طلاق سے متعلق عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا سیاسی وتعزیری فیصلہ

You are currently viewing طلاق سے متعلق عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا سیاسی وتعزیری فیصلہ

طلاق سے متعلق عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا سیاسی وتعزیری فیصلہ

حنفی علماء نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ تعزیر وسزاء کے طور پر ہی تین طلاق کو نافذ کردیا تھا چنانچہ:
شمس الدین محمد الخراسانی القھستانی الحنفی رحمہ اللہ (962) فرماتے ہیں:
”واعلم أن في صدر الأول إذا أرسل الثلاث جملة لم يحكم إلا بوقوع واحدة إلى زمن عمر – رضي الله تعالى عنه -، ثم حكم بوقوع الثلاث سياسة لكثرته بين الناس
”اور جان لیں کہ صدر اول میں جب ایک ہی جملے میں تین طلاق دی جاتی تھی تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور تک ایک ہی شمار کی جاتی تھی ، پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیاسی فرمان کے تحت تین کے وقوع کا فیٖصلہ کردیا کیونکہ لوگ بکثرت ایسا کرنے لگے تھے“ [جامع الرموز ص 277 مطبوعہ کلکتہ]

عبد الرحمن بن محمد بن سليمان الحنفی (المتوفى 1078) نے بھی لکھا ہے:
”واعلم أن في صدر الأول إذا أرسل الثلاث جملة لم يحكم إلا بوقوع واحدة إلى زمن عمر – رضي الله تعالى عنه -، ثم حكم بوقوع الثلاث لكثرته بين الناس تهديدا
”اور جان لیں کہ صدر اول میں جب ایک ہی جملے میں تین طلاق دی جاتی تھی تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور تک ایک ہی شمار کی جاتی تھی ، پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطور سزا تین کے وقوع کا فیٖصلہ کردیا کیونکہ لوگ بکثرت ایسا کرنے لگے تھے“ [مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر 1/ 382]

علامہ محمدبن علی المعروف بالعلاء الحصکفی الحنفی (المتوفی 1088) نے بھی یہی بات کہی ہے ۔[ الدر المنتقى المطبوع مع مجمع الأنهر 1/ 382]
یہی بات احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی رحمہ اللہ (المتوفی1231) نے بھی لکھی ہے ، دیکھئے: [حاشية الطحطاوى على الدر المختار: ج 2 ص 105جدید نسخہ ج 4ص 363]

حافظ محمد قاسم دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:
”لیکن جب دور عمر میں طلاقوں کی کثرت ہوئی تو ان کو تین شمار کرنے کی اجازت دے دی گئی ، فاروق اعظم نے یہ بات یوں ہی نہیں کہی ، بلکہ جب طلاقوں کا رواج کثرت سے ہوگیا تو آپ نے صحابہ کبار سے مشورہ لیا اور شوہروں کے کان گرم کرنے کی مصلحت سے تین طلاق شمار کرنے کی اجازت عام فرمادی“ [حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ص 156 بحوالہ تحفہ احناف :ص223]

سید سلمان ندوی صاحب نے بھی اپنی مختلف ویڈیوز میں یہی بات کہی ہے ۔

بریلوی مکتب فکر کے عالم مولانا کرم شاہ ازہری بریلوی صاحب فرماتے ہیں:
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ ملاحظہ فرمایا کہ لوگ طلاق ثلاث کی حرمت کا جانتے ہوئے اب اس کے عادی ہوتے چلے جارہے ہیں ، تو آپ کی سیاست حکیمانہ نے ان کو اس امر حرام سے باز رکھنے کے لئے بطور سزا حرمت کا حکم صادر فرمایا ، اور خلیفہ وقت کو اجازت ہے کہ جس وقت وہ دیکھے کہ لوگ اللہ کی دی ہوئی سہولتوں اور رخصتوں کی قدر نہیں کررہے اور ان سے استفادہ کرنے سے رک گئے ہیں ، اور اپنے لئے عسرت وشدت پسند کررہے ہیں ، تو بطور سزا انہیں ان رخصتوں اور سہولتوں سے محروم کرنے کے بعد وہ اس سے باز آجائیں ۔
حضرت امیر المؤمین رضی اللہ عنہ نے یہ حکم نافذ کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں ارشاد گرامی ہے بلکہ فرمایا:
فلو أمضيناه عليهم (کاش ہم اس کو ان پر جاری کردیں) ، ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آپ کی رائے تھی اور امت کو اس فعل حرام سے باز رکھنے کے لئے یہ تعزیری قدم اٹھایاگیا تھا“ [ دعوت فکرونظر: مطبوع در مجموعہ مقالات ص241 تا 242 ]
معلوم ہوا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بطور سزا تین طلاق کو نافذ کردینا یہ حلال کو حرام بنانا نہیں ہے کیونکہ سزا کا مطلب ہی یہی ہوتا کہ آدمی کو کچھ جائز چیزوں اور سہولتوں سے محروم کردیا جائے۔

✿ امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
”حدثنا علي بن مسهر، عن شقيق بن أبي عبد الله، عن أنس قال: كان عمر إذا أتي برجل قد طلق امرأته ثلاثا في مجلس أوجعه ضربا، وفرق بينهما“
”انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی ایسا شخص لایا جاتا جو اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دیتا تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ اس کی پٹائی کرتے اور میاں بیوی کو الگ کردیتے“ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 10/ 102وإسناده صحيح]