجھے آپ کی یا آپ کے امام ذیلی امام زیلعی رحمہ اللہ کی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آپ کوان حنفی علماء کی تحقیق نظر کیوں نہ آئی جنہوں نے اسی حدیث پر سفیان ثوری کے “وہم ” کا دفاع کیا ۔ میں نے بھی اہل حدیث حضرات کے قول بطور دلیل نقل کیے تھے تو آپ نے یکسر رد کرتے ہوئے کہا تھا ایسے دلائل ہم بھی دے سکتے ہیں تو اب جنفی علماء سے دلائل کیوں ؟

مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امام ابوحاتم نے بھی زیر نظر حدیث کی روایت میں سفیان ثوری کو واہم قرار دیاہے، اگر اب بھی تسلی نہ ہو تو ’’یقال‘‘ کے قائلین سے بعض کے نام بھی سن لیں :
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
امام ابن آدم رحمہ اللہ
امام بخای رحمہ اللہ۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَ: نَظَرْتُ فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ . فَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّ الْكِتَابَ أَحْفَظُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لِأَنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا حَدَّثَ بِشَيْءٍ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْكِتَابِ فَيَكُونُ كَمَا فِي الْكِتَابِ .[رفع اليدين في الصلاة ص: 33]
مذکورہ عبارت کا مفاد یہی ہے کہ عاصم بن کلیب سے دیگر رواۃ نے سفیان ثوری کے برعکس روایت کیا ہے ، بالفاظ دیگر سفیان ثوری کو اپنی روایت میں وہم ہوا ہے۔
اس میں سفیان الثوری کے وہم کے متعلق کوئی صریح الفاظ نہیں ۔

پہلے آپ نے سفیان کو مدلس کہا ۔ جب میں آمیں بالجہر میں آپ حضرات کی تحقیقی دکھائی تو آپ نے ان فی نفسہ ثقہ کہا

تعجب ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں ، محترم بھائی کیا مدلس اور ثقہ میں تضاد ہے ؟ محترم کسی کو مدلس کہہ دینے سے اس کی ثقاہت کا انکار لازم نہیں آتا۔
وہاں پر بطور اعتراض اور روایت کی رد میں کہا تھا ۔ اگر آپ کے ہاں مدلس کی روایت مردود نہیں تو پھر روایت کے رد مین اس وقت مدلس کیوں کہا ۔ سفیان کو مدلس کہنے کی اس وقت کیا ضرورت تھی ۔

آپ نے لفظ ”فی الصلاۃ“ سے استدلال کیا تھا ہم نے ایسی احادیث پیش کردیں جن میں تکبیر تحریمہ کے لئے بھی ’’فی الصلاۃ‘‘ کے الفاظ ہیں ، اب آپ فرق کی بات کررہے ہیں کیا فرق ثابت ہوجانے سے وہ یہ چیز نماز سے خارج ہوجائے گی۔
لفظ “‌في ” میں ہماری بات چیت کجھ بحث برائے بحث میں داخل ہو گئی ۔ اس کا ذمہ دار کوئی بھی ہو اس سے قطع نظر بات کو آکے بڑہاتے ہیں ۔ اسکنوا في الصلاہ سے تمام رفع الیدین مراد لے لیتے ہیں۔ تکبیرہ تحریمہ والا رفع الیدین اس لئيے استثناء ہے کے اس کے ترک پر کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ۔ تو کیا رکوع والس رفع الیدین کے استثناء پر بھی کوئی صحیح حدیث ہے۔

میں پہلا پوسث ورڈ میں ٹائپ کرتا ہوں پھر فورم پر کاپی کرتا ہوں ۔ امام بخاری اور یحیی بن معین والا سوال کچھ غلط انفارمیشن کی وجہ سے ٹائپ کیا لیکن ڈیلیٹ کرنا بھول گیا ۔ پھر بھی آپ نے مفصل و مدلل جواب دیا ۔ جزاک اللہ خیرا ۔

امام احمد رحمہ اللہ کا پورا کلام یہ ہے :
رواه أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، عن ابن عمر، وهو باطل.
یعنی امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہنے سے پہلے اس کی متغیر سند پیش کی ہے یعنی سند کے اس سیاق کوباطل کہا ہے کیونکہ ابوبکر بن عیاش پہلے اسی روایت کو دوسرے انداز سے روایت کرتے تھے مگر اس سیاق میں ان سے وہم ہوا ہے اسی کو امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہا ہے۔
” ابوبکر بن عیاش پہلے اسی روایت کو دوسرے انداز سے روایت کرتے تھے مگر اس سیاق میں ان سے وہم ہوا ہے اسی کو امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہا ہے۔” یہ کس کا قول ہے ؟ حوالہ دیں

اور دوسری روایت میں اسود کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی اور انہوں نے صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کیااس کا مطلب ہے عبداللہ بن عمر رفع الیدین ترک کرجکے تھے
یہ روایت میں کافی کوشش کے باوجود بھی مصنف ابن ابی شیبہ میں تلاش نہیں کرسکا اگر آپ الفاظ مع حوالہ نقل کردیں توبڑی مہربانی ہوگی۔
آپ نے میری اس بات کا جوا ب نہیں دیا !!!
ان شاء اللہ کل تک دوں گا

برابھلا تو دور کی بات ہے ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ رفع الیدین کرنے والوں کو قتل تک کی دھمکی دی گئی ہے۔
ثبوت بیش کریں ۔ اورکسی شخص کے انفرادی عمل کو پوری جماعت پر چپپاں نہ کریں۔
میں نے کہا بھی تھا کہ کچھ افراد کا عمل پورے مسلک پر نہ تھوپیں ۔ پھر بھی آپ نے ثبوت میں چند افراد کا قول پیش کیا

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

تحریر آفتاب:
کبھی آپ کہ رہے ہیں کہ جواز الامرین کی دلیل ہو سکتی ہے اور اب کہ رہے ہیں کہ نہیں ہو گی ۔

میں پہلے وضاحت کرچکا ہوں کہ میں نے بطور تنزل یہ بات کہی تھی۔

تحریر آفتاب:
یہ احتمال کن محدثین سے لیئے ہیں حوالہ دیں ۔ جو محدثین اس حدیث کو صحیح بھی کہ رہے ہوں اور عدم رفع الیدین کے قائل بھی نہ ہوں۔ ان کے نام ضرور بتائیں

ہم نے اہل علم کی طرف یہ بات منسوب کی تھی اور یقینا بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اگر اس حدیث کو صحیح بھی مان لیں جب بھی یہ روایت ترک رفع کی دلیل نہیں بن سکتی مثلا علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
ثُمَّ لَوْ سَلَّمْنَا صِحَّةَ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ نَعْتَبِرْ بِقَدَحِ أُولَئِكَ الْأَئِمَّةِ فِيهِ فَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحَادِيثِ الْمُثْبِتَةِ لِلرَّفْعِ فِي الرُّكُوعِ وَالِاعْتِدَالِ مِنْهُ تَعَارُضٌ لِأَنَّهَا مُتَضَمِّنَةٌ لِلزِّيَادَةِ الَّتِي لَا مُنَافَاةَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَزِيدِ، وَهِيَ مَقْبُولَةٌ بِالْإِجْمَاعِ لَا سِيَّمَا وَقَدْ نَقَلَهَا جَمَاعَةٌ مِنْ الصَّحَابَةِ وَاتَّفَقَ عَلَى إخْرَاجِهَا الْجَمَاعَةُ[نيل الأوطار 2/ 211]

تحریر آفتاب:
اگر کوئی محدث کسی حدیث کو بیان کرکے اس صحیح یا ضعیف کہے اور کوئی دلیل بیان نہ کرے تو آپ کے نذدیک اس کا حوالہ بطور دلیل کے نہیں دیا جاسکتا ۔ کیا میں صحیح سمجھا ؟

جی ہاں ۔

تحریر آفتاب:
میں نے جب بھی کوئی ایسا قول پیش کیا جس میں امام نے کسی دوسرے محدث کا قول ذکر کیا تو آپ کے فورم پر حضرات نے مجھ سے اس امام تک اس محدث کے قول کی سند پوچھی اور یہ بات درست بھی ہے ۔اور آپ ایک نامعلوم محدث کے ذکر شدہ قول سے حجت پکڑ رہے ہیں ۔ حیرت ہے

اپنی وہی بات پھر مت دہرائے میں نے جو جواب دیا ہے اس کے بارے میں لب کشائی کریں ، جواب پھر سے نقل کرہا ہوں :
امام ابوحاتم رحمہ اللہ متاخرین میں سے کوئی عام امام نہیں ہیں ، بلکہ متقدمین میں سے امام ناقد اورامام حجت ہیں ، فن رجال میں امام حجت کا مطلب ہے جسے رواۃ پر جرح کی اٹھارٹی حاصل ہو ، اس پایہ کے ائمہ فن اگر برضاء رغب کسی کا قول نقل کریں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ امام اس قول سے متفق ہیں اب پیش رو قائل کوئی بھی ہو اس سے بحث نہیں کیونکہ ایک دوسرے امام حجت نے اسے برضاء رغبت نقل کیا ہے لہٰذا اس امام کی طرف سے بھی یہی جرح تسلیم کی جائے گی، اورمذکورہ عبارت پڑھ کرعام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ امام ابوحاتم نے مذکورہ بات سے متفق ہیں ۔
میرا اقتباس ایک بار پھر ملاحظہ ہو:
وسألتُ أبِي عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ الثّورِيُّ ، عن عاصِمِ بنِ كُليبٍ ، عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ الأسودِ ، عن علقمة ، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد.قال أبِي : هذا خطأٌ ، يُقالُ : ’’وهِم فِيهِ الثّورِيُّ‘‘.وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ. [علل الحديث 1 /96 رقم 258]
نمایاں الفاظ اور ملون بلون الاحمر الفاظ پر دھیان دیجئے اس کے بعد صدق دل سے بتائیے کہ یہ الفاظ کن کے ہیں ، محترم یقال کے ذریعہ جو بات نقل کی گئی ہے وہ بس اتنی ہے جتنی میں نے ہرے رنگ سے ملون اور واوین کے درمیان کیا ہے۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

تحریر آفتاب:
آپ کوان حنفی علماء کی تحقیق نظر کیوں نہ آئی جنہوں نے اسی حدیث پر سفیان ثوری کے ”وہم“ کا دفاع کیا ۔

ائمہ ناقدین کے مقابلہ میں حنفی علماء کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

تحریر آفتاب:
میں نے بھی اہل حدیث حضرات کے قول بطور دلیل نقل کیے تھے تو آپ نے یکسر رد کرتے ہوئے کہا تھا ایسے دلائل ہم بھی دیسکتے ہیں تو اب جنفی علماء سے دلائل کیوں ؟

حنفی علماء کا کوئی قول میں دلیل میں نہیں پیش کررہا ہوں بلکہ ایک عربی عبارت ہے جسے سمجھنے میں آپ غلطی کررہے ہیں میں نے فہم عبارت میں امام زیلعی کا حوالہ پیش کیا تھا، عبارت سے جو مفہوم میں سمجھ رہا ہوں وہی مفہوم امام زیلعی نے بھی سمجھا ہے ، یہاں امام زیلعی کا کوئی قول نہیں پیش کیا گیا بلکہ قول تو امام ناقد کا ہے اور یہ قول عربی زبان میں ہے اور اس کا مفہوم سمجھانے کے لئے میں نے امام زیلعی کی عربی دانی کا حوالہ پیش کیا ہے۔

تحریر سنابلی:
مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امام ابوحاتم نے بھی زیر نظر حدیث کی روایت میں سفیان ثوری کو واہم قرار دیاہے، اگر اب بھی تسلی نہ ہو تو ’’یقال‘‘ کے قائلین سے بعض کے نام بھی سن لیں :
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
امام ابن آدم رحمہ اللہ
امام بخای رحمہ اللہ۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَ: نَظَرْتُ فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ . فَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّ الْكِتَابَ أَحْفَظُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لِأَنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا حَدَّثَ بِشَيْءٍ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْكِتَابِ فَيَكُونُ كَمَا فِي الْكِتَابِ .[رفع اليدين في الصلاة ص: 33]
مذکورہ عبارت کا مفاد یہی ہے کہ عاصم بن کلیب سے دیگر رواۃ نے سفیان ثوری کے برعکس روایت کیا ہے ، بالفاظ دیگر سفیان ثوری کو اپنی روایت میں وہم ہوا ہے۔
تحریر آفتاب
اس میں سفیان الثوری کے وہم کے متعلق کوئی صریح الفاظ نہیں

آپ ذرا اپنی یہ بات پڑھ لیں :

تحریر آفتاب:
اصل میں کئی متشدد یہ سوال کرتے ہیں کہ صحیح حدیث سے صراحت کے ساتھ دکھاؤ کہ امام ابو حنیفہ کی تقلید کرنی چاھئیے اس طرح کے سوالات کے جوابات میں کچھ حنفی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حدیث دکھاؤ جس میں صراحت کے ساتھ ذکر ہو کہ رکوع والا رفع الیدین ہمیشہ کرنا ہے ۔ میرے حساب سے دونوں اطراف کے یہ سوالات غلط ہیں۔

یہی غلطی آپ یہاں کررہے ہیں اور لفظ ’’وہم ‘‘ کی صراحت تلاش کررہے ہیں ، جناب مذکورہ عبارت میں آپ کی مستدل روایت پر جرح ہے کی نہیں ؟ اگر نہیں تو دنیا میں پہلے شخص ہیں جو اس عبارت کا یہ مفہوم لے رہے ورنہ آپ کسی ایک عالم کا حوالہ دیں جس نے یہ کہا ہو کی اس عبارت میں آپ کی مستدل روایت پر جرح نہیں ہے۔
اور آپ اعتراف کریں کہ جرح ہے تو اسے وہم سے تعبیر کیا جائے یا خطاء سے بات ایک ہی ہے۔

تحریر آفتاب:
پہلے آپ نے سفیان کو مدلس کہا ۔ جب میں آمیں بالجہر میں آپ حضرات کی تحقیقی دکھائی تو آپ نے ان فی نفسہ ثقہ کہا

کیا ان دونوں باتوں میں تضاد ہے؟؟؟
کیا کسی کو مدلس کہنا اس کی ثقاہت کا انکارہے ؟؟؟
محترم مؤدبانہ گذارش ہے کہ پہلے تدلیس کا مفہوم کسی سے سمجھ لیں۔

تحریر آفتاب:
لفظ”في“ میں ہماری بات چیت کجھ بحث برائے بحث میں داخل ہو گئی ۔ اس کا ذمہ دار کوئی بھی ہو اس سے قطع نظر بات کو آکے بڑہاتے ہیں ۔ اسکنوا في الصلاہ سے تمام رفع الیدین مراد لے لیتے ہیں۔ تکبیرہ تحریمہ والا رفع الیدین اس لئيے استثناء ہے کے اس کے ترک پر کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ۔ تو کیا رکوع والس رفع الیدین کے استثناء پر بھی کوئی صحیح حدیث ہے۔

جی ہاں جس طرح تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کا اثبات موجود ہے اسی طرح رکوع والے رفع الیدین کا اثبات بھی موجود ہے ملاحظہ ہو:
عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ ” إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ “، وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [صحيح البخاري 1/ 148]

تحریر آفتاب:
لفظ”في“ میں ہماری بات چیت کجھ بحث برائے بحث میں داخل ہو گئی ۔ اس کا ذمہ دار کوئی بھی ہو اس سے قطع نظر بات کو آکے بڑہاتے ہیں ۔ اسکنوا في الصلاہ سے تمام رفع الیدین مراد لے لیتے ہیں۔ تکبیرہ تحریمہ والا رفع الیدین اس لئيے استثناء ہے کے اس کے ترک پر کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ۔ تو کیا رکوع والس رفع الیدین کے استثناء پر بھی کوئی صحیح حدیث ہے۔

اچھا یہ اعتراف کرنے کے بعد کیا بات ختم ہوگئی ؟؟؟
محتر م جب یہ ثابت ہوگیا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے امام یحیی بن معین سے سن رکھاہے تو اب امام ابن معین کا وہ قول بھی صحیح سند سے ثابت ہوا جسے میں نے پہلے پیش کیا تھا ، ملاحظہ ہو:
امام بخاری فرماتے ہیں :
قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ حُصَيْنٍ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ مِنْهُ لَا أَصْلَ لَهُ. [رفع اليدين في الصلاة ص: 20]
اب یہاں پر امام ناقد امام یحیی بن معین رحمہ اللہ پوری صراحت کے ساتھ جرح مفسر کرتے ہوئے مذکورہ روایت میں ابوبکر بن عیاش کے وہم کی صراحت کررہے ہیں ، اس جرح مفسر کا جواب کون دے گا؟؟؟؟؟؟؟؟

تحریر سنابلی
امام احمد رحمہ اللہ کا پورا کلام یہ ہے :
رواه أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، عن ابن عمر، وهو باطل.
یعنی امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہنے سے پہلے اس کی متغیر سند پیش کی ہے یعنی سند کے اس سیاق کوباطل کہا ہے کیونکہ ابوبکر بن عیاش پہلے اسی روایت کو دوسرے انداز سے روایت کرتے تھے مگر اس سیاق میں ان سے وہم ہوا ہے اسی کو امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہا ہے
تحریر آفتاب
” ابوبکر بن عیاش پہلے اسی روایت کو دوسرے انداز سے روایت کرتے تھے مگر اس سیاق میں ان سے وہم ہوا ہے اسی کو امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہا ہے۔“ یہ کس کا قول ہے ؟ حوالہ دیں

یہ قول امام بیہقی رحمہ اللہ کا ہے ملاحظہ ہو:
قال الشيخ أحمد ، وهذا الحديث في القديم كان يرويه أبو بكر بن عياش ، عن حصين ، عن إبراهيم ، عن ابن مسعود مرسلا . موقوفا ، ثم اختلط عليه حين ساء حفظه ، فروى ما قد خولف فيه ، فكيف يجوز دعوى النسخ في حديث ابن عمر بمثل هذا الحديث الضعيف ؟ [معرفة السنن والآثار للبيهقي 2/ 498، ]

ویسے تعجب ہے کہ بحث کو مختصر کرنے کی خاطر آپ نے اس روایت کو نظر انداز کیوں نہ کیا کیونکہ یہ روایت سرے سے مرفوع ہے ہی نہیں، اور ہم طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بات کررہے ہیں۔

تحریر آفتاب:
میں نے کہا بھی تھا کہ کچھ افراد کا عمل پورے مسلک پر نہ تھوپیں ۔ پھر بھی آپ نے ثبوت میں چند افراد کا قول پیش کیا

آپ نے سب سے پہلے کیا کہا تھا اسے ملاحظہ فرمالیں:

تحریر آفتاب:
آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کسی حنفی نے رفع یدین کرنے والوں کو اس کے رفع یدین کرنے پر برا بھلا کہا ہو۔

آپ نے کسی کی بات کی تھی اور ہم نے کسی کاحوالہ پیش کردیا ہے۔

⑥  اعتراض از: آفتاب

میں پہلے وضاحت کرچکا ہوں کہ میں نے بطور تنزل یہ بات کہی تھی۔
یعنی اگر یہ حدیث اگر صحیح ثابت ہوجائےتو بھی اپ اس میں مختلف احتمالات تلاش کریں گے ؟ یہ بات اگر کوئی حنفی کہتا تو کہا جاتا کہ یہ تقلید کی وجہ سے ہے ۔
کیا آپ صریح الفاظ چاہ رہے ہیں کہ حدیث میں ہوں کہ رفع الیدین کو ترک کیا گیا تھا ۔
یہی وہ وجہ جس کی وجہ سے احناف مطالبہ کرتے ہیں کہ صریح الفاظ میں دکھاؤ کہ رفع الیدین تاحیات کرنا ہے ۔ بہر جال میں بات کو آگے بڑہاتے ہوئے آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں آپ کے نذدیک رکوع والا رفع الیدین نماز کے ارکان میں سے ہے ؟ یعنی اگر کوئی نہ کرے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟ آپ کا موقف کیا ہے ؟

امام ابوحاتم رحمہ اللہ متاخرین میں سے کوئی عام امام نہیں ہیں ، بلکہ متقدمین میں سے امام ناقد اورامام حجت ہیں ، فن رجال میں امام حجت کا مطلب ہے جسے رواۃ پر جرح کی اٹھارٹی حاصل ہو ، اس پایہ کے ائمہ فن اگر برضاء رغب کسی کا قول نقل کریں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ امام اس قول سے متفق ہیں اب پیش رو قائل کوئی بھی ہو اس سے بحث نہیں کیونکہ ایک دوسرے امام حجت نے اسے برضاء رغبت نقل کیا ہے لہٰذا اس امام کی طرف سے بھی یہی جرح تسلیم کی جائے گی، اورمذکورہ عبارت پڑھ کرعام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ امام ابوحاتم نے مذکورہ بات سے متفق ہیں ۔
حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی کا قول ديکھیں

باب ما جاء أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرفع إلا في أول مرة
حدثنا هناد حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة قال قال عبد الله بن مسعود ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا في أول مرة قال وفي الباب عن البراء بن عازب قال أبو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وهو قول سفيان الثوري وأهل الكوفة

ایک تو امام ترمذی یہ حدیث جس باب میں رکھی اس باب کا نام ہے
ما جاء أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرفع إلا في أول مرة
یعنی امام ترمذی کا کہنا ہے کہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی رفع الیدین ترک کیا تھا ۔ یعنی یہ ابن مسعود کا بھولنا یا ان کی غلط فہمی کا نتیجہ نہ تھا ۔ اس لئیے باقی احتمالات رد ہوجاتے ہیں ۔

دوسری بات امام ترمذی کہ رہ ہیں کہ اس بارے میں کئی اہل علم صحابہ کا بھی یہی قول ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہاں راوی سفیان کو کوئی وہم نہیں ہوا ۔ کیوں کہ ان کی تائید میں کئی صحابہ کا قول ہے اور اس کی گواہی امام ترمذی دے رہے ہیں ۔
اگر آپ مجھ سے سند مانگیں کہ امام ترمذی تک صحابہ کا قول کیسے پہنجا تو میں آپ کے قول کے مطابق جواب دوں گا۔ امام ترمذی کوئی عام امام نہیں بلکہ حدیث میں ان کی ایک اتھارٹی ہے ۔ اگر وہ صحابہ کا قول بغیر سند کے نقل کرہے ہیں تو ان کے پاس کسی مستند دلیل سے پہنچا ہوگا ۔

میرا اقتباس ایک بار پھر ملاحظہ ہو:
وسألتُ أبِي عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ الثّورِيُّ ، عن عاصِمِ بنِ كُليبٍ ، عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ الأسودِ ، عن علقمة ، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد.قال أبِي : هذا خطأٌ ، يُقالُ : ’’وهِم فِيهِ الثّورِيُّ‘‘.وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ. [علل الحديث 1 /96 رقم 258]
نمایاں الفاظ اور ملون بلون الاحمر الفاظ پر دھیان دیجئے اس کے بعد صدق دل سے بتائیے کہ یہ الفاظ کن کے ہیں ، محترم یقال کے ذریعہ جو بات نقل کی گئی ہے وہ بس اتنی ہے جتنی میں نے ہرے رنگ سے ملون اور واوین کے درمیان کیا ہے۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سفیان الثوری کو وہم ہوا ہے اور امام ابو حاتم کہ رہے ہیں تو اس کی تائید میں جو انہوں نے دلیل دی کہ
ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ
یعنی الثوری کے علاوہ کسی نے بھی ایسا رویات نہیں کیا ۔ یعنی بقول امام ابو حاتم السفیان الثوری اسے نقل کرنے میں میں منفرد ہیں ۔ نہیں بھائی ایسا نہیں ۔ اس روایت کے نقل کرنے میں تو سفیان الثوری منفرد ہوسکتے ہیں لیکن ان کی بات کی تصدیق میں کئی صحابہ کا قول بھی ہے (اوپر امام ترمذی کا قول دیکھیں )
یعنی امام ابو حاتم کی وجہ علت غلط ہے ۔

آپ نے عبد اللہ بن عمر کی رفع الیدین والی روایت ذکر کي تھی اور میں نے عبد اللہ بن عمر کی مصنف ابی شیبہ کی ترک رفع الیدین والی روایت کی تھی جس پر آپ نے یہ اعتراضات کیے ۔

محتر م جب یہ ثابت ہوگیا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے امام یحیی بن معین سے سن رکھاہے تو اب امام ابن معین کا وہ قول بھی صحیح سند سے ثابت ہوا جسے میں نے پہلے پیش کیا تھا ، ملاحظہ ہو:
امام بخاری فرماتے ہیں :
قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ حُصَيْنٍ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ مِنْهُ لَا أَصْلَ لَهُ. [رفع اليدين في الصلاة ص: 20]
اب یہاں پر امام ناقد امام یحیی بن معین رحمہ اللہ پوری صراحت کے ساتھ جرح مفسر کرتے ہوئے مذکورہ روایت میں ابوبکر بن عیاش کے وہم کی صراحت کررہے ہیں ، اس جرح مفسر کا جواب کون دے گا؟؟؟؟؟؟؟؟

امام احمد رحمہ اللہ کا پورا کلام یہ ہے :
رواه أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، عن ابن عمر، وهو باطل.
یعنی امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہنے سے پہلے اس کی متغیر سند پیش کی ہے یعنی سند کے اس سیاق کوباطل کہا ہے کیونکہ ابوبکر بن عیاش پہلے اسی روایت کو دوسرے انداز سے روایت کرتے تھے مگر اس سیاق میں ان سے وہم ہوا ہے اسی کو امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہا ہے
۔
” ابوبکر بن عیاش پہلے اسی روایت کو دوسرے انداز سے روایت کرتے تھے مگر اس سیاق میں ان سے وہم ہوا ہے اسی کو امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہا ہے۔” یہ کس کا قول ہے ؟ حوالہ دیں
یہ قول امام بیہقی رحمہ اللہ کا ہے ملاحظہ ہو:
قال الشيخ أحمد ، وهذا الحديث في القديم كان يرويه أبو بكر بن عياش ، عن حصين ، عن إبراهيم ، عن ابن مسعود مرسلا . موقوفا ، ثم اختلط عليه حين ساء حفظه ، فروى ما قد خولف فيه ، فكيف يجوز دعوى النسخ في حديث ابن عمر بمثل هذا الحديث الضعيف ؟ [معرفة السنن والآثار للبيهقي 2/ 498، ]
يحی بن معین اور امام احمد بن حنبل کا یہاں اعتراض اصل میں راوی ابو بکر بن عیاش کی وجہ سے ہے ۔ جیسا کہ امام بہیقی کے قول سے بھی پتا چلتا ہے
 یہ اقوال اسی سند پر ہیں اور ابو ابکر بن عیاش کے متعلق ہیں 
ابو بکر بن عیاش صحیح بخاری کے راوی ہیں اور ان پر اعتراض اس وجہ سے ہے کہ آخری عمر میں کہا جاتا ہے کہ ان کا حافظہ خراب ہوگیا تھا لیکن اس اثریعنی عبد اللہ بن عمر کے عدم رفع الیدین کو نقل کرنے میں جیسا کہ طحاوی کی سند میں ہے ایک احمد بن يونس ہیں اور احمد يونس نے ابو بکر بن عیاش سے ان کے حافظے کمزور ہونے سے پہلا رویات کیا تھا کیوں امام بخاری نے احمد بن یونس عن ابو بکر بن عیاش کی سند سے کئی روایتیں ذکر کی ہیں ۔

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

تحریر آفتاب:
یعنی اگر یہ حدیث اگر صحیح ثابت ہوجائےتو بھی اپ اس میں مختلف احتمالات تلاش کریں گے ؟ یہ بات اگر کوئی حنفی کہتا تو کہا جاتا کہ یہ تقلید کی وجہ سے ہے ۔کیا آپ صریح الفاظ چاہ رہے ہیں کہ حدیث میں ہوں کہ رفع الیدین کو ترک کیا گیا تھا ۔

میں نے پہلے احتمال والی بات اہل علم کی طرف منسوب کی تھی اور آپ نے یہ سمجھا کہ یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں اس لئے آپ نے اہل علم کا حوالہ طلب کیا، آپ کے مطالبہ پر حوالہ دے دیا گیا پھر بھی آپ اس کا ذمہ دار صرف مجھے بتلارہے ہیں !!!

اورصریح الفاظ ترک پر نہیں رکوع والے رفع الیدین پر مطلوب ہیں، ازراہ کرم ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں۔

تحریر آفتاب:
یہی وہ وجہ جس کی وجہ سے احناف مطالبہ کرتے ہیں کہ صریح الفاظ میں دکھاؤ کہ رفع الیدین تاحیات کرنا ہے ۔

مارے گھٹنہ پھوٹے سر!
ہم ترک کے سلسلے میں ’رکوع والے رفع الیدین‘ کی صراحت مانگ رہے ہیں (نا کہ تاحیات کی صراحت) اب اگر آپ کو مقابلہ ہی کرنا تھا تو بطورمقابلہ آپ کو یہ مطالبہ کرنا تھا کہ آپ بھی اثبات والے رفع الیدین میں’ رکوع کی صراحت‘ دکھاؤ۔

لیکن آپ تاحیاۃ جیسی صراحت کا مطالبہ کرکے خود اپنی متضاد سوچ کا ثبوت دے رہے ہیں ، یہ دکھانے کے لئے میں نے اصل تھریڈ شروع کیا تھا ، یعنی اگر دائمی رفع الیدین کے لئے تاحیاۃ کی صراحت ضروری تو آپ حضرات تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین دائماً کرتے ہیں ، کیا اس میں تاحیاۃ کی صراحت ہے ؟؟؟؟
اسی طرح آپ حضرات نماز میں ہاتھ دائماً باندھتے ہیں تو کیا ہاتھ باندھنے والی احادیث میں تاحیاۃ کی صراحت ہے ؟؟؟

تاحیاۃ کا مطالبہ بالکل ہٹ دھرمی ہے کیونکہ فریقین میں یہ بات مسلم ہے کہ ترک کا ثبوت نہ ہو تو مسئلہ دائمی ہی ثابت ہو گا جیسا کہ رکوع وسجود وضع ید اور تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کا معاملہ ہے ۔

ایسی صورت میں آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہونی چاہے کہ تاحیاۃ کا مطالبہ کرنے کے بجائے ترک ثابت کرنے پرہی اپنی کوششیں صرف کریں لیکن چونکہ اس بات سے علمائے احناف عاجز ہیں، اس لئے ’’تاحیاۃ ‘‘ کے فلسفہ کا سہارا لے عوام کو مغالطہ دے رہے ہیں ، لیکن کامیابی نہیں مل رہی ہے۔

تحریر آفتاب:
بہر جال میں بات کو آگے بڑہاتے ہوئے آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں آپ کے نذدیک رکوع والا رفع الیدین نماز کے ارکان میں سے ہے ؟ یعنی اگر کوئی نہ کرے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟ آپ کا موقف کیا ہے ؟

بڑا پیارا سوال کیا ہے ، جزاک اللہ خیرا ۔
لیکن میں چاہوں گا کہ اس سوال کا جواب آپ ہی کے منہ سے نکلے ، تو محترم یہ بتادیں کہ آپ کے نزدیک تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین نماز کے ارکان میں سے ہے؟ یعنی اگر کوئی نہ کرے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟ آپ کا موقف کیا ہے ؟

تحریر آفتاب:
باب ما جاء أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرفع إلا في أول مرة
حدثنا هناد حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة قال قال عبد الله بن مسعود ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا في أول مرة قال وفي الباب عن البراء بن عازب قال أبو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وهو قول سفيان الثوري وأهل الكوفة

ایک تو امام ترمذی یہ حدیث جس باب میں رکھی اس باب کا نام ہے
ما جاء أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرفع إلا في أول مرة

اولا:

یہ صرف تبویب ہے اور ہر تبویب محدث کا مسلک نہیں ہوتی ، تبویب سے مقصود حدیث کا موضوع بتانا ہوتا ہے لیکن اس سے محدث کا متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا ہے، اس کے لئے الگ سے قرائن کی ضرورت ہے ، اوریہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے کہ امام ترمذی اس سے متفق ہیں۔
جو محدثین موضوع احادیث پر کتاب لکھتے ہیں وہ بھی تبویب قائم کرتے ہیں تو کیا وہ اس سے متفق ہوتے ہیں ، امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے :
باب تقبيل الرِّجْل [الأدب المفرد:ص: 542]۔
اب کیا بریلویوں کی طرح آپ بھی کہیں گے کہ امام بخاری پاؤں چومنے کے قائل تھے؟؟؟

ثانیا:

اگر بالفرض تسلیم کرلیں کہ امام ترمذی اس سے متفق تھے تو یہ امام ترمذی کا فقہی فیصلہ ہے اور ہم یہاں ایک حدیث کی صحت و ضعف کے دلائل پر بات کررہے ہیں ، ذرا کچھ تو غور کریں آپ کس وادی میں جارہے ہیں۔

تحریر آفتاب:
یعنی یہ ابن مسعود کا بھولنا یا ان کی غلط فہمی کا نتیجہ نہ تھا ۔ اس لئے باقی احتمالات رد ہوجاتے ہیں ۔

امام ترمذی کی یہ رائے تسلیم کرلینے کی صورت میں اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ امام ترمذی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت حسن ہے ۔
اورمیں پہلے ہی واضح کرچکا ہوں کہ جب دلائل کے ساتھ کسی روایت پر جرح ہو تو تحسین تو دور کی بات ہے کسی کی تصحیح بھی نقل کرنا بے سود ہے۔
آپ سے ہوسکے تو جرح کا جواب پیش کریں ، امام ترمذی کی تحسین کو دلیل سمجھ کرآپ صرف اپنے حلقہ میں مگن ہوسکتے ہیں ، ہرجگہ اس خوش فہمی میں نہ رہا کریں۔

اورلطف کی بات یہ ہے کہ امام ترمذی تصحیح و تحسین میں تساہل کے شکار ہیں اور دلائل کے مقابل میں ان کی تحسین و تصحیح کو بریلویوں کے امام احمد رضا صاحب بھی بلا چوں چرا رد کردیتے ہیں معلوم نہیں آپ حقائق سے ناواقف ہیں یا اس غلط فہمی میں ہیں کہ مغالطہ والی پایسی ہر جگہ کا م آجائے گی۔

تحریر آفتاب:
دوسری بات امام ترمذی کہ رہ ہیں کہ اس بارے میں کئی اہل علم صحابہ کا بھی یہی قول ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہاں راوی سفیان کو کوئی وہم نہیں ہوا ۔ کیوں کہ ان کی تائید میں کئی صحابہ کا قول ہے اور اس کی گواہی امام ترمذی دے رہے ہیں ۔
اگر آپ مجھ سے سند مانگیں کہ امام ترمذی تک صحابہ کا قول کیسے پہنجا تو میں آپ کے قول کے مطابق جواب دوں گا۔

بے سند تو دور کی بات ہے امام ترمذی باسند کوئی قول پیش کریں تب بھی قابل قبول نہیں جب تک کہ سند صحیح ثابت نہ ہوجائے، یہ بات عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے معلوم نہیں آپ کو کیا ہوگیا ہے۔

ستم تو یہ ہے کہ آپ کی دوغلی پایسی ہے ورنہ اسی سنن ترمذی سے بعض ایسی احادیث میں پیش کروں جسے امام ترمذی نہ صرف یہ کہ نقل کریں بلکہ سند کے ساتھ نقل کریں بلکہ اسے حسن بھی کہیں تو کیا آپ ان احادیث کو قابل حجت سمجھیں گے؟؟؟
یادرہے آپ نے جو میرے جواب کی نقالی کرنے کی ناکام کوشش کی ہے تو آپ میرے طرزعمل میں یہ دوغلی پالسی کبھی نہیں دکھاسکتے ۔

تحریر آفتاب:
امام ترمذی کوئی عام امام نہیں بلکہ حدیث میں ان کی ایک اتھارٹی ہے ۔ اگر وہ صحابہ کا قول بغیر سند کے نقل کرہے ہیں تو ان کے پاس کسی مستند دلیل سے پہنچا ہوگا ۔

حدیث میں اتھارٹی ہیں تو ان کے حوالے سے جرح وتعدیل کا کوئی ایسا قول پیش کریں جسے امام ترمذی نے برضاء رغب نقل کیا ہو، اس پرکوئی اشکال نہیں ہوگا ، لیکن آپ ایک دوسری وادی میں قدم رکھ رہے ہیں :

اولا:

تو جرح و تعدیل کے اقوال کے بجائے فقہی اقوال پیش کررہے ہیں، جو انتہائی مضحکہ خیزہے۔

ثانیا:

اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ہے کہ امام ترمذی ان فقہی اقوال سے متفق بھی ہیں۔

ثالثا:

اب میں آپ کے سامنے امام ترمذی کی اصل اتھارٹی کا حوالہ دیتا ہوں ملاحظہ فرمائیں:
امام ترمذی فرماتے ہیں:
وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ: قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ، وَذَكَرَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ. [سنن الترمذي ت شاكر 2/ 38]۔
جی ہاں یہ ہے امام ترمذی رحمہ اللہ کے اپنے فن کی بات کہ وہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر امام ابن المبارک رحمہ اللہ کا قول برضاء و رغبت نقل کررہے ہیں، اس لئے آپ لائن پر آئیں اور امام ترمذی کی اتھارٹی کو تسلیم کریں اور زیربحث مردود حدیث سے امت کو دور رہنےکی تلقین کریں۔

تحریر آفتاب:
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سفیان الثوری کو وہم ہوا ہے اور امام ابو حاتم کہ رہے ہیں تو اس کی تائید میں جو انہوں نے دلیل دی کہ
ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ
یعنی الثوری کے علاوہ کسی نے بھی ایسا رویات نہیں کیا ۔ یعنی بقول امام ابو حاتم السفیان الثوری اسے نقل کرنے میں میں منفرد ہیں ۔ نہیں بھائی ایسا نہیں ۔ اس روایت کے نقل کرنے میں تو سفیان الثوری منفرد ہوسکتے ہیں لیکن ان کی بات کی تصدیق میں کئی صحابہ کا قول بھی ہے (اوپر امام ترمذی کا قول دیکھیں )
یعنی امام ابو حاتم کی وجہ علت غلط ہے ۔

اولا:

اوپر امام ترمذی کے نقل کردہ اقوال کی نوعیت واضح کی جاچکی ہے۔

ثانیا:

اصول حدیث کا یہ کون سا قائدہ ہے کوئی روایت اقوال صحابہ کی بنیاد پر صحیح قرار پاسکتی ہے اہل فن سے اس کی ایک مثال پیش کریں کہ کسی حدیث کو فقہی اقوال کی بنیاد پر صحیح قراردیا گیاہے۔

ثالثا:

یہ اقوال صحابہ کے ہیں اورحدیث ابن مسعود میں عدم رفع کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے؟؟ اب ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیجئے کہ مرفوع روایت کیا موقوف روایت سے تائید پاکر صحیح قرار پاسکتی ہے ؟؟؟ تو اصول حدیث سے اس کا ثبوت پیش کریں۔

تحریر آفتاب:
يحی بن معین اور امام احمد بن حنبل کا یہاں اعتراض اصل میں راوی ابو بکر بن عیاش کی وجہ سے ہے ۔ جیسا کہ امام بہیقی کے قول سے بھی پتا چلتا ہے
 یہ اقوال اسی سند پر ہیں اور ابو ابکر بن عیاش کے متعلق ہیں ۔
ابو بکر بن عیاش صحیح بخاری کے راوی ہیں اور ان پر اعتراض اس وجہ سے ہے کہ آخری عمر میں کہا جاتا ہے کہ ان کا حافظہ خراب ہوگیا تھا لیکن اس اثریعنی عبد اللہ بن عمر کے عدم رفع الیدین کو نقل کرنے میں جیسا کہ طحاوی کی سند میں ہے ایک احمد بن يونس ہیں اور احمد يونس نے ابو بکر بن عیاش سے ان کے حافظے کمزور ہونے سے پہلا رویات کیا تھا کیوں امام بخاری نے احمد بن یونس عن ابو بکر بن عیاش کی سند سے کئی روایتیں ذکر کی ہیں ۔

محترم! صحیح بخاری کی جن روایات کی طرف آپ اشارہ کررہے ہیں ان ساری روایات کے انتہائی مضبوط اور معتبر متابعات موجود ہیں ، اورشواہد ومتابعات کے آجانے کے بعد یہ ضعف مضرنہیں ہوتا ہے کہ وہ آخری زمانہ میں متغیر الحفظ ہوگئے تھے ، آپ بخاری سے احمد بن يونس عن ابی بکر بن عیاش کے طریق سے کوئی بھی روایت پیش کریں اس کا صحیح متابع یا شاہد پیش کرنا میری ذمہ داری ہے ۔

اورمیری اس بات کا جواب نہیں آیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے متعلق بات کررہے ہیں ، پھر اس بیچ آپ اثر ابن عمررضی اللہ عنہ کو پیش کرکے کیوں خواہ مخواہ بحث کوطول دے رہے ہیں؟؟؟؟

ہم نے اثبات رفع الیدین میں اللہ کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث پیش کی ہے اس لئے اگر آپ کے پاس ترک کی کوئی مرفوع حدیث ہو تو پیش کریں ، آثار اوروہ بھی مردود شدہ سے کام نہیں چلے گا۔

اورتطبیق والی روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے متعلق آپ کی تحقیق کا انتظار ہے ، کوئی جلدی نہیں جب بھی آپ کی تحقیق مکمل ہوجائے تو ناچیز کو ضرور آگاہ کریں۔

⑦  اعتراض از: آفتاب

میں نے پہلے احتمال والی بات اہل علم کی طرف منسوب کی تھی اور آپ نے یہ سمجھا کہ یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں اس لئے آپ نے اہل علم کا حوالہ طلب کیا، آپ کے مطالبہ پر حوالہ دے دیا گیا پھر بھی آپ اس کا ذمہ دار صرف مجھے بتلارہے ہیں !!!
آپ نے مندرجہ ذیل احتمالات ذکر کیے تھے
 ● عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کرتے وقت رفع الیدین کرنا بھول گئے ہوں
● عدم رفع سے سے مراد تکبیر تحریمہ کے وقت ایک سے زائد والا رفع ہو جیساکہ عیدین کی نماز میں ہوتاہے۔
● عدم رفع کا یہ عمل اس وقت کا ہو جب تطبیق مشروع تھی اور تطبیق کے نسخ کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت بھی منسوخ ہوئی
اور جب میں سوال کیا یہ احتمال کن محدثین سےلئے ہیں حوالہ دیں
تو آپ نے کہا
علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
ثُمَّ لَوْ سَلَّمْنَا صِحَّةَ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ نَعْتَبِرْ بِقَدَحِ أُولَئِكَ الْأَئِمَّةِ فِيهِ فَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحَادِيثِ الْمُثْبِتَةِ لِلرَّفْعِ فِي الرُّكُوعِ وَالِاعْتِدَالِ مِنْهُ تَعَارُضٌ لِأَنَّهَا مُتَضَمِّنَةٌ لِلزِّيَادَةِ الَّتِي لَا مُنَافَاةَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَزِيدِ، وَهِيَ مَقْبُولَةٌ بِالْإِجْمَاعِ لَا سِيَّمَا وَقَدْ نَقَلَهَا جَمَاعَةٌ مِنْ الصَّحَابَةِ وَاتَّفَقَ عَلَى إخْرَاجِهَا الْجَمَاعَةُ[نيل الأوطار 2/ 211]
اس میں تو ایسا کوئی احتمال علامہ شوکانی نے ذکر نہیں کیا ۔
تو کیا اگر ایسے احتمالات کو علماء سے ثابت نہیں کرتے تو ظاہر ہے یہ آپ کا قول ہوا ۔ اس لئیے میں نے یہ احتمالات جو آپ نے ذکر کئے آپ کی طرف منسوب کیے۔
ہم ترک کے سلسلے میں ’رکوع والے رفع الیدین‘ کی صراحت مانگ رہے ہیں (نا کہ تاحیات کی صراحت) اب اگر آپ کو مقابلہ ہی کرنا تھا تو بطورمقابلہ آپ کو یہ مطالبہ کرنا تھا کہ آپ بھی اثبات والے رفع الدین میں’ رکوع کی صراحت‘ دکھاؤ۔
لیکن آپ تاحیاۃ جیسی صراحت کا مطالبہ کرکے خود اپنی متضاد سوچ کا ثبوت دے رہے ہیں ، یہ دکھانے کے لئے میں نے اصل تھریڈ شروع کیا تھا ، یعنی اگر دائمی رفع الیدین کے لئے تاحیاۃ کی صراحت ضروری تو آپ حضرات تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین دائماً کرتے ہیں ، کیا اس میں تاحیاۃ کی صراحت ہے ؟؟؟؟
اسی طرح آپ حضرات نماز میں ہاتھ دائماً باندھتے ہیں تو کیا ہاتھ باندھنے والی احادیث میں تاحیاۃ کی صراحت ہے ؟؟؟
تاحیاۃ کا مطالبہ بالکل ہٹ دھرمی ہے کیونکہ فریقین میں یہ بات مسلم ہے کہ ترک کا ثبوت نہ ہو تو مسئلہ دائمی ہی ثابت ہو گا جیسا کہ رکوع وسجود وضع ید اور تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کا معاملہ ہے ۔
ایسی صورت میں آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہونی چاہے کہ تاحیاۃ کا مطالبہ کرنے کے بجائے ترک ثابت کرنے پرہی اپنی کوششیں صرف کریں لیکن چونکہ اس بات سے علمائے احناف عاجز ہیں، اس لئے ’’تاحیاۃ ‘‘ کے فلسفہ کا سہارا لے عوام کو مغالطہ دے رہے ہیں ، لیکن کامیابی نہیں مل رہی ہے۔
میں نے تاحیات کی صراحت کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ لیکن چون کہ آپ حدیث کو ثابت ہوجانے پر کچھ احتمالات پہلے سے سوچے بیٹھیں ہیں تو ظاہر ہے شدت پسند ہر مسلک اور ہر مذہب میں ہیں ۔ میری نظر میں آپ کے احتمالات اگر دلیل پر ہیں تو صحیح ورنہ وہ مجھے ہٹ دھرمی لگتی ہے ۔ایسی ہٹ دھرمیوں کی وجوہات کی بنا پر احناف میں بعض اس طرح کے الفاظ کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ میں نے آپ سے کوئي ذاتی طور پر تاحیات کی صراحت والا مطالبہ نہیں کیا۔
بڑا پیارا سوال کیا ہے ، جزاک اللہ خیرا ۔
لیکن میں چاہوں گا کہ اس سوال کا جواب آپ ہی کے منہ سے نکلے ، تو محترم یہ بتادیں کہ آپ کے نزدیک تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین نماز کے ارکان میں سے ہے؟ یعنی اگر کوئی نہ کرے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟ آپ کا موقف کیا ہے ؟
معذرت کے ساتھ لیکن اس فورم پر میرا تجربہ ہے جب بھی کسی سے کوئی سوال کیا جائے تو جوابی سوال اجاتا ہے ۔ اگر یہی سوال اگر آپ اپنے موقف کو پیش کرنے بعد کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا ۔
بہر حال تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کے متعلق میرا جواب ہے
تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین نہ نماز کے ارکان میں سے ہے اور نہ نماز کی واجبات میں سے ۔ اس کے بغیر نماز ہوجائے گی۔
اب آپ بغیر کسی سوال کے میرے سوال کا جواب دیں
اولا:
یہ صرف تبویب ہے اور ہر تبویب محدث کا مسلک نہیں ہوتی ، تبویب سے مقصود حدیث کا موضوع بتانا ہوتا ہے لیکن اس سے محدث کا متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا ہے، اس کے لئے الگ سے قرائن کی ضرورت ہے ، اوریہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے کہ امام ترمذی اس سے متفق ہیں۔
جو محدثین موضوع احادیث پر کتاب لکھتے ہیں وہ بھی تبویب قائم کرتے ہیں تو کیا وہ اس سے متفق ہوتے ہیں ، امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے :
باب تقبيل الرِّجْل [الأدب المفرد:ص: 542]۔
اب کیا بریلویوں کی طرح آپ بھی کہیں گے کہ امام بخاری پاؤں چومنے کے قائل تھے؟؟؟
میں نے یہاں یہ نہیں کہا یہاں پر امام ترمذي اس تبویب کے ماننے والے ہیں ۔ یہ الگ بحث ہے کہ امام ترمذی عدم رفع الیدین کے قائل ہیں یا نہیں ۔ لیکن جس باب میں جو حدیث لگائی جاتی ہے وہ حدیث اسی باب سے متعلق ہوتی ہے ۔ اگر کتاب کا نام نماز ہے تو اس کتاب میں نماز کے بارے میں احکام و مسائل ہوں گے روزہ کے بارے میں نہیں ۔
اسی طرح امام ترمذی کا یہ باب قائم کرنے کا مطلب ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ترک رفع الیدین بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے ۔ اس سے وہ احتملات رد ہوجاتے ہیں جو اس حدیث کے صحیح ثابت ہونے پر بھی آپ قائم کیے ہوئے ہیں۔ باقی امام ترمذی اس حدیث سے متفق ہیں یا نہیں یہ الگ معاملہ ہے ۔ میرا کہنا کا مقصد کہ تھا کہ اس حدیث سے کیا مطلب نکلتا ہے وہ امام ترمذی کی تبویب سے دیکھیں ۔ امام ترمذی اس حدیث سے متفق ہیں یا نہیں یہ الگ معاملہ ہے
ثانیا:
اگر بالفرض تسلیم کرلیں کہ امام ترمذی اس سے متفق تھے تو یہ امام ترمذی کا فقہی فیصلہ ہے اور ہم یہاں ایک حدیث کی صحت و ضعف کے دلائل پر بات کررہے ہیں ، ذرا کچھ تو غور کریں آپ کس وادی میں جارہے ہیں۔
یعنی یہ ابن مسعود کا بھولنا یا ان کی غلط فہمی کا نتیجہ نہ تھا ۔ اس لئیے باقی احتمالات رد ہوجاتے ہیں ۔
امام ترمذی کی یہ رائے تسلیم کرلینے کی صورت میں اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ امام ترمذی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت حسن ہے ۔
اورمیں پہلے ہی واضح کرچکا ہوں کہ جب دلائل کے ساتھ کسی روایت پر جرح ہو تو تحسین تو دور کی بات ہے کسی کی تصحیح بھی نقل کرنا بے سود ہے۔
آپ سے ہوسکے تو جرح کا جواب پیش کریں ، امام ترمذی کی تحسین کو دلیل سمجھ کرآپ صرف اپنے حلقہ میں مگن ہوسکتے ہیں ، ہرجگہ اس خوش فہمی میں نہ رہا کریں۔
اورلطف کی بات یہ ہے کہ امام ترمذی تصحیح و تحسین میں تساہل کے شکار ہیں اور دلائل کے مقابل میں ان کی تحسین و تصحیح کو بریلویوں کے امام احمد رضا صاحب بھی بلا چوں چرا رد کردیتے ہیں معلوم نہیں آپ حقائق سے ناواقف ہیں یا اس غلط فہمی میں ہیں کہ مغالطہ والی پایسی ہر جگہ کا م آجائے گی۔
میں نے امام ترمذی کی تبویب سے یہ ثابت کرنا چاہا کہ اس حدیث کے صحیح ہونے پر کیا مطلب نکلے گا ۔ اور میں کہ چکا ہوں کہ امام ترمذی اس سے متفق ہیں یا نہیں یہ الگ معاملہ ہے ۔ اور نہ میں اس تبویب سے یہ حديث صحیح ثابت کرنا چاہ رہا ہوں
بے سند تو دور کی بات ہے امام ترمذی باسند کوئی قول پیش کریں تب بھی قابل قبول نہیں جب تک کہ سند صحیح ثابت نہ ہوجائے، یہ بات عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے معلوم نہیں آپ کو کیا ہوگیا ہے۔
ستم تو یہ ہے کہ آپ کی دوغلی پایسی ہے ورنہ اسی سنن ترمذی سے بعض ایسی احادیث میں پیش کروں جسے امام ترمذی نہ صرف یہ کہ نقل کریں بلکہ سند کے ساتھ نقل کریں بلکہ اسے حسن بھی کہیں تو کیا آپ ان احادیث کو قابل حجت سمجھیں گے؟؟؟
یادرہے آپ نے جو میرے جواب کی نقالی کرنے کی ناکام کوشش کی ہے تو آپ میرے طرزعمل میں یہ دوغلی پالسی کبھی نہیں دکھاسکتے ۔
میں نے صرف آپ کے جواب کی طرح جواب دیا ۔ اگر وہ دوغلی پالیسی ہے تو آپ کا جواب بھی دوغلی پالیسی ہے ۔ ورنہ بغیر سند کے قول قابل قبول نہیں ہوتا ۔ لیکن اپ ابو حاتم کے بغیر سند والے قول کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ تو دوغلی پالیسی کون کر رہا ہے !!!!!
حدیث میں اتھارٹی ہیں تو ان کے حوالے سے جرح وتعدیل کا کوئی ایسا قول پیش کریں جسے امام ترمذی نے برضاء رغب نقل کیا ہو، اس پرکوئی اشکال نہیں ہوگا ، لیکن آپ ایک دوسری وادی میں قدم رکھ رہے ہیں :
اولا:
تو جرح و تعدیل کے اقوال کے بجائے فقہی اقوال پیش کررہے ہیں، جو انتہائی مضحکہ خیزہے۔
سند جرح و تعدیل اور فقہی اقوال دونوں میں میں ضروری ہے ۔ اگر آپ ابو حاتم کا یقال کا قول بغیر سند کے مان سکتے ہیں ہیں حتی کہ کہنے والے کا نام بھی نہیں تو میں بھی بغیر سند کے فقہی اقوال پیش کر سکتا ہوں ۔ اب بتائیں مضحکہ خیز کون بات کر رہا ہے
ثانیا:
اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ہے کہ امام ترمذی ان فقہی اقوال سے متفق بھی ہیں۔
یہی میں نے کہا تھا کہ اس طرف کوئی اشارہ نہیں کہ امام ابو جاتم یقال کے قائل سے متقق ہیں ۔
ثالثا:
اب میں آپ کے سامنے امام ترمذی کی اصل اتھارٹی کا حوالہ دیتا ہوں ملاحظہ فرمائیں:
امام ترمذی فرماتے ہیں:
وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ: قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ، وَذَكَرَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ. [سنن الترمذي ت شاكر 2/ 38]۔
جی ہاں یہ ہے امام ترمذی رحمہ اللہ کے اپنے فن کی بات کہ وہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر امام ابن المبارک رحمہ اللہ کا قول برضاء و رغبت نقل کررہے ہیں، اس لئے آپ لائن پر آئیں اور امام ترمذی کی اتھارٹی کو تسلیم کریں اور زیربحث مردود حدیث سے امت کو دور رہنےکی تلقین کریں۔
یہاں عبد اللہ بن مبارک کا جو قول امام ترمذی ذکر کرہے ہیں وہ ابن مسعود دضی اللہ عنہ کی قولی روایت ہے ۔ ان کی فعلی روایت پر امام ترمذی نے عبداللہ بن مبارک کی کوئی جرح نقل نہیں کی۔ اور ہمارے درمیان بحث ابن مسعود کی فعلی روایت پر ہے ۔
اولا:
اوپر امام ترمذی کے نقل کردہ اقوال کی نوعیت واضح کی جاچکی ہے۔
مين بھی آپ کے اعتراضات کا جواب دے چکا ہوں
ثانیا:
اصول حدیث کا یہ کون سا قائدہ ہے کوئی روایت اقوال صحابہ کی بنیاد پر صحیح قرار پاسکتی ہے اہل فن سے اس کی ایک مثال پیش کریں کہ کسی حدیث کو فقہی اقوال کی بنیاد پر صحیح قراردیا گیاہے۔
جب کوئی امام یقال کرکے بات کرے اور بات آپ کے ہاں مستند ہے ۔ آپ پہلے یہ بتائین کہ آپ نے یہ قائدہ کہاں سے لیا ۔ کیوں بے قائدہ بات پہلے آپ نے کی اور مجھے ایسے محدثین کی لسٹ بھی دی دیں جو یقال کہ کہ بات کریں اور آپ کے ہاں ان کی بات بھی معتبر ہو۔
ثالثا:
یہ اقوال صحابہ کے ہیں اورحدیث ابن مسعود میں عدم رفع کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے؟؟ اب ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیجئے کہ مرفوع روایت کیا موقوف روایت سے تائید پاکر صحیح قرار پاسکتی ہے ؟؟؟ تو اصول حدیث سے اس کا ثبوت پیش کریں۔
اس اصول کا جواب اوپرثانیا میں جواب میں آگیا ۔
محترم! صحیح بخاری کی جن روایات کی طرف آپ اشارہ کررہے ہیں ان ساری روایات کے انتہائی مضبوط اور معتبر متابعات موجود ہیں ، اورشواہد ومتابعات کے آجانے کے بعد یہ ضعف مضرنہیں ہوتا ہے کہ وہ آخری زمانہ میں متغیر الحفظ ہوگئے تھے ، آپ بخاری سے احمد بن يونس عن ابی بکر بن عیاش کے طریق سے کوئی بھی روایت پیش کریں اس کا صحیح متابع یا شاہد پیش کرنا میری ذمہ داری ہے ۔
آپ سمجھے نہیں ۔ میں احمد بن يونس عن ابی بکر بن عیاش کے طریق پر اعتراض نہیں کر رہا ۔ میں بھی کہ رہا ہوں کہ یہ طریق صحیح ہے ۔ اور اسی طریق پرہی عبد اللہ بن عمر کے عدم رفع الیدین کو نقل کیا گیا ہے جیسا کہ طحاوی کی سند میں ہے
اورمیری اس بات کا جواب نہیں آیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے متعلق بات کررہے ہیں ، پھر اس بیچ آپ اثر ابن عمررضی اللہ عنہ کو پیش کرکے کیوں خواہ مخواہ بحث کوطول دے رہے ہیں؟؟؟؟
آپ جس روایت سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رفع الیدین ثابت کر رہے ہیں اس کو نقل کرنے والے عبد اللہ بن عمر ہیں ۔ اور میں عبد اللہ بن عمر کا فعل اس لئیے ذکر کر رہا ہوں کہ حدیث کے راوی خود رفع الیدین نہیں کر رہے ۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ رفع الیدین پہلے تھا بعد میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے نہیں کیا ۔ ورنہ خود رفع الیدین کو روایت کرنے والا کیوں ترک کرے گا ۔
ہم نے اثبات رفع الیدین میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث پیش کی ہے اس لئے اگر آپ کے پاس ترک کی کوئی مرفوع حدیث ہو تو پیش کریں ،
عن البراء بن عازب قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة رفع يديه إلى قريب من أذنيه ثم لم يعد . أخرجه أبو داود والدارقطني
آثار اوروہ بھی مردود شدہ سے کام نہیں چلے گا۔
پہلے آپ ان آثار کو مردود ثابت کریں پھر ان کو مردود کہیں ۔
اورتطبیق والی روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے متعلق آپ کی تحقیق کا انتظار ہے ، کوئی جلدی نہیں جب بھی آپ کی تحقیق مکمل ہوجائے تو ناچیز کو ضرور آگاہ کریں۔
مین نے دوبارہ اس طرف توجہ نہیں دی ۔ چلیں ان شاء اللہ جلد عرض کروں گا ۔

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

تحریر آفتاب:
آپ نے مندرجہ ذیل احتمالات ذکر کیے تھے
 ● عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کرتے وقت رفع الیدین کرنا بھول گئے ہوں
● عدم رفع سے سے مراد تکبیر تحریمہ کے وقت ایک سے زائد والا رفع ہو جیساکہ عیدین کی نماز میں ہوتاہے۔
● عدم رفع کا یہ عمل اس وقت کا ہو جب تطبیق مشروع تھی اور تطبیق کے نسخ کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت بھی منسوخ ہوئی
تو آپ نے کہا
علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
ثُمَّ لَوْ سَلَّمْنَا صِحَّةَ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ نَعْتَبِرْ بِقَدَحِ أُولَئِكَ الْأَئِمَّةِ فِيهِ فَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحَادِيثِ الْمُثْبِتَةِ لِلرَّفْعِ فِي الرُّكُوعِ وَالِاعْتِدَالِ مِنْهُ تَعَارُضٌ لِأَنَّهَا مُتَضَمِّنَةٌ لِلزِّيَادَةِ الَّتِي لَا مُنَافَاةَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَزِيدِ، وَهِيَ مَقْبُولَةٌ بِالْإِجْمَاعِ لَا سِيَّمَا وَقَدْ نَقَلَهَا جَمَاعَةٌ مِنْ الصَّحَابَةِ وَاتَّفَقَ عَلَى إخْرَاجِهَا الْجَمَاعَةُ[نيل الأوطار 2/ 211]
اس میں تو ایسا کوئی احتمال علامہ شوکانی نے ذکر نہیں کیا ۔
تو کیا اگر ایسے احتمالات کو علماء سے ثابت نہیں کرتے تو ظاہر ہے یہ آپ کا قول ہوا ۔ اس لئیے میں نے یہ احتمالات جو آپ نے ذکر کیے آپ کی طرف منسوب کیے۔

اپنی خواہش کے مطابق اب سلسلہ وار اہل علم کے حوالے ملاحظہ فرمالیں:

● عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کرتے وقت رفع الیدین کرنا بھول گئے ہوں

امام زیلعی رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں:
قَالَ صَاحِبُ التَّنْقِيحِ : قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إسْحَاقَ، هَذِهِ عِلَّةٌ لَا يُسَاوَى سَمَاعُهَا، لِأَنَّ رَفْعَ الْيَدَيْنِ قَدْ صَحَّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ الخلفاء الراشدين، ثم الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ، وَلَيْسَ فِي نِسْيَانِ ابْنِ مَسْعُودٍ لِذَلِكَ مَا يُسْتَغْرَبُ قَدْ نَسِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ الْقُرْآنِ مَا لَمْ يَخْتَلِفْ الْمُسْلِمُونَ فِيهِ بَعْدُ، وَهِيَ الْمُعَوِّذَتَانِ. وَنَسِيَ مَا اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلَى نَسْخِهِ، كَالتَّطْبِيقِ، وَنَسِيَ كَيْفَ قِيَامُ الِاثْنَيْنِ خَلْفَ الْإِمَامِ. وَنَسِيَ مَا لَمْ يَخْتَلِفْ الْعُلَمَاءُ فِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَ النَّحْرِ فِي وَقْتِهَا، وَنَسِيَ كَيْفِيَّةَ جَمْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ. وَنَسِيَ مَا لَمْ يَخْتَلِفْ الْعُلَمَاءُ فِيهِ مِنْ وَضْعِ الْمِرْفَقِ وَالسَّاعِدِ عَلَى الْأَرْضِ فِي السُّجُودِ، وَنَسِيَ كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى} ، وَإِذَا جَازَ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ أَنْ يَنْسَى مِثْلَ هَذَا فِي الصَّلَاةِ، كَيْفَ لَا يَجُوزُ مِثْلُهُ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ، [نصب الراية 1/ 402]

● عدم رفع سے سے مراد تکبیر تحریمہ کے وقت ایک سے زائد والا رفع ہو جیساکہ عیدین کی نماز میں ہوتاہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والجواب الثاني : ذكره أصحابنا معناه لا يعود إلى الرفع في ابتداء استفتاحه ولا في أوائل باقي ركعات الصلاة الواحدة ، ويتعين تأويله جمعا بين الأحاديث [المجموع 3/ 359]

● عدم رفع کا یہ عمل اس وقت کا ہو جب تطبیق مشروع تھی اور تطبیق کے نسخ کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت بھی منسوخ ہوئی

امام بیھقی فرماتے ہیں:
وقد يكون ذلك في الابتداء قبل أن يشرع رفع اليدين في الركوع ، ثم صار التطبيق منسوخا ، وصار الأمر في السنة إلى رفع اليدين عند الركوع ، ورفع الرأس منه ، وخفيا جميعا على عبد الله بن مسعود [معرفة السنن والآثار للبيهقي 2/ 496]

امید ہے کہ اب آپ کا شکوہ دور ہوجائے گا۔

تحریر آفتاب:
معذرت کے ساتھ لیکن اس فورم پر میرا تجربہ ہے جب بھی کسی سے کوئی سوال کیا جائے تو جوابی سوال اجاتا ہے ۔ اگر یہی سوال اگر آپ اپنے موقف کو پیش کرنے بعد کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا ۔
بہر حال تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کے متعلق میرا جواب ہے
تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین نہ نماز کے ارکان میں سے ہے اور نہ نماز کی واجبات میں سے ۔ اس کے بغیر نماز ہوجائے گی۔
اب آپ بغیر کسی سوال کے میرے سوال کا جواب دیں

جزاک اللہ خیرا۔
جورکوع والا رفع الیدین نہ کرے اس کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں:

اول :

وہ اجتہادی غلطی کا مرتکب ہے ایسی صورت میں اس کی نماز ہوجائے گی ، لیکن رفع الیدین کی سنت پر عمل کا جوثواب ہے اس سے وہ محروم رہے گا۔

دوم:

اگر اس کے سامنے دلائل واضح ہیں اس کا دل اسے قبول کررہا ہے مگر وہ محض تعصب اور ہٹ دھرمی اور تقلید کی وجہ سے رفع الیدین نہیں کرتا تو اس کی نماز کا صحیح ہونا تو دور کی بات اس کا اسلام ہی صحیح نہیں ہے بلکہ وہ کافر ہے۔

تحریر آفتاب:
میں نے یہاں یہ نہیں کہا یہاں پر امام ترمذي اس تبویب کے ماننے والے ہیں ۔ یہ الگ بحث ہے کہ امام ترمذی عدم رفع الیدین کے قائل ہیں یا نہیں ۔ لیکن جس باب میں جو حدیث لگائی جاتی ہے وہ حدیث اسی باب سے متعلق ہوتی ہے ۔ اگر کتاب کا نام نماز ہے تو اس کتاب میں نماز کے بارے میں احکام و مسائل ہوں گے روزہ کے بارے میں نہیں ۔
اسی طرح امام ترمذی کا یہ باب قائم کرنے کا مطلب ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ترک رفع الیدین بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے ۔ اس سے وہ احتملات رد ہوجاتے ہیں جو اس حدیث کے صحیح ثابت ہونے پر بھی آپ قائم کیے ہوئے ہیں۔ باقی امام ترمذی اس حدیث سے متفق ہیں یا نہیں یہ الگ معاملہ ہے ۔ میرا کہنا کا مقصد کہ تھا کہ اس حدیث سے کیا مطلب نکلتا ہے وہ امام ترمذی کی تبویب سے دیکھیں ۔ امام ترمذی اس حدیث سے متفق ہیں یا نہیں یہ الگ معاملہ ہے

ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ اس میں ترک رفع والے مفہوم کا بھی احتمال ہے ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ اس میں دیگر احتمالات بھی ہیں ، اب ضروری نہیں ہے کہ سب کے نزدیک ایک ہی احتمال راجح ہو ، لہٰذا جس کے نزدیک دوسرے احتمالات راجح ہوں گے، وہ مذکورہ حدیث کے صحیح ہونے کے باوجود ترک رفع کی بات نہیں کرے گا۔

تحریر آفتاب:
میں نے صرف آپ کے جواب کی طرح جواب دیا ۔ اگر وہ دوغلی پالیسی ہے تو آپ کا جواب بھی دوغلی پالیسی ہے ۔ ورنہ بغیر سند کے قول قابل قبول نہیں ہوتا ۔ لیکن اپ ابو حاتم کے بغیر سند والے قول کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ تو دوغلی پالیسی کون کر رہا ہے !!!!!

امام ابوحاتم کے نام سے ہم نے کسی اور قول کو پیش ہی نہیں کیا ہے کہ اس کی سند پیش کرنے کی ضرورت ہو بلکہ ہم نے خود امام ابوحاتم ہی کا قول پیش کیا ہے ، کہ وہ حدیث ابن مسعود پر جرح کررہے ہیں ، ہاں امام حاتم نے اس جرح کو یقال وہم فیہ الثوری کہہ کر اپنے پیش رو کی طرف بھی منسوب کیا ہے لیکن یہ نسبت کا پہلو محل شاہد نہیں بلکہ محل شاہد امام ابوحاتم کا خود اپنا فیصلہ ہے جو انہوں نے ایک سوال کے جواب میں پیش کیا تھا، اور یہ بتانے کی ضروت نہیں کہ امام حاتم کو بھی جرح میں فیصلہ کرنے کی اتھارٹی حاصل ہے۔
بالفاظ دیگر پیش کردہ عبارت میں دولوگوں کی جرح ہے ، ایک وہ لوگ جن کی طرف امام ابوحاتم نے اشارہ کیا ہے اور ایک خود امام ابوحاتم ہیں، ہم نے امام ابوحاتم کے اپنے فیصلہ کو بطور حجت پیش کیا ہے۔

اب آپ ایسی صورت حال کا کہیں سے بھی حوالہ دیں ہم وہاں کوئی دوسرا طرزعمل اختیار نہیں کریں گے، مثلا امام ترمذی رحمہ اللہ سے کوئی سوال کرے کی فلاں کام درست ہے یا غیر درست؟؟؟ اس کے جواب میں امام ترمذی رحمہ اللہ پہلےکسی صحابی کا فتوی یقال وغیر ہ جیسے الفاظ سے بغیر سند کے پیش کریں کہ انہوں نے اسے غیر درست قرار دیا ہے پھر خود بھی اس کی وضاحت کرتے ہوئے اسے غیر درست قرار دیں۔
اب آپ میرے سامنے امام ترمذی کا یہ کلام پیش کریں اورکہیں کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہے تو میں یہاں دوغلی پالیسی نہیں اپناؤں گا بلکہ یہ تسلیم کرلوں گا کہ یقینا یہ امام ترمذی کا کلام ہے ۔

تحریر آفتاب:
سند جرح و تعدیل اور فقہی اقوال دونوں میں میں ضروری ہے ۔ اگر آپ ابو حاتم کا یقال کا قول بغیر سند کے مان سکتے ہیں ہیں حتی کہ کہنے والے کا نام بھی نہیں تو میں بھی بغیر سند کے فقہی اقوال پیش کر سکتا ہوں ۔ اب بتائیں مضحکہ خیز کون بات کر رہا ہے

بھائی برا نہ مانیں مضحکہ خیزی والی بات آپ ہی کررہے ہیں ۔
میرے پیش کردہ اقتباس میں امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بے سند بات جومنسوب کی ہے وہ میرا محل شاہد ہے ہی نہیں کہ آپ سند کا مطالبہ کریں ، بلکہ میں امام ابوحاتم رحمہ اللہ کے اپنے فیصلہ کو حجت بنارہا ہوں، لہذا سند پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
اس انداز میں اگر آپ فقہی قول پیش کریں تو فی الفور تسلیم کرلوں گا کہ فلاں امام کا بھی یہ قول ہے ۔
یعنی کوئی امام کسی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بالفاظ دیگر فتوی دیتے ہوئے اپنی تائید میں برضاء رغبت اپنے پیش رو کا قول پیش کرے اور اس کی وضاحت بھی کرے تو اس کے پیش رو کا قول خود اس کا بھی قول بن جائے گا ۔
ایسی صورت میں آپ پیش رو والا قول اس کی طرف بھی منسوب کریں تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

تحریر سنابلی
ثانیا:
اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ہے کہ امام ترمذی ان فقہی اقوال سے متفق بھی ہیں۔
تحریرآفتاب
یہی میں نے کہا تھا کہ اس طرف کوئی اشارہ نہیں کہ امام ابو جاتم یقال کے قائل سے متقق ہیں ۔

امام ابوحاتم یقال کے قائل سے متفق ہیں پیش کردہ اقتباس پھر سے ملاحظہ ہو:
وسألتُ أبِي عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ الثّورِيُّ ، عن عاصِمِ بنِ كُليبٍ ، عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ الأسودِ ، عن علقمة ، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد.قال أبِي : هذا خطأٌ ، يُقالُ : ’’وهِم فِيهِ الثّورِيُّ‘‘.وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ. [علل الحديث 1 /96 رقم 258]
نمایاں اور ملون بلون الاحمر الفاظ پر دھیان دیجئے اس کے بعد صدق دل سے بتائیے کہ یہ الفاظ کن کے ہیں ، محترم یقال کے ذریعہ جو بات نقل کی گئی ہے وہ بس اتنی ہے جتنی میں نے ہرے رنگ سے ملون اور واوین کے درمیان کیا ہے۔
مزید اس پر بھی غور کریں کہ امام ابوحاتم نے ایک سوال کے جواب میں مذکورہ بات کہی ہے ۔

تحریر آفتاب:
یہاں عبد اللہ بن مبارک کا جو قول امام ترمذی ذکر کرہے ہیں وہ ابن مسعود دضی اللہ عنہ کی قولی روایت ہے ۔ ان کی فعلی روایت پر امام ترمذی نے عبداللہ بن مبارک کی کوئی جرح نقل نہیں کی۔ اور ہمارے درمیان بحث ابن مسعود کی فعلی روایت پر ہے ۔

اگر زیربحث روایت ابن مسعود کی فعلی راویت ہے تب تو آپ کے استدلال کی پوری عمارت ہی منہدم ہوگئی کیونکہ یہ مسلمہ بات ہے کہ مرفوع صحیح اورصریح روایت کے خلاف کسی صحابی کی فعلی روایت حجت ہوہی نہیں سکتی ۔

تحریرسنابلی
اصول حدیث کا یہ کون سا قائدہ ہے کوئی روایت اقوال صحابہ کی بنیاد پر صحیح قرار پاسکتی ہے اہل فن سے اس کی ایک مثال پیش کریں کہ کسی حدیث کو فقہی اقوال کی بنیاد پر صحیح قراردیا گیاہے۔
تحریر آفتاب
جب کوئی امام یقال کرکے بات کرے اور بات آپ کے ہاں مستند ہے ۔ آپ پہلے یہ بتائین کہ آپ نے یہ قائدہ کہاں سے لیا ۔ کیوں بے قائدہ بات پہلے آپ نے کی اور مجھے ایسے محدثین کی لسٹ بھی دی دیں جو یقال کہ کہ بات کریں اور آپ کے ہاں ان کی بات بھی معتبر ہو۔

میں نے ایسا کوئی دعوی ہی نہیں کیا ہے کہ یقال کے ذریعہ پیش کردہ مجہول قائل کا قول حجت ہے اس لئے اس کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
البتہ میں نے یہ کہا ہے کہ کوئی کسی پیش رو عالم کی قول برضاء ورغبت نقل کرے اور اس کی وضاحت کرتے ہوہے اسے حجت بھی تسلم کرے تو یہ قول خود ناقل کا قول بھی تسلیم کیا جائے گا۔
اسی لئے مذکورہ اقباس کی بناپر اہل علم نے اس جرح والے قول کو امام ابوحاتم رحمہ اللہ کی طرف بلاتردد منسوب کیا ہے ، میں امام زیلعی کا حوالہ پیش کرچکا ہوں۔

تحریر سنابلی
یہ اقوال صحابہ کے ہیں اورحدیث ابن مسعود میں عدم رفع کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے؟؟ اب ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیجئے کہ مرفوع روایت کیا موقوف روایت سے تائید پاکر صحیح قرار پاسکتی ہے ؟؟؟ تو اصول حدیث سے اس کا ثبوت پیش کریں۔
تحریر آفتاب
اس اصول کا جواب اوپرثانیا میں جواب میں آگیا ۔

ہر گز نہیں !
میں نے ثانیا کے تحت میں اقوال صحابہ سے مرفوع حدیث کی تصحیح پر اعتراض کیا تھا اور یہاں موقوف روایت سے مرفوع روایت کی تصحیح پر اعتراض کیا ہے دونوں عبارت میں فرق ہے۔

تحریر سنابلی
محترم! صحیح بخاری کی جن روایات کی طرف آپ اشارہ کررہے ہیں ان ساری روایات کے انتہائی مضبوط اور معتبر متابعات موجود ہیں ، اورشواہد ومتابعات کے آجانے کے بعد یہ ضعف مضرنہیں ہوتا ہے کہ وہ آخری زمانہ میں متغیر الحفظ ہوگئے تھے ، آپ بخاری سے احمد بن يونس عن ابی بکر بن عیاش کے طریق سے کوئی بھی روایت پیش کریں اس کا صحیح متابع یا شاہد پیش کرنا میری ذمہ داری ہے ۔
تحریر آفتاب
آپ سمجھے نہیں ۔ میں احمد بن يونس عن ابی بکر بن عیاش کے طریق پر اعتراض نہیں کر رہا ۔ میں بھی کہ رہا ہوں کہ یہ طریق صحیح ہے ۔ اور اسی طریق پرہی عبد اللہ بن عمر کے عدم رفع الیدین کو نقل کیا گیا ہے جیسا کہ طحاوی کی سند میں ہے

میرے خیال سے آپ ہی نہیں سمجھے!
ملون اور نمایاں الفاظ پر غور کریں میں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ احمد بن يونس عن ابی بکر بن عیاش والا طریق بھی ابوبکر بن عیاش کے تغیر حفظ سے محفوظ نہیں ہے اوربخاری میں یہ طریق اس لئے مضرنہیں کہ اس کے شواہد ومتابعات موجود ہیں ، میری بات پر پھر سے غورکریں۔

تحریر سنابلی
اورمیری اس بات کا جواب نہیں آیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے متعلق بات کررہے ہیں ، پھر اس بیچ آپ اثر ابن عمررضی اللہ عنہ کو پیش کرکے کیوں خواہ مخواہ بحث کوطول دے رہے ہیں؟؟؟؟
تحریر آفتاب
آپ جس روایت سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رفع الیدین ثابت کر رہے ہیں اس کو نقل کرنے والے عبد اللہ بن عمر ہیں ۔ اور میں عبد اللہ بن عمر کا فعل اس لئیے ذکر کر رہا ہوں کہ حدیث کے راوی خود رفع الیدین نہیں کر رہے ۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ رفع الیدین پہلے تھا بعد میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے نہیں کیا ۔ ورنہ خود رفع الیدین کو روایت کرنے والا کیوں ترک کرے گا ۔

محترم بھائی فی الحال ہماری بحث ابن مسعو والی روایت کے صحت وضعف پر چل رہی ہے اور اس ضمن میں کسی صحابی کی موقوف روایت چنداں سود مند نہیں ۔
اورجب تک مرفوع روایت سے ترک ثابت نہ ہو موقوف روایت سے ترک کبھی ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ مرفوع روایت صحیح اورصریح ہیں ۔

تحریر سنابلی
ہم نے اثبات رفع الیدین میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث پیش کی ہے اس لئے اگر آپ کے پاس ترک کی کوئی مرفوع حدیث ہو تو پیش کریں ،
تحریر آفتاب
عن البراء بن عازب قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة رفع يديه إلى قريب من أذنيه ثم لم يعد . أخرجه أبو داود والدارقطني

آپ نے ایک عدد ضعیف حدیث اور پیش کردی ابھی ایک حدیث کا مسئلہ حل ہی نہیں ہوا اوردوسری ایسی روایت پیش کردی جو اس سے بھی گئی گذری ہے ۔
محترم اس حدیث کے ضعف کے اسباب پیش کریں تو بات لمبی ہوجائے گی اس لئے مختصرا اتنا عرض ہے کہ اس حدیث کے ضعیف ہونے پر اہل فن کا اجماع ہے اور اجماعی فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔
امام ابن المقن فرماتے ہیں:
وَأما الحَدِيث الثَّانِي: وَهُوَ حَدِيث الْبَراء بن عَازِب؛ فَهُوَ حَدِيث ضَعِيف بِاتِّفَاق الْحفاظ، [البدر المنير 3/ 487]۔

اس بات پر بھی محدثین کا اجماع ہے کہ اس حدیث میں ’’لم يعد‘‘ مدرج ہے ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَاتَّفَقَ الْحُفَّاظُ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ مُدْرَجٌ فِي الْخَبَرِ مِنْ قَوْلِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَرَوَاهُ عَنْهُ بِدُونِهَا شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ وَزُهَيْرٌ وَغَيْرُهُمْ مِنْ الْحُفَّاظِ [التلخيص الحبير : 1/ 545]

تحریرسنابلی
آثار اوروہ بھی مردود شدہ سے کام نہیں چلے گا۔
تحریرآفتاب
پہلے آپ ان آثار کو مردود ثابت کریں پھر ان کو مردود کہیں ۔

پہلے آپ ان آثار کی سندیں تو پیش کریں۔

⑧ اعتراض از: آفتاب

اپنی خواہش کے مطابق اب سلسلہ وار اہل علم کے حوالے ملاحظہ فرمالیں:
امید ہے کہ اب آپ کا شکوہ دور ہوجائے گا۔
اب آپ نے احتمالات کی سپورٹ میں علماء کے اقوال ذکر کیے ۔ اب میں ان احتمالات کی نسبت آپ کی طرف نہیں کروں گا۔
جورکوع والا رفع الیدین نہ کرے اس کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں:
ایک تیسری صورت آپ بیان کرنا بھول گئے ۔ وہ صاحب جو دلیل سمجھنے سے فاصر ہے یا دونوں اطراف کی دلائل میں حق کو نہیں پاسکتا اگر وہ ایک عالم پر اعتماد کرتے ہوئے بغیر دلیل کے اس عالم کی بات مان لے اور رفع الیدین نہ کرے تو پھر کیا حکم ہے ؟
ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ اس میں ترک رفع والے مفہوم کا بھی احتمال ہے ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ اس میں دیگر احتمالات بھی ہیں ، اب ضروری نہیں ہے کہ سب کے نزدیک ایک ہی احتمال راجح ہو ، لہٰذا جس کے نزدیک دوسرے احتمالات راجح ہوں گے، وہ مذکورہ حدیث کے صحیح ہونے کے باوجود ترک رفع کی بات نہیں کرے گا۔
یعنی آپ تو ترک رفع الیدن کے احتمال کو راجح قرار نہیں دیتے لیکن اگر کوئی ترک رفع الیدین کو راجح قرار دے تو آپ کے نذدیک وہ بھی ایک احتمال ہے تو آپ اس احتمال رکھنے والے سے تعارض نہیں کریں گے ؟
امام ابوحاتم کے نام سے ہم نے کسی اور قول کو پیش ہی نہیں کیا ہے کہ اس کی سند پیش کرنے کی ضرورت ہو بلکہ ہم نے خود امام ابوحاتم ہی کا قول پیش کیا ہے ، کہ وہ حدیث ابن مسعود پر جرح کررہے ہیں ، ہاں امام حاتم نے اس جرح کو یقال وہم فیہ الثوری کہہ کر اپنے پیش رو کی طرف بھی منسوب کیا ہے لیکن یہ نسبت کا پہلو محل شاہد نہیں بلکہ محل شاہد امام ابوحاتم کا خود اپنا فیصلہ ہے جو انہوں نے ایک سوال کے جواب میں پیش کیا تھا، اور یہ بتانے کی ضروت نہیں کہ امام حاتم کو بھی جرح میں فیصلہ کرنے کی اتھارٹی حاصل ہے۔
بالفاظ دیگر پیش کردہ عبارت میں دولوگوں کی جرح ہے ، ایک وہ لوگ جن کی طرف امام ابوحاتم نے اشارہ کیا ہے اور ایک خود امام ابوحاتم ہیں، ہم نے امام ابوحاتم کے اپنے فیصلہ کو بطور حجت پیش کیا ہے۔
آپ ایک بات پر اٹکے ہوئے ہیں کہ یقال کا قول ابو حاتم کا ہے اور اگر نہیں ہے تو بھی وہ اس سے متفق ہیں ۔ یہ بات کہیں سے بھی ثابت نہیں ہو رہی ۔ اگر کوئی حنفی ایسی بے سند بات کو کسی محدث سے منسوب کر رہا ہوتا تو اب تک اس ہٹ دھرمی کو آپ تقلید کا شاخسانہ قرار دے چکے ہوتے
يُقالُ : ’’وهِم فِيهِ الثّورِيُّ‘
یہ کہیں سے ثابت نہیں ہر رہا کہ کس کا قول ہے صرف احتمال ہے کا ابو حاتم اس قول سے متفق ہيں
ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.
یہ ابو حاتم کا قول ہے اور کسی راوی کا منفرد ہونا اور بات ہے اس کو وہم ہونا اور بات ہے ۔
اب آپ ایسی صورت حال کا کہیں سے بھی حوالہ دیں ہم وہاں کوئی دوسرا طرزعمل اختیار نہیں کریں گے، مثلا امام ترمذی رحمہ اللہ سے کوئی سوال کرے کی فلاں کام درست ہے یا غیر درست؟؟؟ اس کے جواب میں امام ترمذی رحمہ اللہ پہلےکسی صحابی کا فتوی یقال وغیر ہ جیسے الفاظ سے بغیر سند کے پیش کریں کہ انہوں نے اسے غیر درست قرار دیا ہے پھر خود بھی اس کی وضاحت کرتے ہوئے اسے غیر درست قرار دیں۔
اب آپ میرے سامنے امام ترمذی کا یہ کلام پیش کریں اورکہیں کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہے تو میں یہاں دوغلی پالیسی نہیں اپناؤں گا بلکہ یہ تسلیم کرلوں گا کہ یقینا یہ امام ترمذی کا کلام ہے ۔
چلیں میں آپ کی یہ بات یاد رکھوں گا ۔ یعنی آپ کے نذدیک یقال کہ کر اگر کوئی محدث کوئی بات کرے تو وہ اسی محدث کا قول کہلائے گا۔ اور آپ کے ہاں یہ بات مستند ہوگی
بھائی برا نہ مانیں مضحکہ خیزی والی بات آپ ہی کررہے ہیں ۔
میرے پیش کردہ اقتباس میں امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بے سند بات جومنسوب کی ہے وہ میرا محل شاہد ہے ہی نہیں کہ آپ سند کا مطالبہ کریں ، بلکہ میں امام ابوحاتم رحمہ اللہ کے اپنے فیصلہ کو حجت بنارہا ہوں، لہذا سند پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
یقال میں تو قائل کا نام ہی معلوم تو سند کہاں سے پیش کریں گے ابو حاتم کا قول تو صرف اتنا ہے کہ
وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.
امام ابوحاتم یقال کے قائل سے متفق ہیں پیش کردہ اقتباس پھر سے ملاحظہ ہو:
وسألتُ أبِي عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ الثّورِيُّ ، عن عاصِمِ بنِ كُليبٍ ، عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ الأسودِ ، عن علقمة ، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد.قال أبِي : هذا خطأٌ ، يُقالُ : ’’وهِم فِيهِ الثّورِيُّ‘‘.وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ. [علل الحديث 1 /96 رقم 258]
نمایاں الفاظ اور ملون بلون الاحمر الفاظ پر دھیان دیجئے اس کے بعد صدق دل سے بتائیے کہ یہ الفاظ کن کے ہیں ، محترم یقال کے ذریعہ جو بات نقل کی گئی ہے وہ بس اتنی ہے جتنی میں نے ہرے رنگ سے ملون اور واوین کے درمیان کیا ہے۔
مزید اس پر بھی غور کریں کہ امام ابوحاتم نے ایک سوال کے جواب میں مذکورہ بات کہی ہے ۔
دوسری بات میں نے کہی تھی کہ اگر یہ سب ابو حاتم کا قول مان لیں تو دیکھیں وہ سفیان کے وہم کی یہ دلیل دے رہے ہیں
ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.
یعنی سفیان الثوری کو وہم اس لئیے کہ وہ اس حدیث کو نقل کرنے میں اکیلے ہیں ۔ کیا کسی کا حدیث نقل کرنے میں منفرد ہونا اس کے وہم کی دلیل ہے ۔ میرے نزدیک سفیان کو وہم ہونے کے حوالہ سے دلیل مضبوط نہیں ۔
اسی کو ان علماء ان الفاظ میں کہا ہے ۔
الباني رحمہ اللہ فرماتے ہیں
“الحق انه حديث صحيح واسناده صحيح على شرط مسلم ولم نجد لمن اعله حجة يصلح التعلق بها ورد الحديث من اجله”
(مشکاہ المصابیح )
معروف محقق علامہ شاکر صاحب کہتے ہیں
وهذا الحديث ( اي حديث ابن مسعود” ألا أصلي بكم صلاة رسول الله ؟ فصلى , لم يرفع يديه إلا في أول مرة ” ) صححه ابن حزم وغيره من الحفاظ , وهو حديث صحيح , وما قالوه في تعليله ليس بعلة ,
(جامع ترمذی تحقیق شاکر)
اور یہاں جو حديث پر آپ کے بقول جرح مفسر ہو رہی ہے وہ ہے
، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد
میں تو دوسری حدیث بیان کرہ رہا تھا ۔ اگر چہ یہ حدیث بھی صحیح ہے لیکن دوسری حدیث کے متعلق آپ نے کچھ نہ کہا
” ألا أصلي بكم صلاة رسول الله ؟ فصلى , لم يرفع يديه إلا في أول مرة
اگر آپ اس کو صحابی کی فعلی روایت کہ کر رد کریں تو جواب آگے آرہا ہے
اگر زیربحث روایت ابن مسعود کی فعلی راویت ہے تب تو آپ کے استدلال کی پوری عمارت ہی منہدم ہوگئی کیونکہ یہ مسلمہ بات ہے کہ مرفوع صحیح اورصریح روایت کے خلاف کسی صحابی کی فعلی روایت حجت ہوہی نہیں سکتی ۔
کوئی فعل کسی صحابی کی طرف منسوب ہو تو اس کو مرفوع سے تقابل کرنیں تو وہاں آپ یہ اعتراض کرسکتے ہیں ۔ یہاں ابن مسعود الا اصلی بکم صلاہ رسول اللہ کہ کہ کر اس کی نسبت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کرہے ہیں ۔ یہ حدیث باکل حجت ہوگی ۔ یعنی یہ ان کا اپنا فعل نہیں وہ ایک عمل کرکے اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کر رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اس عمل کو ایسے کرتے تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو ایک تو ذکر کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ صحابی کہے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فلاں کام کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ۔ اور ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ کہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فلاں کام اس طرح کیا اور اس طرح کام کر کے دکھائے تو دونوں باتیں ایک ہیں ۔ بلکہ دوسرا طریقہ پہلے سے بہتر ہے کہ بتانے سے الفاظ کے استعمال سے سامع کچھ اور بھی مطلب لے سکتا ہے لیکن دوسرے طریقہ میں یہ احتمال نہیں ۔ ہاں اگر یہ حدیث یوں ہوتی ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور اس میں رفع الیدین نہیں کیا تو یہ صحابی کی فعلی روایت ہوتی اور بلاشبہ مرفوع صحیح اور صریح حدیث کے مقابلہ میں حجت نہ ہوتی
میں نے ایسا کوئی دعوی ہی نہیں کیا ہے کہ یقال کے ذریعہ پیش کردہ مجہول قائل کا قول حجت ہے اس لئے اس کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
البتہ میں نے یہ کہا ہے کہ کوئی کسی پیش رو عالم کی قول برضاء ورغبت نقل کرے اور اس کی وضاحت کرتے ہوہے اسے حجت بھی تسلم کرے تو یہ قول خود ناقل کا قول بھی تسلیم کیا جائے گا۔
اسی لئے مذکورہ اقباس کی بناپر اہل علم نے اس جرح والے قول کو امام ابوحاتم رحمہ اللہ کی طرف بلاتردد منسوب کیا ہے ، میں امام زیلعی کا حوالہ پیش کرچکا ہوں۔
میں نے اوپر ایک بات کی ہے اگر یہ ابو حاتم کا قول مان بھی لیا جائے تو کیا یہ مدلل جرح ہے ؟ اور علماء کے اقوال بھی ذکر کیے ہیں ۔
میرے خیال سے آپ ہی نہیں سمجھے!
ملون اور نمایاں الفاظ پر غور کریں میں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ احمد بن يونس عن ابی بکر بن عیاش والا طریق بھی ابوبکر بن عیاش کے تغیر حفظ سے محفوظ نہیں ہے اوربخاری میں یہ طریق اس لئے مضرنہیں کہ اس کے شواہد ومتابعات موجود ہیں ، میری بات پر پھر سے غورکریں۔
یعنی آپ کہ رہے ہیں کہ صحیح بخاری میں ضعیف احادیث ہیں اور ان پر عمل اس لئیے ہوتا ہے کہ اس متن کو دوسری صحیح حدیث سے تقویت ملی ہے لیکن صحیح بخاری میں ضعیف سند والی احاديث ہیں ؟ کیا میں صحیح سمجھا ؟
اورمیری اس بات کا جواب نہیں آیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے متعلق بات کررہے ہیں ، پھر اس بیچ آپ اثر ابن عمررضی اللہ عنہ کو پیش کرکے کیوں خواہ مخواہ بحث کوطول دے رہے ہیں؟؟؟؟
آپ جس روایت سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رفع الیدین ثابت کر رہے ہیں اس کو نقل کرنے والے عبد اللہ بن عمر ہیں ۔ اور میں عبد اللہ بن عمر کا فعل اس لئیے ذکر کر رہا ہوں کہ حدیث کے راوی خود رفع الیدین نہیں کر رہے ۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ رفع الیدین پہلے تھا بعد میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے نہیں کیا ۔ ورنہ خود رفع الیدین کو روایت کرنے والا کیوں ترک کرے گا ۔
محترم بھائی فی الحال ہماری بحث ابن مسعو والی روایت کے صحت وضعف پر چل رہی ہے اور اس ضمن میں کسی صحابی کی موقوف روایت چنداں سود مند نہیں ۔
اورجب تک مرفوع روایت سے ترک ثابت نہ ہو موقوف روایت سے ترک کبھی ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ مرفوع روایت صحیح اورصریح ہیں ۔
اگر ایک راوی حدیث بیان کرے لیکن اس کا اپنا عمل اس حدیث کے خلاف ہو تو آپ کا کیا موقف ہوگا ؟ میرے نزدیک تو وہ روایت مضطرب ہوجائے گی ۔
امام ابن المقن فرماتے ہیں:
وَأما الحَدِيث الثَّانِي: وَهُوَ حَدِيث الْبَراء بن عَازِب؛ فَهُوَ حَدِيث ضَعِيف بِاتِّفَاق الْحفاظ، [البدر المنير 3/ 487]۔
اس بات پر بھی محدثین کا اجماع ہے کہ اس حدیث میں ’’لم يعد‘‘ مدرج ہے ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَاتَّفَقَ الْحُفَّاظُ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ مُدْرَجٌ فِي الْخَبَرِ مِنْ قَوْلِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَرَوَاهُ عَنْهُ بِدُونِهَا شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ وَزُهَيْرٌ وَغَيْرُهُمْ مِنْ الْحُفَّاظِ [التلخيص الحبير : 1/ 545]
اصل میں اس حديث پراعتراض یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ہے
یزید بن ابی زیاد کے بارے میں سیر الاعلام سے کچھ محدثین کے حوالہ دیکھیں ۔
قال أبو داود لا أعلم أحدا ترك حديثه
عن شعبة، قال: ما أبالي إذا كتبت عن يزيد بن أبي زياد أن لا أكتبه عن أحد
وقد علق البخاري له لفظة
وقد روى له مسلم فقرنه بآخر معه
اگر کہا جاتا ہے آخری عمر میں اس کا حافظہ کمزور ہوگیا تھا تو یہ بات ذہن میں رکیھں يذید بن ابی زیاد سے “ثم لا يعود ” الفاظ یا ان کہ ہم معنی الفاظ مسند ابی لیلی اور جامع المسانید و سنن میں ہشیم سے ۔ مصنف عبدالرزاق میں ابن عینیہ سے ، شرح معانی الاثار میں سفيان الثوری سے ۔مسند ابی لیلی میں ابن ادریس سے اور سنن الدار قطنی میں شعبہ ،اسماعیل بن زکریا اور محمد بن عبد الرحمن سے مذکور ہیں ۔ اور یہ سب یزید بن ابی زیاد کے قدیم تلامذہ ہیں ۔ اس لئیے اگر ان کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہوگیا تھا تو اس دلیل کا بھی جواب ہوگیا ۔ ان کے قدیم تلامذہ سے بھی روایت پیش کردی گئیں ۔
ابن حبان نے بھی یہی کہا جنہوں نے ان کے تغیر حافظہ سے پہلی حدیثیں سنیں ان کا سماع صحیح ہے (تھذیب التھذیب )
اگر پھر بھی آپ کو اس حدیث کے متعلق شک ہو تو بتائیں ان شاء اللہ مزید بتایا جائےگا ۔

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

تحریر آفتاب:
ایک تیسری صورت آپ بیان کرنا بھول گئے ۔ وہ صاحب جو دلیل سمجھنے سے فاصر ہے یا دونوں اطراف کی دلائل میں حق کو نہیں پاسکتا اگر وہ ایک عالم پر اعتماد کرتے ہوئے بغیر دلیل کے اس عالم کی بات مان لے اور رفع الیدین نہ کرے تو پھر کیا حکم ہے ؟

اس کا معاملہ بھی پہلی صورت والے جیسا ہے یعنی اگر یہ خود کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے اورکسی مستند عالم پر اعتماد کرتے ہوئے خلاف سنت عمل شروع کردیتاہے تو اس کی نماز ہوجائے گی لیکن وہ رفع الیدین کے ثواب سے محروم رہے گا۔
اور اگر اس بیچ کسی نے اس پرحجت قائم کردی اور بات اس کی سمجھ میں آگئی لیکن پھر بھی تسلیم نہ کیا تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں ۔

تحریر آفتاب:
یعنی آپ تو ترک رفع الیدن کے احتمال کو راجح قرار نہیں دیتے لیکن اگر کوئی ترک رفع الیدین کو راجح قرار دے تو آپ کے نذدیک وہ بھی ایک احتمال ہے تو آپ اس احتمال رکھنے والے سے تعارض نہیں کریں گے ؟

تعارض کیوں نہیں کریں گے ؟ جب ہمارے نزدیک ایک مرجوح چیز پر کوئی عمل کرے گا تو اس سے تعارض کیوں نہ کیا جائے گا؟

تحریر آفتاب:
آپ ایک بات پر اٹکے ہوئے ہیں کہ یقال کا قول ابو حاتم کا ہے اور اگر نہیں ہے تو بھی وہ اس سے متفق ہیں ۔ یہ بات کہیں سے بھی ثابت نہیں ہو رہی ۔ اگر کوئی حنفی ایسی بے سند بات کو کسی محدث سے منسوب کر رہا ہوتا تو اب تک اس ہٹ دھرمی کو آپ تقلید کا شاخسانہ قرار دے چکے ہوتے
يُقالُ : ’’وهِم فِيهِ الثّورِيُّ‘
یہ کہیں سے ثابت نہیں ہر رہا کہ کس کا قول ہے صرف احتمال ہے کا ابو حاتم اس قول سے متفق ہيں

اس قول سے ابوحاتم کا متفق ہونا احتمال نہیں روز روش کی طرح ایک حقیقت ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بطورحجت یہ بات کہی ہے بلکہ مزید اس کی تائید بھی کی ہے اہل علم نے اس قول کی نسبت ابوحاتم کی طرف کی ہے خود حنفی عالم زیلعی کا حوالہ گذر چکاہے ، پوری دنیا میں آپ پہلے شخص ہیں جو یہ فرمارہے ہیں کہ اس قول سے ابوحاتم کے اتفاق میں احتمال ہے !!!!

تحریر آفتاب:
ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.
یہ ابو حاتم کا قول ہے اور کسی راوی کا منفرد ہونا اور بات ہے اس کو وہم ہونا اور بات ہے ۔

ابوحاتم کا قول صرف یہی نہیں ہے بلکہ سب سے پہلے انہوں نے یہ کہا ہے :
هذا خطأٌ
اس کے بعد بطوردلیل یہ ہے :
يُقالُ : ’’وهِم فِيهِ الثّورِيُّ‘‘
پھر اس کے بعدہے :
وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.[علل الحديث1 /96 رقم 258]
یعنی سب سے پہلے ابوحاتم نے سفیان ثوری کی روایت کو غلط قراردیا اس کے بعد ان کے وہم کا حوالہ دیا پھر اس کی تائید کرتے ہوئے ایک جماعت کے خلاف ان کی روایت کی نشاندہی کی یہ پورا سیاق اس بات پردلیل ہے کہ ابوحاتم سفیان ثوری کو واہم قراردیتے سے متفق ہیں ، اورباربار وضاحت کی جاچکی ہے کہ ابوحاتم بجائے خود ایک ناقد امام ہیں لہذا جب انہوں نے وہم کی تائید کردی تو یہ بھی وہم کے قائلین میں آگئے اب وہم کے دیگرقائلین کون ہیں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

لہٰذا یہ وہم والی جرح جرح مفسرہے جس کے ازالہ کے لئے کسی ایک بھی ناقد امام کا قول موجود نہیں ہے۔

تحریر آفتاب:
چلیں میں آپ کی یہ بات یاد رکھوں گا ۔ یعنی آپ کے نذدیک یقال کہ کر اگر کوئی محدث کوئی بات کرے تو وہ اسی محدث کا قول کہلائے گا۔ اور آپ کے ہاں یہ بات مستند ہوگی

جی بالکل بشرطیہ کہ وہ اسے بطورحجت اور اپنے استدلال میں پیش کرے۔

تحریر سنابلی
بھائی برا نہ مانیں مضحکہ خیزی والی بات آپ ہی کررہے ہیں ۔
میرے پیش کردہ اقتباس میں امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بے سند بات جومنسوب کی ہے وہ میرا محل شاہد ہے ہی نہیں کہ آپ سند کا مطالبہ کریں ، بلکہ میں امام ابوحاتم رحمہ اللہ کے اپنے فیصلہ کو حجت بنارہا ہوں، لہذا سند پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
تحریرآفتاب
یقال میں تو قائل کا نام ہی معلوم تو سند کہاں سے پیش کریں گے ابو حاتم کا قول تو صرف اتنا ہے کہ
وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.

ہرگزنہیں ابوحاتم کا قول صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ سب سے پہلے انہوں نے یہ کہا:
هذا خطأٌ
اس کے بعد بطوردلیل وحجت یہ قول پیش کیا:
يُقالُ : ’’وهِم فِيهِ الثّورِيُّ‘‘
اس کے بعد اس کی تائید کرتے ہوئے کہا:
.وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ. [علل الحديث 1 /96 رقم 258]
یعنی ابوحاتم نے وہم والی بات کو معرض استدلال و احتجاج میں پیش کیاہے اوراس سے اتفاق کرتے ہوئے اس کی تائید بھی ہے جو کسی بھی عربی داں پر مخفی نہیں ہے زیلعی کی عربی دانی کا حوالہ دیا جاچکاہے ۔
لہذا جب ابوحاتم وہم والی بات سے متفق ہیں تو اب کیسی سند چاہے ۔

تحریر آفتاب:
دوسری بات میں نے کہی تھی کہ اگر یہ سب ابو حاتم کا قول مان لیں تو دیکھیں وہ سفیان کے وہم کی یہ دلیل دے رہے ہیں
ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.

ابوحاتم عام ائمہ میں سے نہیں بلکہ ناقدین میں سے ہیں اورناقدین صرف یہ کہہ دیں کہ کسی راوی کو یہاں وہم ہوا کہ تو ان کی بات حجت ہوتی ہے قطع نظر اس کے کی ان کی دلیل کیا ہے، اس کی تردید کے لئے ہم اورآپ نہیں بلکہ دیگرناقدین کے اقوال چاہئں !!!

تحریر آفتاب:
یعنی سفیان الثوری کو وہم اس لئیے کہ وہ اس حدیث کو نقل کرنے میں اکیلے ہیں ۔ کیا کسی کا حدیث نقل کرنے میں منفرد ہونا اس کے وہم کی دلیل ہے ۔ میرے نزدیک سفیان کو وہم ہونے کے حوالہ سے دلیل مضبوط نہیں ۔

کسی حدیث کو نقل کرنے میں منفرد ہونا وہم کی دلیل نہیں لیکن وہم کے نتیجہ میں منفرد ہوجانا یہ الگ بات ہے ، یہاں سفیان ثوری کا جو تفرد ہے اس کی بنیاد صحت ٍضبط نہیں بلکہ وہم ہے ، جیساکہ ابوحاتم کے قول میں وضاحت کی گئی ۔
لہٰذا جب کوئی راوی منفرد روایت بیان کرے تو محض تفرد کی بناپر ہم اس کی روایت کو رد نہیں کریں گے۔
لیکن اگراہل فن سے یہ صراحت مل جائے کہ یہاں اس کا تفرد وہم کے نتیجہ میں ہے تو پھر ایسی صورت میں تفرد قابل قبول نہ ہوگا کیونکہ اسے اہل فن کی طرف سے وہم کا نتیجہ قرار دیا جاچکاہے ، اس کا ازالہ تبھی ہوسکتاہے جب آپ دیگر اہل فن سے اس وہم والی جرح کا ازالہ پیش کردیں۔

تحریر آفتاب:

اسی کو ان علماء ان الفاظ میں کہا ہے ۔
الباني رحمہ اللہ فرماتے ہیں
“الحق انه حديث صحيح واسناده صحيح على شرط مسلم ولم نجد لمن اعله حجة يصلح التعلق بها ورد الحديث من اجله”
(مشکاہ المصابیح )

معروف محقق علامہ شاکر صاحب کہتے ہیں
وهذا الحديث ( اي حديث ابن مسعود” ألا أصلي بكم صلاة رسول الله ؟ فصلى , لم يرفع يديه إلا في أول مرة ” ) صححه ابن حزم وغيره من الحفاظ , وهو حديث صحيح , وما قالوه في تعليله ليس بعلة ,
(جامع ترمذی تحقیق شاکر)

یہ معاصرین اہل علم ہیں ، ناقدین میں سے نہیں ہیں ، ان کے حوالے اپنے پاس ہی رکھیں۔

تحریر آفتاب:
اور یہاں جو حديث پر آپ کے بقول جرح مفسر ہو رہی ہے وہ ہے
، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد
میں تو دوسری حدیث بیان کرہ رہا تھا ۔ اگر چہ یہ حدیث بھی صحیح ہے لیکن دوسری حدیث کے متعلق آپ نے کچھ نہ کہا
” ألا أصلي بكم صلاة رسول الله ؟ فصلى , لم يرفع يديه إلا في أول مرة

انا للہ وانا الیہ راجعون !
ابھی تک تو ابن المبارک کی جرح پر گھپلا ہورہا تھا اب ابوحاتم کی جرح پی بھی یہی جادو چلانے لگے !!!
بھائی کچھ تو لحاظ کریں ، کیوں خواہ میں ایسی باتیں کہہ جاتےہیں جس پر بچوں کو بھی ہنسی آجائے، آپ ابوحاتم والی جرح سے جس حدیث کو بچا رہے ہیں کیا آپ سے پہلے کسی بھی محدث نے یہ کہنے کی جسارت کی ہے کم از ایک محدث کا حوالہ پیش کریں ۔
اس کے برعکس متعدد محدثین نے ابوحاتم کی اس جرح کو اسی روایت پر مانا ہے ، مثلا:

حافظ ابن حجرفرماتے ہیں:
وهذا الحديث حسنه الترمذي وصححه بن حزم وقال ابن المبارك لم يثبت عندي وقال ابن أبي حاتم عن أبيه قال: هذا حديث خطأ وقال أحمد بن حنبل وشيخه يحيى بن آدم: هو ضعيف نقله البخاري عنهما وتابعهما على ذلك[تلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير 1/ 546]۔
ذرا غورکریں حافظ ابن حجر پہلے حسنہ الترمذی کہہ رہے ہیں اورآگے چل کر اسی روایت پر ابوحاتم کی جرح پیش کررہے ہیں ۔

امام شوکانی فرماتے ہیں:
وَهَذَا الْحَدِيثُ حَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ ابْنُ حَزْمٍ وَلَكِنَّهُ عَارَضَ هَذَا التَّحْسِينَ وَالتَّصْحِيحَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ: لَمْ يَثْبُت عِنْدِي. وَقَوْلُ ابْنِ أَبِي حَاتِمٍ: هَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ، [نيل الأوطار 2/ 210]۔
یہاں بھی وہی بات ہے یعنی امام شوکانی پہلے امام ترمذی کی تحسین نقل کرتے ہیں اورپھرابوحاتم کی جرح بھی۔

آپ کے امام زیلعی نے بھی اس جرح کی اسی حدیث پر مانا ہے ان کا تو لحاظ کرلیں۔

غرض یہ کہ دنیا کے کسی محدث نے یہ بات نہیں کہی ہے کہ ابوحاتم کی جرح ترمذی والی حدیث ابن مسعود پر نہیں ہے حتی کہ متقدمین احناف سے بھی ایسی کوئی بات نہیں ملتی اس سے صاف معلوم ہوتا کہ معاصرین احناف تحرف نصوص کے ماہر ہیں، نیز کتابوں میں صریح تحریف کرنے کے ساتھ ساتھ اہل فن کی عبارتوں کے ساتھ کھلواڑ بھی کرتے ہیں۔

اس بات پر بھی غورکریں کہ ابوحاتم کے بیٹے نے سوال میں روایت کا مفہوم پیش کیا ہے اصل الفاظ حدیث ہرگز نہیں پیش کیا ہے ، ملاحظہ ہوں سوال کے الفاظ:
عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد
یہ ہے سوال کے الفاظ اوران الفاظ میں ذخیرہ احادیث میں کسی حدیث کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ ابن ابی حاتم ترک رفع سے متعلق مطلق حدیث ابن مسعود کے مفہوم کو پیش کیاتھا ، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ ترک رفع میں سفیان ثوری کے طریق ابن مسعود کی ایک ہی حدیث منقول ہے ورنہ ابن ابی حاتم دوسری روایت سے متعلق بھی سوال کرتے اور ابوحاتم بھی اس کی وضاحت کرتے لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ۔

نیزیہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ایک صحابی سے منقول الفاظ میں کچھ اختلاف کے باوجود مفہہوم ایک ہی ہو تو حدیث ایک ہی مانی جاتی ہے اوریہاں تو نہ صرف مفہوم ایک ہے بلکہ سند وطریق بھی ایک ہی ہے، ایسی صورت میں یہاں دو حدیث کی بات کرنا بے بسی کے علاوہ اورکچھ نہیں ہے ۔

تحریر آفتاب:
اگر آپ اس کو صحابی کی فعلی روایت کہ کر رد کریں تو جواب آگے آرہا ہے

اس کاجواب بھی آگے آرہا ہے ۔

تحریر آفتاب:
کوئی فعل کسی صحابی کی طرف منسوب ہو تو اس کو مرفوع سے تقابل کرنیں تو وہاں آپ یہ اعتراض کرسکتے ہیں ۔ یہاں ابن مسعود الا اصلی بکم صلاہ رسول اللہ کہ کہ کر اس کی نسبت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کرہے ہیں ۔ یہ حدیث باکل حجت ہوگی ۔

حجت کا سوال نہیں ہے سوال یہ ہے کہ یہ حدیث مرفوع ہے یا نہیں صاف صاف جواب دیں ، اگر مرفوع ہے تو دونوں حدیث ایک ہی ہے اور اگر موقوف ہے تو مرفوع کے سامنے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔

تحریر آفتاب:
یعنی یہ ان کا اپنا فعل نہیں وہ ایک عمل کرکے اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کر رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اس عمل کو ایسے کرتے تھے۔

اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کر رہے ہیں پھر بھی یہ مرفوع نہیں ہے تو آخر مرفوع کسے کہتے ہیں؟؟ بہرحال آپ نسبت کو ایک طرف رکھیں اوریہ بتائیں کہ یہ حدیث مرفوع ہے یا نہیں ؟؟؟

تحریر آفتاب:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو ایک تو ذکر کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ صحابی کہے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فلاں کام کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ۔ اور ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ کہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فلاں کام اس طرح کیا اور اس طرح کام کر کے دکھائے تو دونوں باتیں ایک ہیں ۔

دونوں باتیں ایک ہیں تو پھر دونوں باتیں مرفوع ہوئی یا نہیں ؟؟؟

تحریر آفتاب:
بلکہ دوسرا طریقہ پہلے سے بہتر ہے کہ بتانے سے الفاظ کے استعمال سے سامع کچھ اور بھی مطلب لے سکتا ہے لیکن دوسرے طریقہ میں یہ احتمال نہیں ۔ ہاں اگر یہ حدیث یوں ہوتی ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور اس میں رفع الیدین نہیں کیا تو یہ صحابی کی فعلی روایت ہوتی اور بلاشبہ مرفوع صحیح اور صریح حدیث کے مقابلہ میں حجت نہ ہوتی

تو یہ صحابی کی فعلی روایت ہوتی، یعنی فعلی روایت نہیں ہے ؟؟؟
عجیب معاملہ ہے کبھی فعلی روایت اور کبھی فعلی روایت نہیں ہے !!!
آپ صاف صاف بتائیں کہ یہ مرفوع روایت ہے یا نہیں ؟؟؟

اورایک اہم گذارش یہ ہے کہ آپ جن دوحدیثوں کے الگ الگ سمجھ رہے ہیں ذرا دونوں کو سند ومتن کے ساتھ پیش کردیں ، یہ اہم مطالبہ ہے اسے پورا کرنا نہ بھولیں۔

تحریر آفتاب:
میں نے اوپر ایک بات کی ہے اگر یہ ابو حاتم کا قول مان بھی لیا جائے تو کیا یہ مدلل جرح ہے ؟ اور علماء کے اقوال بھی ذکر کیے ہیں ۔

آپ سے گذارش ہے کہ پہلے علم جرح وتعدیل کے اصول وضوابط کسی سے سیکھ لیں ، اہل فن کی طرف سے جب جرح ہو تو اس پرمدلل اورغیرمدلل کی بحث کرنے کا اختیار ہم اورآپ کو نہیں ہے بلکہ اہل فن کو ہے ، اس لئے اگر یہ جرح غیرمدلل ہے تو یہ وضاحت اہل فن سےپیش کریں ، اپنا اجتہاد اپنے پاس ہی رکھیں۔

تحریر آفتاب:
یعنی آپ کہ رہے ہیں کہ صحیح بخاری میں ضعیف احادیث ہیں اور ان پر عمل اس لئیے ہوتا ہے کہ اس متن کو دوسری صحیح حدیث سے تقویت ملی ہے لیکن صحیح بخاری میں ضعیف سند والی احاديث ہیں ؟ کیا میں صحیح سمجھا ؟

آپ نے غلط سمجھا صحیح بخاری میں ضعیف احادیث ہیں یہ ہم نے کہیں نہیں کہا۔
رہی یہ بات کہ بخاری میں ضعیف سند والی احاديث ہیں ؟
تویہ بھی درست نہیں مزید وضاحت سے پہلے آپ سے سوال ہے کہ :
صحیح بخاری میں بعض ایسے مدلسین کا عنعنہ ہے کہ یہ عنعنہ صحیحین کے علاوہ کسی دوسری روایت کی سند میں ہو تو وہ سندبالاتفاق ضعیف ہوتی ہے پھر کیا اس طرح کے جو عنعنے بخاری میں یا مسلم ہیں ان کی سندیں ٍضعیف ہیں ؟؟؟

اسی طرح صحیحین میں بعض رواۃ ایسے ہیں جوضعیف ہیں تو کیا صحیحین میں ان کی جو سندیں ہیں وہ ضعیف ہیں ؟؟؟

تحریر آفتاب:
اگر ایک راوی حدیث بیان کرے لیکن اس کا اپنا عمل اس حدیث کے خلاف ہو تو آپ کا کیا موقف ہوگا ؟ میرے نزدیک تو وہ روایت مضطرب ہوجائے گی ۔

مضطرب کی یہ تعریف کتب مصطلح سے ثابت کردیں۔

تحریر سنابلی
امام ابن المقن فرماتے ہیں:
وَأما الحَدِيث الثَّانِي: وَهُوَ حَدِيث الْبَراء بن عَازِب؛ فَهُوَ حَدِيث ضَعِيف بِاتِّفَاق الْحفاظ، [البدر المنير 3/ 487]۔

اس بات پر بھی محدثین کا اجماع ہے کہ اس حدیث میں ’’لم يعد‘‘ مدرج ہے ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَاتَّفَقَ الْحُفَّاظُ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ مُدْرَجٌ فِي الْخَبَرِ مِنْ قَوْلِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَرَوَاهُ عَنْهُ بِدُونِهَا شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ وَزُهَيْرٌ وَغَيْرُهُمْ مِنْ الْحُفَّاظِ [التلخيص الحبير : 1/ 545]
تحریر آفتاب
اصل میں اس حديث پراعتراض یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ہے
یزید بن ابی زیاد کے بارے میں سیر الاعلام سے کچھ محدثین کے حوالہ دیکھیں ۔
قال أبو داود لا أعلم أحدا ترك حديثه
عن شعبة، قال: ما أبالي إذا كتبت عن يزيد بن أبي زياد أن لا أكتبه عن أحد
وقد علق البخاري له لفظة
وقد روى له مسلم فقرنه بآخر معه

اگر کہا جاتا ہے آخری عمر میں اس کا حافظہ کمزور ہوگیا تھا تو یہ بات ذہن میں رکیھں يذید بن ابی زیاد سے “ثم لا يعود ” الفاظ یا ان کہ ہم معنی الفاظ مسند ابی لیلی اور جامع المسانید و سنن میں ہشیم سے ۔ مصنف عبدالرزاق میں ابن عینیہ سے ، شرح معانی الاثار میں سفيان الثوری سے ۔مسند ابی لیلی میں ابن ادریس سے اور سنن الدار قطنی میں شعبہ ،اسماعیل بن زکریا اور محمد بن عبد الرحمن سے مذکور ہیں ۔ اور یہ سب یزید بن ابی زیاد کے قدیم تلامذہ ہیں ۔ اس لئیے اگر ان کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہوگیا تھا تو اس دلیل کا بھی جواب ہوگیا ۔ ان کے قدیم تلامذہ سے بھی روایت پیش کردی گئیں ۔

ابن حبان نے بھی یہی کہا جنہوں نے ان کے تغیر حافظہ سے پہلی حدیثیں سنیں ان کا سماع صحیح ہے (تھذیب التھذیب )
اگر پھر بھی آپ کو اس حدیث کے متعلق شک ہو تو بتائیں ان شاء اللہ مزید بتایا جائےگا ۔

یہ بحث آپ اس وقت کیجئے گا جب آپ مذکورہ حدیث کی صحت و ٍضعف پر اہل فن کا اختلاف ثابت کریں ۔
ہم نے اس کے ضعف پر حفاظ کا اتفاق واجماع پیش کیا ہے ، اوراجماعی فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا، پہلے آپ اختلاف ثابت کریں ورنہ اہل فن کا اجماع ہی اس کی تضعیف کے لئے کافی ہے۔

پہلا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں
ترک رفع الیدین پر مباحثہ (حصہ اول)

حوالہ : اس مباحثہ کو اس کے اصل سورس یعنی محدث فورم پریہاں اور یہاں جاکر پڑھ سکتے ہیں ۔

(ختم شد)