ترک رفع الیدین پر مباحثہ ۔

You are currently viewing ترک رفع الیدین پر مباحثہ ۔

ترک رفع الیدین پر مباحثہ ۔

ایک بار مسجد کوفہ میں امام ابن المبارک رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۔ ابن المبارک رحمہ اللہ رفع الیدین کرتے تھے ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے نماز سے فارغ ہو کر ابن المبارک رحمہ اللہ سے کہا :
ترفع يديک في کل تکبيرة کأنک تريد أن تطير
” آپ نماز کی ہر تکبیر ( اس میں تسمیع بھی شامل ہے یعنی رکوع سے اٹھتے وقت ) میں رفع الیدین کرتے ہیں گویا اڑنا اور پرواز کرنا چاہتے ہیں ۔ “

امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے جواب میں کہا :
ان کنت أنت تطير في الاولي فاني أطير فيما سواها
اگر آپ تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے ارادہ پرواز و اڑان رکھتے ہوں تو میں آپ ہی کی طرح باقی مواقع میں نماز میں پرواز کرنا چاہتا ہوں ۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب سے اس طرح کی بات رفع الیدین کی بابت کہنے سے ہمیشہ کے لیے خاموش رہے ۔
امام وکیع نے امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب کی بڑی تحسین و تعریف کی ۔
[ کتاب السنة لعبداللہ بن احمد بن حنبل ، ص : 59 ، تاویل مختلف الحدیث لابن قتیبی ، ص : 66 ، سنن بیہقی ، ج : 2 ، ص :82 ، ثقات ابن حبان ، ج : 4 ، ص : 17، تاریخ خطیب ، ج : 13 ، ص :406 ، تمھید لابن عبدالبرج :5 ، ص :66 ، جزءرفع الیدین للبخاری مع جلاءص : 125,123 ]

یہاں‌ امام ابن البارک رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ کو جو مسکت جواب عنایت کیا ہے وہ دراصل رفع الیدین کے خلاف اٹھائے جانے والے ہر شبہے کا جواب ہے۔
آج امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پیروکار اس عظیم سنت کے خلاف جو بھی اعتراضات پیش کرتے ہیں ان سب کا جواب عبداللہ ابن المبارک رحمہ اللہ کی مذکورہ بات میں‌ موجود ہے جس پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی مبہوت ہوکررہ گئے تھے۔

ذیل مین‌ تارکین رفع الیدین کے کچھ اعتراضات پیش کئے جاتے ہیں جوبالکل ان کے امام ہی کے پیش کردہ اعتراض سے ملتے جلتے ہیں ، نیز ان سب کا جواب بھی امام ابن المبارک رحمہ کے مسکت جواب ہی کی طرح ہے:
ملاحظہ ہو:

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
صحیح‌ مسلم کی حدیث میں‌ رفع الیدین کو سرکش گھوڑوں‌ کے دم سے تشبیہ دی گئی ہے
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
تو پھر تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے بارے میں‌ کیا خیال ہے؟

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
کوئی ایسی حدیث پیش کریں‌ جس میں‌ یہ لکھا ہو کی تاحیات رفع الیدین کرناہے۔
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
کوئی ایسی حدیث پیش کریں‌ جس میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین سے متعلق تا حیات کی صراحت ہو ۔

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
کوئی ایسی حدیث پیش کریں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہوکہ رفع الیدین کرو۔
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
کوئی ایسی حدیث پیش کریں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہوکہ تکبیرتحریمہ کے وقت رفع الیدین کرو۔

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
اگرکوئی رفع الیدین نہ کرے تو اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
اگر کوئی تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین نہ کرے تو اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں ۔

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
رفع الیدین واجب فرض ہے یا سنت ؟
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین واجب فرض ہے یا سنت؟

فماکان جوابکم فهوجوابنا

اعتراض از: آفتاف

جناب کفایت اللہ صاحب ! آپ نے تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین اور رکوع کے وقت رفع الیدین کو ایک جیسا سمجھ لیا جبکھ رکوع کے وقت رفع الیدین کے متروک ھونے کی احادیث موجود ھیں اور تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے متروک ھونے کی میری ناقص علم کے مطایق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

تحریر آفتاب:
جناب کفایت اللہ صاحب ! آپ نے تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین اور رکوع کے وقت رفع الیدین کو ایک جیسا سمجھ لیا 

محترم آفتاب صاحب !
تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین اور رکوع کے وقت رفع الیدین کو ایک جیسا سمجھنے میں، میں پہلاشخص نہیں ہوں بلکہ جیسا کہ اوپرآپ دیکھ سکتے ہیں کہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے بھی تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین اور رکوع کے وقت رفع الیدین کو ایک جیسا سمجھاہے جس پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔
مجھے حیرت ہے کہ آج کے تارکین رفع الیدین کی فقاہت کیا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی فقاہت سے بھی بڑھ گئی؟ جوبات آپ کہہ رہے ہیں کیاوجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وہی بات نہیں کہہ سکے ؟

بہرحال آپ کا یہ کہنا کہ :

تحریر آفتاب:
رکوع کے وقت رفع الیدین کے متروک ھونے کی احادیث موجود ھیں اور تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے متروک ھونے کی میری ناقص علم کے مطایق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔

توعرض ہے کہ :
رکوع کے وقت بھی رفع الیدین کے متروک ہونے کی میری ناقص علم کے مطابق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔
اوراس ضمن میں جن صحیح احادیث کو پیش کیاجاتاہے ، اگراس سے استدلال درست سمجھ لیا جائے تو ان صحیح احادیث میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے متروک ہونے کی بھی دلیل ہے ۔

مثلا ترک رفع الیدین ایک صحیح حدیث صحیح مسلم سے پیش کی جاتی ہے،ملاحظہ ہو:
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ»
جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تم کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں جیسا کہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون رکھا کرو فرماتے ہیں دوبارہ ایک دن تشریف لائے تو ہم کو حلقوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تم کو متفرق طور پر بیٹھے ہوئے دیکھتا ہوں پھر ایک مرتبہ ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا تم صفیں نہیں بناتے جیسا کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں بناتے ہیں فرمایا کہ پہلی صف کو مکمل کیا کرو اور صف میں مل مل کر کھڑے ہوا کرو۔[صحيح مسلم (1/ 322) رقم 430]

جناب غورکریں اس حدیث میں اگررکوع والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل ہے تو تکبیرتحریمہ کے بھی ترک کی دلیل ہے کیونکہ اس حدیث میں رکوع والے رفع الیدین کی تخصیص موجود نہیں ہے، پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ تکبیرتحریمہ والے رفع الدین کے ترک کی دلیل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ہمیں یہ تسلیم ہے کہ تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل موجودنہیں ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے نزدیک یہ بھی مسلم ہے کہ رکوع والے رفع الیدین کے ترک پربھی کوئی دلیل نہیں ہے۔
آپ حضرات رکوع والے رفع الیدین کے ترک پر جوصحیح احادیث پیش کرتے ہیں ان سے استدلال درست مان لیا جائے تو ان سے تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین بھی متروک ثابت ہوگا، جیساکہ اوپر وضاحت کی گئی۔

ایک اور صحیح حدیث ملاحظہ جسے تارکین رفع الیدین صحیح بخاری سے نقل کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اس میں رکوع والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل ہے:
۔۔۔فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (١) رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، (٢)وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، (٣)فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلاَ قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ القِبْلَةَ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ اليُسْرَى، وَنَصَبَ اليُمْنَى، (٤)وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ اليُسْرَى، وَنَصَبَ الأُخْرَى وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ
ابوحمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساعدی بولے کہ مجھے تم سب سے زیادہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز یاد ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ(١) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر (تحریمہ) پڑھی، تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں شانوں کی مقابل تک اٹھائے، (٢)اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما لئے، اپنی پیٹھ کو جھکا دیا، (٣)جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر (رکوع سے) اٹھایا تو اس حد تک سیدھے ہوگئے کہ ہر ایک عضو (کا جوڑا) اپنے اپنے مقام پر پہنچ گیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو دونوں ہاتھ اپنے زمین پر رکھ دیئے، نہ ان کو بچھائے ہوئے تھے، اور نہ سمیٹے ہوئے تھے، اور پیر کی انگلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ کرلی تھیں، پھر جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں بیٹھے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھے، اور داہنے پیر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑا کر لیا، (٤)جب آخری رکعت میں بیٹھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں پیر کو آگے کر دیا، اور دوسرے پیر کو کھڑا کرلیا، اور اپنی نشست گاہ کے بل بیٹھ گئے
[صحيح البخاري:1 /165 رقم828 ]

اس حدیث سے بھی رکوع والے رفع الیدین کے ترک پر استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث میں نماز کے تمام طریقوں کا ذکرنہیں ہے تو کیا نماز کی جن جن چیزوں کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہے انہیں متروک مان لیاجائے؟
صرف ایک چیز کی وضاحت کرتاہوں بخاری کی اس حدیث میں جس طرح صرف تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کا ذکر ہے ٹھیک اسی طرح سے اس حدیث میں صرف تکبیرتحریمہ والی تکبیرہی کا ذکربھی ہے ۔
میں نے حدیث کے متن کے اندر چار مقامات پر بالترتیب نمبرڈالے ہیں ان چاروں میں سے صرف پہلے مقام تکبیرکا ذکر ہے اوربقیہ مقامات پر جس طرح رفع الیدین کا ذکرنہیں ہے اسی طرح تکبیرکایا اس کے قائم مقام تسمیع کا بھی ذکر نہیں ہے۔
توکیا یہ کہہ دیا جائے کہ بقیہ رفع الیدین کے ساتھ بقیہ تکبیرات بھی متروک ہوگئی ہیں؟

یادرہے کہ بخاری کی یہی حدیث ابوداؤد میں موجود ہے اوراس میں دیگررفع الیدین کا بھی ذکر ہے اوردیگرتکبیرات کا بھی ذکر ہے ملاحظہ ہو:
۔۔۔قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَلِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: ” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (١)إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا،(٢) ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، (٣)ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، (٤)ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ ” ، قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ابوحمید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق میں تم میں سے سب سے زیادہ واقفیت رکھتا ہوں صحابہ نے کہا وہ کیسے؟ واللہ تم ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی تم ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے ابوحمید نے کہا ہاں یہ درست ہے صحابہ نے کہا اچھا تو پھر بیان کرو ابوحمید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(١) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اعتدال کے ساتھ اپنے مقام پر آجاتی اس کے بعد قرات شروع فرماتے (٢)پھر (رکوع) کی تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرتے اور رکوع میں دونوں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے اور پشت سیدھی رکھتے سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ اونچا رکھتے۔(٣) پھر سر اٹھاتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ  کہتے۔ پھر سیدھے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے (سجدہ کرتے) اور (سجدہ میں) دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے پھر (سجدہ سے) سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھتے اور سجدہ کے وقت پاؤں کی انگلیوں کو کھلا رکھتے پھر (دوسرا) سجدہ کرتے اور اللہ اکبر کہہ کر پھر سجدہ سے سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر آجاتی (پھر کھڑے ہوتے) اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے(٤) پھر جب دو رکعتوں سے فارغ ہو کر کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور مونڈھوں تک دونوں ہاتھ اٹھاتے جس طرح کہ نماز کے شروع میں ہاتھ اٹھائے تھے اور تکبیر کہی تھی پھر باقی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ جب آخری سجدہ سے فارغ ہوتے یعنی جس کے بعد سلام ہوتا ہے تو بایاں پاؤں نکالتے اور بائیں کولھے پر بیٹھتے (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا تم نے سچ کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔[سنن أبي داود :1 /194 رقم 730 واسنادہ صحیح]

اس حدیث میں بھی ہم نے متن کے اندر چار مقامات پر بالترتیب نمبرڈالے ہیں ان چاروں میں پہلے مقام کی طرح رفع الیدین کا بھی ذکر ہے اورتکبیریا تسمیع کا بھی ذکرہے، تکبیرکے ذکر والے الفاظ کو ہم نے لال رنگ سے ملون   کیا ہے اوررفع الیدین کے ذکروالے الفاظ کو ہرے رنگ سے ملون   کیاہے۔

معلوم ہوا کہ اس صحیح حدیث میں بھی تکبیرتحریمہ کے علاوہ والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل نہیں ہے، اوراگراس جیسی احادیث میں واقعی ترک کی دلیل ہے تو لیجئے ہم اسی جیسی ایک ایسی صحیح حدیث پیش کرتے ہیں جس میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل بھی موجود ہے ملاحظہ ہو:
صحیح بخاری میں ہے:
۔۔۔ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ” كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ مِنَ المَكْتُوبَةِ، وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلاَةِ “، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے فرض ہو یا کوئی اور رمضان میں (بھی) اور غیر رمضان میں (بھی) ، پس جب کھڑے ہوتے تھے تکبیر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تھے تکبیر کہتے، پھر سجدہ کرنے سے پہلے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے اس کے بعدرَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے، اس کے بعد جب سجدہ کرنے کے لئے جھکتے، اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے، تکبیر کہتے۔ پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تکبیر کہتے، پھر جب سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے ، تکبیر کہتے، پھر جب دو رکعتوں میں بیٹھ کر اٹھتے، تکبیر کہتے، (خلاصہ یہ کہ) اپنی ہر رکعت میں اسی طرح کرکے نماز سے فارغ ہوجاتے، اس کے بعد جب نماز ختم کر چکتے تو کہتے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بلاشبہ میں تم سب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں، بلا شبہ آپ کی نماز اس وقت تک بالکل ایسی ہی تھی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو چھوڑا[صحيح البخاري:1 /159رقم803]

غورفرمائیں اس صحیح حدیث میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کا بھی ذکرنہیں ہے تو کیا آپ کے اصول کے مطابق تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر صحیح حدیث ہے یا نہیں؟
لطف تو یہ ہے کہ آپ کے اصول کے مطابق تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر دلالت کرنے والی اس حدیث میں یہ صراحت بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل تاحیات تھا اس حدیث کے اخیرمیں دیکھیں آپ کو یہ الفاظ نظر آئیں گے:
إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا

کیا خیال ہے تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر آپ کے اصول کے مطابق یہ کیسی زبردست دلیل ہے جس میں تاحیات اور آخری وقت کی بھی صراحت ! اس کے باوجود بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ :

تحریر آفتاب:
تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے متروک ھونے کی میری ناقص علم کے مطایق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔

بھائی صاحب کیا یہ صحیح حدیث نہیں ہے؟
اگرآپ کہیں کہ اس صحیح حدیث سے تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر استدلال درست نہیں ہے تو یہی تو ہم بھی کہتے ہیں کی رکوع کے بعد والے رفع الیدین کے ترک پر بھی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے اورجن صحیح احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے ان سے استدلال درست نہیں ہے جیسا کہ وضاحت کی گئی ۔

اس تفصیل سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کی جوحیثیت ہے بجنسہ وہی حیثیت رکوع والے رفع الیدین کی بھی ہے۔
امید ہے کہ اتنی وضاحت کافی ہوگی۔

اعتراض از: آفتاف

محترم کفایت الله بھائی آپ نے واقعی تفصیل سے جواب دیا ۔ لیکن میں نے تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین کو متروک کہا اس کی تفصیل کچھ یوں ہے
1-عن عبد الله بن مسعود ، أنه قال : ألا أصلي لكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فصلى ، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة
(اس روایت کو ترمذی ، ابو داؤد ، نسائی کے علاوہ کئی حدیث کی دوسری کتب نے بھی نقل کیا ہے )

2- صحیح مسلم کی روایات جس کا آپ نے حوالہ دیا اور اس میں نماز میں سکون اختیار کا کہا گیا وہاں لفظ “في الصلاہ ” السکون عند افتتاح الصلاہ نہیں تکبیر تحریمہ عند افتتاح الصلاہ ہے اور رکوع والا رفع الیدین فی الصلاہ ہے ۔ اس لیئے اس سے مراد تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین نہیں ۔
ویسے آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت صحابہ کون سا والا رفع الیدین کررہے تھے جو اس حدیث میں منع کیا کیا ہے۔
3-عن سالم عن أبیہ: قال رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا افتتح الصلاة رفع یدیہ حتی یحاذي بہما وقال بعضہم: حذو منکبیہ وإذا أراد أن یرکع وبعد ما یرفع رأسہ من الرکوع لا یرفعھما (صحیح أبوعوانة ، مسند حمیدی )

اس کس علاوہ کئی احادیث ہیں جو صحابہ کا عمل بھی ترک رفع الیدین پر دلالت کرتی ہیں ۔
واضح رہے کہ میری تحقیق کے مطابق رفع الیدین اور ترک رفع الیدین میں اختلاف صرف افضلیت کا ہے نہ حلال و حرام کا۔

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

محترم آفتاب بھائی سب سے پہلے آپ اپنے دعوے پر نظر کرلیں:

تحریر آفتاب:
جناب کفایت اللہ صاحب !رکوع کے وقت رفع الیدین کے متروک ھونے کی احادیث موجود ھیں۔

آپ نے رکوع والے رفع الیدین کے متروک ہونے کا دعوی کیا ہے ، اورمتروک کا معنی ہوتا ہے جس عمل کو ترک کردیا گیاہویعنی اب اس پرعمل نہیں ہوسکتا ، جیساکہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتاہے:
عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: صَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ كَفَّيْهِ، وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، وَضَرَبَ أَيْدِيَنَا، فَفَعَلْنَا ذَلِكَ، ثُمَّ لَقِيَنَا عُمَرُ بَعْدُ، فَصَلَّى بِنَا فِي بَيْتِهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقْنَا كَفَّيْنَا كَمَا طَبَّقَ عَبْدُ اللَّهِ، وَوَضَعَ عُمَرُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَا هَذَا؟» فَأَخْبَرْنَاهُ بِفِعْلِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ كَانَ يُفْعَلُ ثُمَّ تُرِكَ» [مصنف عبد الرزاق الصنعاني : 2 /152]
امام بیہقی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذکورہ عمل سے متعلق فرماتے ہیں:
قال أبو معاوية هذا قد ترك رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب عن أبي معاوية
[السنن الكبرى ت :محمد عبد القادر عطا 2/ 83]
شیخ شعيب الأرنؤوط فرماتے ہیں:
وقال البيهقي بإثره: وقال أبو معاوية: هذا قد ترك: يعني التطبيق الذي جاء في خبر ابن مسعود هذا قد نسخ.
[صحيح ابن حبان  5 /193]
معلوم ہوا کہ کہ متروک کا مطلب ہوتاہے جس پر عمل موقوف ہوچکا ہے بالفاظ دیگرجو منسوخ ہوچکاہے۔

یہ تو آپ کے دعوے کی وضاحت ہوئی اب آپ کی دلیل دیکھتے ہیں:

تحریر آفتاب:
1- عن عبد الله بن مسعود ، أنه قال : ألا أصلي لكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فصلى ، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة
(اس روایت کو ترمذی ، ابو داؤد ، نسائی کے علاوہ کئی حدیث کی دوسری کتب نے بھی نقل کیا ہے )

اولا:

محترم آفتاب صاحب اب آپ بتائیے کہ اس حدیث میں رکوع والے رفع الیدین کے متروک ہونے کی دلیل کہاں ہے؟؟؟ اس میں تو صرف یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے ایک بار رفع الیدین والی نماز پڑھ کربتلائی ہے ، اس سے بقیہ رفع الیدین کا ترک کہاں لازم آیا؟؟؟
آپ کومعلوم ہونا چاہے کہ نمازظہر سے قبل کتنی رکعات سنت مؤکدہ ہیں اس سلسلے میں ایک حدیث میں آتاہے کہ چاررکعت، اورایک دوسری حدیث میں آتاہے کہ دورکعت ، توکیا اس دوسری حدیث سے آپ یہ نتیجہ اخذکریں گے کہ ظہرسے قبل چاررکعت پڑھنا متروک ہے صف دو ہی پڑھیں گے؟؟؟
جناب اس طرح کی احادیث سے متروک کا دعوی ثابت نہیں ہوتا کوئی ایسی روایت تلاش کریں جس میں متروک کی دلیل ہو۔

ثانیا:

بھائی آفتاب صاحب آپ کی پیش کردہ دلیل آپ کے دعوی سے غیرمتعلق ہونے کے ساتھ ساتھ ٍضعیف بھی ہے، ہم اس کے ضعف کی وجوہات لکھنے بیٹھ جائیں تو ایک مستقل رسالہ تیار ہوجائے گا لہٰذا تفصیل میں نہ جاتے ہوے چند چیزوں کی وضاحت کرتے ہیں:

(الف)

ناقدین نے اس روایت پر جرح مفسرکی ہے اورجرح مفسرکے ازالہ میں تعدیل مفسرپیش کرنا لازم ہے وہ بھی جمہورکی۔
واضح رہے کہ کسی حدیث پر ناقدین اگر جرح کریں تو یہ روایت کے ضعف کی دلیل ہے اوراگرتضعیف کریں تو دلیل سے خالی ایک حکم ہے بس، بہت سارے لوگ ان دونوں میں فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے اورجرح کو تضعیف سمجھ کراس کے مقابلے میں تصحیح نقل کرکے بلادلیل جرح کو رد کردیتے ہیں حالانکہ کی جرح کی تردید تعدیل ہی سے ہوسکتی ہے نہ کہ تصحیح سے۔
اب ذیل میں اس روایت پر ناقدین کی جرح مفسرملاحظہ ہو:
ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
وسألتُ أبِي عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ الثّورِيُّ ، عن عاصِمِ بنِ كُليبٍ ، عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ الأسودِ ، عن علقمة ، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد.قال أبِي : هذا خطأٌ ، يُقالُ : وهِم فِيهِ الثّورِيُّ.وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.
[علل الحديث 1 /96 رقم 258]

یہ جرح مفسر ہے امام ابوحاتم نے خاص اس روایت پر کلام کیا ہے اس کے مقابلہ میں آپ جمہور سے اس جرح کا صراحۃ ازالہ پیش کریں محض تصحیح مبہم کافی نہیں ہے۔امام ابوحاتم کے علاوہ دیگرمحدثین نے بھی اس روایت پر جرح مفسرکی ہے۔ 

(ب)

اس روایت کی سند میں سفیان ثوری ہیں جو مشہورمدلس ہیں (عام کتب رجال)۔
اورانہوں نے عن سے روایت کیا ہے۔
علامہ عینی فرماتے ہیں:
وسُفْيَان من المدلسين، والمدلس لَا يحْتَج بعنعنته إِلَّا أَن يثبت سَمَاعه من طَرِيق آخر
عمدة القاري شرح صحيح البخاري [3 /112]

تنبیہ :

سفیان کا عنعنہ مقبول ہے، لیکن ایک روایت جو متواترروایت کے خلاف ہو اس میں ان کے عنعنہ پر اعتراض کیا جاسکتا ہے جب ہم اوثق رواۃ کی مخالفت کرنے والے ثقہ غیرمدلس کی روایت کو رد کردیتے ہیں تو پھر متواتر روایات کی مخالفت میں ایک مدلس کی روایت کیونکر تسلیم کرسکتے ہیں۔

ثالثا:

بفرض محال اگراس روایت کو صحیح مان لیں تویہ رکوع والےرفع الیدین کے ترک کی دلیل نہیں بن سکتی بلکہ اس روایت میں بیان کردہ طریقہ نماز بجائے خود متروک ثابت ہوگا کیونکہ یہ طریقہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے اوران کا بیان کردہ طریقہ نماز صحیح اورصریح احادیث کی رو سے قدیم ہے ، دلیل ملاحظہ ہو:
عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ» قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أَمَرَنَا بِهَذَا يَعْنِي «الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ» [سنن أبي داود :1 /199 رقم 747]

اس حدیث میں عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ جس نماز کا طریقہ بتلارہے ہیں اس میں تطبیق بھی ہے اوریہ عمل احادیث صحیحہ وصریحہ کی روسے پہلے کا عمل ہے اورمنسوخ ہے ۔ اس سے سے ثابت ہوگیا کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نمازی نبوی کا جوطریقہ یا د کررکھا تھا تو پہلے کا تھا ۔

تنبیہ: بعض حضرات جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اتنے دنوں تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیارکی آخرانہیں رکوع والے رفع الیدین کا علم کیسے نہیں ہوسکا؟
ایسے حضرات کی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے علم میں تطبیق کے منسوخ ہونے والی بات کیوں نہ آئی؟ ماکان جوابکم فہوجوابنا۔

اب مذکورہ بات ثابت ہونے کے بعد ہمیں عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کی حدیث ملتی ہے جس میں رکو ع والے رفع الیدین کا ذکرہے اوریہ بھی ثبوت ملتاہے کہ عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ نے نمازنبوی کا جوطریقہ یا د کررکھا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخیر دور کا ہے ، کیونکہ اول تو عبداللہ ابن عمر کم عمرصحابی ہیں دوم درج ذیل حدیث ملاحظہ ہو:
عبد الله بن عمر، قال: صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم العشاء في آخر حياته، فلما سلم قام، فقال: «أرأيتكم ليلتكم هذه، فإن رأس مائة سنة منها، لا يبقى ممن هو على ظهر الأرض أحد» [صحيح البخاري : 1 /34 رقم116 ]

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے نمازنبوی کا جوطریقہ اخذکیا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دورکا طریقہ تھا ، اسی طرح صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ بھی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے آخری دوروالا نماز کا طریقہ سیکھا ہے جیساکہ میں گذشتہ پوسٹ میں صحیح بخاری سے اس کی دلیل دے چکا ہوں ، اورابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نماز نبوی میں رکوع والا رفع الیدین ذکر کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ رکوع والا رفع الیدین حیات طیبہ کے آخری دورکا ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ آفتاب بھائی نے رکوع والے رفع الیدین کے متروک ہونے کی جو دلیل دی ہے وہ بجائے خود متروک ہے۔

Leave a Reply