✿ کوفی غدار ”مالک اشتر“ کی شر انگیزی سے متعلق عمر بن الخطاب اللہ عنہ کی پیشین گوئی
قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ کا دوسرا سب سے بڑا لیڈر اور ام المؤمنین صفیۃ رضی اللہ عنہا کی زبانی ” کلب “ (کتا ) کا خطاب پانے والا نیز ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی بد دعا یافتہ مالک الاشتر وہ درندہ تھا جس کی شکل دیکھتے ہی خلیفہ دوم عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے پیشین گوئی کردی تھی کہ یہ کسی دن اس امت میں بہت بڑا کانڈ کرے گا۔
چنانچہ عبداللہ بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
« دخلنا على عمر معاشر وفد مذحج وكنت من أقربهم منه مجلسا فجعل عمر نظر إلى الأشتر ويصرف بصره فقال لي أمنكم هذا قلت نعم يا أمير المؤمنين قال ما له قاتله الله كفى الله أمة محمد شره والله أني لأحسب أن للمسلمين منه يوما عصيبا »
ترجمہ:
”ہم قبیلیہ مذحج کے کچھ لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور میں عمر رضی اللہ عنہ کے سب سے قریب بیٹھ گیا تو عمر رضی اللہ عنہ مالک اشتر کو دیکھنے لگے اور پھر اس سے نظر ہٹانے لگے اور فرمایا : کیا یہ شخص تمہارے ساتھ آیا ہے ؟ میں نے کہا: ہاں اے امیر المؤمین ! تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے کیا پرابلم ہے اللہ اسے ہلاک کرے ، اللہ امت محمدیہ کے لئے اس کے شر کے بالمقابل کافی ہوجائے ، اللہ کی قسم مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس کی وجہ سے کسی دن بہت بڑا سانحہ دیکھنا پڑے گا۔“
[العلل ومعرفة الرجال لأحمد، ت وصي: 1/ 315 وإسناده حسن]
.
ام المؤمنیبن صفیہ بنت حی رضی اللہ عنھا نے ”مالک اشتر کوفی“ کو ”کلب“ (کتا) کہا ہے
«عن كنانة قال: كنت أقود بصفية بنت حيي لترد عن عثمان رضي الله عنه ، فلقيها الأشتر فضرب وجه بغلتها حتى مالت، فقالت: ردوني لا يفضحني هذا الكلب قال: فوضعت خشبا بين منزلها وبين منزل عثمان، ينقل عليه الطعام والشراب »
ترجمہ:
”ام المؤمنیبن صفیہ بنت حی رضی اللہ عنھا کے غلام کنانہ کہتے ہیں کہ : میں ام المؤمنیبن صفیہ بنت حی رضی اللہ عنھا کی سواری لیکر نکلا تاکہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانا پہنچا سکیں تو مالک بن الاشتر سامنے آگیا اور اس نے ام المؤمنیبن صفیہ رضی اللہ عنھا کی سواری کے منہ پر ایسی ضرب لگائی کہ آپ گرتے گرتے بچیں پھر ام المؤمنیبن صفیہ رضی اللہ عنھا نے کہا کہ مجھے واپس لے چلو کہیں یہ کتا (مالک اشتر) مجھے رسوا نہ کردے ، کنانہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے ام المؤمنیبن صفیہ رضی اللہ عنھا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے بیچ لکڑی رکھی اور اس کے ذریعہ کھانا پانی بھیجا جانے لگا۔“
[مسند ابن الجعد ص: 390 وإسناده حسن وانظر: تاريخ المدينة لابن شبة 4/ 1311 ، تاريخ ابن عساكر 39/ 415 ، التاريخ الكبير للبخاري، ط العثمانية: 7/ 237]
The remaining article is locked
Become a 3 Yearly member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے تین سالہ ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
تین سالہ ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(دو سوروپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
