نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس
اس موضوع کے تحت چار حصوں پر بات ہوگی :
● (الف) ماہ شوال کا معنی ومفہوم
● (ب) ماہ شوال کے فضائل
● (ج) ماہ شوال کے مشروع اعمال
● (د) ماہ شوال کی بدعات
تفصیلات ملاحظہ ہوں:
(الف) ماہ شوال کا معنی ومفہوم
① ماہ شوال کا لغوی معنی
اس کے لغوی معنی سے متعلق بہت ساری باتیں کہیں گئی ہیں جن میں سے ایک یہ کہ یہ ”شَول ”سے ماخوذ ہے جس کا معنی اونٹنی کا دُم اٹھانا یعنی سفر کے لئے تیار ہونا۔ پہلے لوگ اس ماہ میں سفر بہت کرتے تھے اس لئے اس ماہ کا نام شوال رکھا دیا گیا ۔
② ماہ شوال کا اصطلاحی معنی
شوّال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔
③ ماہ شوال اور بعض تاریخی واقعات
● غزوہ احد
● غزوہ حنین
● اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی
● عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا سے شادی
● اہم شخصیات کی وفات:
⋆ شہداء میں سیدا الشہداء حمزہ رضی اللہ عنہ
⋆ مفسرین میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
⋆ فقہاء میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ
⋆ محدثین میں امام بخاری ، امام ابوداؤد ، امام ابن حبان وغیرہم
⋆ زاھدین میں اویس القرنی رحمہ اللہ
(ب) ماہ شوال کے فضائل
① {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ } [البقرة: 197]
② عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا...وَأَشْهُرُ الحَجِّ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابهِ: شَوَّالٌ وَذُو القَعْدَةِ وَذُو الحَجَّةِ [صحيح البخاري 1572]
(ج) ماہ شوال کے مشروع اعمال
ماہ شوال میں کل آٹھ (8) اعمال مشروع ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:
① زکاۃ الفطر
اس پر رمضان کے اخیر میں گفتگو ہوجاتی ہے
② عید الفطر
اس پر بھی مذکور وقت میں گفتگو ہوجاتی ہے
③ شش عیدی روزے
➊ مشروعیت
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ - رضي الله عنه - أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلي الله عليه وسلم- قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِيَامِ الدَّهْرِ .[ مسلم رقم١١٦٤]
➋ حکمت
ماہ شوال کے ان روزوں کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن رجب حنبلی رقم طراز ہیں :
’’أفضل التطوع ما کان قريبا من رمضان قبله و بعده و ذلک يلتحق بصيام رمضان لقربه منه و تکون منزلته من الصيام بمنزلة السنن الرواتب مع الفرائض قبلها و بعدها فيلتحق بالفرائض في الفضل و هي تکملة لنقص الفرائض و کذلک صيام ما قبل رمضان و بعده فکما أن السنن الرواتب أفضل من التطوع المطلق بالصلاة فکذلک صيام ما قبل رمضان و بعده أفضل من صيام ما بعد منه‘‘[لطائف المعارف :١٣٨١]
اور علامہ ابن القیم لکھتے ہیں :
’’وَقَالَ آخَرُونَ : لَمَّا کَانَ صَوْم رَمَضَان لَا بُدّ أَنْ يَقَع فِيهِ نَوْع تَقْصِير وَتَفْرِيط , وَهَضْم مِنْ حَقِّهِ وَوَاجِبِهِ نَدَبَ إِلَي صَوْم سِتَّة أَيَّام مِنْ شَوَّال , جَابِرَةٍ لَهُ , وَمُسَدِّدَة لِخَلَلِ مَا عَسَاهُ أَنْ يَقَع فِيهِ . فَجَرَتْ هَذِهِ الْأَيَّام مَجْرَي سُنَن الصَّلَوَات الَّتِي يُتَنَفَّل بِهَا بَعْدهَا جَابِرَة وَمُکَمِّلَة , وَعَلَي هَذَا : تَظْهَر فَائِدَة اِخْتِصَاصهَا بِشَوَّال , وَاَللَّه أَعْلَم‘‘[تہذیب سنن أبی داود ویضاح مشکلاتہ:٤٩٠١]
➌ عدد''چھ(٦)''کی وجہ تخصیص
شوال کے ان چھ روزوں کی تعداد صرف چھہ ہی کیوں ہے؟اس کی وضاحت حدیث میں آگئی ہے،ملاحظہ ہویہ حدیث:
’’عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَي رَسُولِ اللَّهِ -صلي الله عليه وسلم- عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلي الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ کَانَ تَمَامَ السَّنَةِ (مَنْ جَاء َ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا(انعام:٦/١٦٠)‘‘'[سنن ابن ماجہ:ـکتاب الصوم:باب صیام ستة ایام من شوال،رقم(١٧١٥)واسنادہ صحیح]
مذکورہ حدیث سے معلوم ہواکی ایک نیکی دس نیکی کے برابرہے،یعنی ایک روزہ دس روزہ کے برابرہے،اس لحاظ سے رمضان کے تیس روزوں کے ساتھ شوال کے چھ روزے ملالئے جائیں توکل چھتیس(٣٦)روزے ہوتے ہیں ،پھران میں ہر روزہ جب دس (١٠)روزے کے برابر ہوگا،توچھتیس (٣٦)روزے تین سوساٹھ(٣٦٠)روزوں کے برابر ہوجائیں گے،اورچونکہ ایک سال میں کم وبیش (٣٦٠)دن ہوتے ہیں لہٰذا مذکورہ روزے پورے سال کے روزوں کے برابرہوئے۔
درج ذیل حدیث میں اسی چیز کی مزید وضاحت ہے:
''عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " صِيَامُ رَمَضَانَ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ السِّتَّةِ أَيَّامٍ بِشَهْرَيْنِ، فَذَلِکَ صِيَامُ السَّنَةِ "، يَعْنِي رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ،[صحیح ابن خزیمة:٢٩٨٣رقم٢١١٥واسنادہ صحیح]
اب اگرہرسال رمضان کے روزوں کے ساتھ باقاعدگی سے شوال کے چھ روزے رکھے جائیں توہرسال، پورے سال کے روزوں کاثواب ملے گااوراگریہی سلسلہ عمربھررہاتوگویاکہ اس طرح عمربھر کے روزوں کاثواب ملے گا،جیساکہ مسلم کی گذشتہ حدیث میں ہے''کَصِیَامِ الدَّہْرِ''۔
اس تفصیل سے معلوم ہواکہ شوال کے ان روزوں میں عددچھہ کی وجہ تخصیص کیاہے۔
➍ شش عیدی روزوں کورکھنے کاطریقہ
شوال کے ان چھہ روزوں کوعید کے بعدفورارکھ سکتے ہیں اسی طرح بیچ میں اوراخیرمیں بھی رکھ سکتے ہیں ،نیزان روزوں کومسلسل بھی رکھ سکتے ہیں اورالگ الگ ناغہ کرکے بھی رکھ سکتے ہیں ،کیونکہ حدیث میں کسی بھی قسم کی کوئی تقییدوتعیین نہیں آئی ہے،علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
''إذا ثبت هذا فلا فرق بين کونها متتابعة أو مفرقة في أول الشهر أو في آخره لأن الحديث ورد بها مطلقا من غير تقييد
حدیث میں شوال کے چھہ روزہ رکھنے کی فضیلت مطلقاواردہوئی ہے ،یہ روزے مسلسل ایک ساتھ رکھے جائیں یاالگ الگ ناغہ کرکے رکھے جائیں یاآخری دنوں میں ،ہرطرح جائزہے ،کیونکہ حدیث بغیرکسی تقیید کے مطلق وارد ہوئی ہے''[المغنی :١١٢٣]
مگرواضح رہے کہ بعض احادیث میں تسلسل کی قید بھی ہے مگروہ تمام احادیث ضعیف ہیں ،مثلادیکھئے:سلسلة الاحادیث الضیعفة ج١١القسم الاول ص٣٠٧،٣٠٨رقم٥١٨٩۔
➎ پہلے شش عیدی روزے یارمضان کے فوت شدہ روزے...؟
اگرشرعی عذرکی بناپرکسی شخص کے رمضان کے کچھ روزے چھوٹ گئے تویہ شخص پہلے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کر لے یہ بہتر ہے ۔لیکن اگرکوئی شخص رمضان کے روزوں کی قضاء پہلے نہ کرسکے اورمخصوص نفلی روزوں کے وقت کے نکلنے کاڈر ہو،اس بنیادپروہ پہلے نفلی روزے رکھ لے پھربعدمیں رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضاء کرلے،تواس کے دونوں روزے صحیح ہوںگے۔
ڈاکٹرفضل الرحمن مدنی لکھتے ہیں :
''...اگرکسی نے نفلی روزے پہلے رکھ لئے اورفوت شدہ روزوں کی قضاء بعد میں کی تودونوں روزے صحیح ہوجائیں گے،لیکن اگرنفلی روزوں رکھے پھرفرض روزے نہیں رکھ سکاتواس پرمؤاخذہ ہوگا''[فتاوی رمضان:ص٨٠،٨١] ۔
مزید تفصیل کے لئے ہمارا یہ مضمون پڑھیں:
کیا شوال کے چھ روزے رکھنے سے پہلے رمضان کے چھوٹے روزوں کی قضا ضروری ہے ؟
④ شوال میں عمرۃ
The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(تیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
