فرض نمازکے بعد آیت الکرسی پڑھنے سے متعلق روایات کاجائزہ

You are currently viewing فرض نمازکے بعد آیت الکرسی  پڑھنے سے متعلق روایات کاجائزہ

فرض نمازکے بعد آیت الکرسی پڑھنے سے متعلق روایات کاجائزہ

فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق مختلف الفاظ میں متعدد روایات منقول ہیں ان روایات کا اکثر حصہ موضوع من گھڑت ہے صر ف ایک دو روایت سے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض نے اسے صحیح یا حسن یا جید قرار دیا اور بعض نے ضعیف ، یا موضوع و من گھڑت قرار دیا ہے۔

 صحیح یا حسن کہنے والے بعض  اہل علم کے حوالے

① امام منذری رحمہ اللہ (المتوفى656)نے کہا:

«رواه النسائي والطبراني بأسانيد أحدها صحيح ، وقال شيخنا أبو الحسن هو على شرط البخاري وابن حبان في كتاب الصلاة وصححه ، وزاد الطبراني في بعض طرقه وقل هو الله أحد ، وإسناده بهذه الزيادة جيد أيضا»
”اسے امام نسائی و امام طبرانی نے کئی اسانیدسے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند صحیح ہے ، اور ہمارے شیخ ابوالحسن کہتے ہیں کہ یہ بخاری کی شرط پر ہے اورابن حبان نے اسے کتاب الصلاۃ میں نقل کیا ہے اور صحیح کہا ہے اورطبرانی کے بعض طرق میں آیۃ الکرسی پڑھنے کے ساتھ ساتھ سورہ اخلاص پڑھنے کا بھی ذکر ہے اور اس اضافہ والی سند بھی جیدہے۔“ [الترغيب والترهيب للمنذري: 2/ 299]۔
عرض ہے کہ:
امام منذری رحمہ اللہ نے ترغیب وترہیب میں بہت ساری ایسی احادیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے جس پرعلامہ البانی رحمہ اللہ نے تعاقب کیا اور ان کا تساہل واضح کیا ہے ۔
نیز یہاں پر امام منذری رحمہ اللہ نے اپنے شیخ سے جو یہ نقل کیا کہ یہ حدیث بخاری کی شرط پر ہے یہ بہت بڑی غفلت ہے کیونکہ اس حدیث کا کوئی ایک بھی ایسا طریق نہیں ہے جس کے تمام راوۃ صحیح بخاری کے ہوں پھر اسے بخاری کی شرط پر صحیح قرار دینا کیا معنی رکھتاہے ؟ نیز امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح ہرگزنہیں کہا ہے کیونکہ اسے اپنی صحیح میں نقل نہیں کیا بلکہ کتاب الصلاۃ نامی دوسری کتاب میں نقل کیا جس میں صحت کا کوئی التزام نہیں کیا ہے ، اسی طرح قل ھواللہ احد کے اضافہ کے ساتھ والی روایت کو جید قرار دینا بھی درست نہیں کیونکہ اس کی سند واضح طور پر ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے باطل وجھوٹ قرار دیا ہے کماسیاتی۔
اب غور کیا جائے کہ ایسی تصحیح کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے جس کے ساتھ ہی واضح ضعیف روایت کو بھی جید کہا جائے ، ابن حبان کی طرف بلاوجہ تصحیح منسوب کی جائے اور ایسی حدیث کو بخاری کی شرط پربتلایا جائے جس
کے ایک راوی کا بخاری میں سرے سے وجود ہی نہ ہو اور ایک دوسرے راوی کی صرف دو روایت بخاری میں شواہد ومتابعات کے پیش نظر ہوں؟؟

② امام الدمياطي رحمہ اللہ (المتوفى705)نے کہا:

«واسناد الروایتین علی شرط الصحیح»
”ان دونوں روایات کی سند صحیح کی شرط پرہے“ [المتجر الرابح في ثواب العمل الصالح: 643]۔
عرض ہے کہ:
امام دمیاطی کی یہ کتاب بھی فضائل اعمال پر ہے اورموصوف نے اس کتاب میں بھی بہت ساری موضوع ومن گھڑت و ضعیف احادیث بھر دی ہیں ، ایسے میں ان کی تصحیح کی کوئی اہمیت نہیں بالخصوص جبکہ موصوف نے دو روایات کی سند کو علی شرط الصحیح کہہ دیا جو بالکل خلاف واقعہ ہے۔

③ امام ابن عبد الہادی رحمہ اللہ (المتوفى744)نے کہا:

«وَلم يصب فِي ذكره فِي الموضوعات فَإِنَّهُ حَدِيث صَحِيح»
”جنہوں نے اس حدیث کو من گھڑت احادیث میں ذکر کیا ہے انہوں نے درست نہیں کیا کیونکہ یہ حدیث صحیح ہے“ [المحرر في الحديث ص: 209]۔
عرض ہے کہ:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام ابن عبدالھادی کی اس تصحیح پر تعاقب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
«قلت: لم أجد للمتقدمين تصريحاً بتصحيحه.»
”میں (حافظ ابن حجر) کہتاہوں کہ مجھے نہیں ملا کہ متقدمین محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہو“ [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
اب خود غور کیا جائے کہ جس روایت کو متقدمین نے کسی ایک نے بھی صحیح نہیں قرار دیا بلکہ اس کے برعکس کئی ایک نے ضعیف و معلول قرار دیا ایسی روایت کو صحیح قرار دینا وہ بھی بغیر کسی مضبوط بنیاد کے قطعا غیر مسموع ہے۔

④ امام ہیثمی رحمہ اللہ (المتوفى807)نے کہا:

«وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ» وَفِي رِوَايَةٍ: وَ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُهَا جَيِّدٌ»
”ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہرفرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اسے جنت میں جانے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روک سکتی ، اور ایک روایت میں سورۃ اخلاص کا بھی اضافہ ہے ۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں کئی سندوں سے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند جید ہے“ [مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 10/ 102]۔
عرض ہے کہ:
امام ہیثمی رحمہ اللہ کے تساہل سے علم حدیث کا ادنی طالب علم بھی واقف ہے ، امام ہیثی رحمہ اللہ سورۃ اخلاص والی روایت کو بھی شامل کرکے جو جید کا حکم لگایا ہے اس پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے تنقید کی ہے اور بتایاہے کہ سورۃ اخلاص والی روایت باطل وجھوٹ ہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«فالعجب أيضاً من الحافظ الهيثمي؛ فإنه ذكر الحديث في المجمع (10/102) بهذه الزيادة، وقال: رواه الطبراني في الكبير و الأوسط بأسانيد، وأحدها جيد ! فلم يفرق بين روايته الصحيحة، والرواية الباطلة! وهو في ذلك تابع للمنذري في الترغيب (2/261) ، وتبعهما في ذلك جمع؛ منهم: الشوكاني في ، وصاحبنا المعلق على المعجم الكبير ، والدكتور فاروق في تعليقه على عمل النسائي ، وأخونا الشيخ الفاضل مقبل بن هادي الوادعي في تعليقه على تفسير ابن كثير (1/546 - الكويت) ، فضلاً عن ذاك الجاهل في ما أسماه صحيح صفة الصلاة ... ! فإنه ذكر فيه (ص 233) أنه يُسنُّ قراءة {قل هو الله أحد} مع المعوذتين۔»
”حافظ ہیثمی پر تعجب ہے کہ انہوں نے مجمع الزوائد (10/102) میں سورۃ اخلاص کے اضافہ کے ساتھ روایت ذکر کی اور اس کے بعد کہا: ''اسے طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں کئی سندوں سے نقل کیا ہے جن میں سے ایک سند جید ہے'' ۔ یہاں انہوں نے صحیح روایت اور جھوٹی روایت میں کوئی تفریق نہیں کی ، اور انہوں نے ایسا کرنے میں ''ترغیب '' (2/261)میں امام منذری کے قول کی پیروی کی ہے اور بہت سارے لوگوں نے ان دنوں کی پیروی میں یہی بات کہہ ڈالی جن میں امام شوکانی تحفة الذاكرين (ص 117) میں، دکتور فاروق نے ''عمل النسائی'' پر اپنی تعلیق میں ، اور ہمارے فاضل بھائی شیخ مقبل بن ہادی الوداعی نے تفسير ابن كثير (1/546 - الكويت) پر اپنی تعلیق میں یہ بات کہی ہے ۔ اور اس جاہل کی تو بات ہی الگ ہے جس نے ''صحیح صفۃ الصلاۃ'' نامی کتاب لکھی اور اس میں ص (ص 233) پر کہا کہ: معوذتین کے ساتھ سورہ اخلاص بھی پڑھ سکتے ہیں“ [السلسلة الضعيفة 13/ 33] ۔

⑤ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفى852)نے کہا:

«هذا حديث حسن غريب»
”یہ حدیث حسن غریب ہے“ [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 294]۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث سے متعلق مختلف مقامات پر مختلف باتیں کہیں ہیں ، بلوغ المرام میں کہا ہے کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے [بلوغ المرام من أدلة الأحكام 1/ 58]
لیکن دوسرے مقام پر کہا:
«وقد أخرجه ابن حبان في كتاب الصلاة المفرد من رواية يمان بن سعيد عن محمد بن حمير ولم يخرجه في كتاب الصحيح۔»
”ابن حبان نے اسے ”کتاب الصلاۃ“ نامی علیحدہ کتاب میں یمان بن سعید کے طریق سے روایت کیا ہے اور اپنی کتاب صحیح میں اسے روایت نہیں کیا“ [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔
بلکہ ایک مقام پر کہا:
«سلمنا، لكنه لا يستلزم أن يكون ما رواه موضوعاً»
”ہم نے تسلیم کرلیا کہ یہ روایت ضعیف ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ موضوع ہے“ [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔

⑥ امام سيوطي رحمہ اللہ (المتوفى911)نے کہا:

«والحديث صحيح على شرطه»
”یہ حدیث بخاری کی شرط پر صحیح ہے“ [اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة: 1/ 210]۔
امام سیوطی کی تصحیحات میں جو تساہل ہے وہ بھی معروف ومشہور ہے، یہ روایت بخاری کی شرط پر کیسے صحیح ہوسکتی ہے جب کہ اس کا ایک راوی بخاری میں سرے سے موجود ہی نہیں اور ایک دوسرے راوی کی صرف دو روایات شواہد کے پیش نظر منقول ہیں۔
یادرہے کہ یہ اس روایت کو صحیح یا حسن یا جید کہنے والے سب کے سب متاخرین اہل علم ہیں متقدمین و سلف میں سے کسی ایک بھی محدث نے اسے صحیح نہیں کہا ہے ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام ابن عبدالھادی کی تصحیح پر تعاقب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
«قلت: لم أجد للمتقدمين تصريحاً بتصحيحه.»
”میں (حافظ ابن حجر) کہتاہوں کہ مجھے نہیں ملا کہ متقدمین محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہو“  [نتائج الأفكار لابن حجر 2/ 295]۔

معاصرین میں علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے پھر علامہ البانی رحمہ اللہ ہی کی پیروی میں متعدد اہل علم نے اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھئے [ السلسلة الصحيحة :2/ 697:]۔

اس روایت پر کلام کرنے والے اور اسے ضعیف کہنے والے بعض اہل علم

دوسری طرف اہل علم کا ایک دوسرا گروہ ہے جو اس حدیث کی صحت کاقائل نہیں بعض نے اس پرکلام کیا ہے تو بعض نے اسے صراحتا ضعیف قرار دیا ہے حتی کی بعض نے انہیں موضوع ومن گھڑت گردانا ہے۔بعض حوالے ملاحظہ ہوں:

① امام عبد الله بن سلیمان بن الأشعث (المتوفى385) نے اس روایت کو معلول قرار دیتے ہوئے کہا:

«لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ ابْنُ حُمَيْرٍ إِلا بِطَرْسُوسَ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدَ أَهْلِ حِمْصَ.»
”محمدبن حمیر  نے (محمد بن زياد الحمصی  سے روایت کرتے ہوئے ) اسے صرف طرطوس میں بیان کیا ہے اور یہ روایت اہل حمص کے پاس ہے ہی نہیں“ [الخامس من الأفراد لابن شاهين ص: 232]۔

② امام ابن شاہين رحمہ اللہ(المتوفى385)نے امام عبد الله بن سلیمان کا قول برضاء ورغبت نقل کرتے ہوئے کہا:

«وَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ ابْنُ حُمَيْرٍ إِلا بِطَرْسُوسَ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدَ أَهْلِ حِمْصَ.»
”ہم سے امام عبد الله بن سليمان نے کہا کہ : محمدبن حمیر الحمصی نے (محمد بن زياد الحمصی کے سے روایت کرتے ہوئے ) اسے صرف طرطوس میں بیان کیا ہے اور یہ روایت اہل حمص کے پاس ہے ہی نہیں“ [الخامس من الأفراد لابن شاهين ص: 232]۔
اس قول کی مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔

③ امام دارقطنی رحمہ الله (المتوفى385) نے بھی اس پر کلام کیا ہے

چنانچہ امام سیوطی نے امام دارقطنی رحمہ اللہ کی کتاب سے سے نقل کرتے ہوئے کہا:
«تفرد به محمد بن حمير وليس بالقوي»
”اس روایت کو نقل کرنے میں محمدبن حمیر منفرد ہے اور یہ قوی حافظہ والا نہیں ہے۔“ [اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة: 1/ 210 نیز دیکھیں : الموضوعات لابن الجوزي 1/ 244 ، ایضا تخريج احاديث إحياء علوم الدين رقم 1106 ]۔

④ امام ابن الجوزي رحمہ اللہ(المتوفى597) اس روایت کو موضوعات میں نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:

«قال الدارقطني: غريب من حديث الألهاني عن أبي أمامة تفرد به محمد بن حمير عنه. قال يعقوب بن سفيان: ليس بالقوى »
”امام دارقطنی نے کہا: یہ روایت محمد بن زياد الألهاني کے طریق سے غریب ہے اور اوراسے نقل کرنے میں محمدبن حمیر منفرد ہے اورامام یعقوب بن سفیان نے کہا کہ محمدبن حمیر قوی حافظ والا نہیں ہے“ [الموضوعات لابن الجوزي 1/ 244]۔

فائدہ:
امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597) نے کہا:
«قُلْتُ كنت قد سَمِعت هَذَا الحَدِيث فِي زمن الصِّبَا فاستعملته نَحوا من ثَلَاثِينَ سنة لحسن ظَنِّي بالرواة فَلَمَّا علمت أَنه مَوْضُوع تركته فَقَالَ لي قَائِل: أَلَيْسَ هُوَ اسْتِعْمَال خير؟ قلت اسْتِعْمَال الْخَيْر يَنْبَغِي أَن يكون مَشْرُوعا، فَإِذا علمنَا أَنه كذب خرج عَن المشروعية.»
”امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بچپن میں یہ حدیث سنی تھی اور تقریبا تیس سال تک اس پرعمل کرتارہا لیکن جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ حدیث موضوع ومن گھڑت ہے تو میں نے اس پر عمل کرنا چھوڑدیا ، امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری یہ بات سن کر ایک شخص نے کہا: کیا اچھا عمل نہیں ہے ؟ میں نے کہا: اچھے عمل کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسنون ہو اور جب ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ جھوٹ ہے تو یہ مسنون نہیں رہ گیا“ [الموضوعات لابن الجوزي 1/ 245]۔
عرض ہے کہ جولوگ تیس پچاس سال سے اس حدیث پر عمل کررہے ہیں ان کے لئے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کی اس بات میں بڑی عبرت ہے۔

⑤ امام نووی رحمہ  الله (المتوفى676)نے کہا:

«وروى الطبرانی في معجمه احاديث في فضل آية الكرسي دبر الصلاة المكتوبة لكنها كلها ضعيفة»
”امام طبرانی نے اپنی کتاب معجم میں فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق کئی احادیث روایت کی ہین لیکن یہ سب کی سب ضعیف ہیں“ [المجموع للنووی: 3/ 486 وانظر خلاصة الأحكام 1/ 469]۔

⑥ شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ الله (المتوفى728)نے کہا:

«قَدْ رُوِيَ فِي قِرَاءَةِ آيَةِ الْكُرْسِيِّ عَقِيبَ الصَّلَاةِ حَدِيثٌ لَكِنَّهُ ضَعِيفٌ وَلِهَذَا لَمْ يَرْوِهِ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكُتُبِ الْمُعْتَمَدِ عَلَيْهَا فَلَا يُمْكِنُ أَنْ يَثْبُتَ بِهِ حُكْمٌ شَرْعِيٌّ»
”نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق حدیث مروی ہے لیکن یہ ضعیف ہے ، اسی لئے معتمد علیہ کتب احادیث کے مصنفین نے اسے روایت ہی نہیں کیا لہٰذا ایسی حدیث شرعی حکم ثابت نہیں ہوسکتا۔“ [مجموع الفتاوى ( الباز المعدلة ) 22/ 508]۔

ایک دوسری جگہ نماز بعد اذکار کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
«وأما قراءة آية الكرسي فقد رويت بإسناد لا يمكن أن يثبت به سنة»
”اور رہی بات( فرض نماز بعد) آية الكرسي پڑھنے کی تو وہ ایسی سند سے مروی ہے جس سے سنت ثابت نہیں ہو سکتی“
[مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 22/ 516]

 ◈ تنبیہ

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا:
«وَبَلَغَنِي عَنْ شَيْخِنَا أَبِي الْعَبّاسِ ابْنِ تَيْمِيّةَ قَدّسَ اللّهُ رُوحَهُ أَنّهُ قَالَ مَا تَرَكْتُهَا عَقِيبَ كُلّ صَلَاةٍ»
”مجھے (کسی کے ذریعہ) خبر ملی ہے کہ ہمارے شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے کسی بھی نماز کے بعد اسے ترک نہیں کیا“ [زاد المعاد 1/ 285]۔
عرض ہے کہ:
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنا مشاہدہ ذکر نہیں کیا ہے بلکہ کسی نامعلوم شخص کے واسطے سے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس عمل کا ذکر کیا ہے لہٰذا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ واقعۃ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایسا کوئی عمل تھا کیونکہ اس بات کا ناقل مجہول و نامعلوم ہے نیز خود ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اپنے کلام میں میں ہمیں اس کے برعکس یہ بات مل رہی ہے کہ وہ اس روایت کو ضعیف قرار دے رہے ہیں کما مضی۔
نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے آیۃ الکرسی والی روایت کو ضعیف قرار دینے بعد فورا ہی کہا:
«وَأَمَّا إذَا قَرَأَ الْإِمَامُ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي نَفْسِهِ أَوْ قَرَأَهَا أَحَدُ الْمَأْمُومِينَ فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ إذْ قِرَاءَتُهَا عَمَلٌ صَالِحٌ وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ تَغْيِيرٌ لِشَعَائِرِ الْإِسْلَامِ كَمَا لَوْ كَانَ لَهُ وِرْدٌ مِنْ الْقُرْآنِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ عَقِيبَ الصَّلَاةِ . وَأَمَّا الَّذِي ثَبَتَ فِي فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الذِّكْرِ عَقِيبَ الصَّلَاةِ فَفِي الصَّحِيحِ… »
”اوراگر امام آیت الکرسی اپنے دل میں پڑھ لے یا مقتدی اس طرح پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا پڑھنا عمل صالح ہے اور اس میں شعائر اسلام کی تبدیلی نہیں ہے جس طرح کوئی شخص نماز کے بعد قران کی کسی بھی آیت کو پڑھ لے یا دعاء و ذکر کرے ، لیکن نماز کے بعد جن اذکار کو پڑھنے کی فضیلت کا ثبوت ہے تو صحیح بخاری وغیر میں دوسرے اذکار منقول ہیں“ [مجموع الفتاوى 22/ 509]۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ان الفاظ سے معلوم ہوا کہ وہ آیۃ الکرسی والی حدیث کو ضعیف ماننے کے باجود عام اذکار وادعیہ پر قیاس کرتے ہوئے اس کے پڑھنے میں حرج نہیں سمجھتے تھے ، ممکن ہے اسی بناد پر آپ آیۃ الکرسی بھی پڑھتے رہے ہوں لیکن اس سے یہ قطعا ثابت نہیں ہوتا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس سلسلے میں آنے والی حدیث کو بھی صحیح سمجھتے تھے کیونکہ آپ نے واضح طور پر اسے ضعیف قرار دیا اس کے بعد ہی اسے پڑھنے کاجواز بتلایا ہے پھر اس کے بعد فورا ان کا اذکار کاتذکرہ کیا ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں ۔ یہ بات ہم اس صورت میں کہہ رہے ہیں جب یہ فرض کرلیں کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایساکوئی عمل تھا ورنہ ہم یہ پہلے واضح کرچکے ہیں کہ خودابن تیمیہ رحمہ اللہ سے نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنا ثابت نہیں ہے۔

معاصرین میں سے بھی درج ذیل اہل علم نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے:

✿ علامہ عبدالرحمن بن يحيى المعلمي فرماتے ہیں:

«مدار الحديث على محمد بن حمير، رواه عن محمد بن زياد، الألهاني، عن أبي أمامة، وابن حمير موثق، غمزه أبو حاتم، ويعقوب بن سفيان، وأخرج له البخاري في الصحيح حديثين، قد ثبتا من طريق غيره، وهما من روايته عن غير الألهاني، فزعم أن هذا الحديث على شرط البخاري غفلة»
”اس حدیث کا دارو مدار محمدبن حمیر پر ہے اس نے محمد بن زياد الألهاني عن أبي أمامة کے طریق سے یہ روایت نقل کی ہے اس کی توثیق کی گئی ہے لیکن امام ابوحاتم اور امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہما اللہ نے اس پر جرح کی ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری میں اس کی صرف در روایات درج کی ہے اور یہ دونوں دوسرے طرق سے ثابت ہیں نیز ان دونوں کو اس نے محمد بن زياد الألهاني کے طریق سے روایت نہیں کیا ہے ، لہٰذا اس حدیث کو بخاری کی شرط پر سمجھنا غفلت ہے“ [حاشیہ الفوائد المجموعة بتحقیق المعلمی ص: 299]۔
اس کے بعد علامہ معلمی رحمہ اللہ نے اس کے دیگر طرق کاتذکرہ کرکے سب کو مردو قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ جرح وتعدیل میں علامہ معلمی رحمہ اللہ کو جس طرح عبور حاصل تھا عصر حاضر میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی خود علامہ البانی رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا:
«وان من اولئک العلماء الذین لھم قدم راسخة فی ھذا المجال : العلامة المحقق عبدالرحمن المعلمی الیمانی رحمہ اللہ»
”جن اہل علم کو فن رجال میں رسوخ حاصل ہے انہیں میں سے علامہ محقق عبدالرحمن المعلمی الیمانی رحمہ اللہ ہیں“ [مقدمہ صحیح موارد الظمآن: 1/ 54]۔

✿ شیخ ربيع بن هادي عمير المدخلي فرماتے ہیں:

«هو ضعيف في نظري من طريق أبي أمامة وحديثا جابر وعلي رضي الله عنهما لا يصلحان للاعتبار ولا ينهضان لجبران حديث أبي أمامة كما ترى خصوصا وأن لفظ حديث جابر يختلف تماما عن لفظ حديث أبي أمامة وعلي.»
”یہ حدیث میری نظر میں ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے ضعیف ہے اور جابر و علی رضی اللہ عنہما کی حدیث استشہاد کے قابل نہیں ، اور حدیث ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے ضعف کو دور نہیں کرسکتیں جیساکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ، بالخصوص جبکہ جابررضی اللہ عنہ کی حدیث کا متن ابوامامہ وعلی رضی اللہ عنہما کی حدیث کے متن سے بالکل الگ ہے“ [حاشیہ :النكت على ابن الصلاح 2/ 849]۔

✿ محدث مصر شیخ علي بن إبراهيم الحشيش أستاذ علوم الحديث جماعة أنصار السنة المحمدية نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے آپ لکھتے ہیں:

«وقول شیخنا الالبانی رحمہ اللہ ”والحدیث صحیح من طریق او من طرق اخری عن محمدبن حمیر ” غیر صحیح لان محور ارتکاز الضعف ھو محمدبن حمیر والطرق اللذی اوردھا الشیخ کما ھی مبینہ عبارۃ عن متابعات لمن ھو دون محمدبن حمیر۔»
”ہمارے شیخ البانی رحمہ اللہ کا یہ کہنا غیر درست ہے کہ : ” یہ حدیث محمدبن حمیر کے طریق سے یا محمدبن حمیر کے تلامذہ کے طرق سے صحیح ہے ” کیونکہ اس حدیث کے ضعف کا دار مدار محمدبن حمیر ہے اور محمدبن حمیر کے شاگردوں والے جن طرق کی طرف شیخ البانی نے اشارہ کیا ہے ان سب سے محمدبن حمیر کے کسی شاگرد ہی کی متابعت ہوتی ہے ناکہ محمدبن حمیر کی“ [علم مصطلح الحديث التطبيقي:ص294]۔
عرض ہے کہ محمدبن حمیر کے کسی شاگرد کی بھی کوئی متابعت ثابت نہیں ہے جیساکہ تفصیل اپنے مقام پر آرہی ہے اوراگرثابت ہوجائے تب بھی حدیث ضعیف ہی رہے گی جیساکہ شیخ علی بن ابراہیم الحسیش نے وضاحت کی ہے ۔

✿ محدث مصر علامہ محمد عمرو عبد اللطيف رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وخلاصة القول: أن الأحاديث الثلاثة لا يصح منها شيء ,بل هي منكرة ساقطة, وكان المتوقع أن يسأل القارئ -حفظه الله – عن حديث أبى أمامة الذي يوافق حديث علي في القطعة الأولى منه ,وكنت قد حسنته في ((تبييض الصحيفة)) (جـ1)لكنني رجعت عن ذلك لتفرد محمد بن حمير الحمصى -رحمه الله – به وهو موثق لكن أبا حاتم الرازي , ويعقوب بن سفيان الفسوي قد غمزاه بما يقتضي أنه لايحتمل منه مثل هذا الحديث ,وقد سبقنى إلي ذلك أخي الحبيب الشيخ علي إبراهيم حشيش في مجلة التوحيد أيام كان يتولى هذا الباب واتضح لي صحة تحقيقه بفضل ربي تعالى فاسأله العفو عما سلف))»
”خلاصہ کلام یہ کہ فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے متعلق تینوں احادیث میں سے کوئی بھی صحیح نہیں بلکہ یہ سب منکر وساقط ہیں اور توقع تو یہ تھی کہ مجلہ التوحید کے قارئین حدیث ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے متعلق سوال کریں گے جو ایک ٹکڑے میں حدیث علی رضی اللہ عنہ کے موافق ہے اور میں نے ((تبييض الصحيفة)) (جـ1) میں اسے حسن کہا تھا لیکن اب میں نے اس سے رجوع کرلیا ہے کیونکہ اسے روایت کرنے میں محمدبن حمیر منفرد ہے اس کی گرچہ توثیق کی گئی ہے لیکن امام ابوحاتم اور امام فسوی رحمہما اللہ نے اس پر ایسی جرح کی ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس کی اس جیسی منفرد روایت قبول نہ کی جائے ، اور مجھ سے پہلے یہی تحقیق ہمارے محترم بھائی شیخ علی ابراہیم حشیش نے بھی مجلہ التوحید میں پیش کی ہے جن دنوں وہ اس کالم کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے ، اور میرے نزدیک ان کی تحقیق الحمدللہ صحیح ثابت ہوئی ہے اس لئے میں رب تعالی سے پچھلی فروگذاشت پر معافی کا طلبگار ہوں“ [ مجلة الوحيد في عددي رجب وشعبان 1415هـ تحت باب أسئلة القراء عن الأحاديث ]۔

اب اگلی سطور میں ہم اس حدیث کے تمام طرق کاتفصیلی جائزہ لیں گے:

حدیث علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

علی رضی اللہ عنہ سے آیہ الکرسی والی حدیث دو طریق سے مروی ہے:

پہلا طریق (ازمحمد الباقر):

امام ابن السني رحمه الله (المتوفى364)نے کہا:
«حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَالْآيَتَيْنِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ: {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [آل عمران: 18] ، وَ {قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ} [آل عمران: 26] إِلَى قَوْلِهِ: {وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ} [آل عمران: 27] مُعَلَّقَاتٌ، مَا بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ، لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُنْزِلَهُنَّ تَعَلَّقْنَ بِالْعَرْشِ، قُلْنَ: رَبَّنَا، تُهْبِطُنَا إِلَى أَرْضِكَ، وَإِلَى مَنْ يَعْصِيكَ. فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: بِي حَلَفْتُ، لَا يَقْرَأُكُنَّ أَحَدٌ مِنْ عِبَادِي دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ إِلَّا جَعَلْتُ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، وَإِلَّا أَسْكَنْتُهُ حَظِيرَةَ الْقُدُسِ، وَإِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ بِعَيْنِي الْمَكْنُونَةِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ نَظْرَةً، وَإِلَّا قَضَيْتُ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ حَاجَةً، أَدْنَاهَا الْمَغْفِرَةُ، وَإِلَّا أَعَذْتُهُ مِنْ كُلِّ عَدُوٍّ وَنَصَرْتُهُ مِنْهُ، وَلَا يَمْنَعُهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ ۔»
”صحابی رسول علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک سورہ فاتحہ ، آیۃ الکرسی ، آل عمران کی یہ دو آیات {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [آل عمران: 18] ، وَ {قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ} [آل عمران: 26] ۔۔۔ {وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ} [آل عمران: 27] تک ، یہ تمام آیات عرش الہی سے چمٹی ہوئی ہوئی ہیں ان کے اور اللہ کے مابین کوئی پردہ حائل نہیں ہے ، جب اللہ تعالی نے ان آیات کو نازل کرنے کا ارادہ فرمایا تو یہ آیتیں عرش الہی سے چمٹ گئیں اور کہنے لگیں : اے رب ! تو اپنی زمین پر ہمیں اتار رہا ہے اور ایسے لوگوں کے حوالہ کررہا ہے جو تیری نافرمانی کرتے ہیں ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: میری ذات کی قسم ! میرے بندوں میں سے جو کوئی بھی ہرنماز کے بعد تمہاری تلاوت کرے گا، وہ کیسا بھی ہوگا میں اسے جنت عطاکروں گا، اور اسے حظیرۃ القدس یعنی اپنے عرش کے قریب جگہ دوں گا، اور ہردن سوبار اسےاپنی خاص نظر رحمت سے دیکھوں گا ، اور ہردن اس کی ستر ضرورتیں پوری کروں گا جس میں سب سے چھوٹی چیز مغفرت ہوگی ، اور میں اسے ہردشمن سے نجات دوں گا ،اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روک سکتی ۔“ [عمل اليوم والليلة لابن السني ص: 111 واخرجہ ایضا ابن الجوزی فی '' الموضوعات'' 1/ 245 من طریق الحارث بہ ]۔
یہ حدیث موضوع ومن گھڑت ہے اس کی سند میں موجود امام ابن سنی کے شیخ ”أبو جعفر بن بكر“ کا کوئی سراغ نہیں ملتا معلوم نہیں یہ کون ہے۔
اس کے علاوہ سند میں ایک اور راوی ”الحارث بن عمير“ ہے اس کو گرچہ بعض محدثین نے ثقہ کہا ہے مگر بعض دیگر محدثین نے اس پر سخت ، واضح اور مفسر جرح کی ہے اور اسے جھوٹی حدیث بیان کرنے والا کہا ہے ، چنانچہ:
◈ امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
«كَانَ مِمَّن يَرْوِي عَن الْأَثْبَات الْأَشْيَاء الموضوعات۔»
”یہ شخص ثقہ راویوں کے حوالے سے من گھڑت احادیث بیان کرتاتھا“ [المجروحين لابن حبان: 1/ 223]۔
◈ امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
«روى عَن حميد الطَّوِيل وجعفر بن مُحَمَّد الصَّادِق أَحَادِيث مَوْضُوعَة۔»
”اس شخص نے حمید طویل اور ''جعفربن محمد صادق'' سے من گھڑت احادیث بیان کیاہے“ [المدخل إلى الصحيح ص: 127]۔
یاد رہے کہ اس سند میں الحارث بن عمير نے ”جعفر بن محمد صادق“ ہی سے روایت کیا ہے یہ خاص جرح ہے اگرحارث کو ثقہ مان لین تب بھی اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔
◈ امام ذہبی رحمہ الله (المتوفى748)نے کہا:
«وما أراه إلا بين الضعف۔»
”میں اسے واضح طورپر ضعیف جانتاہوں“ [ميزان الاعتدال للذهبي: 1/ 440]۔
 ◈ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ اسی سند سے اس روایت کو موضوع قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
«هَذَا حَدِيث مَوْضُوع تفرد بِهِ الْحَارِث بن عُمَيْر.قَالَ أَبُو حَاتِمِ بْنُ حِبَّانَ: كَانَ الْحَارِث مِمَّن يروي عَن الْأَثْبَات الموضوعات.روى هَذَا الحَدِيث وَلَا أصل لَهُ وَقَالَ أَبُو بكر مُحَمَّد بن إِسْحَاق بن خُزَيْمَة: الْحَارِث كَذَّاب وَلَا أصل لهَذَا الحَدِيث »
”یہ حدیث موضوع ہے ،حارث بن عمیر اسے بیان کرنے میں منفرد ہے اورابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں حارث بن عمیر ثقہ راویوں کے حوالے سے من گھڑت احادیث بیان کرتاتھا ، اس نے جو یہ حدیث بیان کی ہے یہ بے بنیاد ہے اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے کہا : حارث بن عمیر بہت بڑا جھوٹا شخص ہے اس کی بیان کردہ یہ حدیث بے بنیاد ہے“ [الموضوعات لابن الجوزي 1/ 245]۔

تنبیہ :

ایک روایت میں ”الحسين بن علوان“ سے ”الحارث بن عمير“ کی بعض الفاظ میں متابعت منقول ہے چنانچہ:
امام أبو طاهر السِّلَفي الأصبهاني (المتوفى576) نے کہا:
«حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَطِيعِيُّ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الْكُوفِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ صُبَيْحٍ الأَسَدِيُّ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عُلْوَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ، فَإِنَّهُ لا يُحَافِظُ عَلَيْهَا إِلا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ» ۔»
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا : ہرفرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لیا کرو ، کیونکہ اس کی پابندی نبی یا صدیق یا شہید ہی کرتاہے“ [الخامس عشر من المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي ص: 19 رقم 18]۔

یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے ، اس کی سند میں موجود ”الحسين بن علوان الكلبي“ یہ کذاب اور خبیث راوی ہے۔
◈ امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
«الحسين بن علوان كذاب ۔»
”حسین بن علوان جھوٹا ہے“ [تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 4/ 381]۔
◈ امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
«حُسَيْن بْن علوان من أهل الْكُوفَة كَانَ يضع الْحَدِيث۔»
”حسین بن علوان یہ کوفی ہے اور یہ حدیث گھڑتاتھا[“ المجروحين لابن حبان: 1/ 244]۔
◈ امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
«لِلْحُسَيْنِ بْنِ عُلْوَانَ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ وَعَامَّتُهَا مَوْضُوعَةٌ، وَهو في عداد من يضع الْحَدِيثَ۔»
”حسین بن علوان کی بہت ساری روایات ہیں اوراس کی اکثر روایتیں من گھڑت ہیں خود اس کا شمار بھی حدیث گھڑنے والوں میں ہے“ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 3/ 233]۔
◈ امام أبو الفتح الأزدي (المتوفى374)نے کہا:
«حسين بن علوان كذاب خبيث رجل سوء لا يكتب حديثه۔»
”حسین بن علوان بہت بڑا جھوٹا ، خبیث اور بدبخت آدمی ہے اس کی بیان کردہ حدیث لکھی ہی نہ جائے“ [تاريخ بغداد، مطبعة السعادة: 8/ 62 اسنادہ حسن الی الازدی وھولم ینفردبہ]۔
◈ امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
«حسين بن علوان۔۔۔كذاب »
”حسین بن علوان بہت بڑا جھوٹاہے“ [الضعفاء والمتروكين للدارقطني: ص: 17]۔
◈ امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى507)نے کہا:
«الحسين بن علوان كان يضع الحديث۔»
”حسین بن علوان حدیث گھڑتاتھا“ [معرفة التذكرة لابن القيسراني: ص: 174]۔
معلوم ہوا کہ حسین بن علوان کوفی کی یہ روایت موضوع ہے، اور اس کی بیان کردہ یہ روایت باطل و جھوٹ ہے۔

دوسراطریق(ازحبة العرني):

امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
«أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ غَانِمِ بْنِ حَمُّويَهِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مُعَاذٍ، حدثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الصَّبَّاحِ، حدثنا أَبِي، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، عَنْ نَهْشَلِ بْنِ سَعِيدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ يَقُولُ: مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِهِ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمَوْتُ، وَمَنْ قَرَأَهَا حِينَ يَأْخُذُ مَضْجَعَهُ أَمَّنَهُ اللهُ عَلَى دَارِهِ وَدَارِ جَارِهِ وَالدُوَيْرَاتِ حَوْلَهُ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ۔»
”صحابی رسول علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جس نے ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اسے جنت میں داخل ہونے سےموت کے علاوہ کوئی چیز نہیں روک سکتی ، اور جس نے بسترپرسوتے وقت اسے پڑھا تو اللہ تعالی اسے اس کے گھر میں اس کے پڑوسی کے گھر میں اور آس پاس کے تمام گھروں میں محفوظ رکھے گا“ [شعب الإيمان 4/ 56 رقم 2174 ]۔
یہ روایت بھی مردود ہے۔
اس کو نقل کرکے خود امام بیہقی نے کہہ دیا کہ اس کی سند ضعیف لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی سند ضعیف ہی نہیں بلکہ سخت ضعیف ، مسلسل بالعلل اور باطل ہے اسایک راوی ''نہشل بن سعيد القرشي'' ہے یہ بہت بڑا جھوٹا وکذاب ہے۔

◈ امام أبوداود الطيالسي رحمه الله (المتوفى204)نے کہا:
«نهشل كذاب»
”نشہل بہت بڑا جھوٹا ہے“ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 8/ 496 واسنادہ صحیح]۔
◈ امام إسحاق بن راهَوَيْه رحمه الله (المتوفى 237)نے کہا:
«نشهل كذاب »
”نشہل بہت بڑا جھوٹا ہے“ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 8/ 496 واسنادہ صحیح]۔
اس پر اور بھی بہت سارے محدثین نے جرح کی ہے اور کسی ایک امام نے بھی اسے ثقہ نہیں کہاہے مزید تفصیل کے لئے دیکھیں عام کتب رجال۔
الغرض یہ کہ اس کذاب اورجھوٹے راوی کی وجہ سے یہ روایت بھی موضوع و من گھڑت ہے ، اس سند میں اوربھی بہت ساری کمزرویاں لیکن اس کذاب کے بے نقاب کرنے کے بعد مزید تفصیل کی ضرورت نہیں ہے، یاد رہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو موضوع و من گھڑت قراردیاہے، اورامام ابن الجوزی رحمہ اللہ کی طرف سے اسے موضوعات میں نقل کئے جانے کی پرزور تائید کی ہے، دیکھئے :[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 13/ 388 رقم 6174]۔

حدیث ابوایوب الانصاری رضی اللہ عنہ

امام أبو منصور الديلمي رحمه الله (المتوفى558)نے کہا:
«أَنْبَأنَا أَبُو مَنْصُور الْعجلِيّ أَنْبَأنَا طَالب حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِم عَلِيّ بْن مُحَمَّد بْن عِيسَى بْن مُوسَى بْن الْحُسَيْن بْن الْبَزَّار حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن عَليّ الْمَصْرِيّ أَنْبَأنَا مُحَمَّد بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن بحير بْن ريسان حَدَّثَنَا عَمْرو بْن الرّبيع بن طَارق حَدَّثَنَا يَحْيَى بْن أَيُّوب حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْن أسيد عَن يَعْقُوب بْن إِبْرَاهِيم عَن مُحَمَّد بْن ثَابت بْن شُرَحْبِيل عَن عَبْد الله بْن يزِيد الخطمي عَن أبي أَيُّوبَ مَرْفُوعا: لَمَّا نَزَلَتِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَآيَةُ الْكُرْسِيِّ وَشهد الله وَقل اللَّهُمَّ مَالك الْملك إِلَى بِغَيْر حِسَاب تَعَلَّقْنَ بِالْعَرْشِ وَقُلْنَ أَتُنْزِلْنَا عَلَى قَوْمٍ يَعْمَلُونَ بِمَعَاصِيكَ فَقَالَ وَعِزَّتِي وَجَلالِي وَارْتِفَاعِ مَكَانِي لَا يَتْلُوكُنَّ عَبْدٌ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ إِلَّا غفرتُ لَهُ مَا كَانَ فِيهِ وأسكنته جنَّة الفردوس ونظرتُ إِلَيْهِ كل يَوْم سبعين مَرَّةً وَقَضَيْتُ لَهُ سَبْعِينَ حَاجَةً أَدْنَاهَا الْمَغْفِرَةُ۔»
”صحابی رسول ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ آیات الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔۔ ، آیۃ الکرسی ، شَهِدَ اللَّهُ ۔۔، قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ۔۔۔۔ بِغَيْرِ حِسَابٍ تک نازل ہوئیں تو یہ آیات عرش الہی سے چمٹ گئیں اور کہنے لگیں : (اے رب ) کیا تو ہمیں ایسی قوم پر نازل کرے گا جو تیری نافرمانی کرتی ہیں ؟ تو اللہ تعالی نے کہا: قسم ہے میری عزت وجلال اور میرے بلندوبالا مقام کی ! جو شخص بھی تمہاری تلاوت ہرفرض نماز کے بعد کرے گا ، میں اس کے تمام گناہ بخش دوں گا ،اسے جنت الفردوس میں جگہ دوں گا ، اور ہرروز اسے ستربار نگارہ رحمت سے دیکھوں گا اور اس کی ستر ضرورتوں کو پوری کروں گا جس میں سب سے چھوٹی چیز مغفرت ہوگی“ [اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة: 1/ 210]۔

یہ روایت بھی موضوع ومن گھرٹ ہے.
اس کی سند میں موجود ”محمد بن عبد الرحمن بن بحير بن ريسان“ کذاب یعنی بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا ہے۔
◈ مسلمة بن القاسم القرطبی(المتوفى 353) نے کہا:
«كان كذابا »
”یہ بہت زیاد جھوٹ بولنے والا تھا“ [لسان الميزان ت أبي غدة 7/ 280 نقلہ ابن حجر من کتابہ ومسلمہ لم ینفرد]۔
◈ امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
«روى عن الثقات بالمناكير وعن أبيه عن مالك بالبواطيل »
”اس نے ثقہ راویوں سے منکر اور اپنے باپ سے جھوٹی روایتیں نقل کی ہیں“ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 547]۔
یادرہے زیربحث حدیث کو اس نے اپنے باپ ہی سے روایت کیا ہے۔
◈ خطيب بغدادي رحمه الله (المتوفى463)نے کہا:
«كذاب »
”یہ بہت بڑا جھوٹا ہے“ [ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 621، نیزدیکھیں: تلخيص المتشابه للخطیب ص: 44]۔
معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی جھوٹی ومن گھڑت ہے۔

حدیث جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ

جابر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت تین مختلف متن سے نقل کی گئی ہے:

پہلامتن:

امام أبو الحسن الواحدي رحمه الله (المتوفى468)نے کہا:
«حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الرَّسْعِينِيُّ، حَدَّثَنا إِسْحَاقُ بْنِ زُرَيْقٍ، حَدَّثَنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيى بن عُبَيد اللَّه التيمي، حَدَّثَنا ابْنُ جُرَيج، عَن أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَال: قَال رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِي فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ، خَرَقَتْ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، فَلَمْ يَلْتَئِمْ خَرْقُهَا حتى ينظر الله إِلَى قَائِلِهَا فَيَغْفِرَ لَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَلَكًا فَيَكْتُبُ حَسَنَاتِهِ وَيَمْحِي سَيِّئَاتِهِ إِلَى الْغَدِ مِنْ تِلْكَ السَّاعَةِ.۔»
”صحابی رسول جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص ہرنماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھتاہے اس کی خاطر ساتوں آسمان پھٹ جاتے ہیں اور یہ تب تک نہیں ملتے جب تک کہ اللہ تعالی آیۃ الکرسی پڑھنے والے کی طرف نظر نہ کرلے، پھر اللہ تعالی ایک فرشتہ کو بھیجتاہے جو اس کی نیکیاں لکھتاہے اوراگے دن اسی وقت تک اس کے گناہ مٹادیتاہے“ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 1/ 496 واخرجہ ایضا ابن عدی من طریق اسماعیل فی الكامل في ضعفاء الرجال 1/ 496 ومن طریق ابن عدی اخرجہ ابن الجوزی فی الموضوعات رقم 477]۔
یہ روایت ”اسماعیل بن یحیی“ کے سبب موضوع ومن گھڑت ہے ۔
◈ امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
«كَانَ مِمَّن يروي الموضوعات عَن الثِّقَات وَمَا لَا أصل عَن الْأَثْبَات لَا يحل الرِّوَايَة عَنْهُ وَلَا الِاحْتِجَاج بِهِ بِحَال۔»
”یہ ثقہ راویوں کے حوالہ سے جھوٹی حدیثین بیان کرتا تھا اور مستند لوگوں نے بے بنیاد باتیں روایت کرتا تھا ،اس کی حدیث روایت کرنا جائز نہیں اور اس کی بیان کردہ حدیث سے استدلال بھی کسی صورت میں جائز نہیں“ [المجروحين لابن حبان: 1/ 126]۔
◈ امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
«متروك كذاب »
”یہ کذاب اور بہت بڑا جھوٹا ہے سب نے اس کی حدیثیں ترک کردی ہیں،“ [كتاب الضعفاء والمتروكين للدارقطني: ص: 4]۔
◈ امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
«إسماعيل بن يحيى بن عبيد الله ۔۔۔۔التيمي.عن أبي سنان الشيباني، وابن جريج، ومسعر بالأباطيل »
”اسماعیل بن یحیی یہ ابوسنان، ابن جریج اور مسعرکے حوالہ سے باطل و جھوٹی حدیثین بیان کرتاہے“ [ميزان الاعتدال للذهبي: 1/ 253]۔
یادرہے کہ زیربحث حدیث کو اس نے ابن جریج ہی کے حوالے سے بیان کیا ہے۔
اس کے علاوہ بھی سند میں بہت ساری علتیں ہیں مثلا ابن جریج کا عنعنہ ، ابوالزبیر کاعنعنہ وغیرہ لیکن اس روایت کے جھوٹے ہونے کے لئے اس کی سند میں ایک کذاب کا ہونا ہی کافی ہے ، الغرض یہ کہ یہ روایت بھی جھوٹی اور من گھڑت ہے۔
◈ امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى507)نے کہا:
«هذا باطل لا يحدث به عن ابن جريج غير إسماعيل بن يحيى بن عبيد الله التيمي ، عن ابن جريج ، عن أبي الزبير ، عن جابر »
”یہ حدیث جھوٹی ہے اسے ابن جریج سے عن ابن جريج ، عن أبي الزبير ، عن جابر .کے طریق سے اسماعیل بن یحیی کے علاوہ کوئی بھی بیان نہیں کرتا“ [ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني: 4/ 2367]۔
امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
«هذا باطل فيه إسماعيل بن يحيى التيمي عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر۔»
”یہ حدیث جھوٹی ہے اس میں اسماعیل بن یحیی راوی عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر کے طریق سے بیان کررہاہے“ [تلخيص كتاب الموضوعات للذهبي ص: 67]۔

دوسرا متن:

امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
«حَدَّثَنَا مُحَمد بْنُ مُنِيرٍ، قَال: حَدَّثَنا سلمان، حَدَّثَنا أبو الجنيد الضرير، حَدَّثَنا حَمَّادٌ الرَّبَعِيُّ، عَن أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وسَلَّم قَال: أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى يَا مُوسَى إِنَّهُ مَنْ دَاوَمَ عَلَى قِرَاءَةِ الْكُرْسِي فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ أَعْطَيْتُهُ أُجُورَ النَّبِيِّينَ وَأَعْمَالَ الصِّدِّيقِينَ وَثَوَابَ الشَّاكِرِينَ وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إلاَّ أَنْ يَنْزِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ فَيَقْبِضَ رُوحَهُ فَقَالَ مُوسَى يَا رَبِّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ يَا مُوسَى يُدَاوِمُ عَلَى ذَلِكَ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ عَبد قَدْ رَضِيتُ عَنْهُ أَوْ عَبد أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَهُ فِي سَبِيلِي.»
”صحابی رسول جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو وحی کی کہ اے موسی ! جو شخص ہرفرض نماز کے بعد پابندی سے آیۃ الکرسی پڑھے گا میں اسے انبیاء کا اجر ، صدیقین کے اعمال کابدلہ اور شکرگذاروں کا ثواب عطا کروں گا ، اور اسے جنت میں جانے سے اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں روک سکتی کہ موت کا فرشتہ اس کے پاس آئے اور اس کی روح کو قبض کرلے۔ تو موسی علیہ السلام نے کہا : اے رب ! کون اس کی پابندی کرے گا؟ اللہ نے کہا: اے موسی ! اس کی پانبدی نبی ، یا صدیق ، یا ایسا بندہ کرے گا جس سے میں راضی ہوگیا یا ایسابندہ جسے میں اپنے راستہ میں شہید کرنا چاہتاہوں“ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 3/ 475]۔
یہ روایت بھی باطل ومن گھڑت ہے سند میں کئی علتین ہیں:
سند میں ”الحسين بن خالد الضرير“ سخت ضعیف ہے۔
◈ امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
«ووهى ابن عدي حديثه۔»
”امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اس کی حدیث کو سخت ضعیف قرار دیا ہے“ [تاريخ الإسلام للذهبي ت تدمري 14/ 135]۔
 ◈ امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
«عامة حديثه عن الضعفاء أو قوم لا يعرفون فإذا كان سبيله هذا السبيل إذا وقع لحديثه نكرة يكون البلاء منه أو من غيره لا منه »
”اس کی اکثر حدیثین ضعیف یا مجہول رواۃ سے ہیں اور جب یہ معاملہ ہے تو یا تو ان حدیثیوں کو گھڑنے والا خود یہی ہے یا کسی اورکی گھڑی ہوئی روایت اس نے روایت کی ہے“ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 3/ 475]۔
سند میں دوسرا راوی ”حماد الربعي“ مجہول ہے۔
◈ امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
«حماد الربعي: عن أبي الزبير، مجهول »
”ابوالزبیر سے روایت کرنے والا حماد ربعی مجہول ہے“ [ديوان الضعفاء ص: 103]۔
واضح رہے کہ ابن عدی کی اس روایت میں ربعی کی صراحت آجانے کے بعد ابوطاہر سلفی کی سند میں حمادبن زید سے بھی یہی مجہول شخص مراد ہے۔
الغرض یہ کہ یہ روایت بھی سخت ضعیف ومردود ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع ومن گھڑت قرار دیا ہے دیکھیں [سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 8/ 372]۔

➊ تنبیہ اول:

اسی من گھڑت حدیث کو بعض لوگوں نے ابوالاشعری کی حدیث بنادیا چنانچہ:
امام ابن مردوية رحمه الله (المتوفى410)نے کہا:
«حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ الْمُقْرِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتُوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنِ الْمُثَنَّى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنِ اقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كل صلاة مكتوبة، فإنه من يقرؤها فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، أَجْعَلْ لَهُ قلب الشاكرين، ولسان الذاكرين، وثواب النبيين، وَأَعْمَالَ الصِّدِّيقِينَ، وَلَا يُوَاظِبُ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ عَبْدٌ امْتَحَنْتُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ، أَوْ أُرِيدُ قَتْلَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ جِدًّا.» [تفسير ابن مرديه ،نقلا عن تفسير ابن كثير ط العلمية 1/ 517 واخرجہ ایضا الدیلمی من طریق زیاد بہ]۔
یہ روایت بھی باطل ، مردود و سخت ضعیف ہے۔
اس کی سند میں پے درپے کئی علتین ہیں ، ملاحظہ ہو:

الف:

اس کا مرکزی روای ”زیاد بن ابراہیم“ معلوم نہیں کون ہے ، اس طبقہ میں اس نام کے کسی راوی کا نام ونشان نہیں ملتا۔

ب:

المثنی سے مراد ”المثنى بن الصباح“ ہے جیساکہ دیلمی کی سند میں صراحت آگئی ہے ۔
یہ سخت ضعیف راوی ہے ۔
◈ امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے فرمایا:
«مثنى بْن الصَّباح لَا يسوى حَدِيثه شَيْئا مُضْطَرب الحَدِيث۔»
”مثنی بن صباح کی حدیث کسی قابل نہیں یہ مضطرب الحدیث ہے“ [العلل ومعرفة الرجال لأحمد: 2/ 298]۔
◈ امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
«مثنى بن الصَّباح مَتْرُوك الحَدِيث۔»
”مثنی بن صباح متروک الحدیث ہے“ [الضعفاء والمتروكون للنسائي: ص: 98]۔
◈ امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
«قد ضعفه الأئمة المتقدمون والضعف على حديثه بين۔»
”متقدمین ائمہ نے اسے ضعیف قرردیاہے اوراس کی مرویات میں ضعف بالکل واضح ہے“ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 8/ 172]۔

ج:

قتادہ نے عن سے روایت کیا اور یہ مدلس ہیں ۔

د:

حسن بصری نے بھی عن سے روایت کیا اور یہ بھی مدلس ہیں۔
معلوم ہوا کہ زیاد سے اوپر ہر طبقہ میں ضعیف موجود ہے یعنی یہ سندمسلل بالعلل پرتاریک اور سخت ضعیف ہے۔
اسی لئے امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اسے نقل کرنے کے بعد کہا:
«وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ جِدًّا. ۔»
”یعنی یہ حدیث بہت زیادہ منکر وناپسندیدہ ہے“ [ تفسير ابن كثير ط العلمية 1/ 517 ]۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوع ومن گھڑت قرار دیا ہے دیکھیں: [سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 12/ 632]۔

➋ تنبیہ ثانی:

اسی من گھڑت حدیث کو بعض رواۃ نے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بنادیا چنانچہ:
حكيم الترمذي (المتوفى285)نے کہا:
«نا عتيق بن محمد، قال: نا ابن أبي فديك، عن أبي سليم، عن الحوشبي، عن أبان، عن أنس -رفع الحديث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم-، قال: ((أوحى الله تعالى إلى موسى -عليه الصلاة والسلام-: من داوم على قراءة آية الكرسي دبر كل صلاةٍ، أعطيته قلوب الشاكرين، وأجر النبيين، وأعمال الصديقين، وبسطت عليه يميني بالرحمة، ولم يمنعه من أن أدخله الجنة إلا أن يأتيه ملك الموت.قال موسى: يا رب! من سمع بهذا لا يداوم عليه؟ قال: إني لا أعطيه من عبادي إلا نبيٌّ أو صديقٌ، أو رجلٌ أحبه، أو رجلٌ أريد قتله في سبيلي)).» [نوادر الأصول:6/ 112]۔
یہ روایت بھی باطل ہے کیونکہ پوری سند پرتاریک اورالٹ پلٹ ہے۔
مزید یہ کہ خود نوادر کا مؤلف حکیم ترمذی بھی عجیب وغریب شخص ہے ، بعض اہل علم اس سخت جرح کی ہے ۔
◈ امام ابن العديم رحمه الله (المتوفى660)نے کہا:
«وهذا الحكيم الترمذي لم يكن من أهل الحديث وروايته، وَلا علم لہ بطرقه، وَلا صناعته وإنما كان فيه الكلام على إشارات الصوفية والطرائق ودعوى الكشف عن الأمور الغامضة والحقائق حتى خرج في ذلك عن قاعدة الفقهاء واستحق الطعن عليه بذلك والإزراء ۔»
”یہ حکیم ترمذی محدثیں میں سے نہیں تھا اور نہ ہی حدیث روایت کرنا اس کا کام تھا ، نیز یہ حدیث کے طرق اوراس کے فن سے بھی ناواقف تھا ، یہ تو صرف صوفیاء کے اشارات وطرائق ہی پر بات کرتا تھا اور پوشیدہ امور و حقائق سے متعلق کشف کا دعوی کرتا پھرتا تھا ،یہاں تک فقہاء کے اصول سے ہٹ گیا جس کے سب مطعون و مجروح قرار پایا“ [الملحة في الرد على أبي طلحة لابن الندیم بحوالہ :لسان الميزان ت أبي غدة 7/ 388]۔
 ◈ تاج الدين السبكي (المتوفى:771)نے أَبُو عبد الرَّحْمَن السلمى سے نقل کرتےہوئے کہا:
«قَالَ أَبُو عبد الرَّحْمَن السلمى نفوه من ترمذ وأخرجوه مِنْهَا وشهدوا عَلَيْهِ بالْكفْر وَذَلِكَ بِسَبَب تصنيفه كتاب ختم الْولَايَة وَكتاب علل الشَّرِيعَة وَقَالُوا إِنَّه يَقُول إِن للأولياء خَاتمًا كَمَا أَن للأنبياء خَاتمًا وَإنَّهُ يفضل الْولَايَة على النُّبُوَّة»
”ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس حکیم کو ترمذ سے جلاوطن کردیا تھا اور اس کی کفریہ باتوں کی شہادت دی تھی ، کیونکہ اس نے ختم الولایہ اور علل الشریعہ نامی کتابیں لکھیں ، لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح سلسلہ انبیاء کو ختم کرنے والے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس طرح سلسلہ اولیا ء کے بعد ایک خاتم الاولیا ء بھی ہوتا نیز یہ ولایت کو نبوت پر فضیلت دیتاتھا“ [طبقات الشافعية الكبرى للسبكي 2/ 245]۔
اورتو اورہے بقول امام شعرانی ، خود حکیم ترمذی اپنے بارے میں فرماتےہیں:
«ما صنفت حرفاً عن تدبير ولا لينسب إلي شيء من المؤلفات، ولكن كان إذا اشتد علي وقتي أتسلى به۔»
”میں نے ایک حرف بھی غوروفکر سے نہیں لکھا ہے اور نہ ہی اس لئے کہ لوگ اسے میری جانب منسوب کریں بلکہ جب بھی میں بور ہونے لگتا تو تسلی کے لئے کچھ لکھنا شروع کردیتا“ [الطبقات الكبرى للشعراني:1/ 78]۔
واضح رہے کہ سنن ترمذی کے مولف امام ابوعیسی ترمذی الگ ہیں وہ بہت بڑے امام ہیں لیکن یہاں جس ترمذی کی بات ہوری ہے و ہ دوسرا ہے یہ حکیم ترمذی بڑا ہی عجیب غریب آدمی تھا ، اس کی مزید حقیقت جاننے کے لئے علامہ محدث محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ کی کتاب ''تصحیح العقائد : ص 306 ، 307 کی طرف مراجعت فرمائیں۔

➌ تنبیہ ثالث:

اسی من گھڑت کو بعض رواۃ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث بنادیا چنانچہ:
حكيم الترمذي (المتوفى285)نے کہانے کہا:
«نا محمد بن إسحاق بن إبراهيم العامري، قال: نا زكريا بن حازم، قال: أنا الربيع بن أنس، عن أبي بن كعب، قال: قال الله تعالى: ((يا موسى! من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاةٍ، أعطيته ثواب الأنبياء)).» [نوادر الأصول للحكيم الترمذي: 6/ 113]۔
یہ روایت بھی باطل ہے ۔
حکیم ترمذی کے شیخ اور اس کے شیخ کا کچھ سراغ نہیں ملتا اور خود حکیم ترمذی کے بارےمیں تفصیل پیش کی جاچکی ہے ۔
نیز اس متن میں بھی موسی علیہ السلام کا حوالہ ہے اور یہ متن موضوع ومن گھڑت ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے آئے ہوئے اسی متن کے بارے میں کہا:
«ولوائح الوضع ظاهرة عليه في نقدي»
”میری نظر میں اس حدیث کا من گھڑ ت ہونا اس کے الفاظ ہی سے ظاہرہے۔“ [سلسلة الأحاديث الضعيفة 8/ 371]۔

تیسرامتن:

امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597) نے کہا:
«أَنبأَنَا عبد الله بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حُلْوَانَ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّرْسِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَوَانِيُّ قَالَ حَدثنَا عبد الحميد بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي يَزِيدَ عَنْ مَوْلَى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ أُعْطِيَ قُلُوبَ الشَّاكِرِينَ وَثَوَابَ النَّبِيِّينَ وَأَعْمَالَ الصَّادِقِينَ، وَبَسَطَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَمِينَهُ وَرَحِمَهُ وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلا قَبْضُ مَلَكِ الْمَوْتِ رُوُحَهُ .وَهَذَا طَرِيق فِيهِ مَجَاهِيل وأحدهم قد سَرقه من الطَّرِيق الأول.» [الموضوعات لابن الجوزي 1/ 244]۔
یہ حدیث بھی موضوع ومن گھڑت ہے ۔
◈ اسے روایت کرنے والے خود امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے کہا:
«وَهَذَا طَرِيق فِيهِ مَجَاهِيل وأحدهم قد سَرقه من الطَّرِيق الأول.»
”یعنی اس سند میں متعدد مجہول رواۃ ہیں اور کسی راوی نے پہلے طریق سے اس روایت کو چرا لیاہے“ [الموضوعات لابن الجوزي 1/ 244]۔

تنبیہ :

اسی من گھڑت حدیث کو بعض رواۃ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث بنادیا چنانچہ:
امام سيوطي رحمه الله (المتوفى911)نے کہا:
«قَالَ ابْن النجار أَخْبرنِي شهَاب بْن مَحْمُود الْمُزَكي أَنْبَأنَا عَبْد الْكَرِيم بْن مُحَمَّد الْمَرْوَزِيّ أَنْبَأنَا أَبُو نصر أَحْمَد بْن الْحَسَن بْن عَليّ الطَّبَرِيّ حَدَّثَنَا أَبُو الرضى مُحَمَّد بْن عَليّ النَّسَفِيّ حَدَّثَنَا أَبُو نصر مُحَمَّد بْن الْحَسَن بْن ترْكَان الْخَطِيب حَدَّثَنَا أَبُو نصر مُحَمَّد بْن أَحْمَد بْن شبيب الكاغدي الْبَلْخِي حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الله طَاهِر بْن مُحَمَّد الْفَقِيه حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الله مُحَمَّد بْن عُمَر الْبَزَّار حَدَّثَنَا عُمَر بْن مُحَمَّد الْبَزَّار حَدَّثَنَا عُمَر بْن مُحَمَّد بْن بَحير بْن حَازِم الْهَمدَانِي حَدَّثَنَا عَبْد بْن حميد حَدَّثَنَا شَبابَة عَن وَرْقَاء بْن عُمَر عَن مُجَاهِد عَن ابْن عَبَّاس قَالَ قَالَ رَسُول الله مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ قُلُوبَ الشَّاكِرِينَ وَأَعْمَالَ الصِّدِّيقِينَ وَثَوَابَ النَّبِيِّينَ وَبَسَطَ عَلَيْهِ الرَّحْمَةَ مِنْهُ وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلا أَنْ يَمُوتَ فَيَدْخُلَهَا وَالله أعلم.» [اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة للسیوطی: 1/ 213]۔
یہ روایت بھی باطل ہے کیونکہ سند پر تاریک اور متعدد مجہولین سے بوجھل ہے امام سیوطی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں نقل کیا ہے ۔

 

حديث صلصال بن الدلهمس رضی اللہ عنہ

امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
«أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حدثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حدثنا أَبُو عُمَارَةَ الْمُسْتَمْلِي، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الضَّوْءِ يَعْنِي ابْنَ الصَّلْصَالِ بْنِ الدَّلْهَمَسِ، حدثنا أَبِي، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ، فَإِذَا مَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَبُو عُمَارَةَ الْمُسْتَمْلِي أَظُنُّهُ أَحْمَدُ بْنُ زَيْدٍ الْمَهْدِيُّ۔»
”صحابی رسول صلصال بن دلہس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہرنماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی اس کے اورجنت میں داخلہ کے بیچ موت کے علاوہ کوئی چیز حائل نہیں ہے ، جب اس کی موت ہوگی تو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا“ [شعب الإيمان 4/ 51 رقم 2167 ]۔
یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے.
سندمیں بہت ساری علتیں ہیں جن سب سے بڑی علت یہ ہے اس سند میں ”محمد بن الضوء ابن الصلصال“ کذاب ہے۔
خطيب بغدادي رحمه الله (المتوفى463)نے کہا:
«محمد بن الضو ليس بمحل لأن يؤخذ عنه العلم لأنه كان كذابا وكان أحد المتهتكين المشتهرين بشرب الخمور والمجاهرة بالفجور۔»
”محمدبن ضوء اس قابل نہیں کہ اس سے کوئی علم لیا جائے کیونکہ یہ بہت بڑا جھوٹا، بدکار ، شراب خور اور اعلانیہ فسق وفجور کا ارتکاب کرنے والا تھا“ [تاريخ بغداد، مطبعة السعادة: 5/ 374]۔
◈ امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597)نے کہا:
«كان كذابا مجاهرا بالفسق۔»
”یہ بہت بڑا جھوٹا اور علانیہ فسق وفجور کا ارتکاب کرنے والا تھا“ [الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي: 3/ 72]۔
◈ امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
«محمد بن الضوء كذاب۔»
”محمدبن ضوء بہت بڑا جھوٹا ہے“ [تلخيص كتاب الموضوعات للذهبي ص: 59]۔
◈ امام جورقاني رحمه الله (المتوفى543)نے کہا:
«كان كذابا، وكان أحد المتهتكين المشهور بشرب الخمر۔»
یہ بہت بڑا جھوٹا ، مشہور بدکار اور شرابی تھا [الأباطيل والمناكير للجورقاني: 2/ 387]۔
◈ امام ذہی نے دوسرے مقام پر کہا:
«وبلغنا أنه كان معروفا بالزور وشرب الخمور۔»
”ہمیں خبر ملی ہے کہ یہ جھوٹ بولنے اور شراب پینے میں مشہور تھا“ [ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 586]۔

 

حديث عبد الله بن عمربن عاص رضی الله عنهما

امام ابوطالر السلفی(المتوفی576) نے کہا
«حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ، إِمْلاءً غَيْرَ مَرَّةٍ، أَنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلاثِ مِائَةٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْفِهْرِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ أَبِي قُبَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،(کذا والصواب عمرو) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ لَمْ يَتَوَلَّ قَبْضَ رُوحِهِ إِلا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» ۔»
”عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہرنماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی اس کی جان اللہ تعالی خود نکالے گا“ [المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلف 1/ 530 رقم 1325 ]
یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے.
اس میں کئی ساری علتیں ہیں اور سب سے بڑی علت یہ کہ سند میں موجد ”محمد بن كثير الفهري“ کذاب یعنی بہت بڑا جھوٹا شخص ہے۔
◈ امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے اپنے ایک شاگردسے کہا:
«إذا مررت به فارجمه ذاك الذي يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم لا يترك المصلوب على الخشبة أكثر من ثلاثة أيام۔»
”تمارا گذر محمدبن کثیر فہری کے پاس سے ہو تو تم اس پر پتھروں کی بارش کردینا یہ وہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتا ہے کہ سولی دئے گئے شخص کو لکڑی پرتین دن سے زیادہ مت چھوڑو“ [تاريخ بغداد، مطبعة السعادة: 3/ 194]۔
◈ امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
«منكر الحديث عن كل من يروي عنه والبلاء مِنْهُ ليس ممن يروي هُوَ عنه۔»
”یہ جس سے بھی روایت کرتا ہے منکر حدیث روایت کرتا اس لئے ان پرنکارت احادیث کو گھڑنے والا یہی ہے نہ کہ وہ جن سے یہ روایت کرتاہے“ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 503]۔
◈ امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى507)نے کہا:
«محمد بن كثير يروي الأباطيل عن الثقات۔»
”محمدبن کثیر ثقہ رواۃ کے حوالہ سے جھوٹی احادیث بیان کرتا ہے“ [ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني: 3/ 1306]۔
◈ امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
«محمد بن كثير بن مروان الفهري الشام واهٍ، قال ابن عدي: البلاء منه۔»
”محمدبن کثیر بن مروان فہری سخت ضعیف راوی ہے اور امام ابن عدی نے اسے حدیث گھڑنے والا بتایاہے“ [ديوان الضعفاء ص: 371 ]۔
◈ امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے اسی راوی کی بیان کردہ ایک حدیث کے بارے میں کہا:
«البلاء من ابن كثير»
”اس حدیث کوگھڑنے والا محمد بن كثير بن مروان الفهري ہی ہے“ [تلخيص كتاب الموضوعات للذهبي ص: 163]۔
اس سند میں اس کے علاوہ بھی علتیں ہیں الغرض یہ کہ یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے۔
◈ امام ابن العراق الكناني رحمه الله (المتوفى963)نے کہا:
«قال الشيخ تقى الدين السبكى الشافعى هذا الحديث منكر ويشبه أن يكون موضوعا والحمل فيه على محمد بن كثير»
”شیخ تقی الدین سبکی فرماتے ہیں یہ حدیث منکر اور اس کا موضوع ومن گھڑت ہونا ہی قرین قیاس معلوم ہوتا ہے ، اور اسے گھڑنے ولا محمدبن کثیر ہی ہے“ [تنزيه الشريعة لابن العراق: 1/ 295]۔

 

حديث ابی مسعود رضی اللہ عنہ

امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
«حَدَّثَنَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْحِمْصِيُّ، وَالحُسَين بْنُ إسماعيل الرملي، قالا: حَدَّثَنا عمران بن بكار، حَدَّثَنا عَبد السَّلامِ بْنُ مُحَمد الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنا بَقْيَةُ عَنِ الأَوْزاعِيّ عَنِ جَسْرِ بْنِ الْحَسَنِ، عَن عَوْنِ بْنِ عَبد اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَن أَبِي مَسْعُودٍ، قَال: قَال رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِي دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ.»
”صحابی رسول ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہرفرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی وہ مرنے کے بعد جنت میں داخل ہوگا۔“ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 2/ 426]۔
یہ روایت سخت ضعیف ہے اس میں کئی علتیں ہیں:

✿ الف:

”جس بن الحسن سخت“ ضعیف ہے چنانچہ:
◈ امام جوزجاني رحمه الله (المتوفى259)نے کہا:
«جسر بن الحسن واهي الحديث »
”جسربن الحسن سخت ضعیف حدیث بیان کرنے ولا ہے“ [أحوال الرجال للجوزجانى: ص: 13]۔
◈ امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
«ليس بشيء»
”اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے“ [تاريخ ابن معين، رواية الدارمي: ص: 86]۔
واضح رہے کہ ”لیس بشیٔ“ یہ سخت قسم کی جرح ہے،جیسامتعددمحدثین نے صراحت کی ہے دیکھیں :[ألفاظ وعبارات الجرح والتعديل:307،فتح المغيث:2 /123،تدريب الراوي:1 /409-410]
اورابن معین کے نزدیک بھی عام حالات میں یہ اسی معنی میں ہے، بلکہ بسااوقات آپ نے کذاب اور وضاع راویوں پربھی انہیں الفاظ میں جرح کی ہے،مثلاایک کذاب کے بارے میں فرماتے ہیں:''کذاب لیس بشیٔ'' [سؤالات ابن الجنيد: رقم 535 و أيضا أرقام:293،417،484،]اورایک وضاع کے بارے میں فرماتے ہیں:''لیس بشیٔ یضع الأحادیث''[تاريخه ،رواية الدوري:رقم4213].
حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
”امام ابن معین عام طورپر جس راوی کو ”لیس بشیٔ“ کہتے ہیں تووہ شدیدجرح ہوتی ہے“ [ماہنامہ ''الحدیث ''حضرو: 55/ 16]۔

✿ ب:

”بقیہ“ نے عن سے روایت کیا ہے اور یہ مشہور ومعروف مدلس ہے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے مدلسین کے چوتھے طبقہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
«كان كثير التدليس عن الضعفاء والمجهولين »
”بقیہ ضعفاء اور مجہول سے لوگوں سے بہت زیادہ تدلیس کرتا تھا“ [طبقات المدلسين ت علي زئي: ص: 69]۔

✿ ج:

عون بن عبداللہ کا سماع ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں دیکھئے [جامع التحصيل للعلائي: ص: 249]۔
الغرض یہ کہ یہ روایت سخت ضعیف ، مسلسل بالعلل ومردود ہے ، امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”جسر بن الحسن“ کی منکر روایات میں گنایا ہے دیکھیں: [ميزان الاعتدال للذهبي: 1/ 398]۔

حدیث ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ

.

The remaining article is locked
Become a 3 Yearly  member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے  تین سالہ  ممبر بنیں

آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے

تین سالہ ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(ڈھائی سوروپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔

This post has restricted content. In order to access it, You must pay INR250.00 for it.