دینی اداروں( مدارس ، مکاتب، جمعیات اور دعوہ سینٹرز وغیرہ) میں زکاۃ کا مسئلہ

You are currently viewing دینی اداروں( مدارس ، مکاتب، جمعیات اور دعوہ سینٹرز وغیرہ) میں زکاۃ کا مسئلہ

دینی اداروں( مدارس ، مکاتب، جمعیات اور دعوہ سینٹرز وغیرہ) میں زکاۃ کا مسئلہ

① جو اہل علم ”فی سبیل اللہ“ میں دینی اداروں کو شامل نہیں کرتے وہ کسی بھی ادارہ کا استثناء نہیں کرتے خواہ مدرسہ ہو یا جمعیت ہو یا ٹی وی چینل یا دعوہ سینٹروغیرہ. جیسے شیخ البانی رحمہ اللہ ، شیخ ابن عثیمن رحمہ اللہ، شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ اور دیگر عرب کے عام سلفی علماء۔ اور ہندوستان میں صاحب مرعاۃ عبیداللہ رحمانی رحمہ اللہ ، ہمارے نزدیک یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے لیکن ہم اپنی رائے کسی پر مسلط نہیں کرتے ۔
.
② جو ادارے ”فی سبیل اللہ“ کے تحت زکاۃ وصول کرتے ہیں علامہ البانی رحمہ اللہ کی نظر میں یہ ”منہج سلف“ کے خلاف ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے ایک درس میں کہا ہے:
”صرف الزكاة إلى هذه المواضع إنما يتفرع من تعميم معنى سبيل الله في سبل الخير وهذا التفسير تفسير محدث لا يعرفه السلف الصالح“
”ان جگہوں (دعوت ، مساجد ، مدارس ، اسپتالوں) میں زکاۃ صرف کرنے کی بات اس وجہ سے کی جاتی ہے کیونکہ سبیل اللہ کو عام کرکے اس میں ہر کارخیر کو شامل کردیا گیا ہے، اور یہ تفسیر بعد کی ایجاد کردہ ہے سلف صالحین اس سے واقف نہ تھے“
حوالہ کے اس لنک پر جائیں ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ ایک دوسرے درس میں فرماتے ہیں:
”نحن ندّعي الانتماء للسلف الصالح وهذا لأمر هام أعتقد أن كل من تبيّنه لا يسعه إلا أن يكون سلفي المشرب والمذهب ، ننتمي للسلف الصالح لأنهم هم الجيل الأول الذين تلقّوا الإسلام كتاباً وسنة من النبي صلى الله عليه وسلم لفظاً ومعنىً ثم هم الذين طبّقوه وجعلوه لهم مسلكاً ومنهجاً في حياتهم . هؤلاء لا نعلم عنهم أنهم توسّعوا في تفسير (( في سبيل الله )) ذلك التوسع“ .
”ہم منہج سلف صالحین سے چمٹنے کا دعوی کرتے ہیں ، اس کا ایک اہم تقاضا ہے ، میں سمجھتاہوں کہ جو شخص بھی منہج سلف کا دعوی کرے اسے خود سلفی المشرب والمذہب ہونا چاہے ، ہم منہج سلف صالحین سے اپنا تعلق ظاہر کرتے ہیں کیونکہ سلف وہ پہلی پیڑھی ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست کتاب وسنت لفظاً ومعنىً سیکھا ہے ، پھر انہوں نے ہی سب سے پہلے اس پر عمل کیا ہے اور اپنی زندگی میں اسے ہی اپنا مسلک اور منہج بنایا ہے ، ان کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے (( في سبيل الله )) میں اتنی وسعت دی ہے ہو۔“
حوالہ کے لئے اس لنک پر جائیں
.
③ جو مدارس یا دینی ادارے غریب بچوں سے فیس نہیں لیتے ، غرباء ومساکین تک زکاۃ پہنچاتے ہیں ان کو زکاۃ دے سکتےہیں اور دیتے وقت تاکید کریں کہ یہ رقم فرض زکاۃ کی ہے اور زکاۃ کے مصرف میں ہی لگائی جائے اور مدارس اور ادارے والوں پر لازم ہوگا کہ وہ اس مال زکاۃ کو صرف غرباء ومساکین یا مصارف ثمانیہ میں ہی صرف کریں اور صرف کرنے کا طریقہ بھی من مانی نہ ہو بلکہ شریعت کے موافق ہو۔
.
④ جو ادارے ان علماء کے فتاوی پر مطئمن ہیں جو ”فی سبیل اللہ“ میں دینی اداروں کو شامل مانتے ہیں وہ ان علماء کے موقف پر عمل کرسکتے ہیں ، لیکن صرف ادارے والی ہی ”فی سبیل اللہ“ کی تجوری پر قبضہ نہیں کرسکتے ، انہیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے ”فی سبیل اللہ“ میں دیگر کار خیر بھی شامل ہوں گے حتی کہ مساجد کی تعمیر اور ائمہ ومؤذن کی تنخواہ بھی اس میں شامل ہوگی جیسا کہ علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ وغیرہ کا موقف ہے ، بلکہ انہیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ائمہ ومدرسین و علمائے دین انفرادی طور پر بھی اپنی ذات اور ضروریات زندگی مثلا گھر ، گھر کے سازو سامان ، سواری ، لائبریری وغیرہ کے لئے زکاۃ وصول کرسکتے ہیں گرچہ وہ فقراء ومساکین میں نہ آتے ہوں کیونکہ ان سے بڑا غازی کون ہوسکتاہے۔ اگر کوئی مدیر یہ سمجھتا ہے کہ زکاۃ کے مال سے صرف مدیر ہی اپنا بنگلہ بناسکتا ہے ، اپنے لئے کار لے سکتا ہے ، دعوت کے نام پر ابن بطوطہ کی طرح دنیا بھر کی سیر وتفریح کرسکتا ہے لیکن مدرس اور عام عالم ایسا نہیں کرسکتا تو میری نظر میں وہ مدیر پرلے درجے کا دوغلا شخص ہے۔ بہتر یہ ہے کہ یہ سب کے سب زکاۃ کے علاوہ کسی دوسرے نعم البدل کے لئے کوشش کریں۔
.
⑤ ہندوستان میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ زکاۃ کے ”مصارف ثمانیہ“ میں سے جو مصارف موجود نہیں ، ان کی جگہ قیاس آرائی اور دور ازکار بحث و تاویل سے دوسرے مصارف کو لایا جارہاہے ، جیسے {فی سبیل اللہ} کی جگہ ”دینی اداروں“ کو، {عاملین علیھا} کی جگہ ”مچندین“ ،کو اور {فی الرقاب} کی جگہ ”قیدیوں“ کو ۔ مگر زکاۃ کےوہ مصارف جو حقیقی شکل میں موجود ہیں اور جگہ جگہ موجود ہیں ، ان سے پوری طرح آنکھیں بند کرنے کی کو شش کی جارہی ہے ، ​جیسے {فقراء} اور {مساکین} ۔ اس صورت حال کو حتی الامکان بدلنے کی ضرورت ہے۔
.
⑥ جو مال دوسروں سے مفت میں ملتا ہے اس مال میں انسان کا نفس کچھ زیادہ ہی من مانی کرتا ہے جیسے ”وراثت“ اور ”زکاۃ“ کا مال اس لئے اللہ تعالی نے ان دونوں کے مستحقین اور مصارف کو قرآن میں تفصیل سے بیان کردیا ہے تاکہ حفظ قرآن اورتلاوت قرآن کے ذریعہ یہ تفصیلات ہمیشہ مسلمانوں کے سامنے رہیں اور جہل و لاعلمی کا کوئی عذر ان پر عمل سے مانع نہ ہو۔ نیز قرآن میں یہ تفصیلات اشاروں میں نہیں بلکہ پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ دو ٹوک میں بیان کی گئی ہیں تاکہ قیاس واستدلال کے نام پر بھی نفس پرستی اور شیطان کی دخل اندازی کی راہ مسدود ہوجائے۔
.
⑦ بہت سے مدارس و دینی ادارے اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ فرض زکاۃ میں دینی اداروں ہی کا سب سے بڑا حق ہے اور اس میں کسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں ہے ۔ ان پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف یہ کہ مختلف فیہ ہے بلکہ جمہور علمائے امت کے یہاں اس کی گنجائش ہی نہیں ہے ، اس لئے اصحاب ادارہ اور اصحاب خیر دونوں کی طرف سے اس بات کی کوشش ہونی چاہئے کہ اداروں کا تعاون زیادہ سے زیادہ عام تبرعات ونفلی صدقات وخیرات سے ہو نہ کہ فرض زکاۃ سے۔
.
⑧ اہل ثروت اور اصحاب خیر میں بہت سے لوگوں کا یہ ذہن بنا ہوا ہے کہ اللہ کے راہ میں خرچ کرنے کے لئے بس دو ہی اہم جگہ ہے ایک مسجد اور دوسرا مدرسہ ۔ باقی جگہوں پر خرچ کرنے کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ۔ ہمیں یہ ذہنیت ختم کرنی ہوگی اور یہ حقیقت واضح کرنی ہوگی کہ مال زکاۃ میں ”فقراء“ و ”مساکین“ کا حق بہت اہم ہے انہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
.
⑨ زکاۃ کے پیسوں سے چلنے والے جن مدارس اور دینی اداروں نے لاک ڈاؤن میں علماء کو نکالا ہے ان کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دینی چاہے ، بلکہ ان کے مدیران کو فارغ کرکے ایسے اداروں کو مقفل کردینا چاہئے بعد میں اس پراپرٹی کو بیچ کر غرباومساکین میں بانٹ دینا چاہے۔
.
⑩ جو مدرسین اور دعاۃ اُن دینی اداروں میں تنخواہوں پرکام کرتے ہیں جو زکاۃ کے پیسوں سے چلتے ہیں تو اُن مدرسین اور دعاۃ پر کوئی ملامت نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ زکاۃ خور نہیں ہیں بلکہ یہ اجیر ہیں اور اپنی محنت اور اجرت کا پیسہ لے رہے ہیں ۔ ایسے میں مدیر حضرات ان کی تنخواہ زکاۃ کے پیسوں سے دیں یا شراب اور چرس بیچنے والے تاجروں کے ڈونیش سے دیں ، بہرصورت اس کے ذمہ دار مدیر حضرات ہوں گے ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سرکاری اسکولوں ، کالجوں میں تدریس کرنے والے مسلمانوں کا مسئلہ ہے کہ ان کی تنخواہ کو حرام نہیں بول سکتے ہیں حالانکہ ان کی تنخواہ حکومت دیتی ہے اور حکومت کے خزانے میں شراب اور طوائف خانوں کے ٹیکس کا پیسہ بھی شامل ہوتا ہے