کچھ اور روزے

You are currently viewing کچھ اور روزے

کچھ اور روزے

کچھ اور روزے (نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)

  تمہید 

رمضان کے فرض روزوں کے بعد روزوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا غیر رمضان میں بھی نفل روزوں کا ایک طویل سلسلہ ہے ۔
صحیح احادیث کی روشنی میں کل بارہ (12) قسم کے نفل روزے ہیں جن کا تذکرہ دلائل کے ساتھ ہم آگے کریں گے ۔

  باب الریان اور نفل روزے  

رمضان میں یہ حدیث ہم سنتے اور سناتے ہیں کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازہ ”ریان“ نامی ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے ۔
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جنت کے دروازے ”ریان“ کی خوشخبری ان لوگوں کے لیے ہے جو صرف فرض روزے ہی نہیں رکھتے، بلکہ کثرت سے نفلی روزوں کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔
کیونکہ فرض نماز اور روزے تو ہر مسلمان پر لازم ہیں، اس لیے ان میں خاص امتیاز نہیں ہوتا۔ اصل فضیلت اور پہچان نوافل کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔
اس لئے بندے پر فرائض کے بعد نوافل کی جو عبادت غالب ہوگی اسی نام کے دروازے سے اسے جنت میں داخلہ ملے گا مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص فرض عبادات کے ساتھ کثرت سے نفلی نمازیں پڑھتا ہے تو وہ ”باب الصلاۃ“ (نماز والوں کے دروازے) کا مستحق ہوگا۔اسی طرح جو شخص فرض روزوں کے ساتھ نفلی روزوں کا بھی زیادہ اہتمام کرتا ہے، وہ ”باب الریان“ میں داخل ہونے کا مستحق ہوگا۔
یعنی جنت کے ان خاص دروازوں کا تعلق بندے کی اضافی محنت اور شوقِ عبادت سے ہے، نہ کہ صرف فرض کی ادائیگی سے۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتےہیں:
«وَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ الْمُرَادَ مَا يُتَطَوَّعُ بِهِ مِنَ الْأَعْمَالِ الْمَذْكُورَة لَا وَاجِبَاتِهَا»
”اس میں اشارہ ہے کہ اس سے مراد مذکورہ اعمال میں سے نفل اعمال انجام دینے والے ہیں نہ کہ فرائض“ [فتح الباري لابن حجر: 7/ 28]۔

  نفلی روزوں کی بارہ قسمیں

اب ہم ان بارہ قسم کے نفلی روزوں کا ذکر کریں گے جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں ۔ اور آخر میں نفلی روزوں کے بعض خصوصی مسائل کی بھی وضاحت کریں گے ۔

① داؤدی روزے

عن عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «أَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَكَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَيَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا» [صحيح البخاري 1131]

② محرم کے روزے

حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ» [صحيح مسلم 1163]

③ شعبان کے روزے

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لاَ يَصُومُ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ [صحيح البخاري 1969]

④ ذی الحج کے روزے

عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ» [سنن أبي داود 2437 وصححه الألباني]

⑤ شوال کے روزے

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ» [صحيح مسلم 1164]د
ان روزوں کو شش عیدی روزے کہا جاتا ہے ان سے متعلق مزید مسائل کی وضاحت ہم اپنے دوسرے درس ”ماہ شوال اور سنن وبدعات“ میں کی ہے ۔

⑥ ایام بیض کے روزے

The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(تیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR30.00 for it.