بعض حضرات ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں کہیں دیکھا کہ کسی نے آپ کو گالی دی ، کسی نے آپ کے خلاف کوئی سوقیانہ تحریر لکھی یا گفتگو کی ، اس کا اسکرین شاٹ لیں گے، یا اس کا لنک حاصل کریں گے، اور بلا تکلف آپ کو ارسال کردیں گے ، اور اگر یہ تبرکات فیس بک پر ہوں تو، وہاں آپ کو مینشن کردیں گے ۔
اس طرح کی حرکتیں کرنے والے اکثر وہ ہوتے ہیں جو ”ظاہرا“ یا ”باطنا“ آپ سے بغض پالے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کی آبیاری کے لئے یہ حربہ اپناتے ہیں ، امام ابن حزم رحمہ اللہ نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا ہے:
”لا تنقل إلى صديقك ما يؤلم نفسه ولا ينتفع بمعرفته فهذا فعل الأرذال“
”اپنے دوست کو وہ باتیں نہ بتاؤ جو اسے تکلیف دیں ، اورانہیں جان کر اس کو کوئی فائدہ پہنچنے والا نہ ہو ، ایسی حرکت کمینے قسم کے لوگ کرتے ہیں“ [الأخلاق والسير في مداواة النفوس لابن حزم: ص: 47]
.
بعض لوگ بغض وشر میں تو مبتلا نہیں ہوتے بلکہ دوست وخیر خواہ ہی ہوتے ہیں مگر کم عقلی اور نا تجربہ کاری کی بناپر وہ بھی یہ نادانی کر بیٹھتے ہیں ، ایسے ہی دوستوں کو دیکھ کر کسی نے کہا ہوگا:
بے وقوف دوست سے عقلند دشمن بہترہے۔
