عہد صحابہ میں تقلید نہیں اتباع

You are currently viewing عہد صحابہ میں تقلید نہیں اتباع

عہد صحابہ میں تقلید نہیں اتباع

آئندہ سطور میں ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایسے آثار پیش کریں گے جن سے واضح ہوتا ہے کہ عہدِ صحابہ میں تقلید کا طریقہ رائج نہیں تھا بلکہ اصل منہج ”اتباعِ سنت“ کا تھا۔ صحابہ کرام کسی ایک عالم کی بات سن کر اس پر جمود اختیار نہیں کرتے تھے بلکہ دوسرے صحابی سے اس کی تحقیق اور تصدیق بھی کر لیتے تھے۔ اس طرزِ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اصل معیار رسول اللہ ﷺ کی سنت تھی، نہ کہ کسی شخصیت کی بلا دلیل پیروی۔ یہی وجہ ہے کہ اختلاف یا اشکال کی صورت میں وہ تحقیق کرتے اور سنت کی طرف رجوع کو ترجیح دیتے تھے۔
ملاحظہ ہو اس سلسلے کے بعض آثار:

The remaining article is locked
  To unlock, become a Standard or higher member  
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
 غیر مقفل کرنے کے لیے اسٹینڈرڈ یا اس سے اعلیٰ ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR100.00 for it.