جب یہ کہاجاتا ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ تعزیر اور سزائے کے لئے تین طلاق کو نافذ کیا تھا ، تو بعض لوگ یہ جذباتی اعتراض کرتے ہیں کہ جب ایک چیز شرعا جائز تھی تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ اس جواز کو حرمت میں تبدیل کرنے والے کون ہوتے ہیں ، کیا انہیں تحلیل حرام کا منصب مل گیا تھا ؟
جوابا عرض ہے کہ:
① اولا:
تعزیز اور سزاء کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ کسی آدمی کو سزاء دیتے ہوئے اسے کچھ جائز چیزوں اور نعمتوں سے محروم کردیا جائے۔
مثلا ایک شخص کا اپنے گھر میں اپنے بال بچوں کے ساتھ رہنا جائز امر ہے ، لیکن وہ کوئی جرم کر دے جس کے سبب اسے اس کے گھر اور بال بچوں سے دور کرکے جیل میں بند کردیا جائے ، تو اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس کا اپنے گھر اور بال بچوں کے ساتھ رہنا جائز تھا پھر اسے اس پر حرام کیوں کردیا گیا ؟
اسی طرح کسی شخص کو بطور سزا جلا وطن کردیا جائے تو اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا اپنے وطن میں رہنا جائز تھا ، پھر اسے اس پر حرام کیوں کردیا گیا تھا ، کیونکہ سزاء کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ کسی کو ایسی چیزوں اور سہولتوں سے محروم کردیا جائے جو اس کے لئے جائز تھیں۔
② ثانیا:
یہ طلاق کا واحد معاملہ نہیں ہے جس میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تعزیر و سزاء کے لئے جائز چیز پر بھی پابند ی لگائی بلکہ اور بھی کئی معاملات میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطور سزا حلال و جائز چیز پر پابندی لگائی مثلا ایک عورت نے اپنے غلام کے ساتھ نکاح کرلیا تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ اب تم زندگی میں کسی بھی دوسرے مرد سے شادی نہیں کرسکتی ہو ، چنانچہ:
امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211) نے کہا:
”عبد الرزاق، عن ابن جريج قال: أخبرني أبو الزبير قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: جاءت امرأة إلى عمر بن الخطاب ونحن بالجابية نكحت عبدها فانتهرها، وهم أن يرجمها وقال: لا يحل لك مسلم بعده“
”جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :ہم جابیہ کے مقا م پر تھے تو ایک عورت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی جس نے اپنے غلام کے ساتھ نکاح کرلیا تھا ، تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا اور اسے رجم کرنے کا ارادہ کیا ، لیکن پھر یہ کہا کہ اس کے بعد کوئی بھی مسلمان تمہارے لئے حلال نہیں ، (یعنی اب تم کسی اور سے بھی شادی نہیں کرسکتی )“ [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 7/ 209 رقم 12817 وإسناده صحيح وصححه ابن حزم في المحلي 9/ 72]
غور کریں کہ اس واقعہ کے بعد بھی اس عورت کے لئے جائز تھا کہ وہ کسی بھی دوسرے آزاد مرد سے شادی کرتی ، لیکن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطور سزا اس کے لئے کسی بھی بھی مسلم مرد سے شادی کرنے کو حرام کردیا ۔
ظاہرہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایسا بطور سزاء و تعزیر کیا ہے ، اس لئے یہ قطعا نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے ایک حلال چیز کو حرام کردیا ۔
③ ثالثا:
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صرف حرام طلاق دینے پر نہیں بلکہ بغیر طلاق دینے پر بھی میاں بیوی کے درمیاں جدائی کرادی ہے ۔ دیکھئے:[تفسير الطبري، ت شاكر: 4/ 367، وقال ابن كثير : وهذا إسناد صحيح ، انظر: تفسير ابن كثير / دار طيبة 1/ 583، وانظر أيضا:مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 7/ 177]
عبدالرحمان الصابونی لکھتے ہیں:
”وقد فرق عمر بين كل من طلحة وحذيفة وزوجتيهما الكتابيتين وقال: لا أحرمه ولكن أخشي الاعراض عن الزواج بالمسلمات ، فزواج المسلم بالكتابية مباح علي ما ذهب إليه جمهور المسلمين ومع هذا فقد رأي عمر أن من المصلحة منع مثل هذه الزيجات بل وفسخها إن حصلت. فإذا كان من يملك حق التفريق دون طلاق بين الزوجين ، ألا يملك التفريق بعد طلاق محرم فيجعله ثلاث؟“
”عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما میں سے ہرایک کو ان کی اہل کتاب بیوی سے الگ کردیا اور کہا : میں اسے حرام نہیں کہتا لیکن اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں لوگوں مسلم عورتوں سے شادی کرنے سے اعراض نہ کرنے لگیں ، تو اہل کتاب عورت سے شادی کرنا جائز ہے جیساکہ جمہور کا موقف ہے ، اس کے باوجود بھی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مصلحت اس بات میں دیکھی کہ اس طرح کی شادیوں پر روک لگادیں ، بلکہ اگر کہیں ایسی شادی کرلی گئی ہے تو اسے فسخ کردیں ، تو جس شخصیت کو اس بات کا حق حاصل تھا کہ وہ بغیر طلاق کے میاں بیوی کو الگ کردے ، اسے اس بات کا حق کیوں نہیں ہوسکتا کہ وہ حرام طلاق دینے کے بعد ایسے میاں بیوی کو الگ کردیں“ [مدى حرية الزوجين في الطلاق:ج1ص253]
④ رابعا:
حنفی علماء نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ تعزیر وسزاء کے طور پر ہی تین طلاق کو نافذ کردیا تھا چنانچہ:
The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(سو روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
