عہدِ صحابہ میں بھینس کی زکوٰۃ دی گئی، قربانی نہیں۔

You are currently viewing عہدِ صحابہ میں بھینس کی زکوٰۃ دی گئی، قربانی نہیں۔

عہدِ صحابہ میں بھینس کی زکوٰۃ دی گئی، قربانی نہیں۔

”تابعین“ کے اقوال

قارئین کرام !
صحابہ وتابعین واتباع تابعین یہی اصل سلف ہیں جن کا فہم حجت ہے اور بعد کے آنے والے تمام فقہاء وائمہ کے فہم پر مقدم بلکہ ان میں بھی صحابہ کا فہم تابعین واتباع تابعین پر مقدم ہے۔
صحابہ کے دور میں اس بات کا تو ثبوت میں ملتا ہے کہ بھینس کی زکاۃ دی گئی ، لیکن اس بات کا قطعا ثبوت نہیں ملتا کہ بھینس کی قربانی بھی کی گئی ۔
لہٰذا بھینس کی قربانی جو خالص عبادت ہے اس کا ثبوت نہ تو قرآن وحدیث میں ہے اور نہ ہی عہد صحابہ (اصل سلف ) سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔ لہٰذا ایسا کرنے والے نہ تو قرآن وحدیث پر ہیں اورنہ ہی منہج سلف پر ہیں ۔

① تابعی عمر بن عبد العزيز (المتوفی 101 ) کا قول:

أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ «أَنْ تُؤْخَذَ، صَدَقَةُ الْجَوَامِيسِ كَمَا تُؤْخَذُ صَدَقَةُ الْبَقَرِ»[ الأموال لابن زنجويه 2/ 851 الأموال لأبي عبيد ص476 وإسناده صحيح ، ابن زنجويه وأبو عبيد من الحفاظ]
اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمان صادر کیا کہ: ”بھینسوں میں بھی ویسے ہی زکاۃ لی جائے جیسے گایوں میں لی جاتی ہے“

فضل الرحيم الودود نے اس سند کو صحیح قرار دیتے ہوئے لکھا:
«وهذا مقطوع على الخليفة عمر بن عبد العزيز بسند صحيح.»
”یہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا  فرمان ہے اس کی سند صحیح ہے“
[فضل الرحيم الودود تخريج سنن أبي داود 19/ 463 ]

② تابعی امام حسن بصری (المتوفی 110) کاقول:

حَدَّثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يقول: الجواميس بمنزلة البقر[ مصنف ابن أبي شيبة : -كتاب الزكاة: باب في الجواميس تعد في الصدقة ، 6/ 406 وإسناده صحيح ، أشعث هو ابن عبدالملك وهو ثقة]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
« الجواميس بمنزلة البقر» ، ”بھینسیں گائےکے درجے میں ہیں“

نوٹ :-تابعی عمر بن عبد العزيز اور حسن بصری رحمہما اللہ کی وفات تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے ۔

تنبیہ:

”مسائل الإمام أحمد وإسحاق“ میں بے سند وبے حوالہ لکھا ہوا ہے:
«قال الحسن: تذبح عن سبعة »
”حسن فرماتے ہیں کہ سات کی طرف سے اس (بھینس ) کی قربانی ہوگی“
[ مسائل الإمام أحمد وإسحاق بن راهويه 8/ 4027]
عرض ہے کہ:
امام اسحاق اور امام احمد دونوں میں سے کسی کی بھی ملاقت حسن بصری سے ثابت نہیں ہے ۔
لہٰذا یہ قول بے سند اور بے حوالہ ہونے کے سبب مردود ہے ۔
اس کتاب کے محقق نے حاشیہ میں لکھا ہے:
«لم أعثر على قول الحسن البصري رحمه الله فيما رجعت إليه من مراجع، إلا أن ابن قدامة نقل عنه قوله: إن البدنة تجزئ عن سبعة، وكذلك البقرة»
 ”میں نے جن مراجع (کتابوں) کی طرف رجوع کیا، ان میں مجھے حسن بصری رحمہ اللہ کا یہ قول نہیں ملا، سوائے اس کے کہ ابن قدامہ نے ان سے نقل کیا ہے کہ: اونٹ سات لوگوں کی طرف سے کافی ہوتا ہے، اور اسی طرح گائے بھی۔“
[ مسائل الإمام أحمد وإسحاق بن راهويه 8/ 4027 ]
ممکن ہے کہ حسن بصری رحمہ اللہ کے قول ”گائے میں سات حصے ہو سکتے ہیں“ سے یہ مفہوم اخذ کیا گیا ہو کہ بھینس میں بھی ان کا یہی موقف ہے۔
تاہم یہ قول کسی بھی طرح ثابت نہیں، لہٰذا مردود اور باطل ہے۔

③ تابعی عکرمہ بن خالد بن العاص المخزومي رحمہ اللہ (المتوفی بعد 115) کاقول:

The remaining article is locked
Become a Ultimate Member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے  الٹیمیٹ  ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

تین سالہ ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(دو سوروپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR200.00 for it.