(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)
اسلام میں رشتہ ازدواج کی اہمیت بتلانے کے ساتھ ساتھ اس کا شرعی طریقہ اور اس کے شرعی مقاصد بھی بالتفصیل بیان کردئے گئے ہیں اس لئے جب مسلمان مردوعورت شادی ونکاح کریں تو انہیں شریعت کی ان تعلیمات کو پیش نظر رکھنا چاہئے اوران پر دینی جذبہ سے عمل کرنا چاہئے تاکہ ان کی شادی اسلامی شادی قرار پائے اوراغیارکی شادیوں سے ممتاز ہو۔
ہم ان شاء اللہ دس نکات کی روشنی میں بتائیں گے کہ اسلامی شادی کیا ہوتی ہے۔
① نکاح کرنا اللہ اوراس کے رسول کا حکم ہے
عام لوگ شادی ونکاح اس لئے کرتے ہیں کہ یہ سماج کا تقاضا ہوتا ہے اگر وقت پر شادی نہ ہوئی تو سماج والے سوال اٹھائیں گے، لیکن ایک مسلمان شادی ونکاح اس لئے کرتا ہے کہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کا حکم ہوتا ہے۔
● اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
{وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ}
”تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والاہے“ [24/النور: 32]
● عن عبدالله بن مسعود رضي الله قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ البَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ“
”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا“ [صحيح البخاري (7/ 3):-كتاب النكاح: باب من لم يستطع الباءة فليصم، رقم 5066]
لہٰذا بوقت نکاح ایک مسلمان کی نیت اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی فرمانبرداری ہونی چاہئے اگراسی جذبہ وخیال سے ایک مسلمان شادی کرے تو اس کا یہ عمل دینی واسلامی ہوگا اور آخرت میں اس پر ثواب ملے گا ورنہ اگر یہ عمل تو کرلیا گیا لیکن اس کے پیچھے نیت کتاب وسنت کی اتباع کے بجائے سماج کی تقلید ہو تو یہ نکاح اسلامی نکاح ہوگا ہی نہیں کیونکہ اسلام میں صحیح نیت کے بغیرکسی عمل کااعتبار ہی نہیں۔
② نکاح کرنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
لوگ اس لئے شادی کرتے ہیں کہ یہ سماج کی پرمپرا ہے لیکن مسلمان اس لئے شادی کرتا ہے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کا صرف حکم ہی نہیں دیا ہے بلکہ خود بھی نکاح کیا ہے یعنی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی سنت بھی ہے اوراللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس سنت کی پیروی کا تاکید حکم بھی دیا ہے چنانچہ:
« عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي...»
”ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے“ [سنن ابن ماجه(1/ 592):- كتاب النكاح:باب ما جاء في فضل النكاح،رقم 1846 والحدیث صحیح بالشواہد]
لہٰذا ایک مسلمان شادی کرتاہے تو اس کی نیت سماج کے رسم ورواج کو نبھانے کی نہیں بلکہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کی ہوتی ہے۔
③ نکاح تحفظ عزت کا ضامن ہے:
نکاح کے ذریعہ مسلمان کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی ہوتاہے کہ اس کے ذریعہ اس کی عزت کی حفاظت ہوگی اگرکوئی اس ارادہ سے نکاح کرتا ہے تو اللہ اس معاملے میں اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُمْ: الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ“
”ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین (طرح کے لوگ) ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم و ضروری کر لیا ہے: (ایک) وہ مکاتب جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کر لینے کے لیے کوشاں ہو۔ (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا جو شادی کر کے عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مجاہد جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلا ہو“ [سنن النسائي (6/ 61):-كتاب النكاح:باب: معونة الله الناكح الذي يريد العفاف، رقم3218 وإسناده حسن]
④ نکاح اوروظیفہ ازدواج باعث اجرو ثواب ہے
اسلام نے شادی کے بعد ازدواجی تعلقات کے مہذب اصول و ضابطے بتائے جن کی روشنی میں مسلمان وظیفہ ازدواج کو انجام دیتا ہے تو اس پر بھی اجروثواب کا وعدہ ہے ۔
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ: أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ؟ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ» “
”ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چند اصحاب رضی اللہ عنہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول! مال والے سب مال لوٹ لے گئے، اس لیے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں اپنے زائد مالوں سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بھی تو اللہ تعالیٰ نے صدقہ کا سامان کر دیا ہے کہ ہر تسبیح صدقہ ہے اور ہر تکبیر صدقہ ہے اور ہر تحمید صدقہ ہے اور ہر بار لا الہ الااللہ کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات سکھانا صدقہ ہے اور بری بات سے روکنا صدقہ ہے اور ہر شخص کے بدن کے ٹکڑے میں صدقہ ہے۔“ لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی شخص اپنے بدن سے اپنی شہوت نکالتا ہے (یعنی اپنی بی بی سے صحبت کرتا ہے) تو کیا اس میں ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں دیکھو تو اگر اسے حرام میں صرف کر لے تو وبال ہوا کہ نہیں؟ اسی طرح جب حلال میں صرف کرتا ہے تو ثواب ہوتا ہے“ [صحيح مسلم (3/ 697):-كتاب الزكاة:باب بيان أن اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف،رقم1006]
⑤ نیک شریک حیات دنیا کا سب سے بہترین متاع ہے
The remaining article is locked
Become a subscribed member to unlock the article
Your support helps us to bring more article
باقی مضمون مقفل ہے
مضمون کو غیر مقفل کرنے کے لیے سبسکرائبر ممبر بنیں
آپ کے تعاون سے مزید مضامین پیش کرنے میں مدد ملتی ہے
ممبر بنے بغیر اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے بٹن پر جاکر(تیس روپے ) ادا کریں۔
نوٹ:- ر قم کی ادائیگی کے بعد اگر باقی مضمون ظاہر نہ ہو تو لاگ آؤٹ ہوکر دوبارہ لاگن ہوں مکمل مضمون فورا ظاہر ہوجائے گا۔
