اسلام ایک آفاقی اور ابدی دین ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو مسلم جیسا عظیم اور جامع ٹائٹل عطا کیا ہے۔ تاہم، تاریخِ اسلام کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کے مابین پیدا ہونے والے فکری، عقدی اور منہجی اختلافات کے باعث صفاتی اور جماعتی ناموں کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔ دورِ حاضر میں کچھ حلقوں کی جانب سے یہ فکری مغالطہ پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے ”مسلم“ کے علاوہ کوئی دوسرا صفاتی یا جماعتی نام (جیسے اہل الحدیث یا سلفی) رکھنا قرآن و حدیث کی رو سے ناجائز ہے اور یہ امت میں تفرقے کا سبب ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اسی موقف کا علمی، اصولی اور تفسیری دلائل کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔
✿ سورہ فصلت (آیت 33) کا حقیقی مفہوم اور تفسیری مآخذ
The remaining article is locked
To unlock, become a Standard or higher member
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
غیر مقفل کرنے کے لیے اسٹینڈرڈ یا اس سے اعلیٰ ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(دوسو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
