چار دن قربانی کی مشروعیت قرآنی آیات کی روشنی میں

You are currently viewing چار دن قربانی کی مشروعیت قرآنی آیات کی روشنی میں

چار دن قربانی کی مشروعیت قرآنی آیات کی روشنی میں

پہلی آیت

{وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى }
«تم گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو، پس جو کوئی دو دن گذار کر (منی سے)جلدی روانہ ہوناچاہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔اور جو دیر میں نکلنا چاہے(یعنی تین دن گذارکر) تو اس پر بھی جو پرہیز گاری کرے گا کوئی گناہ نہیں ہے» (البقرة: 203)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ قربانی چار دن ہے ، کیونکہ اس میں اللہ کے ذکر سے مراد قربانی کا جانور ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لینا ہے۔جیساکہ آگے پیش کردہ آیت سے واضح ہے ۔

اور یہاں یہ حکم ایام معدودات میں دیا گیا ہے ، اور ایام معدودات سے مراد باتفاق مفسرین ایام تشریق ہیں ، یعنی عید کے بعد تین دن ہیں۔

The remaining article is locked
Become a Ultimate Member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے  الٹیمیٹ  ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

تین سالہ ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(دو سوروپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR200.00 for it.